Baaghi TV

Category: متفرق

  • یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج. ‏تحریر : ماریہ بلوچ

    یاجوج ماجوج کوئی الگ نسل نہیں ہے بلکہ یہ قوم حضرت نوح ع کی اولاد میں سے ہے۔حضرت نوح ع کے تین بیٹے تھے۔ان میں اک یافث تھا۔یافث کے بارہ بیٹے تھے۔ان بارہ بیٹوں میں سے دو کا نام یاجوج ماجوج تھا۔ انہی دو بیٹوں کے طفیل سے اک وحشی قوم کی نسل چلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں یاجوج ماجوج کا تذکرہ آتا ہے وہاں ذوالقرنین بادشاہ بھی ذکر لازمی آتا ہے کیونکہ یاجوج ماجوج کو پہاڑوں میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے والہ یہی بادشاہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہا جاتا ہے کہ ذوالقرنین بادشاہ ہمیشہ حالت سفر میں ہوتے تھے ۔اک دفعہ یہ بادشاہ ایک سلطنت میں پہنچے جہاں ترک آباد تھے۔یہ سلطنت آرمینا اور آذربائیجان کے قریب واقع ہے۔وہاں دو پہاڑوں کے درمیان ایک قوم آباد تھی جو ترک قوم کا قتل اور بربریت کے پہاڑ توڑتی تھی۔اور اپنی شر پسندی اور فتنہ انگیزی میں بہت مشہور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترک قوم اس وحشی قوم سے محفوظ ہونے کے لیے ۔اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی ساری تکلیف سے ذوالقرنین بادشاہ کو آگاہ کیا۔ بادشاہ نے تب ترک قوم اور اپنے حواریوں سے مل کر ان دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو بند کرنے کا قدم اٹھایا۔ذوالقرنین نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے اس راستے پر رکھ دیے پھر ان کو نظر آتش کر کے ان کے اوپر پگھلا ہوا تانبا ڈالہ پھر اک ناقابل تسخیر دیوار سامنے آئ جو اب تک اپنی طاقت و توانائ سے قائم دائم ہے۔۔

    اس دیوار کی بلندی یاجوج ماجوج کی پہنچ سے بہت دور ہے اور اسے توڑنا اور اس میں سوراخ کرنا بھی اک ناممکن کام ہے۔اب یہ قوم ہماری دنیا سے ہمیشہ کے لیے کٹ گئ ہے۔کسی کو نہیں معلوم کہ اب ان کا طرز زندگی کیا ہے۔لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ وہ دیوار توڑنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔وہ روزانہ دیوار سے سوراخ کرتے ہیں اور جب سوراخ ہونے کو ہوتا ہے ہے تو ان کا سردار انہیں واپسی کا حکم دیتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ باقی کام کل کریں گے۔۔۔۔

    یہ بھی زبان ذد عام ہے کہ جب اس قوم کے خروج کا وقت آئے گا تو ان کی زبان سے لفظ۔۔انشاءاللہ ۔جاری ہو گا جو کہ تا حال اللہ کریم نے ان سے انشاءاللہ کی توفیق چھین رکھی ہے۔جب یہ قوم انشاءاللہ کہ کر دیوار توڑنا شروع کرے گی تو دیوار ٹوٹ جائے گی۔۔

    یاجوج ماجوج قہر بن کر نکلیں گے۔ہر طرف تباہی پھیلا دیں گے۔کسی کی جرآت نہیں ہوگی کے اس قوم کا سامنا کر سکے۔اس قوم کا جو پہلا گروہ نکلے گا اس کے سامنے پانی کی جھیل آئے گی وہ جھیل کا سارا پانی پی جائے گا ۔دوسرا گرو آ کر کہے گا کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔یہ قوم ہر طرف خون ریزی کر دے گی ہر سمت عذاب ہی عذاب ہو گا۔ہر طرف ف کرب وبلا کا منظر ہو گا۔اک وقت آئے گا جب ساری زمین پر یاجوج ماجوج کا قبضہ ہوگا۔پھر یہ قوم یروشلم کے پہاڑ پر پہنچے گی اور کہے گی۔اب ساری زمین پر ہمارا قبضہ ہے۔پھر آسمان کی طرف تیر برسا ئے گی تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں۔گی اس وقت حضرت عیس ع کا نزول بھی ہو چکا ہو گا۔ اور دجال قتل ہو چکا ہو گا۔

    ۔عیسی ع کو خبر دی جائے گی ۔کہ یاجوج ماجوج نکل چکے ہیں۔جس کے مقابلہ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔اس طرح عیسی ع اس وحشی قوم کی یلغار میں آئیں گے۔اور ان کو شکست دینے میں ناکام ہونگے۔ہزار میں سے نو سو آدمی اس قوم کے ساتھ جڑتے جائیں گے۔ آخر کار عیسی ع ساتھیوں سمیت کوہ طور پر چلے جائیں اور یاجوج ماجوج سے چھٹکارے اور ان کے شر سے پناہ کی اللہ کریم سے دعا کریں گے۔ عیسی ع کی دعا قبول ہو گی۔

    اللہ کریم یاجوج ماجوج کی گردن پر مخصوص قسم کا کیڑا پیدا کریں۔وہ کیڑا یاجوج ماجوج کی ہلاکت کا سبب بنے گا ۔ہر طرف اس وحشی قوم کی لاشیں ہی لاشیں ہوں گی۔جو بدبو پھیلا رہی ہوں گی ۔پھر خاص قسم کے پرندے آئیں جو ان لاشوں کو وہان لے جائیں گے جہاں حکم خدا وندی ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔ . ۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاجوج ماجوج کا قصہ تمام ہونے کے بعد۔پھر تیز بارش ہو گی۔زمین صاف شفاف ہوگی۔برکتوں کا زمانہ لوٹے گا۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی۔پھل اس قدر ہوں گے کہ اک انار بہت سے لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔مویشیوں کا دودھ پوری بستی کے لیے کافی ہو گا۔اس کے سات سال تک سکون رہے گا۔پھر وہ دن آن پہنچے گا۔جس کا ہمارے رب نے وعدہ کر رکھا ہے۔پھر توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا

    نوٹ : اگر تحریر میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کے لئے پیشگی معزرت

  • سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف

    سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف

    مشرقی سوڈان کے علاقے ’کسنا‘ میں 4100 مربع کلومیٹر پر سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کے بنائے ہوئے ہزاروں مقبروں میں کہکشانی جھرمٹوں جیسی پراسرار ترتیب کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی تی وی :لائیو سائنس کی رپورٹ کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ کی تعداد میں یہ چھوٹے بڑے مقبرے کم از کم پانچ سو سال پرانے ہیں جو ’کسنا‘ میں ایک بہت وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیںان مقبروں میں دو طرح کی ساخت زیادہ نمایاں ہے ٹیومیولس اور قبہ ۔

    ٹیومیولس ایک عام کچی قبر جیسی ساخت ہوتی ہے جو ارد گرد کی سطح زمین سے کچھ بلند ہوتی ہے جبکہ ’قبہ‘ میں مقبرے کی چاردیواری اور چھت بھی ہوتی ہے جس پر گنبد موجود ہوتا ہے۔

    اتنے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ان ہزاروں مقبروں میں بظاہر کوئی ترتیب نہیں لیکن اٹلی کی نیپولی یونیورسٹی میں افریقہ اور بحیرہ روم کے آثارِ قدیمہ کے ایک ماہر اسٹیفانو کونسٹانزو کو چند سال پہلے شبہ ہوا کہ شاید اس بے ترتیبی میں بھی کوئی ترتیب ہے۔

    زمین پر نظر رکھنے والے مصنوعی سیارچوں سے لی گئی تفصیلی تصویروں کی مدد سے انہوں نے اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے مقبروں کا مجموعی نقشہ مرتب کیا جس میں ہر نقطہ ایک مقبرے کو ظاہر کرتا تھا۔ یہیں سے ان مقبروں میں ترتیب کی جھلکیاں نمایاں ہونے لگیں۔

    اپنے برطانوی اور سوڈانی تحقیق کار ساتھیوں کی مدد سے انہوں نے ایک خاص تکنیک استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جسے ’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ کہا جاتا ہے۔

    ’’نیمین اسکاٹ کلسٹر پروسیس‘‘ استعمال کرنے پر ہونے والا انکشاف خود ان ماہرین کےلیے بھی حیرت انگیز تھا: تمام مقبروں کی ترتیب کہکشانی جھرمٹوں جیسی تھی یعنی درمیان والے مقبروں کا ایک جھرمٹ اور اس کے گرد پھیلے ہوئے مقبروں کے مزید جھرمٹ جنہیں بعد کے زمانوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    اس ترتیب کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ درمیان والے مقبرے غالباً زیادہ اہم اور ’’مقدس‘‘ ہستیوں کے ہیں جبکہ ان کے ارد گرد پھیلے ہوئے چھوٹے مقبرے، ان ہستیوں سے عقیدت رکھنے والوں کے ہیں۔

    اس طرح یہ ترتیب بالکل ویسی ہوگئی ہے جیسی کسی کہکشاں میں ستاروں کے جھرمٹوں کی، یا پھر کہکشاؤں کے جھرمٹوں میں ہوتی ہے –

    اتنا سب کچھ معلوم ہوجانے کے باوجود، ماہرین یہ نہیں جان پائے ہیں کہ آخر یہ مقبرے اس پراسرار کائناتی ترتیب ہی میں کیوں تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کےلیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے جو شاید ایک طویل عرصے میں مکمل ہوسکے۔

  • افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

    کہا جاتا ہے کہ افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان ہے۔ جہاں برطانیہ اور روس نے شکست کھائی اور اب امریکہ کو ذلت آمیز شکست ہوئی ۔

    ۔ روس افغانستان سے ناراض ہے کہ ان کی وجہ سے سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ برطانیہ انہیں معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ افغانوں نے انہیں عبرتناک شکست دی تھی اور جب انگریز تاریخ کی کتابوں میں اس عظیم برطانوی سلطنت کا تذکرہ پڑھتے ہیں جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو وہ یہ پڑھ کر شرمندہ ہوتے ہیں کہ افغانوں نے انہیں ذلت آمیز شکست دی تھی۔ وہ بھی افغانوں کو نفسیاتی طور پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اب امریکہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے تو اسے خوب علم ہے کہ تاریخ اسے کن الفاظ میں یاد کرے گی۔ ۔ مگر امریکیوں کی ایک عادت ہے they are good manuplitators
    اب یہ توصاف پتہ چل گیا ہے کہ افغان حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ نہ ہی وہ کسی قابل ہیں کہ طالبان کا مقابلہ کر سکیں ۔ ان کی تو اپنی حالات یہ ہے کہ جتنی بھی ان کی 2 سے 3 لاکھ سیکورٹی فورس ہے ۔ اسکی تنخواہ اور دیگر اخراجات بھی امریکہ بہادر اٹھاتا رہا ہے ۔ اور اگر آج امریکہ یہ پیسہ دینا بند کردے تو ۔ شاید اشرف غنی اور افغان حکومت صرف دو سے تین ماہ ہی اپنی نکمی فوج کو تنخواہ دے سکیں ۔

    ۔ اب اس تمام صورتحال میں آپ دیکھ بھی رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے کہ امریکہ کی جانب سے رپورٹس بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی کہہ رہے ہیں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی بتا رہا ہے کہ افغان حکومت سمتبر کے بعد شاید بمشکل چھ ماہ بھی نہ چل سکے ۔ ۔ اب ایسا نظر آنا شروع ہوچکا ہے کہ امریکی افغانستان کو جان بوجھ کر ”لڑو اورمرو“ والی صورتحال میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ افغانستان تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغان طالبان کو یقین ہے کہ ان کا جوش و جذبہ انہیں فتح سے ہمکنار کرے گا۔۔ جبکہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ اپنی حکومت کو قانونی اور آئینی قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان کو ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور شرکت اقتدار کی کوئی ایسی صورت نکالنی چاہیے جس میں ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

    ۔ مگر سچ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کی قوت کے بل پر ہی قبضے کے بعد افغانستان میں حامد کرزئی اور اشرف غنی وغیرہ کی حکومتیں بنیں۔ یعنی ان کو جبری طور پر قابض طاقتوں کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ یہ حکومتیں کسی جمہوری طریقے سے اقتدار میں نہیں آئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ۔ اس وقت بھی ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کی کیا حیثیت ہے؟ ۔ ان کے انتخابات میں ووٹوں کا کتنا ٹرن آؤٹ تھا؟۔ اس وجہ سے یہ کہنا کہ جو حکومت طاقت کے ذریعے آئے گی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا ۔

    ۔ دوسری طرف اب یہ دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ امریکہ کا خیال ہے کہ جس نے بھی حکمران بننا ہے بن جائے جو بھی فیصلہ ہونا ہو جائے ۔ اور اگر طالبان حکومت قائم بھی کرتے ہیں تو وہ ڈالروں کے ذریعے اسے کنٹرول کر لے گا۔ کیونکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کی طرح طالبان حکومت کو بھی امریکی امداد کی ضرورت ہو گی۔ یعنی اگر طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتے خاص طور پر عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں تو انہیں امداد دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ گویا امریکی جو مقاصد اسلحہ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب ڈالروں کے ذریعے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    ۔ یقیناً پورا افغانستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایک فیصلہ کن مرحلہ اب آنے والا ہے۔ یہ مرحلہ ایک سال میں آتا ہے یادو سال میں، یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان میں بالآخر طالبان حاوی ہو جائیں گے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہیں کابل پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے، ابھی بتانا ممکن نہیں ہے۔

    ۔ ویسے افغان طالبان نے تو ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کردیا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے حالیہ تبصرے کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو دو ہفتوں میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ ۔ اس لیے اب افغانستان میں امن، مذاکرات کے ذریعے نہیں آئے گا، بلکہ جنگ کے ذریعے ہی آئے گا۔ آج جب آپ زمینی حالات کو دیکھتے ہیں تو یہ بات ٹھیک ہی معلوم ہوتی ہے۔۔ اچھی چیز یہ ہے کہ طالبان کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ اکیلے ملک پر حکومت نہیں کر سکتے۔ لہٰذا حکومت میں تاجک، ازبک اور ہزارہ شراکت ضرورت ہے اور سب سے امید افزا بات اس مرتبہ یہ ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس کی افغانستان کے بارے میں سوچ میں مطابقت ہے۔ 1996ء میں یہ صورت حال نہیں تھی۔۔ اسی لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ روس، چین، ایران اور ترکی نے بھی طالبان سے روابط بڑھائے ہیں۔

    ۔ اس تناظر میں دیکھیں تو طالبان رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی امدادی تنظیمیں کام جاری رکھیں، بین الاقوامی انسانی حقوق گروپس مشن بند نہ کریں۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان چین کو افغانستان کا دوست سمجھتے ہیں ، امید ہے کہ ملک کی تعمیر نو کیلئے جلد بیجنگ کیساتھ بات ہو گی ۔ اگر چینی سرمایہ کار اور ورکرز واپس آتے ہیں تو انہیں سکیورٹی کی ضمانت دیں گے ،چینیوں کی سکیورٹی ہمارے لئے بہت اہم ہے ۔ چین کیساتھ بات چیت ضروری ہے ، ہم نے کئی بار چین کا دورہ کیا، چین کیساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اور افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے دوست چین کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

    ۔ ایغور جنگجوؤں کے ذکر پر انہوں نے کہا کہ طالبان انہیں افغانستان میں پناہ نہیں دیں گے ،طالبان دوحہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد گروپ کو افغانستان میں قیام اور افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے زیر کنٹرول اضلاع کے سکول کھلے ہیں اور وہاں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنیکی اجازت ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے مالی معاونت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں کے ملازمین کو کابل حکومت نے تنخواہیں ادا کرنا بند کر دی ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی طالبان کے وفد نے یہ بات کہ ہے کہ ہمارا مقصد افغانستان کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرانا تھا،افغانستان میں کئی دارالحکومتوں کا محاصرہ جاری ہے،افغان فورسز کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ مل رہی ہے۔

    ۔ اسی کانفرنس میں طالبان رہنماؤں شہاب الدین دلاور اور سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام سرحدی علاقے اس وقت طالبان کے زیر اثر ہیں۔ ملک میں نیا نظام لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ، جس کے لئے افغانستان کی کئی شخصیات کے ساتھ بات چیت جاری ہے ، ایسا نظام تیار کرنا چاہتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور افغان روایات کے اتحاد پر مبنی ہو، دنیا کیلئے قابل قبول معاہدہ لائیں گے ، طالبان اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ افغان سر زمین پڑوسی ممالک سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ روس کو طالبان سے کوئی تشویش نہیں ہے ، ہمارا روس کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے ۔داعش کی افغان سرزمین پر موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ داعش کو اپنے زیراثر شمالی علاقوں سے باہر نکال دیا ہے ، اب داعش کی لیڈر شپ کابل میں بیٹھی ہے ، جہاں2600 داعش ارکان نے کابل انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ داعش والے غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو سب کیلئے خطرہ ہیں۔ ۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے افغان فضائیہ کے پائلٹس کی ٹارگٹ کلنگ شروع کردی گئی ہے ۔ چند ہفتوں کے دوران سات پائلٹس ہلاک کردیئے گئے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ افغان پائلٹس اپنے لوگوں پر بم گراتے ہیں اس لئے ماررہے ہیں۔ ۔ تو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بگرام ایئر بیس کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے حکم دیا کہ ایئر بیس میں موجود جیل کی حفاظت کیلئے پروفیشنل سٹاف تعینات کیا جائے۔اس جیل میں طالبان جنگجوؤں کو قید رکھا گیا ہے۔

    ۔ غزنی میں افغان فورسز اور طالبان کے مابین لڑائی جاری ہے جبکہ طالبان افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں داخل ہو گئے ہیں۔ شہر کے اندر کئی مقامات پر طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے ۔ قندھار جیل کے اطراف میں زیادہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔۔ دوسر ی جانب افغان حکومت نے کہا ہے کہ قندھار کے لوگ پریشان نہ ہوں، صورتحال کنٹرول میں ہے ۔ قندھار کے گورنر، ڈپٹی گورنر، پولیس چیف، سکیورٹی چیف، قبائلی لیڈر اور سپیشل فورسز سب فرنٹ لائن پر مقابلے کے لئے موجود ہیں، شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

    ۔ جبکہ ہرات کے گوریلا سردار اسماعیل خان نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہرات کے محاذ پر جائیں گے اور صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیں گے ۔انہوں نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار کابل حکومت کو قرار دیتے ہوئے افغان فوج پر زور دیا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرے ۔ اسماعیل خان شمالی اتحاد کے ان اہم ارکان میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کی مدد کی تھی۔

    ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ افغانستان میں اگر امن آئے گا تو سول وار کے بعد ہی آئے گا۔۔ کچھ لو اور کچھ دوطالبان کا مزاج نہیں ہے۔ وہ ایک تحریک ہیں، جو افغانستان کو امارت اسلامیہ افغانستان بنانا چاہتے ہیں۔

  • مکمل طور پر سیاہ مرغی”کڑک ناتھ ” کا پورا گوشت بھی کالا

    مکمل طور پر سیاہ مرغی”کڑک ناتھ ” کا پورا گوشت بھی کالا

    بھارت کے بعض علاقوں میں عام پائی اور کھائی جانے والی مرغی مکمل طور پر گہرے سیاہ رنگ کی ہوتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا گوشت بھی بہت حد تک کالا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : مرغ کا نام کڑک ناتھ اور بھارت میں اسے ’کالی ماسی‘ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یہ مرغ بھارت کے کئی علاقوں میں مشہور ہے اور رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ اگرچہ گوشت کی سیاہ رنگت عجیب لگتی ہے لیکن پکنے کے بعد اس میں کچھ تبدیلی ضرور آتی ہے۔

    اس مرغ کے پیر، سر، جلد ، چونچ اور پر تک بالکل کالے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس برائلر مرغیوں کے مقابلے میں کڑک ناتھ کا گوشت ذیادہ غذائیت رکھتا ہے۔ کالی ماسی پہلے پہل مدھیا پردیش کے ضلع جھابوا میں مقبول تھی اور دھیرے دھیرے اس کے کئی فارم ہندوستان کے کئی علاقوں میں قائم ہوئے۔ اب چھتیس گڑھ، تامل ناڈو، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں یہ عام پائی جاتی ہیں۔

    غذائی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس میں دیگر مرغیوں کے مقابلے میں چکنائی اور کولیسٹرول کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور اس میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہے۔اور چربی کی مقدار بہت کم ہےاس بہت زیادہ غذائیت کی قیمت کی وجہ سے ، یہ دل کے مریضوں اور ذیابیطس کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا گوشت بہت مہنگا فروخت ہوتا ہے۔

    کئی بھارتی علاقوں میں زندہ مرغی کی قیمت 850 روپے اور گوشت کی قیمت 1000 سے 1200 روپے فی کلوگرام تک ہے۔ اس طرح عام مرغیوں کے مقابلے میں اس کی قیمت تین گنا زائد ہے۔

    کالی ماسی اس لیے مہنگی ہے کہ اسے پالنے اور پروان چڑھانے میں بہت وقت لگتا ہے۔ عام برائلر مرغی 45 دن میں تیار ہوجاتی ہے جبکہ کڑک ناتھ کو پروان چڑھنے میں 8 مہینہ لگتا ہے بعض تصاویر میں دکھایا جاتا ہے کہ کالی ماسی کے انڈے اور خون بھی سیاہ ہے جو ایک غلط بات ہے۔

    اس مرغی کا مطالبہ ملک بھر میں بہتزیادہ ہے۔ اس چکن کی تین اقسام ہیں جن میں جیڈ بلیک ، پینسیلڈ اور گولڈن کڈکاتھ ہیں۔ جیڈ بلیک کے پنکھ مکمل طور پر سیاہ ہیں اور پینسیلڈ کی شکل پنسل سے ملتی ہے۔ اور سنہری کڑک ناتھ میں ، اس کے پروں گولڈن چھلکیاں ہیں۔

    ایک اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ، ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ، ویرات کوہلی کو بھی اس چکن کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

    اگرچہ بھارت سے باہر اس طرح کی سیاہ گوشت اور رنگت والی مرغیاں عام نہیں ملتیں لیکن چین میں ’سلکیز‘ نامی مرغیاں عام ہیں جن کی رنگت گہری سرمئی اور گوشت بھی سرمئی ہوتا ہے۔

  • اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    اولاد کی تربیت . تحریر:فروا منیر

    کسی بھی پختہ عمارت کے لئے اس کی بنیاد کا پختہ ہونا ضروری ہے اگر بنیاد پختہ نہیں ہوگی تو عمارت قائم نہیں رہ سکے گی۔
    کسی بھی معاشرے کی نوجوان اس معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں
    معاشرے کی مضبوط بنیاد کے لیے اس معاشرے کے نوجوانوں کی تربیت کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
    ہمارے معاشرے میں جب کسی نوجوان کو دیکھا جاتا ہے تو اس کی حرکات اور اس کے انداز کا بخوبی جائزہ لیا  جاتا ہے اگر اچھے کردار کا مالک ہو تو یقینا اس کی تربیت اور اسکے والدین کی تعریف کی جاتی ہے کہا جاتا ہے کے اسکےوالدین  نے اس کی تربیت اچھے انداز سےکی۔اور اگر کسی  برائی میں ملوث پایا جائے تو اس کا الزام بھی   والدین کی تربیت پر آتا ہے
    ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو تو پرانے زمانے میں جب کوئی بچہ روتا تھا تو اس کے والدین یا  قریبی عزیز اس کو اٹھا کر خاموش کرواتے اور اس بچے کو وقت دیتے تھے مگر آج کل جیسے ہی  بچے کی رونے کی آواز آتی ہے ماں بچے کے ہاتھوں موبائل تھما دیتی ہے ٹیلی ویژن کے سامنے بٹھا دیتی ہے اور خود بے خبری کی وادی میں کھو جاتی ہے
    وہ بچہ جب اس کو والدین کے وقت کی ضرورت تھی ان کی قربت کی ضرورت ہے کہ وہ جب موبائل کو پاتا ہے تو موبائل کو ان سب چیزوں سے بہتر پاتا ہے۔
    اور پھر آج کل کے والدین کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ تو بس موبائل میں کھو گیا ہے ہر وقت موبائل کے ساتھ لگا رہتا ہے تو سوچا جائے تو اس چیز کی بنیاد کس نے ڈالی تھی۔
    ہونا یہ چاہئے تھا کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ان کو اچھے برے کی تمیز کا فرق سکھاتے کیونکہ بچہ کچی عمر  میں جو سیکھتا ہے وہ اپنی زندگی اس کے مطابق کی گزارتا ہے
    جب ماں سے کہا جاتا ہے کہ بچے کے ہاتھ میں موبائل کیوں دیا تو یہی جواب آتا ہے کہ ہمیں گھر کے اور کام بھی ہوتے ہیں موبائل سے بچہ مصروف ہو جاتاہے تو ماں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے ۔

    بات کرتے ہیں شہزادی حضرت فاطمہ علیہ السلام کی جنہوں نے اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ آج بھی زمانہ رشک کرتا ہے فاطمہ ع چکی  پستیں ،گھر کے  کام بھی کرتیں مگر اپنی اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ    امام حسن ع اور حسین ع دونوں  جنت کے نوجوانوں کے سردار کہلوائے۔
    خدارا بچوں کی تربیت میں کوتاہی نہ کریں۔
    یہ آپ کی تربیت ہی ہے جو آپ کی اولاد کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد کا معاشر ے کے قابل افراد میں شمار ہو تو انکی تربیت اچھے انداز سے کریں ان کی بنیاد کو مضبوط بنائیے۔ایک مضبوط بنیاد پر ہی ایک مضبوط عمارت کھڑی ہو سکتی ہے

  • طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    طالبان نے سوچ لیا ۔۔۔ افغانستان کی قیادت کون کرے گا ؟ تحریر:نوید شیخ

    ۔ جیسے جیسے امریکی و مغربی افواج کا انخلا اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، افغان علاقوں میں کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے اور افغان طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آرہی ہے۔ طالبان نے افغانستان میں صوبہ ہرات کے سرحدی علاقے اسلام قلعہ پر قبضہ کرلیا ، یہ علاقہ ایرانی سرحد سے جڑا ہوا ہے ۔ جبکہ اس سرحدی علاقے میں افغان فوجی پسپائی اختیار کرتے ہوئے ایران میں پناہ کے لیے داخل ہوگئے۔

    ۔ اس سے پہلے طالبان نے وسط ایشیائی سرحدی ریاستوں سے جڑے صوبوں میں بھی بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا جس کے سبب افغان فوجیوں کو پسپائی اختیار کرکے وسط ایشیائی ممالک میں پناہ لینا پڑی تھی۔ اس افغان صورتحال پر پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ منڈلا رہا ہے جس سے خطرناک صورت حال پیدا ہوجائے گی۔ ایران کے سفیر نے الزام لگایا کہ امریکا نے پہلے شام، عراق میں داعش کو پالا اور اب افغانستان میں داعش کو لے کر آیا ہے۔ ایران مزید افغان مہاجرین نہیں لے سکتا اور نہ ہی لے گا۔ دوسری جانب ایران کے بعد طالبان قیادت مذاکرات کے لیے روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ گیا ہے۔طالبان نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔یہاں یہ ذہن میں رکھیں کہ طالبان کا وفد ایسے وقت روس پہنچا ہےجب روس کے اتحادی تاجکستان کے سرحدی علاقوں پر طالبان کا قبضہ ہوگیا ہےاور تاجکستان نے اپنے 20 ہزار فوجی سرحد پر تعینات کردیے ہیں جبکہ روس کے وزیرخارجہ کا کہنا ہےکہ ان کا ملک تاجکستان میں موجود اڈے کو اپنے اتحادیوں کی حفاظت کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

    ۔ افغانستان کے بگڑتے حالات کے پیش نظر پڑوسی ملکوں کی جانب سے بھی سرحدوں پر سختی کردی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو حالات ایک بار پھر نوے کی دہائی کی جانب پلٹتے محسوس ہورہے ہیں جب امریکہ نے روسی شکست کے بعد افغان سرزمین کو خانہ جنگی میں دھکیل کر واپسی کی راہ لی تھی۔ پر اس وقت افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کرنے والا بھارت نئی صورت حال سے پریشان ہوگیا جبکہ بھارتی میڈیا بھی بوکھلا گیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے ہرات میں بھارتی فنڈ سے بنے ڈیم پر قبضہ کر لیا جبکہ افغان حکومت اور طالبان نے بھارتی میڈیا رپورٹس کی تردید کردی۔ اب بھارت نے حالات کے پیش نظر کابل میں اپنے سفارت خانے کے علاوہ مزار شریف اور قندھار میں قونصل خانوں سے 500 کے قریب اسٹاف کو نکالنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کا زخم خوردہ بھارت اپنے پرانے حلیف تاجکستان کے ساتھ مل کر اکٹھی حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ تاجکستان کا خیال ہے کہ وہاں پر موجود کالعدم حزب نہضتِ اسلامی کے لوگوں کو طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ایک نیا ولولہ ملے گا، جبکہ بھارت کی شمالی اتحاد کو لاکھوں ڈالر کی خفیہ عسکری امداد ضائع ہونے کا دکھ ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے افغانستان مین تین ارب ڈالر سے جو ترقیاتی کام کیے تھے وہ ساری سرمایہ کاری ضائع ہوگئی ہے۔ افغانستان میں بھارت دوستی اور پاکستان دشمنی کا جو پودا لگایا گیا تھا، اسے طالبان کی فتح نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔

    ۔ آپ دیکھیں پہلے دوستی و محبت کا یہ عالم تھا کہ افغانستان کی پارلیمنٹ کی عمارت جو بھارت نے بنائی تھی،اس میں 25دسمبر 2015ء کو افتتاحی تقریب میں نریندر مودی نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے آپ کو ہم سے دوستی سے روکے رکھا اور آج ہم پاکستان کو شکست دے کر آپ سے دوستی کی روایت کو زندہ کر رہے ہیں۔ اسی دن مودی اور اشرف غنی نے واجپائی کے نام پر اٹل بلاک کا افتتاح بھی کیا۔ آج وہ پانچ فیصد افغانستان جوکبھی طالبان حکومت کے خلاف بڑا میدانِ جنگ تھا، سب سے پہلے وہی طالبان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت اور تاجکستان کا خوفزدہونا لازم تھا۔ ساتھ ہی کچھ معلومات امریکہ نے جاری کی ہیں ۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق افغانستان میں مجموعی فوجی اخراجات 778 بلین ڈالر تھے۔ پینٹاگان کے مطابق سی 130 مال بردار طیاروں کی 984 پروازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 17074 فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجیسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔ پر اس جنگ کی کچھ تلخ حقیقتیں بھی ہیں ۔ امریکہ کی اس افغان وار میں دو لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں دو ہزار 442 امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جبکہ پاکستان میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 67 ہزار ہے۔ ستائیس لاکھ افغان مہاجرین ایران،پاکستان اور یورپ میں آئے جب کہ چالیس لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہوئے۔

    ۔ یہ تو پوری دنیا میں’خدشہ‘ ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی فوج کا مکمل انخلا ہوتے ہی افغانستان پر طالبان کا راج قائم ہوجائے گا۔ ۔ یہی امارت اسلامیہ کا ترجمان ماہنامہ ’شریعت‘ کہتا ہے اس میں تو ان تیاریوں کی تفصیلات بھی دی جارہی ہیں کہ آزادی کے بعد امارت اسلامیہ کی ترجیحات کیا ہوں گی۔ ان کے موجودہ سربراہ کا کہنا ہے کہ ایک خالص اسلامی نظام کے سائے تلے ملک کی تعمیر نَو اور ترقی کے فوری اقدامات کیے جائیں۔عالمی سرمایہ کاری کے لئے ماحول سازگار کیا جائے تاکہ ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہوجائے۔۔ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی یہ متفقہ پیش گوئی ہے کہ امریکی فوج کے جاتے ہی چھ ماہ کے اندر افغان حکومت زمیں بوس ہوجائے گی۔ پر میرے خیال میں تو چھ ماہ بھی نہیں لگیں گے بلکہ چند دن اور چند ہفتوں میں ہی اشرف غنی کی حکومت گر جائے گی ۔ کیونکہ افغان نیشنل آرمی کے فوجی بڑی تعداد میں منحرف ہورہے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کررہا ہے۔ بہت سے افغان جو امریکی فوج اور انتظامیہ کی مدد کررہے تھے، ان سب کو تاجکستان میں پناہ دلوائی جارہی ہے۔ وہاں سے وہ امریکہ پہنچتے رہیں گے۔ طالبان کی اپنی اطلاع یہ ہے کہ ہر ماہ ایک ہزار سے پندرہ سو لوگ دشمن کی صفوں سے نکل کر ان میں شامل ہورہے ہیں۔ مجھ تو نظر آرہا ہے کہ 72سالہ اشرف غنی، 60سالہ عبدﷲ عبدﷲ اور 63 سالہ کرزئی یہ تو سب امریکہ میں پناہ گزیں ہوں گے۔ جبکہ مستقبل کی قیادت ملا محمد عمر کے صاحبزادے 30 سالہ ملا محمد یعقوب کے ہاتھوں میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔

    ۔ کیونکہ آج بیس سالہ جنگ کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر صرف اور صرف ایک ہی قوت تھی اور ہے ۔۔۔۔جسے ’’طالبان‘‘ کہتے ہیں۔

  • افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    افغان امن عمل .ازقلم: فیصل فرحان

    کہانی آج سے بیس سال پہلے سے شروع ہوتی ہے جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے افغانستان میں ط الب ان کی حکومت کا تختہ الٹا تو اس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہوئے۔ اس خطے میں افغانستان کے بعد پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
    جن میں 5 ہزار سکیورٹی اہلکار، 70 ہزار معصوم لوگ شہید اور تقریباً 100 ارب ڈالر کا مالی نقصان ہوا۔
    پر امن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ کیونکہ پاکستان پہلے سے تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان نے ہمیشہ سے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ چاہے وہ دوہا قطر میں ہونے والے امر یکہ طا لبان امن مذاکرات ہوں یا پھر ڈیورنڈ لائن پر طورخم سے لیکر چمن تک سرحد پر باڑ لگانا ہوں۔

    اب چونکہ ام ر یکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور افغانستان چھوڑنا پڑا لیکن امر یکہ کا شاطرانہ اور مداخلتی پالیسی جوکہ شاید ان کو فرانسیسیوں اور انگریزوں سے ورثے میں ملی ہے کہ وہ کسی بھی جگہ کو آسانی سے نہیں چھوڑتا بلکہ کسی نہ کسی ٹول کے ذریعے اپنی مداخلت جاری رکھتا ہے۔
    اس لیے امریکہ کا افغانستان سے مکمل طور پر انخلاء کے بعد اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اڈے دینا کا مطالبہ کیا گیا۔ آج کے جدید اصطلاح میں اس کو (Drone Treatment) کہا جاتا ہے جس میں UAVS کو استعمال کر کے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکی سرزمین سے باہر جنگ لڑی جاتی ہے جس میں امریکہ کا نہ تو کوئی فوجی مرتا ہے اور نہ کوئی اور نقصان۔

    اس سلسلے میں پاکستانی ریاست نے "Absolutely Not” کا انتہائی واضح اور
    دو ٹوک موقف دے کر مزید کسی بھی جنگ کا متحمل نہ ہونے کا واضح پیغام دے دیا۔
    پاکستان کا یہ موقف انتہائی خوش آئند اور ہمارے غیرت و حمیت کے عین مطابق ہے۔
    پاکستان کے اس دو ٹوک اور غیر متوقع سٹانس کے بعد امریکہ اور اس کے خوار دوست پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرینگے۔
    جن میں ہائبرڈ وار، انفارمیشن وار انسرجنسی اور مختلف قسم کے کانسپریسی تھیوریز کے ذریعے عوام کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا جائے گا۔ میڈیا کو استعمال کیا جائے گا مذہبی اور مختلف لسانی جماعتوں کو استعمال کیا جائے گا۔
    ہماری قوم نے بہت سی قربانیاں دیے کر اس پاک چمن کا امن دوبارہ بحال کیا ہے۔ اور اب یہ ہم سب کی ذمّہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر ہم ریاست کے اس بہادرانہ اور دلیرانہ موقف اور فیصلوں کا ہر صورت دفاع کریں۔ اور ریاستی اداروں کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کا مقابلہ کرکے اغیار کے سازشوں کو ناکام بنائیں۔
    اللہ تعالیٰ مملکت پاکستان اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افراد اور قوموں کی اپنی کوئی نہ کوئی تہذیب ہوتی ہے جس سے ان کی بہت گہری وابستگی ہوتی ہے۔ تہذیبوں کا مذہب یا اجتماعی نظام سے بھی بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کہیں کہیں تہذیب سے مذہب سے بھی بڑھ کر جذباتی تعلق ہوتا ہے،ہمارے روشن خیال لوگ مغربی معاشرے کی انسان دوستی ،انصاف وقانون کی بالادستی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اورمغرب کومہذب معاشرہ ثابت کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہوئے ہیں لیکن ان روشن خیالوں نے کبھی بھی تاریخ کے اوراق پلٹ کرنہیں دیکھے کہ وہ جس تہذیب کے گرویدہ انہوں نے ماضی میں کتنے مظالم ڈھائے اورکتنے بیگناہوں کوپلک جھپکتے ہی موت کی ابدی نیندسلادیااورکتنے لوگوں اپاہج بنایا ،یہ 13 اپریل 1919 ء کی بات ہے جب جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے قتلِ عام کیا، جسے امرتسر قتلِ عام بھی کہا جاتا ہے،جب پرامن احتجاجی مظاہرے پر برطانوی ہندوستانی فوج نے جنرل ڈائر کے احکامات پر گولیاں برسا دیں۔ اس مظاہرے میں بیساکھی کے شرکا ء بھی شامل تھے جو پنجاب کے ضلع امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے تھے۔ یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک ہوئے تھے جوسکھوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکا ء بیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم بھی نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لاء نافذ ہے۔اتوارکے دن جنرل ڈائر کو بغاوت کا پتہ چلا تو اس نے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی مگر لوگوں نے اس پر زیادہ کان نہ دھرے۔ چونکہ بیساکھی کا دن سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ باغ میں جمع ہو گئے تھے۔ جب جنرل ڈائر کو باغ میں ہونے والے اجتماع کا پتہ چلا تو اس نے فورا پچاس گورکھے فوجی اپنے ساتھ لیے اور باغ کے کنارے ایک اونچی جگہ انہیں تعینات کر کے مجمعے پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں حتی کہ گولیاں تقریبا ختم ہو گئیں۔ جنرل ڈائر نے بیان دیا کہ کل 1650 گولیاں چلائی گئیں۔ شاید یہ عدد فوجیوں کی طرف سے جمع کیے گئے گولیوں کے خولوں کی گنتی سے آیا ہوگا۔ برطانوی ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق 379 کو مردہ اور تقریبا 1100 کو زخمی قرار دیا گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اندازہ 1000 اور زخمیوں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ تھی۔

    گذشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں نسلی ناانصافی کے خلاف مظاہروں میں مظاہرین کی طرف سے سلطنت ، استعمار اور غلامی کی علامتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مظاہرے مئی 2020 میں افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں پھٹ پڑے۔اس طرح دنیاکے مختلف ممالک میں ظلم،جبراورناانصافیوں پراحتجاجوں کالامتناہی سلسلہ جاری ہے ، کینیڈا میں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے پرتشدد مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے گرادیے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں برآمد ہونے والی سیکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر سڑکوں پر نکلنے والے نارنجی شرٹ پہنے مظاہرین نے احتجاجی ریلی نکالی۔وینیپیگ میں نکلنے والی ریلی میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے ایک چوک پر پہنچنے کے بعد وہاں نصب ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کی طرف پیش قدمی کی۔ریلی میں شامل چند مشتعل مظاہرین چبوترے پر چڑھے اور انہوں نے پہلے ملکہ وکٹوریہ پھر ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے کو زمین پر گرادیا۔ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرانے کے بعد شہریوں کا غصہ مزید بڑھ گیا، مشتعل افراد نے مجسمے گرانے کے بعد نسل کشی پر فخر نہیں کا نعرہ بھی لگایا۔کینیڈین میڈیا کے مطابق یہ معاملہ ایک روز قبل اس وقت پیش آیا جب روایتی طور پر ملک بھر میں سرکاری سطح پر جشن منایا جانا تھا تاہم بچوں کی باقیات ملنے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔ بچوں کی باقیات ملنے پر دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرین سڑکوں پر آئے اور انہوں نے حکومت سے واقعات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔واضح رہے کہ کینیڈا میں گذشتہ دنوں اجتماعی قبروں سے ایک ہزارسے زائد قبائلی بچوں کی باقیات دریافت ہوئیں تھیں جبکہ اس سے قبل مقامی رہائشی اسکول میں 215 بچوں کی باقیات پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکول کو 1978 میں بند کردیا گیا ہے، جن کی باقیات ملیں وہ برٹش کولمبیا کے کیملوپس انڈین رہایشی اسکول کے طالب علم تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے قدیم مقامی باشندوں کے قبائل میں سے ایک رہنما نے بتایا کہ برٹش کولمبیا میں قدیمی باشندوں کے بچوں کے لیے قائم ایک سابقہ مشنری اسکول کے قریب سے مزید 182 قبریں دریافت ہوئی ہیں۔لوئر کوٹینے ہینڈ نے بتایا کہ کرین بروک کے قریب سابقہ سینٹ یوجینز مشن اسکول کے پاس سے لاشیں برآمد ہوئیں۔کمیونٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ اسکول 1913 سے 1970 تک چلتا رہا اور 2020 میں یہاں تلاش شروع کی گئی تھی۔کینیڈا کے صوبے سسکاچیوان میں پرانے اسکول کی سائٹ سے 751 نامعلوم قبریں دریافت کی گئی ہیں۔اسی طرح ایک اورغیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی ریاست سسکاچیوان کے شہرریجینا سے تقریبا 140 کلومیٹر دورایک سابق بورڈنگ اسکول میں قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں قبائلی بچوں کی لاشیں دفن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ جگہ رومن کیتھولک چرچ کے زیر انتظام تھی، تمام قبریں بچوں کی ہیں یا بالغ افراد کی ہیں اس بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔واضح رہے کہ 1863 سے 1998 تک کینیڈا میں حکومت اورمذہبی حکام کے ذریعے چلائے جانے والے بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچوں کووالدین سے زبردستی علیحدہ رکھ کر نئی زبان اور جدید ثقافت اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ان بچوں کو اکثر اپنی زبان بولنے یا اپنی ثقافت پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور ان میں سے بہت سوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کی جاتی تھی۔ 2008 میں اس نظام کے اثرات کو جاننے کے لیے قائم کردہ کمیشن کو معلوم ہوا کہ مقامی بچوں کی بڑی تعداد کبھی بھی اپنے گھروں اور اپنی برادریوں میں واپس نہیں آئی۔ 2015 میں جاری کی گئی تاریخی ‘ٹرتھ اینڈ ریکنسلیشن رپورٹ’ میں کہا گیا کہ یہ پالیسی ‘ثقافتی نسل کشی’ کے مترادف تھی۔

    کینیڈا کے مختلف شہروں میں، چرچوں کی نگرانی میں چلنے والے بورڈنگ اسکولوں میں مقامی بچوں کی کئی اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد، متعدد کلیسائوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔غیرملکی نیوزایجنسی کے مطابق ذرائع کاکہناہے کہ ان قدیم چرچوں بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں سے متعلق ریکارڈموجود ہے اس لئے منظم طریقے سے ریکارڈ کوتحقیات کرنے والوں اداروں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کیلئے کلیساؤں کو آگ لگائی جارہی ہے اور اس کا الزام احتجاج کرنے والوں پرلگایاجارہاہے ۔سوچنے کی بات ہے اگرخدانخواستہ یہ قبریں کسی مسلم ملک کے تعلیمی ادارے سے ملتی توتحقیقات سے قبل ہی اسے اسلامی دہشت گردی قراردیاگیاہوتا،اب یہ قبریں مغرب کے مہذب معاشرے سے تعلق رکھنے والے ملک کینیڈاجوکہ برطانوی کالونی ہے کیتھولک عیسائی چرچوں کے زیرانتظام چلائے جانے والے سکولوں سے ملی ہیں ،اگراسے مغرب کے پیمانے سے ماپاجائے تو اسے لازی طورپر کیتھولک عیسائی دہشت گردی کہناچاہئے اوراس سے بڑھ کر تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان جب اپنے حق کی حصول کے لیے کھڑا ہو تو انھیں دہشت گرد کہنے میں اور ثابت کرنے میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں کہ مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیتے ہیں، جبکہ اسلام مخالف طاقتیں ہر روز کہیں نہ کہیں بے چارے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرکے ناحق انکا خون بہاتے ہیں، اور بلا وجہ ان کو شہید کردیتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان ہیں، انھیں کوئی عیسائی دہشت گرد، یہودی دہشت گرد،اورہندو دہشت گردنہیں کہتا، انھیں کبھی تو دماغی معذور بنا کر،اور کبھی تو یہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتااور ا ن کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے حتیٰ کہ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیاپر پابندی لگا دی جاتی ہے مظالم پر آوازاٹھانے والوں کے سوشل میڈیا اکائونٹ بلاک کردئے جاتے ہیں تا کہ ا ن مظالم کی ویڈیوزوائرل نہ ہوسکیں ،یہ ہے مغرب کی سیاہ تہذیب جو انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے لیکن خوبصورت سلوگن کی وجہ دنیاسے اوجھل ہے ۔

  • اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    اسرائیل ٹو پاکستان براستہ سعودی عرب. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان میں ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑی ہوئی ہے، امریکا اس جنگ کی شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں، پاکستان نے جب امریکا کو تاریخی جواب دیا تو امریکی کی چودھراٹ خطرہ میں پڑھ گئی، اور جو بیڈن اس حوالے سے پاکستان کا محتاج ہے، جو بیڈن جب یہ جنگ دنیا کی طاقتور مشینری سے بھی ہار گیا تو اس نے نیا انداز اپنا لیا ، اور پاکستان سے دوسرے انداز سی نمٹنے کی تیاری کر چکا ہے. راصل امریکا پاکستان کو ایران ، عراق اور دیگر واسطی اشیائی مملک کے ساتھ توانائی کا کوریڈور تباہ کرنا چاہتا ہے. یہ ایک بہت بڑی پائپ لائن ہے جوعراق سے شروع ہوتی ہے ، پاکستان کے زریعے ہوتی ہوئی، ہمالیہ اور کشمیر سی چین تک جائے گی، اس سے تیل چین جائے گا اور چائنیز انویسٹمنٹ مشرق وسطیٰ تک جائے گی جس سے چین مزید مظبوط ہوگا اور امریکا کا پتا ہمیشہ کے لئے صاف ہوجاے گا اور جب اس پورے خطے سے امیرکا جائے گا تو CPEC افغانستان تک جائے گا اور یہ یہ کوریڈور بن جائے گا، تو امریکا اس چیز کو روکنا چاہتا ہے. اب امریکا پاکستان کی کیسے تباہی کرسکتا ہے ؟ ایک یہ ڈائریکٹ حملہ کرے گا، لیکن وہ نہیں کر سکتا ایک تو پاکستان بہت بڑا ہے دوسرا پاکستان ایٹمی ملک ہے، اس کے پاس اب ایک راستہ ہے جسے پاکستان کو روکنا ہوگا، امریکا کا پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی اور بلوچ کارڈکھیل کر پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے تاکہ پاکستان کو توڑ دیا جائے، اس امریکا PTM اور BLA جیسی اپنی proxies کا سہارا لے گا. اس کے لئے ہماری پاک فوج بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سینکڑوں دہشتگردوں کو پکڑ چکا ہے جو اس طرح کی ہوا دینے کے منصوبے سے آئے تھے.

    دوسرا بھارت کو امریکا نے گرین سگنل دے دیا ہے، کہ وہ کشمیر میں پوری طرح سے قبضہ کرنا شروع کردے اور ہندوں کو مزید بسانا شروع کردیے اور برارست پاکستان پر بھارت حملے کی تیاریاں بھی کر چکا ہے تو پاکستان دونوں بارڈر پر ہائی الرٹ ہے_
    دونوں صورتوں میں امریکا کو شکست ہوئی ہے

    اب وہ نئے انداز میں سامنے آیا ہے
    اسرائیلی جریدے ” ہیوم“ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سابق مشیر زلفی بخاری نے نومبر2020 میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا تھا اور وزارت خارجہ کی سنیئراہلکار سے ملاقات بھی کی تھی. اسرائیلی جریدے کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری اپنے برطانوی پاسپورٹ کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد سے براستہ لندن اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پہنچے تھے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد انہیں سرکاری گاڑی کے ذریعے تل ابیب لے جایا گیا جہاں ان کی اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار سے انہوں نے ملاقات کی.

    رواں ماہ کے آخر میں سعودی وزیر خارجہ ایک خطرناک پیغام لیکر جوبایڈن اور اسرائیلی وزیراعظم بینٹ کا پاکستان آرہے ہیں، چونکہ سعودی عرب اب اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے اور اسرائیل نے ایک ڈرامہ رچا کر کہ ہم مسجد اقصی کا کنٹرول سعودی عرب کو دے رہے ہیں، تو اس بہانا سعودی عرب تسلیم بھی کرے گا۔ تو سعودی عرب یہ چاہتا ہے کہ پاکستان۔ بھی اسرائیل کو تسلیم کرے تاکہ اس پر پریشر بھی کم ہو اور اس کے مقاصد بھی پورے ہوجائیں، لیکن ریاست نے دوٹوک فیصلہ کیا ہے ہم اب کسی پریشر میں نہیں آئیں گے، عمران خان کی دکھتی رگ سعودی عرب میں موجود پاکستانی ہیں، سعودیہ عرب ہمیں یہ دھمکی دے سکتا ہے کہ ہم انھیں سعودی عرب سے نکال دیں گے۔

    اب اسرائیل کے زریعے پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کے پاکستان کو عالمی دنیا کے سامنے بدنام کیا جائے گا ، پاکستانی قوم کو بھٹکایا جائے گا، اور پاکستان پر دہشتگردی کے لیبل لگا کر فلمیں بنائی جایں گی اگر پاکستان نے امریکا کی افغانستان کی جنگ میں ساتھ نہ دیا. تو یہ ساری گیم دوبارہ سے پاکستان کے خلاف کھلی جارہی ہے جو پھلے نومبر میں اور ٹرمپ دور میں کھیلی گئی تھی

  • فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت). تحریر :عمر خان

    فاشزم (فسطائیت) لاطینی لفظ "فاشیو” سے اخذ کیا گیا ہے جس کا لفظی معنی "ایک بنڈل” ہے، قدیم روم میں سول مجسٹریٹ کے پاس ڈنڈوں کا ایک بنڈل ہوتا تھا وہ گلیوں بازاروں میں پھرتا اور اگر کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کررہا ہوتا تو اس کو سزا کے طور پر ان ڈنڈوں سے پیٹا جاتا۔
    فسطائیت (Fascism) آمریت کی ہی ایک شکل ہے ، یعنی ایک پارٹی یا ایک فرد کی حکومت۔ فاشزم ایک ایسا نظام حکومت ہے جس کی قیادت ایک آمر کرتا ہے جو سیاسی مخالف کو جبر و تشدد سے دبائے ، صنعت و تجارت پر مکمل کنٹرول کرے اور قوم پرستی یا نسل پرستی کو فروغ دے کر اپنی آمرانہ حکمرانی برقرار رکھے۔
    فاشزم کی واضح مثال اٹلی کا حکمران "بینیتو موزولینی” اور جرمنی کا حکمران ” ایڈولف ہٹلر” رہے ہیں۔
    اگرچہ فاشسٹ جماعتیں اور تحریکیں ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف تھیں ، لیکن ان میں بہت سی خصوصیات مشترک تھیں جن میں انتہائی شدت پسندانہ رویہ، انتہائی عسکریت پسندانہ قوم پرستی ، سیاسی و ثقافتی آذادی کی توہین ، قدرتی معاشرتی درجہ بندی اور اشرافیہ کی حکمرانی کا اعتقاد شامل ہیں۔

    • نیشنلزم (قوم پرستی)

    نیشنلزم (قوم پرستی) لفظ Nation (قوم) سے
    اخذ کیا گیا ہے۔ قوم کا مطلب انسانوں کا ایسا گروہ جن میں ثقافت ، نسل ، جغرافیائی محل وقوع ، زبان ، سیاست ، مذہب یا روایات پرستی میں سے کوئی ایک بھی قدر مشترک ہو ۔
    18 ویں صدی سے پہلے کچھ مخصوص ادوار میں خاص طور پر جنگ ،تناؤ اور تنازعات کے دوران مختلف سلطنتوں میں مخصوص گروہوں یا علاقائی اکائیوں کے اندر قومی احساس کے جذبات اور سوچ موجود تھی۔ 18 ویں صدی میں تہذیب کو قومیت کا تعین سمجھا گیا۔ اس سے قبل کسی بھی سلطنت کے عوام کی پہچان بادشاہ یا حکمران کے نام سے ہوتی تھی ، عوام نے بادشاہ کو قوم کا مرکز بنائے رکھا تھا۔ قوم پرستی کی آئیڈیالوجی نے واضح کیا کہ بادشاہ قوم یا ریاست نہیں ہے۔ ریاست عوام کی قومی ریاست ، آبائی وطن یا مادر وطن ہے۔ جب ریاست کی شناخت قومی تہذیب سے ہوئی تب ریاست قوم کی پہچان بن گئی۔ مثال کے طور پر تب یہ اصول پیش کیا گیا تھا کہ لوگوں کو صرف ان کی اپنی مادری زبان میں ہی تعلیم دی جاسکتی ہے ، نہ کہ دوسری تہذیبوں کی زبانوں میں۔

    سلطنتوں کے زیر اقتدار بڑی مرکزی ریاستوں نے لسانی ، ثقافتی ، علاقائی یا مذہبی شناخت کے طور خود کو ایک قوم میں متحد کیا اور پرانے جاگیردارانہ ، آمرانہ ، شخصی حکمرانی سے آذادی حاصل کی۔ ان قومی ریاستوں نے عوام کی ذاتی زندگی اور تعلیمی نصاب کی سیکولرائزیشن کی جس سے عام زبانوں کو فروغ ملا، اور چرچ یا مذہبی شخصیات کے تسلط کو قومی ریاست کی حکومت سے الگ کیا۔ تجارت میں اضافے اور معاشی ترقی نے قوم پرست آئیڈیالوجی میں نئی روح پھونک دی۔اس ترقی نے ان تصورات کا مقابلہ کیا جو صدیوں تک سیاسی فکر اور شہری آزادی پر حاوی تھے
    امریکی اور فرانسیسی انقلابات کو اس کا پہلا طاقتور مظہر سمجھا جاسکتا ہے۔ نیشنل ازم 19 ویں صدی کے شروع میں وسطی یورپ میں اور صدی کے وسط تک مشرقی اور جنوب مشرقی یورپ میں پھیلا۔ 20 ویں صدی کے آغاز میں ایشیاء اور افریقہ میں بھی قوم پرستی پھیل گئی۔ اس طرح 19 ویں صدی کو یورپ میں قوم پرستی کا دور کہا جاتا ہے ، جبکہ 20 ویں صدی میں پورے ایشیاء اور افریقہ میں طاقتور قومی تحریکوں کے عروج اور جہدوجہد کا آغاز ہوا۔
    مذہبی قوم پرستی کی بنیاد پر بنی ریاست پاکستان اور لسانی نسلی بنیاد پر بنگلہ دیش کا قیام بھی قوم پرستی کی واضح مثالیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر قوم کے پاس ایک مخصوص علاقائی ریاست ہو مثال کے طور پر فلسطینوں کے پاس ریاست نہیں ہے لیکن وہ ایک قوم کی شناخت رکھتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی ریاست منقسم ہے لیکن اس ریاست کے شہری ایک قوم ہی جانے جاتے ہیں۔

    •حب الوطنی (Fascism)

    حب الوطنی (Patriotism) کسی ملک ، قوم یا سیاسی جماعت سے وابستگی وفاداری اور محبت کا نام ہے ۔ حب الوطنی (ملک سے پیار) اور قوم پرستی (کسی ایک قوم سے وفاداری) کو اکثر مترادف سمجھا جاتا ہے جبکہ ان دونوں میں واضح فرق ہے۔
    حب الوطنی وطن سے محبت جبکہ نیشنل ازم ایک قوم کی عکاس ہے

    #عمر نامہ