Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغانستان میں امن ۔ تحریر :‌ سید احد علی

    افغانستان میں امن ۔ تحریر :‌ سید احد علی

    افغانستان اک عرصہ سے جنگ کا شکار ہے اور یہی وجہ ہےکہ افغانستان کی معاشی حالت انتہائی تشویشناک ہے جس کی وجہ سے روپیہ پیسہ اور کاروبار کی اتنی قلت ہے کہ چالیس سے پینتالیس ہزارلوگوں نے غیرملکوں میں پناہ لی ہوئی ہے. افغانستان میں زندگی اتنی غیرمحفوظ ہے کہ ہر آۓ دن دھماکے اور بہت سے دیگر حادثات پیش آرہے ہوتے ہیں. اس پر سب سے بڑا ہاتھ انڈیا کا جو اپنی خفیاں ایجنسی کے زریعے ٹرینینگ دے رہی ہے جو وہاں پر دھماکے کرتے ہیں اور بعد میں اس کا سارا الزام طالبان پر لگا دیتے ہیں۔ انڈیا اس خطے میں بد امنی پھیلا رہا ہے انڈیا اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے گا عالمی برادری کو چاہیے کے اس مسئلے کو در گزر نہ کریں بلکہ سنجیدہ لیں کیا وہاں انسان نہیں رہتے جو اتنی تکلیف دی جا رہی ہے.

    ان میں بہت سے معصوم بچے ہوتے ہیں جو ان بم دھماکو ں میں مارے جاتے ہیں ان بچوں کا کیا قصور اور ان معصوم لوگوں کا کیا قصور جو وہاں زندگی گزارنے کے لیے اپنی جان قربان کر رہے ہیں اور ہم انکے لئے افسوس کہ علاوہ کچھ اور نہیں کر پا تے انڈیا جو اوقات میں رہنا چاہیے اسکے لئیے کچھ ایسا کریں کہ وہاں کے لوگوں کے لیے بھی زندگی آسان ہو ، اور وہ سکون کی سانس لے سکیں، جتنی بھی عالمی برادری ہے اسکو انڈیا کے اس غیرسنجیدہ رویے پرغوروخوض کرنا چاہیے تاکہ جو بھی مسا ئل ہیں اس سے خطہ بچ سکے، اگر اس مسئلے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو ورلڈ وارتھری ہوسکتی ہے۔

    @S_Ali_9

  • کے الیکٹرک کراچی کو چمٹی جھونک . تحریر : احمد خان

    کے الیکٹرک کراچی کو چمٹی جھونک . تحریر : احمد خان

    کراچی کو اتنا بارشوں کے پانی نے نہیں ڈبوایا جتنا کے الیکٹرک نے ڈبویا ہے۔ کراچی کو بجلی سپلائی کرنے کا ذمہ دار یہ دارہ کراچی کو چمٹی ہوئی جھونک سے کم نہیں۔
    اس کی تباہی کا آغاز پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا۔ بے نظیر بھٹو نے اس کی نجکاری شروع کی اور مشرف دور تک پہنچتے پہنچتے اس کے 76 فیصد شیر بیچ دئیے گئے۔ مشرف دور میں ایک عرب کمپنی نے اس کے اکثر شیر 1600 ارب روپے میں خرید لیے۔
    اس کے بعد آیا کرپشن کنگ آصف زرداری جس نے حاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہوئے اس عرب کمپنی کو سال 2009ء میں 1300 ارب روپے واپس کر دئیے۔ ان میں سے خود زرداری کو کتنے واپس ملے ہونگے اس کا اندازہ خود کیجیے۔
    یوں سمجھ لیں کہ اس کمپنی کو پورا کے الیکٹرک صرف 300 ارب روپے میں مل گیا۔ لیکن بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی۔
    مذکورہ کمپنی نے کے الیکٹرک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ اس کے 1200 کلومیٹر لمبے تانبے کے تار ہٹا کر سستے ایلومینیم کے تار لگا دئیے۔ جو تانبا ہٹایا گیا اور لاکھوں ٹن وزنی تھا۔

    اس تانبے کی قیمت ایک اندازے کے مطابق 750 ارب روپے تھی۔ پھر وہ تار اچانک "غائب” بھی ہوگئے۔ اندر کی خبر یہ ہےکہ وہ تانبا اس عرب کمپنی کے ساتھ ملکر زرداری اور فریال تالتپور نے بیچ دیا اور 750 ارب روپے ہڑپ کر گئے۔
    کراچی کے تار چوری کر کے اس عرب کمپنی کو کے الیکٹرک تقریباً مفت میں مل گیا۔ اس واردات کے بعد زرداری کو متحدہ ارب امارات اور دبئی میں سینکڑوں ایکڑ زمینیں ملیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو دبئی حکومت اور عربوں کی بھرپور سپورٹ بھی ملنے لگی۔
    آپ نوٹ کیجیے زرداری ہمیشہ دبئی بھاگتا تھا اور وہیں اس کی پارٹی میٹنگز بھی ہوتی تھیں۔
    ایلومینیم کے تار لگانے کا کراچی کو بہت نقصان ہوا۔ ان سستے اور جلدی پگھل جانے والے تاروں کی وجہ سے کم از کم چار سے پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ضروری ہے ورنہ تار پگھل سکتے ہیں۔ خاص طور پر گرمیوں میں۔
    یہ تار مسلسل گرم ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں بجلی کے لیے مزاحمت کی وجہ سے یہ ہر دو تین منٹ بعد میٹر کو تگنی رفتار سے گھما دیتے ہیں جسکی وجہ سے عوام کو کمر توڑ بجلی کے بل موصول ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے کے الیکٹرک سالانہ 30 تا 35 ارب روپے کما رہی ہے۔ یہ زہن میں رہے کہ ان کی انویسٹمنٹ پیسے واپس ملنے اور تانبا بیچنے کے بعد زیرو سے کچھ زیادہ ہوگی۔
    تانبا ایلومینیم سے 3 گنا مہنگا ہے۔ وہی تانبا اب اگر دوبارہ خریدنا پڑگیا تو کم از کم 2500 ارب روپے میں پڑے گا۔ یہ رقم پاکستان کے پاس کہیں سے نہیں آسکتی۔

    آپ کو بتاتے چلیں کہ جو 1300 ارب کمپنی کو واپس کیے گئے یا جو 750 ارب کا تانبا چوری کیا گیا ان میں ایک بڑا ڈیم آرام سے بن سکتا ہے جو دو روپے فی یونٹ بجلی کے علاوہ پانی بھی دیتا ہے۔ کے الیکٹرک سے دگنی بجلی بنا کر دیتا۔
    کے الیکٹرک 18 سے 20 روپے فی یونٹ بنا رہا ہے۔
    اس سارے معاملے کے خلاف ہماری دنیا میں 122 ویں نمبر پر آنے والی سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی گئی لیکن آفرین ہے ہماری عدلیہ پر جو اس قسم کے معاملات میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں لیتی۔ الٹا جن کے خلاف شکایت کی جاتی ہے ان کو سٹے آرڈر دے دیا جاتا ہے۔
    یہ ساری وجوہات ہیں جو کراچی میں تباہ کن لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور بجلی کی عدم دستیابی ہی پانی کی قلت بھی پیدا کرتی ہے۔

    یہ صرف ایک مثال ہے آئی پی پیز کی لوٹ مار کی۔ پاکستان میں بجلی بنانے والے نجی ادارے پاکستان کی معیشت کو چمٹی ہوئی خون آشام جھونکیں ہیں۔ یہ جھونکیں جب تک ہم اکھاڑ کر پھینک نہیں دیتے ہماری معیشت نہیں سنبھل سکتیں۔

    @iamAhmadokz

  • یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر : قاسم ظہیر

    یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر : قاسم ظہیر

    امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد جیسا کہ توقع کی جارہی تھی ویسا ہی ہوا. طالبان نے اس کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے قابل کا رخ کرلیا.اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کا اعلان کر دیا.افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اب دکھائی دے رہا ہے کہ یہ بات اب زیادہ دور تک جانے والی نہیں.
    جو بات یہاں سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ افغان فوج بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال رہی ہے.جس پر ناقدین آپ کو بٹے ہوئے نظر آئیں گے کچھ کے نزدیک یہ کسی سازش کا پیش خیمہ ہے اور کچھ کے نزدیک یہ لوگوں کا طالبان پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے.طالبان کے سامنے کسی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کرنا امریکی تربیت یافتہ افغان فوج پر سوالیہ نشان ہے.
    کابل حکومت کی بے بسی دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب زیادہ دیر نہیں جب طالبان اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے. لیکن اس بات کو بھی اسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونی طاقتیں طالبان کو حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتی.
    پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان کو یہی کوشش کرنی چاہیے کہ ہر صورت افغانستان میں امن برقرار رہے یہ نہ صرف افغانستان کی عوام بلکہ پاکستان کے حق میں مفید ہے لیکن کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا.

    @QasimZaheer3

  • ‏ہمارا نصب العین خوشحال اور پرامن پاکستان ہے . تحریر : غلام مجتبیٰ

    ‏ہمارا نصب العین خوشحال اور پرامن پاکستان ہے . تحریر : غلام مجتبیٰ

    آج سے کچھ سال پیچھے چلیں تو ملک عزیز پاکستان کے حالات بد سے بدتر تھے امن و امان کی صورت حال مکمل تباہ تھی، اے روز بم دھماکے، ڈاکہ زنی، قتل وغارت، بھتہ خوری میں اضافہ ہوا جا رہا تھا۔ دشمنان پاکستان کی ارض پاکستان کو تباہ کرنے، غیرمحفوظ ملک قرار دے کرایٹمی اثاثے قبضہ میں لینے کی حکمت عملی موثر طور پراثرانداز میں ہو رہی تھی ۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر جا بجا حملے روز کا معمول تھا ۔

    ہوٹل، بازار، عام شہرائیں، اسکول، کالج ہرجگہ بم دھماکوں کا شورسنائی دیتا اورہر روز ہی کتنے معصوموں کے جنازے اٹھتے دیکھے ہیں ۔ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک قرار دلوا کر معاشی ، سیاسی ، ترقیاتی اور سیاحی طور پر کمزور کر دیا گیا

    دشمنان پاکستان را، سی آئی اے، موساد کی جامع حکمت عملی پاکستان کو کمزور سے کمزور تر کرتی جا رہی تھی لیکن وطن عزیز کی بہادر، نڈرعوام اور افواج نے حوصلے نا ہارے، دشمن کو خالی میدان نا دیا روزانہ کئی لاشیں اٹھانے کے باوجود ملک پاکستان کو سنسان نا ہونے دیا، اپنے عزم اورحوصلوں کو کبھی پست نا ہونے دینا، سانحہ آرمی پبلک اسکول میں سینکڑوں معصوم بچے شہید کردئے گئے ایسے سینکڑوں حملوں میں ستر ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئی، امن کے گہوارہ کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشیش کی گئی لیکن دشمن پاکستان اس ارض چمن کو گرا نا سکا، امن کی دیوارکو گرانا اس بزدل دشمن کے بس میں ہی نہیں تھا جو ہمارے روپ میں چھپ کر حملہ آور ہو رہا تھا
    ضرب عضب جیسے کئی آپریشن سٹارٹ ہوے ، افواج پاکستان نے بہادری ،جرات ، اور قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم کرتے ہوئے دشمنان پاکستان کا مقابلہ کیا ۔ انڈیا جیسا بزدل دشمن جو چھپ کر پاکستان میں حملہ آور تھا اسکا سامنا کیا ۔ دہشت گردوں کو انڈیا کی بے شمار مالی معاونت ، اسلحہ کی فراہمی اور ٹريننگ نے مظبوط بنایا لیکن پاکستان افواج نے دشمن کے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہوے امن کے گہوارہ پاکستان کا تحفظ یقینی بنایا اور دشمنوں کو ہر جگہ شکست فاش دیتے ہوے انکے ٹھکانے تباہ کرنے شروع کئے ۔ شدید مزاحمت اور ہزاروں قربانیوں کے بعد ، سوات ، کے پی کے ، کراچی ، اور وزیرستان سمیت پورے پاکستان کا امن لٹایا گیا ۔ * اس امن کے لیے کئی ماوں کے لال ، بہنوں کے اکلوتے بھائی ، معصوم بچوں کے باپ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دئے ۔ * اور الحمد للہ آج پاکستان دنیا میں ایک پرامن ملک ہے. پاکستان نےہمیشہ دنیا میں امن کے لئے کردار ادا کیا. ہمیں دنیا کواس بات پرقائل کرنا ہو گا کہ ہم دنیامیں زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنے. اس وقت پاکستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے یہ سب پاک فوج سیاسی قیادت اور عوام کی قربانیوں ثمر ہے.

    پاکستان امن پسند قوم ہے اور یہ صرف سیکیورٹی فورسز کی مخلصانہ کاوشوں اور شہریوں اور پاک فوج کی عظیم قربانیوں سے ممکن ہوا ہے۔
    پرامن پاکستان افواج پاکستان اور اس عظیم قوم کی ہزاروں قربانیوں کا ثمر ہے جسکو قائم رکھنا ہر پاکستانی کی اولین ترجیع ہونی چاہیے ۔
    سرزمین پاکستان امن کا گہوارہ ہے جسکے بہت زیادہ قربانیاں دی گئی.
    خدارا نسلی ،لسانی ،مذہبی تعصب سے اسکے امن کو برباد مت کریں پاکستان کے وه تمام دشمن بشمول بی ایل اے ،پی ٹی ایم ، اور نام نہاد این جی اوز جو اس وطن کو پھر سے انتشار کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں انکو ہر جگہ پر بھرپور جواب دیں ۔ یہ وطن ہمارا ہے اسکا تحفظ ہر پاکستانی نصب العين ہونا چاہے.

    آئیے ہم سے خود سے ایک حلف اٹھائیں کہ ہم اپنی مادر وطن کو اپنے لئے ، دوسروں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ جنت بنائیں۔

    @mujtabamalik119

  • سگریٹ  کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    سگریٹ کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    خبردار تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے
    یہ سلوگن ہر سگریٹ کی ڈبی پہ لکھا ہوتا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اس کا مطلب جانتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سگریٹ سے انسان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ میں تقریبا سات سو سے زائد کیمیکلز موجود ہوتے ہیں ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 70 کیمیکلز کینسر کی وجہ بنتے ہیں اور کچھ کیمیکلز جیسا کہ امونیا فارم ایلڈی ہائڈ وغیرہ جو کہ پھیپھڑوں کی بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں اور وہ لوگ جو سگریٹ نوشی زیادہ کرتے ہیں ان میں کورونا وائرس اور اس طرح کی بڑی مہلک بیماریوں کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سگریٹ کا دھواں انکے جسم کے مدافعتی نظام کو پہلے ہی کمزور کرچکا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ کورونا وائرس کا حملہ برداشت نہیں کر پاتے اور اس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہو جاتے ہیں

    جو انسان سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ خود تو ان بیماریوں کا سامنا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ شخص ارد گرد کے ماحول کو بھی آلودہ کر رہا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ جو خود تو سگریٹ نوشی نہی کرتے لیکن اسکے گرد موجود ہونے کی وجہ سے ان کو بھی بالواسطہ ان سب بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آج کل لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور مختلف بیماریاں خاص طور پہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور یہ سب اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ہمارے ارگرد ہمارے بہت قریبی رشتے دار یا گھر کا کوئی فرد جب گھر میں سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ باقی سب کو بھی اس آلودگی کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور اسی طرح کے مثائل سے ہمارے تعلیمی ادارے، مارکیٹیں،گاڑیوں میں موجود افراد بھی دوچار ہیں خاص طوران میں بالواسطہ سگریٹ نوشی بہت عام ہے
    میری آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں خود کو اور اپنے قریبی عزیزوں کو اس مہلک دھوئیں سے بچائیں تاکہ ہم بہتر صحت مند زندگی گزار سکیں اور اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا سکیں
    میں حکومت پاکستان سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ بالواسطہ سموکنگ سے بچنے کے لئے وہ جگائیں جہاں آمدورفت زیادہ ہو اور لوگوں کا میل جول زیادہ ہو وہاں پہ یا تو سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی جائےاور سگریٹ نوشی کرنے والے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے خاص طور تعلیمی اداروں میں بھی سگریٹ نوشی بین ہونی چاہئے
    تاکہ ہم اس زہریلے دھوئیں سے چھٹکارا پا سکیں اور اپنے وطن عزیز کو اس طرح کی آلودگی سے پاک کر سکیں
    صاف صاف پاکستان
    پاک پاک پاکستان
    تحریر:- محمد دانش
    ‏@iEngrDani

  • بچپن کی شرارت قسط 5۔ تحریر۔طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارت قسط 5۔ تحریر۔طلعت کاشف سلام

    تنبیہ۔۔۔ یہ پڑھنے والے میرا اسٹنٹ آزمانے کی بلکل کوشش نہیں کریں۔
    اب جو شرارت بتانے جا رہی ہوں اس وقت میری عمر شاید تیرا یا چودہ سال ھو گی۔
    جیسا کے میں پہلے ہی بتا چکی ہوں کے ھم لوگ ابوظہبی میں رہتے تھے اور گرمیوں میں پاکستان جایا کرتے تھے۔
    میری بڑی بہن جو کے مجھ سے ایک سال بڑی تھی اسے ابو نے کہا تھا کے اس بار پاکستان جاو تو تھوڑی بہت کسی ڈرائیونگ اسکول سے گاڑی چلانا سیکھ لینا۔
    اس لیے جب ھم پاکستان گئے تو میری بہن کو امی نے گاڑی سیکھنے کے لیے اسکول میں ڈال دیا۔ بہن جب بھی گاڑی چلانے جاتی میں اسکے ساتھ پیچھے بیٹھ جاتی۔اور ڈرائیورنگ ٹیچر کی باتوں کو غور سے سنتی رہتی۔ میری بڑی بہن گاڑی چلاتے ہوئے بہت ڈرتی تھی۔ اور میں اس وقت پیچھے بیٹھی سوچتی رہتی کے یہ کونسا مشکل کام ہے جو ثروت (میری بڑی بہن) اتنا ڈر رہی۔
    خیر اس طرح کوئی ایک ھفتہ گزر گیا۔ میں نے آمی سے ضد کی کے مجھے بھی سیکھنا ہے۔ آمی نے ڈانٹ دیا کے تم ابھی بہت چھوٹی ھو۔
    میں آمی کی بات سن کے اس وقت تو چپ ھو گئی۔ پر میری شرارتی فطرت نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔
    زیادہ تر تو ھم سب بہن بھائی ہر وقت ساتھ ہی ھوتے تھے۔ اسلیے مجھے کافی دن تک تو کوئی موقع نہیں مل پایا۔ پر ایک دن دوپہر میں میرے بھائی سو رہے تو اس وقت مجھے خیال آیا کے بھائی اور آمی تو گاڑی چلانے دیتے نہیں ابھی موقع اچھا ہے آمی اور بھائی دونوں ہی سو رہے ہیں۔ تو کیوں نہ ان سے چھپ کے گاڑی چلائی جائے۔
    میں نے اپنا پلان چھوٹی بہن کو بتایا۔ کیونکہ صرف وہ ہی تھی جو میرا ساتھ دے سکتی تھی بڑی کو بتاتی تو اس نے بھی ڈانٹ دینا تھا۔ چھوٹی والی جھٹ سے تیار ھو گئی۔
    ھم دونوں لگے گاڑی کی چابی ڈھونڈھنے۔ جو کے کافی  ڈھونڈنے کے بعد بھی نہیں ملی۔
    پھر چھوٹی بھائی کے کمرے میں گئی۔ اور اس وقت اس نے دیکھا کے چابی تو بھائی کی پینٹ کی جیب میں ہے، یہ دیکھنے کے بعد چھوٹی میرے پاس آئی اور مجھے بتایا کے اب کیا کریں۔
    پھر ھم دونوں نے پلان بنایا کے کسی طرح جیب سے چابی نکالتے ہیں۔ میں بھائی کے کمرے میں گئی اور بڑی مشکل سے آھستہ آھستہ انکی جیب سے کسی طرح چابی نکال لائی۔

    اسکے بعد ھم دونوں خوشی سے بھاگے باہر۔ اب یہ بات زہن میں رکھیں کے اس دن سے پہلے چلانا تو دور کی بات میں نے نہ تو کبھی چابی تک گاڑی میں نہیں ڈالی تھی۔
    خیر ھم باہر آئے گاڑی باہر ہی کھڑی تھی۔ دونوں بیٹھے سن سن کے اتنا سمجھ چکی تھی کے گئیر کیسے ڈالتے ہیں۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور گیئر ڈالا تو جھٹکے سے بند ھو گئی۔ پھر اسٹارٹ کی اور پھر کوشش کی دو بار کی کوشش سے گاڑی چل پڑی۔ ھم دونوں بڑے خوش ھوئے۔ گاڑی کیونکہ کبھی سیکھی ہی نہیں تھی اسلیے گیئر والی گاڑی ھونے کی وجہ سے بار بار جھٹکے لیتی رہی۔ گیئر بھی دو سے زیادہ نہیں ڈالنے آتے تھے۔ اور اسی طرح ہچکولے لیتی گاڑی چلاتی رہی پورے اپبے علاقے کا چکر لگایا۔ کئی بار بند ھوئی دو جگہ تو ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
    اور چکر لگا کے لا کے واپس کھڑی کر دی۔ واپس کھڑی ویسی نہیں کر سکی جیسے بھائی نے کھڑی کی تھی۔ میں نے ٹیڑھی پارک کی۔
    اور ھمت دیکھیں کے چابی لا کے بھائی کی جیب میں واپس اندر بھی ڈالی اور انہیں سوتے میں پتہ تک نہیں چلا۔
    لیکن۔۔۔۔
    میں پھر بھی پکڑی گئی۔ چابی کی وجہ سے نہیں گاڑی غلط پارک کرنے کی وجہ سے اور محلے کی آنٹیوں کی وجہ سے۔
    اففففف یقین کریں جب آمی سے محلے کی آنٹی نے پوچھا کے طلعت بھی گاڑی چلانے لگی۔ تو سارا پول کھل گیا۔ اور آنٹی نے یہ بھی بتایا کے تین بار بند ھونے کے بعد کتنی مشکل سے گاڑی چلائی تھی۔
    پھر تو میری جو شامت آئی افففف۔ اور تو اور چھوٹی بہن بھی آمی کے ساتھ شامل ھو گئی اور امی کو کہا کے اس نے مجھے روکا تھا پر آپی زبردستی ڈانٹ کے مجھے لے گئی تھی۔
    اس دن مجھے نہ صرف گرانڈ کیا گیا بلکہ خاصی جھاڑ بھی پڑی۔
    ویسے اللہ کا شکر ہے کسی کو ٹکر نہیں ماری ورنہ یہ شرارت کافی نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔ اب سوچتی ہوں کے اس حرکت سے کسی کی جان بھی جا سکتی تھی۔ پر جب نئی نئی جوانی ھو تو ان سب باتوں کا ہوش نہیں ھوتا۔
    آپ سب بھی سوچتے ہونگے کے طلعت کتنی شیطان کی پڑیا تھی۔

    @alwaystalat

  • دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    1 گوادر (گوادر پورٹ ، سی پیک)
    2_نوکنڈی ۔چاغی (سیندک،ریکوڈک)
    3_خاران (راسکوہ ایٹمی تجربہ گاہ)

    اس وقت پوری دنیا کی نظریں بلوچستان کے تین ڈسٹرکٹ میں لگے ہوئے ہیں،گوادر جس کو خطے میں ایک گیم چینجر علاقے کی اہمیت حاصل ہے،دنیا کے تمام طاقتور ملکوں کی نظریں گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے لگے ہوئے ہیں،اسی طرح دنیا میں عالمی سطح پر سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں پر سیندک اور ریکو ڈک جیسی قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ اور خاران میں راسکوہ جہاں پر ایٹمی تجربہ کر کے پاکستان ناقابل تسخیر ملک بن گیا،لیکن دنیا کے سامنے یہی گیم چینجر علاقے زندگی کی بنیادی ضرورت پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں،گوادر میں آئے روز نلکوں سے مختلف رنگوں کے پانی نکلتا ہے، کھبی نیلا،کھبی پیلا کھبی سیاہ آئے روز مختلف رنگ کے پانی سے وہاں کے عوام سراپا احتجاج ہیں،اسی طرح دنیا میں سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں کے لوگ ایک گیلن پانی کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں،پاکستان کے بالا ایوان سینٹ کے چئرمین کی کرسی بھی گزشتہ پانچ سالوں سے نوکنڈی کی پانی کی قلت کا مسلہ حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے،اسی طرح خاران میں بھی کل تک مختلف علاقوں کے مکینوں نے پانی کی قلت کے خلاف محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفتر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے حکمرانوں کے تمام دعوے صرف باتوں تک محدود ہیں،عملی طور پر لوگوں کی زندگی قرون وسطی کی دور سے بھی بد تر ہے،صرف مین اسٹریم میڈیا میں خوبصورت اشتہارات کے ذریعے دنیا کے سرمایہ کاروں کو بےوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن بلوچستان کے عوام کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا ہے.

    @Z_Kubdani

  • خود کو سمجھو. تحریر: فضل عباس

    انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا قیمتی وقت دوسروں کو سمجھنے میں ضائع کر دیتا ہے انسان خود کو سمجھنے اور سنوارنے کی بجائے دوسروں کے دل میں موجود اپنی عزت دیکھنے کو ترجیح دیتا ہے

    انسان خود کو سمجھے گا تو ہی اپنی غلطیاں کم کر سکے گاجب انسان خود کو سمجھنے لگ جاتا ہے تو برائیاں اچھائیوں میں بدلتی ہے انسان نیکی کی راہ پر چلتا ہی تب ہے جب وہ خود کو پہچان لے خود کی پہچان درحقیقت نیکی کی پہچان ہے کیوں کے اگر ہم خود کو پہچان لیں تو نیکی کی راہ آسانی سے مل جاۓ گی

    انسان کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی فطرت کو سمجھے پھر خود سے اپنی فطرت کا تجزیہ کرے اس میں جو غلط نظر آۓ اسے دور کرتا جاۓ جو اچھائی نظر آۓ اسے عاجزی میں بدلتا جاۓ یہ اسے ایک بہترین انسان بنا دے گا

    انسان کو چاہیے کہ اپنی طاقت کو سمجھے اسے پتہ ہو کہ کب اور کہاں طاقت کا استعمال کرنا ہے طاقت کا غلط جگہ استعمال کرنا درحقیقت بزدلی ہے طاقت ہے ہی وہ جو صحیح جگہ استعمال ہو آپ کی طاقت مظلوم کے حق میں استعمال ہو ظالم کے خلاف آپ کی طاقت کا مظاہرہ ہو
    کیوں کہ مظلوم کے خلاف طاقت کا استعمال ظلم کہلاتا ہے جب آپ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں تو سمجھیں آپ نے خود کو پہچان لیا

    انسان جب خود کو پہچان لے وہ اپنے آپ ایک طاقت ہوتا ہے کیوں کہ جب وہ اس منزل پر پہنچتا ہے اسے دوسروں کی اچھائیاں اور اپنی برائیاں نظر آتی ہیں تب وہ اپنے آپ کو برائیوں سے دور کرتا جاتا ہے اور اچھائیاں اس کے اوصاف میں شامل ہو جاتی ہیں

    اس لیے دوسروں کی بجائے خود کو سمجھیں اور ایک زبردست انسان کے طور پر ابھر کر آئیں تحریر: (فضل عباس)

  • فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    دنیا کی سب سے مہنگی موم بتی فروخت کیلئے پیش کر دی گئی ہے جس کی قیمت 2021 برطانوی پاؤنڈ ہے جو قریباً چار لاکھ 40 ہزار روپے پاکستانی روپے بنتی ہے ۔

    باغی ٹی وی : فلیمنگ کریپ نامی کمپنی کی تیار کردہ موم بتی 30 گھنٹے تک مسلسل جل سکتی ہے ، سمیلز لائک کیپٹلزم نامی موم بتی جب جلتی ہے تو اس سے خالص چمڑے کے بتوے اور کرنسی نوٹوں کے جلنے کی بو آتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا احساس دلاتی ہے ۔

    اس کو بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم اس سے حاصل ہونے والی تمام رقم بے گھر برطانوی لوگوں کی امداد پر خرچ کریں گے ، گویا یہ مہنگی ترین شے فلاحی مقصد کیلئے تیار کی گئی ہے ۔

    فلیمنگ کریپ کے مالک اولیوربور کا کہنا ہے کہ خوشبودار موم بتیوں کے بہت سے برانڈ ہیں جن کی قیمت ایک ہزار پونڈ تک ہوتی ہے تاہم اسے بیچنے والے اس ہوشربا قیمت کی کوئی وضاحت نہیں کرسکتے لیکن ہم اس رقم کو فلاحی کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

    اولیور نے کہا کہ تمام موم بتیاں ہاتھوں سے تیار کی جاتی ہیں جس کی تیاری میں جنون اور محبت نمایاں ہے۔ ’اس طرح ہم ایک معیاری شے تو دے ہی رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ہرممکن مدد بھی کررہے ہیں-

  • ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت کی جانب سے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ترکی اردو کے مطابق جنگلوں میں جن درختوں کی نشونما رک گئی تھی ان میں کتابوں کے فیکس بنا کر یہاں لائبریری کھولی گئی ہے حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی اس لائبریری میں دو ہزار کے قریب کتابیں موجود ہیں –

    بچوں،نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد اس لائیبریری سے استفادہ حاصل کر رہی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ہریالی کے درمیان بیٹھ کر کتابیں پڑھنے ک الگ ہی مزہ ہے۔

    ترکی لائبریریوں کو فروغ دینے کے لیے پہلے بھی کئی اقدامات کر چکا ہے ترکی میں اس سے قبل کچھ عرصہ پہلے پارک میں اوپن لائبریری کھولیں گئی تھی جسے لوگوں نے بہت پسند کیا تھا۔