Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    افغان طالبان کا دباؤ،پاکستان اور اسرائیل.. تحریر:رانا عزیر

    عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
    فرش کے سارے خداؤں سےالجھ بیٹھا ہوں
    عمران خان جہاں ایک طرف دنیا کے سامنے ہیرو بن کر ابھر ہیں اور دنیا میں واحد مرد مجاہد ہے جس نے امریکہ کو آنکھیں دکھائیں اور سپرپاور کو نو مور کہا۔ کل جیسے ہاؤس میں کھڑے ہوکر عمران خان نے اپنی 74 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی پالیسی بیان کی جس نے عالمی طاقتوں کی نیندیں حرام کردیں. اس کے بعد امریکہ کا پہلا خطرناک وار اسرائیل کی شکل میں لانچ ہوچکا ہے اور ایک ایسا عمران خان کے خلاف افغان طالبان سے منسوب کرکے سکینڈل لانچ کیا اور اس سکینڈل کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ اسرائیل کے جریدے ہیرٹز نے یہ انکشاف کیا ہے اب طالبان یہ فیصلہ کریں گے پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے۔ اس کے پیچھے کہانی بہت پیچیدہ ہے, کیا پاکستان نے طالبان کے دباؤ میں آکر فوجی اڈوں کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے؟ پوری قوم یہ جاننا چاہتی ہے، تو اسکا آج مکمل جواب آپکو ملے گا۔ ہمارے ہمسائے ملک میں اس وقت خانہ جنگی کا راونڈ ون شروع ہوچکا ہے جو کہ پاکستان کیلئے بہت خطرناک ہے لیکن پاکستان نے جیسے ہی بروقت فیصلے کیے امریکہ کے خواب چکنا چور کردیے، امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ ناکام ہوا تو اس نے نیا محاذ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اسرائیل ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پوری پاکستانی قوم ایک ہوجاتی ہے اور ہم اس دہشتگرد ناجائز ملک سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے فلسطین پر ناجائز قبضہ کیا۔ اور یہی وجہ ہے آج پاکستانی قوم عربوں سے اس وجہ نفرت کرنا شروع ہوگئ ہے کہ انھوں نے چند ٹکوں کی خاطر اسرائیل کو تسلیم کیا اور امت مسلمہ کا سودا کیا۔

    یہ اسرائیل کو پتا ہے کہ جب ہمارا گندہ نام عمران خان کے ساتھ جڑے گا تو عمران خان کی مقبولیت پاکستان میں کم ہوگی، کیونکہ پاکستان میں چند اشرافیے کے لوگ عمران خان کو یہودی ایجنٹ بھی کہتے ہیں تو یوں عمران خان کے خلاف پوری قوم کھڑی ہوجائے گی۔ 2001 میں جب امریکہ پر حملہ ہوا تو پوری دنیا امریکہ کو گود میں بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے امریکہ کو حکم دیا کو وہ افغانستان پر چڑھائی کردے، پاکستان نے اس وقت افغان طالبان کو کہا اگر اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کردو تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے لیکن افغان طالبان نہ مانے۔ امریکہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے۔ یہی 2001 والی صورتحال دوبارہ پیدا ہوچکی ہے، اب امریکہ حافظ سعید اور طالبان لیڈرز کو پاکستان سے مانگ رہا ہے لیکن پاکستان اب ڈٹ گیا ہے، کچھ ہی دن پہلے اقوام متحدہ نے امریکہ کے زیر اثر ایک رپورٹ شائع کی کہ پاکستان داعش کو پاک افغان بارڈر پر پناہ دے رہا ہے اور پاکستان انھیں افغانستان میں استعمال کررہا ہے، امریکہ کا پلان یہ ہے کہ وہ پہلے پاکستان کو بدنام کرے پھر اقوام متحدہ اسے حکم دے گا کہ تم افغانستان پر بھی چڑھ دوڑو اور پاکستان پر بھی یہ ساری گیم امریکہ رچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے بدلے یہ پاکستان کو کہا جارہا ہے کہ اگر اسرائیل کو پاکستان تسلیم کرتا ہے تو یہ خطرہ ٹل سکتا ہے کہ افغان طالبان اور حافظ سعید کوہمارے حوالے کردو اور ہم پھر بغیر بتائے آپریشن نہیں کریں گے۔ لیکن پاکستان اب کسی جنگ میں شرکت کرنے کیلئے تیار نہیں، اور امریکہ اپنے پینترے چلنے کی پوزیشن میں ہے وہ ہے اسرائیل ماڈل۔ لیکن پاکستان نے کمال کے پتے کھیلے کہ اگر افغان طالبا ن بھی طاقت کے زور پر آئیں گے ہم اپنا بارڈر سیل کردیں گے جو بڑا مثبت اشارہ تھا پوری دنیا کو، تو امریکہ کو لگ کہاں سے رہی ہے وہ اسے سمجھ نہیں آرہی ہے

  • افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    افغان طالبان کی فتوحات. تحریر:سید عمیر شیرازی

    اٹھارہ سالوں سے جاری جنگ بلآخر پچھلے سال اختتام پذیر ہوئی اور اسی کے ساتھ امریکا اور طالبان میں کامیاب مذاکرات ہوئے۔۔۔
    کل تک پوری دنیا یہ سمجھتی تھی امریکی فوج افغانستان پر قابض ہوکر طالبان کا خاتمہ کر دے گئی لیکن اللّه کی مدد جس کے ساتھ ہو پھر پوری دنیا بھی ایک ہو جائے کچھ نہیں کر سکتی یہی مدد طالبان کے ساتھ اللّه کی طرف سے ملی اور طالبان پوری دنیا میں سرخرو ہوئے۔۔۔
    وہ دور بھی ایک دور تھا جب حضرت ملا محمد عمر رح کی قیادت میں طالبان نے اپنی فتوحات کی ابتدا کی آج پوری دنیا نے یہ دیکھا کے طالبان کبھی دنیاوی خداؤں کے آگے نہیں جھکی امریکا جو اپنے آپکو سپر نیوکلیئر پاور کہتی نہ تھکتی تھی آج وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہے۔۔
    طالبان نے حضرت ملا محمّد عمر رح کی قیادت میں جب افغانستان میں اپنی حکومت قائم کی تو ایسا لگتا تھا حضرت سیدنا عمرؓ کی خلافت کا وہ سنہرا دور دوبارہ شروع ہوا
    اللّه پاک ملا عمر رح کے درجات بلند فرمائے

    اب ایک بار پھر طالبان اپنی بہترین حکمت عملی کے تحت افغانستان میں فتوحات حاصل کر رہی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں عنقریب طالبان دوبارہ افغانستان میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اس وقت پوری دنیا کی نظر افغانستان اور طالبان پر جمی ہے اور میری نیک خواہشات طالبان کے ساتھ ہیں۔
    اللہ تعالی ان کا حامی و ناصر ہو۔
    آمین

  • کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    کینیڈا میں سابق سکول سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت

    برٹش کولمبیا: کینیڈا میں ایک اور سابقہ بورڈنگ اسکول کے باہر سے مزید 182 بچوں کی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق بچوں کی عمر 7 سے 15 سال کے درمیان ہے جنہیں 1890 سے لیکر 1970 کے درمیان کیتھولک چرچ کے زیر انتظام چلنے والے اسکول میں زبردستی کینیڈین معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے تعلیم دی جاتی تھی۔

    19 ویں صدی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب بچوں کو زبردستی مسیحی بورڈنگ اسکولوں میں تعلیم دی جاتی تھی تاہم اس دوران ہزاروں بچے بیماری اور دیگر وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوگئے تھے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کینیڈا کی ریاست سسکیچوان میں سابق بورڈنگ اسکول سے 751 اجتماعی قبریں دریافت کی گئی تھیں جب کہ مئی کے آخر میں بھی ایک اسکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی اجتماعی قبریں برآمد ہوئی تھیں برٹش کولمبیا میں قائم سکول1978 میں بند کردیا گیا تھا اس حوالے سے کینڈین وزیراعظم نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ بچوں کی باقیات ایک پرانے بورڈنگ سکول سے برآمد ہوئیں بچوں کی اموات کب ہوئیں ،تحقیقات کی جائیں گی-

    کینیڈا کے ایک سکول کے احاطہ سے 215 بچوں کی باقیات برآمد

  • پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    پاکستان کے خلاف امریکی سازشیں. تحریر: نوید شیخ

    کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم ابھی نندن کو پکڑ لیتے ہیں ۔ کلبھوشن یادو کو بھی رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں مگر دنیا میں ہماری اس طرح سنوائی نہیں ہوتی جیسے ہونی چاہیے ۔ دوسری جانب بھارت کوئی جھوٹا موٹا ڈرامہ بھی کرے تو سب پاکستان کی جانب انگلی اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ اس سلوک کی وجہ امریکہ ہے ۔ آگے چل کر بڑی تفصیل سے امریکہ کی کارستانیوں بارے بتاتا ہوں ۔ ۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں جو گزشتہ کئی دنوں سے ڈرامہ بازی جاری ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کس کو نہیں پتہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ۔ اس وقت جو ملک کو مسائل درپیش ہیں یہ حقیقی طور پر امتحان کا وقت ہے ۔

    ۔ آپ دیکھیں بھارتی فضائیہ کی عمارت پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد پاکستان پر الزام عائد کرنے کی بڑی تگڑی کوششیں ہو رہی ہیں مگر کتنے سیاستدان ہیں جنہوں نے اس کا جواب دیا ہے۔ آج بھی اسمبلی میں بڑی تقریریں ہوئی ہیں ۔ شور شرابہ ہوا ہے ۔ مگر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ مودی اور بھارت کی شرانگیزیوں کا جواب دے دیتے ۔۔ کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ سوال یہ اٹھا دیتے کہ جو ڈرون بھارت دیکھا رہا ہے ۔ یہ چھوٹے والے ڈرون ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بھی اس کی بیٹری لائف ہوئی تو 40 منٹ سے زیادہ ہوا میں نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ والا ڈرون کہیں آگیا ہے تو کہیں سے تو آپریٹ ہو رہا ہوگا ۔ کہیں جا کر یہ گرے گا بھی ۔ اس کو تو ڈھونڈو ۔ مگر کسی کا اپنی سیاست سے ہٹ کر توجہ ہو تو سوال کرے ۔ مودی کو جواب دے ۔ بھارت کے پراپیگنڈہ کا توڑ کرے ۔

    ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو نہیں پتہ چلا ۔ کہ لاہور میں جو دھماکہ ہوا اس کے پیچھے بھارت اور RAW کا ہاتھ تھا ۔ قومی اسمبلی میں آج بڑی جذباتی تقریریں ہوئیں ۔ پر اس اہم موقع پر جس کو دنیا میں بھارت پلوامہ ٹو بنا کر پیش کر رہا ہے ۔ ہماری پارلیمنٹ چپ ہے ۔ آخر کیوں ؟۔ لاہور تو لاہور ۔ کراچی سے بھی RAW کا ایک خطرناک نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے۔ پر کیا قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو یہ توفیق ہوئی کہ حکومت دنیا کو کیوں نہ بتا سکی کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے ۔ ۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے سکیورٹی اداروں کو پاکستان میں کسی دہشت گردی کے واقعے میں بھارتی خفیہ ادارے RAW کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ پاکستان ایسے بہت سے ثبوت اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کرچکا ہے جن کی بنیاد پر بھارت کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تھی لیکن افسوس کی بات ہے کہ عالمی برادری اس سلسلے میں کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ بھی نہیں کرتی۔ بھارت کی پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں یا دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی بحریہ کا افسر کلبھوشن یادیو ہے جسے پاکستانی سکیورٹی اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔

    ۔ کیا یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اردگرد ہونے والے واقعات پر نگاہ رکھے اور ملکی مفاد میں سیاسی اختلافات کو بھلا کر پاکستان کی سلامتی اور بقاء کو اہمیت دیتے ہوئے مثبت طرز عمل اختیار کرے۔ ۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بھارت مزید ایسی کوئی کارروائیاں کرے تاکہ وہ لاہور دھماکے میں اپنی ایجنسی کے ملوث ہونے کے معاملہ سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے ۔ لیکن ہمارے دفتر خارجہ کو اس سلسلے میں پوری توجہ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور بھارت کے خلاف ملنے والے ثبوت مختلف بین الاقوامی فورمز پر پیش کر کے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنا چاہیے۔۔ اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت سے ملاقات کا ایک اور ڈھونگ ناکام ہوگیا ہے۔ ۔ نریندر مودی اس وقت عالمی سطح پر شدید دباؤ میں ہیں۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو یا لداخ میں تیار بیٹھی چینی افواج، اگر پاکستان پھنسا ہوا ہے تو مسائل بھارت کے لیے بھی کم نہیں ہیں ۔

    ۔ کیونکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات کو بہتر بنا کر خطے کا چوہدری بنے اور چین کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہو۔ لیکن بیچ میں کشمیر آجاتا ہے اس لیے یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کیونکہ پاکستان کا واحد مطالبہ ہے کہ کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے، تبھی مذاکرات کی میز سجائی جاسکتی ہے۔ پر ابھی تک بھارت کو چوہدری بنانے کی امریکہ کی خواہش بہت مہنگی پڑ رہی ہے ۔ ۔ حالت یہ ہے کہ quad اتحاد بنانے کے باجود ایشیا میں امریکی غلبہ زوال پذیر ہے حالات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان سے انخلا کے بعد خطے پرنظر رکھنے کے لیے کوئی ملک اڈے دینے کو تیا رنہیں۔ دراصل ایسے حالات بنانے میں امریکی حماقتوں کا بڑا ہاتھ ہے افغانستان میں بھارتی کردار کی ضد نے چین کو قبل ازوقت مقابلے پر آنے کی راہ دکھائی اور پاکستان کو بھی خفا کر دیا کیونکہ پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے اِس لیے اب یہ توقع کم ہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ ماضی کی طرح ایک دوسرے سے شیر وشکر ہوں۔

    ۔ اس حوالے سے عمران خان نے اپنے حالیہ چینی ٹی وی کو انٹرویومیں واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف علاقائی اتحاد قائم کیا ہے۔ امریکی اتحاد میں بھارت اور دیگر ممالک شامل ہیں جبکہ پاکستان کے ساتھ نا مناسب رویہ رکھا گیا مغربی ممالک کا پاکستان پر دباؤ ڈالنا نا مناسب ہے۔ پاکستان پر جتنا بھی دباؤ ڈال لیں، پاک چائنہ تعلقات قائم رہیں گے۔ پاک چائنہ تعلقات ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی ہیں۔ ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان میں دوری بڑھتی جا رہی ہے اور آگے یہ مزید بڑھنے کی جانب گامزن ہے ۔ وجہ بھارت ہے ۔ آپ دیکھیں جب افغان سرزمین پر بھارت کی موجودگی چین اور پاکستان دونوں کو قبول نہیں توپھر امریکی کیوں ضد کرتے ہیں سمجھ نہیں آتی ویسے بھی بڑے رقبے، بڑی آبادی اور بڑی فوج کے علاوہ بھارت میں کوئی خوبی نہیں ۔ بھارت وہ میمنا ہے جسے دودھ پینے کے سوا کچھ نہیں آتا پہلے روس اور اب امریکہ کی طرف ہونے میں یہی خصلت کارفرما ہے بھارت کی بے جا حمایت امریکی غلبے کو زیادہ تیزی سے زوال کی گہرائیوں میں پھینک سکتی ہے۔

    ۔ دراصل دہشت گردوں کی سرکوبی کا علمبردار امریکہ اڈے لیکر اہم ممالک پر نظر رکھناچاہتاہے لیکن پاکستان ایسا کچھ کرنے کی اجازت دینے پر تیار نہیں۔ دوسرایہ کہ پاکستان اب طالبان کے حمایتی یا مخالف گروہوں کولڑنے کے لیے میدان فراہم نہیں کرنا چاہتا اور وہ اقتدار کا فیصلہ کرنے کا حق افغانوں کو دینے کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ افغان اپنے لسانی یا نسلی مسائل کا حل بھی خود تلاش کریں لیکن امریکی خواہش ایسی نہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں علاقے میں موجود رہنا چاہتا ہے۔

    ۔ امریکہ کوشاید معلوم نہیں کہ حالات بدل چکے ہیں چین پر ہمسایہ ممالک تکیہ کرنے لگے ہیں جو امریکی اتحاد کی طرف قدم بڑھائے اُسے چین روکنے بھی لگا ہے بنگلہ دیش پر چین اسی نوعیت کا دباؤ ڈال چکا ہے جبکہ کم وبیش تین دہائیوں سے خاموش روس نے بھی عالمی کردار بڑھانا شروع کر دیا ہے اور عالمی امور میں امریکہ مخالف روش پرگامزن ہے۔ ۔ روسی صدر پیوٹن جلد پاکستان کا دورہ بھی کرنے والے ہیں ۔ ۔ ایران پہلے ہی خطے میں امریکہ مخالف بلاک کا پُرجوش حصہ ہے۔ جس سے نتیجہ واضح ہے کہ امریکی غلبے کا زوال شروع ہوگیا ہے اور جلد ہی عالمی منظر نامے پر واحد زمینی سُپر طاقت کے مدمقابل ایک سے زائد نئی طاقتیں آنے کا امکان ہے۔

  • ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    ڈپریشن بیماری ہے.تحریر: ماشا نور

    جہاں ایک طرف باہر ممالک میں ڈپریشن کو باقاعدہ بیماری تسلیم کرکے اس کا علاج کیا جارہا وہی پاکستان میں اس بیماری پر بہت کم لوگ بات کرتے یا اس کو مانتے ہیں اکثر لوگ کہتے ہیں ڈپریشن کوئی بیماری نہیں یہ کردار کی کمزوری ہے یا پھر انسان کے کسی گناہ کا احساس جو اسکو پریشان کرتا ہے اس کے علاوہ اگر آپ کے مالی حالات اور اردگرد کا ماحول ناساز ہے تو یہ بھی ذہنی تناؤ اور دباؤ کا باعث بنتا ہے ڈپریشن کی مختلف وجوہات ہیں سب سے پہلے مالی پریشانی پاکستان میں 25 فیصد لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے گھریلوں مسائل ہوں یا شادی کا نا ہونا ایسے میں خواتین میں غصہ پایا جاتا ہے کہا جاتا ہے غصہ نارمل انسان کو آتا ہے جو کافی حد تک ٹھیک ہے مگر بات بات پر غصہ، ناراضگی، بیزاری، یہ ڈپریشن کی علامات ہیں ڈپریشن کے نتیجے میں کچھ افراد کو ذہنی بے چینی، تشویش، ناکارہ ہونے یا منفی خیالات کا سامنا ہوتا ہے
    سونے میں مشکل ڈپریشن کے شکار افراد کو اکثر تھکاوٹ اور جسمانی توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے مگر ان کے لیے رات کو سونا بھی آسان نہیں ہوتا
    آدھے سر کا درد بھی ڈپریشن سے جڑا ہوا ہوسکتا ہے، ڈپریشن نہ صرف سردرد کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے مریضوں میں آدھے سر کے درد کی شکایت عام ہوتی ہیں،بہت سارے ایسے کیسز بھی ہمیں پاکستان میں دیکھنے کو ملے جہاں طلبہ نے امتحان میں ناکامی کے بعد خودکشی کی جب والدین اپنے بچوں پر پریشر ڈالتے ہیں کے تم نے نمایاں کامیابی حاصل کرنی ہے تب وہ اسٹوڈنٹ ذہنی اذیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ناکام ہونے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں ڈپریشن کے مریض یا تو بہت زیادہ بولتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں ایسے میں انکی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے جو خاموش ہیں ان سے بات کی جائے ہوسکتا ہے وہ پہلے کسی سے بات نا کرنا چائیں بہت سے کیسز میں ڈپریشن کے شکار لوگوں نے کسی کو کچھ نا بتایا بلکہ خودکشی کو ترجیح دی ایسے لوگوں کو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ان سے پوچھا جائے کے آخر پریشانی کیا ہے ڈپریشن ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کی ذمہ داری مریض پر نہیں ہے اور اس کا موثر علاج موجود ہے کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن سے علاج جبکہ سائیکیٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی تشخیص کرتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں علاج ساتھ ساتھ چلتے ہیں اگرچہ ڈپریشن کو کم کرنے یا ختم کرنے کی ادویات اور کونسلنگ سے خودکشی کرنے کی سوچ میں کمی ہو سکتی ہے لیکن یہ ہر مریض کے لیے بہترین علاج نہیں ہے ایسے مریضوں کو ایک خاص وقت لگتا ہے اس بیماری سے باہر آنے میں جس میں گھر والے، دوست اہم کردار ادا کرسکتے ہیں
    ایک برطانوی باکسر نے اپنے انٹرویو میں بتایا کے وہ ڈپریشن کا شکار ہیں جس سے جان چھڑانے کے لیے انہونے نشہ لینا شروع کردیا وہ کہتے کے انکو محسوس ہوتا جیسے وہ خود کو کچھ وقت میں مار لینگے، بہت سے لوگ شراب، ڈرگس، کا استعمال شروع کردیتے ہیں لوگوں سے میل جول ترک کرکے وہ خود کو تنہا نشے کا عادی بنالیتے جسکا انجام ایک دن خودکشی ہوتا ہے جب کوئی نارمل انسان اچانک خاموش ہوجاے یا بہت زیادہ بات کرنے لگے غصہ کرنے لگے تو ہم اسکو دھتکار دیتے ہیں نفساتی کہہ کر اگنور کرتے جو غلط ہے ایسے مریضوں کو اکیلا نا چھوڑیں ان پر نظر رکھیں ان کی حرکات پر نظر رکھیں احساس کمتری جلن حسد یہ سب انسان کو ڈیریشن کا شکار بنا دیتا ہے
    ڈپریشن سے کیسے باہر نکلا جاے
    اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں تو آپ اچھی خوراک لیں وقت پر مکمل نیند پوری کریں موبائل کا استعمال ضرورت سے بہت زیادہ نا کریں باقاعدہ واک کریں فیملی دوستوں میں وقت گزاریں اور اپنے آپ کو خوش رکھیں لیکن اگر ڈپریشن کی علامات بہت زیادہ ہے جس کے باعث آپ کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں یا گھر والے، دوست یا آس پاسں کے افراد کہہ رہے ہیں کہ آپ میں کوئی واضح تبدیلی آرہی ہے تو اسکی صحیح تشخیص کے لیے آپ کو پروفیشنل کی مدد لینی ہوگی اور اس میں دیر نا کریں کوئی آپکا پیارا اس بیماری کا شکار ہے تو لازمی اسکی مدد کریں

  • امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    امریکہ کا پلان بی. تحریر:رانا عزیر

    افغانستان کے حالات فائنل راؤنڈ میں داخل ہوچکے ہیں، اور یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے جس کا اثر اب کابل سے بھارت اور امریکہ تک بھی جائے گا۔ اصل تو اس خانہ جنگی کا مقصد پاکستان کے امن کو تباہ کر کے ہمارےملک پاکستان کو ترقی سے روکنا۔ اب امریکہ نے باقاعدہ اعلان کردیا ہے ان کے ٹاپ کے جرنیل کا یہ کہنا ہے کہ حالات بے قابو ہوچکے ہیں، افغان مجاہدین 100 سے زائد اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کرچکے ہیں،اور وہ کابل سے 60 میل دور ہیں، جنرل آسٹن ملر کا یہ کہنا تھا، اب وہاں خانہ جنگی ہونے جارہی ہے
    خانہ جنگی امریکہ نے اسی صورت میں کرنی تھی کہ افغان طالبان کابل پر چڑھائی کریں اور ہم حملہ آور ہوجائیں. جیسے پہلے لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے اور پاکستان کے ہر گلی کوچے میں دہشتگردی پھیل گئی تھی، دشمن کے سلیپر سیل ایکٹو ہوگئے تھے تو اب بھی امریکہ اس جنگ میں پاکستان کو اکیلا کرنا چاہتا ہے، عمران خان نے کہا تھا اگر خانہ جنگی ہوئی پاکستان اپنا بارڈر سیل کردے گا اور یہ امریکہ کا پلان چوپٹ ہوگیا۔ امریکہ نے پھر پاکستان میں آزادی کی تحریک چکو جنم دینے کیلے بلوچ کارڈ استعمال کیا اور بلوچستان کو آزاد کرو کی تحریک شروع کرنے کاپلاں کیا، ہمارے گمنام ہیروز نے امریکی خواب چکنا چور کردی۔

    اب امریکہ کا پلان خطرناک ہے۔ وہ پوری دنیا کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے جارہا ہے اور عمران خان کو اب مزید سکینڈلز کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے. اب امریکہ اس کارڈ کو کھیلنے جارہا ہے کہ پاکستان پر یہ الزام لگائے گا کہ میں نے پاکستان کے وزیراعظم سے دہشتگردوں کے خلاف افغانستان کے لیے فوجی اڈے مانگے تھے تو پاکستان نے دہشتگردوں کو پناہ دی اور ہمیں فوجی اڈے نہیں دیے اور پاکستان نے ان دہشتگردوں کو ہمارے خلاف افغانستان میں استعمال کیا، ایسی رپورٹ امریکہ اقوام متحدہ کے ذریعے شائع بھی کرواچکا ہے حال ہی میں۔

    تو اب امریکہ پاکستان کو بدنام کرکے اور پھر بغیر بتائے اوباما آپریشن یعنی کہ جیسے اسامہ بن لادن کے خلاف ایک جعلی آپریشن کیا اور پاکستان پر داغ لگایا اب وہی صورت حال امریکہ پیدا کرنے جارہا ہے، وہ پاکستان میں بغیر بتائے گھسے گا، ہماری خفیہ ایجنسی اس تاک میں بیٹھی ہوئی ہیں کہ اب ہم انھیں بھرپور جواب دیں گے اور پلٹ کر جواب دیں گے۔

    بھارت بھی اپنے شہریوں کو کہہ چکا ہے، افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہونے جارہی ہے اب اپنی حفاظت کریں اور بھارت یہ الزام بھی لگا رہا ہے کہ دہشتگردی گروپ ان کو اغواء اور نشانہ بنا رہے ہیں، صرف یہ دکھانے کیلئے کہ پاکستان ان دہشتگردوں کی معاونت کررہا ہے، اور اس وقت بھارت میں بالکل پلوامہ والے حالات ہیں، مودھی اب ایک اور الیکشن جیتنے کیلئے اپنے ہی فوجیوں اور لوگوں کو مروائے گا اور الزام پاکستان پر لگائے گا۔ اس سارے پلان کے ساتھ اب دشمن میداں میں اتر رہا ہے۔ عمران خان واضح کر کے ہیں ہم جواب دینے کیلئے تیار ہیں اور دوسری جانب چین اور روس پاکستان کے لیے ہر طرح کھڑے ہونے کیلے تیار ہیں اور وہ پاکستان کی اس جنگ میں بھرپور مدد کریں گے جس کی تشویش امریکہ کو بھی ہے۔

  • مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    مودی کی نئی سازش . تحریر: نوید شیخ

    جیسے جیسے بھارت میں کرونا شور زراکم ہورہا ہے تو مودی نے پھر دوبارہ وہ ہی پرانا کھیل کھیلنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ ہی حربے ، وہی پرانے طریقہ واردات اور وہ ہی اپنی اوقات دیکھانا شروع کر دی ہے ۔ مودی ایک بار پھر پاکستان مخالف ، چین مخالف اور کشمیر مخالف جذبات کو ابھارنے کا گھناونا کھیل شروع کردیا ہے تاکہ بھارتی عوام کو پھر اس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جائے کہ ان کی نظر مودی کی کرونا پر نااہلی ، لداخ اور کشمیر ، جو اس نے بھارت کا معاشی بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ اس پر نہ جائے ۔

    ۔ یوں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فضائیہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کا الزام بھارتی تجزیہ کاروں نے پاکستان پر عائد کر دیا ہے ۔ اور ایک بار پھر بھارت کی جانب سے war mongering
    جاری ہے ۔ حالانکہ جو حقائق ہیں وہ واضح اشارہ ہیں کہ یہ کام کسی اندر کے بندے جیسے RAWکا ایک نیا رچایا ہوا ڈرامہ ہے بلکل پلوامہ جیسا جس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا تھا ۔ اور اس کا بھی ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش جاری ہے ۔ ساتھ ہی اس واقعہ کی آڑ میں مودی اور بھارت بڑی بڑی ڈیلیں کرنے کے درپے پر بھی ہے ۔ ۔ حالانکہ جو سوال بنتا تھا کہ مودی جی جنہوں نے بھارتی فضائیہ کو رافیل سے لے کر پتہ نہیں کون کون سے سسٹم اور ریڈار ۔۔۔ غریب بھارتیوں کے پیسے خرچ کر لا کر دیے ہیں ان کی کارکردگی کیا ہے ۔ آخری کیسے بھارتی فضائیہ کے اڈے پر ڈرون حملے ہو گئے ۔ کیا سب بھنگ پی کر سوئے ہوئے تھے ۔ اور RAW کیا کر رہی تھی ۔ دراصل یہ وہ ہی معاملہ ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ ماضی کی طرح ان حملوں کا الزام پاکستان پر اس لیے عائد کیا جا رہا ہے کہ ایک جانب چین ، لداخ اور کشمیر کے معاملات مودی سے بالکل کنڑول نہیں ہو پارہے ہیں تو دوسری جانب کرونا پر خراب کارکردگی اور معیشت کا مودی نے جنازہ نکال دیا ہے ۔

    ۔ دراصل مقبوضہ کشمیر کے جموں ائیر بیس پر پانچ منٹ کے وقفے سے ہونے والے دو زور دار دھماکے اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ کشمیری عوام بھارت کے ہتھکنڈوں کے آگے جھکنے والے نہیں۔۔ ایک دھماکے سے بھارتی فضائیہ کے اڈے کی عمارت کی چھت اڑ گئی جبکہ دوسرا دھماکہ کھلی جگہ پر ہوا۔ دھماکوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ پورے جموں ڈویژن میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ حیران کن چیز یہ ہے کہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب ائیر فورس اسٹیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہو رہا تھا۔

    ۔ حریت پسندوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن مقبوضہ کشمیر پولیس چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائیہ کے اڈے پر بم گرانے کیلئے ڈرون استعمال کئے گئے۔ دھماکوں کے شبہے میں دو افراد گرفتار کر لئے گئے ہیں ۔ سرکاری طور پر اگرچہ بتایا گیا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، صرف دو اہلکار زخمی ہوئے لیکن دھماکوں کے فوری بعد ایک سے زائد ایمبولینسوں کو جائے وقوعہ کے اندر داخل ہوتے دیکھا گیا جس سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کافی جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں جنہیں چھپایا جا رہا ہے۔ قیاس آرائیوں کی بڑی وجہ میڈیا کو جائے وقوعہ میں داخلے اور رپورٹنگ کی اجازت نہ دینا ہے۔ جس سے یہ شبہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ یہ بھارت کی اپنی ایجنسیوں کی کارستانی بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ بھارتی اخباروں میں شائع اور ٹی وی چینلز میں جو کچھ نشر ہو رہا ہے وہ صرف ائیر فورس اور پولیس کے دعوئوں پر مبنی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں یہ پہلا ڈرون حملہ تھا ۔ پولیس کا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ کشمیری مجاہدین بارودی مواد کی منتقلی کیلئے ڈرونز کو ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب جموں شہرکے علاقے کالوچک میں فوجی مرکز کے قریب مزید دو ڈرونز آئے جن پر بھارتی فوجیوں نے گولیاں چلائیں اور اسکے بعد وہ ڈرون واپس چلے گئے، یہ واقعہ بھارتی فضایئہ کے مرکز پر ڈرون حملوں کے ایک روز بعد پیش آیا ۔ دھماکوں کی اہمیت اس بنا پر اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ چند روز قبل ہی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت نواز کشمیری رہنمائوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں نام نہاد انتخابات اور حلقہ بندیوں کے حق میں ان کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ جس میں مودی مکمل ناکام رہا ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت عرصہ دراز سے بھارتی جیلوں میں قید اپنی بے گناہی کی سزا بھگت رہی ہے۔ ان لوگوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنا حق خود ارادیت اور آزادی مانگتے ہیں۔ اس جرم میں اب تک نہ صرف 80ہزار سے زائد کشمیری نوجوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنے سیاسی قائدین کی طرح بھارتی قید و بند کی صعوبتیں ایک طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں اور جو کشمیری قید نہیں ہیں وہ دنیا کے طویل ترین محاصرے میں ہیں۔ جس کو بھی سات سو روز گزر چکے ہیں بلکہ اب تو اس محاصرے کو دوسال مکمل ہونے والے ہیں ۔

    ۔ یہاں میں اپنے ان بعض نادان دوستوں کا بھی ذکر کردوں جو یہ توقع کر رہے تھے کہ مودی نے جو کشمیریوں کا اجلاس بلایا تھا اس میں اور کچھ نہیں تو کم از کم مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تو بحال کر دی جائے گی لیکن اس اجلاس میں نہ تو حقیقی کشمیری سیاسی قیادت کو جیلوں سے رہا کرکے مدعو کیا گیا نہ ہی کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی پر بات کی گئی۔ اس طرح یہ بے معنی اجلاس بھی ایک ڈرامہ اور گونگلوں سے مٹی جھاڑنا ہی ثابت ہوا۔۔ اس اجلاس میں مدعو کئے گئے چند معروف کشمیری قائدین نے بھی مودی سرکار کو ٹھینگا دکھایا۔ یوں یہ بے معنی اجلاس بے مقصد انجام سے دوچار ہوا جو مودی سرکار کی ناکامی کا باعث بنا۔۔ اب بھارتی تحقیقاتی اداروں کی جھوٹی تحقیق یہ ہے کہ پاکستان ڈرون کو جموں کشمیر میں کئی عرصے سے استعمال کر رہا ہے۔ ۔ چلیں اگر یہ مان بھی لیں کہ ڈرون پاکستان کی طرف سے آئے تھے تو کنڑول لائن کے پاس تو بات سمجھ آتی ہے ۔ یہ اتنی دور جموں میں ڈرون کیسے پہنچے ۔ یہ سوال بھارت میں کوئی بھی حکومت اور فضائیہ سے نہیں پوچھ رہا ہے ۔ ۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کو اس میں بھی آئی ایس آئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ دراصل اس سب الزام تراشی کی وجہ ہے ۔ اب اسکا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر ، بھارتیوں کو خوف میں مبتلا کرکے ۔ بھارت اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاری میں ہے ۔ ۔ بھارتی خبر رساں ادارے نے تو دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ بھارت نے اینٹی ڈرون سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کئی فوجی تنصیبات میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا جا چکا ہے۔ بھارت نے لال قلعہ پر ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر پہلی بار اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیا تھا۔ جس کا نامlaser based directed energy weaponتھا ۔ یہ سسٹم کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو لیزربم کے ذریعہ گرا سکتا ہے ۔ ایک اور سسٹم ہے جو کہ DRDO کے لگاتار ٹرائل پر ہے کہ کیسے microwave کے ذریعہ ڈرون کو گرایا جاسکے ۔ اس کو jaming system بھی کہا جاتا ہے ۔

    ۔ بھارت کے سی ڈی ایس بپن راوت بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ مستقبل کی جنگ کے لئے خود کو تیار کرنا ہو گا۔ بھارت نے اس ضمن میں تینوں افواج کے اہم اڈوں پر اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ اسکے لئے بھارت نے اسرائیل سے بھی مدد لی ہے اور بھارتی بحریہ نے چھوٹے ڈرون سے نمٹنے کے لئے اسرائیل کو اینٹی ڈرون سسٹم کا 2000 سے زائد کا آرڈر کیاہے یہ اینٹی ڈرون سسٹم computerized ہے۔ اسکو بندوق کے اوپر بھی لگایا جا سکتا ہے اور کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ڈرون کو اس سسٹم سے فضا میں ہی تباہ کیا جا سکتا ہے۔ ۔ حقائق یہ ہیں کہ بھارت میں کورونا نے جس طرح تباہی مچائی ۔ دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اور مودی کی اس ضمن میں کارکردگی جو رہی وہ بھی پوری دنیا نے دیکھ لی ہے کہ لاشیں جلانے کے لئے نہ شمشان گھاٹوں میں جگہ ملتی تھی نہ ان کی چتائوں کو جلانے کے لئے لکڑیاں دستیاب تھیں۔ دہلی، کلکتہ، ممبئی، امرتسر، چندی گڑھ، میزو رام، حیدرآباد سمیت اترپردیش اور راجستھان میں مودی سرکار کی ناکامی کا یہ عالم رہا کہ کورونا ویکسین تو کیا متاثرین کو آکسیجن تک میسر نہیں تھی۔

    ۔ لاکھوں بھارتی باشندے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر آکسیجن کی قلت کی وجہ سے ایڑیاں رگڑتے ہوئے ہلاک ہوتے رہے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود جھوٹا بھارتی میڈیا بھی مودی سرکار کی اس تاریخی ناکامی پر پردہ نہیں ڈال سکا۔۔ چین کے ساتھ تنازع میں بھی بھارت کو لینے کے دینے پڑے اور مار الگ سے کھائی۔ پاکستان کے ساتھ پنجہ لڑانے کی کوشش بھی بھارتی ناکامی پر ختم ہوئی۔ اگر پاکستان اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ نہ کرتا تو بھارت ابھی نندن کو آزاد کرانے کی ہمت نہیں کرسکتا تھا جو پاکستان پر حملہ کرنے اور نقصان پہنچانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ اس حماقت میں بھی بھارت کا منہ کالا ہوا۔ ۔ بھارتی معیشت مودی حکومت میں زوال پذیر ہے اور تجارتی گراف مسلسل نیچے گر رہا ہے۔ معیشت کی تباہی و بدحالی بھی مودی سرکار کی ایک اور بدترین ناکامی ہے۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیری رہنمائوں کی جانب سے بھارت کو ٹکا سا جواب ملنے پر جموں دھماکوں کے ایک اور رخ کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی طرف اشارہ پاکستان کے عسکری ذرائع نے بھی کیا ہے۔ جس میں جموں دھماکوں کو بھارتی حکومت کا پلوامہ ۔ twoڈرامہ قرار دیا ہے۔ ان کا خدشہ بالکل درست ہے کیونکہ بھارت اس واقعے میں پاکستان کو ملوث کر کے وہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جنہیں وہ پلوامہ حملے کے ڈرامے کے بعد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا تھا۔

    ۔ پھر افغانستان کی بگڑتی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بھی وہ پاکستان کے خلاف جو امریکہ کو طالبان کے خلاف کاروائی کے لئے اڈے نہ دینے کا اعلان کر چکا ہے۔ کوئی نیا محاذ کھول سکتا ہے اس پس منظر میں جموں دھماکے دور رس اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ ۔ کہا جاتا ہے کہ دشمن بھی اعلیٰ ظرف ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے بھارت ایسا نہیں بلکہ دوسری طرح کا پڑوسی اورمخالف ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بھارت کو جب بھی اندرونی یا بین الاقوامی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اسی طرح کا کوئی ڈرامہ رچا کر الزام پاکستان پر اس لئے عائد کرتا ہےتاکہ اس ناکامی سے دنیا اور بھارتی عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔

  • سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    سمندر سے ملنے والا نایاب شیل 18000 روپے میں نیلام

    بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں سمندر سے ملنے والا شیل ساڑھے 18000 ہزار روپے میں نیلام ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق آندھرا پردیش کے مشرقی گوداوری ضلع کے اپڈا گاؤں میں دریائے گوداوری کے کنارے پر غیر معمولی طور پر نارنجی رنگ کا بڑا شیل پایا گیا ہے۔ سمندری شیل ، جو آسٹریلیائی بگل یا فلاز ترہی کے نام سے جانا جاتا ہے کی نیلامی 18،000 روپے میں کی گئی۔


    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق 27 جون کو سمندری مخلوق کی تصاویر ٹویٹر پر پوسٹ کی گئیں۔ شیل کی اس قسم کو سائنسی طور پر سرینکس آروینس کے نام سے جانا جاتا ہے ، یہ شیل دنیا کے سب سے بڑے سائز کے شیل کی نسل سے ہے ٕ۔ سیرنکس آروانس 91 سینٹی میٹر تک لمبا اور 18 کلو گرام تک وزنی ہوسکتا ہے۔ اس کے کنبے کی واحد نسل ہونے کی وجہ سے ، سرینکس آروانس سب سے بڑا زندہ شیل گیسٹروپڈ ہے۔

    یہ قسم عام طور پر شمالی آسٹریلیا اور قریبی علاقوں میں پاپو نیو گنی اور مشرقی انڈونیشیا میں پائی جاتی ہے۔ سرینک آروانس مقامی طور پر ان جگہوں پر عام ہے جہاں زیادہ مقدار میں مچھلی نہیں ہوتی ہے اور وہ کیڑے کھانے سے زندہ رہتے ہیں۔ چونکہ وہ کم سے کم 50 میٹر گہرائی کے ساتھ گہرے سمندر میں رہتے ہیں ، لہذا جب کبھی بڑی لہریں انھیں دھکیلتی ہیں تو ساحل پر شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ، انواع کی محولیاتی نظام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

  • پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی؟ تحریر:سید محمد مدنی

    میں پچھلے بیس سال سے پاکستان کی سیاست دیکھتا آ رہا ہوں اوراس بارجب فلسطین پرظلم ہؤا توبا حیثیت ایک مسلمان ملک پاکستان اورپاکستانیوں کےدل افسردہ تھے پاکستان کی خارجہ پالیسی نےاس بار بڑے عرصے بع دکروٹ بدلی اوراس کی وجہ وزیراعظم پاکستان کی اقوامِ متحدہ وہ تقریرہے جس سےکئی ممالک کے دارالحکومتوں کی زمینیں ہل گئیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اقوام متحدہ میں دبنگ بیان خاص کرمقبوضہ کشمیراورفلسطین کےحوالےسےایک بہترین اورجامع بیان تھا پاکستان کی اہمیت کااندازہ آپ بین الاقوامی سطح پرافغانستان امن کےبارے کام اورکاوشوں اس کےعلاوہ وزیراعظم عمران خان کی شخصیت مسلم امہ کے لیے کتنی بہترین اوراہم ہے سے لگا سکتے ہیں

    یہی وجہ ہے کہ آج اوآئی سی ہومشرق وسطی کےممالک ہوں یہ بڑےادارے وزیراعظم کی کاوشوں کے بعد متحرک ہوئےاورآج وزیراعظم کی کاوشوں کی وجہ سے پاکستان کےعرب ممالک کےساتھ تعلقات مزید بہترین ہورہے ہیں خراب ہوئے نہیں بس تاثرایسا دیا گیا کہ خراب ہین اوراس میں قصورپاکستان کے دشمنوں کا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان صرف پاکستان کاہی نہیں بلکہ وہ چاہتےہیں کہ مسلم ممالک اورمسلم امہ جوکہ دنیا کے اس خطےمیں بڑی تعدا دمیں ہیں اپنا اثرپیدا کریں

    صرف اسلاموفوبیا اورنبی آخری الزماں حضرت محمدرسول ﷲ صلعم سے متعلق موضوع پروزیراعظم سرتوڑکوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک مغرب کوکہ باورکرائیں کےاسلام امن کاپیغام ہےاورمغرب کوکوئی حق نہیں کےوہ اس طرح ہمارےپیارے نبی صلعم کی شان میں گستاخی کرےاوروزیراعظم چاہتےہیں کہ کوئی ایسی قرارداد یانظام لائین کہ پھرآئندہ کسی کی جرات ناہو

    کچھ عرصہ پہلےجب پاکستان کےوزیرخارجہ جب فلسطین کےمسئلےپراقوامِ متحدہ گئےاوروہاں ترکی اوردیگرمسلم ممالک کےساتھ بہترین ڈپلومیسی کاکرداراداکیااورپھرجب بین الاقوامی خبروں کےچینل سی این این پرانٹرویو دیا جسے اس شوکی اینکرنےغلط رُخ دینے کی برابرکوشش کی اوروہ یہ تھاکہ میڈیا فلسطین کے مظالم نہیں دکھاتااوراثررکھنے والے افراد ہی میڈیا کوچلاتے ہیں جوکہ درست بات ہے لیکن اس اینکرنےاس کواینٹی سیمیٹیزم کانام دے دیا اینکروزیرخارجہ کی سچائی کوسننا نہیں چاہ رہی تھیں اوروہ اسرائیل کی طرف داری کرنے یا پھروزیرخارجہ کوغلط ثابت کرنے میں لگی ہوئی تھیں لیکن ناکام ہوئیں پاکستان کی دبنگ ڈپلومیسی نےایک بارپھراپنا اثراوراہمیت دکھائی اورحقائق دکھائےجس سےاورمسلم ممالک نےبھی فوری جنگ بندی پرزوردیا

    اب آتےہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیرکےحوالےسےبھارت کشمیرکواپنااٹوٹ انگ توکہتاہےمگروہیں ان پرظلم کرتاہےعورتوں کی بےحرمتی کرتاہےوزیراعظم پاکستان عمران خان نےبہت چاہاکےپاکستان بھارت میں تعلقات بہترہوں مگربھارت کارویہ ہمیشہ سےگھناؤنارہاہےکچھ عناصرغلط خبریں بھی نکالتے رہے کہ کشمیرپاکستان کے ہاتھ سے گیا اورحکومت پاکستان تجارت کرنے پرلگی ہے تومحترم میرے قارئین وزیراعظم صاحب نے یہ برملاکہا کہ پاکستان بھارت سے تجارت نہیں کرسکتا جب تک وہ کشمیر پر بات نہیں کرتا

    اب افغانستان کوزراگہری نظرسے دیکھتے ہیں یہ پاکستان ہی ہے جوامریکہ کوامریکہ کی ہی مدد سے افغانستان سے نکالنے کا کام کررہا ہےاوردنیا پاکستان کی معترف بھی ہے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو زرا بڑے صفحے پردیکھیں توپاکستان کی اہمیت کا اندازہ آپ کو ہوگا

  • بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارتیں قسط 1 ،تحریر۔ طلعت کاشف سلام

    جیسا کے آپ عنوان دیکھ سکتے ہیں، بچپن کی شرارتیں،
    آج میں آپ سے اپنی بچپن میں کی ہوئی شرارتیں شیعر کرونگی۔

    ھم سب نے اپنے بچپن میں کبھی نہ کبھی کسی مقام پر شرارت کی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ھم لوگوں نے آج کے بچوں کے مقابلے میں کافی اچھا بچپن گزارا ہے۔ آج کے بچے پوری طرح سے الیکٹرانک بچپن گزار رہے ہیں، نہ باہر کھیلتے ہیں،نہ کسی سے ملتے ہیں، سارا دن ہاتھ میں یا تو کوئی الیکٹرانک ڈیوائیس ھوتی ہے یا گھر کمپیوٹر پر گیم کھیلنے میں لگے ہوتے ہیں۔ جو کے بچوں کو سوشل طور پر ایک دوسرے سے دور کرتے جا رہے ہیں۔

    چلیں اس موضوع پر پھر کبھی بات کرینگے۔
    فلحال تو آپ کچھ میرے بچپن کے بارے میں جانیں۔

    مجھے بچپن میں خود کو لڑکا کہلانے کا بڑا شوق تھا، کیوں حیران ھو گئے نہ ہاہاہاہاہاہاہا جی ہاں یہ سچ ہے۔۔

    جب میں آٹھ یا دس سال کی تھی، اس وقت اپنے بھائی کے کپڑے پہن کے بھائی کے ساتھ میں نے سائیکل بھی چلائی، کنچے بھی کھیلے، کرکٹ بھی کھیلی اور پتنگ بھی آڑائی۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے بوائے کٹ بال اور کراچی کی خطرناک گرمی میں باہر کھیل کھیل کے رنگت بھی کالی سیاہ تھی، اسلیے کوئی سمجھ بھی نہیں پاتا تھا کے میں ایک لڑکی ہوں۔ وہ بھی کیا دن تھے، ہر چیز سے بےفکر سارا دن بھائی کے ساتھ آوارگی کھیل کود اور کوئی فکر نہیں، اور جب شام میں گندے پندے گھر واپس آتے تو آمی(مرحومہ) کی جھاڑ، اور ھم امی سے وعدہ کرتے کے کل نہیں جائینگے۔

    جب دوسری صبح ہوتی سب بھول بھال اسکول سے واپسی پر پھر سے بھاگ جاتے۔ امی کو اتنا تنگ کر رکھا تھا کے اپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔

    اور پھر سے وہی کرکٹ میچ، یا سائیکل کی ریس شروع ھو جاتی۔ اور شام میں وہی ڈانٹ، مزے کی بات یہ ہے کے بھائی کے سارے دوست مجھ سے بڑے تھے اور میں چھپکلی کی پتلی دبلی، لیکن طلعت بیگم بچپن میں بھی کسی سے ہار نہیں مانتی تھیں، جب سائیکل کی ریس ھوتی تو سب سے بڑی والی سائیکل میں پکڑ لیتی تھی، نہ گرنے کا خوف نہ چوٹ لگنے کا ڈر۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کے بڑی سائیکل کے پہیے بڑے ہوتے اس لیے وہ تیز چلے گی اور میں جیت جاونگی ہاہاہاہا۔ یہ اور بات ہے کے زیادہ تر ہار جاتی تھی۔

    لیکن یہ سب شرارتیں جب یاد آتی ہیں تو اکیلے بیٹھے بیٹھے خود ہی ہونٹوں پر مسکراھٹ آجاتی ہے۔اور دل کرتا ہے کے کاش بچپن ایک بار پھر سے لوٹ آئے۔

    چلیں ابھی مجھے اجازت دیں، انشاءاللہ اس بچپن کی شرارت کو جاری رکھتے ہوئے کوشش کرونگی کے ہر روز نہیں تو ہر دوسرے روز آپ سب کو اپنی شرارتوں میں شامل کروں۔
    آج صرف شرارتوں کا انٹروڈکشن تھا پکچر ابھی باقی ہے۔
    اگلی قسط کا انتظار کریں۔