Baaghi TV

Category: متفرق

  • ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ اور انکی 86 سالہ سزا . تحریر:سید عمیر شیرازی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی جن پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے وہ افغانستان میں افغان طالبان اور القاعدہ کی سہولت کار تھیں اور اس بےبنیاد الزام کی بنا پر انکو چھیاسی سال کی طویل سزا سنا دی امریکی عدالت نے جب کہ یہ جھوٹ پر مبنی صرف ایک الزام تھا اس واقعے کی تحقیقات بھی نہیں کی گئی تھی
    لیکن امریکا نے دہشت گرد قرار دے دیا تھا پاکستانی حکومت کی کیا مجال تھی کہ اپنے آقا کے خلاف کچھ بول سکے
    ڈاکٹر عافیہ جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک ڈاکٹر تھی جو مختلف ممالک میں جا کر اپنی خدمات سر انجام دیتی رہتی تھیں
    افغانستان کا دورہ بھی اسی طرح کا ایک دورہ تھا کیوں کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان شدید قسم کی جنگ جاری تھی اور عوام بھی اس جنگ میں متاثر ہو رہی تھی ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر پاکستانی حکومت نے امریکا کے اس گھٹیا حرکت پر کوئی احتجاج تک نہ کیا اور وہ با آسانی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا لے گے۔۔۔

    پاکستانی حکمران دیکھتے رہ گئے اور امریکی یہودی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو ان کی آنکھوں کے سامنے سے لے گئے اور ہم بے غیرتوں کی طرح
    دیکھتے رہے۔۔۔۔

    اب اللّه پاک ہی کسی معجزے کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کو ظالم یہودیوں سے آزاد کر سکتے ہیں کیوں کہ ان حکمرانوں میں تو جرات نہیں ہے .یا میرے مولا قوم کی بیٹی اور فخر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جلد از جلد یہودیوں سے آزادی دلوا دیں اور جب تک وہاں ہیں انکی حفاظت فرما۔ آمین

  • بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

    عبدالستار ایدھی 29 فروری 1928 کو بھارت کی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے ، 1947 میں بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوئے ، عبد الستار ایدھی نے 1966 میں اپنے نرسنگ ہوم کی ایک نرس بلقیس ایدھی سے شادی کی۔
    ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز

    عبد الستار ایدھی نے 1951 میں کراچی کے علاقے میٹھا در میں قلیل سرمایے سے میمن ویلنٹئر کور نام سے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے مدینہ ویلنٹئر رکھا گیا۔

    عبدالستار ایدھی نے خدمت خلق کا آغاز اسی ڈسپنسری سے کیا وہ سارا دن مجبور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور رات کو اسی ڈسپنسری کے باہر ایک بنچ پر سو جاتے ۔

    فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے عبدالستار ایدھی نے کئی ممالک کے دورے کئے جن میں ایران، ترکی ،فرانس ،یونان، بلغاریہ، یوگوسلاویہ،شامل ہیں۔

    پاکستان واپس آ کر انہوں نے 1952 میں ایک زچگی سینٹر اور 1954 میں نرسوں کی تربیت کے لئے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا۔

    عبدالستار ایدھی نے 1957 میں ایشین فلو کے وقت کراچی میں مختلف مقامات پر امدادی خیمے لگائے اور بیماروں میں مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔

    عبدالستار ایدھی کی ان گرانقدر خدمات اور خدمت خلق کی لگن کو دیکھتے ہوئے مخیر حضرات نے دل کھول کر مدد کرنا شروع کردی ۔

    ان فنڈز کی رقم سے عبدالستار ایدھی نے ایک وین خریدی اور اسے ایمبولینس میں تبدیل کیا ، یہ وین 24 گھنٹے مریضوں کو لانے لے جانے کیلئے مفت دستیاب رہتی، اسی دوران عبدالستار ایدھی نے مدینہ ویلنٹئر ڈسپنسری کا نام تبدیل کر کے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ رکھ لیا۔

    سیاست

    1970 میں خدمت خلق کے جذبے سے سر شار عبدالستار ایدھی نے باقاعدہ ملکی سیاست میں آ کر عوامی خدمت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے آذاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا ، تاہم کامیاب نہ ہوسکے، 1975 میں ایک مرتبہ پھر عبدالستار ایدھی نے انتخابات میں حصہ لیا مگر دوسری بار بھی ناکام ہوئے، اس کے بعد عبدالستار ایدھی نے ہمیشہ کیلئے سیاست سے کنارہ کرلیا۔

    ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات پر ایک نظر

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فری ایمبولینس سروس ہے، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس اس وقت اٹھارہ سو سے زائد ایمبولینسز موجود ہیں جو ملک بھر میں آج بھی مفت سروس مہیا کرتی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو ائیر کرافٹ ، ایک ہیلی کاپٹر ایمبولینس، 28 لائف بوٹ (بحری ایمبولینس) بھی موجود ہیں، اس کے علاؤہ موبائل میت سرد خانہ اور مختلف مقامات پر 180 سرد خانے بھی بنائے گئے ہیں ، ایک سرد خانہ میں تیس میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، سرد خانوں میں رکھی میت کو اگر تین دن تک کوئی شناخت نہ کرے تو اسے مواچھ گوٹھ کراچی میں بنے ایدھی قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے، اس قبرستان میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد میتوں کو دفن کیا جاچکا ہے، ایدھی فاؤنڈیشن نے ملک بھر میں تقریباً 180 میت خانے ، میرج بیورو سینٹرز ، پاگل خانے، اینیمل شلٹرز ، اسکولز ، پناہ گاہیں ، زچگی سینٹرز ، معذور افراد کیلئے سینٹرز ، ایدھی لنگر خانے اور بےشمار مہاجرین کیمپ بنائے ہیں۔۔

    بین الاقوامی خدمات

    دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایدھی سینٹرز اپنی خدمات دے رہے ہیں جن میں افغانستان، ایران ، سوڈان ، ایتھوپیا شامل ہیں۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ، امریکہ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا میں بھی ایدھی سینٹرز بنائے گئے ہیں ۔

    عبدالستار ایدھی کو ان کے خدمات بدولت بےشمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نواز گیا ہے۔

    وفات

    عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو 88 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

  • کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ کی علامات و حقائق اور اس سے بچاؤ :تحریر: سجاد علی

    کووڈ – 19 مختلف انسانوں پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتا ہے. بہت سے متاثرہ افراد میں بہت ہی معمولی نوعیت کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ بغیر ہسپتال داخل ہوئے بھی تندرست ہو جاتے ہیں.

    عام ابتدائی علامات :

    1- بخار
    2- خشک کھانسی
    3- تھکاوٹ

    غیر عام علامات :

    1- جسم درد
    2- گلہ کی سوزش
    3- اسہال
    4- آشوبِ چشم
    5- سر درد
    6- زائقہ اور سونگھنے کی حس کا غائب ہونا
    7- جلد کی سوزش
    8- جلد کی رنگت تبدیل ہونا

    سنگین علامات :
    1- سانس لینے میں دشواری
    2- سینے کا درد یا دباؤ
    3- بول چال یا حرکت کا ماؤف ہو جانا

    اگر آپ سنگین علامات کا شکار ہیں تو فورا معالج سے رجوع کریں.

    عام اور ہلکی علامات والے افراد جو کسی اور مرض میں مبتلا نہیں، گھر میں ہی معالج کی ہدایات کے مطابق عمل کر کے علامات پر قابو پا سکتے ہیں.

    کووڈ کی علامات پانچ سے چھ دن میں ظاہر ہوتی ہیں. اور بعض اوقات چودہ سے بیس دن میں نمایاں ہوتی ہیں.
    کم و بیش یہی دورانیہ مکمل صحتیابی کا بھی ہے، چودہ سے بیس دن میں مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں. بعض اوقات زیادہ سیریس علامات کی صورت میں دورانیہ تیس سے چالیس دن کا ہو سکتا ہے.

    احتیاطی تدابیر :

    کووڈ – 19 سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں. تجویز کردہ احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنی اور دوسروں کی صحت کا خیال رکھا جا سکتا ہے اور اسے مزید پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے.

    1- باہر جاتے وقت اچھے اور معیاری فیس ماسک کا استعمال کریں.
    2- بلا ضرورت ہجوم میں جانے سے گریز کریں.
    3- دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھیں. متاثرہ فرد سے قریب ہونے کی صورت میں کورونا سمیت دیگر وائرس منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے.
    4- جب ضرورت ہو تو پانی اور صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں. ایسا کرنے سے ہاتھوں پر موجود وائرس ختم ہو سکتے ہیں.
    5- ہاتھ مختلف چیزوں کو چھونے کی وجہ سے وائرس منتقل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں اس لیے آنکھ، ناک اور منہ چھونے سے اجتناب کریں.
    6- اپنے نظام تنفس/سانس کی صحت کا خیال رکھیں.
    7- طبیعت بہتر محسوس نہ ہو تو گھر پر رہیں. اس طرح اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے.
    8- بخار، کھانسی یا سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً معالج سے رجوع کریں.
    9- تمام سبزیوں اور پھلوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں.
    10- پکے ہوئے اور خام کھانوں، گوشت وغیرہ کے لیے الگ کٹنگ بورڈز اور چھریاں استعمال کریں.
    11- ایک دوسرے کے استعمال شدہ برتن استعمال کرنے سے اجتناب کریں.
    12- برتن اچھی طرح دھو کر خشک کر کے ڈھک کر رکھیں.
    13- بیمار جانوروں کا، یا باسی گوشت مت استعمال کریں.
    14- مارکیٹوں میں آوارہ جانوروں، کچرے اور فضلے سے دور رہیں.
    15- جانوروں یا ان سے متعلق مصنوعات کو استعمال کرتے وقت ہاتھوں پر دستانے پہنیں.
    16- جانوروں یا ان کی مصنوعات کو چھونے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں.
    17- یونیفارم صاف ستھرا رکھیں، روزانہ دھوئیں.
    18- باہر سے واپس آنے پر نہا کر لباس تبدیل کر لیں اور لباس دھو دیں.
    19- اہلخانہ کو کام کی جگہ پر پہنے جانے والے لباس/یونیفارم سے دور رکھیں.
    20- مکمل گھر، خاص کر کچن، باتھ روم اور زیادہ استعمال ہونے والے حصے، کام کی جگہ، زیرِ استعمال چیزیں، سواری وغیرہ کو کم ازکم دن میں ایک بار جراثیم کش دوائی سے ضرور صاف کریں.
    21- بیمار جانوروں یا غیرصحت مند نظر آنے والے جانوروں سے دور رہیں. اور ان کا علاج کروائیں.
    22- صابن اور پانی میسر نہ ہونے کی صورت میں ہینڈ سینیٹائزر وائیپس یا لیکویڈ ہمیشہ اپنے پاس رکھیں.
    23- کورونا وائرس سے متعلق تازہ ترین صورتِ حال سے آگاہ رہیں.
    24- اپنے معالج، طبی اداروں اور حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کریں.

    اللہ ہم سب کو اس ناگہانی آفت سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین

  • عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    عام سی دنیا اور خصوصی بچے . تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ان کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی، بہت پیارا صحت مند بیٹا۔اس کا نام ذیشان رکھا گیا، لیکن چند ہی دن بعد ایسا محسوس ہوا کہ بچے کے جسم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے چھوٹا اوروہ صحیح طرح حرکت نہیں کر رہا جب اس کو ہسپتال لے گئے تو پتہ چلا کہ بچہ Cerebral Palsy کا شکار ہے۔مدیحہ اور حیات حیران کہ بظاہر بالکل ٹھیک نظر آنے والا بچہ اس بیماری کا شکار کیسے ہوا؟ یہ بیماری میں بچوں کے دماغ کی نشوونما سے روکتی، جس سے اعصاب پر فرق پڑتا ہے بچے چل نہیں سکتے بول نہیں سکتے اور کچھ کیسز میں بات کرنے اورچیزیں سمجھنے سے قاصر ہوتے، یعنی دماغیجسمانی بیماری دونوں ایک ساتھ حملہ کرتی۔ کچھ کیسز میں بچوں کو دورے پڑتے جوکہ بچے کو دماغی اعصابی طور پر مزید کمزور کرتے۔
    یہ خبر ان دونوں کے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ اتنے چھوٹے سے بچے کے ٹیسٹ، اتنی دوائیاں اور ان کا بچہ روتا بھی نہیں تھا کیونکہ بیماری کی وجہ سے اس کے پاس بولنے کی طاقت بھی نھیں تھی۔ جیسے جیسے ذیشان بڑا ہونے لگا تو اس کی معذوری سب کے سامنے آگئی، نا چل سکتا، نا بول سکتا اور چیزیں پکڑ نہیں سکتا ۔ یہاں سے کڑا امتحان شروع ہوا۔ لوگوں نے ان کو طعنے دینا شروع کردیے کہ یہ بچہ ایسا کیوں، تم دونوں نے ضرور کوئی گناہ کیا، لگتا کسی کی بددعا لگ گئی۔ ان کے اپنے خاندان میں گود بھرائی کی تقریب تھی، مدیحہ کو اس لیے رسم نہیں کرنے دی گئی کہ کہیں ان کے جیسا بچہ نا پیدا ہوجائے۔ وہ ساری تقریب میں مجرم کی طرح کھڑی رہی۔ سب اس کو مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے۔ لوگ اس کو طعنے دیتے، اس کو کہتے، اور بچے پیدا نہ کرنا تم میں کوئی نقص ہے، جبکہ ایسا نہیں تھا، مدیحہ اور حیات اچھے انسان تھے۔

    بیٹے کی بیماری اور لوگوں کی نفرت نے مدیحہ کو ذہنی مریض بنا دیا، وہ ہر وقت روتی رہتی، تاہم اس کے شوہر نے اس کا بہت ساتھ دیا، وہ بچے کا بھی خیال کرتا اور اس کا بھی دھیان کرتا۔ پھر ایک ماہر نفسیات سے ملنے کے بعد اس کی زندگی میں تبدیلی آئی۔ اُس نے دونوں میاں بیوی کا سمجھایا کہ دماغی اور جسمانی معذوری کے پیچھے طبی وجوہات ہوتی ہیں، یہ کسی بددعا یا جادو ٹونے کا نتیجہ نہیں۔ یہ قسمت میں لکھا تھا کہ آپ دونوں نے دنیا میں جنت کمانی تھی۔ ایک خصوصی بچے کی خدمت اور اس سے پیار کرکے آپ کو جو روحانی سکون ملے گا وہ شاید کسی اور چیز سے میسر نہ آئے۔ نابینا پن، قوت گویائی قوت سماعت سے محروم تو عام انسان بھی ہوسکتا ہے، کچھ حادثات میں انسانوں کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اسی صورت میں علاج اور تھراپی سے کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کو اس قابل کیا جائے کہ وہ روزمرہ زندگی میں اپنا تھوڑا حصہ ڈال سکے۔ ماہر نفسیات نے ان دونوں کو سنٹر برائے خصوصی اطفال میں بھیج دیا، یہ سرکاری ادارہ تھا، سہولیات تو کم تھیں، لیکن سٹاف بہت اچھا تھا، انہوں نے ذیشان کو مختلف ورزشیں کروائ، فزیو تھراپی کروائی، اس کے لیے خصوصی جوتے بنوائے گئے۔ تھراپی، علاج اور اساتذہ کی وجہ سے ذیشان میں تبدیلی آئی۔ پہلے جو شان ہر وقت بستر پر رہتا تھا، اس نے چیزیں پکڑنا شروع کردیں اور چلنے کی کوشش کرنے لگا۔ دو سال میں شان بیٹھنے اور ہاتھ سے چیزیں کھانے کے قابل ہوگیا۔ مدیحہ اور حیات دونوں مل کر ذیشان کا کام کرتے، تاہم وہ دیکھتے کہ خصوصی بچوں کے لیے نہ ہی پارکس میں جھولے اور نہ ہی ان کیلئے کھلونے بازار میں ملتے ۔ وہ اکثر یہ ناانصافی دیکھ کر اداس ہوجاتے۔ ذیشان کو اپنے سکول میں بہت سے دوست مل گئے، کوئی بول نہیں سکتا تھا، کوئی چل نہیں سکتا تھا، کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا، لیکن سب بہت پیارے۔ یہ بچے تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ معصوم تھے، ایک دوسرے سے کوئی نفرت نہیں تھی، وہاں سب کی مل کی سالگرہیں منائی جاتی۔ بہت سے خاندان ان خصوصی بچوں کی بدولت قریب آگئے۔ حیات کی ٹرانسفر ہوگی، جب دوسرے شہر میں آکرانہوں نے شان کو خصوصی بچوں کے سکول میں داخل کروایا تو وہ یہ سن کر حیران رہ گئے کہ فیس پچاس ہزار روپے ماہانہ تھی، یہ سکول صرف خصوصی بچوں کے والدین کو لوٹنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایسے سکول شاید پورے ملک میں بہت جگہ ہوں، لیکن حکومت کی دلچسپی نہیں، شاید خصوصی بچے ان کی ترجیح نہیں۔ مدیحہ نے ذیشان کی ہوم سکولنگ شروع کروادی اور ساتھ ہی ڈاکٹر سے سپیچ تھراپی اور ایکسر سا ئز بھی۔ وقت گزرتا گیا آج شان آٹھ سال کا ہے، وہ خود چل سکتا ہے، اپنے ہاتھ سے کھانا کھاسکتا ہے اور تھوڑا تھوڑا بول لیتا ہے۔ بہت اچھی تصویریں بناتا ہے، سب کہتے ہیں یہ بڑا ہوکر آرٹسٹ بنے گا۔ وہ خصوصی بچوں کیلئے قائم سرکاری سکول میں جاتا ہے، اس کی والدہ خود اس کو لے کر جاتی ہیں، تھراپی، کونسلنگ اور علاج نے اس کو پہلے سے بہت فعال کردیا ہے۔ طبی بنیادوں پر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوسکتا، لیکن وہ اب کسی پر بوجھ نہیں ہے۔

    خصوصی ضروریات کی چار اقسام ہیں، وہ جن کو جسمانی مسائل ہوں، جنہیں نشوونما میں مسائل کا سامنا ہو، جن کو جذباتی رویے اور دماغ کے مسائل ہوں اور جس میں کمزوری شامل ہے۔ بچوں میں یہ بیماریاں عام ہیں :Down syndrome، Autism، ADHD، Bipolar disorder، Dystrophy، Epilepsy، Dyslexia، Visually impaired and Blindness۔ ان سے مکمل صحت یاب تو نہیں ہوسکتے، لیکن تھراپی اور ادویات سے جزوی فعال کیا جاسکتا ہے۔ خصوصی بچے اللہ کی نعمت ہیں، جن سے شفقت اور خدمت کرکے ہم جنت کماسکتے ہیں۔ جب بھی کسی خصوصی بچے کو دیکھیں، اس کے والدین سے غیر ضروری سوال نہ کریں۔ والدین کی اجازت سے اس بچے کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو استقامت دے اور وہ اسی طرح اپنے بچے کا خیال کرتے رہیں۔ خصوصی بچے عذاب نہیں جنت کے پھول ہیں، انہیں پاگل مت کہیں، ان کے والدین کے ساتھ بدتمیزی نہ کریں، ان کو تکلیف نہ دیں۔

  • ‏نفرت کیوں ؟ تحریر  : خالد اقبال عطاری.

    ‏نفرت کیوں ؟ تحریر : خالد اقبال عطاری.

    اگست 2019 میں پنجاب میں ایک دل خراش واقعہ پیش آیا جس میں گھریلو جھگڑے میں گریجویشن کے ایک طالب-علم نے فائرنگ کرکے اپنے ہی گھر کے 6 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا. قتل ہونے والوں میں اسکے بھائی بھابھیاں اور بھتیجے شامل تھے. قتل کرنے کے بعد نوجوان نے بھی خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی. ملزم کی خودکشی کرنے سے پہلے کی وڈیو بھی منظر عام پر آئی جس میں اس نے بتایا کہ مجھ سے نفرت کی جاتی تھی کسی کو اتنی نفرت نہ دو کہ وہ دوسروں سے نفرت کرنے لگے.
    خودکشی یا کسی کو ناحق قتل کرنا دونوں ہی ناجائز و حرام ہیں. یہ افسوسناک واقعہ دل میں پیدا ہونے والی نفرت کا نتیجہ ہے. دل کا عربی میں قلب کہتے ہیں اور قلب کا معنی ہے بدلنے والا. احادیث کریمہ میں دل کی مثال اس پر کی طرح دی گئی ہے جسے ہوائیں جنگل میں پلٹا دے رہی ہوں.
    بچہ ہو بڑا بوڑھا ہو یا جوان زندگی کے شب و روز میں دل مختلف جزباتی کیفیت سے گزرتا ہے کبھی کسی کو افسردہ یا دکھی دیکھ کر ہمدردی کا جزبہ پیدا ہوتا ہے کبھی کسی بات پر خوش بھی ہوجاتا ہے. انسان کبھی کبھار تو ایسا سخی یا رحم دل ثابت ہوتا ہے کہ چڑیوں، کبوتروں اور دیگر پرندوں کو روزانہ دانہ پانی دیتا ہے. اور کبھی ایسا سخت دل کہ کسی بے زبان جانور پر بھی ظلم کرنے سے باز نہیں آتا.
    میرے بھائیوں اور بہنوں بہت سے دوسرے جزبات کی طرح محبت( Love) اور نفرت ( Hate) بھی اسی دل کا حصہ ہے. جس سے انسان کو محبت ہوتی ہے اس سے تعلقات بھی اچھے رہتے ہیں. اور معاشرتی زندگی میں امن و سکون قائم رہتا ہے. جبکہ نفرت آپس کے تعلقات کو خراب کردیتی ھے اور رشتے توڑ دیتی ہے. بھائی بہنوں کو آپس میں شوہر کو بیوی سے دوست کو دوست سے دور کروادیتی ہے. نفرت کے سبب. خاندان کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور نام و نشان تک مٹ جاتے ہیں. نفرت کی وجہ سے بھائی کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچا کر خوش ہوتا ہے. نفرت کی سبب انسان بد اخلاق ہوجاتا ہے. یہی نفرت لڑائی جھگڑے کرواتی قتل و غارت اور آپس میں دشمنیاں کروادیتی ہے. جسکا خمیازہ کئی کئی نسلوں تک بھگتنا پڑتا ہے. آجکل حالات ایسے ہیں کہ پیار و محبت کی خوشبو کم پھیلتی ہے. جبکہ نفرت کی آگ ہماری سوسائٹی کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے.
    آخر نفرت کیوں ؟ ؟ ؟

    نفرت کیوں ہوتی ہے؟
    ہر مرض کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے کسی کی نفرت میں مبتلا ہونے کے کم از کم 9 ممکنہ اسباب( Possible Reasons ) ہو سکتے ہیں
    1: جب ہمارا کوئی رشتہ دار یا دوست ہماری امیدوں کے برعکس ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا یا ایمرجینسی کر صورت میں مدد نہیں کرتا تو ہمارے دل میں اس کے لیے نفرت کا بیج اگ سکتا ہے.
    2: جب ہمارا ماتحت ہمارے مزاج کے خلاف کام کرتا ہے تو ایک دن آتا ہے کہ وہ ہمارے دل سے اتر جاتا ہے.
    3:کسی نے لوگوں کے سامنے ہمیں نیچا دکھایا یا ڈانٹ دیا تو وہ شخص ہمیں برا لگنے لگ جاتا ہے.
    4: اصلاح کا غلط انداز بھی نفرت پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے.
    5: کامیابی اور ناکامی زندگی کا حصہ ہیں. لیکن کچھ لوگ ناکام ہونے والوں کی حوصلہ شکنی کو اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں اور یوں وہ شخص ان سے نفرت کرنے لگتا ہے.
    6: بولنا ایک فن ہے تو سننا اس سے بڑا فن ہے. اکثر لوگ دوسروں کی بات کاٹنے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے. ان کا یہ انداز بھی نفرتیں کمانے والا ہے.
    7: بات بات پر غصہ کرنا چیخنا چلانا مشتعل ہوجانا یا بد اخلاقی سے بھی نفرتیں جنم لیتی ہیں.
    8: کسی کے سودے پر سودے کرنا یا رشتے پر رشتہ بھیجنا بھی نفرتیں پھیلاتا ہے.
    9:؛ کسی کے بارے میں شک و بد گمانی یا حسد بھی محبتوں کو ختم کرنا اور نفرتوں کو جنم دینا ہے.
    اللہ پاک ہمیں محبتیں پھیلانے اور نفرت کو عام کرنے والوں کاموں اور طریقے سے محفوظ فرمائے.

  • پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ کثیرالجہتی محاذوں پر مصروفِ عمل .تحریر:افتخار احمد خانزادہ

    پاک بحریہ ایک کثیر الجہتی مقاصد کا حامل ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی بحری حدود کی حفاظت کے علاوہ خطے میں پُر امن جہاز رانی کا فروغ اور آبی گزرگاہوں کو محفوظ بناتے ہوئے پاکستان کی بحری تجارت کو بحفاطت پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے، اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے پاک بحریہ ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وطنِ عزیز کی ساکھ،سربلندی اوردائمی استحکام کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے۔پاک بحریہ نے کبھی دہشت گردی کے خلاف کھلے سمندروں میں عالمی بحری قوتوں کے ہمراہ عالمی امن کے لیے اپنی خدمات پیش کیں، کبھی انسدادِبحری قزاقی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کیاتو کبھی زلزلے،سیلاب اور قدرتی آفات میں گھرے متاثرین کو سامانِ خوردو نوش اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کو ممکن بنایا۔
    قدرتی آفات اور حادثات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی اور متزلزل صورتِ حال میں پاک بحریہ نے قوم کو کبھی بھی مایوس ہونے نہیں دیا۔ کووڈ کی صورتِ حال کے دوران پاک بحریہ نے پاکستان کے دور دراز علاقوں میں ضرورت مند خاندانوں تک غذائی اشیاء کی فراہمی کو ممکن بنا کر قوم کا اعتماد جیت لیا۔

    پاک بحریہ نہ صرف عسکری محاذوں پر برسرپیکار اپنی جرات،اولولعزمی، فرض شناسی اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ قومی سطح پر رفاہ عامہ کے کاموں میں بھرپور حصہ لے کر انسانی خدمت کا فریضہ بھی بخوبی نبھا رہی ہے۔پاک بحریہ نے نہ صرف1000 کلو میٹر کی ساحلی پٹی پر آباد سر کریک سے جیوانی تک کی آبادیوں کو ہمیشہ مفت طبی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایاہے بلکہ اندرونِ سندھ، وسطی پنجاب اور شمالی علاقہ جات میں بھی ان سہولیات کو باہم پہنچانے کا بھر پوراہتمام کیا ہے، جس کا مظاہرہ پاک بحریہ اپنے میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے ذریعے کرتی رہتی ہے۔ 8 اکتوبر کے زلزلے میں متاثرین کو طبی امداد اور ضروری سامان کی فراہمی کے ساتھ متاثرین کی اسپتالوں تک رسائی جیسے اقدامات میں پاک بحریہ نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا،شمالی علاقہ جات میں دہشت گردی کے خلاف کیے گئے آپریشنز میں بھی پاک بحریہ نےدیگر مسلح افواج کے شانہ بہ شانہ اپنا کردار اداکیا،جس نے پاک بحریہ اور عوام کے درمیان پُر جوش اور متاثرکن جذبات کو جنم دیا۔ اس طرح مختلف شعبہ ہائے زندگی میں پاک بحریہ اپنا کردار ادا کر کے عسکری اداروں پر عوام کا مزیداعتماد بحال کرتے ہوئے قوم پراپنا منفرد تشخص آشکار کر رہی ہے۔

    آزادکشمیر مظفرآباد میں پاک بحریہ کے 30 جون سے 2 جولائی 21 تک منعقد ہ 3روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں پاک بحریہ کی جانب سے پہلی بار اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آزادکشمیر مظفر آباد ڈویژن کے ضلع ہٹیاں کے علاقے چکار،نواحی علاقے چلہ پانڈی اور نیلم وادی کے علاقے کنڈل شاہی میں لگائے گئے3 روزہ فری میڈیکل کیمپ میں پاک بحریہ کے خصوصی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف نے علاقائی لوگوں کو گھر کی دہلیز پر مناسب تشخیص کے بعدفری ادویات کی فراہمی کو ممکن بناکرمقامی افراد میں زندگی کی روح پھونک دی اور اس طرح کشمیر کے دورافتادہ علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات سے محروم ضرورت مند اور مستحق افراد کے دل جیت لیے۔اس فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام نیول ہیڈ کواٹر کی خصوصی ہدایت کے تحت عمل میں لایا گیا تا کہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں رہائش پزیرافراد میں انسانی صحت سے متعلق شعور اُجاگر کرتے ہوئے انہیں مناسب طبی سہولیات اورادویات فراہم کی جا سکیں۔ہزاروں افراد کا مفت طبی معائنہ کیا گیااور تشخیص کے مطابق مختلف امراض میں مبتلا کثیر تعداد میں مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔پاک بحریہ کے طبی ماہرین کے متاثرکن اور خوش اخلاق رویے نے علاقائی افراد کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں۔ پاک بحریہ کی یہ ٹیم کوالیفائیڈ ڈاکٹرزاور فزیشنز پر مشتمل تھی جس میں شامل میڈیکل،سرجیکل،امراضِ چشم،زچہ و بچہ اور جلدی امراض کے خصوصی ماہرین نے مختلف امراض میں مبتلا مستحق افراد کو بھرپور توجہ کے ساتھ معائنے کے بعد طبی سہولیات فراہم کیں۔عوام الناس کو صحت عامہ سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی بالخصوص خواتین کو ماں اور بچے کی صحت سے متعلق ضروری معلومات سے آگاہ کیا گیا کہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند بچے کو جنم دے سکتی ہے اور صحت مند بچے ہی صحت مند معاشروں کا آئینہ دار ہوا کرتے ہیں۔

    آزاد کشمیر کے ان دور افتادہ دیہاتی علاقوں میں جہاں مناسب بنیادی طبی سہولیات کا فقدان موجود ہے، اچھے اسپتالوں تک رسائی اور مہنگی ادویات کا حصول عوام الناس کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ ان مقامات پر اس طرح کے فری میڈیکل کیمپس ضرورت مندافراد، بچوں، بوڑھوں، خواتین اور مستحق خاندانوں میں خوشیاں بانٹتے ہوئے ان کے چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ جس کی بدولت مقامی لوگوں میں پاک بحریہ سے متعلق محبت سے بھرپور جذبات جنم لے رہے ہیں مقامی افراد پاک بحریہ سے متعلق دلوں میں نرم گوشے رکھتے ہوئے تشکر آمیز مسکراہٹوں کے ساتھ بحریہ کے اس اقدام پر دعا گو نظر آتے ہیں۔یقینا قوموں کی زندگی میں ایسے ہی لمحات باہمی ہم آہنگی اور یک جہتی کے فروغ کا باعث بنتے ہیں جس کی بنا پر مستقل بنیادوں پر قومیں معاشروں میں اپنے وجود کا احساس دلایا کرتی ہیں جن کے نتائج قومی حمیت اور ناقابلِ تسخیر دفاع کی صورت میں اقوامِ ِعالم پرآشکارہوتے ہیں اور تاریخ ان عوامل کو اپنے دامن میں جگہ دے کر قوموں کی زندگی کو امر کر دیا کرتی ہے۔ پاک بحریہ انہی عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف فلاحی کاموں میں بھرپور حصہ لیتی ہے اور ارضِ وطن کے دفاع اور دائمی استحکام کے لیے کثیر الجہتی محاذوں پر ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔

  • طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    طالبان کی نئی حکمت عملی؟ تحریر: نوید شیخ

    اب تک طالبان کی افغانستان کی مسسلسل پیش رفت کیا ہے اور کیسے وہ چن چن کر اپنے دشمنوں کو عبرت کا نشان بنا رہے ہیں ۔ اب جیسا کہ کل خبر آئی تھی کہ بھارت طالبان کے خلاف قوتوں کو افغانستان میں اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔ آج طالبان نے قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر قبضہ کرکے یہ بدلہ اتار دیا ہے اور قونصل خانے پر قبضے کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی ہے۔ ویڈیو میں طالبان کو قندھار میں بھارتی قونصل خانے کے مختلف حصوں میں جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ویڈیو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بھارتی سفارتکاروں اور سکیورٹی عملے نے اپنا سامان بھی پیک نہیں کیا۔ اور بھاگ گئے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھارت بیس سال تک افغانستان میں کئی طرح کے جنگی جرائم میں امریکہ کا مددگار رہا ہے ۔ اب افغانستان میں بھارت کی حالت عجیب سی ہو گئی ہے ۔ تین ارب ڈالر وہاں کھپانے والا بھارت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔ طالبان کے ساتھ چین ، روس ، ترکی اور امریکہ وغیرہ سیدھی بات کر رہے ہیں اور پاکستان بھی۔ لیکن بھارت کی وزارت خارجہ کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے کیونکہ سب کو انکی اصلیت معلوم ہے ۔ اس وقت بھارت کی وزارت خارجہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج افغانستان ہے۔ بھارت کو فوری طور پر جس چیز نے تشویش کا شکار کیا وہ اس کے پائلٹوں کا معاملہ ہے۔ طالبان زمینی حملوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں لیکن فضائی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بیس برسوں کے دوران بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے پاس یہ معلومات موجود ہیں کہ طالبان ، معصوم بچوں اور عام شہریوں پر بمباری کرنے والے کئی پائلٹ بھارتی فضائیہ کے ہیں۔ طالبان نے اب تک برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم پائلٹوں کے متعلق ان کی پالیسی غیر مبہم ہے۔ اب یہ بھی خبریں ہیں کہ حالیہ دنوں سات یا آٹھ پائلٹ طالبان نے قتل کئے ہیں۔ ان میں کچھ بھارتی بھی ہیں۔ بھارت کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ اب تک بھارت اپنا بہت سا عملہ افغانستان سے نکال چکا ہے۔ ان میں زیادہ تر سفارتی کور میں کام کرنے والے انٹیلی جنس کے لوگ تھے۔

    ۔ یہ لوگ افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اب بھارتی سفارت کار ایسے پراپیگینڈہ کر رہے ہیں کہ طالبان امن دشمن ہیں اور غیر مہذب ہیں ۔ جبکہ بھارتی میڈیا کو تو ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان دشمنی کے پیچس لگ گئے ہیں ۔ بھارتی میڈیا اس وقت رو رہا ہے ، چینخ رہا ہے ، چلا رہا ہے ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ جائیں تو جائیں کہاں ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے لئے افغانستان کی صورت حال مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور سیکرٹری خارجہ ہر وہ دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں جہاں سے طالبان کا گزر ہوا ہو ۔ مگر طالبان نے اب بھی اور پہلے بھی درپردہ رابطوں کی بھارتی کوششوں سے بیزاری کا اظہار کیا ہے ۔

    طالبان کے برسر اقتدار آنے سے بھارت افغانستان کی شکل میں ایک سٹریٹجک اتحادی سے محروم ہو چکا ہے۔ بھارت کی سرمایہ کاری ڈوب رہی ہے۔ اور بھارت کو اس چیز کی بھی بہت تکلیف ہے کہ طالبان اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اس لئے پاکستان کو ایک اور دوست ہمسایہ مل گیا ہے ۔ پاکستان کا مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا۔ سی پیک اور وسط ایشیا تک جانے والے تجارتی راستے کھل سکتے ہیں۔ اس لیے بھارت کے لئے یہ تصور کرنا ہی ڈرونا خواب ہے کہ وہ ہارے اور فرار ہوتے لشکر کا سپاہی ہے۔ مودی ، جے شنکر اور اجیت ڈول کے پائوں تلے انگارے سلگ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے خطے میں پاکستان اور چین کے سوا سب سے رابطہ کیا جا رہا ہے اور سب انہیں پاکستان کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ درحقیقت بھارت کو افغانستان میں خانہ جنگی سوٹ کرتی ہے کیونکہ اسے افغان سرزمین پر پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سازشیں مزید پروان چڑھانے کا موقع ملے گا۔ چنانچہ افغانستان کا عدم استحکام ہمارے عدم استحکام پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا یہ موقف بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرمایہ کاری ڈوبنے پر بھارت شدید مایوسی کا شکار ہے اور ایسے میں اُس کی بوکھلاہٹ قابل فہم ہے ۔

    بھارت پہلے امریکا کی ناک کے نیچے بدامنی پھیلاتا رہا ۔ افغانستان میں امن نہیں ہونے دیا ۔ اب روس ،ایران ،چین اور سب ممالک دیکھ رہے ہیں کہ بھارت عدم استحکام کیلئے اسلحہ پہنچارہا ہے ۔ خطے کے امن کیلئے ضرور ی ہے کہ بھارتی دوغلی گیم کو روکا جائے ۔ حقیقت میں بھارت افغانستان میں خانہ جنگی کروا رہا ہے ۔ بنیادی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھے ،امریکا کو بھارت پر نظر رکھنی چاہئے ،بھارت کے جہاز اسلحہ بھر بھر کر افغانستان آرہے ہیں اور دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کو نظر نہیں آرہے ۔یہ اسلحہ آتش بازی کیلئے نہیں لڑائی کیلئے جارہا ہے ،اقوام عالم کو اس کا نوٹس لینا چاہئے ،دنیا کو افغانستان میں خانہ جنگی نہیں ہونے دینی چاہئے ۔ کیونکہ اگر چاہے تو پاکستان بھی طالبان کو اسلحہ دے سکتا ہے۔ مگر افغانستان میں خانہ جنگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ افغانستان میں اگر امن لانا ہے تو کسی کو پراکسی نہیں بننے دینا چاہئے۔

    ۔ دوسری جانب طالبان نے شمالی اتحاد کا مرکز سمجھے جانے والے 100 اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ یہ وہ اضلاع ہیں جہاں طالبان اپنے دور حکومت میں بھی قبضہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اب شمالی صوبے بدخشاں کے تمام اضلاع پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔ اس میں وہ ضلع فرخار بھی شامل ہے جو نائن الیون سے پہلے طالبان کے مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا مرکز تھا۔ شمالی صوبوں میں طالبان کی کامیابی کی بڑی وجہ یہاں ان کی تنظیم سازی اور یہاں موجود تاجک اور ازبک آبادی کو اپنی صفوں میں شامل کرکے اعلیٰ عہدے دینا ہے۔ اس کے علاوہ ان صوبوں میں افغان فوجیوں کو کابل حکومت کی طرف سے امداد نہ مل سکی ۔ بہت سے فوجیوں نے طالبان کی عام معافی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیار ڈالے اور طالبان سے نقدی اور کپڑے وصول کرکے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ طالبان نے اب افغان فوج اور عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج ہتھیار ڈال دے تو ہم ان کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ ہماری حکومت سے عوام کو کوئی تشویش نہیں ہے۔ امریکہ کے خلاف جہاد میں عوام کی مدد سے امریکہ کو شکست دی ہے ۔ عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان سے کوئی خوف نہ رکھیں۔ دراصل امریکی لوگ عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ جونہی امریکہ افغانستان سے جانے لگا ہے تو عوام بھی کھل کر ہمارا ساتھ دینے لگے ہیں۔

    ۔ اب تک کی صورتحال کے بارے میں افغان طالبان کے دوحا میں موجود ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کا کہنا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے اور اب صرف مرکز باقی رہ گیا ہے۔ جن اضلاع پر قبضہ کر رہے ہیں وہاں اپنا نظام بھی نافذ کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی شخصی یا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے جن حالات کی وجہ سے جہاد شروع کیا تھا وہ حق اورباطل کا معرکہ تھا۔ حق اور باطل کے معرکے کے آخر میں فتح حق کی ہوتی ہے۔ جو اقوام ہم پر حملہ آور ہوتی ہیں وہ ہماری روایات سے متصادم ہوتی ہیں اس لیے ظاہر سی بات ہے کہ ہم انہیں شکست ہی دیں گے۔ ہم اپنی زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم افراتفری نہیں پھیلائیں گے جس کی وجہ سے خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی طالبان نے ایک بار پھر کابل ائرپورٹ ترکی کے حوالے کرنے کی مخالفت کر دی ہے ۔ انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انخلاء مقررہ تاریخ تک کوئی غیرملکی فوج قبول نہیں۔

    اس بیان کے بعد افغان حکومت نے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کیلئے اینٹی میزائل سسٹم نصب کردیا ہے ۔ افغان سکیورٹی فورسز کے ترجمان اجمل عمر شنواری نے کہا ہے کہ سکیورٹی سسٹم ہمارے غیر ملکی دوستوں نے دیا ہے ۔ یہ کافی پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے ۔ اس لئے فی الحال ہمارے غیر ملکی دوست ہی اسے سنبھال رہے ہیں لیکن ہم اسے سنبھالنے کی صلاحیت میں اضافہ کررہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی عالمی ذمہ داریوں سے صرف نظر کیا ہے اور انتہائی عجلت میں افغانستان سے اپنی فوج واپس بلائی ۔ اس حوالے سے چین نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے اس عمل سے افغان عوام اور خطے کے دیگر ممالک پر ملبہ ڈال دیا حالانکہ اس ساری صورتحال کیلئے اصل قصور وار امریکی انتظامیہ ہے کیوں کہ اُسی پر تمام تر افغان مسئلے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں۔ وہ اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور مطلب نکلنے پر اجنبی بن جاتا ہے۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک یقینا نئے سکیورٹی بحران سے نمٹ لیں گے لیکن دنیا امریکہ کو ہمیشہ ایک عجلت پسند ، مطلب پرست اور غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر یاد رکھے گی۔ امریکی منافقت کی انتہادیکھ لیجیے کہ بیس برس قبل افغان حکومت اس کی چہیتی جبکہ طالبان دہشت گرد اور خطے کے امن کیلئے ناسور قرار دیے جاتے تھے۔ پچھلے سال فروری کے مہینے میں قطرمیں طالبان سے معاہدہ کرکے امریکہ نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ طالبان کی افغانستان میں کیا اہمیت ہے

    اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ نے طالبان کے پانچ ہزار قیدی افغان حکومت کے جیلوں سے رہا کروائے۔ اس دوران امریکہ نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ہونے والے تاریخی معاہدے کے وقت اشرف غنی حکومت کی شرکت ضروری نہیں سمجھا۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال میں پاکستان کو بہرحال اپنے مفادات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ اس وقت امریکہ بھی جارحانہ انداز ترک کرکے افغانستان میں امن کیلئے ہم سے ڈو مور کے تقاضے کر رہا ہے اور کابل انتظامیہ بھی پاکستان سے معاونت کی طلب گار ہے۔ جبکہ طالبان افغانستان میں ماضی کا خواب پورا کرنا چاہتے ہیں اور پوری آب وتاب کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں پر قابض ہورہے ہیں۔ افغان طالبان کا اعتماد اور لب و لہجہ اس امر کا عکاس ہے کہ وہ ابھی سے خود کو کابل کے اقتدار پر براجمان سمجھ رہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    کرونا وائرس کی چوتھی لہر میں بھارتی ڈیلٹا وئرینٹ کی تصدیق :تحریر: محمد جاوید

    اگرچہ پاکستان کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لحاظ سے علمی درجہ بندہ پہ تیسرے نمبر پہ رکھا گیا ہے۔
    بین الااقوامی سطح پر پاکستانی حکومت کی اقدام کی کافی پذیرائی بھی ہورہی ہے تاہم تمام تر احتیاط کے باوجود کرونا وائرس کی نئی قسم جو سب سے پہلے انڈیا میں تشخیص ہوئی تھی وہ پاکستان پہنچ چکی ہے یہ خبر یقیننا تشویش ناک ہے کہ وطن عزیز میں بھارتی کرونا وائرس کے مریض آنا شروع ہوگئے ہیں۔
    اس خطرناک وائرس کے پھیلنے کی خدشے کی وجہ سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنل سنٹر نے حکمت عملی ترتیب دی ہے اور اس پالیسي کے تحت 18 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کو ویکسین لازمی قرار دیا ہے ۔ حکومت کی پوری کوشش اس بات پہ منحصر ہے کہ کسی طرح اس خطرناک لہر پہ قابو پایا جاسکے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں اس لہر کی وجہ سے بھارت میں لاکھوں لوگوں کی اموات ہو چکی ہے ۔
    اور پاکستان میں اب دن بدن کیسز بڑھ رہے ہیں جو کہ تشویشناک صورتحال ہے ۔
    کچھ دن پہلے اسد عمر نے اپنی ٹویٹ میں واضح طور پر یہ کہاں تھا اگر کیسز کی شرح اسی طرح بڑھتی گئی تو ہمیں شادی هالز اور ہوٹلز پہ پابندی لگانی ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں تعلمی ادارے پہلے سے بند کیے گئے ہیں۔

    اس ضمن میں عوام کو بھی چائے حکومت کے اقدام کا بھر پور طریقے سے ساتھ دیں کیونکہ اسی میں ملک وہ قوم کی بقا ہے ۔ اس وقت حکومت کی پوری کوشش ہے کہ جلد از جلد پاکستان کے تمام افراد کو ویکسین لگائی جائے جو کہ درست اقدام ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے حال ہی میں بتایا تھا کہ ’ڈیلٹا ویریئنٹ اب تک کرونا وائرس کی شناخت ہونے والی اقسام میں ’سب سے زیادہ منتقل‘ ہونے والی قسم ہے، جو  ویکسین نہ لگانے والی آبادی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔
    پاکستان میں کم عقلی اور لاشعوری ویکسین کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کی جارہی ہے اور حکومت کو چاہئے لوگوں کو اس بارے میں شعور و آگاہی دیں اور ایسی پالیسیز بنا لیں کہ جو عمل نہیں کرینگے ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ اس چوتھی لہر سے ملک وہ قوم کو بچایا جا سکے۔
    ڈیلٹا وائرس اتنا خطرناک ہے کیونکہ یہ جلدی سے منتقل ہونے والا وائرس ہے ، پھیپھڑوں کے ری سیپٹرز کو مضبوطی سے جکڑنے اور اینٹی باڈیز کے رد عمل کو سست کرنے کی’ صلاحیت موجود ہے۔
    پاکستان کا کردار کو اب تک سراہا جا رہا ہے لگ بگ بائیس کروڑ سے زیادہ آبادی والا ملک اب تک بڑھے لیول کی تباہی سے بچا ہوا ہے اور اب بھی چائے کہ تمام قوم جلد از جلد اپنا ویکسین لگاوا لیں اور اس وائرس کی تباہی سے ملک وہ قوم کو بچائے اور ملک وہ قوم کی بقا میں اپنا مثبت کردار کو ادا کریں۔

    @I_MJawed

  • اسلامو فوبیا کیا ہے؟ تحریر: محمد عدنان شاہد

    اسلامو فوبیا کیا ہے؟ تحریر: محمد عدنان شاہد

    ‏اسلاموفوبیا لفظ اسلام اور یونانی لفظ فوبیا یعنی (ڈر جانا) کا مجموعہ ہے ۔
    غیر مسلموں کو اسلام کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف خوف پیدا ہو جاتا ہے جسے اسلاموفوبیا کہتے ہیں
    اسلام و فوبیا ایک جدید لفظ ہے جو مسلمانوں اور اسلام کو بد نام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے
    اس اصطلاح کا استعمال 1976 سے ہوا 11 ستمبر 2011 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے استعمال کیا جانے لگا۔ اس کے بعد کئی مغربی ممالک میں مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔
    سانحہ نیوزی لینڈ کو دنیا نے دیکھا جہاں 50 جیتے جاگتے انسانوں کو لحموں میں ڈھیر کردیاگیا ۔
    آخر یہ ظلم مسلمانوں پر ہی کیوں؟؟
    اسلام تو پر امن دین ہے اور امن کا درس دیتا ہے جس مذہب میں راستے سے رکاوٹیں ہٹانے کو صدقہ جاریہ کہا جاتا ہے وہ مذہب کیسے کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے ؟
    اگر تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو دیکھا جائے گا کہ فتح مکہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی اس موقع پر ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کو معاف کر کی امن کی اعلی مثال قائم کی اور دنیا کو دکھایا کہ اسلام ایک پرامن دین ہے۔

    جو مذہب غیر مسلموں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے آخر اس مذہب سے اتنا ڈر کیوں ؟ جہاں تک دیکھا جائے تو اسلاموفوبیا کی سب سے بڑی وجہ سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ کہ اسلام کی بڑھتی مقبولیت۔
    زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں حال ہی میں 8 جون کو کینیڈا میں پاکستانی نژاد خاندان کو گاڑی تلے روند کر قتل گیا اس واقعہ میں چار افراد ہلاک ہوئے اور 9 سال کا بچہ بچہ زندہ بچا۔
    وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آئی سی او کے پلیٹ فارم پر بھی اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر زور دیا
    جناب عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اسلاموفوبیا بنیاد پرستی اور دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کا سختی سے مقابلہ کریں عمران خان نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو کو خطوط لکھے جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام فوبیا کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    "طالبان کا پس منظر اور افغانستان” .تحریر:محمد محسن

    عالمی جنگوں سے پہلے دنیا ملٹی پولر تھی یعنی کہ دنیا میں کوئی اک واحد سپر پاور نہ تھی۔ جیسے ہی دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو یہ ملٹی پولر دنیا بائی پولر بن گئی جس کے نتیجے میں سوویت یونین اور امریکہ دو بڑی طاقتیں نمودار ہوئیں۔ ان دونوں ممالک میں اک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو گئی۔ اس جنگ کو عرف عام میں سرد جنگ کہا جاتا ہے جو کہ تقریباً 1945 میں شروع ہوئی اور 1991 میں آ کر ختم ہوئی۔ اس سرد جنگ کے دوران ان دونوں ممالک کی سیدھی آپسی تو کوئی جنگ نہ ہوئی لیکن انہوں نے اپنے اپنے حامیوں کو اک دوسرے کے مقابلے میں خوب سپورٹ کیا۔ اس سرد جنگ کے دوران دو بڑی جنگیں ہوئیں جن میں سے ایک میں امریکہ جبکہ دوسری میں سوویت یونین کو شکست ہوئی۔ پہلی اہم جنگ تو ویتنام کی جنگ تھی جس میں سامراجیت اور اشتراکیت کی بنیاد پر دونوں نے اپنے اپنے حامیوں کی مدد کی۔ شمالی ویتنام کے چین کے ساتھ رابطے کی وجہ سے یہ خطہ اشتراکیت کی طرف مائل تھا جبکہ جنوبی ویتنام کو امریکہ سپورٹ کر رہا تھا تا کہ ان کو بھی اشتراکی نظریات میں نہ ڈھال لیا جائے۔ خیر ویتنام میں اک لمبی جنگ ہوئی جس میں امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب امریکہ سوویت یونین سے اپنی اس شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا اور موقعہ کی تلاش میں تھا کہ سوویت یونین نے اپنے اشتراکیت کے نظام کو بڑھانے کے لیے افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں جس سے امریکہ کی جان کو لالے پڑ گئے اور اس نے سوویت یونین کے نظریات کو یہاں سے اکھاڑنے کے لیے مختلف مسلمان ممالک کی مدد حاصل کی جن میں پاکستان، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات سرفہرست تھے۔ خیر ان ممالک نے دل کھول کر امریکہ کی مدد کی جس کے بدلے میں پاکستان کی طرف امداد کے منہ کھول دئیے گئے۔ عرب ممالک خود تو لڑ نہیں سکتے تھے لہذا اس سارے منظر نامے کی زمہ داری پاکستان کو دی گئی۔ پاکستان، افغانستان، سعودی عرب وغیرہ سے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کو یہاں فوجی ٹریننگ دی گئی۔ اوپر سے پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی جس نے پاکستان میں اسلامائزیشن کی اک ایسی جزباتی تحریک چلائی جس میں مسلمان آسانی سے پھنس گئے۔ اسلام کے لیے پاکستان میں بہت کام ہوئے۔ نت نئے قوانین متعارف کراۓ گۓ اور حدود آرڈیننس وغیرہ بھی تبھی پاس ہوئے۔ پاکستان اور افغانستان کے ملحقہ بارڈر پر دینی مدارس قائم کیے گئے جن کے لیے فنڈنگ دوسرے ممالک سے آتی تھی۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ ان لڑاکا گروہ کو مجاہدین کا نام دیا گیا جن کی گوریلا کارروائیوں کی بدولت سوویت یونین کو یہاں قدم نہ جمانے دئیے گئے۔ وہ سوویت یونین جو 1979 میں افغانستان میں داخل ہوا تھا اسے 1989 میں شکست کے ساتھ واپس لوٹنا پڑا۔ اس عرصہ کے دوران جب سوویت یونین کی فوجیں یہاں افغانستان میں موجود تھیں ان کی حمایت یافتہ حکومت افغانستان میں قائم رہی۔ اب جب سوویت یونین کی افواج واپس جاچکی تھیں تو اس حکومت کا کوئی حامی نہیں تھا اس لیے لوکل افغان اس حکومت کے درپے ہو گئے۔ اگرچہ سوویت یونین واپس جا کا تھا لیکن پھر بھی اس نے افغانستان میں موجود اپنی حامی حکومت کی مدد جاری رکھی جو کہ غالباً 1989 کے بعد ڈیڑھ دو سال تک ہی قائم رہ سکی اور بعد میں اس کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس حکومت کے خاتمے کے بعد بھی افغانستان کے حالات سازگار نہیں ہو رہے تھے کیونکہ افغانستان مختلف قبائل پر مشتمل اک ملک ہے جنکی آپسی دشمنی کسی نہ کسی صورت میں جاری رہتی ہے۔ اسی کشمکش میں ان مدارس کے طلباء جو کہ سوویت یونین کی جنگ کے دوران قائم کیے گئے تھے ملاں عمر کی قیادت میں اکٹھے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے دور دراز کے دیہاتوں میں قابض ہو گئے۔ 1994 میں طالبان اک منظم روپ میں سامنے آئے اور ٹھیک دو سال بعد 1996 میں افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ طالبان بنیادی طور پر پشتون قبائل کے لوگوں پر مشتمل اک جماعت ہے جس میں دوسرے قبائل کے لوگ بھی شامل ہیں۔

    اس وقت افغانستان میں چار بڑے قبائل ہیں جن میں پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ شامل ہیں۔ وہ طالبان جنہوں نے 1996 میں افغانستان میں حکومت بنائی تھی آہستہ آہستہ انکی حکومت تقریباً 90 فیصد افغانستان پر پھیل گئی سوائے شمال کے علاقے کے۔ طالبان کی اس حکومت کو بین الاقوامی سطح پر کوئی پزیرائی حاصل نہیں ہوئی اور نہ اس کو کسی نے تسلیم کیا سوائے پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے۔ وہی امریکہ جن کی خاطر یہ افغان لوگ لڑے تھے اسی نے افغانستان پر پانبدیاں عائد کر دیں لیکن طالبان بھی اپنی حکومت پر بضد رہے یہاں تک کہ 9/11 کا واقعہ رونما ہو گیا۔ اس واقعہ کی زمہ داری سعودی عرب کے اسامہ بن لادن پر عائد کی گئی جو کہ ان کے مطابق اس وقت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھا۔ پہلے طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کو دینے کی حامی بھری لیکن پھر انکار کر دیا جس کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان میں وار آن ٹیرر کا اعلان کر دیا۔ لہذا 2001 سے امریکہ نے افغانستان کی زمین پر قدم رکھے جو کہ بیس سال تک بڑھتے چلے گئے۔ اس عرصہ کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کی طرح اپنی حمایت یافتہ اک کٹھ پتلی حکومت قائم کیے رکھی جس میں پہلے حامد کرزئی اور اب اشرف غنی نے بطور صدر اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اسی سوویت حکومت کی طرح یہ حکومت بھی عوامی پزیرائی حاصل نہ کر سکی اور بڑے بڑے شہروں تک ہی محدود رہی۔ بیس سال ہزاروں فوجی مروانے اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی جب کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا تو 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا اعلان کیا۔ فروری 2020 میں طالبان کو پیس ٹالکس کے لیے راضی کرنے کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے اپنا اپنا کردار ادا کیا اور اک معاہدہ کیا گیا کہ اب یہاں سے امریکہ اپنی افواج کو نکال لے گا تاکہ آپ لوگ افغان حکومت کے ساتھ ملکر اک حکومت بنا لو۔ صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس امریکی انخلاء میں اچانک تیزی آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بگرام ایئر بیس کو بھی خالی کر دیا گیا جبکہ باقی تھوڑے امریکی فوجی افغانستان میں واپس بچے ہیں۔ افغانستان میں اک بار پھر وہی خلا پیدا کر دیا گیا ہے جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد پیدا ہوا تھا۔ تب سوویت یونین کی حمایت کے باوجود افغانستان کی حکومت بمشکل تھوڑا عرصہ نکال پائی تھی لیکن اب کی بار تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ اب تو امریکہ کو بھی افغانستان سے کوئی خاص سروکار نہیں اگر ہوتا تو ایسے اچانک تو یہاں سے نہ نکلتا۔ اب افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے اڈے مانگ رہا۔۔ اگر اتنی ہی ضرورت تھی تو پھر افغانستان سے نکل کر گیا ہی کیوں؟۔ اب دوسرے ممالک سے یہ کہہ رہا کہ ہمیں جگہ دو تا کہ ہم ان طالبان پر نظر رکھ سکیں اور عام لوگوں کی حفاظت کر سکیں۔

    اب آجائیں امریکی انخلاء کے افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان پر مضمرات کی طرف۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جب افغانستان میں سول وار شروع ہوئی تھی تو افغانستان سے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں داخل ہوئے۔ تب کے پاکستانی حکمرانوں کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان پر کتنا بڑا بوجھ ڈال کر جارہے ہیں۔ تب امداد کی مد میں خزانوں کے منہ پاکستان کے لیے کھول دئیے گئے تھے جس میں کسی نے ان مجاہدین کے پاکستان میں مستقبل کے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا۔ اور وہ مجاہدین جن کو پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے نام پر اپنے اندر سمویا کہ ابھی ان کے ملکی حالات ٹھیک نہیں لہذا یہ کچھ عرصہ یہاں گزار کر جب ملکی حالات ٹھیک ہوں گے واپس چلے جائیں گے لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس وہ مجاہدین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پاکستان نے انہیں مسلم برادر سمجھ کر عارضی رہائش گاہ دی لیکن وہ یہاں پکے ہو گئے بلکہ پیچھے سے اوروں کو بھی بلاتے رہے۔ اس کے علاؤہ انکی آپسی لڑائی نے پاکستان کی اکانومی کو جو نقصانات پہنچائے اس کی وجہ سے آج پاکستان کی اکانومی کا یہ حال ہے۔ اوپر سے ان کی پر تشدد کارروائیاں پاکستان میں بھی جاری ہو گئیں جن کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور ہزاروں ہی معزور اور اپاہج ہوئے۔ اب جب امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے تو پاکستان کو بھی اک ڈپلومیٹک طریقہ اختیار کرنا چاہیے نا کہ ماضی کی طرح جزباتی۔ آپ اندازہ لگا لیں کہ دنیا کا سپر پاور ملک ان جنگی اخراجات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہاں سے نکل رہا ہے تو ہم اک اور جنگ کا خطرہ کیسے مول لے سکتے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کی آپس میں نہیں بننی اور آخر کار حالات اسی طرف جاتے نظر آرہے ہیں جو کہ سوویت یونین کے انخلاء کے بعد بنے تھے کیونکہ نہ تو طالبان نے موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کرنا اور نہ ہی سب قبائل نے طالبان کو۔ ایک بار پھر طالبان دیہی علاقوں میں ایسے ہی اپنے جھنڈے گاڑ رہے ہیں جیسے 1994 کے بعد گاڑے تھے۔ اس سارے پس منظر میں پاکستان کو افغان بارڈر پر باڑ مکمل کرنی چاہیے اور طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ نارمل سیاسی تعلقات استوار کرنے چاہیے نا کہ جزباتی کیونکہ اب پاکستان مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔