Baaghi TV

Category: متفرق

  • قرۃالعین اور انصاف : تحریر عینی سحر

    قرۃالعین اور انصاف : تحریر عینی سحر

    حیدر آباد کے علاقے بیراج کالونی کے رہائشی عمر خالد میمن نے اپنی بیوی قرۃالعین کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا _ انکی میڈیکل رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کے انھیں بہیمانہ تشددکرکے ہلاک کیا گیا _ بہت ممکن ہے کے یہ گھناؤنا جرم چھوٹے بچوں کے سامنے کیا گیا ہے _

    میاں بیوی ایک دوسرے کے خوشی اور غم کے ساتھی ہوتے ہیں جنھیں قرآن میں ایکدوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بیوی کو اکثر پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا اور اسکا استحصال کیا جاتا ہے _ چاہے وو کتنی پڑھی لکھی اور خودمختار ہو اکثر مرد اسے برابری کا مقام نہیں دیتے اور اپنی ملکیت سمجھتے ہوۓ اسکی تذلیل اور اسکے حقوق کی پامالی کرتے
    ہیں

    آخر کسی کی اس مظلوم بیٹی کا کیا قصور تھا کے نہ عدالت لگی نہ گواہ پیش ہوۓ اور نہ ہی کوئی منصف فیصلہ دے سکا اور محض عام گھریلو تکرار پر اسکے شوہر نے خود ہی عدالت لگائی تشدد کیا اور ایک بے بس اور مظلوم کی زندگی ختم کر دی

    بیٹیاں ماں باپ کی جان اور انکا مان ہوتی ہیں _ کتنے ارمانوں سے وہ اپنی بیٹیوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور محنتوں سے انکا جہیز تیار کرکے اللہ سے انکے بسنے اور آباد رہنے کی دعائیں کرتے ہوۓ انھیں سسرال بھیجتے ہیں _ وہ بیٹی اپنے والدین کا جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے جو والدین کسی اور گھر میں رخصت کرتے ہوۓ صرف یہ خواہش کرتے ہیں کے انکی بیٹی خوش اور آباد رہے

    ان بہیمانہ جرائم کیوجہ سے جو سسرال میں ہوتے ہیں والدین کو چاہئیے کے اپنی بیٹیوں کو باور کرائیں کے ظلم سہنے کی ضرورت نہیں اگر اس کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے اس کیساتھ کوئی ظلم ہوتا ہے تو میکے کا دروازہ کھلا ہے لوٹ آنا_ اس لیے کے کہیں کوئی زور بیٹی قرۃالعین کیطرح بے بسی سے اپنے ظالم شوہر کے ہاتھ نہ مر سکے

    اسلام بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کے بیویوں کے حقوق ضبط کرکے ان پر ظلم ڈھایا جاۓ بلکے ناچاقی کی صورت میں راستے الگ کرلینے کی اجازت بھی ہے کوئی شک نہیں طلاق اسلام میں پسندیدہ فعل نہیں لیکن اسلام ظالم شوہر کے ہاتھوں ظلم سہنے کو نہیں کہتا

    بربریت کی یہ مثالیں معاشرے میں کب تک رہیں گیں ؟ ضروری ہے کے ایسے ظالم لوگوں کو کڑی سزا دی جاۓ جو جرم کرتے ہوۓ خوفزدہ نہیں ہوتے کے وہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے یا اللہ کا غضب کا شکار ہونگے _ قرۃالعین کے شوہر کو پھانسی ہو بھی جاۓ تو نہ تو ان معصوم بچوں کو انکی ماں واپس ملے گی نہ وہ دنیا میں لوٹ کر آے گی اور نہ ہی اسکے والدین کو انکی بیٹی واپس ملے گی لیکن مظلوم کو انصاف ملنا چاہئیے

    سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ یہ آواز اٹھائی جارہی ہے کے قرۃالعین کو انصاف دو _ #justiceforquratulain

    قانون اور انصاف سے یہ معاشرہ دہائی دیتا ہے کے قانون کی عملداری کروائیں اور ایسے بہیمانہ جرائم کا خاتمہ کریں

  • کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    یہ ایک عام تاثر ہے کہ بھارتی میڈیا پرموجود صف اول کے صحافی سوائے عوام کو بھڑکانے کے کوئی دوسرا کام نہیں کرتے۔ دراصل یہی بھارت کی خارجہ پالیسی ہے جسکی میڈیا پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بھی عام دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ ملکر سوائے خطے میں بدامنی پھیلانے کے اور کسی کام پر توجہ نہیں دی جاتی۔ 9/11 کی ہی مثال لے لیں جب امریکہ پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے ڈرامہ رچایا تھا کہ انکا مسافر طیارہ بھی ہائی جیک ہوگیا ہے۔ اس ڈرامے میں بھارتی میڈیا پیش پیش رہا اور عوام کو تین گھنٹے متواتر ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں مبتلا رکھا۔ 9/11 کے بعد امریکہ کی مسلم ممالک کے خلاف جارہانہ پالیسی کی نقل کر کے "دس قدم اور پاکستان ختم” جیسی ڈینگیں میڈیا پر مارتے رہے۔

    پلوامہ حملے کے بعد بھی ابھینندن جیسے "بالی ووڈ” متاثرین اورخوابوں کی دنیا میں رہنے والے صحافی حضرات اچھل اچھل کرمیڈیا پربڑکیں مارنے لگے تھے کہ ہمارے جہازوں نے فضائی بمباری کی اور پاکستان میں 300 لوگ مارے گے جبکہ حقیقت میں تین درخت اورایک کوا شہید ہوا تھا۔ یہ تاریخی پس منظر بتاتا ہے کہ بھارت میں کس قسم کے صحافی حضرات کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسے میں دانش صدیقی نامی مسلمان بھارتی صحافی جس نے بھارت کے کووڈ۔19 بحران کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا کے افغانستان میں نہایت مشکوک حالات میں اچانک قتل کی خبریں گردش میں آتے ہی ٹوئیٹر دانش صدیقی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔۔ شالنی نامی ساتھی صحافی کا کہنا تھا کہ "ڈینش صدیقی کی روہنگیا مہاجرین ، دہلی پوگرام ، اور ہندوستان کے کوڈ بحران پر نقش نگاری کی تصاویر ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں مسلط رہیں گی”

    https://t.co/SMwgmiLNTG”

    افغان صحافی عمران فیروز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا "مجھے یہ بات نہایت ناگوار گزری ہے کہ مودی کے بہت سارے فاشسٹ صدیقی کی قابل ذکر رپورٹنگ کرنے کے باوجود اسکی موت کا جشن منا رہے ہیں”

    Caummunist نے کہا کہ "یہ دونوں تصاویر ڈینش صدیقی اور عدنان عابدی نے فیبر2020 میں دیہی پوگرام میں لی تھیں۔ وہ عصرحاضر کی ہندوستانی صورتحال کو مکمل طور پر گھیر لیتے ہیں۔
    (رائٹرز انڈیا نے یہ تصاویر (اس سال کی) بطور بہترین تصویر منتخب کیا)

    https://t.co/lmmvzFUQMB”

    پاکستانی صحافی عمرقریشی کے مطابق "ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکارکے کچھ حامی روئٹرز کے فوٹو جرنلسٹ (اور دہلی کے رہائشی) دانش صدیقی کی افغانستان میں موت کی خوشی منا رہے ہیں
    کیوں؟

    کیونکہ جب اس نے ہندوستان میں کوویڈ سے ہونے والی اموات اور آخری رسومات کی تصویریں وائرل کیں تو یہ بات انہیں ناگزیر گزری”

    مقبوضہ کشمیر کے سابقہ وزیراعلی عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ دانش اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے طالبان کی کراس فائرنگ سے جاں بحق ہوا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسکی موت کا جشن بھارت میں موجود وہ کمینے منا رہے ہیں جنھیں اسکی رپورٹنگ سے بے آرامی ہوا کرتی تھی۔ اپنے ٹوئیٹر میسج میں انہوں نے رائیٹ ونگ کے ٹرولز کو کہا کہ جہنم میں جاؤ

    بھارت میں ایک خاص طبقے کی جانب سے دانش صدیقی کی موت پر اسطرح جشن منانا صحافتی اقدار کی نہ صرف توہین ہے بلکہ آزادی صحافت کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے جسکی گونج اس وقت پورے خطے میں سنائی دے رہی ہے

    Waheed Gul is a freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums. His major areas of interest are Current Affairs, Technology and Web Media. He can be reached at Twitter: @MrWaheedgul

  • جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا .تحریر :فضیلت اجالہ

    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا .تحریر :فضیلت اجالہ

    حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں
    مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
    خاتم الرسل پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ مشرکین مکہ کے مظالم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کیا کرتے تھے لیکن یہ کیسا عجب منظر ہے زمیں حیراں آسماں پریشان ہے
    کہ نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کو نانا ( ص) کہ شہر میں ستایا جا رہا ہے ،ولید بن عتبہ یزید کی اطاعت کیلیے ظلم کا باب رقم کر رہا ہے
    اہل کوفہ تو مان لیا کہ بے وفاتھے لیکن اہل مکہ کو کیا ہوا کہ نبی آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ کے لاڈلے کو مدینہ سے مکہ ہجرت پر مجبور کردیا ۔

    اُس طرف ظلم پر آماده زمانے والے
    اِس طرف سارے محمدﷺ کے گھرانے والے

    یوں امام حسین علیہ السلام 28 رجب کی رات اپنے اہل و ایال اور صحابہ کے ساتھ سفر مکہ کیلیے نکلے ،کچھ آگے بڑھے تو علمدار حسین ابن علی مولا عباس علیہ السلام نے کلام کیا اے جگر گوشہ رسول ہمارے قافلے کے پیچھے ایک چھوٹا قافلہ ہے نواسہ رسول گردن پلٹ کے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے صحابی ارم غفار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ساتھ معصوم بیٹا ہے اس قدر ضعیف ہیں کہ گھوڑے پہ سوار نہی ہو پا رہے ۔نواسہ رسول نے فوراً ذوالجناح کو انکی سمت موڑا پاس پہنچے تو پوچھا کیا ارادہ ہے ۔
    صحابی رسول نے ادب سے سر کو جھکایہ آنکھوں میں نمی ہے اورکہتے ہیں ایک دفعہ نبی پاک ﷺ مسجد نبوی میں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا رسول خداﷺ فوراً منبر سے اترتے ہیں اس بچے کو اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں اے صحابہ اسے پہچان لو یہ میرا نواسہ ہے کبھی اسے ہجرت کرنی پڑے تو اسکا ساتھ نبھانا ،اے نواسہ رسول میں اپنا وہی عہد نبھا رہا ہوں ۔قربان جائیں اس صحابی رسول کے اس عہد کے اور اس جزبہ وفا کے کہ سید زادیوں کے احترام میں ساتھ نہی چلتے چپکے سے پیچھے چلے آتے ہیں ۔

    پانچ دن کے بعد سفر اختتام پزیر ہوتا ہے یا شائد یہیں سے سفر حسین کا آغاز ہوتا ہے 3 شعبان 60 ہجری کو سرزمین مکہ پر نواسہ رسول کہ پاؤں پڑتے ہیں تو زمیں مہکنے لگتی ہیں فضائیں جھومتی ہیں کہ آج نبی کے نور نے ہمیں زینت بخشی ہے ۔قافلہ حسین نے مکہ میں تقریبا چار ماہ کا عرصہ گزارا ۔ رسول اللہ ﷺ کے عاشق نواسہ رسول کی قدم بوسی کیلیے حاضر ہوتے ہیں رہتی، اگر دو نواح کی خبر پہنچاتے رہتے ہیں ۔

    حج قریب آیا تو امتیوں نے عرض کی حسین علیہ السلام اس دفعہ پچھلی باریوں کے برعکس آپ حج پہ آئے ہیں لیکن قربانی کے جانور نہی لائے کیا اس دفعہ منی پہ قربانی نہی کریں گے اس پہ نواسہ رسول اپنے ہم شکل پیغمبر بیٹے جناب علی اکبر علیہ السلام اور اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کی نشانی اپنے بھتیجے امیر قاسم علیہ السلام کو آواز دیتے ہیں جب دونوں شہزادے آ کے امام حسین علیہ السلام کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے ہیں تو نواسہ رسول آسمان کی طرف دیکھتے ہیں مسکراتے ہیں اور جواب کے منتظر لوگوں کی طرف دیکھ کہ کہتے ہیں یہ ہیں میرے شہزادے میں اس سال انہیں راہ خدا میں ،نانا کے دین کی سر بلندی کیلیے قربان کروں گا اور یہ قربانی مکہ میں نہی کربلا کی منی پہ ہو گی ، کیسی قربانی ہےیہ کیسا جزبہ ہے کہ لخت جگر کو دین اسلام پہ قربان کرنے کیلیے تیار ہیں ۔وہ بھتیجا جسکی جوانی کی دھوم ہے کربلا کی خاک کو اسکے خون سے رنگنے کی تیاری ہے ۔

    اور پھر 8 زوالحج کا وہ دن جب نواسہ رسول کوفیوں کے جھوٹے خطو ں پر اعتبار کرتے ہوئے سفر کوفہ کا رادہ کرتے ہیں ،حرمت حج کی خاطر نواسہ رسول اپنا احرام کھول دیتے ہیں صحابہ کرام روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آپ کو کوفیوں کی گزشتہ بیوفائ یاد دلاتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام ارادہ باندھ چکے ہیں کہ عشق کی آخری بازی لگانی ہے
    پھر مکہ کی فضاؤں نے وہ درد انگیزمنظر بھی دیکھا جب

    ایک طرف دنیا بھر سے قافلے حج ادا کرنے کے لیے مکہ میں جوق در جوق چلے آرہے تھے وہیں میرے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و ا له وسلم کا لاڈلہ نواسہ اپنے اہل خانہ کے ہمرا سرزمین مکہ کو الوداع کہ رہے ہیں آج ہی کے دن امام حسین علیہ اسلام نے اپنے مکہ سے کربلا کے سفر کا آغاز کیا تھا۔
    ‎ ‏چلے ہیں حسین وعدہ نبھانے،
    گھر کو لٹانے، اسلام بچانے
    نواسہ رسول کا سفر جاری ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار یہ بات ثابت کرنے کیلیے پر عظم ہے کہ یزید صرف ظلم پے اور مولا علی علیہ السلام کا لاڈلہ امن کا نشان ہے ،یزید مائل جبرہے تو جگر گوشہ بی بی فاطمہ زہرہ سلام الله علیہ صبر کا پہاڑ ہے۔ امام حسین علیہ اسلام حق اور صداقت کے بے تاج بادشاہ ہیں جس کا کربلا کے تپتے ریگزاروں میں کیا اک سجدہ کائنات کے تمام سجدوں پہ بھاری ہے ۔
    وقت نے یہ بات تاریخ کے صفحوں پہ نقش کی کہ دریا کے کنارے پہرے لگانے والے معصوم بچوں کو پیاسہ رکھ کر خود سیراب ہونے والے مر گئے اور خشک ہونٹوں کے ساتھ جام شہادت نوش کرنے والے ہمیشہ کیلیے امر ہوگئے

    افضل ہے کُل جہاں سے گھرانہ حسین ؓکا نبیوں کا تاجدار ہے نانا حسین ؓکا اک پل کی تھی بس حکومت یزید کی صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا

  • رفاہی کام عید قربان پر ہی کیوں ؟ تحریر میمونہ سحر

    رفاہی کام عید قربان پر ہی کیوں ؟ تحریر میمونہ سحر

    عید قربان ہمارے نبی ابراہیم علیہ السلام کی سنت مبارکہ کو تازہ کرنے کے لیے منائی جاتی ہے ۔ جو کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ہر سال بھرپور طریقے سے منائی ۔ انتہائی غربت کے باوجود آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے عید قربان پر جانوروں کی قربانیاں پیش کیں

    لیکن آج کل آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ ایک مخصوص طبقہ جو کہ اس عید کے قریب آکر ہی پراپیگنڈا شروع کر دیتا ہے کہ قربانی کا جانور تب لیں جب محلے میں کوئی آٹے کی بوری لینے والا نہ ہو ، یا ان پیسوں سے کسی کی شادی کروادیں ، پانی کا کولر لگوادیں وغیرہ وغیرہ

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب قربانی کے وقت ہی کیوں یاد آتا ہے ۔ جب مہنگے سمارٹ فونز ، کپڑے جوتے لیتے ہیں یہ سب رفاحی کام تب کیوں یاد نہیں آتے ۔ اصل میں یہ سب اسلام کی اس سنت کے خلاف پراپیگنڈہ ہے جو کہ مخصوص طریقے سے مسلمانوں میں پھیلایا جارہا ہے تاکہ وہ اس سنت مبارکہ سے دور ہو جائیں

    تو آپ سے گزارش ہے کہ ایسی کسی بھی خرافات کا حصہ نہ بنیں ۔ اگر قربانی اتنی ہی غیر اضافی ہوتی تو اسکا حکم قرآن میں نہ ملتا اور یہ حج کا ایک لازم حصہ نہ ہوتی

    خود بھی اس سنت مبارکہ کو تازہ کریں اور دوسروں کو بھی کروائیں ۔ باقی کسی کی مدد پورے سال میں جب موقع ملے ضرور کریں
    جزاک اللہ خیرا کثیرا

  • سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی یپک کے بعد خطے کےلیے ایک اور تاریخی پروجیکٹ آنے والا ہے جس کو آج عمران خان نے خطے کےلیے انقلابی پروجیکٹ کا نام دیا۔

    یہ پروجیکٹ پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے منصوبہ ہے ۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ریلوے کے درمیان اس منصوبے کیلئے573 کلو میٹر تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا اور اس ریلوے منصوبے پر تقریبا 4 ارب 80 کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کو براہ راست وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑ دے گا جس کے بعد تیز ترین تجارت ہو گی ۔ تاجکستان اور ترکمانستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی مجوزہ ریلوے منصوبے میں شامل ہو سکیں گے۔

    اس منصوبے سے خطے میں پاکستان کا اثر ورسوخ بڑھے گا۔ افغانستان اس کا مرکزی کردار ہے لہذا پاکستان اور ازبکستان مل کر لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے بعد افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں پاکستان ہر قسم کی اجارہ داری کو کاؤنٹر کر پائے گا۔ یہ سفارتی ، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے ایک انقلابی پروجیکٹ ہے جس سے پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی۔

    افغانستان اور ازبکستان کے درمیان 144 کلو میٹر کی سرحد ہے۔ خود ازبکستان کے اہم وسطی ایشیائی ریاستوں کرغیزستان ، تاجکستان اور ترکمانستان سے بارڈر لگتے ہیں۔ ازبکستان سے باقی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ قزاقستان تک بھی تیز ترین رسائی ہو گی جو ان قریبی وسطی ایشیائی ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے اور اس سے روس تک رسائی ہو گی۔ قازقستان میں اس قدر قدرتی وسائل ہیں کہ ہر ملک اس سے تجارت کا خواہاں ہے ۔ آئل کے حساب سے دیکھا جائے تو قازقستان دنیا کا سب سے بڑا آئل ایکسپورٹر بن سکتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔

    یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کےلیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک کے بعد اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد ہم واضح کہہ سکیں گے کہ پاکستان خطے میں اپنی معاشی اجارہ داری قائم کر چکا ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ یعنی پاکستان ایسے منصوبوں کی بدولت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کےلیے خصوصاً اور پورے ایشیا کےلیے مرکزی حثیت اختیار کر جائے گا ۔ معاشی برتری کے بعد پاکستان خارجہ سطح پہ بھی مضبوط ہو گا۔

    عمران خان نے حکومت میں آتے ہی اس اہم منصوبے کےلیے رابطے شروع کیے تھے اور پھر 11 دسمبر 2018 کو ازبکستان ، روس ، قازقستان ، افغانستان اور پاکستان کے مابین ، ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور مزار شریف -کابل – پشاور ریلوے کی تعمیر کے لئے مالیاتی کنسورشیم کے لئے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے ۔ اس کے بعد فزیبلٹی سٹڈی جاری رہی تاہم کسٹم،امیگریشن اور بارڈر اتھارٹیز کے معاملات میں کچھ مشکلات رہیں ۔ کرونا وائرس اور افغانستان کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے ۔ ان شاءاللہ اب اس پہ باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا ۔ اس سال فروری میں اہم معاملات طے پا گئے ہیں۔ ان شاءاللہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کےلیے بھی ترقی کا مرکز بنے گا۔

    @IAhmadPatriot

  • پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    افغانستان اورپاکستان خطے میں انتہائی اہمیت کے حامل دو اسلامی برادر ملک ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلام ہمیں پر امن طریقے سے زندگی گزارنے کا درس دیتا یے. بحیثیت مسلمان یہ ہم پاکستانیوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ خطے میں امن و امن کو برقرار رکھیں. اسی لئے پاکستان اپنے ملک اور باقی تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک میں امن چاہتا ہے.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کا خیر خواہ.رہا ہے. مستحکم اور خوشحال افغانستان اپنے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے بھی مفاد میں یے. کیوں کہ افغانستان میں امن کا مطلب ہے پاکستان میں امن__ خطے میں امن و استحکام افغانستان میں دیرپا امن سے منسلک ہے
    ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک پرامن افغانستان کا مطلب بالعموم ایک پرامن خطہ اور بالخصوص ایک پرامن پاکستان ہے ، اور کہا : "ہم ہمیشہ ‘افغان امن عمل’ کی حمایت کریں گے۔”

    پوری تاریخ میں ، پاکستان واحد طاقت رہی ہے جو واقعتا یہ سمجھتی ہے کہ افغانستان میں استحکام اور قیام امن ازحد ضروری ہے. پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک نے افغانستان میں امن کی خواہش نہیں کی۔ پاکستان نے افغان امن عمل کی لئے لازوال قربانیاں دی ہیں. ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ کھربوں روپے مالیت کا معاشی بوجھ برداشت کیا. معاشی و اقتصادی پابندیاں اس کے علاوہ ہیں. چالیس سال سے زائد عرصہ سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں جن کی وجہ سے ملک کو منشیات، ناجائز اسلحے کی بہتات اور امن وامان کے حوالے سے سنگین مسائل نے لپیٹ میں لیے رکھا. ان تمام نہ مساعد حالات کو برداشت کیا گیا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغان امن کے بغیر خطے کی سلامتی اورپاکستان کے استحکام کوممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ٹھوس کردار ادا کیا اور افغان طالبان اور عالمی برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ پاکستان کے اندرونی حالات چاہے پیچیدہ ہوں لیکن پاکستان کبھی دوسرے ملک کا برا نہیں سوچ سکتا ہے. یہ پاکستان کی ہی مخلصانہ کوششوں کا ثمر ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخ ساز امن معاہدہ طے پایا.

    اس سب کے باوجود پاکستان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستان امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے. لیکن یہ صرف بےبنیاد الزامات ہیں . جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں. حقیقت میں ، پاکستان نے افغانستان میں صرف اسٹریٹجک استحکام اور امن کی کوشش کی ہے۔ پاکستان پورے خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے ان شاء الله. ہمیشہ انکی مدد کرے گا

    @_J786

  • عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید کا تہوار قریب تر ھے،ہر طرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اور جوان سر گرم نظر آ رھے ھیں۔گائے ، بیل،بکرے،بھیڑ ،اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں۔بچوں کا شور ،بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔
    زبردستی چارہ کھلانے اور پانی پلانے کاجنون۔
    اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟
    میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پر مجبور کرتے ھیں۔اور جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں ۔
    کیا وہ جاندار نہیں؟کیا اسے درد نہیں ھوتا؟کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
    دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کر بھاگ چکاھے اور کل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھو گیا ھے۔
    کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
    جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
    یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔

    کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
    وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
    باربی کیو بناؤ؟؟پارٹیاں اڑاؤ؟
    ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟

  • شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    ‏یہ تحریر ہر لڑکی کے لٸیے ہے۔۔کیونکہ اس نے کبھی نہ کبھی ماں بننا ہے۔ اور ایک نسل کی زمہ دار ہے ہر لڑکے کے لٸیے بھی کہ وہ ایک نسل کا محافظ ہوگا
    یہ بات زہن میں رہنی جب بچہ کوکھ میں ہوتا ہے تو بچے کی فطرت بنتی ہے۔۔اور فطرت کبھی نہیں بدلتی۔۔اور فطرت بناتی ہے ماں۔۔
    ماں ہر حرکت بچے میں منتقل ہوتی ہے۔۔ماں کا دیکھنا سننا کوٸی کام کرنا۔۔۔
    سو صرف نو ماہ عورت ‏اللہ کے لٸیے گزارو۔۔روزہ رکھے آنکھوں کا کانوں کا ہاتھوں کا منہ کا۔۔بےشک نیک ہو پاک ہو ۔۔مگر گانے دیکھے گی۔کوٸی فحش ویڈیو۔۔کوٸی فضول ڈرامہ یا فلم۔۔بچے پر کہیں نہ کہیں اثر پڑے گا۔۔ماں جھوٹ بولے گی۔۔غیبت کرے گی۔۔کوٸی چیز بنا پوچھے لے کر استعمال کر لے گی بچےپر اثر آۓ گا۔۔ماں کسی غلط ‏ارادے سے چل کے جاۓ گی۔۔پھر بعد میں سوچے گی میرا بچہ غلط رستے پر کیسے نکل گیا۔۔

    ایک ماں کا واقعہ ہے۔۔وہ ایک بزرگ کے اس پہنچی اور کہا۔۔میرے بچے نے آج چوری کی۔۔جب کہ میں نے اسکی تربیت ایسی نہیں کی۔۔۔
    بزرگ نے کہا تم یاد کرو تم نے حمل کے دوران کچھ ایسا کام کیا ہوگا جو تمہیں نہیں ‏کرنا چاہیٸے تھا۔۔وہ عورت سوچنے لگی۔پھر بولی ہاں میرے پڑوس میں ایک پھلدار درخت ہے۔۔حمل کے دوران ایک آنگن میں بیٹھی تھی کہ پھل کی کچھ ڈالیاں لٹک کر میرے گھر آرہیں تھی۔۔میرے دل نے چاہا میں کھا لوں۔۔اور بنا پوچھے میں نے اس میں سے کچھ کھا لیا۔۔۔
    بزرگ بولے بس تمہیں جب شیطان نے بہکا دیا

    اسی طرح جب شیخ عبدaلقادر جیلانی اس دنیا میں تشریف لاۓ تو انہیں چودہ سپارے مادر شکم سےحفظ تھے۔۔معلوم پڑاکہ والدہ حالت حمل میں قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔۔
    ‏اب آپ اندازہ لگا لیں۔۔۔کتنا اثر ایک ماں کا اسکی اولاد پر۔۔ماں کو اگر کوٸی درجہ دیا گیا ہے تو یہی وجہ ہے وہ اپنا دل مارتی ہے۔چاہت ختم کر دیتی ہے اولاد کے لٸیے۔۔احساس میں صرف وہ درد ہوتا ہے جو اولاد کے لٸیے ہوتا ہے۔تو آج بھی خالید بن ولیدؒ۔قاسمؒ اور غزنویؒ پیدا ہو سکتے ہیں۔جو ماں قربانی ‏دے گی اس کے بچے وہ پیدا ہونگے دنیا اس پر قربان جاۓ گی
    فطرت کے بعد بنتی ہے عادت جو ماں کی گود اور ماں تربیت جب تک بچہ اس کی دسترس میں رہتا ہے باہر نہیں نکلتا۔دوست نہیں بناتا۔۔تب تک ماں کی محنت ہے کہ وہ بچے کو کون سے سانچے میں ڈھالتی ہے۔اچھے برے اور غلط صحیح کا کیا معیار اس کےدماغ ‏میں ڈالتی ہے۔اسے معاشرے کے لٸیے سود مند بناتی ہے یا پھر زمانے کے لٸیے ایک مشکل بنا دیتی ہے۔یہ ایک ماں ہاتھ میں ہے

    فطرت کے بعد آتی ہے عادت۔ یہ بھی ماں کا ہنر ہے بچہ جب تک گود میں ہے آپکی دسترس میں ہے۔آپ کی حرکات سکنات اپ کی باتیں ماں کا سمجھانا ماں اس کے سامنے اس کے ساتھ جو روٹین بناٸیں گی۔۔۔اس کے زہن میں نقش ہوتی جاۓ گی اور بڑھاپے تک اس کے ساتھ رہے گی۔
    جب بچہ گود سے نکل جاتا ہے باہر کی ہوا کھاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کو دیکھتا سمجھتا ہے۔۔پھر امتحان شروع ہوتا ہےماں کی دی فطرت کا بناٸی گٸی عادت کا۔
    وہ پھر زمانے سے لڑنا سیکھتا ہے یہ دونوں چیزیں اس کا بازو اس کی طاقت بنتی ہیں۔وہ اپنا رستہ چنتا ہے صحیح یا غلط۔۔اگر اوپر کی لاٸینز کے مطابق ماں کوشش کر گٸی ہے تو براٸی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
    ماں کے بعد کردار ہے باپ کا کلیدی مضبوط کردار۔
    باپ کے عہدے پر فاٸز مطلب اپنی نسل کا زمہ دار ہونا
    جیسے عورت کا مرتبہ اسے ایسے نہیں ملتا۔۔وہ ماں بنتی بچے کی عادت اور فطرت میں جتنا اسکا ہاتھ ہے اتنا ہی باپ کا ہاتھ ہے۔۔۔
    والد کی کماٸی ۔والد کا رویہ۔اس بچے کے اوپر اثر انداز ہوتا ہے۔
    والد حلال کماٸی اسے ولی بنا دیتی ہے حرام نوالہ اسے معاشرے پر بوجھ بنا دیتا ہے۔ حرام کماٸی معاشرے میں ایک شیطان کا اضافہ کر سکتی ہے
    والد کا رویہ بچے کے لٸیے رول ماڈل ہے۔والد کا
    لہجہ اس کا لہجہ بناتا ہے۔آج باپ جو اپنے گھر والوں کے لٸیے ہے۔۔کل وہ بنے گا ۔
    لہزا ایک باپ ہونے کے ناطے اپنے اوپر ایسے توجہ دی جاۓ جیسے کسی کے آگے پیش ہونا ہے۔ایک باپ کو اپنا اخلاق اور رویہ ‏اپنے اقدار کو ایسے سنوارنا چاہٸیے کہ اس نے اللہ سے پہلے اپنی اولاد کے آگے پیش ہونا ہے۔۔پھر وہ اسے دیکھ کے آگے والوں کے آگے اور اللہ کے پیش ہونے کے قابل بنے گی

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات

    @DimpleGirl_PTi

  • سر زمین اقصیٰ روتی ہے!   تحریر  آٸمہ چودھری

    سر زمین اقصیٰ روتی ہے! تحریر آٸمہ چودھری

    انبیاء کی سر زمین فلسطین کو یہودی ریاست میں تبدیل کرنا مشرق وسطیٰ کے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ یہودیوں کے ان ناپاک عزاٸم کی ابتداء 1857ء میں تھیوڈر ہرزل کی تحریک پر پہلی صہیونی کانگرس میں ہوٸی۔ مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہاں کے مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرق میں یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل قابض ہے۔ میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجاٸش کے ساتھ یہ دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے۔ تاہم آج کل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ یروشلم/بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب موجود ایک تاریخی چٹان کے اوپر سنہری گنبد کا نام ہے۔ الصخرۃ (Dome of the Rock) کہا جاتا ہے۔ یہ اونچی عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں ميں شمار ہو رہی ہے۔ اور حرم قدسی کا ایک حصہ کہلاتی ہے۔ یہاں کے رہنے والے (مسیحی اور یہودی) اسے (Dome of the Rock) کہتے ہیں۔ عربی زبان میں قبۃ کا مطلب گنبد اور الصخرۃ کا مطلب چٹان ہے۔
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج کے سفر کے دوران مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ پہنچے تھے اور یہاں تمام انبیا کی نماز کی امامت کروائی۔

    قرآن مجید کی سورہ بنی الاسرائیل میں اس کا ذکر اللہ پاک نے ان الفاظ میں فرمایا :

    ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے تا کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسرائیل آیت نمبر 1)ایک حدیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں ، کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے۔

    حضرت عمر فاروق کے دور میں جب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور یہاں انہوں نے اپنے ہم راہیوں سمیت نماز ادا کی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ( بنی اسرائیل) کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔

    اس کا رقبہ 144000 مربع میٹر ہے۔احاطہ اقصیٰ کے چودہ دروازے ہیں۔ تاہم صلاح الدین ایوبی نے جب اس مسجد کو آزاد کروایا تو اس کے چاروں دروازوں کو بعض وجوہات کی بنا پر بند کروادیا, یایوں موجودہ دروازوں کی تعداد دس ہے۔

    ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان اگست 1969ء کو قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرق کی جانب سے عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔اسی دوران محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیا جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لیے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور دوران جنگ وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
    چونکہ یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اس عبادت گاہ کو گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جب کے وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
    عالم اسلام کی تاریخ کی ورق گردانی مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت اور اس کی بنیاد کے مکمل ، ٹھوس اور واضح ثبوت رکھتی ہے۔

    گزشتہ 73 برس اسرائیل وقتاً بوقتاً فلسطینیوں پر حملے کرتا آ رہا ہے، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور لاکھوں نقل مکانی پر مجبور کیے گئے۔اسرائیلی کارروائیوں سے 7 سے 18 مئی 2021 کی سہ پہر تک 58 بچوں اور 34 خواتین سمیت 201 افراد جاں بحق ہوچکے تھے.رواں برس فلسطین تنازعے کے طور صیہونی ریاست اسرائیل نے مسلمانوں کے لیے اہم مہینے رمضان المبارک میں مقدس ترین رات ليلۃ القدر کے موقع پر فلسطینیوں پر مظالم اور حملوں کا آغاز کیا۔ عالمی ادارہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام ادارے فلسطین کی سرزمین ہر ہونے والی دہشت گردی کو اسرائیل – فلسطین تنازعے کے طور پر رپورٹ کرتے ہیں، جبکہ پوری مسلم دنیا سمیت دنیا کے 135 سے زائد ممالک کو اس پر اعتراض رہتا ہے۔

    حال ہی میں ہونے والی اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔ اور ان بے ضمیر اسرائیلی افواج نے بربریت کی انتہا کر کے بالخصوص مسلمان فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف اقدام اٹھاۓ ہیں۔علاوہ ازیں غزہ شہر بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ ہوا ہے۔
    اسی طرح اسرائیلی دہشت گردی مہذب دنیا اور اقوام عالم کی متحدہ قیام امن کی کاوشوں پر سیاہ دھبہ کی مانند ہے۔
    اسرائیلی ظلم و تعدی کے مقابلے اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کی خاطر مسلمانوں کو مالی، جانی، اخلاقی اور سیاسی طور پر فلسطینی عوام کا ساتھ دینا ہو گا۔

  • خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    مودی اجیت ڈوول اوراین ڈی ایس نے مل کر اس خطے کو آگ و خون میں دھکیلنے کا جو پلان بنایا ہے وہ بہت حطرناک ہے تاشقند کے اندر پاکستان کے سامنے بیٹھ کردس ہزارجنگجو افغانستان بھجنے کا الزام لگانا اور بھارت سے فوجی مدد لینے کا عندیہ دینا دراصل را اوراین ڈی ایس کا نیا پلان ہے جو وہ اگلے آنے والے دنوں میں رچانے جا رہے ہیں اس کے لیے یہ سارا اسٹیج تیار کیا جارہا ہے. مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت نے افغانی ایما پر اپنے تین ہزار فوجی کابل میں پہنچا دیے ہیں جو بلکل فوجی وردیوں میں نہی ہیں.

    بلکہ ان کو افغانی وردیاں پہناٸی جاٸیں گی اورمصدقہ اطلاعات کے مطابق چھ ویڈیو بلکل تیارکرلی گٸی ہیں جن میں افغانی جو بھارتی پے رول پہ ہیں انہوں نے یہ ساری سٹوری ایڈٹ کرلی ہے جس کے مطابق ان ویڈیو میں عورتوں کو بڑے بے رحم طریقے سے مارا جاۓ گا ان کو سنگسار کیا جاۓ گا فوجیوں کے گلے کاٹے جاٸیں گے اور پھر وہ ایجنٹ خود کوطالبان بنا کر پیش کریں گے یوں طالبان کے خلاف بھارت بہت بڑی سازش رچنے جا رہا ہے کیونکہ طالبان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کی پابندی کریں گے یوں برطانیہ یورپ طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے تیارہیں.

    اس وقت ٹی ٹی پی پاکستان بلوچ ریجمنٹ اورداعش کے تمام سربراہ بھارت کے اندر موجود ہیں اور اجیت ڈوول کے زیراثرہرقسم کی دہشت گردی میں اس خطے کودھکیلنے کے لیے تیارکھڑے ہیں. اس لیے پاکستان مکمل طور پر ان کے ان کاٶنٹرکے لیے تیار ہے یہ پچھلے کٸی دنوں سے ہمارے فوجیوں پر حملے بہت زیادہ بڑھ گٸے ہیں جو ایک غیر معمولی بات ہے ۔ مگریہ سب اس سے بھی واقف ہیں کہ جہاں ان کی سچ حتم ہوتی ہے وہاں سے مارخور اپنا کام شروع کرتے ہیں ۔
    اللہ پاکستان کو قیامت تک قاٸم و داٸم رکھے ۔ آمین

    Femikhan_01