Baaghi TV

Category: متفرق

  • زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    سردی کا موسم تھا اور ایک بوڑھا آدمی گھر پر اکیلا تھا اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی اس کی بیوی اور بیٹا دونوں مارکیٹ گئے تھے اس نے سوچا ان کے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے کیوں نہ اٹھ کر خود ہی چائے بنا لی جائے ابھی اس نے چائے بنانا شروع ہی کی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی اس کے بیٹے کا فون تھا وہ اسے بتا رہا تھا کہ بیس منٹ میں وہ لوگ گھر پہنچ جائیں گے اور یہ کہ کیا آپ کے لیے کچھ لے کر آئیں باتوں کے دوران اس آدمی کو خیال ہی نہ رہا اور اس نے بے دھیانی میں چینی کے چار چمچ چائے میں ڈال دیئے جب اس نے چائے کا سیپ لیا تو میٹھا بہت ہی زیادہ تھا اتنی میٹھی چائے پینا بہت ہی مشکل تھا بوڑھا آدمی سوچ میں پڑگیا کہ اب وہ کیا کرے چائے میں ڈالی ہوئی ہے ایکسٹرا چینی کو باہر واپس کیسے نکالے کیا وہ ایسا طریقہ ہو جس کی مدد سے تین چمچ چینی چائے سے باہر نکال پائے اور چائے کا ذائقہ ایک دم فرسٹ کلاس ہو جائے لیکن دوستوں یہ ناممکن تھا

    زندگی میں کچھ چیزوں کی واپسی نہیں ہوتی ان کو ہم undo نہیں کر سکتے جیسے جو پانی ایک بار بہ جائے وہ واپس نہیں آتا جو تیر کمان سے نکل جو بات منہ سے نکل جائے جو وقت ایک بار گزر جائے وہ کبھی دوبارہ نہیں آتا ایسے ہی کچھ چیزیں جو زندگی میں ایک بار ہو جائیں وہ بس ہوجاتی ہیں ان کو واپس نہیں کیا جاسکتا زندگی میں کوئی undo button نہیں ہوتا چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا لیکن پھر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ تھا چائے میں چینی کم کرنے کا اس کو پینے کے قابل بنانے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ اس چائے میں دو کپ اور دودھ ڈال دیا جائے اور اس بوڑھے آدمی نے ایسا ہی کیا اور اب اس کے پاس چائے کے ایک کپ کی بجائے تین کپ تھے جو اپنی بیوی اور بیٹے کو دے سکتا تھا دوستو زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے زندگی میں بعض دفعہ کچھ ایسی غلطیاں کچھ ایسی غلط چیزیں کچھ ایسی واقعات کو ہی جاتے ہیں انجانے میں ہو جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں جن کا ہمیں افسوس رہتا ہے 😊 جن کو ہم بدلنا چاہتے ہیں ہماری کچھ غلط چوائسز کچھ غلط فیصلے غلط انویسٹمنٹ کچھ ایسے غلط الفاظ جو ہم بول جاتے ہیں جو ہمارے منہ سے نکل جاتے ہیں اور ہم انہیں واپس نہیں لے سکتے undo نہیں کر سکتے ایسا نہیں کہ ہم کوشش نہیں کرتے ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں چیزوں کو بہتر کرنے پر کام کرتے ہیں لیکن جن چیزوں کو ہم بدل نہیں سکتے انہیں ریورس نہیں کر سکتے undo نہیں کر سکتے تو انہیں بدلنے کی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے رہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا جو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے

    غلط چیزوں کو ٹھیک کرنے یا ریورس کرنے پر ٹائم ضائع کرنے کی بجائے ان پر ہی فوکس کرنے کی بجائے زندگی میں کچھ نئی کچھ اچھی چیزیں ایڈ کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں غموں کو مٹانے یا دکھوں کو ختم کرنے پر پر فوکس کرنے کی بجاۓ زندگی میں خوشیاں ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ وہ خوشیاں آٹومیٹکلی غم کو ختم کردینگی غم ان کے سامنے چھوٹا بھی پڑ جائے گا جب کچھ مسائل کچھ پرابلم ہماری زندگی میں ایسی ہو جو ان کو کنٹرول نہیں کر پاتے جن کو حل نہیں کر پاتے انہیں حل کرنے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے اور زندگی میں کچھ ویلیو ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مثبت ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چائے میں سے اگر چینی نکالنی ہے تو اس میں تھوڑا
    سا دودھ ملانا چاہیے اگر آپ کے بچے کا کھلونا کسی نے توڑ دیا ہے اور کوشش کرنے پر بھی آپ اس کا جوڑ نہیں پا رہے اور بہت اداس ہے دکھی ہے تو کھلونا جوڑنے کی کوشش کرتے رہنے کی بجائے اسے کہیں گھمانے لے جائیں اس کو خوشیاں وہ خود ہی کھلونا بھول جائے گا

    @Kashii_Back

  • کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت  تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت تحریر: ایمان ملک

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں وہیں اس جنگ کے نتیجے میں متعدد سیاہ ترین واقعات بھی ہماری یاداشتوں کا حصہ بنے جو ہرگز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ مگران سب سیاہ ترین واقعات میں جو امتیازی مقام جولائی سنہ2007ء کے سانحے کو حاصل ہے اس کی نظیر دیگر اقوام کی تاریخ میں شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ جب سنہ 2007ء میں پاکستان کے دارلحکومت، اسلام آباد کے وسط میں واقع ایک مسجد(لال مسجد) دہشت اور خوف کی علامت بن کر سامنے آئی۔ وہ مسجد جسے امن کا گہوارہ اور خیر کا وسیلہ ہونا چاہیئے تھا اُس نے ریاستی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ذاتی شرعی عدالت قائم کرنے کا اعلان کردیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی صورت میں خود کُش حملوں کی دھمکی بھی دی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تین چینی خواتین اور دیگر افراد کو قابلِ اعتراض بیوٹی پالر چلانے کے الزام میں لال مسجد اور جامعہ حفضہ کے طلبہ و طالبات نے گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتون پر فحاشی کا اڈا چلانے کا بہتان لگا کر اسے نہ صرف اغواء کیا گیا بلکہ اس پر ڈنڈوں سے تشدد بھی کیا گیا۔ اسی اثناء میں 4 پولیس کے اہلکاروں کا اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بھی بنایا گیا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ مولونا غازی عبدالرشید(مولانا عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی) کی جانب سے قائد اعظم یونیورسٹی کی طالبات کے چہروں پر تیزاب پھینکنے اورمولانا عبدالعزیزکی جانب سے ایک فیشن میگزین کے منتظمین کو سزائے موت کا حکم سنانے جیسے گھناؤنے اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کیا۔ حتٰکہ ان کے قہر سے معصوم بچوں کی لائبریری اور دیگر سرکاری املاک بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔

    ایسی گھمبیر صورتحال کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لئے ہرگز کسی کڑی آزمائیش سے کم نہ تھا۔ ایک طرف ریاست کی عمل داری کی بحالی کا سوال تھا تو دوسری طرف معاشرے کے ان غریب اور مسکین بچوں کی جانوں کی فکر جو اس مسجد کے انتہا پسند نظریات اور ذاتی ایجنڈے کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس ان ہزاروں ناداراورمفلس بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں جن کی ضروریات ان کے غریب والدین پورے نہیں کر سکتے اور یہی وجہ تھی کہ لال مسجد اور جامعہ حفضہ و جامعہ فریدیہ کے طلبہ و طالبات نے اپنے مدرسے کے منتظمین کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے بندوقیں اٹھا لیں۔
    لال مسجد کی میڈیا کوریج کے دوران ایسے مناظر بھی عکس بند ہوئے جب یہ نوجوان اپنے منہ ڈھانپے اور گیس ماسک پہنے ہوئے دکھائی دیئے۔ جو کہ حیرت انگیز بات تھی کیونکہ اس قسم کے ماسکزسے ایک آدھ گھنٹے میں عادی ہونا کسی بھی انسان کے لئے ہرگز ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے مہینوں پر محیط ایک مکمل تربیت درکار ہوتی ہے ورنہ انسان کو قے ہونے لگتی ہے۔ ان نوجوانوں کی ماہرانہ جنگی صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ اُن میں سے ایک نے تواچھے خاصے فاصلے سے ایک رینجر کے اہلکار کے سر پر نشانہ لے کر اُسے شہید کر دیا۔
    بہرحال پاکستان نے پُرامن طریقے سے ان معاملات سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کی اوراس ضمن میں سیاستدانوں، سماجی کارکنوں حتٰکہ اس وقت کے امامِ کعبہ کی بھی خدمات حاصل کیں۔تاکہ کسی طرح یہ نوجوان طلبہ اور طالبات ہتھیار ڈال دیں اور پُر امن طریقے سے یہ معاملہ اختتام پزیرہوجائے۔ بہت سی طالبات نے تشدد کا راستہ ترک بھی کیا اوران کے ہی بھیس میں لال مسجد اور مدرسے کے منتظمین مولانا عبدالعزیز اور اُمِ حسان نے بھی مسجد میں اپنے دیگر طلبہ کوتنہا چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنا چاہی مگر وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آگئے۔ پاکستان نے مولانا عبدالرشید کو بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے اور انہیں ان کے آبائی علاقے میں محفوظ ٹھکانہ دینے کی شرط پر ہر ممکن آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور انہوں نے مزاحمت کے راستے کو ترجیح دی۔
    بالاآخر 10 جولائی سنہ 2007ء کو علی الصبح پاک فوج کے اسپیشل سروس گروپ(ایس ایس جی) کےاعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز پر مشتمل دستہ تشکیل دیا گیا تا کہ آپریشن کیا جا سکے۔ مگر اس دوران بھی حکومتِ پاکستان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ کسی طرح بنا آپریشن کے معاملات طے پا جائیں۔ عموماً اس طرز کے آپریشنز کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب عسکری اعتبار سے آپریشنز کی کامیابی کے لئے نہایت سودمند سمجھا جاتا ہے۔ مگر حکومتِ پاکستان نے اس وقت کوبھی صرف اس لئے ضائع کیا کیونکہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر بد قسمتی سے اس سب کے باوجود حکومتِ پاکستان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔ اور بالاآخر ریاست کے پاس بذریعہ ملٹری آپریشن(آپریشن سائیلینس) ملک کی تاریخ کے اس سیاہ ترین باب کوبند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
    اس ملڑی آپریشن میں حصہ لینے والے پاکستان کے بیٹوں میں سے ایک نام کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت، ستارہ بسالت کا بھی ہے جو آج بھی ایس ایس جی کے چند بہترین کمانڈوز میں شمار ہوتے ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان آفیسر کی پاکستان کے لئے دی جانی والی خدمات کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ یہاں اس کا صرف مختصراً ذکر کرنا ہی ممکن ہوگا۔

    کیپٹن سلمان نوعمری ہی سے پاک فوج کے دلدادہ تھے اسی لئے وہ بحیثیت کمیشنڈ آفیسر پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے مگر ان کے والدین انہیں ڈاکٹر بنانے پر مصر تھے۔ کیپٹن سلمان نے اپنی ہمشیرہ کی معاونت سے بڑی مشکلوں سے اپنے والدین کی منت سماجت کر کے انہیں منایا۔ اور اس طرح انہیں103پی ایم اے لانگ کورس کے ہمراہ پاک فوج میں شمولیت اختیارکرنے کاموقع ملا۔
    کیپٹن سلمان نے پاک فوج میں اپنی افتادِ طبع کے مطابق ایس ایس جی گروپ کا انتخاب کیا اور بعد ازاں وہ اس کی ایک اینٹی ٹیررسٹ کمپنی’ قرار کمپنی’ سے منسلک ہو گئے۔ پاکستان کے اس جری سپوت نے سنہ 2004ء کے دوران جنوبی وزیرستان میں بھی انسدادِ دہشت گردی کے ضمن میں ‘آپریشن المیزان’ کے دوران اپنی خدمات سرانجام دیں، جب ہمارے قبائلی علاقہ جات دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ کیپٹن سلمان کو قبائلی علاقہ جات میں ان کی گراں قدر خدمات سرانجام دینے کے عوض صدر جنرل مشرف کی جانب سے تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بھی انہیں مزید ایک بار تمغہ بسالت کے لئے نامزد کیا گیا مگر انہوں نے یہ کہ کر اُسے لینے سے انکار کر دیا کے باقی سپاہیوں کا بھی حق ہے لہٰذا یہ اعزازدیگر افسران میں سے کسی کودے دیا جائے۔

    اپنے مزاج سے اپنے افسران اور دیگر ساتھیوں کے دلوں کو گھر کرنے والے کیپٹن سلمان شہید کے جونیئر آفیسر کیپٹن بلال ظفر شہید اس قدر ان کے مداح تھے کہ وہ ہمیشہ اپنی جیب میں کیپٹن سلمان کی تصویر رکھتے تھے کیونکہ وہ ان کے لئے ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے۔
    کیپٹن سلمان کی شادی کے موقع پر(لال مسجد آپریشن سے 8 ماہ قبل) ان کی ہمشیرہ نے ان کی شہادت سے متعلق خواب دیکھا جس سے وہ قلبی اضطراب میں مبتلا ہو گئیں۔ ایسے ہی متعدد خواب کیپٹن سلمان کی شہادت سے قبل کیپٹن سلمان نے خود اور خاندان کے دیگر افراد نے بھی دیکھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خوابوں کو اس وقت مقبولیت بخشی جب وہ آپریشن سائیلینس کے لئے لال مسجد میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت داخل ہوئے۔ کسی نے بھی یہ گمان نہیں کیا تھا کہ محض عام سے مدرسے کے طلبہ سے انہیں اس قدد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مدرسے کے نام نہاد طلبہ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف راکٹ لانچرز،ہینڈ گرینیڈز اورمشین گنز کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ غرض یہ کہ پوری لال مسجد اور جامعہ حفظہ(خواتین کے مدرسے) کا احاطہ بوبی ٹرایپ تھا اور بیشتر جگہوں پر بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ اس طرح حربی حکمت عملی کے اعتبار سے پورے علاقے کو تیار کرنا محض مدرسے کے عام سے طلبہ کی بس کی بات نہیں لگتی۔ وہاں یقیناً تربیت یافتہ دہشت گرد موجود تھے اسی لئے جامعہ حفضہ کی صرف سیڑھیوں پرہی ایس ایس جی کے چار جوانوں کا شہید ہو جانا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔
    کیپٹن سلمان کے ساتھ اس وقت آپریشن میں موجود ایک لانس نائیک کے مطابق کیپٹن سلمان نے ہی انہیں پیچھے دھکیل کر ان کی جان بچائی جب ایک گرینیڈ ان کے پاؤں کے قریب آکر گرا۔ کیپٹن سلمان کے دیگر ساتھیوں اوراس آپریشن میں شریک ان کے دوستوں کے مطابق کیپٹن سلمان بہت محتاط تھےاورانہوں نے ہرممکن کوشش کی شرپسند خود ہتھیار ڈال دیں مگر ان کی کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔

    اِدھر کیپٹن سلمان کے چھوٹے بھائی نے خواب دیکھا کہ کیپٹن سلمان انہیں خدا حافظ بول رہے ہیں۔ اور کیپٹن سلمان کی ہمشیرہ نے شہادت کے کلمات، اور اپنے بھائی کی شہادت کے اعلانات ہوتے ہوئے دیکھے۔ اُدھر کیپٹن سلمان اپنے وطن کی حفاظت کے عہد کو نبھاتے ہوئے اپنی آخری سانسیں بھی اس وطن پر نچھاور کر گئے۔ ایس ایس جی کے اس بہادر بیٹے کو آٹھ گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کےسر سے گزرتی ہوئی ان کی گردن میں لگی اور کیپٹن سلمان کو شہادت کے اعلیٰ ترین رتبے پر فائز کر گئی۔ اور یوں عظمت و ہمت کی یہ داستان سنہری حروف کے ساتھ عسکری تاریخ میں محفوظ ہو گئی۔ کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید کو بعد از شہادت ان کی ملکی دفاع سے متعلق لازوال خدمات کے اعتراف میں ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس طرح ابھی تک وہ واحد شہید آفیسر ہیں جو تمغہ بسالت اور ستارہ بسالت دونوں اعزاز پانے کا شرف رکھتے ہیں۔
    لہٰذامذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر اس امر کا ادراک کرنا ہرگز دشوار نہیں کہ ریاستِ پاکستان نے بذریعہ مزاکرات ان معاملات کو طے کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے نہیں۔ آج اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ لال مسجد آپریشن میں ناحق لوگوں کو مارا گیا کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پاک فوج کے 10 تربیت یافتہ کمانڈوز کو کس نے شہید کیا؟ درجنوں کمانڈوز زخمی ہوئےاورمتعدد کی ٹانگیں لال مسجد اور جامعہ حفضہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نزر ہو گئیں۔ کیا یہ سب پاکستان کے بیٹے نہیں ہیں؟ جو اپنے لواحقین کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑکرملکی دفاع کے لئے ہمہ وقت قربان ہونے کو تیار کھڑے رہتے ہیں۔ اوراس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ آج بھی پاکستان کے ان قومی ہیروز کے اہلِ خانہ خوف کے سائے میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے مجرم پاکستان کے دارلحکومت میں آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔
    ایمان ملک

  • بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    جنوبی کوریا میں بجلی بنانے والا ایسا بیت الخلا تیار کیا گیا ہے جسے استعمال کرنے پر کرپٹو کرنسی بھی ملے گی۔

    باغی ٹی وی:"رائٹرز” کے مطابق جنوبی کوریا میں السان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (یو این آئی ایس ٹی) کے شہری اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر چو جا وون نےچو جائی ویون نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ماحول دوست ٹوائلٹ ڈیزائن کیا ہے بائیوگاس اور کھاد تیار کرنے کے لئے اخراج کو استعمال کرتا ہے۔

    تیار کردہ بیت الخلا کو “بی وی” کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک خاص طرح کے ٹینک کے ساتھ منسلک ہے جس میں انسانی فضلے سے میتھین گیس اور کھاد بنانے والے جراثیم بھی بند کیے گئے ہیں۔

    انسانی فضلہ ایک ویکیوم پمپ کے ذریعے فلش کیا جاتا ہے جس کے لیے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ فضلہ ٹوائلٹ سے ٹینک میں پہنچتا ہے اور جرثومے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

    پروفیسر چو جائی ویون کہتے ہیں کہ ایک انسان یومیہ اوسطاً 500 گرام فضلہ خارج کرتا ہے جس سے 50 لیٹر میتھین گیس بنائی جاسکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کی یہ مقدار اتنی ہے کہ اس سے لگ بھگ 0.5 کلوواٹ گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ایک برقی کار کو 1.2 کلومیٹر تک لے جانے کےلیے کافی ہے۔

    پروفیسر چو جائی ویون نے ’’جی گول‘‘ کے نام سے ایک کرپٹو کرنسی بھی متعارف کروائی ہےجو ٹوائلٹ استعمال کرنے والے کو معاوضے کے طور پر دی جائے گی۔

    چو کےمطابق ماحول دوست دوستانہ ٹوائلٹ استعمال کرنے والا ہر فرد ایک دن میں 10 جی گول حاصل کرسکتا ہے طلباء اس کرنسی کا استعمال کیمپس میں سامان خریدنے کے لئے کر سکتے ہیں ، تازہ بریڈ کافی سے لے کر انسٹنٹ کپ نوڈلز ، پھلوں اور کتابیب تک خرید سکتے ہیں۔طلباء اپنی مصنوعات کو اپنی دکان پر اٹھا سکتے ہیں اور جی کول کے ساتھ ادائیگی کے لئے کیو آر کوڈ اسکین کرسکتے ہیں۔

    جی گول مارکیٹ میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم ہی ھوئی جن نے کہا ، "میں نے کبھی سوچا تھا کہ یہ گندا ہے ، لیکن اب یہ میرے لئے بہت اہمیت کا خزانہ ہے۔”

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

  • ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    علامہ احسان الٰہی ظہیر اس صدی کے عظیم مبلغ گزرے ہیں, اللہ نے آپ کو بیش بہا صلاحیتوں سے نوازا تھا. مسلک اہلحدیث کی وہ جان تھے. لیکن 1986 ء میں قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں دوران جلسہ آپ کو بم دھماکے میں شہید کردیا گیا. آپ کی شہادت کے بعد اہلحدیث ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام دینی جماعتیں ایک ہیرے سے محروم ہوگئیں. وہ ہیرا جب گرجتا تھا تو پنڈال میں خاموشی چھا جاتی تھی. آج اللہ نے علامہ احسان الٰہی ظہیر کے صاحبزادوں کو بھی بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے. علامہ صاحب کے بڑے صاحبزادے ابتسام الٰہی ظہیر صاحب روزنامہ دنیا سے بطور کالم نگار منسلک ہیں, عالم ہیں اور مجھے حیرانگی اس وقت ہوئی جب مجھے معلوم ہوا ابتسام الٰہی ظہیر نے 1997ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ صحافت کے لیکچرر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پوسٹ گریجویٹ سطح پر شعبہ صحافت میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں لیکچر دیے۔ سیاست میں بھی بھی حصہ لیتے ہیں گذشتہ انتخابات میں ایم ایم اے کے امیدوار کی حیثیت سے قصور سے حصہ بھی لیا اور کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کئے. لاہور کی جامع مسجد لارنس روڈ جو ان کے والد صاحب نے تعمیر کروائی اس کے خطیب بھی ہیں. ابتسام الٰہی ظہیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی دنوں سے غیر اخلاقی تعصب پر مبنی مواد شئیر کیا جارہا ہے.

    واقعہ کچھ یوں ہے سوشل میڈیا پر اذان الہی نامی شخص نے اہل بیت کی شان میں گستاخی کی, کچھ شرپسند عناصر نے اذان الہی کو ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کا بھتیجا قرار دے کر توپوں کا رخ ان کی طرف موڑ دیا. ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کے خلاف ہر طرف طوفان بدتمیزی بپا کیا گیا. انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں. ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور کمپین چلائی گئی. انہوں نے واضح طور پر تردید کی کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور میں خود اس کی سزا کا مطالبہ کرتا ہوں. میرے خیال کے مطابق ابتسام الٰہی ظہیر صاحب چند دنوں سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھے اور دین دشمن لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی انہوں نے یہ حربہ آزمایا. دوسری طرف آپ کو بھارت کے اس یوٹیوبر میجر کی ویڈیو یاد ہوگی جس میں وہ کہہ رہا تھا ہم پیسے دے کر پاکستان میں مسالک کو آپس میں لڑاتے ہیں اس واقعے کے پیچھے بھی مجھے اسی طرح کی کوئی کہانی لگ رہی ہے .پہلے شیعہ و سنی اور دیوبندیوں کو آپس میں لڑایا گیا اب انہوں نے اس کام کے لیے اہلحدیث عالم کا انتخاب کیا. حرمت رسول ﷺ کا مسئلہ ہو,صحابہ و اہلیت کا مسئلہ ہو, یہاں تک کے پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہو میں نے انہیں صف اول میں پایا. ایسا شخص کیسے اہل بیت کی گستاخی کا سوچ سکتا ہے جس کے خود شب روز منبر رسول ﷺ پر گذرتے ہوں..

    میں ایک نشست میں تھا وہاں سب ابتسام الٰہی ظہیر صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع تھے سب کی آنکھوں میں میں ایک تڑپ دیکھ رہا تھا. سب اپنے اس رہنماء کو کھونا نہیں چاہتے ,ان کی حفاظت کے لئے پرعزم تھے.راولپنڈی ,لاہور, گوجرانوالہ میں حافظ صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے پروگرام منعقد کئے گئے. آج ملک و دین کے دشمنوں نے حافظ ابتسام الٰہی ظہیر کی آواز کو دبانا چاہا لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ آج ہر لب پہ ابتسام ہے… پاکستان کی حکومت اور ادارے ابتسام الہی ظہیر صاحب کو تحفظ فراہم کریں تاکہ وہ کسی بھی سازش کا شکار نہ بن سکیں.

  • تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    ‏کسی بھی تعلیمی ادارے کو چلانے کے لئے اساتذہ کے ‏ساتھ ساتھ کلیکریکل سٹاف کی ضرورت بھی ناگزیر ہے استاذہ کو ادارے میں اپنی سیلری ایشو کروانے کے لئے، اپنی چھٹی کو منظور کروانے کے لئے، اپنے الاوئنسز کو لگوانے کے لئے اور بہت سارے کاموں کے لئے کلیریکل سٹاف کی ضرورت پڑتی ہے. ‏لیکن اب تک جتنا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے یہ ہی دیکھا گیا ہے کہ کلریکل سسٹم اتنا مضبوطی سے کرپشن میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف  کچھ نہیں کرسکتا ہے.

    جب کوئی استاد اپنی اعلی ڈکری اور ٹیسٹ انٹرویو پاس کرنے کے بعد اس ادارے میں خوشی خوشی سلیکٹ ہوکرآتا ہے تو اس کی خوشی اس وقت بھاپ بن کراڑجاتی ہے جب اسے اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے کلرک حضرات کی منت کرنی پڑتی ہیں اورزرا سا معمولی سا کام بھی کروانا ہو تو جب تک آپ خرچہ پانی جو کہ رشوت کا ایک متبادل نام ہے نہیں دیتا اس کا کام نہیں ہوسکتا ہے.

    وہ انسان جو ساری زندگی اس رشوت سسٹم سے دوررہا ہو اپنا ہرکام ایمانداری سے کرتا ہو کبھی رشوت کانام بھی نہ لیتا ہو اس کو بھی اس ادارے کو جوائن کرنے کے بعد اپنے جائز کاموں کروانے کے لئےکلرکوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں اور ایسا  بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ایماندار کلرک ادارے میں موجود ہو لیکن  وہ بھی آپکا کام چاہ کر بھی بنا پیسے دیئے نہیں کرواسکتا کیونکہ یہ لوگ ایک دوسرے سے اتنے انٹرلنکڈ ہوتے ہیں کہ آپ کا کام نہیں ہونے دیتےاگر آپ پیسے نہیں دیتے توجان بوجھ کرآپکی فائل یا آپکا بل ادھرادھرکردیتے ہیں یا آپکو مختلف جگہوں کے چکرلگواتے ہیں.

    ‏اس کی مثال اس طرح لے سکتے ہیں کہ جب ایک نیا استاد ادارے کو جوائن کرتا ہے تو اس کو جوائن کے بعد اپنی سیلری سٹارٹ کروانی ہوتی ہے جو کہ ادارے کے ایڈمنسٹریٹرسٹاف کی زمہ داری ہوتی ہے اورحکومت نے ان کو رکھا بھی سٹوڈنٹس اوراساتذہ کے ان اکاؤنٹ ایشوزکو حل کرنے لئے ہی ہے لیکن یہ لوگ آپکو بل بنا کرنہیں دیں گے اورکہیں گے یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہوتی۔ آپ پریشان ہوں گے کہ بل کیسے بنے گا تو پہلے سے موجود لوگ آپکو بتائیں گے کہ آپ خرچے کے نام پہ پیسے دیں تو بل بھی بن جائے گا ورآپکی سیلری بھی سٹارٹ ہو جائے گی اگر آپ بہت ایماندار ہوں گے اور چاہیں گے کہ پیسے نہ دینے پڑیں تب یہ لوگ اس طرح سے حالات بنا دیتے ہیں کہ آپکی فائل اکاونٹ آفس تک نہ پہنچ سکے اور اگر پہنچ جائے تو اکاونٹ آفس والے آپکو بلاوجہ چکرلگوائیں گے اور آخرکارتنگ آکرانسان مجبورہوجاتا ہے اور اپنے جائز کام کے لئے بھی اپنی حق حلال کی کمائی سے پیسے دینے پڑ جاتے ہیں اور وہ گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے
    ‏کیونکہ ایک حدیث کے مطابق
    ‏”رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ”

    ‏اسی طرح طالب علموں کو جب بھی ایڈمیشن سے متلقعہ کوئی ایشو ہوتا ہے توطالب علم کو اسی طرح اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ آپکا ایڈمیشن فارم میں یہ غلطی ہے آپکو یونیورسٹی یا بورڈ میں جانا پڑے گا اورآپکا سال ضائع ہو سکتا ہے آپکا ایڈمیشن نہیں ہوگا یا ایڈمیشن کی تاریخ گزرگئی ہے اورطالب علم خاص طور وہ لوگ جو گاؤں یا قصبے سے تعلیمی حصول کے  لئےآتے ہیں ان سب سے گھبرا جاتے ہیں اوراس پوائنٹ پہ آکرکلرک حضرات اپنا داؤ کھیلتے ہیں اورہمدرد بن کر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں اتنی اماؤنٹ دے دیں ہم آپکا کام کروا دیں گے اورطالب علم بیچارے ان کو اپنا خیرخواہ مان کر پیسے دے دیتے ہیں اوراس طرح ان کی جیب بھر جاتی ہے اورتب جا کرطالب علموں کا کام ہوتا ہے اوروہ بیچارے سکون کا سانس لیتے ہیں اوروہ ایشو جو بنا پیسے کے حل ہوجانا چاہیے تھا ڈھیرسارے پیسوں کے عوض ہوتا ہے
    ‏اب یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اگراس حد تک یہ لوگ تنگ کرتے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ یہ سب معلومات اعلی حکام اورسربراہوں کے علم میں ہونی چاہیے کیونکہ اساتذہ اورطالب علم کے مسائل کو حل کرنا انکی زمہ داری میں شامل ہے.

    ‏لیکن افسوس تو اسی بات پہ ہے کہ ادارے کے سربراہ اوراعلی حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہ خود بھی ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوتے ہیں ‏اوراگر کبھی ان تک ان لوگوں کی شکایات پہنچائی جائیں تو آگے سے ہمیں ہدایت کرتے ہیں کہ آپ کلرکوں کو پیسے دے کراپنا کام کروالیں اب اگراعلی حکام بھی اس مافیہ کا حصہ ہوں تو اساتذہ اورطالب علم اپنے مسائل کے حل کے لئے کونسے حکام بالا تک رسائی حاصل کریں ؟

    ‏ایک اوراہم بات خاص طورپہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں بہت اہمیت کی حامل ہے کہ والدین بہت بھروسہ کرکے اپنی بچیوں کو ان تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ اعلی تعلیم سے مستفید ہوسکیں جبکہ طالبات اپنے کچھ تعلیمی معاملات جنکا تعلق کلیریکل سٹاف سے ہوتا ہے انکو حل کروانے کے لئے کلرک حضرات کے پاس جانا پڑتا ہے جس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبات کو ہراساں کرتے ہیں اور انکے پرسنل نمبر، سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انکا پرسنل بائیو ڈیٹا آفس میں موجود ہونے کی وجہ سے اس تک انکی رسائی حاصل ہوتی ہے جسکا وہ غلط استعمال کرتے ہیں جو کہ غیراخلاقی فعل ہے وہ ادارہ جو تعلیم دینے کے لئے ہوتا ہے وہاں بہت ساری طالبات اس غلط روئیےکی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں.

    ‏مزید یہ کہ ‏اداروں کے بہتر تعلیمی نتائج کے لئے اساتذہ دن رات محنت ‏کرت ہیں ‏اور وہ طالب علم جو پورا سال کبھی بھی ادارے میں نہیں آتے ‏تو اصولی طورپہ تو ان کا داخلہ نہیں بھیجا جانا چاہئے تاکہ ان طالب علم کو اس بات کا احساس ہو کہ ادارے میں غیر حاضررہ کر آپ تعلیمی امتحان کا حصہ نہی بن سکتے اوراس مقصد کے لئے استاد ایسےطالب علموں کی نشاندہی کرکے ادارے کے سربراہ کے علم میں لاتا ہے جہاں سے یہ نام کلیریکل حضرات کو پہنچائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان طالب علموں کے ناموں کو ادارے سے خارج کردیا جائے اوراس بات سے استاد بھی مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے سب طالب علموں کے ساتھ انصاف کیا ہے لیکن جب طالب علموں کی رولنمبر سلپ آتی ہیں ان طالب علموں کے نام بھی موجود ہوتے ہیںاقر یہ چیزاستاتذہ کے لئے یہ چیز انتہائی حیران کن ثابت ہوتی ہے کہ جن طالب علموں کے نام انہوں نے لسٹ سے خارج کرنے کے لئے دیے تھے وہ کس ترہاں شامل لسٹ ہوئے ۔

    پھرتحقیق کرنے پرپتہ چلتا ہے کلرک نے رشوت لے کر‏ادارے کے استاتذہ کو دھوکے میں رکھا اور ایڈمیشن بجھیج دیے اب اگرآپ احتجاج کریں بھی تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ طالب علم شامل لسٹ ہو چکا ہوتا ہے اورایگزام میں بھی حاضرہوچکا ہوتا ہے اس ترہاں امتحان دینے پر نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں آتا ہے اوراسکا خمیازہ اساتذہ اورادارہ کو بھگتنا پڑتا ہے اسکا ایک اورغلط نتیجہ اس صورت میں بھی نکلتا ہے کہ جو طالب علم پورا سال حاضررہ کرامتحان کا حصہ بنتے ہیں انکی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ ادارہ کی انتظامیہ کہ اس رویہ سے بہت مایوس ہوتے ہیں۔

    ‏ان تمام معملات کومد نظررکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پے پہنچا ہوں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا کلریکل سٹاف یا تو خواتین کی صورت میں ہو یا پھران کے خیلاف سخت سے سخت ایکشن ہو تاکہ اپنے تعلیمی اداروں کو کرپشن جیسی امراض سے پاک کیا جا سکے.
    ‏پاکستان پائندہ باد

    ‏⁦‪@iEngrDani

  • "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    تاریخِ انسانی میں ہمشیہ حق و باطل کی جنگ رہی ہے ۔

    مسلمان ہمیشہ آزمائشیں دیکھتے رہے وجہہِ کائنات سرورِ کونین میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غربت کی زندگی گزاری صحابہ کرام جو مالدار تھے وہ بھی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں وقف کر کہ فقیری کی زندگی جئیے ۔ مسلمانوں نے کبھی عیاشی کی زندگی نہیں گزاری کبھی تخت و تاج محلات مسلمانوں کی خواہش نہیں رہی ۔پیوند لگے کپڑوں کے ساتھ روم اور فارس کے عظیم تخت اکھاڑ پھینکنے۔ یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ آدھی دنیا کے حکمران حضرتِ عمر رضی اللہ عنہہ بیت المال سے وظیفہ لیتے تھے۔ لیکن جب زلزلے سے زمین کانپی تو پاؤں کی ٹھوکر سے زمین کو رک جانے کا حکم دیا اور پوچھا کیا تجھ پر عمر عدل نہیں کرتا ۔؟؟

    یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ تین سو تیرا ہزار کے مقابلے میں لڑ کر فتح یاب ہوتے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس نے قیصر و قصریٰ کا غرور خاک میں ملایا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس کی بدولت سلطان صلاح الدین ایوبی نے پورے یورپ سے اکیلے ٹکر لی اور فتح کے جھنڈے گاڑے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ سترہ سالہ محمد بن قاسم سندھ فتح کر گیا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جی ہاں یہ جزبہ ایمانی ہی ہے کہ سکندرِ اعظم برطانیہ روس اور امریکہ جیسی طاقتیں نیٹو افواج سمیت افغانستان کی سر زمین پر نیست و نابود ہوگئیں ۔۔ کیا خوب کہا ہے علامہ اقبال نے کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔۔
    جزبہ ایمانی جب تک ہماری میراث رہے گی دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن اگر یہ جزبہ ایمانی نا رہا تو پھر جدید اسلحہ جدید میزائل سسٹم بڑی سے بڑی فوج بھی راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگی۔ یاد رکھیں جنگیں ہتھیاروں سے ضرور لڑی جاتی ہونگی پر جنگیں جزبوں سے جیتی جاتی ہیں اور بے شک جزبہ پھر ایمان کا ہو تو آج بھی دنیاوی عالمی طاقتیں اس جذبے کے سامنے ڈھیر ہو جائیں گی۔

    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نا کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

  • اپنا مقام پیدا کر.تحریر : ملک عمان سرفراز

    اپنا مقام پیدا کر.تحریر : ملک عمان سرفراز

    انسان کو  اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے کیونکہ انسان
    اور باقی تمام مخلوقات  میں واضح فرق فہم و فراست کا ہے۔
    دنیا میں کم و بیش 18 ہزار مخلوقات ہیں ان میں سے انسان کو سب سے افضل بنایا گیا ہے انسان کو اشرف المخلوقات (سب مخلوقات میں سب سے اعلی) کہا گیا ہے۔ انسان کو دنیا میں بھیج کر اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا میں نے روح زمین پے اپنا خلیفہ بھیجا ہے اور پھر اللہ پاک نے فرشتوں سے انسان کو سجدہ کرایا۔ وہ انسان آج اللہ پاک کے ہر حکم ہر بات کا انکار کر رہا ہے  جو انسان ایک سانس کا بھی محتاج ہے ایک سانس اندر لے تو اس کو یقین نہیں وہ باہر نکال سکے گا یا نہیں
    یوں تو  جانوروں کو دیکھا جائے تو وہ بھی کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور سوتے ہیں  مگر فرق  شعور کا ہے وہ شعور  جو انسان کے پاس  موجود ہے

    انسان انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے جب وہ اس شور کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو پہچانتا ہے اپنے مرتبے کو پہچانتا ہے
    اگر انسان اپنی زندگی کھانے پینے اور سونے کا کام کرنے پر گزار دے تو انسان اور جانور میں فرق کیسا ؟؟

    جب انسان کس چیز کی جستجو رکھتا ہے جس کی لگن ہے تو وہ اس کام کو ہر طریقے سے بھرپور طریقے سے مکمل طور پر سر انجام دینا چاہتا ہے اور پھر وہ کام اس کا عشق بن جاتا ہے جس طرح علامہ اقبال نے فرمایا

    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر !​
    نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر​

    خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو​
    سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر​

    اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں​
    سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر​
    اس وقت  ضرورت ہے اپنے آپ کو پہچاننے کی کہ ہمیں کیوں کب اور کس لئے اس دنیا میں بھیجا گیا آخر ہمارے  آنے کا مقصد کیا ہے جب انسان سب سمجھ لیتا ہے تو انسانیت کے بلند مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے

    انسان جتنی مرضی ترقی کر لے آسماں کو چھو لے یا پانی کی گہرائی تک پہنچ جائے جب تک وہ اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا اپنے مقام کو نہیں سمجھے گا ۔اس کی سب ترقی بے کار ہے

    ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں جو چیز کی جستجو ہے ہمیں اپنی اس جستجو کے حصول میں خود کو اتنا مگن رکھنا ہےکہ ہمارا اپنا ایک مقام بن جائے

  • افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    ‎سال 1988 میں ایک کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں امریکہ پیش پیش تھا اور یہ قرارداد روس کے خلاف تھی کیونکہ انکی افواج افغانستان میں موجود تھی۔۔۔‏ٹھیک 31 سال بعد 2019 میں یہ اعلان کیا گیا افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کی انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں روس پیش پیش تھا اور یہ قرارداد امریکہ کےخلاف تھی، تاریخ نے 30 سال بعد ایک دفعہ پھر خود کو دوہرایا _ اور تقریبا وہی کچھ ہوا جو 30 سال پہلے ہوا، امریکی فوج کا جلد بازی میں افغانستان سے انخلاء ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اربوں ڈالرز لگانے کے باوجود 20 سالہ جنگ ہار گیا

    یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان دو مختلف تنظیمیں ہیں، طالبان کا آغاز جہاد اور اسلامی نظام کے قیام کے اعلان سے ہوا جبکہ تحریک طالبان پاکستان بھارت اور غیرملکی ایجنسیوں کی آلہ کار ہے، گزشتہ کئی سال سے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے پاکستان کے خلاف منظم سازشوں میں ملوث رہے ہیں، ہر دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے تھے، امریکی انخلاء کے بعد بھارت کی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی

    امریکی اںخلاء کے بعد طالبان تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ افغان حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے آئے دن اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے حالانکہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھارہا ہے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے ہر ممکن تعاون فراہم کیا، افغانستان میں کاروائیوں کے لیے فضائی اڈوں کی امریکی خواہش کو پاکستان نے Absolutely Not جیسے واضح الفاظ کے ساتھ مسترد کیا اور افغانستان کو باور کرایا کہ ہم اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اسلئے آپ بھی سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کا راستہ روکیں

    افغان حکومت اور طالبان کا موجودہ تنازعہ انکا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان ہر سطح پر معاونت کی پیشکش کا اظہار کرچکا ہے کیونکہ پرامن افغانستان ہی پرامن خطے کی ضمانت ہے، روس، چین، ایران اور پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قابل عمل معاہدے کی کوشش میں ہیں، جبکہ بھارت نے گزشتہ ہفتے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچا کر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف افغان حکومت کا ہر ممکن ساتھ دے گا چاہے اسکے لئے امن کو داؤ پر لگانا پڑے

    اچھی بات یہ ہے کہ امریکی انخلاء کے پیش نظر پاکستان نے کافی حد تک تیاری مکمل کرلی تھی، 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے، باڑ لگاتے وقت پاک فوج نے شہادتوں کے نذرانے دئیے لیکن اس کٹھن کام کی رفتار میں کمی نہ آنے دی، موجودہ حالات میں مزید افغان مہاجرین کی آمد متوقع ہے جنہیں سرحد کے قریب ہی ٹھہرایا جائے گا، جبکہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں افغان امن کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی ہے، انتظار کرنا ہوگا کہ افغان حکومت ماضی کی طرح الزامات لگاتی رہے گی یا پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہے گی

  • راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    انسان کو جب اس دنیا میں بھیجا گیا تو ایک مقصد کے ساتھ بھیجا گیا اور جب سے انسان اس دنیا میں آیا تو وہ اس مقصد کے حصول کے لیے محنت کرنے لگا ا اور جب اس نے اس مقصد کو سمجھنا شروع کیا اس کی جستجو کرنا شروع کی تو اس نے اس مقصد کے ساتھ ہی اپنی منزل کی راہوں کو سمجھنا شروع کر دیا ان سے مقصد کے حصول کے لیے محنت لگن اور جستجو رکھنے لگا تو وہ ایک راہ پر نکل پڑا تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
    اور کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے جب اپنی منزل کی جستجو رکھنا شروع کی مگر وہ صرف اس ڈر سے راستے پر نہ نکل  سکے کہ کہیں وہ اپنے راستے سے بھٹک نہ جائیں تو بس اس خوف نے ان کو ان کے راستے سے دور رکھا اور ان کو انکی منزل تک پہنچنے نہ دیا ۔

    جو یقین کی راہ پر چل پڑے
    انہیں منزلوں نے پناہ دی
    جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا
    وہ قدم قدم پر بہک گئے

    جب انسان منزل پر پہنچنے کے لیے سفر پر نکلتا ہے تو یقیناً وہ یقین مستحکم کے ساتھ سفر پر نکلتا ہے
    کون کہتا ہے کہ خواب حقیقت نہیں بنتے تو یاد ہوگا علامہ اقبال کا خواب  جو کہ حقیقت میں تبدیل ہوا اس کے لیے محنت لگن اور  جستجوشامل تھی۔
    جس طرح علامہ اقبال کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی انتھک محنت کی ہے تو پھر انہوں نے اپنی منزل حاصل کرلی قائد اعظم محمد علی جناح نے اور مستحکم کے ساتھ راستے پر سفر کیا اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور آخر کار اپنی منزل کا حصول ممکن بنایا۔

    منزل تک پہنچنے کے لیے یقین مستحکم اور جستجو کا ہونا لازم ہے ۔ ب انسان ارادہ کر لے تو کوئی طوفان اس کے ارادے کو ہرا نہیں سکتا ہے ۔پس جستجو کا ہونا لازم ہے

    لیکن یہ بات سمجھ لیں کہ تعبیروں کے سفر میں کٹھن رستوں کا آنا طے ہے۔ پریشانیوں کا ہمیں گھیر لینا بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ یاد رہے! خوابوں کے جزیروں میں بسنے والے مشکلات سے فرار حاصل کرنے کی بجائے ان کا سامنا کرتے ہیں اور وہ کبھی اتنے پست حوصلہ نہیں ہوتے ہیں کہ کٹھن راستوں اور تنگ گھاٹیوں کو عبور نہ کر پائیں۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے والوں کو منزل پر پہنچنے سے پہلے ناچار ہو کر بیٹھنا نہیں آتا۔

    منزل کی جستجو میں
    کیوں پھر رہا ہے راہی!
    اتنا عظیم ہوجا کہ منزل تجھے پکارے .

  • ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    گزشتہ کچھ دنوں سے اسلام آباد میں ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ کافی گفتگو جاری ہے ۔
    ابھی تک کی اپ ڈیٹس کے مطابق معاشرے کے بہت سے طبقات خفیہ طور پر اس گناہ پر مٹی ڈالنے اور مجرمین کو سزا سے بچانے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں ۔ ہر طرح کے جوڑ توڑ جاری ہیں ۔۔
    معاشرے قوانین پر عمل کرنے سے پھلتے پھولتے ہیں ۔۔ نبی پاکؐ کی حدیث اور واقع موجود ہے کہ چوری کے مجرم کے لئے سفارش آگئی تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی یہ جرم کرتی تو یہی سزا دیتا۔
    سزا کسی بھی معاشرے میں جرائم کو روکنے کا راستہ ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں صورت حال اس کے الٹ ہوتی ہے ۔۔ ہم لوگ سزا سے بچانے کی کوشش شروع کردیتے ہیں ۔
    پچھلے کچھ عرصے میں ملتان کا ایک ایسا ہی زنا کا واقعہ زیر بحث ہے۔
    جس میں بیٹی نے باپ پر زنا کا الزام لگایا اور بعد میں مکر گئی ۔۔
    اور کچھ دن پہلے کا ‎#مولوی_سکینڈل بھی آپ کے سامنے ہے ۔
    میری ایک وکیل دوست سے بات ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ زنا اور تشدد کے کیس میں سوائے قصور والے کیس کے یا ایک دو اور کیسز میں کسی مجرم کو سزا نہیں ہوئی صلح ہوجاتی ہے ۔۔
    میں نے اپنے علم کے مطابق پھر سوال کیا کہ زنا گناہِ کبیرہ ہے جس کی صلح کا کوئی تصور نہیں ہے یعنی سزا ہی ملنی ہے تو پھر صلح کیسے ہوتی ہے ؟
    وکیل نے کہا جو فریق مجرم قرار دیا جائے وہ مدعی کو پیسے کا لالچ دے کر اس بات پہ آمادہ کرتا ہے کہ مدعی اپنے پہلے بیان سے مکر جائے اور عدالت میں یہ بیان دے کہ اندھیرے کی وجہ سے میں نے غلط بندے پہ الزام لگایا یہ وہ شخص یا عورت نہیں ہے ۔۔
    جبکہ بیک ڈور چینل میں کچھ ” قوتیں ” صلح کی گواہ بن جاتی ہیں ۔ اس طرح ایک جرم پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے ۔۔
    مدعی کو پیسے مل جاتے ہیں اور مجرم سزا سے بچ جاتا ہے ۔
    مجرم کو شہہ ملتی ہے ۔ ایسے لوگ جو اس طرح کی نیت کررہے ہوتے ہیں وہ بھی حوصلہ پاتے ہیں اور اس طرح کے جرائم میں اس لئے شامل ہوجاتے ہیں کہ صلح کرنے کا راستہ موجود ہے ۔۔
    اس طرح پورا معاشرہ آہستہ آہستہ گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے ۔۔
    ہمارے پاکستان میں یہ روایت بن چکی ہے ۔۔ کہ جیسے ہی کسی سے جرم سرزد ہوتا ہے اس کے لواحقین دھوتیاں اور تھِگڑیاں سنبھال کے بڑے بڑے سیاسی ڈیروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں کہ کسی طرح جرم کی سزا نہ ہو ۔ ۔
    ہمارا معاشرہ ہر صورت مجرم کو پناہ دینے کا عادی ہوچکا ہے ۔۔ اس کے پیچھے محرکات کیا ہوتے ہیں ان میں کچھ تو واضح ہیں
    سرکاری افسر ہمیشہ اس طرح کی ” مرغی ” کو ذبحہ کرتے ہیں جو کسی جرم میں پھنس چکی ہو۔۔

    ہم لوگ تو وہ ہیں کہ سڑک پہ چالان ہوجائے تو بجائے اپنا جرم تسلیم کرنے کے ہم کسی بڑے کو فون ملا کے سفارش کرواتے ہیں ۔
    بعض دفعہ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے میں مجرم ہے ہی کوئی نہیں ۔۔ یہاں سارے فرشتے ہی رہتے ہیں یہاں کے سارے لوگ سچے ہیں ، یہاں کے سارے لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہی درست ہوتا ہے یہاں تک قانون غلط ہوجاتا ہے ، شراب کی بوتل شہد کی بوتل میں تبدیل ہو جاتی ہے لیکن ہم اپنا جھوٹ تسلیم نہیں کرتے ۔۔
    جب ایک معاشرہ ایسا ہوگا جس میں جرم ہوگا لیکن سزا نہیں ہوگی بلکہ مجرم جب جیل سے بھاری رشوت کے عوض جیل سے رہا ہوتا ہے تو اس پہ گل پاشی کی جاتی ہے اسے پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا جاتا ہے وہ وکٹری کا نشان بنا کے بڑی گاڑی میں کھڑا ہو کے عوام سے داد وصول کرتا ہے اور ہمارے قانون کا مذاق اڑاتا ہے ، آیان علی جیسیاں ہمارے قانون کو انگلی دکھاتی ہیں۔ نواز شریف اور الطاف حسین جیسے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر باہر کے ملکوں میں بیٹھ کے عیاشی کرتے ہیں ۔۔
    ہونا اسلام آباد ویڈیو سکینڈل میں بھی ایسے ہی ہے ۔۔ جیسا کہ وکلا کہہ رہے ہیں کہ انجام صلح ہی ہونی ہے ۔ صرف ریٹ کا مسلہ ہے
    یہ صرف اسی کیس میں نہیں بلکہ ہر کیس کا حال ہے ۔۔۔ جو بھی جرم ہوتا ہے اس میں انجام کار صلح ہوتی یا مجرم کو بچانے کے لئے ہر طرح کے سیاسی سماجی اثرو رسوخ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
    چلیں ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کیا انجام ہوتا ہے ۔۔