Baaghi TV

Category: متفرق

  • دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ایک دن موت آ کر رہے گی ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹیں گے یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے

    ہمارا دُنیا کا سب کچھ رہن سہن یہ سب صرف ہمارا ضرورت ہونا چاہیے اور ہمارا مقصد آخرت کی زندگی ہونی چاہیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے ہمیں حلال حرام جائز ناجائز کو دیکھنا چاہیئے اس دنیا میں نہ کوئی سدا رہا ہے نہ رہے گا یہ دنیا دھوکے کے گھر کے علاوہ کچھ نہیں سب آخرت کی فکر کریں حقیقی زندگی وہی ہے

    آج وقت ہے موقع ہے اللہ تعالی پر پوری طرح کامل ایمان رکھنا، اپنی قبلہ کو ٹھیک کرنا، برے اعمال اور گندی چیزوں سے بچنا، انسانوں کے ساتھ معاملات ٹھیک کرنا اپنے رب کو راضی کرنا اللہ تعالی کے حضور میں توبہ کرنا

    قرآن مجید کو پڑھنا اور سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مرنے سے پہلے آخرت کیلئے تیاری کرنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر اپنی زندگی گزارنا، شرک نہیں کرنا اور کسی کو اللہ تعالی کے ساتھ شریک نہیں بنانا، مال دولت کے نشے میں اپنے رب اور غریبوں کو نہ بھولنا، زندگی سے پیار کرنا لیکن آخرت اور قبر کو ہمیشہ یاد رکھنا، غرور اور تکبر سے بچنا اور ہمیشہ اپنی زندگی عاجزی کے ساتھ گزارنا

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے اور جس وقت موت آئے تو اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوں آمین

  • ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    افغانستان جو آج کل اخبار کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ایک علم کو اپنے ذرائع سے خبروں کی کھیپ پہنچتی رہتی ہے ۔ تو ایسے میں ہم بھی کان لگا کر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ دیکھیے کون سی خبر ہم تک کیسے پہنچتی ہے ۔افغانستان سے ہمارا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنے کہ ہم خود ۔ ایک تو افغانستان کی اکثریت آبادی مسلم ہے ، دوسرا ہماری ہمسائیگی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کے معاملات پر نظر رکھنی پڑتی ہے، تیسرا عالمی طاقتوں کی گزرگاہ ماضی کی طرح آج بھی افغان زمین کو ہی سمجھا جاتا ہے اور چوتھا ہمارا ازلی دشمن بھارت امریکی آشیرباد سے افغانستان میں اپنے خونی پنجے مضبوط کیے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوے بھی ہمیں افغانستان کی بدلتی حالت پر نہ صرف نظر رکھنا پڑتی ہے بلکہ حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کی جدو جہد بھی کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان بحیثیت ریاست کبھی بھی افغانستان میں جنگ نہیں چاہتا کیونکہ ادھر جنگ کا مطلب ہے کہ اس کی تپش پاکستان تک پہنچنا ۔ ماضی قریب و بعید میں بھی پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکالنے کا راستہ ملنا پاکستان کی ہی مرہون منت ہے ۔ بھارت نے جہاں افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہی پر اس نے افغانستان میں اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایسے استعمال کیا ہے کہ ایک طرف امریکیوں کی خبریں رکھی ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں دخل اندازی کرکے پاکستان کے حالات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کرچکاہے۔

    کئی ایک افغانی اس گھناونے کام میں بھارت کے نہ صرف مددگار رہے ہیں بلکہ بھارتی پے رول پر کام بھی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے امت واحدہ اور انسانیت کے نام پر لاکھوں بلکہ کروڑوں افغانیوں کو پناہ دی اور ان میں سے کچھ نے اپنا دین ، روایات اور اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر بھارتی پروپیگنڈے سمیت خودکش دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کا ساتھ دیا ہے ۔ آج کے اخبارات میں ایک خبر چھپی ہوئی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ افغان ایجنسی بھی بھارتی ایجنسی کے ساتھ ملکر اپنے بڑے بھائی کے چھرا گھونپ رہی ہے ۔ اخبار کے مطابق طالبان کو افغان چیک پوسٹوں سے 3 ارب روپے کے قریب پاکستانی کرنسی ملی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ چیک پوسٹیں پاکستانی سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز سے چھینی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ تصاویر موجود ہیں جن میں ایک شخص کو پاکستانی روپیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ بتائی گئی معلومات کے مطابق یہ رقم افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے کرنل کے کمپاونڈ سے ملی ہے۔ اس کمپاونڈ کے عقب میں ہی قندھار کا بھارتی قونصلیٹ تھا جو تازہ تازہ خالی ہوا تھا ۔ افغان سیکیورٹی فورسز یہ رقم سمگلروں سے بطور رشوت لیتی رہیں اور پھر یہ رقم پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو دی جاتیں جو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی تھیں۔

    حالیہ خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ہوے دہشت گردانہ واقعات میں افغانی انٹیلی جنس کا کردار کس قدر اہم رہا ہے ۔ پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھنے والے امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اپنی زمین کا دفاع کرنے میں تو نا کام ہو چکے ہیں ۔ آئے روز طالبان کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ فلاں قصبے میں داخل ہوچکے ہیں اور اتنے افغان فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر پناہ مانگی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کہ افغان سرحد کے قریب چند لوگ پاکستانی سرزمین میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ امید ہے کہ جہاں بھارت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغان حکومت کو اپنی حکومت بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں پر ان بے وقوفوں کو بھی سمجھ آجائے گی کہ وہ کن ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ پاکستان آج بھی کوشش میں ہے کہ افغان عوام کا کم سے کم نقصان ہو کیوں کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم آج بھی انھیں امن و سکون سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ وہ افغانی خفیہ ایجنسی کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں جما رہے بلکہ پاکستان میں بدامنی پھیلاے ۔ بھارت یاد رکھے کہ پاکستانی عوام نہ صرف جاگ رہی ہے بلکہ افغانستان میں ہورہے واقعات پر گہری نظر رکھے معاملات کو سمجھ بھی رہی ہے ۔ ایسے میں اگر بھارت باز نہیں آتا تو اسے نکیل ڈالنے میں کوئی تردد نہ ہوگا ۔

  • ہماری آرمی ہماری محافظ .تحریر: فضل عباس

    ہماری آرمی ہماری محافظ .تحریر: فضل عباس

    پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی دشمنوں کی سازشیں شروع ہو گئی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان آرمی نے ہمیشہ ان کے دانت کھٹے کیے
    بقول شاعر:
    انگلی مت اٹھانا بازو توڑ کر رکھ دیں گے
    غلطی سے جو للکارے گا گاڑ کے رکھ دیں گے
    ہم پاکستانی مجاہد ہیں اس دھرتی کے رکھوالے
    ہم جان کی بازی کھیل کر تجھ کو کاٹ کر رکھ دیں گے

    پاکستان بننے کے سترہ سال بعد ہمارے اذلی دشمن بھارت نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمارے ملک پاکستان پر حملہ کیا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس نے اپنا ہاتھ شیر کے منہ میں دیا ہے پاکستانی افواج نے نہ صرف بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے بھارت کی یہ حالت تھی کہ ایک بی آر بی نہر پار نہ کر پایا اور اس کے علاوہ چونڈہ کے محاذ پر اپنے ٹینکوں کو تباہ کروا بیٹھا آج بھی چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان کہا جاتا ہے
    اس عبرت ناک شکست کے بعد انڈیا دم دبا کر اقوام متحدہ بھاگا اور دونوں ممالک میں جنگ بندی ہوئی

    1971 میں جب ملک دو لخت ہو گیا تب افواج پاکستان نے آگے بڑھ کر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ملک کو سنبھالا اور پاکستان کو مستحکم حالت میں لاۓ

    1998 کی کارگل جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارت کو جو زخم دیے وہ آج تک تازہ ہیں پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے جنگ کے دوران انڈین سر زمین پر قدم رکھا اور دشمن کو للکارا اور اسے بتایا کہ ہم ہر وقت اپنے وطن کی حفاظت کے لیے تیار ہیں اگر کبھی دشمن نے پاکستان کو میلی نگاہ سے دیکھا تو اس کی وہ آنکھ باقی نہیں رہے گی جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں افواج پاکستان نے یہاں بھی انڈیا کو دھول چٹائی

    پاکستانی افواج کی سب سے بڑی لڑائی اس کے بعد آتی ہے اور وہ ہے دہشتگردی سے لڑائی
    پاکستانی فوج دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشتگردی کو شکست دی دہشتگردی سے جنگ سب سے مشکل جنگ ہے اس جنگ میں دشمن کے کئی چہرے ہوتے ہیں کبھی اپنوں کے روپ میں چھپے دشمن سے لڑنا پڑتا ہے تو کبھی بیرونی فنڈنگ پر پلنے والے غداروں سے

    لیکن افواج پاکستان نے یہ کارنامہ انتہائی کامیابی سے سر انجام دیا ہے دشمن جس روپ میں بھی تھا اس کے سر کچل دیا ہےاس سب کے لیے پاکستان آرمی نے کئی آپریشن کیے اور ان آپریشنز میں کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاان آپریشنز میں مشہور ترین آپریشن”ضرب عضب” ہے اس آپریشن دہشتگردی کا سر اس طرح کچلا کہ وہ دوبارہ اٹھ نہ سکی

    اللہ تعالیٰ پاکستانی افواج کو مزید طاقت ور بناۓ تا کہ پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک خود کو محفوظ سمجھیں آمین ♥️

  • بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    فیس بک پر ایک خبر پڑھی کہ ایک نوجوان نمبر کم آنے پر ماں ، باپ کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو کر بیٹے نے زہر کی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا _ انھیں ساتھ یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ ماں ،باپ کے خواب ، خواہشات ، امید ، آس ، روشن مستقبل کا خاتمہ بھی ساتھ ہو گیا _یہ صرف اک زندگی نہیں ختم ہوئی بلکہ کئ زندہ لاشیں چھوڑ گیا اپنے پیچھے _ ہر سال رزلٹ آنے پر ایسے واقعات منظر عام پر ضرور آتے ہیں _ مگر مجھے کبھی بھی ان مرنے والے بچوں کے ساتھ ہمدردی نہیں ہوئی _ انھوں نے تو خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بھلا ظالموں کے ساتھ کیسی ہمدردی ؟؟

    مجھے تو اس ماں کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جو اک ہی دن میں بوڑھی ہو گئ ہو گی _ مجھے تو اس باپ کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جسکی کمر اتنے بھاری دکھ سے جھک گئ ہو گی __
    حیرانی کی انتہا تو میری تب ہوئی جب میں نے اس پوسٹ پر کۓ جانے والے کمنٹس پڑھے وہ کچھ اسطرح تھے ” ماں ، باپ کو کچھ خیال کرنا چاہیے تھا ڈانٹتے ہوۓ جوان بیٹا تھا ” _ "ماں باپ کو نمبروں کی دوڑ سے باہر آ جانا چاہے ” __ ” بچوں کو اپنی زندگی جینے دیں ” __ ” بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں ” _

    یہ سب کمنٹس پڑھ کر مجھے تعجب ہوا _ ہم کس راہ پر چل نکلے __ بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں __ اک منٹ بچے کرنا کیا چاہتے ہیں آپ چند دن انھیں آزاد چھوڑ کر دیکھ لیں لور لور سڑکوں پر پھرنا چاہیں گے سارا دن موبائل میں گم رہنا چاہتے ہیں ، ساری ساری رات جاگ کر فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں ، آدھی آدھی رات تک دوستوں کی رنگین محفلوں کا حصہ بنا رہنا چاہتے ہیں یہ سب ہی تو چاہتے ہیں بچے آزادی کے نام پر۔۔

    اگر آپ دل لگا کر پڑھتے ہیں ساتھ ساتھ آپکو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کچھ ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں ، اماں ، ابا نے کسی اچھے سکول کالج میں بھی داخل نہیں کروایا سہولیات بھی میسر نہیں آپکو اور پھر آپکے نمبر کم آتے ہیں آپکے والدین آپکو ڈانٹتے ہیں تو بیٹا اپکو حق ہے آپ دلبرداشتہ ہو جائیں گھر چھوڑ جائیں یا گولیاں کھا لیں میں آپکے ساتھ ہوں آپکے حق میں ہوں _ اگر آپکو پڑھنے کے علاوہ کوئ کام نہیں کرنا پڑتا ، آپکے ہاتھ میں موبائل بھی ہے ، آپکے کھانے پینے کا خیال بھی کیا جاتا ہے ، آپکو اچھے سکول ، کالج میں داخل کروایا گیا اور پھر آپکے نمبر کم آئیں اور والدین پوچھیں بھی نہ تو آپ غلط ہیں ، یعنی پھر آپ چاہتے ہیں والدین سے والدین ہونے کا حق چھین لیا جاۓ؟ آپکا ساتھ دینے والے بھی غلط ہیں میری ماں نے ایک دفعہ کہا تھاجن کے پلے کوئی کرتوت نہیں ہوتی وہی زیادہ اچھلتے ہیں اور یہ سچ ہے خالی برتن زیادہ شور کرتے ہیں جن بچوں میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی ، جو ناکام اور نکارہ زندگی چاہتے ہیں وہی والدین کے آگے تن کر کھڑے ہوتے ہیں وہی زیادہ شور ڈال کر چیخ کر چلا کر ، دھمکیاں دے کر یو پھر کبھی کبھی ان دھملکیوں پر عمل کر کے اپنے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں
    صاف سی بات ہے جن والدین نے آپ پر اپنی محنت کی کمائی لگانی ہے اپنا وقت ، محبت ، توجہ نچھاور کرنی ہے انھوں نے پھر نمبروں کی دوڑ میں بھی دوڑانا ہے آپکو اتنا تو پھر حق ہے نا انکا اور پھر بدلے میں آپ انھیں اچھا رزلٹ بھی نہ دے سکو تو آپ کا قصور ہے برائے مہربانی اپنا قصور چھپانے کے لیے حرام موت کو گلے لگا کر والدین کے حصے میں قصور ڈالنا بند کریں خود چلے جاتے ہیں اور دنیا کی نظروں میں ماں ، باپ کو مشکوک کر کے ساری عمر پچھتاوؤں کے سپرد کر جاتے ہیں ۔۔۔

  • ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    افغانستان کی دن بہ دن بدلتی صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مشترکہ دُشمن پاکستان میں وہی پراکسیز کو تیز کرنے کی کوشش میں ہیں جو آج سے چند سال پہلے مسلط کر کے اور مُنہ کی کھا چُکا ہے اب دوبارہ ایک بار پھر سے افغانستان میں شکست خُوردہ ہو کر کسی مکار لومڑی اور بُزدل دُشمن کی طرح اپنے تمامتر وسائل استعمال کرتے ہُوے پاکستان میں انتشار کی فضاء پیدا کرنےکے لئے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وارمسلط کرنےجا رہا ہے بھارت اور امریکہ کے ساتھ اسرائیل میں یہ تہہ ہُوا ہےکے پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی کی سزا ضرور ملنی چاہئےکیوں کے اب پاکستان اپنے اندرونی اور بیرونی فیصلوں میں خُود کو آزاد کر رہا ہے۔

    اور یہ دُشمن کو پسند نہیں آرہا کے پاکستان نے بھارت کو نازی سوچ سے ملا کر دنیا میں ذلیل کر کہ رکھ دیا ہے انٹرنیشنل لیول پر دنیا کو اپنے ساتھ ملایا ہے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کے بھارت سے کشمیر پر 370 اے لگوا کر پاکستان کو بھڑکانے میں ناکام رہے تو بھارت، امریکہ، اسرائیل ڈائریکٹ پاکستان سے لڑائی یا پاکستان پر حملہ کی گُنجائش نہیں رہی ۔
    اب جیسا کے ماضی میں پاکستان کی مسلح افواج نے دنیا کی سب سے خوفناک پراکسی وار لڑی ہے بلکہ اُن میں فتح حاصل کی ہے ، الحمدُللہ ۔
    دُشمن نے پاکستان میں باقی دنیا کی طرح سیدھا حملہ نہیں کیا جیسا کہ افغانستان پر، عراق، لیبیا ، شام یا اور ممالک میں سیدھا آکر اٹیک کیا لیکن پاکستان پر کوئی بھی حملہ نہیں کر سکا کیونکہ ہم نیوکلیئر پاور ہیں بہادر افواج بھی ہے اور لڑنے کی قابلیت بھی ہےاور شائدیہ خطرہ بھی ہو کے کہیں پاکستان ایٹمی حملہ ہی نہ کردے کہ عالمی جنگ شُروع ہو جائے اور پوری دنیا ہی تباہ ہو جائے۔

    اِسی لئے دُشمن کے پاس آسان حل یہی تھا کے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وار لڑی جائے اور ساتھ جھوٹا پروپیگنڈہ جاری رکھا جائے ۔

    پچھلے 20 سالوں میں دیکھا جائے توپاکستان میں دنیا کی سب سے خطرناک پراکسی وار لڑی گئی، میرے پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک ماہ میں 40، 40 بم دھماکے ہوتے تھے پاکستان میں تب سے اب2021 تک 70 ہزار سے زائدپاکستانی شہید ہوے جن میں فوج کے جوان، پولیس، لاانفورسمنٹ ایجنسیز کے اہلکار، اور عام شہری شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جو گُمراہ ہوے دُشمن کی باتوں میں آکر ریاست کے خلاف لڑتے ہوے مارے گئےیہ اُسی پراکسی وار کا حصہ بنے جو اب پھر دوبارہ تیز نظر آرہی ہے جیسا کے بلوچستان میں بی ایل اے، اور پی ٹی ایم، ایم کیو ایم، جسقم جئے سندھ والے، اِن سب کو "را” سی آئی اے، اسرائیل فنڈز دیتے تھے ۔

    اِ س کا ثبوت ساری دنیا کے سامنے کُلبھوشن یادیو ہے، ہیلری کلنٹن کا انٹرویو سامنے ہے کہ ہم نے یہ سب کیا پاکستان میں، اور کچھ عرصہ پہلے بھارتی ریٹائرڈ میجر گوروآریا ٹی وی پر بیٹھ کر خُود بتا رہا تھا کے ہم نے بلوچستان میں کیا کِیا اور کیا کریں گے یہ بات وہ کُھل کراکثر کرتا رہا ہے۔
    اور اب بھی یہ معملہ چل رہا ہے بلکہ اب زور پکڑ رہا ہے کیوں کے سی پیک نزدیک آگیا ہے پاکستان مستحکم ہو رہا ہے تو دُشمن نہیں چاہتا کے پاکستان میں سکون ہو پاکستان ترقی کرے۔جیسا کے پہلے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کے بارے میں خبریں دیا کرتا تھا اب بھی دے رہا ہے جیسے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کی خبر بھارت میں بیٹھا بی بی سی کا نمائندہ دے رہا تھا کُچھ الگ انداز میں ، اور چند ماہ پہلے ایک بار پھر لال مسجد کی خبریں لگا رہا تھا جیسا پہلے لال مسجد پر خبریں دیا کرتا تھا اب پھر یہ ہمارے دینی حلکوں کو اُبھارنے کیلئے پُرانی خبریں نئے انداز میں چھاپ رہا ہے کیوں ؟

    کبھی فرقہ وارانہ فساد کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی دہشت گردی کی کسی تنظیم سے پاکستان کو جوڑنے کی ناکام کوشش ہوتی ہے یہی تو ہے ففتھ جنریشن وار فیئرجس سے ریاست کی عوام کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی منڈی میں پاکستان کی غلط اندازمنظر کشی کی جائے ، بدنام کیا جائے اور فیٹف جیسے اِدارے کو بنا کر صرف اپنے مقاصد حاصل کرنےکے لئے استعمال کیا جائے ۔
    ہمیں ہوشیار رہنا ہو گا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھٹکنے سے بچانا ہوگا اور اِن شاءاللہ ہم اب اِس پراکسی وار کو اچھے سے سمجھ چُکے ہیں ، ہم ففتھ جنریشن وار فیئر سوشل میڈیا پر لڑنے کے ساتھ ساتھ اب ہم ٹرینڈ بھی ہو گئے ہیں کے یہ ففتھ جنریشن وار کیا بلاہے اور یہ شعور ہمیں ہمارے محسِن لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے اچھے سے سکھا دیا تھا جب وہ ایک مشکل وقت میں پاکستان کے لئے پاک فوج کےشعوبہِ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے عہدے پر فائز تھے وہ وقت یقیناً پاکستان کے لئے بہت کٹھن اور مشکل وقت تھا تب لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے ہی پاکستان کی بکھرتی ہُوئی غفلت میں ڈُوبتی ہُوئی نوجوان نسل کو اُن کا مقصد یاد کروایا تھا اور اِس نہ نظر آنے والی جنگ کو کاؤنٹر کرتے ہُوےلیڈ کرتے ہُوے رہنمائی کرتے ہوےبھرپور طریقےسے سوشل میڈیا پر ایک مضبوط عصاب کی مالک پاکستانی نوجوانوں کو دُشمن کے مقابل لا کھڑا کیا اور ہم ایک مُٹھی کی طرح متحدہو گئے، اور ہیں اور ہمیشہ متحد رہیں گےاِن شاء اللہ۔ اللہ پاک ہمارا اور ہمارے پیارے پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان پائندہ آباد

  • ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کو اس سرزمین پر مبعوث فرمایا تاکہ وہ ہم تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔ پھر ان انبیاء کو بہت بڑے بڑے امتحانات سے آزمایا۔ جن کو اللہ پاک نے چنا وہ سب اپنے امتحانات میں سرخرو ہوئے اور ہمارے لیے مثالیں چھوڑ گئے۔ ایسا ہی ایک امتحان جو بہت صبر آزما تھا اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک سے اولاد کی تمنا کی اور اللہ تعالی نے تقریبا 100 سال کی عمر میں اسے پورا کیا اور آپکو ایک بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا کیا۔ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے امتحان لیا۔ روز خواب میں قربانی کا حکم ہوتا کہ اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کرو۔ لاتعداد اونٹ اور بکریاں روز اللہ کی راہ میں قربان کیں لیکن پھر خواب دوبارہ آتا رہا حتی کہ بیٹے کی قربانی کا حکم ملا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت مائی ہاجرہ کو سارا قصہ سنایا اور وہ بھی آخر نبی کی بیوی تھی اللہ پاک کے حکم پر آمین کہہ دیا اور اپنے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربانی کے لیے تیار کیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر اللہ کی راہ میں قربان کرنے نکل پڑے راستے میں شیطان آیا اور اللہ کے نبی کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن ہر بار منہ کی کھائی اور اللہ کے نبی نے اسے تین مقام پر پتھر مارے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی اس ادا کو ہمارے لیے حج کے واجبات میں شامل کردیا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کر زمین پر لٹایا تو بیٹے نے عرض کی کہ بابا میری اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں فرط محبت میں اللہ تعالی کی حکم عزولی نہ ہوجائے۔ دونوں باپ بیٹے نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹا دیا۔ پوری کائنات حیرت میں چلی گئئ فرشتے، جنات کہ یااللہ یہ کیسا امتحان ہے اور یہ کیسے تیرے بندے ہیں جو تیرے حکم کو بجا لانے کے لیے ہر حال میں تیار ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بسم اللہ پڑھ کر چھری چلائی لیکن اللہ تعالی کے حکم سے چھری نہیں چلی تو آپ مسلسل چھری چلاتے رہے۔ اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا ابراہیم تب تک چھری چلائے گا جب تک اسکے ہاتھ کو گرم خون نہ لگا۔ جنت سے ایک دنبہ لے جاو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نکال کر دنبہ لٹادو ۔ پھر چھری چلی تو گرم خون ہاتھوں کو لگا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
    جب پٹی کھولی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ اللہ تعالی کا پیغام سنایا اور کہا کہ اللہ تعالی نے آپکی قربانی قبول کر لی اور آپ اپنے امتحان میں سرخرو ہوئے۔ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی کو خوشخبری سنائی کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا۔ اللہ تعالی کو اپنے رسول کلیم اللہ کی ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک جو شخص حج کے لیے جائے گا وہ اس سنت کو ادا کرے گا۔

    ‏@warrior1pak

  • نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین کا نفاذ تھا کہ ایسی ریاست جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ آسانی سے ممکن ہو

    کسی بھی ریاست کے قیام کے بنیادی ستونوں میں سے نظام عدل ایک اہم ستون ہے ہے کسی بھی معاشرے میں امن وامان کے قیام کی بڑی وجہ اس معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم ہونا ہے مگر افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک نہیں دو قوانین کی بالادستی ہے امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب کے لیے الگ ۔

    یہاں اگر کوئی غریب چوری جیسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو پہلے تو اس کو لوگوں کے ہاتھوں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے اور پھر تھا نے کی ہوا الگ سے کھانا پڑتی ہے۔
    مگر ٹھہریے اگر آپ کا کوئی سیاستدان اس ملک کے خزانے لوٹتا نظر آئے گا یا کوئی با اثر شخص اس جرم کا مرتکب ہوتا نظر آئے گا تو اس کے ساتھ ہرگز برا سلوک نہ ہو گا بلکہ اس کے گلے میں ہار ہوں گے اور اس کے نعرے گونجتے نظر آئیں گے۔

    ایسا کیوں ہے کیونکہ ہمارا نظام عدل اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ وہ قانون جو کہ عدل ی بالادستی کے لئے تھا وہ امیروں کے گھروں کی باندی بن چکا ہے
    غریب کا بیٹا ہوائی فائرنگ جیسا جرم کرے گا تو جیل جائے گا مگر ایم این اے کا بیٹا یہی کام کرے گا تو قانون اندھا بن جائے گا۔

    قانون تو واقعی مکڑی کے جالے کی طرح ہے جس میں پھنسنا غریب کو ہوتا ہے اور امیر کی مثال اس مکری کی ہے جو خود اس قانون کے جالے کو بنتا ہے۔

    یہاں انصاف بکتا ہے ،یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    یہ کیسا قانون ہے کہ کرپٹ کے تحفظ کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالت لگ جاتی ہے اور غریب انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔

    اگر کوئی بھی کسی بھی اس معاشر ے میں امن چاہتا ہے خوشخالی چاہتا ہے تو اس معاشرے میں نظام عدل کی بالادستی اور سب کے لیے فوری اور سستا انصاف ضروری ہے۔

    جب نظام عدل خستہ حال ہوتا ہے تو وہ معاشرہ بھی خستہ حال ہو جاتا ہے

  • ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے کہ
    ایک بادشاہ نے دو نایاب عقاب منگوائے.
    دیکھا کہ ان میں سے ایک عقاب شکار کرتا اور اڑتا تھا لیکن دوسرا ایک ٹہنی پر بیٹھا رہتا.
    بیسیوں حربے آزمائے لیکن وہ اُڑ کے نہ دیا,
    بادشاہ نے ایک ماہر شکاری کو بلوایا, اگلے دن سب نے دیکھا کہ وہی عقاب اڑانیں بھرتا پھررہا ہے.
    بادشاہ نے شکاری سے وجہ پوچھی تو شکاری نے جواب دیا کہ عقاب جس ٹہنی پر بیٹھتا تھا ,میں نے وہ ٹہنی کاٹ دی
    اسی طرح سرکس کے ہاتھی کو نازک سی رسی سے بندھا ہوا دیکھا ہوگا آپ نے,اس ہاتھی کو بچپن میں طاقتور رسی سے باندھا جاتا رہا جو وہ توڑ نہیں سکتا تھا, جس سے اسکے ذہن میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ رسی نہیں ٹوٹے گی.

    دراصل یہ عقاب اور ہاتھی دونوں کا کمفرٹ زون تھا
    لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے کہ
    میں نہیں کرسکتا, مجھ سے نہیں ہوگا
    تو آسان سے آسان کام بھی پہاڑ بن جاتا ہے .
    ہم نے جگہ جگہ اپنی سوچ اپنے عمل, پر بیریئر لگا رکھے ہیں , اجتہاد سے دور بھاگتے ہیں.
    ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی نازک سی ٹہنی پر بیٹھا ہے
    ہار جانے کا خوف,ناکامی کا ڈر ہمیں چیلنج قبول کرنے نہیں دیتا
    چیلنج نہ لینے سے ہم اپنی سوچ پر ناکا لگادیتے ہیں ,
    ہمارے اندر آگے بڑھنے کی لگن ختم ہوجاتی ہے,
    ہم ایک چھوٹے سے محدود سرکل میں آرام دہ رہنے کے عادی ہوجاتے ہیں,
    سہل پسند ہوجاتے ہیں.
    یہی وہ نقطۂِ عروج ہوتا ہے جہاں سے زوال شروع ہوتا ہے.
    "تغیّر کو ہے ثبات زمانے میں”
    ایک تبدیلی ہی اس دنیا میں مستقل ہے,
    جامد و ساکت, متحرک و متغیّر کے رستے کی دُھول بن کر رہ جاتے ہیں .

    چیلنج لینا سیکھیں,
    ذہن منصوبہ بندی کا عادی ہوجائے گا,
    ذہن متحرک ہوا تو جسم اس سے ہم آہنگ ہونے کی تگ و دو کرے گا.
    پھر روح میں جوش,ہمت ولولہ اور قیادت کی صفات جنم لیتی ہیں.
    انسانی تاریخ کھنگال لیں,
    آپ کو ہر کامیابی کے پیچھے کوئی سر پِھرا, کوئی انوکھا, کوئی بہادر مُہم جُو نظر آئے گا
    ہر بڑی ایجاد کے پیچھے کوئی جدت پسند اور رسک لینے والی سوچ نظر آئے گی .
    تاریخ بڑی بے رحم ہے, اس میں کم ہمتی, ذہنی غلامی اور سخت و جامد رویوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے.
    ذرا کمفرٹ زون کی ٹہنی سے اُڑ کر تو دیکھیں, کتنے اُفق آپکی پرواز سے تسخیر ہونے کے منتظر ہیں ؟
    ذرا پاؤں کی زنجیر توڑیں تو سہی, کتنی دنیائیں, کتنے رستے آپکا نقشِ پا بننے کے لئے تیار ہیں ؟

    کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
    ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

  • افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    ۔ افغانستان جو پاکستان کاپڑوسی ملک ہے زیادہ تر اس کا وقت جنگ لڑتے ہوئے ہی گزرا ہے اس سے پہلے کافی طاقتیں آئیں پھر روس آیا اس وقت امریکہ ایک بین الاقوامی طاقت بن رہا تھا اسے روس کی اجارہ داری پسند نہ تھی اس نے افغانستان پرحملہ کیا اور روس سویت یونین کو وہاں قابض نہ ہونے دیا بلا آخر روس ١٩٨٩، ١٩٩٠ میں سوویت یونین جسے یو ایس ایس آر کہا جاتا تھا ٹُوٹا اور اس کے ٹُکڑے ہوئے اور روس اپنی طاقت کھو بیٹھا پھر امریکہ دوبارہ کچھ سال کے بعد حملہ آور ہؤا اور نام نہاد دہشت گردی کا واقعے ١١/٠٩/٢٠٠١کی بنا پر افغانستان پر حملہ کیا جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں اب ٢٠ سال بعد ٢٠٢١ میں حالات بدلے اور امریکہ کو بھی یہ احساس ہؤا کہ اب وہ مزید جنگ جاری نہیں رکھ سکتا اس نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر ٢٠٢١ تک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہوجائےگا لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور پڑ رہے ہیں مگر وزیراعظم سول اور ملٹری لیڈر شپ کی بہترین حکمت عملی کام دکھا رہی ہے
    اب آتے ہیں پاکستان کی اہمیت کی طرف ماضی میں جو بھی حکومت رہی اس نے صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھا نا کہ پاکستان کا زیادہ ماضی میں جائے بغیر اب روشنی ڈالتے ہیں حالیہ سیچوایشن پر اس وقت پاکستان میں ایک مضبوط لیڈر شپ وزیراعظم عمران خان کی شکل میں موجود ہے پچھلے کچھ دنوں امریکہ نے پاکستان پر ماضی کی طرح مرضی کی شرائط لاگو کرنا چاہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ہر وہ شرط رد کر دی جو پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی یہاں تک کہ امریکی عہدے داران جو وزیر اعظم کے عہدے سے نچلے عہدے کا آفیشل تھا سے بات کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ اگر امریکہ کو مجھ سے بات کرنی ہےتو وہاں کا صدر بات کرے میں وزیر اعظم ہوں پروٹو کول کا خیال رکھا جائےپچھلے دنوں امریکی سیکرٹری بلنکن کا پاکستانی وزیر خارجہ کو فون آیا جس میں دو طرفہ امور اور افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی امریکی ٹیلی فون کالز اور ملاقاتیں زیادہ اگر نہیں بھی ہوئیں لیکن امریکہ کو یہ علم ہو چکا ہےکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کسی بھی حالت میں ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جو ریاست پاکستان کے خلاف ہوگا ورنہ اس سے پہلے جب گیارہ ستمبر کو دہشت گردی کا واقعہ ہؤا تو امریکہ نے پاکستان پر ایک فون کر کے یہ پریشر ڈالا کہ

    Are you with us or against us ?

    مطلب کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف یہ بڑا عجیب سا سوال تھا بلکل ایسے جیسے دھمکی ہو یا دھونس مگر آج بہت فرق ہے اب امریکہ کے فون آرہے ہیں تو وہ زرا بہتر انداز میں بات کرتا ہے ایک اور جگہ جب وزیر اعظم سے امریکی چینل نے انٹرویو کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ امریکہ کو اپنےاڈے دیں گے تو اس پر وزیر اعظم نے واضح کہا کہ

    Absolutely Not

    یعنی ہرگز نہیں بلکل نہیں پاکستان کی سر زمین سے افغانستان پر کسی قسم کا کوئی بھی حملہ نہیں ہوگا

    اب آپ فرق دیکھ لیں کہ پاکستان نے اپنی اہمیت خود دکھائی ہے اور یہ ممکن تب ہی ہوتا ہےجب آپ کے پاس ایک مضبوط لیڈرشپ ہواور آپ خود اپنی اہمیت دکھائیں افغانستان امن عمل کے پروسیس میں جتنا اہم کردار پاکستان کا ہےکسی اور کا نہیں یہاں تک کہ افغان طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے کے لئے پاکستان ہی نےکوششیں کیں ہیں بدقسمتی سے کچھ سیاسی جماعتیں اسے سیاسی رنگ دے رہی تھیں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے تمام سیاسی پارٹیوں کو قومی سلامتی کونسل کے ان کیمرہ سیشن میں افغانستان امن عمل کے پروسیس پر بریف کیا اور کہا کہ یہ ریاست پاکستان کامسئلہ ہے دنیائے نقشے پر اس وقت پاکستان کی بہت زیادہ اہمیت ہے امریکہ جیسی سُپرپاور بھی آج پاکستان کی منت سماجت کرتی نظر آتی ہے وزیر اعظم نے یہ بھی صاف کہا کہ

    “We Will Be Your Friend, Not Your Slave’

    یعنی ہم آپ کے دوست بنیں گے لیکن آپ کے غلام نہیں

    یادرکھیں ہمیشہ کے قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ایک لیڈر شپ مضبوط اسٹینڈ لیتی ہے آپ کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا.

    ﷲ تعالیٰ پاکستان کاحامی و ناصر ہو آمین

  • قربانی :تحریر ارم رائے

    قربانی :تحریر ارم رائے

    مسلمانوں کے مذہبی تہواروں میں قربانی کو خاص مقام حاصل ہے۔ پانچ بڑے مذہبی تہوار جن میں "12ربی ال اول” ہے شب برات” ہے "شب معراج” ہے "عید الفطر” ہے اور "عید الاضحیٰ” ہے۔ عید الاضحیٰ جسے قربانی کہتے ہیں۔ ویسے تو ایک قربانی اور بھی تھی جو اج سے 13سو سال پہلے کربلا کے میدان میں دی گئی۔ جس میں دین اسلام کو بچانے کے لیے نواسہ رسول صلی الله والہ وسلم نے اپنے گھرانے کی قربانی دے کر بچایا۔ آج بھی ہم اگر ازان سنتے ہیں یا. اسلام ہمارے پاس اصل شکل میں موجود ہے تو یہ نواسہ رسول صلی الله عليه وسلم کی زندگی اور انکے گھرانے کی قربانی کی وجہ سے ہے۔ ایک تہوار جو ہم ان تکلیفوں کو یاد کرکے مناتے ہیں جو کربلا میں دی گئیں تو دوسری قربانی کو ہم خوشی کے طور پر مناتے ہیں کہ کیسے الله کی راہ میں بیٹا قربان کیا اور الله نے قربانی قبول کی۔زوالحج کے مہنیے میں دس ذوالحج کو قربانی کی جاتی ہے حلال جانور کی۔ اور یہ قربانی یاد دلاتی ہے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی جو انہوں نے الله کی محبت میں الله کی راہ میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دی۔ اللہ کی بارگاہ میں وہ قربانی قبول ہوئی ۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام کا الله سے عشق مکمل ہوا اور فرمان سے انحراف نا کیا۔ تب سے لے کے اب تک مسلمان اس عظیم قربانی کی یاد میں ہرسال کروڑوں جانور زبح کر کے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قربانی کے لیے کچھ شرائط مقرر کی گئیں۔
    شرائط یہ ہیں۔
    پہلی کہ جانور گھر کا ہو مطلب خود پالا ہو اونٹ گائے بھیڑ بکری وغیرہ۔
    جانور کی پوری ہو جیسے بھیڑ کا بچہ چھ ماہ میں پوری کر لیتا ہے جبکہ بکری ایک سال میں اسی طرح گائے دو سال میں جبکہ اونٹ پانچ سے میں اپنے سامنے والے دو دانت گرا دیتے ہیں۔
    تیسری شرط: عیب سے پاک ہو مثلاً اس کی آنکھ کان ٹانگ پر کوئی واضح ضرب نا ہو یا ٹوٹی نا ہو۔
    چوتھی شرط: ایسا پدائشی لنگڑا جو باقی جانوروں کے ساتھ چل نا سکتا ہو۔
    پانچویں شرط: یعنی بہت لاغر اور کمزور نا ہو۔

    قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہ یا فطر کا ہے۔ یعنی جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، زمہ میں واجب الادا اخراجات ادا کرنے کے بعد اتنا مال ہو یا سامان جسکی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو ان سب پر قربانی کی ادائیگی فرض ہے اور ایسے لوگ زکوٰۃ نہیں لے سکتے۔
    پاکستان میں بھی یہ مذہبی تہوار بہت عقیدت اور محبت سے منایا جاتا ہے کچھ سال پہلے تک یہ اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت سے وابستہ لوگ اپنے گھروں میں اورزمینوں پر جانور پالتے تھے۔ ہر سال کروڑوں روپے کا ریوینیو حاصل ہوتا تھا کئی لوگوں کے روزگار وابستہ تھا۔ لیکن کچھ سالوں سے لائیوسٹاک پر توجہ نہیں دی گئی جسکی وجہ سے جانور نا صرف ضرورت سے کم ہیں بلکہ مہنگے بھی بہت ہے۔ لائیوسٹاک ماہرین کہتے ہیں کہ بہتر حکمت عملی سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں حلال جانوروں کی تعداد سترہ کروڑ ہے۔ جس، میں گائیوں کی تعداد 3کروڑ 92لاکھ، بھینسوں کی تعداد 3کروڑ 42 لاکھ بھیڑوں کی تعداد 6کروڑ 80 لاکھ، جبکہ اؤنٹوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔اس تنادب سے دیکھا جائے تو دودھ کی پیداوار پچاس ہزا ٹن بڑے گوشت 2ہزار ٹن، چھوٹے گوشت مٹن کی تعداد 7ہزار ٹن اور مرغی کے گوشت کی پیدا وار 12 سو ہزار ٹن سے تجاوز کرگئی۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے فارمرز حضرات اور کاشتکاروں کی اگر مناسب تربیت کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفاده حاصل کیا جائے تو اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہےاس وقت لائیوسٹاک کا ملک پیداوار میں 12فیصد اور زراعت کا مجموعی طور پر 55فیصد ہے۔پنجاب سمیت ملک کی تقریباً چار کروڑ کے قریب دیہی ابادی لائیوسٹاک سیکٹر سے منسلک ہے۔ جو اپنی روزمرہ کی ضروریات کا 35سے 40 فیصد لائیو سٹاک سے پورا کرتی ہے۔بڑھتی ہوئی ابادی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ان غذاؤں کی کھپت میں اضافہ ہو لیکن اسے بڑھانے کی طرف توجہ کم ہونے کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ ضافہ ہوا ہے۔ جو عام لوگوں کی پہنچ سے دور جارہی ہیں اور بکر عید یعنی عید قربان میں ان جانوروں کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔ جو کہ متوسط طبقے کے لیے بڑے تکلیف دہ حالات یوجاتے ہیں۔ جو چھوٹا جانور پہلے 10سے 20ہزار میں ملتا تھا وہ اب 25سے 30 تک چلا گیا ہے۔ اور بڑے جانور میں حصہ جو کہ 7ہزار سے 10 ہزار تک تھا وہ 15سے 25 تک کا ہوگیا ہے۔ یوں اس مذہبی تہوار کو منانے کے لیے بھی ہزاروں لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کچھ سال پہلے تک لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں بھی اپنی تنخواہ سے پیسہ اکٹھا کر کے قربانی کیا کرتی تھیں اور جو سکون اور طمانیت انکے چہرے پر ہوتی تھی وہ قابل دید ہوتی تھی۔ لیکن اب تنخواہ دار ہو یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والا اس کے لیے قربانی کا جانور خریدنا نا قابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔یہ مذہبی تہوار مہنگائی کی وجہ سے تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔اس لیےحکومت سے درخواست ہے جس طرح باقی انڈسڑیز کو چلایا جارہا ہے ہنگامی بنیادوں پر بلکل اسی طرح لائیوسٹاک پر بھی توجہ دی جائے۔ تاکہ لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہو، لوگوں کو خالص غذا ملے اور پاکستان بھی ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہو۔ اور یہ مذہبی تہوار اسی جوش و جذبے سے منا سکیں جیسے پہلے منایا کرتے تھے۔
    جزاک الله