Baaghi TV

Category: متفرق

  • پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    بھارتی شہر پونے میں دلہن نے گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی کے مقام پر انٹری کی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہورہی ہے جس میں 23 سالہ دلہن کو عروسی لباس پہنے شادی کی تقریب کے مقام پر گاڑی کے اندر بیٹھ کر جانے کے بجائے بونٹ پر بیٹھ کر جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد دلہن سمیت دلہن کے رشتے دار بھی مشکل میں پڑگئے۔

    بھارتی پولیس کی جانب سے دلہن اور اس کے رشتے داروں کے خلاف موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیا جبکہ مقدمے میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جس کے تحت دلہن سمیت رشتے داروں نے بھی ماسک نہیں لگایا ہوا-

  • بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    ہمارے وطن عزیز پاکستان کے حالات ناقابل یقین مراحل میں ہیں. اس کی بنیادی وجہ ہم سب جانتے ہیں ایک تو ہمارے سیاست دان ملک کو لوٹتے رہے ہیں اور دوسرا بحیثیت قوم ہماری تربیت نا ہو سکی.
    قومیں کس طرح ترقی کرتی ہیں یہ شعور آنا بہت ضروری ہے.
    ہر کوئی صرف خود کو بنانے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچا رہا ہے.
    رشوت خوری، ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کر کہ مہنگائی کو پروان چڑھانا سنگین جرائم ہیں بد قسمتی سے حکومتیں ان جرائم پر قابو نا پا سکیں.

    ہمارا ملک ہمارے گھر کی مانند ہے اور ہمارے ملک کی عوام گھر کے افراد کی مانند ہیں. جب ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچانے کی بجائے فائدہ دینے کی کوشش کریں گے تو ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا.

    جس طرح اپنے گھر کو بنانے کے لیے محنت کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان کو دنیا کی سپر پاور بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا.
    ملک کی ترقی کا دارومدار ملک کی آمدنی پر ہے.
    سرمایہ دار لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں.
    سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیں نا کہ باہر کے ممالک میں.
    پاکستان میں کاروبار سے لوگوں کو روزگار ملے گا غربت کا خاتمہ ہو گا. ملک کی آمدنی بڑھے گی.

    ہر شعبے کے افراد کو چاہیے کہ پاکستان کی ترقی میں انفرادی طور پر اپنا حصہ ضرور شامل کریں.
    ہمارے ملک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے سرکاری ملازمین غریب شہریوں سے رشوت وصول کر رہے ہیں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع لے رہے ہیں، وکلاء کی بہت بڑی تعداد بھی عام آدمی کو انصاف فراہم نہیں کر پا رہی.

    ہم اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
    ہمارا تعلق جس بھی شعبے سے ہو مثلاً ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر، دکاندار، فیکٹری مالک اور باقی تمام شعبے،
    پولیس شہریوں کی مدد کرے نا کہ رشوت لے، ڈاکٹرز غریب لوگوں کا علاج کچھ کم پیسوں میں کر دیں، وکلاء عام آدمی کے لئے انصاف کی فراہمی کی کوشش کریں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع نا لیں لوگوں کو مناسب دام میں اشیاء فروخت کریں ، فیکٹری مالکان اپنے ورکرز کی تنخواہوں کا خاص خیال رکھیں.

    ہر ایک طبقے کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنے ملک کی عوام کو سکون اور راحت پہنچائے تاکہ عام آدمی بھی اپنی زندگی بدلنے کی طرف جا سکے.

    ہمیں غریب عوام کا بہت زیادہ احساس کرنا ہو گا. غریب لوگوں کو عزت والی زندگی میسر آنی چاہیے جو بیچارے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت پریشان، کوئی بیماری آ جائے تو پریشان اور کوئی معمولی سی پریشانی بھی ان کے لیے پہاڑ بن جاتی ہے.

    عام آدمی کو اٹھنے کا موقع ملے گا تو ملک ترقی کرے گا اس طرح کے نظام میں امیر امیر تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور غریب غریب تر.

  • ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ ایک ایپ ہے، جو آج کل پاکستانی نوجوانوں اور بچوں میں بہت مقبول ہورہی۔ بچے اس کو مفت ڈاؤن لوڈ کرتے اور اس کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہیے اس میں کریں، گانے پر لب ہلائیں یا رقص کریں یا کسی ڈائیلاگ کو بول کر اپنی ویڈیو زریکارڈ کریں یا کسی کی ویڈیو پر جوابی ویڈیو بنائیں۔ دوسری طرف ان بچوں کے والدین کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس خرافات میں پڑھ چکے۔ آج کل کے ماں باپ بچوں کی ضد کے آگے ہار جاتے، انہیں موبائل خرید دیتے ہیں، ٹیب، لیپ ٹاپ و دیگر الیکٹرانک گیجٹس بچوں کے پاس موجود ہیں اور ان کے گھروں میں 24 گھنٹے انٹر نیٹ چل رہا ہوتا ہے۔ بچے اپنے کمروں میں کیا کررہے؟ ان کے اکثروالدین کو معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اکثر بچوں کے ماں باپ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کرتے اس بات کا فائدہ بچے اٹھاتے اور وہ اپنی من مانی کرنا شروع کردیتے اور ان چیزوں کی طرف چلے جاتے، جو آگے چل کر ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی۔

    ان ایپس پر بچے بچیاں تیار ہوکر کسی گانے پر رقص کرتے اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ، تو اس پر ایسے ایسے کمنٹس آتے کہ اگر بچوں کے والدین اس کو پڑھ لیں تو ان کو پھر کبھی موبائل استعمال نہ کرنے دیں۔ ٹک ٹاک پر کوئی بچوں کے حسن کو سراہتا، تو کوئی ان کو اپنا فون نمبر دے رہا ہوتا، کوئی ان کو اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی پیشکش کررہا ہوتا۔ یوں ان ایپس پر بچے اجنبیوں کے ساتھ رابطے میں آجاتے۔ پہلے تو سب اچھا اچھا رہتا ہے، کیونکہ یہ اجنبی بچوں کو پیسے اور تحفے دیگراپنے قریب لے آتے، بعد میں یہ جرائم پیشہ افراد، بچوں کو پھانس لیتے اوران کو بلیک میل کرتے۔ ان کی ویڈیوز تصاویر بنا کر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے۔ یوں بچے اپنے ہی گھر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ کچھ کیسز میں بچے جنسی تشدد کاشکار بھی ہوجاتے اور بات خود کشی تک پہنچ جاتی۔ اس حوالے سے جب تک ماں باپ کی آنکھیں کھلتی، تب تک ان کے بچے کی زندگی تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔

    میں قدامت پسند نہیں، آرٹ و کلچر کو پسند کرتا ہوں، لیکن آپ سے سوال کہ کیا آپ پسند کریں گے کہ کوئی بھی معصوم بچہ اور بچی سڑک پر رقص کرے اور لوگ اس پر ذومعنی جملے کسیں؟ اس کو مختلف نا زیبا پیشکشیں کریں؟ ہرگز نہیں، کسی کی بھی خواہش نہیں ہو سکتی کہ اس کا بچہ پڑھنے لکھنے کے بعد اپنے لئے کسی ایسے نامناسب شعبے کا انتخاب کرے، اگر بچہ آرٹ و کلچر، رقص یا شوبز میں بھی آنا چاہتا ہوتو بالغ ہونے کے بعد آئے۔ اس سے پہلے والدین اس کو تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہتے۔ اب، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم عمر بچے بچیوں کی بہت بڑی تعداد ان ایپس پر موجود ہے، جو اپنی معصومیت یا شوبز کی چکا چوند سے متاثر ہوکر یہاں آتے اور جب وہ اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تو وہ پبلک کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ اب، یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ان کی ویڈیوز کا استعمال کس طرح سے کرتے۔ معصوم بچے بچیوں کی ویڈیوز مختلف فورمز پر فحش کیپشنز کے ساتھ پھیلا دی جاتی، ان کو گالیاں دی جاتی ہیں، ان کی کردار کشی کی جاتی۔ یوں بہت سے بچے سوشل میڈیا پر منفی مہم کا نشانہ بن جاتے

    فالورز کی تعداد بڑھانے کی خواھش، ہیرویا ہیروین بننے کی چاھت، بچوں کے مستقبل کو تباہ کردیتی۔ وہ سارا دن فون استعمال کرتے رہتے اور نہ کھاتے پیتے، نہ آرام کرتے اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے۔ والدین شروع میں اس ایپ کے نقصانات سمجھ نھیں پاتے، لیکن جب ان کے بچوں کی ویڈیوز منفی انداز میں پھیل کر فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر شخص کے پاس پہنچ جاتی، تو ان کو اندازہ ہوتا کہ ان کابچہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکا

    ان ایپلیکیشنز پر ایک اور طبقہ بھی پایا جاتا، جو اپنے نمبرز ویڈیوز ساتھ پوسٹ کرتا۔ پہلے یہ کام رات کے اندھیروں میں ہوتا۔ اب، کھلے عام گاہک ٹک ٹاک کے ذریعے سے ان لوگوں تک پہنچ جاتے لڑکے لڑکیاں جان بوجھ کر اپنے جسموں کی نمائش کرتے، تاکہ پیسے کماسکیں۔ یہ ایک بہت گھٹیا عمل جس سے فحاشی و عریانی مزید پھیل رہی اس کے ساتھ ساتھ یہ ویڈیوز دوسری سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر پہنچتی اور یہ یوں یہ برائی مزید پھیلتی۔ ہمیں اس برائی کو روکنا ہوگا، لیکن یہ دیکھا گیاہے کہ بہت سے متنازع کرداروں کی رسائی تو طاقت کے ایوانوں تک ہے۔ اس میں دو ٹک ٹاکرز نے مبینہ طور پر معروف افراد کو بدنام کیا۔

    یاد رکھیں فحش گوئی ذومعنی جملے جسم کی نمائش آرٹ اور کلچر میں نہیں آتا۔ ہمیں اس وقت ڈراما سیریلز؛ ایلفا براوو چارلی، سنہرے دن، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں ہے، عہد وفا اور فصلِ جاں سے آگے جیسے معلوماتی و تفریحی ڈراموں کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ٹک ٹاک پر ہورہا ہے، وہ فن و ثقافت اور تفریح کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس آرٹیکل کے لیے جب میں نے ٹک ٹاک سنیپ چیٹ پر ریسرچ کی تو سر شرم سے جھک گیا کہ ہماری نوجوان نسل چھوٹے کپڑوں ذومعنی گفتگو اور ہیجان آمیز گانوں پر رقص کررہی یہ نئی نسل اسلامی تعلیمات اور نظریہ ٔپاکستان سے بہت دور جاچکی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت اور مذہب کے حوالے سے آگہی دینا ہوگی۔

    بچوں اور نئی نسل کیلئے ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں۔ ان کیلئے یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹر فیس بک پر تہذیب و اصلاح پر مبنی ڈاکیومینٹریز ویڈیوز نشر کی جائیں اور یہ کام وزراتِ اطلاعات و نشریات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان بخوبی کرسکتے ہیں اور امید ھے فواد چوھدری اس پر عمل ضرور با ضرور کرینگے ان ایپلیکیشنز کو بین کرنا مسئلے کا حل نھیں انکو ریگولیٹ کرنا ان میں جو خرافات ھیں انکو دور کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری بن چکا

  • ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    افغانستان سے امریکہ کا انخلاء کئی سوالات چھوڑ کر جا رہا ہے
    امریکا نےافغانستان سے انخلاء کا مختلف ٹائم فریم دیا پہلے 11 ستمبر 2021 پھر 14جولائی 2021 کی اور ایک کانفرنس میں اگست سے پہلے پہلے انخلاء مگر ان سب پہلے ہی نکل گیا۔
    امریکہ نے افغان جنگ میں کھربوں ڈالڑ کانقصان کیا وہاں وسط ایشائی ممالک خصوصا پاکستان نے بھی کافی معاشی نقصان اٹھایا ۔

    ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر واضح کہہ چکے ہم کامیاب نہیں ہوۓ مگر مشن اس دن مکمل ہوگیا تھا جب اسامہ بن لادن کو شہید کیا اور امریکہ کی دونسلیں اس جنگ میں لڑی اب ہم اگلی نسل کو بھی اس شکار نہیں بنائیں گے۔ افغان مستقبل کے بارے بھی کہا امریکہ ان سے مکمل تعاون جاری رکھا گا۔

    امریکہ ایک طرف اپنی ہار بھی مان رہا ہے اور جب اپنا آخری کیمپ بلگرام ائیر بیس خالی کیا تو جہاں اشیاۓ خورد نوش چھوڑ گیا وہاں جنگی سازوسامان گاڑیاں کافی مقدار اسلحہ اور پانچ ہزار طالبان جو وہاں قید تھے ان کو بھی رہا کر گیا وہ اسلحہ ساتھ نہیں لیجاسکتا تھا مگر اس کو خاکستر یاپھر افغان فورسز کے سپرد بھی کر سکتا تھا صاف ظاہرہے کہ وہ یہ سب جان بوجھ کے کرکے گیا یہ سب اور پھراشرف غنی کااچانک اپنی فیمیلی اور عزیز و اقربا کے ہمراء غائب ہوجانا افغان فورسز کے اہکاروں کا استعفے دینا اور طالبان کے ساتھ مل جانا۔

    دوسری طرف انڈیا کو اپنی فکر ہونے لگی افغانستان میں اس کے بناۓ گے ڈیم پر طالبان نے قبضہ کرلیا اس نے پنے بچاؤ کیلۓ افغان فورسز کو جنگی سازوسامان کاایک جہاز بھیج دیا ساتھ میں بھارتی میڈیا پہ یہ پرپیگنڈہ بھی جاری ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ لشکرطیبہ اور جیش محمد بھی موجود ہیں اورفغانستان میں طالبان اور لشکر طیبہ کا اتحاد ہوگیا ہے افغانستان میں میں لشکر طیبہ کے 8000 مجاہدین موجود ہیں لشکر طیبہ اور جیش محمد افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے ہیں
    اب بات افغانستان تک نہیں رکے گی جموں کشمیر پر بھی مجاہدین کے مضبوط ہونے کی سائے منڈلا رہے ہیں اور کشمیر ہاتھ سے جاتادکھائی دے رہا ہےتھا اسی لیۓ پری پلین گیم ہے کہ

    ایک طرف امریکہ اسلحہ طالبان کیلۓ چھوڑ گیا اوردوسری طرف بھارت کافورسز سے خیر خواہی اصل میں فورسز اور طالبان کو لڑانااور افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف جھونکنے کا اشارہ ہے کہ طالبان یہیں مصروف رہیں کہیں ہماری طرف نہ آجائیں

    کیا پاکستان ان سب سے محفوظ رہ سکے گا اگرچہ وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے کہ” ہم کسی پرائی جنگ کاحصہ نہیں بنے گے ” یااس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہونگے اگر مرتب ہوۓ تو نتیجہ کیا نکلے گا۔

  • افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    افغانستان اور عالمی طاقتیں . تحریر : ارشد محمود

    اگر میں کہوں کہ افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان ہے تو بے جا نہ ہوگا ۔ روس اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا اور سر دھڑ کی بازی لگا کر بھی کامیاب ہونے میں ناکام رہا ہے ۔ امریکا آیا اور پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کے ساتھ افغانیوں پر بم گرائے ۔ مختلف حیلوں بہانوں ، دھمکیوں اور لالچ سے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کو ساتھ ملا کر طالبان کو الگ کردیا ۔ امریکا مکمل ناکام نہیں ہوا تو کام یاب نہیں ہوپایا ۔ ان بیس سالوں میں جہاں افغانیوں کو لاتعداد نقصان ہوا ہے وہی پر امریکا کا اس قدر نقصان ہوچکا ہے کہ اس نے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی ہے ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لمبے لمبے دور چلتے رہے اور بخیر و عافیت نکلنے کے راستے امریکا تلاش کرتا رہا ۔
    ایسے میں بھارت بھی اپنے مذموم مقاصد کو لے کر امریکا کے ساتھ آکھڑا ہوا اور پاکستان کے خلاف افغانی زمین کو استعمال کرتا رہا ۔ اربوں روپیہ افغانی زمین پر بھارت سرکار نے لگایا اور اپنے قدم جمانے لگا ۔ بھارت کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ امریکا کو اس طرح سے بھاگنا پڑے گا ۔ امریکا کے انخلا کے بعد بھارت جیسے ممالک افغانستان میں ٹک نہیں سکتے ۔ طالبان جس تیزی سے افغانستان کی زمین پر قابض ہورہے ہیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد وہ کابل پر بھی قابض ہوں گے۔ کابل پر قابض ہونے کا مطلب پورے افغانستان پر قابض ہونا ہے ۔ ہر ایسے عنصر پر طالبان کی نظر ہوگی اور ان کے نشانے پر ہوگا جو گھناونے عزائم لے کر افغانستان کی سر زمین پر حملہ آور ہوا تھا ۔ بھارت بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ رہا ہے لیکن اس بھاگنے کے ساتھ ساتھ وہ سازشوں میں بھی مصروف عمل ہے اور ڈبل گیم کھیل کر افغان انتظامیہ کو مزید مشکلات میں مبتلا کررہا ہے ۔

    اس وقت افغانستان میں بھارت کی حالت یہ ہے کہ قندھار سے اس کا تمام سفارتی عملہ اور را کے تمام ایجنٹ فرار ہوچکے ہیں اور قندھار میں واقع قونصل خانہ بند کردیا گیا ہے ۔ بھارت قندھار سے اپنے عملے کے نکالے جانے کی تصدیق تو کررہا ہے لیکن قونصل خانہ بند کرنے کی تردید کی گئی ہے ۔ اگر افغانستان میں بھارتی قونصل خانہ بند ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بھارت افغانستان کے معاملات سے مکمل طور پر باہر ہوگا ۔ اسی لیے بھارت ڈبل گیم کھیل کر طالبان اور افغان حکومت کو باہمی لڑوانے کے چکروں میں ہے ۔

    عالمی طاقتیں جو افغان امن عمل میں براہ راست شامل ہیں وہ بھی بھارت کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور فی الوقت دیکھ رہے کہ بھارت کیا کررہا ہے ۔ بھارت کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر اس کی موجودہ گیم ناکام ہوتی ہے تو طالبان کا اگلا ہدف کشمیر ہوگا اور بھارت کے وہ علاقے ہوں گے جن پر بھارت نے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ طالبان نے اگر بھارتی چالوں سے تنگ آکر امریکا سے کیا گیا معاہدہ توڑ دیا تو امریکا بھارت سے سختی سے نمٹنے پر مجبور ہوگا کیوں کہ امریکا کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ اپنے فوجیوں کو مزید مروائے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا کیوں کہ اگر افغان امن عمل خراب ہوتا ہے تو اس کی تپش صرف پاکستان اور افغانستان تک نہیں رہ گی بلکہ اس بار اس کی تپش کے ساتھ اس کے شعلے واشگٹن، لندن اور پیرس سمیت دیگر مغربی ممالک کے بڑے شہروں تک پہنچیں گے ۔

  • پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    پاکستان سالانہ 8 ارب ڈالرز کا فوڈز دنیا سے ایمپورٹ کرتا ھے .تحریر:ارشاد خان

    جس میں کوکنگ ائل ، سویابین ملک ، دالیں ، فاسٹ فوڈز، خشک دودھ ، چائے کی پتی اور بھی بہت سی چیزیں
    ھم ایک جملہ اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ھے مگر آج تک کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی موجودہ حکومت نے اس طرف نہ صرف توجہ دی بلکہ عملی کام بھی شروع کر دیا ھے
    کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو ٹاسک دیا کہ آپ سروے اور ریسرچ کرو کہ ھم پاکستان میں کون کون سے فوڈز خود پیدا کر سکتے ہیں جو ھم باہر سے منگوا سکتے ہیں
    آپ سن کر حیران رہ جاو گے کہ جب ایگریکلچر ماہرین نے ریسرچ کیا تو ان کو پتہ چلا کہ ھم یہ تمام چیزیں نہ صرف خود کی ضرورت کے لئے پیدا کر سکتے ہیں بلکہ اتنی وافر مقدار میں پیدا کر سکتے ہیں جس کو ھم ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں
    آپ کو صرف کچھ مثالیں دے دیتا ہوں اپ اندازہ کر لینگے
    پاکستان سالانہ صرف 1۔1 ارب ڈالر یعنی تقریبا 200 ارب روپے کا سویابین ملک ایمپورٹ کرتا ہے
    جبکہ 600 ملین ڈالر کا چائے ایمپورٹ کرتا ھے
    اس کے علاوہ پاکستان تقریبا تمام کوکنگ آئل باہر سے منگواتا ھے

    اب پاکستان ان شاءاللہ دو سال بعد اتنا سویابین دودھ پیدا کر سکے گا جو ضرورت سے زیادہ ھوگا اور ھم ایکسپورٹ کریں گے جبکہ چائے کی پتی بھی ھم ایکسپورٹ کریں گے ایمپورٹ کی وجہ سے ھمارے ملک کو سب سے بڑا نقصان یہ ھوتا ھے کہ ایک تو ملک میں روزگار کی کمی ھوتی ھے جبکہ ھمارے ملک سے ڈالر باہر جاتا ھے جس کی وجہ سے ھمارے ملک میں ڈالر کی کمی ھو جاتی ہے اور ھمارا روپیہ گر جاتا ھے اور مہنگائی ھو جاتی ھے حکومت کی کوششوں سے اب ھم اپنی ضروریات سے زیادہ یہ چیزیں پیدا کریں گے جس کا دو فائدے ھونگے ایک تو ھماری اپنی ضرورت پوری ھوگی جس سے روزگار بڑھے گا جبکہ دوسرا ھمارے ملک سے ڈالر باہر نہیں جائیں گے بلکہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ڈالر ھمارے ملک آتا رہے گا .جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ھوگا۔

    پاکستان ایگریکلچر انسٹیٹیوٹ نے بلوچستان کے ایک کروڑ ایکڑ رقبے کو زیتون کی کاشت کے لئے موزوں قرار دیا ھے جس پر پلانٹشن شروع ہو گئی ہے اور اگلے 3 ، 4 سالوں میں ہم اتنا زیتون ائل پیدا کریں گے کہ دنیا کو ایکسپورٹ کریں گے اور خوشی کی بات یہ ھے کہ ھم دنیا کا سب سے زیادہ زیتون ایکسپورٹ کرنے والا ملک بنیں گے۔اس کے علاوہ دالوں کی کاشت بھی شروع ھو گئی ھے جو ھماری ضرورت سے زیادہ ھونگی ایک بات ذہن میں رہے کہ مقامی سطح پر جو چیزیں ھم پیدا کریں گے ایک تو اس کی قیمت کم ھوگی جنکہ دوسرا وافر مقدار میں دستیاب ھونگے۔
    موجودہ حکومت رزاعت کے ترقی کے لئے زمینداروں کو سہولیات دے رہی ہے جس کا فائدہ اس سال سامنے آیا ھے اور وزیراعظم صاحب مسلسل خود زمینداروں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ان کے مسائل خود سن کر سمجھ کر ان کو دور کیا جا سکے۔
    حکومت نے چین کے ساتھ بھی ایگریکلچر ریسرچ شئرینگ کا معاہدہ کیا ھے جس کے لئے بلوچستان میں جگہ مختص کی ھے۔
    ان شاءاللہ پاکستان بہت جلد زرعی شعبے میں صف اول کے ممالک میں شمار ھوگا۔
    ‎@THE_Z0R00

  • جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    جنسی بے راہ روی اور والدین کا کردار.تحریر:نینی ملک

    آج کے پر فتن دور میں ہر روز اک نیا سکینڈل ایک نئ ویڈیو منظر عام پر آ رہی ہے۔ گرل فرینڈ کلچر کے نتائج ہسپتالوں میں نومولد کی لاشیں ڈال رہے ہیں تو کبھی ابارشن کے غیر قانونی طریقے اپنانے کے بعد لڑکیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔

    کبھی 4 سالہ معصوم بچے بچیاں اس ہوس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کبھی ہم جنس پرستی کا عفریت اس معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ہر طرف نوجوانوں کی ہوس کے شکار ہونے والے سہمے پڑے ہیں ہر انگلی اس نوجوان نسل کی طرف اٹھ رہی ہے ۔ ان لوگوں کی طرف کیوں نہیں جن کی ذمہ داری تھی اس نسل کی تربیت کرنا؟ کیا وہ اس سب سے مستثنٰی ہیں؟؟؟
    میرے ذاتی خیال میں سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ جنہوں نے اولاد کی لگثریز کی ذمہ داری تو اٹھا لی مگر تربیت بھول گئے۔ اور اگر تربیت کر بھی دی تو انکے وقت پر نکاح بھول گئے۔۔۔ بارہ سال کی عمر میں جوان ہونے والے بچے اپنی جنسی ضروریات کو کب تک دبایئں گے ؟ کیسے کنٹرول کریں گے جبکہ انکے ہاتھ میں موبائل اور صرف ایک کلک پر پورن کا ڈھیروں ڈھیر مواد موجود ہوگا؟؟ کالج یونیورسٹی تک پہنچتے جب انکو گرل فرینڈز اور بوائے فرینڈر میسر ہو جایئں گے۔ اور جب والدین انکی تعلیم اور جاب کا انتظار کرتے ہوئے انہیں نکاح کے بندھن میں نہیں باندھیں گے تب وہ ایسے خود ساختہ بندھن خود بناتے جائیں گے۔۔ 100 میں سے 99 جوان اس مرحلے میں بھی خود پر قابو پا لیں اگر تب بھی باقی 1 جوان پھر بھی خطرہ رہے گا اس اپنی جنسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئ ایسا رشتہ ڈھونڈے گا نہ ملنے پر آسان میسر ٹارگٹ کو ریپ کرے گا۔۔

    اگر کوئ بچی/بچہ اپنی پسند بتا دے اور نکاح کرنا چاہے تب بھی یہی والدین ذات پات اونچ نیچ کے چکر میں اپنی انا کا پرچم بلند کر کے اس حق سے محروم کر دیتے ہیں ذہنی اذیت تو جو گزرتی ہے ان بچوں پر وہ الگ کہانی مگر جس جنسی اور جسمانی ضرورت کو اس سے روک لیا جاتا ہے وہ الگ سے اثر انداز ہوتی ہے ۔۔ اکثر نشے کی لت میں پڑ کر اپنی زندگی برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس اس سب کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ 14 سال کی عمر میں جوان ہونے والے 32 سال تک بنا کسی پارٹنر کی کیسے رہ رہے ہیں اس بات کا اندازہ کیوں نہیں لگایا جاتا؟
    سب قصور انہی کی طرف کیوں نکلتے ہیں۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ رض کی شادی کم عمری میں کیوں کی گئ؟ تاکہ امت کو پیغام ملے ۔۔ مردوں کے لیے دو تین اور چار شادیوں کی اجازت دی گئ۔ مطلقہ و بیواوں سے نکاح کی تلقین کی بلکہ نبیﷺ نے خود کر کے مثال قائم کی ۔۔ نکاح کو آسان ترین بنایا گیا یہ سب کس کے لیے کیا گیا تھا؟ اسی بے راہ روی کو روکنے کے لیے لیکن آج ہم نے یہ سب چھوڑ دیا اور نتائج ہم بھگت رہے ہیں اور مزید تب تک بھگتیں گے جب تک یہ سب ہم اپنے معاشرے میں رائج نہ کر لیں۔۔۔ بلاشبہ نوجواں نسل اس کی ذمہ دار ہے مگر پہلا قدم والدین کو اٹھانا ہو گا

    ‎@NiniYmz

  • ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    ‏طالبان کون ہیں ؟ ،تحریر : ندا ابرار

    وہ 20 سالوں سے افغانستان کٹھ پتلی حکومت اور اس کے اتحادیوں سے لڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔
    اصل میں طالبان کون ہیں؟ ان کو اتنی طاقت کیسے ملی  اور عالمی طاقتیں کیوں پریشان ہیں کہ وہ افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔
    یہ سب باتیں  سمجھنے کے لئے 1980 کی دہائ کے افغانستان کو جاننے کی ضرورت ہے جب افغان گوریلاز جنہے مجاہدین بھی کہا جاتا ہے نے نو سال تک  سوویت کا مقابلہ کیا جبکہ اسلحہ اور رقم سی آئ اے فراہم کرتا رہا ۔

    1989 میں سوویتوں نے انخلاء کرلیا اور اگلے کچھ سال افغانستان کافی افراتفری کا شکار رہا۔  1992 تک افغانستان کی جنگ  پوری طرح سے گھریلو جنگ بن چکی تھی کیونکہ قبائلی رہنما اقتدار کے لیے اپس میں گتھم گتھا تھے۔ دو سال بعد طالبان نامی ملیٹنٹ نے دنیا میں توجہ حاصل کی طالبان کے  بہت سارے ممبران نے افغانستان اور پاکستان  سے بڑے بڑے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان میں سے کچھ نے مجاہدین کی حیثیت سے جنگ بھی لڑی تھی۔اور اپنے ملک افغانستان کے لئے انکے اپنے منصوبے تھے ۔

    1996 تک طالبان نے  افغانستان دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔  انہوں نے افغانستان کو اسلامی امارت قرار دیا اور اسلامی قانون کی اپنی سخت ترجمانی مسلط کرنا شروع کردی۔ پھر نائن الیون ہوا جس کا ذمہ دار امریکہ اسامہ بن لادن کو سمجھتا تھا ، جو افغانستان میں طالبان کی مدد سے روپوش تھا۔طالبان نے امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کا ثبوت چاہتے ہیں کہ لادن ہی اس حملے کے پیچھے اور جب انہوں نے اسے فوری طور پر حوالے کرنے سے انکار کردیا تو امریکیوں نے حملہ کردیا۔کچھ ہی مہینوں میں طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور افغانستان کو ایک نئی عبوری حکومت مل گئی۔تین سال بعد اس کو نیا آئین ملا اور حامد کرزئی صدر منتخب ہوئے۔جب یہ سلسلہ چل رہا تھا تو طالبان نے دوبارہ متحد اور مضبوط ہوئے  وہ غیر ملکیوں کو اپنے ملک سے باہر بھیجنا چاہیتے تھے  اور اقتدار واپس لینا چاہتے تھے اس کے بعد برسوں کے تباہ کن کشمکش جو اب بھی جاری ہے۔40،000 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔کم از کم 64،000 افغان فوجی اور پولیس اور 3500 سے زائد بین الاقوامی فوجی ہلاک۔

    صرف امریکہ نے جنگ اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تقریبا ایک کھرب ڈالر خرچ کر دیا اور آمریکہ کے ہاتھ آیا کیا ککھ نہیں اب آمریکہ بہادر گھر جا رہا ہے جوبائیڈن نے11 ستمبر تک  افغانستان چھوڑنے کا علان کر چکا ہے  اور افغانستان آج بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور طالبان اب پہلے سے بھی کئی زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں آج پورے ملک میں طالبان کے پاس 85،000 کے قریب کل وقتی جنگجو اور تربیتی کیمپ موجود ہیں۔پورے افغانستان میں مرکز کو چھوڑ کا  ان کا کنٹرول ہو چکا ہے طالبان پہلے سے زیادہ منظم اور زمانہ شناس ہو چکے ہیں ۔طالبان کا رہنما حبیب اللہ آخوندزادہ ہے وہ اس کونسل کے سربراہ ہیں جو خزانہ ، صحت اور تعلیم جیسی چیزوں کے انچارج ہے اس کے نیچے کئ  مقامی عہدیدار کام کرتے ہیں تو ایک طرح سے طالبان نے متوازی ریاست قائم کردی ہے۔وہ اپنی عدالتیں  اسلامی طرز پر چلاتے ہیں جو افغانوں میں کافی مشہور ہیں ۔اس سارے  عرصہ کنٹرول  اور حکمت عملی نے انہیں کافی مالدار بنا دیا ہے۔
    طالبان ممبران اور اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق وہ سال میں 1.5 بلین ڈالر کماتے ہیں۔ سننے میں اتا ہے کہ پہلے طالبان نے افھیم کی فروخت سے کافی پیسہ کمایا لیکن  اب انھوں نے آمدنی کے  لیے اور بھی راستے تلاش کر لئے ہیں۔  پچھلے سال انہوں نے کان کنی اور معدنیات کی تجارت اور methamphetamine کی پیداوار سے لاکھوں کمائے  ۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا افغان حکومت زندہ رہ سکے گی؟  اور طالبان کیا کریں گے؟ نیو یارک ٹائمز کے ایک پروگرام میں طالبان کے اس بیان نے چیزوں کو کافی صاف کیا جب انہوں نے کہا "ایک اسلامی نظام بنانا چاہتے ہیں … جہاں خواتین کے حقوق جو اسلام کے ذریعہ دیئے گئے ہیں – تعلیم کے حق سے لے کر کام کرنے کے حق تک محفوظ ہوں گے”طالبان کی اب تک کی حکمت عملی کافی کاریگر ثابت ہوئی  ہے ۔

  • جوڈیشل ایکٹیویزم۔ تحریر :ارم رائے

    جوڈیشل ایکٹیویزم۔ تحریر :ارم رائے

    اس ٹرم سے عام طور پر مطلب یوں لیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا ایڈمنسڑیٹیو معاملات میں مداخلت کرنا یا پوچھ گچھ کرنا۔ اسکو سیاسی حکومتیں غلط سمجھتی ہیں اور اپوزیشن ٹھیک سمجھتی ہے کیونکہ اس سے حکومت کو فیصلہ لینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔ بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ لینا پڑتا ہے تاکہ اگر عدلیہ نے پوچھ گچھ کرے تو کیا جواب دینا ہے اور اگر اس فیصلے کے خلاف عدلیہ کا حکم آگیا تو حکومتی پارٹی کی سبکی ہوگی اور ناکام سمجھی جائے گی۔ لیکن یہ ایک طرفہ سوچ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ سب نے عدلیہ کے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہی استعمال کیا اور جان بوجھ کر عدلیہ کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا راستہ دکھایا۔

    مشرف تھا تو ایک ڈکٹیٹر مگر اس نے کچھ بہترین عدالتی اصلاحات کیں اور ان میں سے ایک "سو موٹو” کا قانون۔ اس قانون کے مطابق عدالت جب چاہے جس معاملے پر چاہے از خود نوٹس لیکر کاروائی شروع کرسکتی ہے ۔ اس کا مقصد تھا کہ اگر کسی ایسے انتظامی فیصلے کے خلاف کوئی بھی عدالت جانے کی جرات نہ رکھتا ہو تو عدالت خود اس پر نوٹس لیکر اسکا فیصلہ کرے۔ اسکا بنیادی مقصد عام عوام کو عدالتی ریلیف دینا تھا جیسے کہ جسٹس ثاقب نثار نے کیا۔ وہ ہسپتالوں کو چیک کرتے تھے اور اپنی ہی عدلیہ کے سیشن ججز کے خلاف بھی سوموٹو ایکشن لیتے تھے۔ اور تو اور انہوں نے پاکستان میں ڈیمز کے مسئلے پر سو موٹو ایکشن لیا اور کچھ ایسے فیصلے کیے جسکی بنا پر پروجیکٹس لگ رہے ہیں۔ اور ان پر کام بھی ہورہا ہے عوام نے بھی اسکو بہت سراہا

    عدلیہ ایکٹیویزم بنیادی طور پر ہونا ہی معاشرے میں انصاف کی فضا پیدا کرنے کے لئے تاکہ ہر شخص کو قانون کا پابند بنایا جائے۔ کوئی طاقت ور اگر کسی کمزور پر ظلم کرے تو عدالت نوٹس لیکر خود اس کی شنوائی کرے۔ اس سے معاشرے میں تحفظ کی فضا پیدا ہوگی اور ظالم اپنے ظلم سے بعض رہے گا۔ میرے خیال میں عدلیہ اپنا یہ قانون صرف اور صرف عوام کو انصاف دینے کے لئے استعمال کرنا چاہیے نہ کہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرکے۔ ہاں ملکی سلامتی اور منی لانڈرنگ کے خلاف ایکشن بھی لیا جاسکتا ہے تاکہ کرپشن کی روک تھام میں بھی یہ قانون اپنا کردار ادا کرسکے۔

  • ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ‏قدیم و جدید ہندوستان .تحریر : محمد صابر مسعود

    ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپناقدم مبارک رکھا، جسکو موٴرخ اسلام علامہ قاضی محمد اطہر مبارکپوری رحمة اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق سترہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین کی قدم بوسی کا شرف حاصل رہا ہے، جسکو ایک شہر (قنوج) کے بادشاہ سربانک کے معجزہ شق القمر کو دیکھ کر مشرف باسلام ہونے کا رتبہ ملا ہے، جس کی طرف حضرتِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے برادر محترم ”حضرت حکم بن ابی العاص رضی اللہ عنہ“ کو ایک لشکر کا کمانڈر بنا کر ایک بندرگاہ ”تھانہ“ اور ”بھروچ“کے لئے روانہ کیا خلاصہ یہ کہ اس ملک کو ہزاروں سال قدیم ہونے کاشرف حاصل ہے۔

    یہاں قبل مسیح اشوک بادشاہ سے لے کر مغل فرماں رواں بہادر شاہ ظفر (جنہوں نے ہندوستان کی محبت میں اپنے بیٹوں کے کٹے ہوئے سروں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر درد بھرے الفاظ میں ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتی ہے ۔ اس کے بعد انگریزوں نے شہزادوں کے دھڑوں کو کوتوالی کے سامنے اور کٹے ہوئے سروں کو خونی دروازے پر لٹکا دیا تھا)
    بہر کیف مختلف بادشاہوں نے حکومت کی، کبھی تو یہ ملک ظالم و جابر حکمرانوں کے زیر دست رہا تو کبھی نیک دل اور عادل ومنصف فرماں رواؤوں کے زیر نگیں رہا ۔ اس ملک میں جہاں ایک طرف راجہ داہر جیسا ظالم، عہد و پیمان توڑنے والا بادشاہ گزرا (جس نے اپنے بھتیجے چچ کو قتل کرایا اور اپنے بھائی کی بیوہ سے شادی کی جو کہ سرہند لوہانہ نامی ایک سردار کی بہن تھی، جس نے سلطنت کی لالچ میں ایک جوتشی کے کہنے پر کہ اس کی بہن چندرا کی شادی جس شخص سے ہو گی وہ اروڑ کی سلطنت کا حکمران بنے گا چندرا سے شادی کر لی) تو وہیں دوسری طرف اس کے غرور کو خاک میں ملانے کے لئے محمد بن قاسم جیسا رحم دل جرنیل آیا ( جنکو عراق کے گورنر حجاج نے ہندوستان کی طرف بارہ ہزار افواج مع اسباب و آلاتِ حرب و ضرب کے رجا داہر کی گوشمالی کے لئے روانہ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اسلامی لشکر جرار کا راجا داہر کی فوج سے زبردست معرکہ ہوا اور راجا داہر مارا گیا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے راجا داہر کے غرور کو توڑ کر ہندوستان کی سرزمین کو ظلم و سرکشی سے پاک کردیا) اسی طرح ایک طرف اکبر نے دسویں صدی ہجری کے اخیر اور گیارہویں صدی ہجری کے آغاز میں شہنشاہیت کی ترنگ اور عقلیّت کے نشہ میں عقل وہوش سے بے نیاز ہوکر ”دینِ اسلام“ کے متوازی ”دین الٰہی“ کے نام سے ایک جدید مذہب کی تحریک چلائی (جسکا مختصر سا تعارف موٴرخ بدایونی نے کچھ اس طرح سے کرایا ہے کہ یہ برخود غلط مجتہد اور امام تھا، وحی الٰہی کو محال قرار دیتا، غیب اور عالم غیب سے متعلق ارشاداتِ نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کی برملا تکذیب کرتا، فرشتوں، جنّات، معجزات، بعث بعد الموت، حساب و کتاب اور ثواب وعذاب کا کھلے لفظوں انکار کرتا تھا۔ اس الحاد و زندقہ میں صرف اکبر ہی گرفتار نہیں تھا؛ بلکہ اس کے ارد گرد رہنے والوں میں سے اکثر لوگوں کا حال یہی تھا، معجزاتِ نبوی کے ساتھ استہزاء کی کیفیت کو ملابدایونی نے یوں بیان کیا ہے کہ ”بھرے دربار میں ایک پیر پر کھڑے ہوکر معراجِ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذاق اڑاتا اور کہتا کہ میں جب اپنا دوسرا پیر اٹھاکر کھڑا نہیں رہ سکتا تو راتوں رات ایک شخص آسمان سے اوپر کیسے پہونچ گیا، پھر خدا سے باتیں بھی کیں اور جب واپس ہوا تو بستر تک گرم تھا“ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ مذاق واستہزاء کا یہی معاملہ شق القمر اور دیگر معجزات کے ساتھ بھی تھا) تو دوسری طرف اس کے نو ایجاد دین کا پردہ چاک کرنے کے لئے مجدد الف ثانی اسکے خلاف علمِ جہاد بلندکرتے ہوئے اٹھا اور خدا کے حکم سے کامیابی و کامرانی نصیب ہوئی ، اس ملک میں عالم گیر جیسا نیک دل بادشاہ بھی پیدا ہوا جس نے حکومت کرکے اسلام کی حقانیت کو عملاً ثابت کیا، اور جسے شاہجہاں نے ایک حسین تاج محل جیسا تحفہ دیا (جس نے ہندوستان کو اپنے نور سے منور کیا ہوا ہے لیکن آج اسلام دشمنی میں اسی تاج محل کو یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ غیر ہندوستانی متصور کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں) ، اور پر شکوہ لال قلعہ دیا (اسی قلعے کے دیوان خاص میں تخت طاؤس واقع ہے جہاں بیٹھ کر مغل بادشاہ ہندوستان کے طول و عرض پر حکومت کرتے تھے) ۔
    ہمارا یہ ہندوستان کبھی سونے کی چڑیا کہلاتا تھا؛ لیکن آج جھوٹے، لٹیرے و گھوٹالے باز حکمرانوں کی وجہ سے کنگال و بھکمری کا شکار ہے کبھی تو یہ ظالم حکومت یوپی کے ایک ضلع مظفر نگر میں الیکشن جیتنے کے لئے ہندو مسلم فسادات کراتے ہوئے نظر آتی ہے توکبھی اڈانی و امبانی کے چاپلوسی کرنے کے لئے کسانوں پر ظلم کرتے ہوئے دیکھی جاتی ہے،کبھی کورونا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کا قتل کر رہی ہے تو کبھی این آر سی کے نام پر مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقے کو بغیر کسی ثبوت کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کر رہی ہے بالآخر اب یہ ملک سونے کی چڑیا نہیں بلکہ خون کے پیاسوں کا مسکن اور اسلام دشمنوں کا اڈہ بن چکا ہے جن کا تحریک آزادی میں دور دور تک نام نظر نہیں آتا اور اسی بات کو بھلانے کے لئے کہ ان اسلام دشمنوں کا تحریک آزادی میں کوئ حصہ نہیں تھا تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ انگریزوں کے خلاف علم جہاد بلند کرنے والے یہی مسلمان تھے جنکو آج نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے، کبھی تو انکو نیوز چینلز کے ذریعہ ہراساں کیا جا رہا ہے تو کبھی آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعہ مابلنچنگ کی جا رہی ہے، کبھی سی اے اے کے تحت انہیں پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے تو کبھی عورتوں کو انصاف دلانے کے نام پر مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے الغرض یہ کہ مسلمانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔وہ ٹیپو سلطان بھی ایک مسلمان ہی تھا جس کی موت پر انگریزوں نے فخریہ کہا تھا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے۔ اسی ہندوستان کی آزادی کے لیے علماءِ حق نے شاملی کا میدان اپنے خون سے گرم کیا، لاہور سے دہلی تک کے درختوں کو اپنی جان کی قربانی دے کر آباد کیا، دریائے راوی میں بہے، لاہوری جامع مسجد میں لٹکائے گئے… اور ایک دن ان کےخون نے اثر دکھایا اور 1947میں آزاد ہوگیا ۔آزاد کیا ہوا، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اسکی چھاتی کو دوحصوں میں چیر کر ایک ہی ماں باپ سے پیدا ہونے والے بھائیوں اوربہنوں کو الگ الگ ملک کا باشندہ بناکر ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا۔ برسوں شیروشکر ہوکر ایک ساتھ رہنے والے بھولے بھالے انسان انگریز کے جال میں پھنس گئے، گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے والے ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور 1947ء میں تقسیم کے وقت وہ خون خرابہ ہوا کہ شیطان بھی شرمندہ ہوگیا، انسانیت کانپ اٹھی، ہر جگہ مہاجرین کی لاشیں نظر آنے لگیں، پنجاب کا گُروداس پور خون سے سرخ ہوگیا، انسانی لاشیں کتوں کی لاشوں کی طرح سڑکوں پر نظر آرہی تھیں، تعفن زدہ ماحول قائم تھا، لیکن لوگ خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ انگریز ہندوستان سے چلے گئے، ملک آزاد ہوگیا، ہم آزادہوگئے، لیکن شاید دونوں طرف کے رہنے والے باشندے اس بات سے نا بلد تھے کہ ہم تو رسماً آزاد ہوئے ہیں، جمہوریت کا نام نہاد طوق گلے میں لٹکا دیا گیا ہے جہاں مجبور محض ہوکر زندگی گزارنی پڑے گی، عوام کے پاس طاقت نہیں ہوگی، عوام محض مفلوک الحال ہوں گے، خیر کسی نہ کسی طرح 1947ء کا طوفان گزر گیا، عوام کو خوشی ہوئی کہ وہ آزاد ہوگئے اور خدا کا شکر ہے کہ آزاد ہیں؛ لیکن آزادی کے بعد سے ہی جس قوم نے آزادی کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جہادِ آزادی کا فتوی دیا، اسے نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوگیا، کانگریس نے اسے اپنے ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنا شروع کیا تو بی جے پی اور دیگر پارٹیوں نے ا سے ڈرا دھمکا کر رکھا اور ایک دن ایسا آیا کہ آزاد ہونے پر افسوس ہونے لگا، کانگریس کی دوغلی پالیسی اور انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے گروہ نے تاریخی بابری مسجد کو آئینِ ہند بنانے والے بابا صاحب امبیڈکر کی یومِ پیدائش پر شہید کرکے یہ پیغام دے دیا کہ مسلمان جمہوریت پر یقین رکھیں لیکن ہم نہیں رکھیں گے (اور آج تک وہ درندے کتوں کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں جنمیں سر فہرست ہمارے پردھان منتری بھی ہیں) ، اور اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے ہم ان کی مساجد و عبادت گاہوں کو مسمار کرتے رہینگے ، فسادات کے ذریعے ان کے اَملاک تباہ کرتے رہینگے اور 1992ء کے بعد فسادات کا نہ تھمنے والا ایک ایسا سلسلہ جاری ہوا جو ممبئی، بھیونڈی، ملیانہ، اورنگ آباد ، مرادآباد، بھاگلپور، بہار شریف اور گجرات کے خونی ماحول سے ہوتا ہوا مظفر نگر اور دلی تک پہنچا جہاں صرف ایک ہی قوم کو نشانہ بنایا گیا، اس کی معیشت کو تباہ کیا گیا، ان کی ہی ماں و بہنوں کی عصمت لو ٹی گئی اور ستم بالائے ستم تو یہ ہوا کہ ان ہی سے حب الوطنی کا ثبوت بھی مانگا جانے لگا۔۔۔ !

    اب حال یہ ہے کہ جو لوگ آزادی کے لیےکبھی نہیں لڑے ان کی حکومت ہے اور جنہوں نے آزادی کے ذریعے اپنے خون سے سینچا وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں، ان کا ملک میں جینا دوبھر ہے، عدلیہ، مقننہ، حکومت، صحافت سب ان کے خلاف ہے، پھر کاہے کا جمہوری ہندوستان؟، اب ہندوستان جمہوری نہیں رہا، کچھ دن بعد عوام ۲۶؍جنوری کو جشنِ جمہوریت منائیں گے۔ اور یہ عہد کریں گے ’’بھارت میرا ملک ہے۔۔۔۔ہم سبھی بھارتی آپس میں بھائی بہن ہیں۔۔۔میں اپنے ملک سے محبت کرتاہوں۔۔۔۔اس کی باوقار اور مختلف النوع ثقافت پر مجھے ناز ہے۔۔۔۔میں ہمیشہ اس کے شایانِ شان بننے کی کوشش کرتارہوں گا۔۔۔۔میں اپنے والدین، اساتذہ اور سبھی گروؤں کی عزت کروں گااور ہر ایک کے ساتھ نرمی برتوں گا۔۔۔۔میں اپنے وطن اور اہلِ وطن کے ساتھ نیک نیتی کا حلف لیتا ہوں۔ ان کی بھلائی اور خوش حالی ہی میں میری خوشی ہے‘‘۔۔۔۔!اس عہد میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو سچے دل سے جمہوری ملک تسلیم کرتے ہیں، جمہوری دستور پر یقین رکھتے ہیں اور ملک میں امن و شانتی اور قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہ لوگ بھی عہد کریں گے اور جشن جمہوریت منائیں گے جنہوں نے جمہوریت و دستور کا مذاق اڑایا،اتنا ہی نہیں بلکہ وہ لوگ ہر لمحہ اور ہرپل آئین اور دستور کو ختم کرکے سیکولر کی حیثیت کو چھین کر ہندو راشٹر میں بدلناچاہتے ہیں، کاش اے کاش! وہ عادل و منصف حکمراں ہمیں پھر نصیب ہوجائیں، تاکہ ہزاروں سال کی پرانی روایت باقی رہے اور ہم خوشحال رہیں ۔۔۔!