Baaghi TV

Category: متفرق

  •  پردیسیوں کے مسائل . تحریر :  تظخر شہزاد

     پردیسیوں کے مسائل . تحریر : تظخر شہزاد

    لفظ پردیسی پردیس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں اپنے آبائی وطن گاؤں شہر یا علاقے کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک میں بسنے والا. آج کے ترقّی یافتہ دور میں لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے دور بہتر مستقبل اور خوشحالی کےلیے دنیا کے مختلف ممالک جن  میں مشرق وسطیٰ، جنوبی افریقہ، یورپ،  امریکہ اور کینیڈا  سر فہرست ہیں میں روزگار کماتے ہیں جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 9 ملین ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد  تقریباً 2.6 ملین سعودی عرب میں ہے. بظاہرتو پردیسی خوشحال لگتے ہیں مگر ان کے مسائل بھی بے شمارہیں. کبھی ان کی آنکھوں میں جھانک کردیکھیں تو وہ کرب نظرآتا ہے

    جو سالوں سے اپنے دل میں چھپائے ہوتے ہیں اپنوں سے دور رہ کر دیارِغیر میں جو کرب وہ محسوس کرتے ہیں الفاظ میں  بیان کرنا مشکل ہے  پاکستان میں خاندان کے کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی وفات ہو تو ہزاروں میل دور پردیسی کے شب و روز کس قدر تکلیف میں گزرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں. اپنے اہل و عیال کی فرمائشیں پوری کرنے کےلیے وہ عرب کے تپتے صحراؤں میں یورپ اور امریکہ کی ٹھٹھرتی سردی میں دن رات محنت کرتے ہیں کون جانے کہ وہ اپنوں کے لیے چھپ چھپ کر روتے ہے مگر اس کے لیے بولے گئے الفاظ کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے  سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ جائیداد پر غیر قانونی قبضہ بھی ہے دیار غیر میں خون پسینے کی کمائی سے خریدی جانے والی جائیداد پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو اس میں رشتہ دار بھی ملوث ہوتے ہیں بیچارہ پردیسی کچھ ماہ کی چھٹی لے کر گھر جاتا ہے تو جائیداد کے تنازع میں الجھا دیا جاتا ہے اور کبھی کبھار توجائیداد سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں.

    اس کے علاوہ پردیسیوں کے جہاں عرب ممالک میں ویزہ مسائل ہیں تو یورپ میں امیگریشن کاغذات کے مسائل جن کو حل ہونے میں کئی بار تو سالوں لگ جاتے ہیں عرب ممالک میں سب سے زیادہ مسئلہ اجرت کا ہے کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں کفالہ نظام کی وجہ سے دوسری جگہ  نوکری ڈھونڈنا محال ہو جاتا ہے.

    پردیسیوں کے مسائل حل کرنے میں مختلف ممالک میں پاکستانی ایمبیسیوں نے بھی کوتاہی برتی ہے اور اب بھی جاری ہے جہاں  کوئی غریب الوطن اگر چلا جائے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے  ریاض میں  پاکستانی ایمبیسی کے عملے کے 6 ارکان کو واپس بلا لیا  اور انکوائری کا حکم دیا. ماضی میں اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی مگر موجودہ حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر مسائل کا انبار ہے حل کرنے کے لیے  جہاں سفارتی عملے کی اخلاقی تربیت ضروری ہےوہاں وقت بھی درکار ہے. گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا کی وجہ سے جو صورتحال ہے اس کا سب سے زیادہ اثر پردیسیوں پر پڑا ہے سفری مسائل اور ملازمتوں کا بحران شروع ہو گیا ہے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والوں کے ویزے ختم ہونے کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں بے روز گاری بڑھ گئی ہے.

      جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے حالیہ ہنگاموں کی وجہ سے وہاں روزگار کمانے والے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں بنے بنائے کاروبار اور دکانیں  لوٹ لی گئیں ہیں ان کو ریسکیو کرنے کے لیے ایمبیسی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ پاکستانیوں کی فوری مدد کی جائے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو نعمتوں سے نوازے تاکہ کوئی پردیسی وطن چھوڑنے کے کرب سے نہ گزرے.

    @tazher55

  • پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    زندگی اور موت پاکستانی سپاہی کی زندگی اور موت کی داستان جسے ہم فراموش کر دیتے ہیں زندگی جس میں کسی اپنے سے کیۓ گئے وعدے پورے کرنے تھے زندگی جس میں ابھی کسی کا ہمسفر بننا تھا زندگی جس کی آمد ایک پورے گھر کی خوشی کی واحد وجہ تھی زندگی جس میں اپنی پھولوں جیسی بیٹی کے بہت سے ناز اٹھانے تھے زندگی جس میں اکلوتے بھائی نے بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہونا تھا زندگی جسے بوڑھے باپ کا سہارا بننا تھا زندگی جو ماں کی گود میں سر رکھ کر زندگی جینا چاہتا ہے زندگی جسے اسے ابھی اپنے جگری یاروں کے ساتھ مل کر دشمنوں کے بےشمار ارادوں کو شکست دینی تھی.

    لیکن ایک سپاہی کی زندگی میں ایک ہی تمنا سب سے بڑی ہوتی ہے جس کی پوری ہونے کی دعا وہ ہر پل ہر دم کرتا ہے موت شہادت کی موت بس چند منٹوں کی بات ہوتی ہے اور زندگی اور موت کا فیصلہ ہوجاتا ہے….. وہ آنکھیں جو ابھی بہت سی خوشیاں دیکھنے کی منتظر تھی وہ بند ہونے جا رہی تھی وہ کان جو بہنوں کی چہکتی، بیٹی کی میٹھی اور ماں کی شیریں آواز سننے کے منتظر ناجانے کب سے انتظار میں تھے موت کی آغوش کو سن رہے تھے وہ دماغ آج سب ذمہ داریاں چھوڑ کر اپنی پہلی اور آخری ذمہ داری پوری کرنے میں آج اپنے ملک کے لیے قربان ہو رہا تھا اس کی آمد کا منتظر وہ چہکتا گھر وہ چڑیوں سے چہچہاتی بہنیں وہ ماں کی بے چین آنکھیں وہ باپ کا فخر بیٹی کا سوپر ہیرو اور کسی کا اپنے نام سے جڑے جانے والے سب کچھ کا انتظار چند گھنٹوں میں سبز پرچم میں لپٹے ہوۓ الوداعی سلام کے لیے پہنچ جاتا ہے .

    جو لوگ پاکستان کی ایک آواز پر اپنا گھر بار بچے ماں باپ چھوڑ کر بھاگے چلے آتے ہیں اور اپنی زندگی کا فیصلہ ایک پل میں کر دیتے ہیں خدارا ان کی عزت کیا کرۓ ان سے محبت کیا کرۓ.

    pagli_hun@

  • افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    جن احباب کو افغانستان کی تاریخ کا علم نہیں تو ان کی معلومات کے لئے یہاں ایک تاریخی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
    تاریخ میں افغانستان پہ کسی غیر ملکی طاقت یا حکمران نے دو دفعہ حکومت کی ہے۔ ایک اشوک اعظم اور دوسرا اکبراعظم نے۔ اس کے علاوہ افغانستان پہ اج تک کسی نے حکومت نہیں کی ہے۔ اب کچھ دوست کہیں گے بھائی امریکہ نے حکومت کی تو عرض ہے امریکہ نے حکومت نہیں قبضہ کرنے کی کوشش کی جو وہ ناکام و نامراد ہوکے چلی گی۔

    اب آئے ذرا تفصیل سے موجودہ صورت حال پہ روشنی ڈالتے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد افغان کا ماضی کیا ہوگا؟ اس پہ ہر کسی نے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہئں اور مختلف قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم بھی چند گزارشات اپ کے نظر کرتے ہیں ۔
    ایک اہم بات امریکی گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان پہ مکمل کنڑول کبھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس کا شہری علاقوں پہ قبضہ رہا جبکہ دہاتی علاقوں پہ طالبان کی حکومت رہی ہے۔ چونکہ افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اسلئے یہاں کوئی منظم اور مضبوط حکومت کبھی نہیں رہا ہے۔ افغانستان کے گیارہ فیصد علاقہ شہری ہے جبکہ انانوے فیصد حصہ دہاتی ہے اور وہ بھی پاکستانی دہات کی طرح نہیں۔ افغان کے دہات ایک خالص قبائلی اور مزہبی ذہنت کے لوگوں پہ مشتمل ہیں۔ جو موجودہ دور میں بھی قرون وسطی جیسی سوچ ہے۔ پسماندہ قبائلی روایات بہت مضبوط ہے۔

    موجودہ طالبان بھی وہ طالب نہیں رہے جو روس کے خلاف استمال ہوے تھے۔ اب یہ لوگ گزشتہ بیس سالوں سے امریکیوں سے لڑ لڑ کے سمجھ چکے ہیں کہ ریاست چلانے کےلے معاشی و سیاسی نظام بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اب جب اچانک امریکہ باگ نکلا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ جاتے ہوے اپنا اسلحہ ساتھ لے کے نہیں گیا بلکہ اسے افغانستان میں چھوڑ کے جا رہا ہے۔ ابھی اگر وہ اسلحہ دائیش اور اِئی ایس جسے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا تو خطے میں امن کےمسائل پیدا ہونگے۔ ایسے میں اس خطے کے ممالک کو اس حوالے ضرور اپنی حکمت عملی بنانا ہوگا ۔پاکستان، ایران، روس، چین، تاجکستان، ازبکستان سمیت دوسرے ممالک اس وقت افغانستان کے معاملے پہ بہت سنجیدگی سے غورکر رہے ہیں ۔وہ کسی صورت افغانستان میں خانہ جنگی ہونے نہیں دینگے۔ اس حوالے سے اگست کا مہنہ بہت اہم ہے۔ میری راے میں اگست تک یا اس کے بعد افغانستان میں ایک ایسی حکومت ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام فریق اپس میں مل کے نظام حکومت بنائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی حکومت ہوگی اسے بہت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ معاشی طور پہ اور دفاعی طور پہ بھی۔ کیونکہ افغانستان اس وقت شدید افراتفری اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ مختلف مفادات رکھنے والے وار لارڈز اور مسلح جھتوں کا ایک جنگل بن چکا ہے۔ جسے صاف کرنے میں کچھ عرصہ تو ضرور لگے۔

    امید ہے خطے کے ممالک افغانستان کو اس دلل سے نکالنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے اور ایک دفعہ پھر پر امن افغانستان ابھرے گا اور خطے کے ترقی کے لے اپنا کردار ادا کرے گا.

  • "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج .  تحریر : لائبہ طارق

    "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج . تحریر : لائبہ طارق

    آجکل ہردوسرے نوجوان میں ایک چیزمشترکہ پائی جا رہی ہے وہ ہے ڈپریشن.
    ڈیپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جو آپ کے مزاج یعنی جسطرح سے آپ خود کو اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو سمجھتے ہیں اسکو متاثر کرتی ہے۔ اسکے مختلف نام ہیں جیسا کہ کلینیکل ڈپریشن(Clinical Depression)، میجر ڈیپریشن کی بیماری (Major Depressive Disorder) یا Major Depression ہے۔

    ڈیپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو بغیر کسی وجہ کے سامنے آسکتی ہے اور یہ بیماری ایک لمبے عرصے تک ہوسکتی ہے۔ ڈیپریشن کوئی غم یا موڈ خرابی کا نام نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک چیز کا نام ہے ۔ جو لوگ ڈیپریشن سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ لوگ خود کو بیکار اور بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ وہ بغیر کوئی وجہ کے خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں۔

    کچھ لوگ ڈیپریشن کا سامنا غصے اور چڑچڑاپن کی صورت میں کرتے ہیں جس سے نا صرف توجہ دینے یا فیصلے کرنے میں انکو مشکل پیش آتی ہے بلکہ زیادہ تر لوگ ایسی چیزوں میں دلچسپی کھو دیتے ہیں جن سے وہ عام زندگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ہی وہ خود کو بھی دوسروں سے الگ کر دیتے ہیں۔

    ان کے علاوہ ڈیپریشن کی جسمانی علامتیں بھی ہیں، جیسے کہ نیند، بھوک، توانائی اور نامعلوم درد یا تکلیف کے مسائل شامل ہیں۔ کچھ لوگ اس بیماری میں موت یا اپنی زندگی کے خاتمے (خودکشی) کے بارے جیسے مشکل خیالات کا تجربہ سے گزرتے ہیں۔ ڈیپریشن دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک رہتی ہے اور عموماً یہ بیماری خود ختم نہیں ہوتی ہے جو آپکی پوری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

    ڈپریشن سے نکلنے کے لیں اپنی طرز زندگی بدلیں پہلا قدم اٹھانا ہمیشہ سب کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اپنے سکون کے لیے انسان کو کوشیش کرنی ہوتی ہے ۔اپنی زندگی میں ان لوگوں اور چیزوں کو شامل کر لیں جن سے آپکو خوشی ہو مثال کے طور پر سیر کیلئے جانا یا اپنی پسندیدہ موسیقی پر رقص کرنا یہ آپ کے موڈ کو بوسٹ اپ اور آپکو کافی حد تک انرجی دے سکتا ہے اپنی پسند کا کھانا تیار کرنا یا کسی پرانے دوست سے ملنے جانا ۔ ان چھوٹے لیکن مثبت اقدامات سے آپ ڈیپریشن جیسی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپ خود کو خوشحال، صحت مند اور پر اُمید محسوس کرینگے،
    اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں ۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے ۔اگر آپ نے اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات اٹھاۓ ہیں لیکن طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنے کے بجائے ڈیپریشن مزید بڑھ رھا ہے تو پھر ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔

    ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کے آپ پاگل ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کو خود سے پیار ہے اور اپنے اپ کو ٹھیک کرنے کے لیے مدد لے رہے ہیں ۔ماہر نفسیات تھراپی اور کونسلنگ سے آپکے مسئلے کو حل کرتا ہے اور آپ خود کو ایک بہتر انسان محسوس کرتے ہیں۔ اپنی زندگی سے منفی سوچ کو نکال دیں اور اپنے ذہنی صحت کو بھی اتنا ہی سیریس لیں جتنا جسمانی صحت کو لیتے ہیں۔

    صحتمندی اورپھرذھنی صحتمندی ایک نعمت ھے اسکی قدرکریں۔

    @LaaybaTariq

  • پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    اپنوں سے بہت دور پردیس کی زندگی کتنی مشکل ہے وہی لوگ جان سکتے ہیں جو پردیس میں رہ کر آئے ہوں ۔خاص کر وہ لوگ جو پرائے دیس میں مزدوری کے لئے جاتے ہیں ۔ زرا سوچئے اپنے ماں پاب سے دور بیوی بچوں سے دور بہن بھائیوں سے دورپردیس کی زندگی کیسی ہو گی ؟

    خدا نخواستہ!
    اگر کسی کی موت ہوجائے اور آپ پردیس میں ہیں لیکن آ نہیں سکتے مرنے والا آپکا بہت پیارا ہے ۔ تو آپکے دل پر سے کیا گزرے گی ؟
    اگر آپکے کسی پیارے کی شادی ہے گھر میں کوئی خوشی کا موقع ہے اور آپ کسی عرب ملک میں کفیل کے پاس پھنسے ہیں جو آپکو چھٹی نہیں دے رہا تو آپکے دل پر کیا گزرے گی ؟

    یقینا” آپ تڑپ جائیں گے ترس جائیں لیکن چارو ناچار کیا کر سکتے ہیں کسی خوشی کے موقع پر یا غم کے موقع پر آپ اپنے پیاروں
    کے پاس پہنچ نہیں سکتے ۔ مپردیس کی زندگی کیسی ہے یے پردیسی ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ پردیس میں صبح اٹھنا اپنا ناشتا خود بنانا ۔
    پھر ڈیوٹی پر جانا ٹائم سے لیٹ ہو جانے کاڈراگر لیٹ پہنچے تو تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔ ہائے واپس آکر اپنے کپڑے بھی خود دھونے ہیں اپنی ہانڈی روٹی بھی خود کرنی ہے اور اس کے بعد ٹائم نکال کر گھر فون کال بھی کرنی ہے ۔ پورا دن مدیروں کی گر گر سننے کے بعد کچھ سکون کے لئے گھرفون کریں گے تو نئی نئی فرمائشیں تیار ہونگی گھر سے بیوی بچوں کی بہن بھائیوں کی نئی سے نئی ڈیمانڈ پوری کرنی ہیں ۔

    لیکن افسوس !
    صد افسوس کسی نے یے نہیں پوچھنا کے آپ ٹھیک بھی ہوآپ اتنا کام کرتے ہو کہیں تھک تو نہیں گئے طبیعت تو صحیح ہے آپکی ۔ لیکن نہیں فرمائش ہوگی نئے فون کی ٹیب چاہیے بچوں کے لئے نئے کپڑے کسی نہ کسی رشتہ دار کی شادی آرہی ہے آپ بس پیسے
    بھیجتے جاو پیسے بنانے والی مشین بن کے رہوبس ۔ اگر آپ بیمار ہو گئے تو بھی آپ نے اپنا خیال خود رکھنا ہے کیونکہ یہاں اماں جی تو بیٹھی نہیں پردیس ہے ۔ یہاں لوگ یے سمجھتے ہیں کے بیرون ملک میں مقیم ہے بہت کماتا ہے ریالوں میں لیکن پتا اسی کو ہوتا ہے کے کن مشکلات میں رہ کرکماتا ہے ۔ گھر والوں کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے تین تین سال گھر سے دوررہتا ہے ۔ پرائے لوگوں کی باتیں سنتا ہے اوراپنا ہر کام خود کرتا ہے ۔ پردیس میں مزدوری کرنے کے بعد جب گھر آو تو کچھ دن تو اپنے بیوی بچے بہت خوشی کا اظہارکرتے ہیں لیکن جیسے جیسے دن گزرتے ہیں اور آپ اپنے بچوں کو کسی برے کام سے روکتے ہیں بچوں کو آپ انتہائی برے لگنے لگتے ہیں ہٹلر ٹائپ باپ اچھا بھلا پردیس میں تھا اب گھر آکر ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ پھر چارو ناچار پوچھنا شروع کردیں گے پاپا آپنے واپس نہیں جانا کیا ؟

    آپ واپس کب جائیں گے اتنا نہیں سوچیں گے کے ہمارے سکھ کی خاطر اس باپ نے اپنی پوری زندگی پردیس میں کاٹی اب بوڑھا
    ہونے کو ہے کچھ آرام کرلے ۔ نلیکن نہیں کس کو احساس ہی پردیس میں میں رہنے والے تو پیسے بنانے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں کم ازکم اپنوں کے ساتھ تو یے ظلم نہیں کرنا چاہیے اپنے پیاروں کا احساس کرنا چاہیے ۔ نمیری گزارش ہے تمام لوگوں سے جن کے پیارے پردیس میں یعنی بیرون ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہوں ۔ ان کا بہت خیال رکھیں اور ان کو فضول ڈیمانڈ نہ کریں جو وہ پوری نہ کرسکیں ۔ جب کوئی بیرون ملک سے فون کرے تو اس کی بات توجہ سے سنیں ۔ تاکہ اس کی دل آزاری نہ ہو کیونکہ یے آپکے لئے تمام مشکلات جھیل رہا ہے ۔

    اللہ پاک تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ کے بعد امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم تھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا۔جو اس وقت افغانستان میں پناہ گزیر تھے ۔امریکہ نے طالبان کے امیر ملا عمر پر دباو ڈالا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کر دے ورنہ بعد میں آنے والے نتائج کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرایا جائے۔طالبان کے امیر ملا عمر نے اس امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کو نہ ملک سے دربدر کریں گے اور نہ ہی کسی کے حوالے کریں گے۔

    اس کے کچھ عرصے بعد ہی امریکہ اپنی اتحادی فوجوں کے ساتھ افغانستان پر ٹوٹ پڑا۔افغانستان سے بھی کافی لوگ جو طالبان کی سخت اسلامی شرائط کی وجہ سے متنفر تھے انہوں نے بھی امریکہ کا بڑھ چڑھ کر اس میں ساتھ دیا اور یوں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔یوں امریکہ نے افغانستان میں اپنی مرضی کی ایک حکومت قائم کر دی جو ان کے اشاروں پر چلتی تھی۔

    بات یہیں ختم نہیں ہوتی امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیوں اور افغان فورسزز نے طالبانوں کے خلاف جگہ جگہ محاز آرائی شروع کر دی۔اس کے بعد نیٹو اتحادی فورسز نے ایک ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن کا کیا جس میں انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامی بن لادن کو مارنے کا دعوی کیا۔20 سال جنگ کرنے کے بعد امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست ہی نظر آ رہی تھی۔امریکہ نے کھربوں ڈالراس جنگ میں جھونک دئیے مگر ہاتھ میں ناکامی کے سوا کچھ نہ آیا۔لہذا انہوں نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اب افغانستان سے کسی طرح انخلا کر لیا جائے۔اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

    چناچہ امن معائدہ کا ٹاسک پاکستان کو سونپا کو گیا۔پاکستان کی ان تھک کوششوں کی وجہ سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔جس کا اعتراف خود امریکہ اور دنیا بھی کرتی ہے ورنہ یہ امن معائدہ کھبی نہ طے پاتا اور یہ خونی جنگ کھبی نہ رک پاتی۔طالبان نے امن معائدہ میں شرط رکھی کہ تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہی ہم امن معائدہ کر سکتے ہیں ورنہ ہمیں یہ معائدہ قابل قبول نہیں۔چونکہ امریکہ کی بھی یہ خواہش تھی کیونکہ امریکہ اس جنگ میں میں بھاری مالی نقصان اور جانی نقصان اٹھا چکا تھا اس نے یہ شرط قبول کر لی ۔اس طرح اس طویل 20 سالہ جنگ کا اختام ہوا۔

    امریکہ کی اس طویل 20 سالہ جنگ کے نتائج کچھ اس طرح سے بیان کیے جا سکتے ہیں۔2001سے 2020 تک 71000شہریوں کی جانیں گئیں۔66سے69 ہزارافغان فوجی جان سےگئے۔نیٹو کے 3500 فوجی ہلاک ہوئے.3800نجی سیکورٹی اہلکارجان سے گئے۔طالبان/دیگرجنگجوؤں نے84000جانیں گنوائیں۔27 لاکھ لوگ پڑوسی ملکوں میں چلے گئے۔32 لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہیں۔پاکستان میں تقریبا 80 ہزار شہریوں کی جان گئی۔پاکستان کو ایک سو پچاس ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔امریکہ نے افغانستان کی تعمیر نو پر 1.43 کھرب ڈالر خرچ کئے۔کل ملا کر جنگ پر 22.6 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ اور نتیجہ صرف تباہی تباہی اور تباہی نکلا.

    @WaqasUmerPk

  • کروناکی بھارتی قسم نئی مصیبت . تحریر: سید لعل بُخاری

    کروناکی بھارتی قسم نئی مصیبت . تحریر: سید لعل بُخاری

    پچھلے کچھ دنوں سے وطن عزیز میں مثبت کرونا کیسز کی شرح میں پھر سے اضافہ نظر آنے لگا ہے۔اس معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے،جب یہ انکشاف ہوتا ہے کہ نئے کیسز میں زیادہ تر بھارت سے آنے والا ڈیلٹا ویرئینٹ پایا جا رہا ہے۔اس ویریئنٹ کا پھیلاؤ دوسرے ویرئینٹ کے مقابلے میں 100فیصد تک زیادہ ہوتاہے۔

    اس ویریئنٹ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے کئے جہاں حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،وہیں ہماری زمہ داریاں بطور ایک زمہ دار شہری کے بڑھ جاتی ہیں۔ تمام لوگوں کو خواہ انہوں نے ویکسین لگوالی ہو،یا نہ لگوائ ہو۔کرونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہو گا۔ہمارے اس عمل سے جہاں ہم،ہماری فیملیز محفظ رہ پائیں گی۔وہیں دوسرے لوگ بھی اس مہلک بیماری سے بچ پائیں گے۔

    کچھ لوگوں ویکسی نیشن کے بعد احتیاطوں کا دامن بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ اپنے آپ کو آزاد تصور کرتے ہوۓ ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال بندکر دیتے ہیں۔جس سے وائرس انہیں کسی بھی وقت دبوچ سکتا ہے،ویکسی نیشن کا مطلب 100فیصد بچاؤ نہیں بلکہ یہ ہر ایک ویکسین کی افادیت کے لحاظ سے ہوتا ہے،جو اب تک کی سٹڈی کے مطابق 95فیصد ہے،جو فائزر ویکسین سے مہیا ہوتا ہے۔برطانیہ کے وزیر صحت آسٹرازنیکاویکسین کی دو خوراکوں کے باوجود گزشتہ روز کرونا مثبت پاۓ گئے،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویکسین کی دو ڈوزز کے بعد بھی بچاؤ کا راستہ صرف اور صرف SOPsپر عمل درامد ہی ہے۔

    اسکے ساتھ ساتھ سازشی تھیوریوں کا شکار ہونے سے سے بھی بچنا ہو گا،ایسی افواہوں میں زرا برابر حقیقت نہیں ہوتی کہ جن میں کہا جاتا ہے کہ حکومت ہر تہوار سے پہلے جان بوجھ کر کرونا مثبت کیسز کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیتی ہے،تاکہ لوگ ڈر کے احتیاطوں پر عمل کرنا شروع کر دیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں اعداد وشمار چھپانا نا ممکن ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر فرض کر لیں کہ حکومت لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے جھوٹ بول رہی ہے تو پھر ہم سب کو اس جھوٹ کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

    @lalbukhari

  • صبر اور شکر۔تحریر: کنزہ صادق

    صبر اور شکر۔تحریر: کنزہ صادق

    ایمان کے دو حصے جنکا نام صبر اور شکر ہے۔ اور یہ دونوں ہی اللہ تعالٰی کو نہایت پسند ہیں۔
    قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :

    أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَO

    ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں۔‘‘

    القصص، 28 : 54
    عربی لغت میں صبر کے لفظی معنی ہیں برداشت کرنا اور دوسری طرف شکر کے معنی ہیں اظہارِ احسان مندی۔
    مسلمان کی پوری زندگی صبر اور شکر کے دائرے میں آتی ہے
    شکر اخلاق، اعمال اور عبادات کا بنیادی جزو ہے۔ شکر کے بغیر تمام اعمال و عبادات بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شکر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
    کی
    مَّا يَفْعَلُ اللّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًاO

    ’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہےo‘‘

    النساء، 4 : 147
    ہمارے پیارے نبی اللہ پاک کا شکر ادا کیا کرتے تھے دن رات اللہ کا شکر ادا کرتے تھے
    چرند پرند بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ بھی ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرئے اپنی ہر سانس پہ اللہ کا احسان مند ہو الحمدللہ ہم سانس لیتے ہیں چلتے پھرتے ہیں ہمارے ہاتھ پاوں سلامت ہیں ہم دیکھ سکتے ہیں اپنے رب کی نعمتوں کا احسان مند ہونا ضروری ہے
    شکر کے متعلق ایک حدیث ہے کہ
    حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کثرت سے قیام فرماتے اور عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے۔ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔ آپ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا.

    ’’کہا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘
    جب آقا دو جہان کے شکر کا یہ عالم تھا جنکے لیے دنیا بنائی گئ تو ہمیں تو ہر حال میں رب کے آگے جھکنا چاہیے
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اسکا بدلہ بھی اتنا ہی بڑا ملتا ہے اللہ پاک جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اسے آزمائش میں ڈال دیتے ہیں پھر جب وہ اس آزمائش پہ راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ پاک بھی اس سے راضی ہوجاتے ہیں اور جو اس پر ناراض ہوا تو اللہ پاک بھی اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔
    (سنن الترمذی 2396)
    ہماری روزمرہ کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں آجائیں تو زندگی گزارنا بھی آسان ہے گھریلو معاملات بھی آسان ہو جائیں سادہ سی بات ہے کہ اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول ہے آپ 2 منٹ صبر سے کام لیں تو آدھا مسلہ تو اسی طرح ختم ہوجاتا ہے
    اسی طرح گھریلو خواتین کم خرچے میں گھر چلائیں اور اسی پر شکر ادا کریں تو بھی زندگی کے آدھے مسائل کا خاتمہ ہوجائے یہاں یہ مثال دینا اس لیے بھی ضروری تھا کہ آج کل معاشرے میں یہی دو مسلے سب سے زیادہ ہیں برداشت کی کمی کتنے گھر اجاڑ چکی ہے اور تنگدستی کتنے ہی مسائل کو جنم دیتی ہے لہذا ہم سب اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے رستے پہ چلیں تو زندگی بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

  • ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎دنیا کو ایک وبائی وائرس کرونا لاحق ہے ، جسے حکومتوں کی طرف سے سیاسی الزام تراشیوں کے پس منظر میں مجرمانہ نااہلی کی وجہ سے نہیں روکا گیا ہے۔ یہ کہ دولت مند ممالک میں ان حکومتوں نے عالمی ادارہ صحت اور سائنسی تنظیموں کے ذریعہ جاری کیے گئے بنیادی سائنسی پروٹوکول کو سنجیدہ انداز میں ایک طرف رکھ دیا ۔ بنیادی طریقہ کار جیسے جانچ ، رابطے کا سراغ لگانا ، اور تنہائی کے ذریعہ وائرس کے نظم و نسق کی طرف توجہ دینے سے پہلوتہی برتی گئی اور اگر یہ کافی نہیں رہا تو پھر عارضی طور پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانابے وقوفی ہے۔ یہ اتنا ہی تکلیف دہ ہے کہ ان امیر ممالک نے "عوام کی ویکسین” بنانے کی پالیسی کے بجائے ویکسین امیدواروں کو ذخیرہ کرکے "ویکسین نیشنلزم” کی پالیسی اپنائی۔ انسانیت کی خاطر ،دانشورانہ املاک کے قواعد کو معطل کرنا اور تمام لوگوں کے لئے عالمی سطح پر ویکسین تیار کرنے کا طریقہ کار تیار کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہوتا۔اگرچہ وبائی مرض انسانی دماغوں پر مسلط ایک بنیادی مسئلہ رہے ہیں، لیکن دوسرے بڑے ہمارے پیدا کئے ہوئے مسائل مستقبل کی نسلوں اور زمین کی لمبی عمر کو خطرہ بناتے ہیں:

    ‎جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنوری 2020 میں ، جوہر سائنس دانوں کے بلیٹن نے ڈومس ڈے گھڑی کو آدھی رات کو 100 سیکنڈ تک طے کیا ، جو آرام کے قریب تھا۔ 1945 میں پہلے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دو سال بعد بنائی گئی اس گھڑی کا ہر سال تشخیص بلیٹن کے سائنس اور سیکیورٹی بورڈ کے ذریعہ کیا جاتا ہے ، جو فیصلہ کرتے ہیں کہ منٹ کو منتقل کرنا ہے یا اسے اپنی جگہ پر رکھنا ہے۔ جب وہ دوبارہ گھڑی طے کرتے ہیں تو ، یہ فنا کے قریب ہوسکتا ہے۔ پہلے سے ہی محدود اسلحہ کنٹرول معاہدوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑی طاقتیں 13500 جوہری ہتھیاروں پر قابض ہیں (جن میں 90 فیصد سے زیادہ صرف روس اور امریکہ کے پاس ہے)۔ ان ہتھیاروں کی پیداوار آسانی سے اس سیارے کو اور بھی غیر آباد بنا سکتی ہے۔ امریکہ کی بحریہ نے پہلے ہی کم پیداوار والے تاکتیکی W76-2 نیوکلیائی وار ہیڈ تعینات کردیئے ہیں۔جوہری تخفیف اسلحے کی طرف فوری اقدامات کو دنیا کے ایجنڈے پر مجبور کرنا ہوگا۔ ہر سال 6 اگست کو منائے جانے والے یوم ہیروشیما کو غور و فکر اور احتجاج کا ایک اور مضبوط دن بننا چاہئے

    مشائع ہونے والا ایک سائنسی مقالہ حیران کن سرخی کے ساتھ آیا: "21 ویں صدی کے وسط تک بیشتر اٹول غیر آباد ہوجائیں گے کیونکہ سطح کی سطح میں اضافے نے لہر سے چلنے والے سیلاب کو بڑھاوا دیا ہے۔” مصنفین نے پایا کہ سیچلس سے جزیرے مارشل تک اٹول ختم ہونے کے قابل ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2019 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 لاکھ جانوروں اور پودوں کی نسلوں کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس میں تباہ کن جنگل کی آگ اور مرجان کی چٹانوں کی شدید گرمی شامل کریں اور یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اب آب و ہوا کی تباہی کی کوئلے کی کان میں کنری ہونے کی وجہ سے کسی چیز یا کسی اور چیز کے بارے میں جکڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خطرہ مستقبل میں نہیں ، بلکہ حال میں ہے۔ریو ڈی جنیرو میں 1992 میں اقوام متحدہ کے ماحولیات اور ترقی سے متعلق کانفرنس میں قائم کی جانے والی "مشترکہ لیکن امتیازی ذمہ داریوں” کے نقطہ نظر پر عمل پیرا ہونے کے لئے ، جو فوسل ایندھن سے مکمل طور پر تبدیل ہونے میں پوری طرح ناکام ہونے والی بڑی طاقتوں کے لئے ضروری ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔
    ‎شمالی امریکہ اور یورپ کے ممالک اپنا عوامی کام سرانجام دے چکے ہیں کیونکہ ریاست کو منافع بخش افراد کے حوالے کردیا گیا ہے اور نجی معاشرے کو سول سوسائٹی نے متناسب کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ان حصوں میں معاشرتی تغیر پذیر کے راستوں کو انتہائی سنجیدگی سے رکاوٹ بنایا گیا ہے۔ خوفناک معاشرتی عدم مساوات مزدور طبقے کی نسبت سے سیاسی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ یہی کمزوری ہے جو ارب پتی افراد کو ایسی پالیسیاں متعین کرنے کے قابل بناتا ہے جس کی وجہ سے بھوک کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ ممالک کو ان کے حلقہ بندیوں میں لکھے ہوئے الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے سالانہ بجٹ کے ذریعے فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر ، امریکہ اپنی جنگی مشین پرتقریباً ایک کھرب ڈالر (اگر آپ تخمینہ والے انٹلیجنس بجٹ کو شامل کرتے ہیں) خرچ کرتے ہیں ، جبکہ اس کا تھوڑا سا حصہ عوام کی بھلائی پر خرچ کرتا ہے (جیسے صحت کی دیکھ بھال پر ، وبائی امور کے دوران واضح چیز)۔مغربی ممالک کی خارجہ پالیسیاں ہتھیاروں کے سودوں سے خوب چکنا چور ہیں: متحدہ عرب امارات اور مراکش نے اس شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا کہ وہ بالترتیب 23 ارب اور 1 بلین ڈالر کے امریکی ساختہ اسلحہ یا طیارے خرید سکتے ہیں۔ فلسطینیوں ، سحروی اور یمنی عوام کے حقوق کو ان سودوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ کیوباڈ ، ایران ، اور وینزویلا سمیت 30 ممالک کے خلاف امریکہ کی جانب سے غیر قانونی پابندیوں کا استعمال ، کوویڈ ۔19 صحت عامہ کے بحران کے باوجود بھی زندگی کا معمول بن گیا ہے۔ یہ سیاسی نظام کی ناکامی ہے جب سرمایہ دارانہ بلاک میں انسانی آبادی اپنی حکومتوں کو مجبور نہیں کرسکتی – جو کہ صرف نام کے ہی جمہوری ہیں – اس ہنگامی صورتحال کے بارے میں عالمی تناظر اپنانے کے لئے۔بھوک کی بڑھتی ہوئی شرح سے پتا چلتا ہے کہ بقا کی جدوجہد کرہ ارض پر موجود اربوں لوگوں کے لئے افق ہے (یہ سب کچھ جبکہ چین مطلق غربت کا خاتمہ کرنے اور بڑے پیمانے پر بھوک کو ختم کرنے کے قابل ہے)۔
    ‎جوہری تباہی اور آب و ہوا کی تباہی سے ناپید ہونا سیارے کے لئے دو خطرات ہیں۔ دریں اثنا ، پچھلی نسل نے جو نوعمری حملہ کیا ہے اس کے شکار افراد کے ل their ، ان کے محض وجود کو برقرار رکھنے کے قلیل مدتی مسائل ہمارے بچوں اور پوتے پوتوں کی قسمت کے بارے میں بنیادی سوالات کی جگہ لے لیتے ہیں۔

    ‎اس پیمانے کے عالمی مسائل کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ 1960 کی دہائی میں تیسری دنیا کی ریاستوں کے دباؤ پر ، بڑی طاقتوں نے 1968 کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر اتفاق کیا ، اگرچہ انہوں نے 1974 کے نئے بین الاقوامی معاشی آرڈر کے قیام سے متعلق گہرے اہم اعلان کو مسترد کردیا۔ بین الاقوامی سطح پر ایسے طبقاتی ایجنڈے کو چلانے کے لئے دستیاب قوتیں اب نہیں ہیں۔ مغرب کے ممالک خصوصا، ترقی پذیر دنیا کی بڑی ریاستوں (جیسے برازیل ، ہندوستان ، انڈونیشیا ، اور جنوبی افریقہ) میں سیاسی حرکیات حکومتوں کے کردار کو تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ معدومیت کے خطرات کی طرف فوری اور فوری توجہ دینے کے لئے ایک مضبوط بین الاقوامییت ضروری ہے: جوہری جنگ ، آب و ہوا کی تباہی کے ذریعہ ، اور معاشرتی خاتمے کے ذریعہ ناپید ہوجانا۔آگے کے کام مشکل ہیں ، اور ان کو موخر نہیں کیا جاسکتا اور یہی آج کاسچ ہے

    تحریر محمد محسن خان

  • پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    نیٹو امریکی اتحاد اپنی ایک رپورٹ کہتا ہے کہ ”پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن انڈیا اس کے مخالف ہے“
    یہاں پر انڈیا افغانستان میں امن کیوں نہیں چاہتا؟
    افغانستان میں بدامنی و دہشتگردی کی فضا سے انڈیا کے وابستہ مفادات کیا ہیں؟ جیسے کئی سوال ذہن میں آتے ہیں.

    انڈیا افغانستان میں امن اس لئیے نہیں چاہتا کہ اگر افغانستان میں امن قاٸم ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فاٸدہ پاکستان کو اورنقصان انڈیا کو ہے کیونکہ اگر امن ہوتا ہے تو پاکستان افغان سرحد پر لگاٸی گٸی فوج کو کم کر کے انڈین سرحدوں کی طرف بڑھا دے گا اور افغانستان میں جنگ بندی سے پاک فوج اور طالبان کے آپریشنز افغانستان میں نیٹو امریکی جنگ کی بجاٸے کشمیر کی طرف موو کریں گے جس کا سیدھا نقصان انڈیا کو ہو گا اور دوسرا افغانستان میں جنگ بندی سے امریکی بلاک میں انڈیا کی اہمیت بہت حد تک کم ہو جاٸے گی جس سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچے گا اور یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ جس امریکہ کا وہ اتحادی ہے وہ دنیا کے پرلے کونے پر بیٹھا ہے جبکہ اس کے ہمساٶں سے تعلقات کافی خراب ہیں.

    اس صورت حال میں اگر افغانستان میں امریکہ جنگ بلکل ختم ہوتی ہے اور امن قاٸم ہوتا ہے تو انڈیا کی وہ اہمیت باقی نہیں رہے گی جو امریکہ اتحاد میں اس وقت ہے کیونکہ واحد وہی اتحادی اس وقت خطے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے جس نے امریکہ کے کہنے پر چین ( شہر پاور کمپیٹیٹر) سے بھی تعلقات خراب کر لئے اورباقی ہمسایوں سے بھی قابل ذکر تعلقات نہیں ہیں۔ سعودی عرب اور یو ای اے سے تعلقات کا اچھا ہونا ڈیڑه ارب کی آبادی کی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے علاوہ ان تعلقات کی کوٸی خاص بنیاد نہیں کیونکہ پاکستان سعودی عرب سے چارارب ڈالر کا تیل لیتا ہے اور انڈیا چالیس ارب ڈالر کا تو ظاہر ہے عرب نے اپنے کاروبار اور معشیت کو بھی دیکھنا ہے اس لیے سعودی عرب بھی پاکستان انڈیا کے معاملے میں مسلمان ملک ہونے کے باوجود برابری کے تعلقات کو دیکھتا ہے اورکشمیر یا دوسرے معاملات پرکسی ایک ملک کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن انڈیا ہمیشہ سے اپنی مارکیٹ کا فاٸدہ اٹھاتا رہا ہے اور شاید آج بھی اٹھا رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قاٸم ہو اور امریکی اتحاد میں اس کی اہمیت کم ہو اس لیے انڈیا جنگ بندی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کھل کر اففغانستان حکومت کو نہ صرف اسلحہ فراہم کر رہاہے جبکہ دوسری طرف بدلتے کنٹرول کو دیکھتے طالبان سے مذاکرات کا بھی خواہاں ہے، لیکن پچھلے دنوں سفارتی ملازمین کی واپسی کے نام پر آئے جہاز میں موجود اسلحے نے اس دوہری و دوغلی حکمت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ کابل پر اشرف غنی کا سرعام پاکستان کو افغان امن کا حریف کہنا غنی پر پیسہ لگانے والی ہندوستانی حمکت عملی کھل کر آخری حربے کے طور پر سامنے آ گئی ہے کہ غنی حکومت ہو یا انڈیا افغانستان میں امن ہوتا نکلنا مشکل ہے ان کے لئے۔

    جبکہ دوسری طرف پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں ایک مضبوط اسلامی حکومت ہو تاکہ وہاں امن ہو جس سے پاکستان میں امن ہو۔ حالیہ دورہ کابل میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اشرف غنی کے لگائے بے بنیاد الزام اور امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی اس کوشش کو بے نقاب کرتے ہوئے افغانستان میں بدامنی سے پاکستان کے ہونے والے نقصان کی یاددہانی بھی کروا دی۔ الحمدللہ اسلامی حکومت والے تیزی سے علاقے فتح کرتے جا رہے ہیں۔ کفار حریف کی ساری چالیں ناکام ہوتی نظر آ رہیں۔ افغانستان میں خالص اسلام کی فتح علاقے میں نہ صرف اسلامی اقدار کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ مسلم اتحاد اور جیو سٹرٹیجک پوزیشننگ کو ایک نئے رخ کی طرف موڑ دیتی نظر آ رہی ہے۔