Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کے انھیں بہت تشویش ہے امریکی اور نیٹو کی فوج کا افغانستان سے انخلا غلطی ہے اور اسکا نتیجہ ناقابل یقین حد تک برا ہوگا افغانستان کے لوگ وہاں کے بے رحم لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دئیے گۓ ہیں جو انھیں بے رحمی سے ذبح کرینگے انہوں نے کہا یہ سوچ کر انکا دل ٹوٹنا ہے جارج بش کا یہ بیان امرکی صدر جو بایڈن کے امریکی فوجوں نے افغانستان سے انخلا کے بیان
    کے ایک ہفتے کے بعد آیا جس میں انہوں نے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور اسے واضح طور پر ایک غلطی قرار دیا_
    امرکی سابق صدر بش اس فیصلے کے بالکل حق میں نہیں اور سمجھتے ہیں کے اس فیصلے سے افغانستان کی خواتین کے حقوق کا استحصال ہوگا اور ان سے دوسرے درجے کے شہری کی حثیت جیسا سلوک ہوگا

    اس سے قبل مئی میں سابق صدر بش نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا وو نہیں سمجھتے یہ درست فیصلہ ہےافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے خطے میں خلا پیدا ہوگا جو کے بھرا نہ جاسکے گا یہ سب کرنا ضروری نہیں تھا امریکی چلے جائیں گے تو وہاں کے لوگ خواتین کو دوسرے درجے کے شہری سمجھیں گے اور ان سے ناروا سلوک کرینگے جو قربانیاں ہماری فوج اور انٹیلیجنس نے دی ہیں وہ سب بھلا دی جائیں گیں
    انہوں نے کہا یہ سب غیر ضروری تھا اب دعا یہ ہے کے یہ فیصلہ درست ثابت ہو

    صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے فوجی انخلا کی متوقع تاریخ جو کے ستمبر کی ہے اس سے قبل اکتیس اگست تک تمام امریکی فوجی واپس آچکے ہونگے

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری جین میکاسی کا ہفتہ پہلے یہ بیان آیا کے یہ نہیں کہا جاسکتا کے ‘مشن اکامپلش ‘ کالمحہ آگیا ہو بیس سالہ کی اس جبگ کو عسکری لحاظ سے جیتا نہیں گیا جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کیا مشن اکامپلش ہوا انہوں نے کہا نہیں لیکن اتنا ہدف حاصل ہواکے انہوں نے القاعدہ کے مستقبل کے حملوں کو روک دیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے کسی حد تک کا مشن اکامپلش کیا

    جو بائیڈن نے کہا یہ افغانستان کے لوگوں کا حق ہے وہ جیسے چاہیں ویسے اپنا ملک چلائیں انکی حکومت کی ذمہ داری ہے کے خودمختاری کی حفاظت کریں انہوں نے کہا ہم افغان فوج کو فضائی ، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر خاص طور پر خواتین کے حقوق کیلئے مدد جاری رکھیں گے لیکن پھر انہوں نے اس حوالے سے کے وہ یہ سب کیسے کریں گے جب وہ وہاں ایک بھی امریکی فوجی چھوڑنا نہیں چاہتے تواس پر انہوں نے سوال پوچھاآخر ہم امریکہ کے اور کتنے بیٹے اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالیں گے ؟
    ان سے سوال پوچھا گیا کیا اب طالبان قبضہ نہیں کرینگے ؟ تو جو بائیڈن نے دو ٹوک کہا نہیں کیوں کے اب افغانستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وہاں محض پچھتر ہزار طالبان کیخلاف تین لاکھ تربیت یافتہ مسلح افغان فوج ہے .
    انہوں نے اپنی دلیل دیتے ہوۓ کہا آخر کب تک آپ اپنی فوج کو وہاں رکھیں گے لیکن اب میں امریکہ کی ایک اور نسل وہاں جنگ میں نہیں جھونکوں گا

    یاد رہے افغانستان کی جنگ امریکہ کی سب سے لمبی جنگ رہی جسمیں چوبیس سو ہلاکتیں اور اکیس ہزار زخمی ہوۓ
    اس بیس سالہ قیام میں امریکہ نے افغانستان کی تین لاکھ فوج کو طالبان سے مقابلے کی تربیت دی لیکن اس ساری تربیت کے باوجود طالبان اب تک پچاس ڈسٹرکٹ پر قبضہ کر چکے ہیں

    یہی وہ نکتہ تھا جو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں واضح کیا تھا کے کسی کیلئے بھی افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں

  • پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور پوری دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے.
    ایٹمی ملک ہونا پاکستان کوجہاں ناقابل شکست و تسخیر بناتا ہے وہاں بے پناہ مسائل کا شکار بھی کرتا ہے.

    پاکستان معاشی لحاظ سے ایک کمزورملک ہے جس کی بدولت طاقتورممالک اس خطے کو اپنے مفادات کی خاطراستعمال کرتے ہیں.
    پچھلی دو دہائیاں اس بات کا غمازکرتی ہیں جس طرح امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کواستعمال کیا. صرف امریکہ ہی نہیں دیگرمغربی ممالک بھی پاکستان کی معاشی کمزوری کی بدولت اس کو مفادات کی جنگ میں گھیسٹتے ہیں. جہاں چائنہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا ہے وہاں اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو اچھے طریقے سے استعمال بھی کررہا ہے.

    تمام ایٹمی ملک سپرپاورکی دوڑمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اوراپنی برتری ثابت کرنے کے لیے پاکستان جیسے کمزورملک کو استعمال کررہے ہیں. پاکستان بھی ان ترقی یافتہ ممالک کی طرح اس سپرپاورکی دوڑمیں شامل ہوگیا ہے. اگرچہ ناگفتہ بہ معاشی حالات ہیں مگرجیوگرافکل اورجیوپولیٹیکل صورتحال کے پیش نظراب منظر نامہ تبدیلی کی طرف گامزن ہوگیا ہے.

    پاکستان پہلے برطانیہ وامریکہ کا اتحادی شمارہوتا تھا جس کے لیے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں بھی دیں اوراپنی معیشت بھی برباد کی مگر حاصل کچھ نہ ہوا. پرائی جنگ میں ساجھے داربن کراربوں ڈالرزکے infrastructure کا نقصان کیا لکھوں جانیں قربان کیں اوربدلے میں دہشتگردی کا لیبل لگوایا. اب پاکستان نے جو چائنہ کے ساتھ مل کر پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈورشروع کیا ہے اس سے پوری دنیا میں منظرنامہ تبدیل ہو کررہ گیا ہے.

    عرب ممالک جو اسلامی بنیاد پرپاکستان کے دوست ممالک سمجھے جاتے ہیں اب نظربدل رہے ہیں کیونکہ اماراتی سمندری بالادستی ختم ہونے جا رہی ہے اس لیے انہیں بھی شدید تکلیف پہنچ رہی ہے. ازلی دشمن بھارت جس نے کبھی بھی کوئی موقع جانے نہیں دیا پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے خواہ وہ کوئی بھی پلیٹ فارم ہو. یہ الگ بات ہے کہ اسے ہربارمنہ کی کھانی پڑی ہے. اب پاکستان نے بھی اپنی strategy بدل لی ہے امریکہ بہادرکوabsolutely not کا میسج دے کر پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ ہم آپ کے محتاج نہیں اورنہ آپ کے ذرخرید غلام ہیں.

    جیو پولیٹیکل اورجیولاجیکل فیکڑ پردیکھیں تو افغانستان میں وقت سے پہلے امریکی انخلا اورپاکستان کا کرارا جواب دنیا کے منظر نامے پر نئی راہیں متعین کرنے کا اعلان ہے. پاکستان، چائنہ، روس، ترکی اورملائشیا نیا اتحاد ہونے جا رہا ہے. جس سے اسرائیل، بھارت اورامریکہ شدید شش و پنج میں مبتلا ہیں. امریکہ کی افغانستان سے وقت سے پہلے انخلا پربھارت نوحہ کناں ہے بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں بہت زیادہ investment کر رکھی تھی اب وہ ساری ڈوبنے کے امکان روشن ہیں.

    طالبان کی افغانستان میں بڑھتی مقبولیت اورحکومت بنانے کے واضح اثرات دیکھ کر بھارت شدید خائف ہوکراسرائیل کی طرف بھاگا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں روکے مگرامریکہ تو شاید بہانے کے انتطار میں تھا اوربگرام ائیر بیس کو رات کی تاریکی میں خاموشی سے خالی کر کے دم دبا کربھاگ رہا ہے یہ سب دیکھ کر بھارت شدید رنج اور پریشانی میں ایک ایک کر کے افغانستان میں اپنے کونصل خانے خالی کر رہا ہے.

    اس فیصلے پراسرائیلی حکومت امریکہ کو بھارتی نقصان باورکرانے کے لیے ایک کانفرنس کرنا چاہتی ہے. مگرایک امریکی اعلی عہدے دار کا ماننا ہے کہ اس میٹنگ میں پاکستان کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بھارت کا کیوں کہ پاکستان اتنا ہی اہم ایٹمی ملک ہے جتنا بھارت اگرچہ پاکستان کی اکنامک پوزیشن بھارت کے مقابلے کم ہے لیکن دفاعی لحاظ سے اہمیت برابر ہے.

    سپرپاور کیلئے زیادہ سہولت ہے اگر جغرافیائی اعتبار سے محفوظ مقام پرہو دوسرے اہم قوت ہونے کیلئے معیشت اورعسکری قوت کے ساتھ ایک اور چیز ہے اوروہ ہے قدرتی جغرافیائی نقشہ جس پرپاکستان مکمل پورا اترتا ہے. بھارت پاکستان سے 6 گنا بڑا ہے. معیشت بھی اچھی ہے اورآبادی بھی بہت ہے لیکن جغرافیائی اعتبار سے وہ ایک بند مقام پر ہے اسے opening دستیاب ہی نہیں ہے. ایک طرف پاکستان دوسری طرف چین اور پھر ایک مشکل پہاڑی ملک نیپال غیراہم بھوٹان اوربنگلہ دیش جہاں سے محض مشرق بعید کے ایک دو ممالک تک رسائی ہے.

    بھارت جغرافیائی اعتبار سے کبھی بھی وہ اہمیت حاصل کر ہی نہیں سکتا جو پاکستان کو ہے. چائنہ اپنا ٹارگٹ فٹ کیے بیٹھا ہے آنے والی طالبان حکومت سے سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت سٹریم لائن ہے طالبان بھی اب جبر و تشدد کو ترک کر کے عمدہ حکومت کے لیے پرامید ہیں. اگرطالبان سے معاملات طے پا جاتے ہیں تو روس پہلے ہی پاکستان کو blank check آفر کر چکا ہے کہ اب پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اس کا مفاد کس جگہ پر کتنا اہم اورکتنا بڑا ہے.

    ترکی آنے والے وقتوں میں ایک بڑی معیشت ہے جو براہ راست پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، ملائشیا پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے. اب اگر پاکستان چاہے تو ان تمام اتحاد کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرسکتا ہے مگر معاشی بد حالی اورکچھ غیرمعمولی نادیدہ قوتیں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے کرپاکستان کو محکوم رکھیں گے. لیکن عالمی سیاسی منظر نامے پراورسنٹرل ایشائی ممالک میں طاقت کے توازن میں پاکستان غیر معمولی حیثیت حاصل کرچکا ہے. اب پاکستان کے بغیرسپرپاوربننا ناممکن ہے اس تناظرمیں اگردیکھا جائے تویہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ہی اصل میں سپرپاورہے.

    ‎@one_pak_

  • راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    انسان نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے اپنی زندگی کو آسان بنانے کیلئے آسائش و سہولیات کا ہرممکن راستہ تلاش کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی کا آغازجنگل سے شروع ہوا جہاں انسان نے اپنا پہلا گھربنایا پھر جیسے جیسے وسائل دستیاب ہوئے انسان بھی اپنی سہولیات میں اضافہ کرتا گیا۔ پھرایک وقت آیا جب قصبوں سے گاؤں آباد ہوئے اور پھر گاؤں کے بعد باقاعدہ شہری آبادکاری شروع ہوئی جہاں قصبوں اور گاؤں کی نسبت ضروریات زندگی کی تکمیل کیلئے زیادہ وسائل دستیاب ہوئے لیکن پھرایک وقت ایسا بھی آیا جب بڑے بڑے شہربھی انسانی آبادکاری کیلئے چھوٹے پڑ گئے جس کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم وبغیر کسی منصوبہ بندی کے آبادکاری ہے جہاں رہائشی دباؤ اس قدرشدید ہوگیا کہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی بنیادی چیزیں بھی کم پڑگئیں۔

    بد قسمتی سے پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے جہاں سوائے وفاقی دارالحکومت اسلام اباد کے باقی تمام شہر بغیر کسی منصوبہ بندی کے بنائے گئے۔

    آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا شہرلاہور ہے جو اس وقت شہری آبادکاری کے دباو کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہوتا جا رہا ہے اور اسی نقصان کو وقت سے پہلے بھانپتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ لاہور شہر کے ساتھ دریائے راوی پر ایک نئے شہر کو آباد کیا جائے جس کیلئے باقاعدہ ایک اتھارٹی قائم کی گئی جس کا نام راوی ریوراربن پراجیکٹ رکھا گیا جس کا مقصد دریائے راوی پر ایک ایسے شہرکو آباد کرنا ہے جہاں نہ صرف تمام بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے گا بلکہ لاہور پر آبادکاری کے بڑھتے شدید دباؤ کو بھی کم کیا جائے گا اورساتھ ہی لاہورشہرکی سب سے اہم اوربنیادی ضرورت صاف پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا.

    راوی ریوراربن پراجیکٹ اپنی نوعیت کا سب سے منفرد اورپاکستان کا پہلا شہرہوگا جسے نہ صرف باقاعدہ بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے بنایا جا رہا ہے بلکہ لاہورشہرکی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کی کمی کو بھی پورا کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ دریائے راوی کی دونوں اطراف شمال مشرق سے جنوب مغربی رقبے پرتعمیرکیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے 44 ہزارایکڑ رقبہ مختص کیا گیا تھا جسے بعد میں 44 ہزارسے بڑھا کرایک لاکھ ایکڑ کردیا گیا۔

    ریور راوی اربن پراجیکٹ پرتقریبا پانچ کھرب پاکستانی روپے خرچہ ہوگا جس کو بنانے کیلئے سب سے پہلے دریائے راوی پر46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف اس شہر کو بسایا جائے گا۔ اس جھیل پر6 بیراج تعمیرکئے جائیں گے اورساتھ ھی پانی کو صاف رکھنے کیلئے ویسٹ واٹرمینیجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔ اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بلکہ اسی جھیل سے لاہورشہرکا زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے پانی کی سطح کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ کا 70 فیصد رقبہ جنگلات و سرسبز ہریالی پرمنحصر ہوگا جو نہ صرف راوی ریوراربن بلکہ لاہورکو بھی ماحولیاتی آلودگی جیسے گرد وغباراورسموگ سے پاک رکھے گا جبکہ 30 فیصد رقبہ رہائشی و صنعتی ہوگا جو بارہ مختلف سیکٹرز پر مشتمل ہوگا اور ہرسیکٹرایک باقاعدہ شہر ہوگا جہاں صحت عامہ، درس و تدریس، صنعت و تجارت اورکھیل و تفریح سمیت ایک ایسا انسان دوست ماحول ہو گا جو نہ آنے والی نسلوں کی تعمیرکرے گا بلکہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے 12 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو نوکریاں دستیاب ہوں گی اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا 90 فیصد میٹیریل پاکستان میں ہی تیار کیا جاتا ہے جس سے پاکستان کی مقامی صنعتوں کو بے تحاشا فائدہ ہوگا۔

    اس منصوبے کو2014 میں تجویزکیا گیا تھا لیکن ماضی کے حکمرانوں نے اسے اپنی سیاست کی نظرکرتے ہوئے انسان دوست منصوبے کی فائلوں میں دفن کردیا لیکن وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے خواب ترقی یافتہ نیا پاکستان کی تکمیل میں جاری اس سفرمیں بڑے اور طویل المدتی منصوبوں میں یہ پہلا بارش کا قطرہ ثابت ہوگا جو آنے والے وقت میں ایک نئے ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

    @Salahuddin_t2

  • ففتھ جنریشن وار جاری ہے.‏تحریر: لاریب اطہر

    ہنگری کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر جنگوں کی وہ شکل ہے جس میں بڑی سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ ان جنگوں کو ‘فری انڈسٹریل وارز’ بھی کہا گیا ہے۔

    اس جنریشن میں انفنٹری یا فوج کے دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں اور انسانی قوت کو کامیابی کا منبہ سمجھا جاتا ہے یعنی جتنی بڑی فوج ہوگی اتنی ہی زیادہ کامیابی ہوگی۔

    یہ پہلی جنریشن17 ویں صدی کے وسط سے لے کر 19 ویں صدی کے آخر تک چلتی رہیں اور انھی اصولوں پر دنیا بھر میں مخلتف جنگیں لڑی گئیں۔

    میرے پاکستانی قوم پر دشمن نے مختلف طریقوں سے حملہ آور ہوا لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے فضل میں نے اپنے قوم کے جوانوں کی مدد سے دشمن کے ہرحملے کو ناکام بنایا۔
    کبھی لسانیت کے بنیاد پر تو کبھی قومیت کے بنیاد تو کبھی سیاسی بے روزگاری کی بنیاد پر کبھی فرقہ واریت کی بنیاد پر کبھی صوبائیت کی بنیاد پر سب حربوں کو دشمن کے ناکام کیا اب نئے طریقے سے حملہ آور ہوا ہے
    مذہبی فساد کے بنیاد پر اپنے درمیان دشمن کے سلیپنگ سیلز کے لوگوں کو پہچانیں۔
    ہم میں موجود کچھ سیاسی بے روزگار پوری مغربی میڈیا اور دشمن سوشل میڈیا پر پورے پاکستان میں خانہ جنگی کا نیوز چلا رہا ہے
    جھوٹ اور پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے ۔۔
    خدا کے لیئے چند سیکنڈز کے لیئے سوچیں اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچیں ایسا نہ ہو شام کی طرح پورے پاکستان میں خانہ جنگی کو ہوا دی جائے ہم سب کا دشمن ایک ہے،
    اپنے پاک وطن میں دشمن کے پروپیگنڈہ کو ہوا مت دیں
    امن محبت کا درس دیں۔
    پاکستان زندہ باد
    اسلام زندہ باد
    ختم نبوتﷺزندہ
    پاک فوج زندہ باد
    آئی ایس آئی زندہ باد

  • خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    عیدالضحیٰ مسلم کلینڈر کے آخری مہینے کی 10 ذی الحج کو منائی جاتی ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے عید قرباں کہا جاتا ہے۔ حُجاج قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس، احرام، اتار دیتے ہیں۔

    قربانی کا گوشت تین حصوں میں بانٹا جاتا ہے، جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔
    قربانی کے جانور کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے جسمانی نقص سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تلاش میں ہوتا ہے صحت مند اور خوبصورت بکرے، بھیڑ، دمبے، اونٹ یا بیل ہی خریدے۔
    مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔ اور ایسے عید پر ایسے افراد اپنی پسند کے جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈیوں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھر اکثر واپسی قربانی کے اپنے پسندیدہ جانور کے ساتھ ہوتی ہے
    بڑے جانور کی قربانی میں سات افراد حصہ لے سکتے ہیں جبکہ چھوٹے جانور کی قربانی ہر شخص کو الگ الگ کرنی پڑتی ہے۔ تاہم ایسے اجتماعی قربانی کی رسم ایسی ہے کہ جس میں اب بکرے کی قربانی میں بھی حصہ مل جاتا ہے۔
    قربانی کے اہل جانور کا پتا اس کے دانت دیکھ کر بھی لگایا جاتا ہے۔ اگر اس کے دو بڑے دانت ہوں تو پھر اسے قربانی کے قابل سمجھا جاتا ہے ایسے جانور ’دوندا‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی دو دانتوں والا۔
    جانور کو ذبح کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اسے کم سے کم اذیت پہنچے۔ عید پر جانور زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور کو زبح کرنے میں مہارت رکھنے والوں کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور کو زبح کرنے سے پہلے خوب کھلایا پلایا اور گھومایا پھرایا جاتا ہے۔
    عیدالاضحیٰ پر جہاں دنیا بھر کے مسلمان ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر سنّت ابراہیمی ادا کرکے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں وہیں دوسری جانب گوشت کی تقسیم کے بعد مرحلہ آتا ہے مزے مزے کے چٹخارے دار پکوان کھانے اور بنانے کا۔

    قربانی کے گوشت سے مختلف اقسام کے چٹ پٹےکھانے بنانے کا رواج گھروں میں تو عام ہے جہاں خواتین کھانوں کی تیاری کیلئے کچن میں جُت جاتی ہیں مگر اب ہوٹلوں اورپکوانوں کی دکانوں سے بھی ذائقے دار کھانے آرڈر پرتیار کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

    عید الاضحٰی آ رہی ہے عید منائیں قربانی بھی کرئیں مگر یاد رکھیں کرونا کی چھوتھی لہر بھی آ رہی ہے حکومت کے بتائے ہوئے ایس او پس پے بھی عمل کریں

    پچھلے سال بھی عوام کو جس طرح سمجھایا گیا تھا اس کے برعکس عوام نے کام کیا اور کسی بھی طرح کسی بھی ایس او، پی پر عمل نہیں کیا ۔ عید کے بڑے بڑے اجتماعات کیے گئے، لوگوں نے خوب ڈٹ کر سماجی دوری کا ستیاناس کیا  اور خوب محفلیں جمائیں  کیونکہ عید قربان میں لوگ زیادہ پارٹیاں کرتے ہیں گوشت کی فراوانی ہوتی  ہے، یوٹیوب سے ریسیپیز لی جاتی ہیں اور خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالتے ہیں ۔

    چھوٹی عید اگر روزوں کے بعد انعام ہے تو بڑی عید ہمیں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے مگر اب یہ اسلامی تہوار ہماری اناؤں اور روئیوں کے باعث تہواروں کے موافق لگتے ہی نہیں ہیں ۔
    ہر شخص سیر سے سوا سیر بن گیا ہے کوئی بھی کسی مسئلے پر سر جھکانے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے ۔
    عیدوں پر جو خوشیاں ہوتیں تھیں اب وہ خاک ہوگئی ہیں ہر شخص اپنی خودنمائی اور خود پرستی کا شکار ہوگیا ہے انہیں دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔
    اگر دیکھا جائے تو بڑی عید میں اصل قربانی باپ اور بیٹے کی گفتگو تھی۔اور دنبے کا ذبیحہ اس کا فدیہ تھا۔
    ہمیں دنبہ تو یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی اس لیے ہماری عیدوں میں چاشنی نہیں رہی حالانکہ پہلے کی نسبت اب اچھے کپڑے اور جوتے پہنے جاتے ہیں مگر جس سے بھی پوچھا جائے وہ یہی کہتا ہے کہ عید کا مزہ نہیں رہا ۔

  • افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    آجکل ٹیلی ویژن ہو یا اخبار یا پھر انٹرنیٹ پر گردش کرتی تصاویر اور ویڈیوز ہر جگہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی فتوحات اور افغانستان سے امریکی انخلاء کا ہی ذکر سننے کو ملتا ہے۔ بلاشبہ افغانستان خطے کا اہم ملک ہے اور وہاں وقوع پذیر ہونے والے واقعات خطے کے دیگرممالک پر اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں مگر افغانستان اور افغان جنگ پاکستان کے لیے بہت اہم کیوں ہے ؟؟ کیوں ہر دوسرا پاکستانی افغان جنگ پر بات کر رہا ہوتا ہے ؟؟ آج ہم جانیں گے افغانستان کی سیاسی تاریخ اور اس میں پاکستان کا کردار اور اس افغان جنگ نے پاکستان پر کیا کیا اثرات ڈالے
    افغانستان میں 1973 تک بادشاہت کا نظام رائج رہا مگر 1973 میں بادشاہ کے چچازاد داود خان نے بادشاہ کو معزول کر دیا اور بادشاہت کو ختم کر کے افغانستان میں جمہوری نطام نافظ کر دیا اور خود افغانستان کے پہلے صدر بن بیٹھے۔ انکا دورِ صدارت زیادہ طویل نہ ہو سکا اور 1978 میں کمیونسٹ جماعت پی ڈی پی اے نے انکے خلاف بغاوت کر دی اس بغاوت میں داود خان مار دیے گئے۔ سویت یونین کی حمایت یافتہ کمیونسٹ جماعت بھی زیادہ دیر تک سکون سے حکومت نہ کر سکی اور انکے لیڈروں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آ گئے
    اختلافات اس قدر شدید تھے کہ داود خان کے بعد صدارت سنبھالنے والے نور محمد ترکئی کو انکے اپنے وزیرخارجہ حفیظ اللہ امین نے پہلے معزول اور پھر قتل کروا دیا اور خود صدارت کی کرسی پر جا بیٹھے۔ حفیظ اللہ امین اور انکی جماعت تھی تو کمیونسٹ نظریات کی حامل مگر حفیظ اللہ امین نے امریکہ کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں اور انہی بوجوہات کی بناء پر 1979 میں سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ پہلے مرحلے میں سویت یونین کے خفیہ اہلکار فضائی راستے سے افغانستان پہنچے اور پھر افغان فورسز کی وردی میں صدارتی محل میں داخل ہوکر صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کر کے افغان حکومت گرا دی اور اپنی پسند کے ببرک کرمل کو صدر کی کرسی پر بٹھا دیا
    دوسرے مرحلے میں سویت یونین سے مزید دو ڈویژن فوج افغانستان پہنچی تاکہ نئی حکومت کو رٹ قائم کرنے میں مدد دی جا سکے
    افغانستان میں طاقت کے بگڑتت توازن اور سویت یونین کی دراندازی پر افغانستان کے اندر اور باہر شدید ردعمل آیا۔ حریت پسند افغان عوام نے روسی کٹھ پتلی حکومت کو مسترد کر دیا ساتھ ہی حکومت اور غیر ملکی افواج کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا

    امریکہ ، پاکستان ، ایران اور سعودیہ عرب نے مجاہدین کی بھرپور مدد کا اعلان کر دیا اور انہی دنوں سے پاکستان کا افغانستان میں کردار شروع ہوتا ہے۔ پاکستان چوکہ افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے اس وجہ سے افغان مجاہدین کی معاونت اور انکی تربیت کی تمام ذمہ داری پاکستان کے سپرد کی گئی جبکہ اسکے اخراجات امریکہ اور سعودیہ برداشت کرتا رہا۔ افغان جنگ میں پاکستان کے شامل ہو جانے سے پاکستان میں "کلاشنکوف کلچر” عام ہو گیا غیر قانونی ہتھیار آسانی سے ملنے لگے جبکہ منشیات کی لعنت بھی اسی دور میں پاکستان میں عام ہوئی۔ اسکے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد ہوئی جسکی وجہ سے پاکستان کو اندرونی سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑنا۔ امریکہ ، پاکستان اور سعودیہ کی مدد سے مجاہدین روس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے اور شکست خوردہ روس بلآخر 1989 میں اپنے جنگی آلات وہیں چھوڑ کر الٹے پاوں بھاگنے پر مجبور ہو گیا

    روس چلا گیا پیچھے وسیع اسلحے کے ڈھیر چھوڑ گیا ساتھ ہی مجاہدین نے بھی خود کو منظم کیا اور بلآخر 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ پاکستان نے اس حکومت کو تسلیم کر کے انکے ساتھ تعاون جاری رکھا اور افغانستان کے اندرونی معاملات سے سائڈ پر ہو گیا۔ پاکستان کو زیادی دیر سکون میسر نہ آئا اور 2001ء میں روس سے سبق سیکھے بغیر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس موقع پر امریکہ کو دوبارہ اپنا پرانا دوست پاکستان یاد آ گیا گیا اور پاکستان ایک بار پھر افغان جنگ کا فریق بن کر جنگ کی چکی میں پِسنے لگا۔ اب کی بار افغان جنگ پاکستان پر سب سے بھاری رہی "تحریک طالبان پاکستان” کے نام سے ریاست مخالف تنظیم وجود میں آ گئی جس نے پاک فوج اور عام عوام پر حملے شروع کر دیے۔ خودکش حملوں کے اُس دور نے پاکستان کو دیائیوں پیچھے دھکیل دیا بیرونی سرمایہ کاری رک گئی ، پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا چہرہ داغدار ہو گیا اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہونے لگا۔ افغان جنگ میں حصہ لینے کی پاداش میں پاکستان کو 83000 جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ معیشت کو 126 ارب ڈالر کا جھٹکا لگا اس سب کے باوجود پاکستان کو ہمیشہ Do More سننے کو ملا کبھی پاکستان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔۔

    روس امریکہ کیلئے بھی افغانستان ڈراونا خواب ثابت ہوا۔ روس کو جان چھڑانے میں دس سال جبکہ امریکہ کو بیس سال لگے اور اب 2021 میں امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں یوں دونوں ہی ناکام و نامراد اس خطے سے چلے گئے
    روس اور امریکہ کی ان جنگوں نے افغانستان اور پاکستان کو تباہ کر دیا ساری دنیا سے پولیو ختم ہو گیا مگر ان دو ممالک میں اب بھی موجود ہیں، ان دو ممالک کا پاسپورٹ اب بھی دنیا کے بدترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی عوام میں بھی نفرت کی خلیج پائی جاتی ہے
    افغانستان میں طالبان اب پھر سے زور پکڑ رہے ہیں پورے ملک میں انکا غلبہ ہوتا جا رہا ہے اب پاکستان کو چاہیے ممکنہ طالبان حکومت سے بس اتنے ہی تعلقات رکھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو سکے اسکے علاوہ خود کو افغانستان اور انکے معاملات سے دور رکھے تاکہ دیرپا امن ممکن ہو سکے
    پاکستان زندہ آباد

  • صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    کہتے ہیں پاکستان میں جس کو کوئی کام نہیں اتا وہ صحافت شروع کرتا ہے۔ اور اجکل تو سوشل میڈیا نے طوفان برپا کر دیا ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے جہاں روز کوئی نہ کوئی ایسا حدثہ پیش اتا ہے جس پہ انٹرنشنل میڈیا سے لیکر لوکل میڈیا کا توجہ بن جاتا ہے۔ میرے عادت ہے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائیل دیکھ لیتا ہوں شاید اج کے دور میں ہر کوئی ایسا ہی کرتا ہو۔ فیس بک وٹس اپ ٹویٹر پہ اکثر ان ہونے کی وجہ سے مختلف لوگوں سے رابطہ رہتا تو اج جب صبح اٹھا تو دیکھا ایک طوفان پرپا تھا کوہستان میں دھماکہ ہوا ۔ہر طرف فیس بک ٹویٹر وٹسپ ۔کچھ دوستوں کے کالز بھی تھی جو میڈیا سے ہیں ۔

    میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہونے کی وجہ سے اکثر احباب رابط کر کے راے لتے ہیں یا ہوچھ لیتے ہیں ۔خیر جب میرے پہلے نظر پڑھی کے کوہستان میں چائیز بس پہ حملہ ہوا دس بندے ہلاک اور انتالیس ذخمی میں تو میں بسترے سے اٹھ کے بیٹھ گیا۔ میں اپنے علاقے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہوں اس کا جواب اپ کو میرے ٹویٹر وال سے ملے گا میں تقریباً ہر خبر پہ نظر رکھتا ۔باوجو کے میں ایک سائنیس کے طالب علم ہونے کے شوق سے صحافت کرتا ہوں لیکن صحافت کو عبادت سمجھ کے۔ خیر پہلے اس خبر کے طرف اتے ہیں جس کے وجی سے میں چونک کے بٹھ گیا تھا میں فیس بک اور ٹویٹر پہ کچھ مخلص دوستوں کے وال دیکھا وہاں بھی کوئی خاطر خواہ انفارمیشن نہیں تھی ۔میری عادت ہے میں تحقیق کے بغیر خبر نہیں لکھتا ۔میں سب سے پہلے کوہستان میں ہمارے دوست سجمل یادون کو کال ۔ ملایا پوچھا سنا ہے کوئی بلاسٹ ہوا ہے وہ عین وقت ہسپتال میں تھے ان کا کہنا تھا چائنیز گاڑی میں بلاسٹ ہوا ۔اب یہ دھماکہ ہے سلینڈر پھٹہ ہے فل وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کسی قسم کی کوئی کنفرمیشن افیشلز کے طرف سے نہیں ائی ۔

    جب ڈی سی کوہستان سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا اب تحقیقات جاری ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ تھا اس وقت تک اصل صورت حال دوسرے طرف سوشل میڈیا پہ طوفان پرپا تھا بغیر تحقیق کے ہر کوئی اس حدثے دھماکہ بنا کے پیش کر رہا تھا ۔(اور ہاں یاد رہے گزشتہ رات کوہستان پٹن کے مقام پہ نیئٹکو کے ایک بس لینڈ سلائیڈ کے ضد میں ائی تھی جس کے وجہ سے پانچ افرا شہید ہوے تھے )۔ان میں اکثریت کاپی پیسٹ والی لوگ تھی جن کو خبر کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوتے ان میں اکثر نیوز لینک پہ اس نئٹکو بس کے تصویر چسپاں تھی کچھ نے جنوبی پنجاب کے ایک جدثے کی تصاویر تک تک چسپاں کی تھی یہ لوگ بس کسی کے وال سے خبر اٹھاتے اور چپکا دیتے ہیں۔ اج کے اس حدثہ جس کا ابھی تک افیشل کوئی اطلاع نہیں کے دھماکے کی وجہ کیا ہے اس پہ لوگوں کے اس اس قدر غلط خبروں سے ملک کو جو نقصان ہوا ہوگا وہ شاید ہمارے سوچ سے باہر ہے۔

    ایک مممولی خبر سے ایک ملک کا امیج ذیرو ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں صحافت کے نام پہ کاپی پیسٹ چل رہا تحقیقی صحافت پاکستان میں ناہونے کے برابر ہے۔ اس تمام تر صورت حال میں حکومت وقت کچھ اصول بنانے چاے۔ ازادی اظہار رائے سب کا حق ہے لیکن جو انسان بھی خبر دے وہ ذمدار ہوگا وہ جھوٹ پہ مبنی خبر دینے کی صورت اس کی صافتی ممبر شپ معطل کردیا جاے ۔ جس بھی میڈیا گروپس کے جو بھی صحافی ہیں ان کو صحافت کی تربیت دی جاے ان کو ہر شعبے کے حواے سے ان کلاسسز ورک شاپ میں تربیت دیا جاے۔ سوشل میڈیا کے حوالے کوئی پالیسی وضع کی جائے

  • امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    وتینام نے امریکہ کے خلاف افغانستان سے زیادہ بڑی "فتح” حاصل کی تھی لیکن تباہ ہو برباد ہوکر۔ آپ کی فوج یا دفاعی نظام کا اؤلین مقصد اپ کو ایسی تباہی سے بچانا ہوتا ہے۔ آپ کی دفاعی مشین ختم ہوجائے یا فوج تباہ ہوجائے تو پھر مزاحمت تو عوام بھی کر لیتی ہے لیکن تباہی کے ساتھ۔
    اس مزاحمت کی مثالیں دے کر اپنی افواج کو لتاڑنا جو آپ کو اس سے بچا رہی ہوتی ہیں حد درجہ بےوقوفی اور جہالت ہے۔
    یہ کہنا کہ "افغانیوں نے محض اللہ پر توکل کیا اور جیت گئے۔” زمینی حقائق اور اسلام کی سکھائی گئی حکمت و بصیرت کے خلاف ہے کیا کشمیری اللہ پر توکل کر کے نہیں لڑ رہے؟

    اور پھر ویتنامی تو غیر مسلم ہیں انہوں نے تو زیادہ بڑی فتح حاصل کی تھی۔ویتنام اور افغانستان کا ایک چھوٹا سا موازنہ پیش کرتا ہوں افغانستان پر حملہ آور افواج کی زیادہ سے زیادہ تعداد 130،000 تھی اور ان کو 180،000 ملی اردو کی مدد حاصل تھی ویتنام پر حملہ آور افواج کی تعداد 6 لاکھ تھی جن میں 547،000 صرف امریکی فوج تھی اور ان کو 850،000 جنوبی ویتنامی فوج کی مدد حاصل تھی۔
    افغانیوں نے 20 سالوں میں 2400 امریکی فوجی مارے جب کہ ویتنامیوں نے 20 سال میں 58000 امریکی فوجی مارے۔

    افغانیوں نے امریکی اتحادی ملی اردو کے 65000 فوجی ہلاک کیے جب کہ ویتنامیوں نے امریکی اتحادی جنوبی ویتنامی فوج کے 3 لاکھ فوجی ہلاک کیے افغانیوں نے نیٹو کے 22000 فوجی زخمی کیے جب کہ ویتنامیوں نے صرف امریکہ کے 303000 فوجی زخمی کیے افغانستان میں امریکہ مزاکرات کر کے جا رہا ہے جب کہ ویتنام سے بھاگ کر گیا تھا اور امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے لٹکے ہوئے تھے ویتیامیوں کی کل تعداد 2 کروڑ 40 لاکھ تھی جب کہ افغانیوں کی 3 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ افغانستان کا رقبہ 652،860 مربع کلومیٹر جب کہ شمالی ویتنام کا 157،880 مربع کلو میٹر تھا۔ یعنی افغانیوں کو گوریلا جنگ لڑنے کے لیے زیادہ بڑا اور پیچیدہ میدان جنگ دستیاب تھا اور سب سے بڑھ کر ویتنامی غیر مسلم تھے۔ یعنی ان کو کوئی آسمانی مدد حاصل نہ تھی جیسا کہ ہم افغان "سٹوڈنٹس” کے بارے میں دعوی کرتے ہیں آپ موازنہ کریں تو ویتنامی زیادہ بڑے جنگجو اور زیادہ بڑے ” م ج ہ دین” ثابت ہوتے ہیں لیکن 2 لاکھ سویلین افغانستان میں اور 3 لاکھ ویتنام میں مارے گئے۔ دونوں ملکوں کا خوب کباڑا ہوا۔ افغانی اور ویتنامی عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں اور لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے یہ ہیں افغانستان اور ویتنام کی عظیم فتوحات۔

    پھر بھی ۔۔۔ آپ یہ سنتے ہونگے اخے افغان "سٹوڈنٹس” کے پاس کیا تھا؟ بس اللہ پر توکل کیا اور امریکہ کو شکست دے دی،
    ہمارے پاس ایٹم بم ہے تو اس کو چاٹیں ویتنام نے امریکہ کو شکست دیدی ہم سے دس گنا چھوٹا تھا، وغیرہ وغیرہ کیا واقعی دشمن آپ کے ملک میں گھس کر اپ کو 20 سال تک رگید کر اور تباہ و برباد کر کے چلا جائے تو یہ آپ کی فتح ہوتی ہے ان لوگون کو ذرا نہیں اندازہ کہ آپ کی فوج یا آپ کے جنگی طاقت کی وجہ سے آپ سے کسی جنگ کا ٹل جانا یا آپ کی فوج کا دشمن کو سرحدوں پر روکے رکھنا کیا معنی رکھتا ہے انڈیا کی بے پناہ بڑی جنگی مشین کو پاک فوج نے سرحدوں پر روک رکھا ہے لہذا ہمیں ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی۔ لیکن افغانستان نے اپنی پراکسی جنگ پاکستان کے اندر داخل کی۔ جب جنگ سرحدوں کے اندر آئی تو آپ کی چیخیں آسمان تک پہنچیں یا نہیں؟ 70 ہزار جانوں اور 150 ارب ڈالر کی تباہی کا رونا روتے ہیں یا نہیں ہم نے چار جنگیں لڑنے کے باؤجود اگر مقبوضہ کشمیر نہیں لیا تو کیا انڈیا پانچ گنا بڑی طاقت ہونے کے باؤجود آزاد کشمیر لے سکا ہے؟؟ وہ بھی تو دعوی رکھتے ہیں نا ایل او سی کے اس پار انڈیا کی 10 لاکھ فوج کے مقابلے میں ایل او سی کے اس طرف ہماری فوج 1 لاکھ سے بھی کم ہے۔ یعنی دس گنا بڑے دشمن کو فوج نے روکا ہوا ہے اور آزاد کشمیر کے لوگ محفوظ اور پرسکون ہیں (کیا انڈین بھی اپنی فوج کو ایسے ہی طعنے دیتے ہیں؟) پاک فوج نے آپ کے خون کی پیاسی ایک دنیا کو آپ سے دور رکھا ہوا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب پاک فوج اپنا خون نہ دیتی ہو۔ اس کی قدر آپ کو تب آئیگی جب آپ کی فوج بیچ میں سے ہٹ جائے گی۔

    جب پاک فوج ج سائیڈ پر ہوئی تو دشمن ہم پاکستانیوں کا خون بھی پی جائیں گے اس دھرتی ماں پر ہمارے بہت سے سے جو انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اب دو تین دن کے اندر ہی دیکھ لیں ضلع کرم کے علاقے زیوا میں ۔ ایک افسر سمیت دو جوان کیپٹن باسط اور سپاہی حضرت بلال شہید۔ ہوگئے تھے اور رات یعنی 14 جولائی کو ‏بلوچستان کے ساحلے علاقے پسنی میں سیکیورٹی فورسز کہ گاڑی پہ دھماکہ ہوا اس دھماکے میں ہمارا جوان کیپٹن عفان مسعود شہید، ہو گیا ہمارے بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا اپنے بچے کو یتیم کر گیا شہید کیپٹن عفان مسعود کے گھر دو ماہ پہلے ہی بیٹا پیدا ہوا اور آج اپنے بیٹے کو یتیم کر کے ہمیشہ کے لئے چلا گیا ؟ اور اس دھماکے میں ہمارے 5 جوان زخمی بھی ہوئے پاکستانیوں اپنی افواج کی قدر کرو یہی افواج ہے جو دن رات اپنے خون کے نذرانے پیش کر رہی ہے اپنی پاک دھرتی کے لیے یہی پاک افواج ہے جو پہاڑوں پر سینہ تانے کھڑی ہے اور رات کو ہم اپنی سکون کی نیند سوتے ہیں جب ہم اپنی افواج کو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر برا بھلا کہتے ہیں تو ان شہداء کے گھر والوں کے ساتھ کیا گزرتی ہوگی گھر والے کیا سوچتے ہوں گے ہم اسی دن کے لیے اپنے بیٹے قربان کیے ان کے طعنے سننے کے لیے میرے بھائیو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر اپنی افواج کو برا بھلا نہ کہو یہی افواج ہے تو ہمارا پاکستان ہے ہم سکون سے جی رہے ہیں اللہ پاک ہمارے جوانوں کی حفاظت فرمائے اور دشمن کو نیست و نابود کردے آمین

  • قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    افواج پاکستان کا شمار بھی ملک کے اُن چند اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ملک کی خدمت میں اہم کردار اداکیا ہے۔ افواجِ پاکستان نے نہ صرف یہ کہ ملکی سرحدوں کے دفاع کو ہمیشہ مستحکم رکھا اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گزشتہ دو دہائیوں سے پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل ہے۔ جس میں ہزاروں جانباز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افواجِ پاکستان نے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور وطن عزیز کو جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑا، تو ہمیشہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے افواجِ پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔ کٹھن سے کٹھن حالات اور کڑے سے کڑے امتحانوں میں افواج پاکستان نے اپنے فرائض تندہی، جانفشانی، ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیے ہیں۔اور غیر یقینی حالات کا حل بہت خوش اسلوبی سے نکالا ہے۔

    افواجِ پاکستان کے جوانوں نے پاک سر زمین کے دفاع اور سلامتی کے لیے ناقابلِ فراموش داستانیں رقم کیں۔ افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت پوری قوم ان پر ناز کرتی ہے۔ پاک فوج کا سب سے بڑا مقصد ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔ پاک فوج نے ناصرف اپنے ملک میں دہشت گردوں کا صفایا کیا بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مشکلات میں گِھرے افراد کو زندگی کی نئی راہ دکھائی۔خیبر پختونخوا جو پچھلے کئی سال دہشت گردی کا رہا،لیکن پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوگیا۔

    پاک فوج نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرکے خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف یکے بعد دیگرے آپریشنز کیے۔ اور دہشگردی کے خاتمے کے لئے اپنی جانیں پیش کی۔امن کے قیام کے ساتھ ساتھ پاک فوج جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کرتی رہی۔ اور دہشتگری کی لپیٹ میں آنے والے علاقوں کے عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بناتے رہے۔ پاک فوج نے دہشتگردوں کی طرف سے نصب کردہ بارودی سرنگوں اور دہشتگردی کے دیگر واقعات میں معذور ہونے والے افراد پرخصوصی توجہ دی۔اس ضمن میں پاک فوج نے مختلف سماجی اداروں کی مدد سے ان معذور افراد کی فلاح کے لئے مختلف کوششیں کیں۔

    پاک فوج نے وانا، جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکوں میں معذور ہونے والے افراد کے لئے ریہاب سنٹر قائم کیا۔ جہاں 194 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگائی گئی۔ اسی طرح پاک فوج نے فاٹا ڈیسیبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے اشتراک سے “چل فاؤنڈیشن” کے ذریعے 96 اور “پاکستان انسٹیوٹ آف پراستیٹک اینڈ آرتھوٹک سائنسز” کے ذریعے 163 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگوائی۔پاک فوج کی مدد سے دہشت گردی سے متاثر کل 435 افراد کو مصنوعی ٹانگیں فرائم کی گئی۔ جن میں 308 کا تعلق جنوبی وزیرستان، 28 ٹانک، 7 لکی مروت،، 72 شمالی وزیرستان، 17 ضلع کرم، 2 خیبر، 6 ضلع مہمند اور 12 افراد کا تعلق باجوڑ سے تھا۔سی ایم ایچ میں بارودی سرنگ دھماکوں میں زخمی افراد کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس کو مزید بہتر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اس کے علاوہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچھائی گی بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے پاک فوج دن رات کام کررہی ہے۔

    پاک فوج نے مختلف علاقوں کے معذور افراد میں 700 وہیل چیئرز، بیوہ خواتین میں 590 سلائی مشینیں اور 115 بیساکھیاں تقسیم کیں۔ ضلع کرم میں 50 ضرورت مند افراد کو وہیل چیئرز، 40 عورتوں کو سلائی مشینیں، اور 15 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں 400 افراد کو وہیل چیئرز، 350 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں، جنوبی وزیرستان میں 250 افراد کو وہیل چیئرز، 200 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔پاک فوج ہمیشہ سے پاکستان میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کی خیر خواہی اور فلاحی امور میں اپنی قربانیاں پیش کرتی رہی ہیں۔یہ افواج پاکستان کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں امن کا قیام یقینی ہوگیا ہے۔

  • افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    یہ جوحالیہ دہشت گردی ہے۔۔ اِس کے پیچھے بھارتی وردی ہے۔۔ افغانستان میں پچھلے کئی سالوں سے کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری ضائعہونے کے پیش نظر، بھارت حسبِ معمول پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ملک میں جاری پیشرفتیں اِس کے مذموم عزائم خاک میں ملنے کی یقینی نوید ہے۔ ہندوستان سر توڑ کوشش کر ہا ہے کہ کسی طریقہ سے بھی ا فغانستان میں جنگ جاری رہے اور ملک میں امن واپس نہ آئے تاکہ بھارت ا فغانستان کی سر زمین کو پاکستان مخالف ریاستی دہشت گردی کے لیے بلکل ویسے ہی استعمال کر سکے جیسیامریکی افواج کی موجودگی میں کرتا آیا ہے۔افغانستان سے جبری طور پر امریکی جانے سے ہندوستان کے افغانستان میں پاکستان کے کردار کو روکنے کے خوابوں کو چکنا چور کردیا گیا دوسری جانب جونہی طالبان نے اپنا کنٹرول وسیع کیا تو نئی دہلی کو قندھار اور دیگر مقامات پر اپنے عہدے داروں کو ان کے قونصل خانے سے نکالنا پڑا۔

    یہ قونصل خانے مودی حکومت کی پُشت پناہی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ معتبر ذرائع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قندھار سے فرار ہونے والے زیادہ تر ہندوستانی عہدیداروں کا تعلق ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (را) سے ہے۔بھارت افغانستان میں تمام محاذوں پر اپنی شکست کا خود گواہ ہے، اور امریکی افواج کے انخلا نے نئی دہلی کوبوکھلاہٹ اور ششوپنج میں چھوڑ دیا ہے۔اِس بات سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو پھیلانے کے لئے افغان سرزمین پر اپنے اڈوں کا استعمال کر رہا ہے اور بنیادی طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے افغانستان میں انٹیلیجنس بنیادوں کا جال بچھا رہا ہے۔اِس ظمن میں بارہا پاکستان بین الاقوامی برادری کو دستاویزات کے ذریعہ شواہد دے چُکا ہے کہ ہندوستان افغانستان میں بعض دھڑوں کو پریشانی پیدا کرنے اور وہاں خانہ جنگی جاری رکھنے کے لئے ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ایک معتبر ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کاگذشتہ کئی برسوں کے دوران افغانستان میں بنایا ہوا انٹلیجنس نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے، اور مزید کہا گیا ہے کہ جب اب بھارت افغانستان سے فرار ہورہا ہے وہ اب بھی افغانستان میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے افغان طالبان مخالف قوتوں کو اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کررہا ہے کیونکہ پُر امن افغانستان کی جانب جاری مثبت پیشرفت بھارتی عزائم کے برعکس ہے۔ بھارت پُر زور ہے کہ افغانستان میں جنگ جاری رہے

    کیونکہ وہ پُرامن افغانستان میں اپنی شکست دیکھ رہا ہے کیونکہ پُرامن افغانستان بھارت کو کبھی بھی افغانستان اور پاکستان میں مسلمانوں کے خلاف اپنے مذموم منصوبوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے بھارتی بڑی سرمایہ کاری ضائع ہونے پر یہ کہاوت یاد آجاتی ہے کہ دھوبی کا کُتکا نہ گھر کا نا گھاٹ کا۔۔ دوسری جانب ہر گزرتے دِن کے ساتھ افغان طالبان افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط کرتے دیکھائی دیتے ہیں، حالیہ دنوں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغان سر زمین کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔افغان -امریکا دوحہ مذاکرات میں پاکستان کا بہت ہی قلیدی قردار ہے۔افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، پاکستان امن کا داعی ملک ہے کیونکہ پاکستان دُنیا کا وہ واحد مُلک ہے جس نے خطہ میں قیامِ امن کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افواجِ پاکستان دُنیا کی وہ واحد فوج ہے جس کے آفیسر سے سپاہی تک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دی ہیں،پاکستان افغانستان کا بہت اہم پڑوسی ہے اور افغانستان کے مسئلہ کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، جامع مذاکرات کے ذریعے ہی سیاست حل تلاش کرنا ہوگا۔امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب یہ ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ معنیٰ خیز سیاسی مذاکرات کرے اور افغانستان کے امن کو یقینی بنائے کیونکہ افغانستان اور پڑوسی ممالکمیں معاشی استحکام لانے کے لیے دیرپا اور پائیدار امن ناگزیر ہے۔