Baaghi TV

Category: متفرق

  • گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    وفاقی وزیر صنعت خسرو بختیار نے 7 جولائی بروز بدھ کہا ہے کہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کے کاروں کی نئی کم قیمتوں کو کچھ دنوں میں لاگو کیا جانے کہ اعلان کیا جاۓ گا۔جو کے اب تک صحیح طرح لاگو نہ ہوسکی کیوں کے گاڑیوں کی کمپنیوں نے گاڑیوں پر اؤن بڑھا کر پرانی قیمت ہی وصول کر رہی ہیں اب تک کی تازہ اطلاع کے مطابق.

    نئی آٹو پالیسی کے پہلوؤں کے بارے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت نے متعدد قسموں سے تعلق رکھنے والی متعدد کاروں کا نام لیا اور قیمتوں میں ہونے والی کمی کا اعلان کیا.

    انہوں نے کہا ، "ان تمام کاروں کے لئے نئی قیمتوں کا نفاذ ایک دو دن میں ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اس سے آٹوموبائل سیکٹر میں مانگ میں اچانک اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ "میں یہ خوشخبری بھی دینا چاہتا ہوں کہ جیسے ہی ہم کاروں کی پیداوار میں اضافہ کریں گے اس سال اس [آٹوموبائل] سیکٹر میں تقریبا 300،000 نئی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔”

    خسرو بختیار نے کہا کہ اس سال آٹوموبائل کی پیداوار کو 300،000 کاروں تک بڑھانے اور مراعات اور دیگر اقدامات کے ذریعہ اپنی طلب کو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    "اس آٹوموبائل شعبے کے لئے سب بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیمتیں کم ہونے پر طلب میں اضافہ ہو
    لیکن کہیں بھی قیمتیں کم ہوتی نہں دکھائی دے رہی گاڑیوں کی کمپنیاں وہی قیمت دوسرے طریقے اپنا کر حاصل کر رہی ہیں جب کے سرکاری اعلان کے مطابق اون بھی ایک مقرر کردہ حد کے مطابق لیا جہ سکتا ہے لیکن کمپنیاں ابھی تک اپنے خود کے مقرر کردہ طریقے سے اون وصول کر رہی ہے گاڑی کی قیمت میں کمی کے بعد گاڑیوں کی کمپنیوں نے فوری اون میں اضافہ کر دیا ہے اور قیمت اون ملا کر اب بھی وہی وصول کی جہ رہی ہے جو بجٹ سے پہلے تھی۔

    جب کے حکومت نے چھوٹی کاروں پر سیلز ٹیکس میں کمی کے ساتھ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) کو بھی ختم کردیا ہے۔” خسرو بختیار نے اور بتایا تھا کے

    حکومت ان اقدامات کا مقصد صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا تھا ، لیکن اب تک قیمتیں برقرار ہیں پچھلی سطح پر.

    وفاقی وزیر نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ کار تیار کرنے والی کمپنیاں صارفین کو 60 دن سے زیادہ گاڑی کی فراہمی کی کمپنی کی طرف سے تاخیر کرنے پر صارفین کو جرمانے کی ادائیگی بھی کریں گی اور صارفین اپنی گاڑی کے موجودہ مینوفیکچرنگ اسٹیج کو آن لائن چیک کرسکیں گے۔

    اب حکومت کی توجہ کار کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے ، جیسے جدید حفاظتی خصوصیات کا تعارف تاکہ گاڑیوں کی بر آمد کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکے۔ترقی کو مستحکم رکھنے کے لئے اور قیمتوں کو کم رکھنے کے لئے ملک کی انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ اڈے میں اضافہ کرنا ضروری ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب لوکلائزیشن پر توجہ دے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی میں بھی لوکلائزیشن پر توجہ دی گئی ہے۔
    ڈیوٹی ، ٹیکس میں کمی کے باوجود کار ساز لوگ قیمتوں میں ریلیف میں تاخیر کررہے ہیں حکومت اس مسئلے پر فوری توجہ دے تاکہ بجت میں دیا گیا ریلیف عوام تک صحیح معنی میں پنہچ سکے۔
    @umesalma_

  • نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    اسلام بہت خوبصورت دین ہے جس نے انسان کو حلال اور حرام چیزوں سے باخوبی آگاہ کیا ہے اور اسلام نے حرام اور حلال چیزوں کے حوالے سے کچھ حدود رکھی ہیں اور بتایا ہے کہ حرام چیزوں سے بچا جائے یہ انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ حرام چیزوں کے استعمال سے انسان نہ دنیا کا رہتا ہے نہ آخرت کا رہتا یے۔ ٹھیک اسی طرح نشہ بھی حرام ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو مدہوش کردے، اسے اس کے رب سے دور کردے، جو انسان کے دماغ کو ماؤف کردے اور اس کے پورے جسم میں نشہ پیدا کردے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتے اور معاشرے کو بھول جائے اور انقصان پہنچائے حرام ہے۔ اور آج پوری دنیا میں نشہ عام چیز ہوگیا ہے۔ جہاں پوری دنیا نشے کی لت میں جکڑ چکی ہے وہیں یہ لعنت پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ افسوس کے ایک اسلامی ملک جس کا تو دین یہ کہتا ہے کہ نشہ حرام ہے وہاں اس حرام چیز کی مقدار اور اس کے چاہنے والے اور اس سے اثرانداز ہونے والے افراد کی تعداد میں روز کے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پہلے تو منشیات فروش اپنا کام کچھ مختص کیے گئے مقامات پر کرتے تھے پر اب تو یہ غلیظ دھندہ سرعام ہورہا ہے اور یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ملک کے ادارے اور وہ تمام لوگ کہاں سو رہے ہیں جن پر منشیات کی روک تھام حکومت پاکستان کی طرف سے فرض کی گئ ہے؟ پاکستان میں سب سے زیادہ نشے سے اس ملک کی نوجوان نسل برباد ہورہی ہے۔ کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور آج افسوس ہے کہ اس ملک کا اثاثہ بربادی کی طرف گامزن ہوتا چلا جارہا ہے۔ نوجوانوں میں نشہ کرنے کے کئ طریقے سامنے آئے ہیں جن میں سگریٹ، شراب، آیوڈکس، گٹکا، نشہ آور دوائیں اور ہیروئن وغیرہ شامل ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد سرنج سے نشہ کرنے والے افراد کی ہے اور اس طریقے سے نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسے نشے سے متاثر افراد ایک دوسرے کی سرنجیں استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے وہ ان بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

    جہاں نشہ معاشرے کو اپنی جکڑ میں لے رہا ہے وہاں پہ تعلیمی ادارے بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ وہ ادارے جن کو تعلیم کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ نوجوان وہاں سے پڑھ لکھ کر ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈال سکیں اب وہ بھی منشیات فروشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے الیکٹرونک میڈیا پہ اس حوالے سے کافی ہلچل مچی ہوئی ہے کہ اب تعلیم اداروں میں کچھ طالب علم اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر منشیات کی خریدوفروخت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ڈی ڈبلیو کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھتے ہوئے بتایا کہ ” میں نے آئس نامی نشہ آور مادے کا استعمال کافی کیا اور اس وجہ سے اپنی تعلیم کے دو سال بھی ضائع کردیے، پہلے میں صرف دوستوں کے ساتھ مل کر تفریح کے لیے اس کا استعمال کرتا تھا پر پھر مجھے اس سے سکون ملنے لگا۔ اس نشے سے میرے دل و دماغ کو بہت زیادہ سکون اور عجیب و غریب سرور ملتا تھا تو مجھے اس کی عادت ہوگئی، عادت اتنی بڑھی کے اس کہ میرے لیے اس کے بغیر رہنا ناممکن ہوگیا اس کو حاصل کرنے کے لیے میں گھر میں چوریاں کرنے لگا بار بار ایسا کرنے پر ایک بار میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو والدین کو اس ساری صورتحال کا علم ہوا اور پھر انھوں نے مجھے ایک ایسے مرکز میں داخل کروایا جہاں نشے سے متاثر افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور اب میں کافی حد تک اپنی پرانی زندگی میں واپس آگیا ہوں”۔ سن 2015 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو منشیات کے حوالے سے یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ پاکستان میں کل 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ آور ادویات کے عادی ہیں جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں۔ منشیات فروش ملک کے دشمن ہیں جو منشیات کی مدد سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نشے سے متاثر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی کچھ اور اہم وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلے تو ہمارے ان اداروں کی غفلت ہے جو منشیات کی روک تھام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پھر کچھ حصّہ ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کا بھی ہے۔ جب ملک میں بےروزگاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ملتا تو پھر وہ منشیات فروشوں کے شکنجے میں آجاتے اور ان کے ساتھ مل کر اس کام میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں اور پھر وہ افراد جو زندگی کے ان مشکل حالات سے گھبرا جاتے ہیں اور ہار مان لیتے ہیں، طرح طرح کی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ سکون کی تلاش کے لیے نشے کا استعمال شروع کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت انسان ہمیں چاہیے کہ ہم اس غیر قانونی اور حرام چیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کا سہارا بنتے ہوئے ان کا بھی ساتھ دیں جو نشے کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر کے ہیں تاکہ وہ واپس اپنی پہلے والی زندگیوں میں آنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ نوکریوں کا اہتمام کرے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان اس سے مستفید ہوسکیں اور نشے جیسی لعنت سے بچ سکیں اور پاکستان کی آنے والی نسلیں ایک صاف و شفاف اور ابھرتا ہوا ملک دیکھیں جو نشے کی لعنت اور منشیات فروشوں کے ناپاک وجودں سے پاک ہو۔

  • علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    الحمداللہ ہم مسلمان ہیں
    اللہ تعالٰی کو ایک ماننے والے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہیں دنیا میں رہنے کے لیے زندگی گزارنے کے لئے اصول و ضوابط اور حدود مقرر کر دی گئی ہیں،

    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم سیدھے اور غلط راستے کا انتخاب خود کرنے کی بجائے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور یہی بنیادی وجہ مذہبی انتشار اور تفرقہ بازی کا سبب بنتی ہے بغیر تحقیق کے اور سمجھے بغیر نام نہاد مُلائوں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں جس سے معاشرے میں نفرت پیدا ہو رہی ہے خود کو عالم کہنے والے ایسے افراد مفاد پرست ہوتے ہیں جن کے پیچھے مقاصد عوام کو تقسیم کرنا اور مذہب کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔

    یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے مقاصد حاصل کرتے ہیں کبھی بچوں کے ساتھ زیادتی میں شامل ہوتے تو کبھی کفر کے فتوے لگا کر بے نقاب ہو رہے ہیں مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے ممبر پر بیٹھ کر جنت اور جہنم کے فیصلے کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالٰی کی محبت پیدا کرنے اور اس کی بیشمار رحمتوں کے بارے میں بتانے کی بجائے خوف پیدا کر دیتے ہیں۔

    جذباتی بلیک میل کر کے افراد کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے والے ایسے چند مفاد پرست مولوی درحقیقت خود بھی دین کی سمجھ نہیں رکھتے علما حق ہمارے سروں کے تاج انبیاء کے وارث ہیں جو آج بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین کو لوگوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں لیکن مذہبی انتشار پھیلانے والے نام نہاد مُلائوں نے اس قوم کو صدیوں پیچھے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے سیاسی مفادات کے لیے ایک ہو جانے والے دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے حلال حرام کی تمیز کیئے بغیر مال کھانے والے کس طرح سیدھے راستے پر لوگوں کو لے کر جا سکتے ہیں۔

    مدرسوں کے اندر ریپ ہو رہے ہیں منہ پر سنت رسول رکھنے والوں سے آج شریف والدین کو خوف آنے لگتا ہے کوشش کریں اپنے بچوں کے محافظ خود بنیں اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات خود دیں یا ایسے علما کا انتخاب کریں جو اعلی کردار کے مالک ہوں جن کا ظاہر اور باطن صاف ہو جو صرف اسلام کی تبلیغ کرتے اور اس پر خود بھی عمل کرتے ہوں جن کے اعمال ان کی صداقت کی گواہی دیتے ہوں جن کے عمل ان کی پاکیزگی کی ضمانت ہوں خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ خود نمازیں پڑھا سکیں نکاح اور جنازے پڑھا لیں ضروری نہیں آپ کسی کے محتاج ہوں علماء حق کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔

    لیکن معاشرے میں اس ظلم کے خلاف جہاد جاری رکھیں جس سے بچوں کو درباروں مدارس کے اندر بیوقوف بنا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جنت حاصل کرنا مشکل نہیں ہے جتنا ان مفاد پرستوں نے اس دور میں مشکل بنا دیا ہے اللہ پاک ہم سب کا ہمارے بچوں کا حامی و ناصر ہو آمین

    @RajaArshad56

  • ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    پاکستان کا سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ امیرترین شہرایبٹ آباد ہے۔ ایبٹ آباد پاکستان کو اللّه کی طرف سے ایک ایسا انعام ہے جہاں صرف سیاحت کو فروغ دے کرپاکستان قرضوں کی دلدل سے آسانی سے نکل کرسکتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے اس خوبصورت شہر پے قبضہ مافیا کا راج ہے۔ ایبٹ آباد کے کمیشنر ڈی سی سے لے کر ایک عام سپاہی، کلرک اورمحکمہ مال کے اندر موجود مالی اور سیپر تک سب کے سب پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں۔

    غریب لوگو کی جاهیداديں جیلی کاغذات اور انتقال کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہیں لوگو کو انجان رکھ کے ان کے شجرہ مکمل طور پر تبدیل کر کے جیلی کاغذات سے ذمینوں پے قبضے کیے جا رہے ہیں جن میں پٹواری، سیاست دان، محکمہ مال، اور کمشنر، ڈی سی سے سپاہی تک اکثریت لوگ موجود ہیں۔

    قانون کے رکھوالے بھی اس گیم میں شامل ہیں اگر اس قبضہ مافیا کو روکا نا گیا تو ایبٹ آباد جیسا خوبصورت شہر تباہ ہو جاہے گا۔ جو بھی شخص پٹوار خانے کی طرف جاہے گا اور اپنی زمین پے قبضہ مافیا کو دیکھے گا تو لوگو کے درمیان خون ریز لڑاہیاں ہونگی حالات اس قدر خراب ہو سکتے ہیں کے جو کسی نے سوچا بھی نا ہو گا کیونکے ایبٹ آباد میں حویلياں شہر سے لے کر ناران کاغان تک ہر جگہ قبضہ مافیا کا راج ہے لیکن سب سے زیادہ قبضہ مافیا ایبٹ آباد شہر کے اندر ہے جہاں پٹواری، اور کمیشنر سے لے ایک عام سپاہی تک اور محکمہ مال کا عملہ مکمل طور پر پراپرٹی ڈیلر بنا ہوا ہے۔ چونکے ایبٹ آباد شہر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی وجہ سے سیکورٹی رسک ہے اس لیے اگر یہاں کے لوگو کو اس مافیا کے بارے میں علم ہو گیا تو یہاں خون ریز جنگیں ہو گی حالات حد سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

    میری حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے وال اداروں سے گزارش ہے اس مافیا کو روکے۔ ایبٹ آباد میں موجود پٹواری کی تنخواہ 20 سے 25 ہزار ہے لیکن وه کروڑوں کے مالک بن چکے ہیں کیسے ؟؟؟ پٹواری اور محکمہ مال کے اندر موجود ہر شخص کی بے نامی پراپرٹی ہے یہ سب کہاں سے ہو رہا ہے؟؟؟ ان کا احتساب کرے انہیں چیک کریں کیونکے فلحال ایبٹ آباد کے لوگ اس بات سے نا واقف ہیں کے کیسے یہ سب مل کے لوگو کا شجرہ نسب تک تبدیل کر رہے ہیں اگر ان لوگو کو یہ سب معلوم پڑ گیا تو یہاں بھی اکثریت پٹھان قوم ہے حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر یہاں حالات خراب ہو گےتو اس سب کی ذمہ دارحکومت ہوگی۔

    @AM03100

  • اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

    نائن الیون کے بعد امریکہ اوراتحادیوں کی یورش کے باعث افغانستان بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ امریکہ طالبان براہِ راست مذاکرات امن معاہدے پرختم ہوئے توافغانستان میں امن کی امید پیدا ہوئی۔ خطے کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہونے کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا دارومداربھی شورش زدہ پڑوسی ملک میں امن کے قیام پرہے مگراب حالات کسی اورطرف کروٹ لیتے نظر آرہے ہیں افغانستان میں امن کی بحالی کے امکانات معدوم ہونے لگے ہیں۔ امریکہ اورطالبان کے مابین امن معاہدہ 29 فروری 2020 کو ہوا جس کی افغان انتظامیہ کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی تھی۔ افغان قومی سلامتی کے مشیر حمدللہ محب امریکہ طالبان مذاکرات اور بعد ازاں امن معاہدے کے خلاف زہراگلتے رہے۔ امریکہ اورطالبان کو مذاکرات پرپاکستان نے آمادہ کیا تھا جبکہ حمداللہ محب پاکستان کیخلاف آج بھی بدزبانی کررہے ہیں۔ امن معاہدے پرعمل کیلئے افغان حکمرانوں کا تعاون ضروری تھا۔ وہ تو نہ صرف معاہدے کی شدید مخالفت کرتے رہے بلکہ معاہدے کوسبوتاژکرنے کیلئے ہرحربہ آزماتے اورسازشیں بھی کرتے رہے۔

    امریکہ کا آج بھی افغانستان میں واضح عمل دخل ہے۔ امن معاہدے پرعمل کواسی نے یقینی بنایا ہوتا تو آج حالات اس انارکی کونہ پہنچتے۔ طالبان تعاون پرتیارتھے۔ ایک سیاسی سیٹ اپ آسانی سے تشکیل پاسکتا تھا۔ اب حالات پرقابو پانا مشکل نظرآتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ 95 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ 100 فیصد مکمل ہونے پرافغانستان میں کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ وہاں برپا شورش سے کیا جاسکتا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی اورسکیورٹی فورسزکی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ گزشتہ رات طالبان نے افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک پاک افغان سرحد کے قریب حملہ کیا تھا۔ افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد درجنوں طالبان پاک افغان سرحد کے باب دوستی پرپہنچے اورمرکزی دروازے پراپنا پرچم لہرا دیا۔

    ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے طالبان کے مقبوضات میں اضافہ ہورہا ہے۔ 85 فیصد علاقوں پروہ پہلے ہی قبضہ کرچکے ہیں۔ ادھرصدراشرف غنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ طالبان کی کمرجلد توڑدی جائیگی، ان سے زیرقبضہ علاقے واپس لے لیں گے۔ اشرف غنی کی فوج کی حکمت عملی اتنی ہی کامیاب ہوتی تو آج طالبان وسیع علاقوں اورشہروں پر قبضہ نہ کرلیتے۔ حالات اب جس طرف جارہے ہیں اس کا اندازہ برطانوی وزیر دفاع کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

    بین ویلس نے کہا ہے کہ طالبان نے حکومت بنائی تو انکے ساتھ تعاون کیلئے تیارہیں۔ افغان انتظامیہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کی مدد لی جا رہی ہے۔ اگرامریکہ اشرف غنی حکومت کا تحفظ نہیں کرسکا تو بھارت کس باغ کی مولی ہے۔ اچھا ہے بھارتی فوج اشرف غنی کی مدد کو آئے اورافغانستان میں اپنا قبرستان بنوائے۔ بھارت افغانستان کی موجودہ صورتحال میں کودتا ہے توخطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگی۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرتا رہا ہے جس میں اب کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ افغان انتظامیہ سے چھینی گئی پوسٹوں سے طالبان کو3 ارب روپے کی پاکستانی کرنسی ملی ہے۔ یہ رقم پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کی جا رہی تھی۔ بھارت کتے کی دم کی طرح ہے جو کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ وہ لاتوں کا بھوت ہے۔ اس کو مشرقی بارڈر پرحملوں کا منہ توڑجواب دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندربھی اسکے گیدڑ جاسوس اورایجنٹ دھرلیے جاتے ہیں۔

    اسکے باوجود پیسے کے زور پر اسکی بزدلانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ گزشتہ روز داسوڈیم کی بس نالے میں گرنے سے 9 چینی ورکرز سمیت 13 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس حادثے میں دہشتگردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا جس میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسی بھیانک کارروائیاں پاک چین تعلقات کو متاثراورسی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کرچکا ہے اشرف غنی اقتداربچانے کیلئے اِدھرادھرہاتھ پائوں مارنے کے بجائے حقائق کا ادراک کریں۔ رواں ہفتے دوحہ میں طالبان افغان وفد سے ملاقات کیلئے آمادہ ہیں۔ افغان مسئلے کے حل کا یہی ایک پرامن موقع ہے جس کا افغان انتظامیہ فائدہ اٹھا کرافغانستان میں مزید خونریزی کو روک سکتی ہے اوریہ اسکی طرف سے امن معاہدے کی مخالفت کا کفارہ بھی ہوسکتا ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت اوربھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا سب سے بڑا مقصد اورہدف پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا، ہمارے امن کو تباہ کرنا اوردنیا میں پاکستان کے تاثرکوخراب کرنا ہے۔

    بھارت اشرف غنی کی حکومت کے ذریعے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی مدد کر رہا ہے، اشرف غنی سے اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتا، انہیں اقتدارختم ہوتا نظرآ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ افغان صدر نے بے بنیاد اورجھوٹے الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اشرف غنی کی طاقت ہرروزکم ہوتی جا رہی ہے، طالبان نے ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ناصرف اشرف غنی کو اقتدار چھن جانے کا غم کھا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی موجودہ حکومت کے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے اور تعلقات بھی بے نقاب ہو رہے ہیں، دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں کر رہا ہے۔ چند روز قبل ہی این ڈی ایس کے ایک کرنل کے کمپاونڈ سے تین ارب روپے برآمد ہوئے ہیں، بھارتی قونضل خانے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں، افغان سرزمین دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ اشرف غنی اپنے معاملات کو درست کرنے کے بجائے پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ اس طرح نہ تو وہ اپنی ناکامی چھپا سکتے ہیں، نہ ہی ان کا اقتدار بچے گا اور نہ ہی وہ دنیا کو دھوکا دے سکتے ہیں۔

    افغان صدر اشرف غنی نے وسطی و جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ "پاکستان سے دس ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں اگر بات چیت نا ہوئی تو ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے۔ یہ امن کیلئے آخری موقع ہے”۔ اشرف غنی کا یہ بیان ایک شکست خوردہ شخص کی سوچ ہے۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کھربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا ہے، ایک پوری نسل دہشت گردی کی نذر ہوئی ہے، پاکستان کا افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، طالبان مذاکرات کی میز پر آئے ہیں تو اس بات چیت میں پاکستان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ دنیا اس معاملے میں پاکستان کے کرداراور کاوشوں سے ناواقف نہیں ہے۔ اشرف غنی بھارتی شہ پر نریندرا مودی کا بیانیہ پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اشرف غنی میں ہمت ہے یا وہ اتنی اہلیت رکھتے ہیں تو طالبان سے بات چیت کریں اگر بات چیت نہیں کر سکتے تو مقابلہ کریں، دنیا بھرمیں طالبان کو تسلیم کرنے کی سوچ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان میں امن کانفرنس کا انعقاد ہو رہا تھا اشرف غنی کے الزامات کے بعد کانفرنس کا ملتوی ہونا امن کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

    اشرف غنی کے لیے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا یہ بہترین موقع تھا، افغان صدر امن کے دشمن کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ افغان کانفرنس ملتوی ہونے سے صرف پاکستان کا نقصان نہیں ہے بلکہ اس کانفرنس کے ملتوی ہونے سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے گا۔ امریکہ، افغانستان کی موجودہ حکومت اور بھارت مل کر افغانستان میں مقبول عوامی قیادت کا راستہ روک کر دہائیوں سے جنگ لڑنے والے ملک کے عوام کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں وزیراعظم پاکستان افغان صدر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شدید ناانصافی ہے۔

    افغانستان میں امن کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اور قربانیاں پاکستان کی ہیں۔ وہیں بھارتی صحافی نے بھی وزیراعظم عمران خان سے امن اوردہشت گردی کے حوالے سے طنزیہ سوال کیا تو وزیراعظم عمران خان نے اسے بھی ایسا جواب دیا ہے کہ نریندرا مودی برسوں اسے یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت کو کب سے مہذب ہمسائے کی طرح رہنے کا کہہ رہے ہیں لیکن کیا کریں آر ایس ایس کا نظریہ راستے میں رکاوٹ ہے۔ اشرف غنی کا بیان اور بھارتی صحافی کا سوال ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی افغان صدر کی طرف سے پاکستان پرعائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات درست نہیں۔ پاکستان کی طرف سے کوئی دراندازی نہیں ہو رہی درحقیقت افغانستان کی طرف سے دراندازی ہو رہی ہے۔پاکستان افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کر رہا۔ پاکستان امن کا خواشمند ہے۔پرامن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے۔”یہ کھیل اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دنیا میں امن صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو پرامن بنانے کے کام کیا ہے لیکن خطے میں بھارت کے عزائم کو نقصان پہنچتا ہے۔ طالبان کی طاقت بڑھنے سے افغانستان میں ڈمی حکومت ختم ہو جائے گی بھارت کا اثرو رسوخ کم ہو گا، جنگی جنون میں مبتلا بھارت اسلحے اور سازشوں کے زور پر پاکستان کو دیوار سے لگاتے ہوئے بالادستی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، وہاں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت نے نریندرا مودی کا یہ خواب چکنا چور کر دیا ہے۔

    سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے، طالبان قیادت نے پاکستان کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے خطے میں امن عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان حالات میں اشرف غنی کے پاس الزام تراشیوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ بھارت پہلے سے موجود بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کے ثبوت دنیا کے سامنے ہیں ایک طرف امن پسند پاکستان ہے تو دوسری طرف توسیع پسندانہ عزائم کا حامل اور دہشتگردوں کا سرپرست بھارت ہے دنیا خود فیصلہ کرے کہ اس نے امن دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا پھر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔ اشرف غنی بھارتی اشارے پر طالبان کی امن پسند کوششوں کو متنازع بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ان شااللہ پاکستان کے دشمن ناکام ہوں گے۔ افغان امن کانفرنس کی مخالف قوتیں وقتی طور پر تو کامیاب ہوئی ہیں۔ تمام ممالک کو اپنے اردگرد نظر رکھنے اور پہلے سے زیادہ
    متحرک رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔

    @Zaman_740

  • صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت اوربلیک میلنگ . تحریر : جام محمد ماجد

    صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کا مقصد معاشرے کی برائیوں کو روکنے اورمظلوموں کو انصاف دلانے میں ہرممکن حد تک مدد کرنا اورلاقانونیت اورعلاقای مسائل پرآوازاٹھانا ترجیح ہونی چاہیے تاکہ عام عوام کے مسائل حل ہونے اورمظلوم عوام کوانصاف ملنے کی راہ ہموارکی جاسکے بلا شبہ ہمارے ملک کی صحافی برادری میں جو جینوین صحافی ہیں انھیں اس مقصد میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے حتی کے بعض اوقات جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملتی ہیں لیکن جو حق سچ کے متلاشی نڈرصحافی ہیں وہ اپنے مقصد پرڈٹے رهتے ہیں ان کے لئے ہی غالبا شاعرنے کہا ہے جوڈٹے ہوے ہیں محاذ پرمجھے ان صفوں میں تلاش کر.

    جیسا کے میرے کالم کا عنوان ہے میں بات کر رہا ہوں صحافت کا لبادہ اوڑھے ان صحافیوں کا جونام کے صحافی ہیں جنہوں نے اس مقدس پیشے کی تذلیل کر کے رکھ دی ہے جن کا مقصد بلیک میل کر کے اپنے کام نکلوانا ہے اوربدقسمتی سے پاکستان میں ایسے قلم فروش نام نہاد صحافیوں کی تعداد میں دن با دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کی وجہ سے لوگوں کا اس مقدس پیشے سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے
    میری تمام صحافتی تنظیموں اورحکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس سے امان دارپڑھے لکھے اچھی شہرت کے حامل صحافیوں کی حوصلہ افزائی ہو اورقلم فروش بلیک میلرصحافیوں کی حوصلہ شکنی ہو.

    @Majidjampti

  • لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    لاقانونیت…تحریر: عثمان غنی

    پاکستان میں جرم کی شرح دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔دن دیہاڑے اغواہ،راستے میں گاڑی یا موبائل فون جیسے قیمتی سازو سامان چھین لینا،بھتہ خوری،راتوں کو گھروں یا دوکانوں میں نقب لگانا،ءیہ سب عام ہے۔ان وارداتوں کے ڈر سے اکثر لوگ مغرب ہوتے ہی گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔عوام خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔اور ان میں ایک خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔جس وہ کھل کر سانس نہیں لے پاتے۔۔۔
    ہم اکثر بات کرتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کے امن کی۔اور پھر اس کے بعد ہم ان کے امن کی وجہ ڈھونڈھتے ہیں۔اور سب سے آخر میں ہم ان سب ممالک کا اپنےملک کےموازنہ کرتے ہین۔موازنہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں اور ہمارے ہاں ادارے کس طرح کام کرتے ہیں۔
    اس صورت حال میں پولیس کا کردار سب سے زیادہ ہے۔اور اسی لحاظ سے سب سے زیادہ تنقید بھی اسی ادارے پر کی جاتی ہے۔اب اگر اس ادارے کا موازنہ ہم ترقی یافتہ ممالک کی پولیس سے کریں تو سب سے بڑا فرق ہمیں عددی لحاظ سے نظر آتا ہےنظر آتا ہے ۔ ہماری پولیس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں جہاں ہر دو منٹ بعد آپ کو پولیس موبائل دیکھائِ دے گی وہیں پاکستان میں دو گھنٹے بعد بھی نہیں دیکھائی دے گی۔دور دراز کے علاقوں میں پولیس اپنی چوکیاں بناتی ہے مگر نفری کی کمی کی وجہ سے انہیں آباد نہیں کر سکتی۔تنخواہوں اور مرعات کی کمی وغیرہ ۔۔ثانوی مسائل ہیں جو تقریبا تمام سرکاری اداروں کو در پیش ہیں۔
    لیکن اگر ہم اپنی تاریخ میں دیکھیں تو عددی کمی کبھی بھی مسلمانو کے آڑھے نہیں آسکی۔زیادہ دور نہیں جاتے سن 1972سے پہلے کے سعودی عرب کو ہی دیکھ لیں۔ایک انگریز رائٹر جان پرکائنز اپنی کتاب "دا اکنامک ہٹ مین ” میں لکھتے ہین کہ اس زمانے میں سعودی میں حالات ایسے تھے کے اگر آپ ایک دن اپنا کوئی سامان کہیں چھوڑ جاتے ہیں تو دوسرے دن وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا۔
    اور آج کل سعودی بھی انگریزوں کے نقش قدم پر چلتا ہوا عددی قوت سے قابو پانے میں کوشاں نظر آتا ہے ۔مگر یہ بہر حال ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔
    ایک لحاظ سے پولیس کی تعداد بڑھانا بھی ٹھیک ہے مگر ۔۔۔جو چیز ہمیں اند سے کھائےجا رہی ہے وہ اس سے زرا مختلف ہے۔
    مثال کے طور پر کہیں پولیس کا ناکا لگا ہے اور کسی پولیس والے کا استاد وہاں سے گزرتا ہے تو اس کو بنا چیکنگ کے جانے دیا جاتا ہے ۔ وجہ ۔۔۔۔ استاد کی عزت ہے۔ خاندان کو تو خیر رہنے ہی دیں۔۔۔اگر کوئی ہمسایا بھی گزرتا ہے تو اس کو بھی دوسروں پر فوقیت دی جاتی ہے وجہ۔۔۔ہمسائے کے حقوق۔۔

    اور اگر کوئی بیچارہ پولیس والہ ایسا نہ کریں تو ہم "امن پسند”عوام گلہ کرنے ان بیچاروں کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔۔گھر نا بھی جاسکیں تو کہیں بھی ملے ہمارہ شکوہ تیار ہوتا ہے۔۔۔اور وہ اگلی بر لازما ہم سے رعایت برتتا ہے۔اس سب سے عوام میں اختلافات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔اور پولیس جیسے حساس ادارے کے بارے میں منفی خالات پروان چڑھتے ہیں۔
    پولیس کی ناکامی کی جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ ہے پولیس پر سیاست دانوں کا کنٹرول ۔۔۔۔اگر کسی چوکی میں کوئی نیا اے ایس آئی آتا ہے تو اس علاقے کے کونسلر کے پاس اس کے آنے سےبھی پہلے اس کی ساری معلومات پہنچ چکی ہوتی ہے ۔اور اس کے پہلے آرڈر سے بھی پہلے اس کو "آج رات کھانا ہمارے ساتھ کھانے "کا آرڈر مل چکا ہوتا ہے۔اس کھانے میں اس کو نمک حلالی کے سارے گر سیکھاے جاتے ہیں۔اور اس کے بعد پولیس کوئی بھی ایکشن لے "چھوڑ دو پاجی ساڈا بندا ے”کہہ کر سب رفہ دفعہ کرا دیا جاتا ہے۔اور وہ بیچارہ نمک حلالی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    اور دیکھا جائے تو ہماری آدھی پولیس عدالتوں کے باہر اور آدھی سیاستدانوں کے گھرں کے باہر ملتی ہے۔اور اگر کوئی پولیس والا کہیں کچھ غلط کرتا نظر آحائے تو پوری علم فاضل قوم اپنے نادر و نایاب خیالات کا اضہار کرنے اور ان کو گالیاں دینے مین پیش ہوتی ہے۔اصل میں ہم شہدا کی لاشوں پر روتے ہیں غازیوں کو جوتوں کے ہار پہناتے ہیں۔ایک نوجوان جب پولیس مین جاتا پے تو وہ یہ یرارادہ لے کر نہین جاتا کے رشوت لون گا مگر ہم اس کو عادی کرتے ہین اپنے چھوٹے غیر قانانی کام نکلوانے کے لیَے کچھ کام جلدی کروانے کے لیئے۔۔۔۔
    اس تمام صورت حال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پولیس اپنا کام صیح نہیں کر سکتی۔اور ملک میں جرم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں پولیس پر تنقید سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ہم اپنے پیاروں کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں جب ہم ان سے تھوڑی سی "غیر اخلاقی”فیور لیتے ہیں۔ہم خود اپنے فرض پر جلدی پہنچنےکے لئے ان کے فرض کو سائد پر رکھ دیتے ہیں۔ہمیں باہر سے امن ادھار نہیں ملے گا ۔کوئی ہمیں امن گفٹ نہیں کرے گا ۔
    ہمیں اپنے ملک کے امن کے لئے خود کوششیں کرنی ہوں گی ۔اور سب سے بڑی کوشش ہم اپنے پیاروں کے لئے امتحان نا بن کر کر سکتے ہیں۔۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کیا واقعی ہم کر سکتے ہیں؟؟؟؟؟؟

  • یہ بھی تو ہمارے ہی بیٹے ہیں . تحریر: بلال لطیف

    یہ بھی تو ہمارے ہی بیٹے ہیں . تحریر: بلال لطیف

    کیا ان کا لہوں اتنا سستا ہے؟
    پاکستان کا دشمن ہماری صفوں میں گھس کرہمارے لخت جگر ہم سے چھین رہا ہے اورپھرانہی کومجرم بھی ٹھہرایا جاتا ہے دشمن کے سہولت کارہمارے اپنوں میں سے ہی ہیں اورہروقت ہمیں نقصان پہچانے کے لیے تیاربیٹھے ہیں پاکستان کا استحکام دشمن کوکسی صورت گوارہ نہیں۔ دشمن اپنے سہولت کاروں کے ذریعے دہشت گردی، فرقہ واریت، سیاسی حل چل مچانے کے لیے ہروقت تیار رہتا ہے۔

    ان بیٹوں کا قصور یہ ہے۔ انہوں ہمارے بچوں کے لیے اپنے بچے یتیم کر دیے۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے کل کہ لیے اپنا آج قربان کر دیا۔ کتنے خوبصورت جوان اپنی سرزمین کے لیے ہمارے بچوں کے لیے ہمارے لیے جام شہادت نوش کرگئے۔ کتنے جوان ایسے ہیں جو اپنے شیرخواربچے چھوڑکرہمارے لیے شہید ہوگئے۔ کتنے جوان ایسے ہیں جو بڑھاپے میں اپنے والدین کا سہارا بننے کی بجائے ان کے بڑھے کندھوں پراپنی شہادت کا بوجھ بھی لاد کرچلے گئے۔

    کبھی سوچنا جن لڑکھڑاتی ٹانگوں کوجوان بیٹے کے سہارے کی ضرورت تھی جب وہ بوڑھے کندھوں پراپنے جوان بیٹے کی لاش اٹھاتا ہوگا تو اس کے دل پرکیا گزرتی ہوگی؟
    کبھی سوچنا اس ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جس نے بیٹے کا سہرا سجا کررکھا تھا؟
    کبھی اس بہن کا سوچنا اپنے بھائی کے انتظارمیں تھی۔

    فوج کو گالی دینے والو شام، لیبیا،عراق اورافغانستان کا حال دیکھ لو۔
    فوج کودشمن سمجھنےوالوکبھی ایک دن باڈرپریا کسی مشن میں فوج کی زندگی جی کردیکھو تمہارے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔

    اللہ سے دعا ہے ہماری فوج اورھمارا ملک ہمیشہ سلامت رہے.

    پاک فوج زندہ آباد
    پاکستان پائندہ باد

    @Bilal_Latif1

  • امریکہ: ڈینٹل کلینک میں بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت چُرانے والی خاتون گرفتار

    امریکہ: ڈینٹل کلینک میں بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت چُرانے والی خاتون گرفتار

    امریکا میں ایک ڈینٹل کلینک سے ہزاروں ڈالر چرانے کے جرم میں گرفتار ہونے والی خاتون نے بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت بھی چوری کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق، لاریل ایچ نامی 42 سالہ خاتون امریکی ریاست نیواڈا کی واشو کاؤنٹی کے علاقے سن ویلی میں دانتوں کے ایک کلینک میں ملازمت کرتی تھیں 3 مئی کے روز چوری کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس مذکورہ ڈینٹل کلینک پہنچی جہاں کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا جبکہ وہاں سے ڈاکٹر کی چیک بُک کے علاوہ تقریباً 23 ہزار ڈالر کی نقد رقم بھی غائب تھی۔

    چوری کا شبہ ڈینٹل کلینک کی ملازمہ لاریل ایچ پر گیا کیونکہ واردات کے بعد سے وہ بھی مسلسل غائب تھیں ڈھائی ماہ تلاش کے بعد، لاریل کو آخرکار بدھ کے روز گرفتار کرلیا گیا جنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا۔

    تفتیش کے دوران لاریل نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ واردات سے چند روز پہلے انہوں نے ایک بے ہوش مریض کے منہ سے 13 دانت بھی نکالے تھے جنہیں وہ اپنے پرس میں چھپا کر لے گئی تھیں۔

    اس انکشاف کے بعد واشو کاؤنٹی پولیس بھی چکرا کر رہ گئی ہے کیونکہ نقد رقم چرانے کا جواز پھر بھی بنتا ہے لیکن مریض کے منہ سے پورے 13 دانت چوری کرنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آرہی فی الحال پولیس کی تفتیش جاری ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد ہی اس راز سے پردہ اٹھ سکے گا۔

  • اگست کی تاریخ کے انوکھے ریکارڈ نے پاکستانی کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا

    اگست کی تاریخ کے انوکھے ریکارڈ نے پاکستانی کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا

    اگست کے مہینے نے پاکستانی شخص کا نام گنیز بک میں درج کروا دیا-

    باغی ٹی وی : امیر آزاد منگی نامی پاکستانی شخص کی تاریخِ پیدائش یکم اگست، اس کی شادی بھی یکم اگست کو ہوئی، بیوی کی اور7 عدد بچوں کی تاریخِ پیدائش بھی یکم اگست ہی ہے اس انوکھے ریکارڈ پر لاڑکانہ کے امیر آزاد منگی کے گھرانے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر لیا۔

    امیر آزاد منگی کے مطابق ان کی تاریخِ پیدائش یکم اگست ہے جبکہ ان کی بیوی اور 7 عدد بچوں کی تاریخِ پیدائش بھی یکم اگست ہی ہے ان بچوں میں دو بار پیدا ہونے والے 4 جڑواں بچے بھی شامل ہیں جو یکم اگست کو ہی پیدا ہوئے۔

    دنیا بھر میں یہ واحد گھرانہ ہے جو ایک ہی تاریخ پر پیدا ہوا جبکہ دوسرے نمبر پر بھارت کا ایک ہی تاریخ پر پیدا ہونے والا گھرانہ ہے جن کی تعداد 5 ہے۔