Baaghi TV

Category: متفرق

  • “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی الجھن، کبھی ڈر
    وقت اے دوست ! بہرحال گزر جاتا ہے
    لمحہ لمحہ نظر آتا ہے کبھی اک اک سال
    ایک لمحے میں کبھی سال گزر جاتا ہے

    دوستوں نے یاد دلایا آج میراجنم دن ہے ۔ یوم پیدائش سے زیادہ اہم دن اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھر جاتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ۔
    زندگی کا (۲۳) واں سال ختم ہونے کو ہے۔ آج یونہی بیٹھے بیٹھے بات چھڑی کہ سال کیسا گزرا تو حسابِ سودوزیاں کرنے بیٹھی۔۔معلوم ہوا کہ۔۔
    وہی حالات، وہی رویے، وہی باتیں، وہی مخفل ۔۔کچھ خاص تبدیلی تو نہیں آئی۔۔سوائے کورونہ کی ایک لہر سے تیسری تک میں تبدیلی۔۔۔
    اس سال بھی سارے موسم ویسے ہی تھے۔۔ بے بسی اور کم مائیگی کے کہرے میں لپٹے ہوئے۔۔اس سال بھی اپنی اور دوسروں کی مجبوریوں پرجی بھر کے رونا آیا۔۔
    اس سال بھی لوگ امن و سکون کو ترستے رہے ۔
    ذاتی سطح پر دیکھوں تو بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ذاتی کمزوریوں کی فہرست میں اضافہ ہوتادکھائی دیتا ہے۔
    آغاز سے اختتام تک یہ سال مجموعی طور پر ہم پاکستانیوں کے لئے بہت مشکل رہا۔ لیکن پھر بھی ہم رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے لئے سب کچھ اچھا ثابت فرمائے اور انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر خوشیاں، سکون، امن و سلامتی اور کامیابیاں سب کا مقدر ہوں۔آخر میں اُن تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے اس دن پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے۔۔(آمین)
    جواد خان یوسفزئی
    ٹویئٹر : Jawad_Yusufzai@

  • دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    اللہ نے انسان کو اسکے جسم کو اسکی ھر ایک سانس کو قیمتی بنایا ھے اسکی حفاظت کرنا اسکا خیال رکھنا انسان پر ویسے ھی فرض ھے جیسے انسان کے لئے اعمال صالحہ کرنا انسان کا جسم اللہ کی امانت ھے اللہ خوبصورتی جمال اور طہارت کو پسند کرتا ھے اور صفائ رکھنے والے انسانوں کو اپنا محبوب رکھتا
    جسم کے تمام حصوں کی اپنی اہمیت ایسے ھی دانتوں کی بھی اہمیت ھے انکو روزانہ کم از کم دو بار صاف رکھنا ایک صبح ناشتے کیبعد ایک رات سونے سے پہلے انتہائ ضروری ھے انسان کے منہ میں زندگی میں دو بار دانت آتے پہلی بار 20 اور اگلی بار 32 پہلی بار جب دانت نکلتے تو ھم انکو دودھ کے دانت کہتے یہ چھوٹے جبڑے کے عین مطابق چھوٹے ھوتے اور پھر ابھی یہ موجود ھی ھوتے تو پیچھے پکی ڈارھیں نکلنا شروع ھوجاتی 13 سال کی عمر میں قریبی سارے پکے دانت نکل آتے سب سے آخری ڈارھ جسکو ھم عقل ڈارھ بھی کہتے وہ عموما جوانی میں نکلتی کئیوں کی یہ نکلتی بھی نھیں اور کئ کی خراب نکلتی اور پھر سرجری کرکے نکلوانی پڑھتی

    بطور ڈینٹل سرجن اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں پیدائش سے لیکر دانتوں کی مکمل عمر پہنچ جانے کے مراحل انکے مسائل اور ان سے جڑے مسئلوں کے حل پر ایک سیرپا گفتگو کرونگا جسکا مقصد لوگوں میں علم شعور پہنچانے کی اپنے تئیں کوشش ھوسکے کہ دانتوں کی کونسی بیماریاں ھیں انکا حل کیا ھے کب مریض کو ڈینٹسٹ پاس جانا چاہئے اور گھر پر ایسا کیا کریں کہ یہ مسئلے دوبارہ سر نا اٹھا پائیں
    بچوں میں جیسا کہ میں نے بتایا بچپن میں 20 دانت نکلتے دس اوپر والے جبڑے اور دس نیچے والوں میں تو 5 سال کی عمر سے لیکر 12 سال کی عمر ایسی ھوتی ھے جس میں زیادہ تر بچے دانتوں میں کیڑا لگنے کی شکایت کیساتھ ڈینٹسٹ کے پاس جاتے ھیں درحقیقت دانت بچپن سے خراب جورے تھے اثرات اس عمر میں آتے بچوں کے دانتوں کا سب سے بڑا دشمن فیڈر ھے اگر میرا بس چلے تو مارکیٹ میں جتنی کمپنیز ھیں انکے فیڈرز کو آگ سے جلادوں یہی بچوں میں rampant caries نامی بیماری پیدا کرتے یہی دانت ٹیرے کرنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے بچوں کونتکالیف درد جن کیسز میں آتا ان میں 90 فیصد فیدر استعمال کرتے بچے ھی ھوتے دوسری غلطی بچوں کے مناسب دانت صفائ نا کرنا انکو دانت صاف کرنے کا سلیقہ طریقہ نا سکھانا ھے اور جو دانت صاف کر رھے ھوں بچے انکو ھائ فلورایئڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کروانا ھے

    بچوں کا بچوں والا ٹوتھ پیسٹ دیں ٹوتھ برش دیں اور دانت دو بار صاف نھین کروانے بلکہ ھر بار جب وہ کچھ میٹھا کھائیں یا باھر کا۔کچھ کھائیں تب صاف کروانے ھیں
    بچہ 11 سال کا جب ھوجاتا یا اسکے canine جو نوکیلے دانت ھوتے وہ نکل آئیں تو اسوقت اگر آپکو لگے کے بچے کے دانت ٹیڑھے ھیں تو آپ ڈینٹل سرجن پاس جائیں ایک اچھا ڈینٹسٹ ایک اچھا صاف ستھرا کلینک اور ایک اچھی ٹریٹمنٹ بچوں کیلئے ھمیشہ ترجیحی بنیاد پر ھونے چاہئے

  • حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    اللہ نے بنی نوع انسان کے ساتھ کروڑوں چرند پرند بھی پیدا کیے جن کی حیات و افزائش، نسل انسانی کے ساتھ چلتی اور معدوم ہوتی رہی۔
    جب میں ساؤتھ افریقہ شفٹ ہوا تو خاصی حیرانگی ہوئی کہ یہاں چند جانور ایسے ہیں جن کی حفاظت ہمارے وی آئی پیز کی طرح کی جاتی ہے اور انتہا تب ہوئی جب اس جانور کا شکار کرنے والے شکاری جنہیں رینجرز کی زبان میں “پوچرز” کہا جاتا ہے مقابلے کے بعد شدید زخمی اور کچھ کو ہلاک کر دیا گیا۔ جی ہاں جان سے مار دیا گیا۔
    یہ حفاظتی اقدامات تھے “گینڈے” کو شکار سے بچانے کے لیے۔ ڈائنوسارز کے زمانے سے چل رہے چند جانوروں میں اب صرف ہاتھی اور گینڈا ہی باقی رہے اور گینڈا کی نسل اس کے دانت کی وجہ سے انتہائی شدید خطرات سے دوچار ہے۔
    کچھ بعید نہیں اگر جانور زبان رکھتے تو ضرور کہتے کہ “انسان کس قدر حیوان اور وحشی ہے”۔ جانور کا بھی کرۂ ارض پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ عام انسان کا مگر کیا کیجیے۔
    گینڈے بارے تھوڑی تحقیق اور معلومات آپ سے شیئر کرتا ہوں جو کم ہی لوگوں کو معلوم ہیں اور کیسے ساؤتھ افریقن حکومت انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔
    آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جنگلات کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے نہ صرف گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہیں ۔ زیادہ تر جنگلات میں جنگلی جانور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جنگلات ان چند جنگلات میں سے ایک ہیں جہاں اب بھی مختلف اقسام کے جنگلی جانور موجود ہیں۔اس لیے یہ تمام دنیا میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں بہت سے ایسے جانور پائے جاتے ہیں جو اب باقی دنیا میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ انھی جانوروں میں سفید اور سیاہ گینڈے بھی شامل ہیں۔ گینڈوں کی نسل گزشتہ کئی دہائیوں سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ مختلف جرائم پیشہ افراد ان کے سینگ کے حصول کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں اور ان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے یہ ایک بکتر بند ٹینک کی طرح ہے۔ یہ لاکھوں سال سے ہمارے ساتھ اس دنیا میں موجود ہے، لیکن اب اس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔ 1970 تک گینڈوں کی تعداد 70،000 تھی جو اب 27،000 کے قریب ہے۔

    جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے سفید اور سیاہ گینڈے میں اگرچہ رنگت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ دونوں ہی سرمئی رنگت کے ہوتے ہیں لیکن ان کو ان کی مختلف خصوصیات کی وجہ سے یہ نام دیے گئے ہیں۔
    سفید گینڈا ہاتھی کے بعد زمین پر پایا جانے والا دوسرا بڑا ممالیہ جانور ہے۔ سفید گینڈا 1900 کی دہائی کے اوائل میں 100 سے بھی کم رہ گئے تھے۔ لیکن عالمی محکمہ تحفظ جنگلی حیات اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے اب ان کی تعداد بڑھ کر 17،212 اور 18،915 کے درمیان ہوگئی ہے۔
    سیاہ گینڈے کا سائنسی نام ڈیسورس بائی کارنس ہے۔ یہ سفید گینڈے کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ پودے اور جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں۔ خاص طور پر ببول ان کی پسندیدہ غذا ہے۔ سیاہ گینڈوں کی آبادی 1970 میں 70،000 سے کم ہو کر 1995 میں صرف 2،410 رہ گئی تھی۔ لیکن افریقی محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی مسلسل کوششوں کی بدولت اس وقت ان کی تعداد 5،366 اور 5،627 کے درمیان موجود ہے۔

    معاشی ترقی اور آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنگلات کو کاٹ کر نئے شہر اور کالونیاں قائم کی جانے لگیں۔ اس عمل سے جنگلی حیات کوناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ کیونکہ ان کے قدرتی گھر ختم ہونا شروع ہو گئے، جہاں یہ مل جل کو گروہوں کی شکل میں رہتے تھے۔ اب یہ الگ تھلگ علاقوں میں تقسیم ہو گئے، جہاں ان کی افزائش کو خطرہ ہے۔ بہت کم گینڈے قومی پارکوں اور مصنوعی جنگلوں میں زندہ رہ پاتے ہیں۔

    جنگلی جانوروں خاص طور پر گینڈوں کو بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر شکار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ شوقیہ طور پر بے رحمانہ طریقے سے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ جس سے ان کی نسل تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

    شوقیہ شکار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تعداد ان افراد کی بھی ہے جو ان کا سینگ حاصل کرنے کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں۔ ایشیاء اور باقی دنیا میں پائے جانے والے گینڈوں کا ایک سینگ ہوتا ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے گینڈوں کے دو سینگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے انھیں زیادہ شکار کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ سینگ روایتی دوائیوں کے استعمال یا بیش قیمت تحفے کے طور پر دینے کے لیے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ چین اور ویتنام کی منڈیاں ان کے سینگ کی بڑی خریدار ہیں۔ چین کی ایک اہم مارکیٹ میں اس کے سینگ سے بنے نوادرات فروخت کیے جاتے ہیں۔ ویتنام میں اس کو کینسر کے علاج کے لئے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا سینگ جسم سے زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے، اس لیے سنگین سے سنگین بیماری میں بھی شفا دیتا ہے۔
    دنیا بھر میں گینڈوں کی آبادی کا تقریبا 80 فیصد جنوبی افریقہ کے کروگر نیشنل پارک میں موجود ہیں ۔گذشتہ پانچ سالوں میں 5100 سے زائد گینڈے غیر قانونی طور پر شکار ہوئے جن میں سے 50 فیصد صرف کروگر نیشنل پارک میں شکار ہوئے۔ لیکن افریقہ کے جنگلات میں اب ان کی حفاظت کے لیے رینجرز، ڈرون کیمروں اور جہاں ضرورت ہو تو مسلح افواج کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

    اگرچہ غیر قانونی شکار پر پابندی اور مصنوعی طریقوں سے افزائش نسل کر کے ان کی آبادی کو بڑھانے کی کوشش بہت حد تک کامیاب ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ہمیں اپنے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ اس کا شکار زیادہ تر سینگ کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے، اس لیے صارفین کی مانگ ختم ہو جائے تو شکاریوں اور سمگلروں کی اس میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ کم سے کم جنگلات کی کٹائی ہو۔ اور یہ قدرتی ماحول میں نسل برقرار رکھ سکیں۔

    ‏Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • پاکستان میں کاروباری ماحول . تحریر : محمد ذیشان

    پاکستان میں کاروباری ماحول . تحریر : محمد ذیشان

    پاکستان کی طرح ، دنیا بھر میں بھی کاروبار مخصوص خاندان چلاتے ہیں۔ نہ صرف یہ خاندان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار چلاتے ہیں بلکہ انہوں نے پوری دنیا میں کامیابی کے ساتھ بڑے کاروبار بھی چلائے ہیں۔ ڈوپونٹ جیسے کاروبار کا انتظام اس خاندان نے 170 سال تک برقرار رکھا ، یہاں تک کہ سن 1970 کی دہائی میں پیشہ ورانہ منیجروں نے اسے سنبھال لیا تھا۔

    میرے نزدیک پاکستان میں کاروبار کرنے والے خاندان رحمت کا مجسمہ ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو روزگار مہیا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ ، پاکستان کے موجودہ تناظر میں ، کاروبار کرنا جوئے کے مترادف ہے۔ اور ناجائز حالات میں کاروبار کرنے والے نوجوان کاروباری خاندان اپنے عملی اقدامات کے ذریعہ اپنی حب الوطنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ آج ہم ان میں سے کچھ تجاویز کا ذکر کریں گے جن سے پاکستانی کاروباروں کی پیداور میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
    یہ کہنا بجا ہے کہ زیادہ تر ہماری کمپنیوں میں انگوٹھے کا راج ہے۔ سیٹھ صاحب کے آس پاس میں ہمیشہ خوف و ہراس رہتا ہے۔ خوف تخلیقی صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے جیسے دیمک لکڑیاں نگل جاتا ہے۔ خوف و ہراس کے ماحول میں اپنی مرضی کا اظہار کرنے سے منع کرتا ہے اور معمول بن جاتا ہے۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ کاروبار ایسے مکالمے پر فروغ پزیر ہوتے ہیں جو بغیر کسی نفسیاتی عدم تحفظ کے جاری رہتا ہے۔

    خوف نفسیاتی عدم تحفظ پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر خوف مفید معلومات کے تبادلے کو روکتا ہے ، اور معلومات کا تبادلہ کسی بھی کاروبار کی گروتھ کی ضمانت دیتا ہے۔ مسٹر سیٹھ کو بے ہوشی میں یہ جملہ سناتے ہوئے سنا گیا ہے ، "میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک مجھے سچ کہے ، چاہے انہیں اس سچائی کے نتیجے میں ملازمت چھوڑنی پڑے۔” آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان "سازگار حالات” میں سچ بولنے والا کتنا بے وقوف ہوگا۔
    خوفناک ماحول میں کام کرنے کے مضر اثرات یہ ہیں کہ ہر ملازم ایک فوری دلچسپی دیکھتا ہے اور اپنی ملازمت کو بچانے کے لئے ہمیشہ بے چین رہتا ہے۔ جو لوگ خوف زدہ ماحول میں کام کرتے ہیں وہ اپنی غلطیاں چھپاتے ہیں اور پھر جب ان قالینوں کے نیچے جان بوجھ کر چھپی غلطیوں کا پہاڑ ہمالیہ بن جاتا ہے تو پوری کمپنی گر جاتی ہے۔ ایسے افراد جو کسی کمپنی میں کام کرتے ہیں وہ صرف تب ہی اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں گے جب کمپنی کے مالکان اپنی غلطیوں کا کھل کر اعتراف کریں۔ "اگر کوئی داغ نہیں ہے تو کوئی سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے” میں بڑی حکمت ہے اور انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور سی ای او غلطیوں سے آزاد نہیں ہیں۔ ۔
    ہماری سیٹھ کمپنیوں میں ، لوگوں کو عام طور پر شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ مفروضہ کہ "لوگ نوکری چور ہیں” بزنس الہیات کا ایک لازمی جزو بن جاتا ہے۔ نفسیات سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ ان توقعات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتے ہیں جو ان سے وابستہ ہیں۔ جب ہم کسی مزدور کو مزدور سمجھتے ہیں ، تب وہ حقیقت میں کام چور ہوگا۔ اس کے برعکس ، اگر ہم یہ خیال رکھیں کہ لوگ سخت محنت کرنا چاہتے ہیں اور تھوڑی حوصلہ افزائی کریں، تو ہم ان پر اعتماد کریں گے تاکہ ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا جا سکے.

    ہمارے پاکستانی کاروبار میں اکثر ماضی کا غلبہ ہوتا ہے۔ ہم اپنے ادارے یہاں میموری کی بنیاد پر چلاتے ہیں۔ ماضی میں کامیابی لانے والی حکمت عملی کے ساتھ ، ہم مستقبل میں بھی کامیابی کی تحریک چاہتے ہیں۔ تاہم ، کامیابی مسلسل سوچنے کا نتیجہ ہے۔ کاروبار میں سوچ سمجھ کر درج ذیل فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
    1. ہم اپنی جبلت کے غلام نہیں بنتے ہیں۔
    2. ہم کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتے ہیں۔
    3. ہم آنکھیں بند کرکے احکامات پر عمل نہیں کرتے ہیں۔
    4. ہم عارضی جذبات کے بہاؤ سے گریز کرتے ہیں۔

    چاپلوسی کی وبا سیٹھ کمپنیوں میں بھی عام ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نمو کارکردگی کی بنیاد پر کم اور چاپلوسی کے ذریعہ زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے اور ناپسندیدگی کو ناپسند کرتا ہے۔ تو وہ سیٹھ صاحب کو ہاں کہتے رہتے ہیں اور ترقی کی سیڑھی پر چڑھتے رہتے ہیں۔ جو لوگ جھک جاتے ہیں وہ اونچائی ڈھونڈتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بلند کرتے ہیں وہ کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ بہرحال ، "سب ٹھیک ہے” کی آواز کانوں میں پگھل جاتی ہے ، جبکہ وہ لوگ جو عیب کی نشاندہی کرتے ہیں وہ من مانی گھٹن کا سبب بنتے ہیں۔
    انتظامی عہدوں پر بھرتی کے لئے، ان امیدواروں کو نظرانداز کرنا ضروری ہے جو سب کو خوش رکھنا چاہتے ہیں یا جو کسی کی خوشی کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ ایک مینیجر جو دو سالوں میں جانشین پیدا نہیں کرتا ہے وہ ایک کرسی کے لیے پاگل ہوتا ہے اور کرسی کے پاگلوں سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔
    ادارے لوگوں سے بنے ہوتے ہیں اور جب لوگوں کو مشینی حصوں کی طرح نکال دیا جاتا ہے تو پھر کمپنیاں مکان نہیں بنتی بلکہ دروازے بنتے ہیں جو آتے جاتے رہتے ہیں۔
    لہذا ہمیں ان نکات پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ کاروباری ماحول پروان چڑھے.

  • کرونا کو قابو کرنے کے لئے سرکاری احکامات پرعمل کی سخت ضرورت ہے .  تحریر: نادرعلی ڈنگراچ

    کرونا کو قابو کرنے کے لئے سرکاری احکامات پرعمل کی سخت ضرورت ہے . تحریر: نادرعلی ڈنگراچ

    کرونا وائرس سے ابھی تک جان نہیں چھڑا سکے اس کی ایک لہر پہلے والی لہر سے زیادہ خطرناک بن کر آتی ہے یے عالمی وبا ہر طرف سے انسان کی خوشبو انسان کی خوشبو کرتا ہوا آرہا ہے جیسے دنیا کے دورے پر نکلا ہوا ہو. دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی عوام سے ایس او پیز پر عمل کروا کر ویکسین لگوانے کا سلسلہ تیزی سے جاری رکھا ہے پر مسئلہ ہمارے جیسے غریب ممالک کو ہے جن کے پاس محدود وسائل ہونے کی وجہ سے اس موذی مرض پر ابھی تک قابو پانے سے قاصر ہیں. پاکستان میں اکثریت لوگوں کی اس وائرس کو صرف معمولی بخار سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہے. جب کہ پاکستان میں کرونا کی صورتحال کافی پریشان کن ہے. پچھلے 24 گھنٹوں میں کرونا کی 48 ہزار 816 ٹیسٹیں کی گئیں جن میں سے 2607 لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ اس وائرس کا شکار ہوکر وفات پانے والوں کی تعداد 21 ہے.

    کرونا کی خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس نے بھی پاکستان میں اپنے قدم رکھ دیئے ہیں پنجاب سمیت پورے ملک کے لوگوں کو اس خطرناک وائرس نے اپنی پکڑ میں لینا شروع کردیا ہے پنجاب میں اس وائرس کے 24 سے زائد مریض پائے گئے ہیں جن میں اکثر لوگوں کا تعلق لاہور اور گوجرانوالہ سے ہے. پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ کے کچھ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن بھی لگا دیا ہے.

    کرونا وائرس کے خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس بھی پاکستان میں تباہی مچانے کے لئے تیار ہے مگر حکومتی لوگ شاہی فرمان جاری کرنے کے علاوہ عملی طور پر کچھ خاص نہیں کر سکے صرف حکم نامے جاری کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا ایس او پیز پر عمل کروانا بھی حکومت کی زمیداری ہے. صرف سکول, کالج بند کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا بازاروں میں جو عوام کا ہجوم ہے اس کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے.

    ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے جاری کردہ حکم ناموں پر سختی سے عمل کروائے لوگوں کو ماسک پہنائےسماجی فاصلہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے ایس او پیز پر عمل کرنے کا پابند بنائے اور لوگ بنا کسی الجھن کے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو کرونا وائرس سے بچنے کی ویکسین لگوانی چاہئے.

    @Nadir0fficial

  • دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    نئی دہلی: شادی کے ’منڈپ‘سے دولہا اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے کے بعد فرار ہو گیا ۔

    باغی ٹی وی : یہ نہایت ہی حیران کن واقعہ بھارت میں پیش آیا ہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے شیئر کی جارہی ہے جس میں دولہا اور دلہن اپنے نئے سفر کے آغاز کیلئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے تھے –

    رسم کی ادائیگی کیلئے دولہا جب اپنی نشست سے کھڑا ہوا تو ساتھ دلہن بھی اٹھنے لگی لیکن وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور لڑکھڑا کر گر پڑی –

    لڑکی کے نیچے گرنے سے اس کے چہرے سے گھونگھٹ بھی ہٹ گیا ۔ دولہے نے جب لڑکی کو دیکھا تو فوری طور پر گلے سے پھولوں کو اتار کر پھینکتے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا ۔

    میڈیا پر چلنے والی اطلاعات کے مطابق دولہے اور دلہن نے شادی سے قبل ایک دوسرے کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ملاقات ہوئی تھی ۔تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے یا اصلی اور یہ کس بھارتی علاقے سے وائرل ہوئی ہے ۔
    https://youtu.be/iUiZuRiu1f0

  • افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    1973 میں افغانستان کی شہنشاہیت کا دور ختم ہوا تو داؤد خان نے جمہوری خطوط پر ملک کو استوار کرتے ہوئے اپنے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا ، داؤد خان پاکستان کے سخت خلاف تھا، پاکستان کے پشتونوں اور بلوچوں کو ملک پاکستان سے علیحدگی کے لئے بہت ساری اندرونی سازشیں شروع کر کے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے بھی کروائے، اسی سلسلے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی افغانستان پراکسی جنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آنے والے دن میں بڑھتا چلا گیا اور یہ آج تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کے لیے مسئلہ ہے، دیکھا جائے تو 1979 کے آخر میں جب روسسی یونین نے افغانستان پر غیر انسانی حملہ کیا اور اس بدترین حملے سے لاکھوں جانوں کا ضیاع ہوا، لاکھوں گھر اجڑے، ہر طرف خوف و حراس پھیل گیا تو لاکھوں افغانی خاندان پاکستان کے بارڈر کو کراس کر کے پاکستان آئے، پاکستان نے ان کو گھر دئیے اور ملک میں کہیں بھی رہنے کام کرنے کا اجازت نامہ دیا، اس کے علاؤہ پاکستان نے اپنے فوجی دستے اور عام عوام کو افغانستان کیلئے روس کے خلاف جہاد کرنے کیلئے بھی بھیجا، اور بالآخر 1989 کے شروع میں روس کو شکست دے کر اس خطے سے نکال دیا گیا.

    2001 میں امریکہ یورپ سمیت دنیا بھر کی پاوفل افواج افغانستان میں اتر آئیں جن کا نظریہ افغانستان سے دہشت گردوں گردہ کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا جہاں ان کا تصادم افغان طالبان سے تھا جن کا نظریہ جہاد اور افغانستان میں مکمل طور پر اسلام کا قانون نافذ کرنا تھا، جہاں کوئی بھی شخص اسلام کی حدود سے باہر کوئی ذاتی طرز زندگی کا حامل نہیں ہو سکتا تھا، 20 سال تک یہ جنگ چلتی رہی مگر دنیا کی تمام طاقتور افواج افغان طالبان کو زیر نہ کر سکیں، تو بات معاہدے پر آئی جو کہ 2020 کے شروع میں کیا گیا، جس کے تحت تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس نکلنے لگیں اور معاہدے کے مطابق افغانستان سے نکلنے والی افواج ہر طالبان حملہ آور نہیں ہوں گے ،

    متحدہ ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد اب افغانستان ایک نئی جنگ سے دوچار ہے جس میں موجودہ افغان حکومت اور طالبان مد مقابل ہیں، جہان تک طالبان کی بات ہے تو پورے ملک میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کی ٹھان چکے ہیں اور موجودہ حکومت کسی طرح بھی ان کو روکنے کیلئے سرگرم ہے، حتی کہ افغان حکومت کسی طرح کے معاہدے کی بھی حامل نہیں، اور طالبان کو نئے علاقوں پہ قابض ہونے سے تو اعلانیہ طور پر روک بھی رہی ہے اور طالبان کے زیر سایہ علاقے بھی واپس چھیننے کی جسارت کر رہی ہے، اس وقت ملک میں خانہ جنگی کی شدت ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایہ ملکوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں.

    افغانستان کی عوام کو اپنی موجودہ حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں، عوام موجودہ حکومت کو کرپٹ اورچورحکومت سمجھتی ہے جس کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہیں ہے ، مگر عوام میں طالبان کا ایک خوف طاری ہے ، عوام میں یہ بات عام ہے کہ طالبان نے جو علاقے فتح کئیے اور اپنے قوانین لاگو کئیے وہاں عورتوں کا گھرسے باہرنکلنے کی اجازت نہیں، مردوں کو ہر صورت داڑھی رکھنے کا لازم و ملزوم قانوں ہے اور مختلف اسلامی روایات کو ڈنڈے کے زور پر لاگو کرنے کے حامل ہیں، اس خوف سے عوام کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ کرپٹ حکومت کو تو سہن کر سکتے ہیں مگر طالبان کی طرف سے سختی اور زبردستی سے لاگو کردہ قوانین کو سہن نہیں کر سکتے، جبکہ طالبان کے بیان کے مطابق اس طرح کی کوئی زبردستی قانونی حیثیت رائج نہ کی ہے اور نہ کی جائے گی.

    ایک تجزیے کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے افواج کی انخلا کا عزم اس لئیے کیا تاکہ پاکستان دشمن قوتیں اپنی ضمیر فروش تنظیموں کو پاکستانی بارڈر کے ساتھ قبضہ کرنے کا موقع فراہم کرے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملے کریں اور سی پیک کو نقصان پہنچائیں، جس ہر پاکستان نے اظہار تشویش بھی کیا ہے.

    عوامی رائے کی مانیں تو افغان عوام اپنی ایمان فروش حکومت سے انتہائی نالاں اور برہم ہے، تو اسی سلسلے میں افغان طالبان کو اپنے قوانین میں انفرادی آزادی، محبت اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ہو، اورمزید یہ کہ پاکستان اورایران سے تمام افغان مہاجر اپنے ملک واپس جاسکیں، اس خطے میں کوئی بدامنی باقی نہ رہے، اللہ عالم اسلام کو آزادی اور سکون عطا کرے اور بدامنی اور خونریزی سے محفوظ رکھے.

    @IshaqSaqii

  • ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌  فرمان اللہ

    ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌ فرمان اللہ

    افغانستان میں امریکی فوج انخلا کے بعد ھندوستان خطے پر بادشاہت بننے کا خواب دیکھ رہا تھا اور اسی وجہ کو لیکر افغانستان میں اپنے قونصل خانے قائم کی ساتھ اپنا فوج بھی افغانستان میں تعینات کیا امریکہ اور ھندوستان کا ملی بھگت تھا کہ خطے پر ھندوستان کا راج ہوگا، یہاں ھندوستان پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنا چاہتا تھا جبکہ امریکہ اور چین کا نہیں بنتا تو امریکہ چین پر نظر رکھنا چاہتا تھا لیکن امریکہ کو کیا پتہ کہ اس مقصد کیلئے جس کو چھنا تھا وہ ظاہری طور پر بدمعاش لیکن بزدل ملک ہے، دوسرے طرف افغان م ج ا ھ د ی ن نے ٹھوک کے رکھ دئیے اور خالات کو یکسر تبدیل کر دئیے افغانستان میں ط ا ل ب ا ن نے یکدم سب کچھ ہلا کر رکھ دی اور قابض ہوتے نظر ائے تو ایک طرف امریکہ انخلا پر مجبور ہوگئے لیکن ان سے پہلے پہلے خطے کا چودھری ھندوستان گیدڑوں کیطرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے خالات بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ایک طرف ط ا ل ب ا ن نے افغانستان پر قبضہ جمانا شروع کیا ہے تو دوسرے طرف چین، روس، برطانیہ، نے ط ا ل ب ا ن کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے خطے سمیت دنیا کے خالات بدلتے نظر ارہے ہیں.

    ھندوستان اب صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں اور ساتھ اس غم میں مبتلا ہیں کہ م ج ا ھ د ی ن افغانستان پر قابض ہونے کے بعد کہی سلطان محمود غزنوی کا تاریخ نہ دھرا لے اور اس بات کا اندازہ اپ ھندوستانی میں میڈیا کی چیخیں دیکھ کر سکتے، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم افغانستان میں امن کیلئے اچھے خواہشات رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپس میں اتفاق عطاء فرمائے لیکن یہاں ایک بات ضروری سمجھتا ہوں لر بر اور سرخو کا کیا بنے گا جو لر بر کا نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے، افغانی حکام ہمیشہ پاکستان پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ کہ مشرف نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا خیر یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ لر بر کے نعرے لگانے والے اور پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے بننے والے سرخو کے پیچھے ہمیشہ افغانستان کے حکام ملوث رہے پاکستان میں ھندوستانی ایجنٹ آسانی سے افغانستان سے اتے رہے ھندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، پاکستان خطے کا زمہ دار ملک ہے خالات پر گہرے نظر رکھتے ہیں لیکن کسی بھی طرف ساتھ دینے سے فی الحال قاصر ہے اور یہی ٹھیک ہے پچھلے سولہ سال سے پاکستان کسی اعت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں.

    Femikhan_01

  • پرواز . تحریر: آصف راج

    پرواز . تحریر: آصف راج

    کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک آدمی کو ایک عقاب کا چھوٹا سا بچہ مل گیا وہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آیا اور گھر آ کر اس نے عقاب کے بچے کو گھر میں موجود اپنی مرغیوں اور چوزوں کے ساتھ چھوڑ دیا اب جو چیزیں مرغیاں کھائیں عقاب بھی وہی کھائے جس طرح مرغیاں چلیں عقاب بھی ویسے ہی چلے جیسا کہ سب جانتے ہیں مرغے مرغیاں پر ہونے کے باوجود زیادہ تر اڑتے نہیں ہیں اگر کبھی اڑتے بھی ہیں تو دیوار کی حد تک اب عقاب جو کہ انہی میں پل بڑھ رہا تھا اسکی پرورش بھی ویسے ہی ہو رہی تھی جیسے باقی کے مرغے اور مرغیوں کی ہو رہی تھی جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ سب بڑے ہوتے گئے اب وہ عقاب بھی خود کو مرغا ہی سمجھنے لگا
    لیکن رنگ نسل اور جسامت کو لیکر احساس کمتری کا شکاربھی کہ باقی سارے مرغے اور مرغیاں ایک جیسے ہیں انکی بولی اور شکل صورت بھی ایک جیسی ایک میں ہی ہوں جو ان جیسا نہیں ہوں.

    اس بات کا مرغے بھی خوب فائدہ اٹھا رہے تھے جیسے ہی سامنے کوئی دانہ دنکا آتا وہ اس پہ رعب ڈال کر خود کھا لیتے جو بچ جاتا اس میں سے عقاب کو ملتا اب جو مالک تھا وہ یہ سب کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اور دیکھ کر حیران بھی کہ یہ عقاب کو کیا ہو گیا یہ تو ایسے نہیں ہوتےسہمے سہمے سے اور یہ اڑتا بھی نہیں ہے شکار وغیرہ کرنا تو بہت دور کی بات اب وہ آدمی روزانہ عقاب کو اٹھائے اور اسے بولے کہ بھائی تو عقاب ہے زمین پہ چلنا تیرا کام نہیں تو آسمانوں میں اڑان بھر یہ کہہ کر وہ اسے ہوا میں پھینک دے لیکن اگلے ہی پل عقاب صاحب دوبارہ زمین پر ملیں وہ آدمی اسے پھر اٹھائے اور دوبارہ ہوا میں پھینک دے لیکن عقاب پر نا کھولے اور پھر زمین پرکافی دن ایسے ہی چلتا رہا لیکن مجال ہے کہ عقاب نے ایک بار بھی اڑان بھری ہوآدمی نے کہا کہ اب اگر تو نا اڑا تو میں تمہیں پہاڑ سے گرا آوں گا یہ کہہ کر اس نے پھر عقاب کو ہوا میں اچھالا لیکن اس بار بھی عقاب نہیں اڑا اب آدمی اسے لیکر پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچ گیا اورعقاب سے کہا کہ دیکھ بھائی یہ تیرے پاس آخری موقع ہے .

    اگرتم نے پہلے کی طرح بزدلی دکھائی تو کچھ ہی دیر میں ہزاروں فٹ نیچے کسی پتھر پہ پڑا تڑپ رہا ہوگا اور اگر ابار تم نے دلیری دکھا دی بتو پرندوں کا بادشاہ کہلائے گا یہ بول کر آدمی نے عقاب کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دیا اب جیسے جیسے زمین قریب آتی گئی یقینی موت کو دیکھ عقاب نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں اور اس آدمی کو بددعائیں دینا شروع کر دیں کہ کتنا ظلم کیا اس نے میرے ساتھ اور پھر اچانک سے اسے خیال آیا کہ یار یہ آدمی اتنے دنوں سے بول رہا تھا کہ تو عقاب ہے تیرا کام چلنا نہیں آسمانوں میں اڑنا ہے آج اسکی مان کر دیکھ ہی لوں
    ورنہ موت تو وہ ہے جو ابھی آئی کی آئی ہے یہی سوچ کر اس نے زندگی میں پہلی بار ہمت کر کے اپنے پروں کو اڑنے کے لئے کھولا تو اسے احساس ہوا کہ میرے پر عام پر نہیں بلکہ یہ وہ پر ہیں جو مجھے پر وقار ، با رعب اور وہ اونچی اڑان دیں گے کہ میں آسمانوں کا سینہ چیرتے ہوئے پرواز کروں گا ایسی پرواز جو مجھے پرندوں کا بادشاہ بنائے گی اس نے اڑنا شروع کیا کیوں کہ اب وہ جان چکا تھا کہ وہ کیا اب وہ جان چکا تھا کہ اس میں قوت پرواز ہے اب وہ جان چکا تھا کہ اس کے لئے اڑنا ممکن ہے.

    تو دوستو یہی کچھ ہمارے لئے ہے ہو سکتا ہے ہم پلے بڑھے ہی ایسے ماحول میں ہوں ہمیں کبھی ایسا موقع ہی نا ملا ہو کہ ہم خود کو جان سکیں ہمیں کبھی ایسا پلیٹ فارم ہی نا ملا ہو کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو منوا سکیں ہم رنگ نسل اور قومیت میں ہی دب کر رہ گئے ہوں آگے بڑھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا ہوہم نے کبھی اونچا اڑنے کے لئے اپنے ہر ہی نا کھولے ہوں اور احساس کمتری کا شکار ہو کر زندگی گزار رہے ہوں ہم اکثر کئی کامیاب لوگوں کو دیکھتے ہیں یا کئی کامیاب لوگوں کے بارے پڑھتے ہیں وہ کوئی آسمان سے نہیں اترے ہوتے وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں لیکن انہوں نے اپنی سوچ کو محدود نہیں رکھا انہوں نے اپنی منزل کو آسمان جانا اور حاصل کرنے کے لئے اپنے پروں کو حرکت دی تو کیوں نا ہمیں بھی ایک بار اس رنگ نسل کی سوچ سے آگے احساس کمتری سے نکل کر اپنے اندر وہ عقابی روح بیدار کرنے کی کوشش تو کرنی چاہئے اپنے اندر موجود ان صلاحیتوں کو استعمال تو کرنا چاہئے جو ہمیں دوسروں کے لئے مثال بنا دے ہمیں ہمارے وہ پر کھولنے تو چاہئے جو ہمیں پرواز کی ان بلندیوں تک لیکر جائے جس کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں یقین کریں ہم میں وہ سب کرنے کی قوت حوصلہ صلاحیت موجود ہے جس کا دوسرے فقط تصور ہی کر سکتے ہیں بس دیر ہے تو اپنی اس خاصیت کو ڈھونڈ کر اس پہ عمل کرنے کی.

    @pm_22

  • دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    ‎صحت مند دانت کا حصول زندگی بھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو یہ بتایا گیا ہو کہ آپ کے دانت اچھے ہیں ، لیکن ان کی دیکھ بھال کرنے اور پریشانیوں سے بچنے کے لئے ہر روز صحیح اقدامات کرنا اہم ہے۔ اس میں زبانی نگہداشت کی صحیح مصنوعات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی روز مرہ کی عادات کو بھی ذہن میں رکھنا
    ‎شامل ہے۔

    ان میں کچھ اقدامات ذیل ہیں
    1. دانت صاف کیے بغیر بستر پر نہ جائیں
    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ عام دن میں ہی نے کم سے کم دو بار برش کرنا ہے۔ پھر بھی ، ہم میں سے بہت سے لوگ رات کے وقت دانت صاف کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ لیکن بستر سے پہلے برش کرنے سے وہ جراثیم اور (plaque) چھٹ جاتے ہیں جو دن بھر جمع ہوتے ہیں۔
    2. مناسب طریقے سے برش کریں
    جس طرح سے آپ برش کرتے ہیں وہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ دراصل ، دانت صاف کرنے کا ناقص کام کرنا تقریبا اتنا ہی برا ہے جتنا کہ برش نہیں کرنا۔ جراثیم کو ہٹانے کے لئے ٹوت برش کو نرم ، سرکلر حرکات میں منتقل کرتے ہوئے اپنا وقت لیں۔
    3. فلورائڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں
    جب ٹوتھ پیسٹ کی بات آتی ہے تو ، سفید دانتوں اور ذائقوں سے کہیں زیادہ اہم عناصر کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ منتخب کرتے ہیں ، یقینی بنائیں کہ اس میں فلورائڈ موجود ہے۔
    4. فلوسنگ کو بھی برش جتنی اہمیت دیں
    بہت سے لوگ جو برش کرتے ہیں کہ فلاس سے باقاعدگی سے نظرانداز ہوتے ہیں۔ فلاسنگ سے کھانے کے ٹکڑے جو آپ کے دانتوں کے درمیان پھنس رہے ہیں نکلنے میں مدر ملتی ہے۔ عام طور پر دن میں ایک بار فلاسنگ ان فوائد کو حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔
    5.ماوتھ واش پر غور کریں
    اشتہارات میں ماوتھ واش پر بہت زور دیتے ہیں ، لیکن بہت سے لوگ انہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ شوارٹز کا کہنا ہے کہ ماؤتھ واش تین طریقوں سے مدد ملتی ہے:
    یہ منہ میں تیزاب کی مقدار کو کم کرتا ہے ، مسوڑوں کے آس پاس اور برش والے علاقوں کو صاف کرتا ہے ، اور دانتوں کو دوبارہ معدنی بنا دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "چیزوں کو توازن میں لانے میں مدد کرنے کے لئے ماؤتھ واش ایک منسلک ٹول کے طور پر کارآمد ہیں۔ "میرے خیال میں بچوں اور بوڑھے لوگوں میں ، جہاں برش کرنے اور فلاس کرنے کی قابلیت مثالی نہیں ہوسکتی ہے ، وہیں ماؤتھ واش خاص طور پر مددگار ثابت ہوتی ہیں۔”
    اپنے ڈینٹسٹ سے مخصوص ماؤتھ واش سفارشات طلب کریں۔ کچھ برانڈز بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں ، اور جن دانت حساس ہوتے ہیں۔
    6. زیادہ پانی پیئے
    منہ (oral health) کی صحت سمیت – پانی آپ کی مجموعی صحت کے لیے بہترین ہے۔ شوارٹز ہر کھانے کے بعد پانی پینے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس سے برش کے بیچ میں چپچپا اور تیزابیت خوردونوشوں اور مشروبات کے کچھ منفی اثرات کو دھونے میں مدد مل سکتی ہے۔
    7. شوگر اور تیزابیت دار کھانوں کو محدود کریں
    آخر کار ، شوگر منہ میں تیزاب میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو پھر آپ کے دانتوں کے (enamel) کو خراب کرسکتا ہے۔ یہ تیزاب وہی ہیں جو (cavities) کا باعث بنتے ہیں۔ تیزابیت والے پھل ، چائے ، اور کافی دانتوں کے (enamel) کو خراب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس طرح کے کھانے سے مکمل طور پر گریز کرنا پڑے۔
    8. سال میں کم سے کم دو بار اپنے ڈینٹسٹ سے طبی معائنہ کروایں
    آپ کی اپنی روزمرہ کی عادات آپ کی مجموعی (oral) صحت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ پھر بھی ، یہاں تک کہ انتہائی ذمہ دار برششر اور فولسروں کو بھی مستقل طور پر ڈینٹسٹ کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ کم سے کم ، آپ کو سال میں دو بار صفائی اور چیک اپ کے لئے اپنے ڈینٹسٹ سے ملنا چاہئے۔ ڈینٹسٹ نہ صرف (calculus) کیلکولس کو ہٹا سکتا ہے اور (cavities) کی تلاش کرسکتا ہے ، بلکہ وہ امکانی امور کو بھی تلاش کرنے اور علاج معالجے کی پیش کش کرسکیں گے

    @mussab_tariq