Baaghi TV

نقلی نوٹ ،اصلی بےحسی ،تحریر: بینا علی

آج اخبار میں ایک خبر پڑھی جس نے دل کو اندر تک جھنجوڑ کر رکھ دیا۔پل قمبر منڈی ایک غریب بزرگ نے اپنی بکری 27,000 روپے میں فروخت کی۔وہ شاید دل ہی دل میں خوش تھے کہ اب گھر جا کر بچوں کی ضروریات پوری کریں گے عید کے لیے کچھ سامان لے آئیں گے اور کئی دنوں سے چہرے پر چھائی پریشانی شاید کچھ کم ہو جائے گی۔وہ بکری شاید صرف ایک جانور نہیں تھی وہ اُن کی محنت تھی۔ اُن کی جمع پونجی تھی، اُن کی امید تھی۔

شاید اُس بزرگ نے اُسے مہینوں پال کر اس دن کا انتظار کیا ہوگا کہ عید قریب آئے گی تو اچھی قیمت مل جائے گی اور گھر کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں گے۔مگر افسوس…
جس شخص نے بکری خریدی اُس نے ان بزرگ کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاتھ میں نقلی نوٹ تھما دیے۔سوچیے۔۔۔جب وہ بزرگ بازار میں اپنی ضروریات خریدنے گئے ہوں گے۔ کسی دکان دار نے نوٹ ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا ہوگاپھر یہ کہا ہوگا:
"بابا جی یہ نوٹ تو نقلی ہیں”

اُس لمحے اُن کے دل پر کیا گزری ہوگی؟کیسے اُن کے قدم لڑکھڑائے ہوں گے؟کیسے اُن کی آنکھوں کی روشنی ایک دم ماند پڑ گئی ہوگی؟شاید چند لمحوں کے لیے اُنہیں یقین ہی نہ آیا ہو کہ اُن کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اب گھر کیسے جائیں؟بچوں کو کیا جواب دیں؟ گھر والوں کی امید بھری نظریں کیسے برداشت کریں؟
شاید اُن کے کانوں میں صرف ایک ہی آواز گونجی ہوگی:
"میری ساری محنت لٹ گئی”

ذوالحجہ کا مہینہ ہمیں قربانی، رحم، محبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔مگر افسوس کہ آج لوگ جانور خریدتے ہوئے بھی انسانیت بیچ دیتے ہیں۔خدارا، غریب لوگوں کے ساتھ ایسا ظلم مت کیا کریں۔آپ کے لیے شاید چند ہزار روپے معمولی ہوں مگر ایک سفید پوش انسان کے لیے یہی رقم اُس کے گھر کا چولہا جلاتی ہے، بچوں کی دوائیں بنتی ہے، اور عید کی خوشیوں کا سہارا ہوتی ہے۔یاد رکھیے، مظلوم کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی۔اللہ تعالیٰ دیر ضرور کرتا ہے مگر حساب ضرور لیتا ہے۔

غریب آدمی کا دل دکھا کر شاید وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے،مگر اُس نقصان کا ازالہ کبھی ممکن نہیں ہوتا جو انسان اپنے کردار، اپنی آخرت، اور اپنی انسانیت کو پہنچا دیتا ہے۔یہ صرف فراڈ نہیں تھا
یہ ایک بوڑھے انسان کی امیدوں، اُس کی محنت، اُس کی عزتِ نفس، اور اُس کے اعتماد کا قتل تھا۔
اور سچ تو یہ ہے کہ ان بزرگ نے تو چلو ایک وقتی نقصان اٹھایا ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ شاید اُن کا یہ زخم کچھ بھر بھی جائے۔لیکن جس شخص نے اُنہیں دھوکہ دیا، جس بیوپاری نے چند ہزار روپے کے لالچ میں ایک غریب انسان کی دعائیں اور اعتماد کھو دیا
پتہ نہیں اُسے ساری زندگی کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔کیونکہ مال کا نقصان شاید پورا ہو جاتا ہے۔
مگر کردار کا نقصان، انسانیت کا نقصان، اور مظلوم کی آہوں کا بوجھ ایسا قرض ہوتا ہے جس کا کوئی ازالہ نہیں ہوتا۔ان بابا جی کو پہچان لیں اور عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔کاش ہم اتنے بے حسی نہ ہوتے۔

More posts