Baaghi TV

Category: متفرق

  • گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل ، شمشال جھیل

    شمشال جھیل ، گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں قدرت کا دل، اس خوبصورت جھیل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں دل جیسی منفرد شکل والی جھیلیں بہت کم تعداد میں ہیں لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہو کہ ان میں سب سے خوبصورت قرار دی جانے والی جھیل ’’شمشال‘‘ پاکستان میں واقع ہے۔

    گلگت بلتستان کی وسیع و عریض شمشال وادی میں پہاڑوں سے گھری ہوئی یہ خوبصورت جھیل سیاحوں کےلیے ایک خوبصورت تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس بارے میں جانتے ہیں۔

    وکی پیڈیا کے مطابق، وادی شمشال تک پہنچنے کا راستہ بہت مشکل ہوا کرتا تھا لیکن یہاں کے رہنے والوں نے کئی سال محنت کرکے ایک سڑک تعمیر کرلی جس کے بعد یہاں پہنچنا بہت آسان ہوگیا ہے۔

    وادی شمشال ایک انتہائی وسیع و عریض علاقہ ہے جس کی سرحدیں چین اور بلتستان سے ملتی ہیں۔ وادی شمشال میں پامیر کا علاقہ بھی شامل ہے۔ وادی شمشال ایک دشوار گزار وادی میں واقع ہے اس کی وجہ سے باقی دنیاسے سے کٹاہواتھا۔ تاہم، تقریباً دس سال پہلے اس خوبصورت وادی اور جفاکش کوہ پیماؤں کی سرزمین تک آخر کار سڑک بن گئی۔ سڑک کی تعمیر میں یہاں کے مقامی ہنرمندوں اور جفاکشوں نے انتہائی اہم قربانیاں دیں۔

    شمشال جھیل خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے لیکن دنیا کے سامنے اس کی خوبصورتی اور انفرادیت اجاگر کرنے کےلیے سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے۔

    شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند ایک غیر ملکی سیاحوں اور فوٹوگرافروں نے ہی اس منفرد جھیل کی خوبصورتی کو کیمرے سے قید کیا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمشال کی ایک انتہائی اہم وجہ شہرت یہاں پر جنم لینے والی کم عمر کوہ پیما ثمینہ بیگ ہے، جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سرکرکے یہ کارنامہ سر انجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے علاوہ، وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما رجب شاہ اور مہربان شاہ نے پاکستان کی بلند ترین چوٹی پر چڑھنے کا اعزاز حاصل کیاہے۔ کوہ پیمائی سے منسلک نامور اور تجربہ کار افراد کی ایک بہت بڑی تعداد شمشال سے تعلق رکھتی ہے۔

  • افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں ترکی کا کھیل بے نقاب۔ ایسے نہیں چلے گا، تحریر:راؤ اویس مہتاب

    ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول حاصل کر کے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں سے کیا مراعات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ترکی کیوں سمجھتا ہے کہ وہ طالبان کی مخالفت کے باوجود ایسا کر لے گا۔ اس کے پاس امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان میں کس قسم کی طاقت بچ جائے گی اور طالبان اس وقت افغانستان میں کیا اور کس طرح پیش رفت کر رہے ہیں۔ اور امریکہ اس وقت افغانستان میں کس حد تک بے بس ہو چکا ہے۔
    افغانستان میں بدلتے ھالات نے اس وقت امریکہ سے لے کر چین تک اور بھارت سے لے کر روس تک سب کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔
    امریکہ معاہدے کے باوجود پریشان ہے کہ اگر طالبان نے ان کے جانے کے فورا بعد کابل پر قبضہ کر لیا تو دنیا بھر میں ان کی بڑی سبکی ہو گی۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ ختم کیا تو انہوں نے کابل کی لوکل حکومت کو تین سال تک اقتدار قائم رکھنے کے لیئے سپورٹ کیا کیونکہ یہ روس کی عزت کا معاملہ تھا کہ اس کی حمایت یافتہ حکومت کچھ عرصہ بھی نہ چل سکی۔ لیکن جیسے ہی روس نے اس حکومت کی سپورٹ کم کی اس کا تختہ پلٹ دیا گیا۔لیکن آج امریکہ کے لیئے اس سے بھی زیادہ سنگین صورتحال ہے۔ امریکہ کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کابل پر طالبان نے فوری قبضہ کر لیا تو شائد یورپ اور امریکہ کو اپنے سفارت خانے چلانا بھی مشکل ہو جائے اور اس کے ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے۔

    امریکہ اپنے سفارت خانے کی حفاظت کے لیئے چھ سو فوجی چھوڑ رہا ہے جس کو ایک جنرل لیڈ کرے گا جو امریکی سفیر کے ماتحت ہو گا۔لیکن اگر کابل ائیر پورٹ پر قبضہ ہو جاتا ہے تو امریکی نہ افغانستان سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی آ سکتے ہیں ایسی صورت میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیئے صورٹھال بہت خراب ہو جائے گی۔ ترکی پر امریکہ کی پابندیوں کا بہت پریشر ہے اور ترکی اپنے تعلقات امریکہ سے ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔ اس لیئے ترکی کی طرف سے ایک پروپوزل آیا ہے کہ اس کی افواج کابل ائیر پورٹ کو کنٹرول سنبھالیں گی تاکہ افغانستان کی Air space میں امریکہ کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ترکی دوہزر تین سے افغانستان میں موجود ہے لیکن اس نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا بلکہ اس کے بدلے وہاں Administration Education Health اور پولیس ٹریننگ میں کام کیا اسی لیئے طالبان نے بھی ترکی کی افواج پر حملہ نہیں کیا۔

    لیکن اب صورتحال اس لیئے گھمبیر ہو گئی ہے کہ طالبان کی مرضی کے بغیر ترکی کابل ائیر پورٹ کا کنٹرول سنبھالنا چاہتا ہے۔ تاکہ افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ، یورپ اور امریکہ کو مدد فراہم کرے ان سے دیگر مراعات حاصل کی جا سکیں۔
    ایک تو امریکہ نے ترکی کے خلاف ہیومن رائٹ کے معاملے میں میدان گرم کیا ہو اہے۔دوسرا روس سے لیئے گئے S400 پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ تیسرا Mediterranean sea میں Greace سے تنازعات کی صورت میں یورپ سے تعلقات خراب ہیں۔ ان سب معاملات کو حل کرنے کے لیئے ترکی یورپ اور امریکہ کی افغانستان میں مدد کرنا چاہتا ہے۔اگر یورپ اور امریکہ کے افغانستان میں Diplomatic presence ترکی کی محتاج ہو جائے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ ترکی کو کیا فائدہ ہو گا۔ جبکہ افغانستان میں نیٹو کے زیر اثر گزشتہ بیس سال مین افیم کی گاشت میں بیس گنا اضافہ ہو چکا ہے اور دنیا میں افیم کی تجارت کا 80% افغانستان سے جا رہا ہے۔ امریکہ کے اس منڈی میں مفادات کا تحفظ افغانستان کی Air space پر کنٹرول حاصل کیئے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترکی یہ سب کیسے کرے گا۔ ترکی نے گزشتہ کئی سالوں میں اٖفغانستان میں مسجدیں تعمیر کی ہیں اور وہاں سکول بنائے ہیں اور وہاں ترکی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے۔ ترکی نے افغانستان میں اپنا Soft image بنانے میں کافی انویسٹ منٹ کی ہے۔ ساتھ میں ترکی کا قطر میں فوجی اڈا ہے اور قطر کو سعودی عرب کے خلاف ترکی نے کافی مدد فراہم کی ہے۔ قطر میں طالبان کا آفس ہی نہیں بلکہ قطر نے ایک Pro Qatar Taliban group بھی تشکیل دیا ہے، جس کی سربراہی Gen rasheed dostum کر رہا ہے اور یہ Uzbak origion کے افغان طالبان ہیں۔ ترکی قطر کے اثرو رسوخ کو بھی اس مقصد کے لیئے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جبکہ طالبان کو خدشہ ہے کہ اگر ائیر پورٹ ترکی کے کنٹرول میں ہو گا تو بغیر کسی زمینی سفر کے امریکہ اور اس کے اتحادی۔۔ فوج اور دیگر ایکسپرٹ کی صورت میں Infiltrate کر سکتے ہیں۔

    اس وقت افغانستان کے حوالے سے جھوٹ اور افواوں کا بازار بھی گرم ہیں اور کئی مفاد پرست ٹولے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور اس میں سب سے برا ٹارگٹ سچ اور حقیقت ہے جس کو برے طریقے سے مسخ کیا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جو افغان میں امریکی قبضہ کے بڑے Banificiary ہیں کبھی عورت کی آزادی پر شور مچا رہے ہیں تو کبھی اقلیتوں کے حقوق کا تو کبھی امریکی سلامتی کا۔۔ لیکن پس پردہ ان کے اپنے مفادات ہیں۔ لیکن افغانستان کے مسائل کا حل صرف اور صرف وہاں کے زمینی حقائق دیکھ کر وہاں کے لوگ ہی حل کر سکتے ہیں۔ پہلے پاکستان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ طالبان کو امریکی شرائط پر امن معاہدہ کرنے پر راضی کر یں تو پھر اشرف غنی جیدے دیگر مفاد پرست ٹولے نے پاکستان کے خلاف ہی ہرزہ سرائی کرنا شروع کر دی۔ اشرف غنی نے یہاں تک کہہ دیا کہ امریکہ کے جانے کے بعد امریکہ کا کردار بہت محدود ہو جائے گا لیکن افغانستان مین امن اور جنگ پاکستان کے ہاتھ میں ہو گا۔ آپ افغانستان کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھ لیں یہاں کبھی بھی ائینی طور پر ایک سینٹرل حکومت صرف آئین کی بنیاد پر نہیں قائم ہو سکتی اس سے پہلے اگر سو سال سے زیادہ Ahmadzai/Muhammadzai monarchy نے حکومت قائم کی تو وہ بھی confederation of tribesتھی جس میں پشتونوں نے انہیں طاقت فراہم کی۔ طالبان ایک بہت بڑی فورس ہے اور اس کے بغیر نہ تو افغانستان میں مفاہمت ہو سکتی ہے اور نہ ہی امن۔۔

    افغانستان میں عورتوں کے حقوق پر بہت شور مچایا جاتا ہے۔۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان سوسائٹی میں ایک عورت کو بحثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی نہ صرف عزت دی جاتی ہے بلکے ان کی حفاظت بھی کی جاتی ہے اور ہر کوئی اپنا ایک مخصوص مقام رکھتا ہے۔
    امریکہ بظاہر اپنی فوجین افغانستان سے نکال رہا ہے لیکن Academi جس کا پرانا نام بلیک واٹر ہو ۔۔ افغانستان میں مسلحہ افراد کی بھرتی کر رہا ہے۔ امریکہ، فرانس اور جرمنی احمد شاہ مسعود کے بیٹے کی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں تاکہ اس کے نیٹ ورک سے
    intelligence-gathering کا کام لیا جائے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ کابل ہی حفاظت اشرف غنی کے اقتدار کو بچانے کے لیئے کرنا چاہتا ہے اور اشرف غنی جو پاکستان کا دشمن ہے اسے بچانے کے لیئے امریکہ کو اڈے دینا کون سی عقل مندی ہو گی۔ اس وقت طالبان کو چیلن کرنے والون میں امریکہ کے حمایت یافتہ کچھ طاقتور قبائل، ISIS, RAW, NDS ہیں جن کا حشر بھی وہی ہو گا جو نیٹو افواج کا ہوا اور افغانستان میں اس وقت اگر کوئی امن قائم کر سکتا ہے یا متحد کر سکتا ہے تو وہ صرف طالبان ہیں۔ اور ایسے وقت میں طالبان کو دھوکہ دینے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں دوبارہ سے تحریک طالبان جیسے گروپوں کی پرورش جس کا صرف اور صرف فائدہ بھارت کو ہی ہو گا۔. جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ جب آقا ہار گئے تو غلام کیا جنگ لڑیں گے۔ یعنی امریکہ کو ہرا دیا تو اس کی حمایت یافتہ افغان فورسس کیا لڑیں کی ۔ آئے روز خبریں آ رہی ہیں کہ افغان فورسسز پوری پوری فوجی چھاونیاں بمہ اسلحہ چھوڑ کے بھاگ رہے ہیں ہیں اور یہ سب چیزیں طالبان کے کنٹرول میں آرہی ہیں۔غیر ملکی افواج کے انخلاء اور امریکی فضائی تعاون سے جلد ہی محروم ہو جانے کے نتیجے میں افغان حکومتی فورسز کی ناکامی کا خدشہ بڑھ گیا ہے جبکہ طالبان کمانڈر ملک پر جلد ہی مکمل کنٹرول کر لینے اور اپنے نظریے کے مطابق اسلامی ریاست دوبارہ قائم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امریکی افواج کے مئی میں حتمی انخلا کے آغاز کے بعد سے اب تک انہوں نے تقریباً تیس اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ غزنی صوبے کے ایک طالبان کمانڈر ملّا مصباح کا کہنا ہے کہ مغرور امریکیوں کا خیال تھا کہ وہ دھرتی سے طالبان کا نام و نشان مٹا دیں گے۔ لیکن طالبان نے امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو شکست دے دی جب امریکی یہاں سے چلے جائیں گے تو وہ (حکومتی فورسز) پانچ دن بھی ٹک نہیں پائیں گی۔ جب آقاوں کو شکست ہو چکی ہے تو غلام اسلامی امارت کے خلاف جنگ نہیں کر سکتے۔ طالبان نے حالیہ ہفتوں کے دور ان غزنی کے دو اہم اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ اہم صوبہ طالبان کے سابقہ مضبوط گڑھ قندھار کو ایک شاہراہ کے ذریعہ دارالحکومت کابل سے ملاتا ہے طالبان کی فوجی کامیابیوں نے ان خدشات کو تقویت فراہم کی ہے کہ امریکی اور ان کے دیگر اتحادیوں کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد وہ ملک کے تمام شہروں پر بھر پور حملے کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ افغانستان کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے تھامس نکلسن نے افغانستان میں کشیدگی میں اضافے سے متنبہ کرتے ہوئے دوحہ مذاکرات میں جلد از جلد پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ آنے والے چند ہفتوں اور مہینوں میں ہم بد قسمتی سے کشیدگی میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں اس سے نہ صرف میدان میں بلکہ مذاکرات میں بھی پیچیدگیوں میں اضافہ ہو گا۔

  • افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان کی خانہ جنگی اور مودی پر سکتہ، تحریر: رانا عزیر

    افغانستان میں اس وقت فیصلہ کن جنگ چھڑی ہوئی ہے اور سپرپاور ستمبر ۲۰۲۱ تک یہاں سے چلا جائے گا، لیکن اس سب میں ایک بات قابل غور ہے کہ امریکی فو جیں یہاں سے جارہی ہیں لیکن امریکہ یہاں ہی رہنا چاہتا ہے، عمران خان کو بیش بہا آفرز دی گئیں، لیکن پاکستان کی ریاست کی پالیسی یہ تھی اب کی بار کسی دوسرے ملک کی جنگ کو اپنے سر نہیں لینا، ہم نے اپنا بہت نقصان کرلیا ہے۔ یہ امریکہ کیلے بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہے، کیونکہ پہلے ادوار میں پاکستان ایک فون کال پر ڈھیر ہوتا آیا ہے، اور ہم چند ٹکوں کی خاطر بکتے آئے ہیں۔ اب امریکہ کا کیا پلان ہے؟ وہ پاکستان سے اس کا بدلہ تو لے گا، مگر کیسے؟
    افغان طالبان کابل کے قریب پہنچ گئے ہیں وہ کبھی بھی غنی حکومت کا تختہ الٹ سکتے ہیں، تقریبا ۴۰ ڈسڑکٹ پر قابض ہوگئے ہیں، اس ساری صورتحال کے اندر تشویشناک مرحلہ پاکستان کے لئے ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان پر الزام لگا کر چھڑھ دوڑنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ افغان طالبان کو مزاکرات کی میز پر لانا کوئی آسان کام نہیں تھا، یہ سب کچھ پاکستان کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس سارے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کو اس سارے عمل میں شامل نہیں ہونے دیااور پاکستان دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ بھارت افغانستان میں امن لانے کا خواں نہیں ہے۔ کیونکہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کی ڈو مور کی پالیسی اور پاکستان سے ڈرون حملوں کیلے فوجی اڈے اور فضائی حدود مانگنا یہ بھارتی لابی کے زیر اثر آتی ہے جو کہ نہ تو افغانستان میں امن چاہتا ہے اور نہ پاکستان کو ترقی کرنا دیکھنا چاہتا ہے۔ روس سے افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جیسے امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑدیا تھا اور افغانستان کی خانہ جنگی کے اثرات سارے پاکستان پر آئے تھے۔ امریکہ اب پھر یہی سب کرنا چاہتا ہے لیکن اب خطے کی صورتحال مختلف ہے کیونکہ اب خطے میں نئی عالمی طاقت چین کی شکل میں موجود ہے اور امریکہ اس لیے افغانستان کو چھوڑکر جارہا ہے کہ چین کو افغانیوں کے ہاتھ مشکل میں ڈالا جائے۔ یہ بات ساری دنیا جانتی ہے افغان سیکورٹی فورسز اور پولیس افغانستان میں امن قائم نہیں کرسکتی، خصوصا افغان طالبان ۷۰ فیصد علاقوں پر قابض ہیں۔ تو امریکہ ان کی ٹریننگ کیلے قطر سے فوجی اڈے مانگ رہا ہے اور وہاں امریکہ کی مشرق وسطی کی سب سے بڑی ائیر بیس موجود ہے۔ وقت آگیا ہے حکومت پاکستان، روس، چین اور ایران ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے خطے میں پائیدار امن قائم ہو ا۔ گو کہ اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے امریکی انخلا کے بعد یا اس سے پہلے اگر ضرورت پڑی تو چینی، روسی فورسز افغانستان جاسکتی ہیں، لیکن امریکہ ترکی کو یہاں لانے کی تیاریاں کر رہا ہے کیونکہ ترکی نیٹو کا حصہ ہے۔ چین خود کو بلاوجہ جنگ میں نہیں دھکیلے گا اور دوسری جانب افغان طالبان کسی غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین پر نہیں دیکھنا چاہتے

    امریکہ بھارتی لابی کے زیر اثر آرہا ہے وہ افغانستان کو کسی صورت کوری ڈور نہیں بنے دے سکتا اور اس کا براہ راست اثر پاک امریکہ تعلقات پر آئے گا اور بھارت پاکستان پر پابندیاں لگوانے کیلے سرگرم ہے اور وہ اقوام متحدہ سے چند ٹکوں کے عوض امریکہ کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف رپورٹ شائع کروارہا ہے کہ پاکستان، پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے اور انھیں افغانستان میں بھارتی انسٹالیشیز پر حملوں کیلے استعمال کر رہاہے لیکن ایسا کر کے بھارت خود اپنے پاوں پر کلہاڑی مار چکا ہے۔ اب بھارت افغان طالبان کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے پاکستان کے بھی پاوں پکڑنے کیلے بھی تیار ہے اور وہ کشمیر کی خصوصی حثیت بحال کرنے کیلے بھی تیار ہے لیکن یہ سب وہ اپنے مفاد کیلے کر رہا ہے کیونکہ مودھی کی ساری الیکشن کمپین کشمیر کے خلاف رہی ہے وہ ایسا کرکے ہندوں کو اپنا قاتل نہیں بنوانا جاہتا۔
    لیکن لب لباب یہ ہے کہ بھارت کی نہ صرف اب افغانستان سے چھٹی ہو رہی ہے اب وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کرنے کیلے استعمال نہیں کرسکے گا اور یہی چیز مودھی سرکار کو کھائی جارہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دنیا پاکستان کے کردار کو سراہے کہ پاکستان دنیا میں امن لانے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ملکر لائحہ عمل طے کرے وگرنہ یہ افغانستان کی خانہ جنگی کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اورعالمی قوتوں کا مرکز اس وقت پاکستان بنا ہوا ہے ۔

  • بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت

    بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت

    افریقہ میں ہیروں کے لیے مشہور ملک بوٹسوانہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت ہوا ہے جس کا وزن 1098 قیراط ہے۔

    باغی ٹی وی : لاس اینجلس ٹائم کے مطابق ایک ہزار قیراط سے زیادہ وزن کا ایک بہت بڑا ہیرا ، جو تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا ہو سکتا ہے جنوبی افریقہ کے ملک بوٹسوانہ میں دریافت ہوا ہے۔

    دی گارڈئین کے مطابق بوٹسوانہ حکومت اور ڈی بیئر گروپ کی مشترکہ طور پر کان کنی کی ڈیبوسوانہ کمپنی ، نے کان میں اس ماہ کے شروع میں 1،098.3 قیراط وزن کا اعلی معیار کا قیمتی پتھر نکالا گیا تھا۔

    بوٹسوانہ ہیروں کی وجہ سے ایک مشہور ملک ہے جہاں ڈیسوانہ کمپنی ایک عرصے سے ہیرے نکال رہی ہے۔ اس کمپنی کی تاریخ میں سب سے بڑا ہیرا ملا ہے جسے دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا کہا جارہا ہے۔

    اس سال یکم جون کو یہ ہیرا ملا ہے جسے فوری طور پر کمپنی کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر ، لینیٹ آرمسٹرونگ نے صدر موگویتسی ماسیسی کےسامنےبھی پیش کیا گیا۔

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    ڈیبوسوانہ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر لینیٹ آرمسٹرونگ نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا ہے،یہ ڈیبسوانا کی جانب سے 50 سال سے زیادہ کی اپنی تاریخ میں بازیافت کرنے والا سب سے بڑا ہیرا ہے۔”

    انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا ہیرا 1905 میں جنوبی افریقہ سے ملا تھا جو 3106 قیراط کا تھا اسے ’کلینن‘ کا نام دیا گیا تھا۔ دوسرا بڑا ہیرا بھی بوٹسوانہ سے ملا ہے۔ یہ ہیرا ٹینس بال کے برابر ہے اور 1،109قیراط کا ہے جو 2015 میں ہاتھ آیا تھا۔

    لینیٹ آرمسٹرونگ نے کہا کہ ہمارے ابتدائی تجزیے سے یہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہر معیار والا پتھر ہوسکتا ہے۔ ہم ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکے کہ اسے ڈی بیئرز چینل کے ذریعہ فروخت کرنا ہے یا سرکاری اوکاوانگو ڈائمنڈ کمپنی کے توسط سے۔ یہ بہت غیرمعمولی اور نایاب ہے اور پوری قوم کے لئے ایک پرامید خبر بھی ہے-

    معدنیات کے وزیر ، لیفوکو موگی نے کہا ،ابھی تک اس ہیرے کا نام نہیں رکھا گیا ہے جس کی لمبائی 73 ملی میٹر، چوڑائی 52 ملی میٹر اور موٹائی 27 ملی میٹر ہے۔

    واضح رہے کہ دیبسوانا اینگلو امریکن ڈی بیئر اور بوٹسوان حکومت کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے جس کمپنی نے اسے دریافت کیا ہے وہ ہیروں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ادارے ’ڈی بیئرز‘ کا ہی حصہ ہے بوٹسوانہ افریقہ بھر میں ہیروں کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے اور ڈیبسوانہ کمپنی جو بھی ہیرا فروخت کرتی ہے اس کی 80 فیصد رقم حکومت کو ملتی ہے۔ تاہم کووڈ 19 کی وجہ سے سال 2020 سے اب تک وہاں کے ہیروں کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

  • طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

    طالبعلم نے کاٹھ کباڑ سے شمسی کار بنالی

    جنوبی افریقہ کے ملک سیرا لیون کے 24 سالہ موجد امانوئیل آلیو منسارے نے فالتو کاٹھ کباڑ استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد کار بنا لی –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ کار تقریباً 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتی ہےامانوئیل نے اپنی اس ایجاد کو ’’تصوراتی کار‘‘ (امیجی نیشن کار) کا نام دیا ہے جس میں واحد نئی چیز شمسی پینل ہے جو کار کی چھت پر لگا ہوا ہے۔

    کار بہت چھوٹی سی ہے جس میں اوسط جسامت کے صرف ایک فرد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کے دروازے اور پہیے تک کباڑیئے کی دکان سے خریدے ہوئے سستے سامان پر مشتمل ہیں۔

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    کار کا انجن بنانے کےلیے امانوئیل نے پرانی اور استعمال شدہ چیزوں کو مرمت کرکے نہ صرف مہارت سے آپس میں جوڑا بلکہ اس انجن کے ساتھ کلچ، بریک، ایکسلریٹر اور گیئر باکس تک کا اضافہ کردیا تاکہ ضرورت پڑنے پر کار کی رفتار تبدیل کرنے کے علاوہ اسے ’’ریورس گیئر‘‘ میں بھی ڈالا جاسکے۔

    علاوہ معذور افراد بھی یہ کار بہ آسانی خود ڈرائیو کرسکتے ہیں یعنی انہیں اس کےلیے کسی دوسرے ڈرائیور کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    امانوئیل کا کہنا ہے کہ یہ کار ایجاد کرنے میں انہیں کئی سال لگ گئے جبکہ اس پر 500 ڈالر کی مجموعی لاگت آئی ہے لیکن اب وہ باقاعدگی سے شہر کے آس پاس گاڑی چلاتے ہیں۔

    مستقبل میں وہ اسے مزید بہتر بناتے ہوئے اپنے ملک میں صاف ستھری اور کم خرچ ٹرانسپورٹ کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔

    "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    امانوئیل نے کہا کہ اب پہلے سے کہیں زیادہ قابل تجدید ذرائع نقل و حمل کی ضرورت ہے تاکہ اپنے باشندوں کے لئے صاف ستھری ہوا کو یقینی بنایا جاسکے۔ فضائی آلودگی کی بات کی جائے تو افریقہ کو دنیا کا 17 واں انتہائی کمزور ملک قرار دیا گیا ہے –

    امانوئیل نے کہا کہ لوگوں کا خیال تھا "تصوراتی کار” کے خود تعلیم یافتہ انجینئر اور موجد کو ان کے خیال کی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ میں نے گھر سے دی گئی پاکٹ منی جمع کی اور اس پر خرچ کی-

    رپورٹ کے مطابق امانوئیل نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا تھا کہ جب لوگوں نے انہیں کاٹھ کباڑ کے ڈھیر پر اس کے لئے کار آمد اشیاء ڈھونڈتے دیکھتے تو چتے تھے کہ میں۔ تاہم ، وہ اپنے جدید منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے اور مذاق کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا-

    ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ سے اپنی مرمت خود کرنے والا کنکریٹ

  • روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    روس اور چین کو لڑاو ، امریکہ نے نئی سازش تیار کر لی ۔۔تحریر: نوید شیخ

    جو موجودہ حالات چل رہے ہیں قدرتی امر ہے کہ چین اور روس کے درمیان تعلقات اب مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے زیر اثر جو ممالک ہیں ۔ عنقریب انکا ایک نیا بلاک بنتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ اس سے دنیا میں کافی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہوں گی ۔

    ۔ جب بھی ایسا ہوا تو یقینی بات ہے کہ اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل اپنا دائرہ اثر کھو دیں گے ۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ اس وقت بڑی تیزی سے دنیا ایک نئی دنیا بننے جا رہی ہے ۔ جہاں طاقت کا منبہ دو طاقتیں یا تین یا چار بھی ہو سکتی ہیں ۔ ہر خطے اور ہر علاقے کی اپنی ترجیحات ہوں گی ۔ مفادات ہوں گے ۔ ہر کسی کا اپنا انٹرنیٹ ، اپنی ٹیکنالوجی ، اپنی زبان ، اپنے قانون اور اپنے ہی اصول ہونگے ۔

    ۔ اس لیے فی الوقت تو امریکہ اور مغربی طاقت کا سورج بڑی تیزی سے غروب ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ پر ایک چیز جس کے بارے ہم کو یاد رکھنا چاہیے کہ مغرب جیسی سازش شاید ہی کوئی کرسکتا ہو ۔ اس میں یہ ماہر ہیں ۔ اور آج اس وی لاگ میں ۔ اس ہی بارے میں آپکو بتاوں گا ۔

    ۔ کہ کیسے امریکہ واقعتا چین اور روس کے مابین پائے جانے والے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن نے ایک فون کال کے دوران ، دونوں ممالک کے مابین جامع شراکت داری اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد رکھی گئی ۔

    ۔ لگ ایسا رہا ہے کہ بائیڈن کی نئی انتظامیہ نے روس فوبیا کو چھوڑ دیا ہے اور ماسکو سے اتحاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ چین کی طاقت میں اضافہ کو امریکہ چین کے ہمسایہ میں بڑے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو قائم کرکے زائل کیا جا سکتا ہے ۔

    ۔ حالیہ جوبائیڈن اور پیوٹن کی ملاقات میں بھی امریکہ یہ ہی کرنے کی کوشش کرے گا ۔ کہ روس کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیا جائے اور بدلے میں روس کم ازکم چین والے میں معاملے میں نیوٹرل ہوجائے ۔ چپ ہو جائے ۔ کیونکہ اکیلے اکیلے چین یا روس کا مقابلہ کرنا امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے لیے زیادہ آسان ہے ۔ یہ وہی برسوں سے آزمودہ فارمولا ہے ۔ divide and rule والا۔ ابھی تک تو امریکہ اس سلسلے میں کامیاب ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے ۔

    ۔ مگر یاد رکھیں طاقت کے اپنے اصول ہیں ۔ روس کا یہ خوف کہ وہ چین کے مقابلے میں کمتر حیثیت کا ہے ۔ مستقبل میں چین کے ساتھ تعاون کو روک سکتا ہے۔ روس میں واقعی کچھ لوگوں کو خوف لاحق ہے کہ چینی معیشت پر زیادہ انحصار ماسکو کو مراعات دینے پر مجبور کردے گا جس پر اب تک تو روس نے مزاحمت کی ہے۔ مثال کے طور پر اگر روس کو لگا کہ اسے غیر منظم طور پر کسی محکوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ یا اگر چین کو لگتا ہے کہ اسے مغرب کے ساتھ کسی ناپسندیدہ تصادم میں گھسیٹا جارہا ہے۔ اور روس ساتھ نہیں دے رہا ۔تو یہ مفاہمت ختم بھی ہوسکتی ہے ۔

    ۔ پھر آپ دیکھیں ہیں تو یہ دونوں ممالک ہی بڑے gaints اور شاید ٹیکنالوجی میں روس چین سے آگے ہی ہے ۔ مگر دوسری جانب چین کاروبار میں کافی آگے ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو مستقبل قریب میں اگر کوئی ایسا بندوبست ہوجاتا ہے کہ اس خطے میں چین اور روس کی اجارہ داری ہوگی تو اس کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہی ہوگا کہ جنوبی ایشیا ہو ، فار ایسٹ ایشیا ہو ، یوریشیا ہو ۔ اس میں کس ملک کی کمپنی کیا کام کرے گی ۔ کس کو کیا ٹھیکہ ملے گا ۔ تو یہ ایک ایسی چیز اور معاملہ ہے جس کو وقت سے پہلے امریکہ expliot کرنے کی کوشش کرے گا ۔ اور یوں امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کی امیدیں لگائے بیٹھا ہے ۔

    ۔ دوسری جانب روس کے اندر موجود بہت سے سکالرز کا خیال یہ ہے کہ یہ بندوبست چین اور روس میں پہلے طے ہوچکا ہے کہ نئی دنیا میں روس تحفظ فراہم کرے گا یعنی سیکورٹی۔۔۔۔

    ۔ اور اسکے ذریعے اپنی طاقت اور پیسے میں اضافہ کرے گا جبکہ چین کاروبار کرے گا ۔ اور بنیادی طور پر چین کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا روس کے اپنے مفاد میں ہے۔ جبکہ Carnegie Moscow Centerکے ڈائریکٹر Dmitri Trenin
    کے الفاظ میں چین کے ساتھ دوستی کا متبادل روس کے لئے تباہی ہوگی۔۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کیونکہ ایک دفعہ مغرب نے چین والا معاملہ حل کرلیا تو اس کا اگلاٹارگٹ یقینی طور پر روس ہی ہوگا ۔۔ اسی لیے پچھلے کئی سالوں میں ماسکو اور بیجنگ اپنے تعلقات کو ایک اعلی سطح پر لے گئے ہیں ۔ روس اپنا جدید ترین ہتھیار جیسے سکھوئی 35 جیٹ لڑاکا۔ ایس 400 میزائل سسٹم چین کو فروخت کررہا ہے۔ یہ چین اور روس کے تعلقات کی قربت کا علامتی ڈسپلے ہے۔ مزید یہ کہ دونوں نئے محاذوں میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جن میں مشترکہ ہائی ٹیک منصوبے شامل ہیں ۔ اس میں Tianwan میں روسی فرم Rosatom کے ذریعہ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر اور Xudapu
    جوہری بجلی گھر شامل ہیں۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک نیا مسافر طیارہ ، CR929 بھی تیار کریں گے اور قمری خلائی اسٹیشن بنانے کا ہدف رکھیں گے۔ ان پیش رفتوں کے اچانک الٹ جانے کا تصور کرنا مشکل ہے ، جس کو حاصل کرنے میں برسوں لگے۔

    ۔ پر سازش اور مغرب ان دوںوں کا پرانا ساتھ ہے ۔ میرے حساب سے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا ہوگا ۔ اور جیسے کواڈ گروپ ، جی سیون اور اب نیٹو کے ذریعے چین پر پریشر بڑھا رہا ہے اس سے تو لگتا کیا ہے بلکہ صاف دیکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کا اگلا وار یہ ہو گا کہ کسی طرح عالمی سطح پر چین پر sanctions لگوائی جائیں چاہے ۔ پھر چاہے شکنکیانگ والا معاملہ ہو ، تائیوان والا معاملہ ہو ، وباء والا معاملہ یا انسانی حقوق والا معاملہ ہے ۔ کسی بھی ایشو کا اٹھایا جاسکتا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جس زور اور شد ومد سے جوبائیڈن اس پر توجہ دے رہے ہیں کہ یہ وائرس کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جلد دنیا کو بتایا جائے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا وائرس ہے اور اسکے پیچھے چین تھا یا اسکی لیبارٹری تھی ۔ اور اس کو بنیاد بنا کر چین کھڈے لائن لگایا جا ئے ۔ پر جو بھی اقدام چین کے خلاف اٹھایا گیا اس پر اگر روس خاموش رہا ہے یا چین کے دوست ممالک خاموش رہے تو چین سے نبٹانا آسان نظر آتا ہے ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ابھی تک نیٹو ، جی سیون یا کواڈ گروپ کی طرف سے جو بھی بیانات آئے ہیں اس پر چین کے حق میں ابھی تک کسی بھی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے ۔ امریکہ کا پلان بھی یہ ہی دیکھائی دیتا ہے کہ اتنا گرد اور جھوٹ پھیلاؤ ۔ ساتھ ہی سب کو چپ رکھو ۔ پھر جو چاہے ۔ جیسے مرضی چین سے ڈیل کرو ۔ اس پر پابندیاں لگاؤ یا اس کے خلاف اقدامات کرو ۔ تو اس تمام صورتحال میں امریکہ اور مغرب کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے تعلقات پر بھی بڑی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔

  • نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    نوجوان صحافی. تحریر:رانا عزیر

    ونود مہتا نامور بھارتی صحافی اور مشہور میگزین آئوٹ لک کے بانی ایڈیٹر تھے۔ ان کی خودنوشت "لکھنو بوائے "نے بڑی پزیرائی حاصل کی۔ ونود مہتاکا شمار دلیر، بااصول اورڈٹ جانے والے ایڈیٹروں میں کیا جاتا ہے۔ اپنے چالیس سالہ صحافتی تجربے کی روشنی میں انہوں نے نوجوان صحافیوں کے لئے چند مشورے تحریر کئے۔ ونود مہتا سوال اٹھاتے ہیں: "کیا صحافی کو انقلابی ہونا چاہیے؟ ونود کے خیال میں یہ خیال رومانوی ہونے کے باوجود غیر عملی ہے۔ آپ کسی بڑے کاز کے لئے کام کرنے والے انقلابی ہیں یا کسی خاص ایجنڈے کے بغیر انقلابی مزاج رکھتے ہیں، دونوں صورتوں میں ایسی انقلابی رومانویت سے دور رہیں۔ ریڈیکل ازم کا بھی ٹکٹیں جمع کرنے کی طرح خاص وقت اور جگہ ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانی میں کسی نے کوئی انقلابی پمفلٹ لکھا ہو، مگر وقت کے ساتھ اسے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ جرنلزم میں ایسے شوریدہ سروں یا سر پھروں کے لئے جگہ نہیں۔ ایک بات البتہ سمجھناضروری ہے کہ چی گویرا ٹائپ ہٹ اینڈ رن قسم کی صحافت کی ضرورت نہیں، مگر اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ آپ روایتی گھسی پٹی سوچ کے غلام بن جائیں۔ اہم طاقتور لوگ جب صبح اٹھتے اور اخبار پڑھتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے موقف کی تصدیق ہو، اسے چیلنج نہیں کیا جائے۔ آپ کو مگر یہ چیلنج کرنا چاہیے۔ صحافیوں میں بھیڑ چال کا رواج (Herd Mentality)ہے، کوئی ایک کچھ کرے تو سب پیروی کرتے ہیں۔ ایک اچھے صحافی کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس نے کب ان کا حصہ بننا ہے اور کب اکیلا شکار کرنا ہے۔

    ونود مہتا آگے چل کر دو ممتاز مغربی لکھاریوں کی کوٹیشن دیتا ہے، پہلی کے مطابق، جس موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں، اس پر روایتی نقطہ نظر جان لیں اور پھراپنی تحریر میں اس کے خلاف دلائل دیں۔ دوسری کوٹیشن دلچسپ ہے، "جب شک میں ہوں تب حملہ آور ہوں۔”
    کیا سیاستدان اور صحافی دوست ہوسکتے ہیں؟ ونود مہتا کا جواب نفی میں ہے، مگر ان کے مطابق جارج اورویل (اینمل فارم ناول کے مصنف)بننے کی ضرورت نہیں، وہ جب ٹربیون اخبار کے بک ایڈیٹر تھے تو کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک نہیں ہوتے تھے کہ مصنف سے ملاقات دیانت دارانہ تبصرے کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ ونود مہتا آگے جا کر نکتہ اٹھاتے ہیں کہ سیاستدانوں اور صحافیوں دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے سے نہایت مختلف بلکہ متضاد ہے۔ سیاستدان بیشتر اوقات حقائق یا سچ کو توڑموڑ کر، کچھ خفی کچھ جلی انداز میں پیش کرتے ہیں جبکہ صحافی کا کام ہے جہاں تک ممکن ہو سچ سامنے آئے۔ اس لئے سیاستدانوں سے قربت کے بجائے اہم یہ ہے کہ آپ سچ کے کتنے قریب ہیں؟

    کیا ایک صحافی کو اپنا استعفاجیب میں ڈال کر پھرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں یہ بہت مشکل سوال ہے، آپ کی ایک فیملی ہے جس کے اخراجات برداشت کرنے ہیں، گھر کا کرایہ، یوٹیلیٹی بلز، بنک کی قسطیں وغیرہ وغیرہ۔ تاہم ایک دیانت دار صحافی کی زندگی میں کم از کم ایک موقعہ ایسا آتا ہے جب وہ ایسا کرنے کا سوچتا ہے۔ ونود مہتا یہاں پر مشورہ دیتا ہے کہ آپ سب ایڈیٹر، فیچر رائٹر، رپورٹر، فوٹوگرافر، اسٹنٹ ایڈیٹر یا کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کو اپنے کام میں بہترین ہونا چاہیے۔ میڈیا کے تمام تر مسائل اور نئے آنے والے بے تہاشا نوجوانوں کے باوجود آج بھی کوالٹی ایک نایاب صفت ہے۔ اپنے آپ کو بہتر کرنے کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج بھی میں کوئی اچھی تحریر دیکھوں تو اسے دو بار پڑھتا ہوں۔ پہلی بار اس کی کوالٹی جانچنے جبکہ دوسری بار اس کے انداز تحریر اور مہارت کو بغور دیکھنے کے لئے۔ اس لئے یقین رکھیں کہ اگر آپ ایک بہترین صحافی ہیں تو آپ بے روزگار ہوسکتے ہیں، مگر یہ مدت مختصر ہوگی کیونکہ مارکیٹ میں اچھے صحافی کی شہرت بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور کوئی نہ کوئی ضرور آپ کی مہارت سے استفادہ کرنا چاہے گا۔
    گر غلطی ہو جائے تب صحافی کو کیا کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں بعض اوقات صحافی خود کو بے عیب اور پرفیکٹ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس رفتار سے خبریں آتی ہیں، ان پر کام ہوتا، فائنل ٹچ دیا جاتا ہے، اتنے مختصر وقت میں پرفیکٹ کام کرنا ممکن ہی نہیں۔ اخبار ہے ہی نامکمل، عجلت میں کئے گئے کام کی پراڈکٹ۔ حتیٰ کہ مضامین، تجزیے، کالم، اداریے وغیرہ بھی بہت بار نہایت عجلت میں، ڈیڈ لائن پریشر کے تحت لکھے جاتے ہیں۔ آپ کے پاس مکمل ڈیٹا نہیں، اعداد وشمار چیک کرنے کا وقت نہیں مل پاتا، حتیٰ کہ لفظوں کی املا درست کرنا بھی مسئلہ ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کرشمہ ہی ہے کہ فائنل پراڈکٹ (اخبار یا ٹی وی نیوزبلیٹن)کا تاثر اتنا برا نہیں، وہ خاصا موثر ہوتا ہے۔ کوئی صحافی مکمل اور خامیوں سے پاک نہیں، اس حقیقت کو سب سے پہلے ذہن میں لے کر چلیں۔ نیویارک ٹائمز جیسا اخبار جو اپنی خبر کی تحقیق کے لئے کئی مراحل پر مشتمل پراسیس اختیار کرتا ہے، اس نے بھی عراق جنگ کے حوالے سے بالکل غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کیں،۔ وہ صدر بش کے وائٹ ہائوس ٹیم کے ہاتھوں استعمال ہوگئے اور اس پر نیویارک ٹائمز کو بعد میں اپنے قارئین سے معذرت کرنا پڑی۔ اصول یہ ہے کہ غلطی ہو تو اسے تسلیم کریں۔ چھپانے یا کمزور عذر تراشنے کے بجائے مانیں۔ اپنے قارئین سے واضح الفاظ میں معذرت کریں۔ البتہ صحافی کو غلطیاں دہرانی نہیں چاہیں۔ میرے حساب سے تین سال میں ایک آدھ غلطی کی گنجائش بن سکتی ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

    صحافی کو اپنی انا کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے؟ ونود مہتا کے خیال میں اسے تالے میں بند کرکے رکھ دینا چاہیے۔ صحافیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غلطیوں کی نشاندہی کریں اور اسے کیسے ٹھیک کیا جائے، اسی وجہ سے کچھ صحافی مستقل قسم کے ناصح بن جاتے ہیں۔ بعض ایڈیٹر سمجھتے ہیں کہ وہ ملک چلارہے ہیں یاقوم کے لئے ایجنڈا سیٹ کر سکتے ہیں۔ ایڈیٹر(اور کالم نگار) بھول جاتے ہیں کہ ان کے دھماکہ خیز ادارئیے اور دھواں دھار کالم زیادہ سے زیادہ تیس منٹ کی زندگی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اخبارکھڑکیوں کے ٹوٹے شیشوں کو ڈھانپنے کے کام آتے ہیں۔ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم صحافیوں کا سماج میں کچھ اثرہے مگر اس سے کہیں کم جتنا ہم تصور کرتے ہیں۔ ایک بڑے مغربی صحافی نے کہا تھا، "صحافی شراب سے زیادہ خودپسندی کے ہاتھوں برباد ہوتے ہیں۔” ہم صحافی میچ میں بہترین سیٹ حاصل کرتے ہیں، یہی کافی ہے، جمہوریت کے کھیل میں ہم کھلاڑی نہیں، اپنا کردار سمجھ لینا چاہیے، اسے مکس کرنا مصیبت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔
    کیا صحافی کو اپنا سٹائل بہتر کرنے پر وقت اور پیسہ صرف کرنا چاہیے؟ ونود مہتا لکھتے ہیں کہ ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ آپ کسی بھی زبا ن میں لکھتے ہوں، اس میں مہارت حاصل کرنا لازم ہے۔ ایک زمانے میں سب ایڈیٹر اپنے رپورٹر کی خبر میں اس کے اسلوب کی دلکشی کا جائزہ ضرور لیتے تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں، مگر آج بھی ایک اچھی سٹوری اگر بہترین طریقے سے لکھی گئی ہو تو اس کا تاثر بہت بڑھ جاتا ہے جبکہ ایک بڑی سٹوری کمزور اسلوب کی وجہ سے غیر موثر ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی بڑے ناول نگار کا اسلوب اپنا لیں یا بڑی مرصع نثر لکھیں جس میں مشکل مترادفات ہوں۔ نہیں اس کے بجائے مشہور ادیب ہیمنگوئے کے الفاظ یاد رکھیں کہ سیدھے سادے الفاظ ہی بہترین ہوتے ہیں۔ آپ کی زبان سادہ اوردلچسپ ہونی چاہیے۔ خوش ونت سنگھ اس پر خاص توجہ دیتا تھا کہ اس کی تحریر زیادہ سے زیادہ رواں اور قابل مطالعہ ہو۔ اسی وجہ سے خوشونت کو ناپسند کرنے والے بھی اسے پڑھتے ضرور تھے۔ ادب میں ممکن ہے کوئی مشکل اور ثقیل نثر کے باوجوداپنا کام چلا لے، مگر مین سٹریم صحافت میں یہ عیاشی ممکن نہیں۔ لکھنے والے کو اپنے پہلے فقرے سے قاری کو انوالو کر لینا چاہیے۔ اس لئے تحریرکا آغاز بہت توجہ اور محنت سے اچھا بنا کر لکھنا چاہیے۔ اگر اپنے پہلے پیرے میں قاری کو گنوا بیٹھے تو سب کچھ ضائع ہوگیا۔
    ونود مہتا نے معروف برطانوی صحافی، مصنف جارج اورویل کا دلچسپ اقتباس نقل کیا، اورویل لکھتے ہیں ” دو باتیں ایسی ہیں جو کسی لکھنے والے کے لئے قاتل ہیں۔ کٹر روایتی پن لکھنے والے کے لئے تباہ کن ہے، چاہے رائٹ ونگ یا لیفٹ ونگ دونوں انتہائوں کا سخت روایتی پن تحریر کو بے رنگ اور بے کشش، مصنوعی بنا دیتا ہے۔ تحریر کی دوسری سب سے بڑی خامی اس میں دیانت داری کا فقدان ہے۔ اگر کسی کی اصل سوچ اور جس کا وہ پرچار کرنے لگا ہے، اس میں فرق ہے تب مصنف اپنی تحریر میں گھسی پٹی اصطلاحات اور بلند بانگ الفاظ استعمال کر کے اسے مصنوعی بنا دے گا۔ جیسے کسی کتاب پر فرمائشی تبصرہ یا کالم لکھنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، ایسی تحریر کمزور ہی ہوتی ہے۔
    ونود مہتا کے مطابق اچھا لکھنا کسی سکول میں نہیں سیکھا جا سکتا، بہت بار اپنے وجدان پر بھروسا کرنا پڑتا ہے، تاہم جارج اورویل نے لکھنے والے کے لئے چند اصول وضع کئے، ان میں سے سب سے اہم یہ کہ اگر آپ کے پاس اپنی بات کہنے کے لئے مختصر جملہ ہے تو اس کی جگہ کبھی طویل جملہ استعمال نہ کریں۔ لکھنے کے بعد اگر کسی لفظ کو کاٹا جا سکتا ہے تو اسے ضرور کاٹ دیں۔ پامال الفاظ اور جملے استعمال نہ کریں۔

  • معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    معاشرتی ناسور (دہشتگردی).تحریر محمد طلحہ بغدادی

    دہشت گردی معاشرے کا وہ واحد مسئلہ ہے جو کسی بھی قوم اور ملک کے لیے بدنامی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی تنزلی کا سبب بنتی ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، دہشت گردی ایک برائی ہے یہ ایک بڑا گناہ ہے دہشت گردی کے لفظ سے ہی اسکا مطلب لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے مکروہ اور ناپاک مقاصد کے لیے خوف و ہراس پیدا کر کے لوگوں پر رعب طاری کر کے اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جاسکے
    دہشت گردوں کے دل مردہ، دماغ اور صلاحیت عقل سے عاری ہوتی ہے یہ انسانی روپ میں چٔھپے وہشی بھیڑیے ہوتے ہیں دہشتگردی کا مسئلہ پوری دنیا کے لیے مشترک ہے
    بدقسمتی سے پاکستان کو بھی اس ناسور، برائی، ( دہشت گردی) سے سامنا رہا ہے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان دہشت گردی کی جنگ سے نبردآزما ہے، پاکستان ملک میں امن کی خاطر دہشتگردوں سے جنگ کررہا ہے
    پاکستان اور پاکستانی قوم کو دہشت گردوں نے بدنام کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی، دہشت گردوں نے اپنی ناکام، اور ناپاک کاروائیوں کی بدولت بازاروں، دینی درسگاہوں، حتیٰ کہ مساجد تک نہیں چھوڑی، حالانکہ ہمارے قرآن پاک میں ارشاد ہے
    ترجمہ:
    کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا
    اگر دینِ اسلام اسکی مکمل نفی کررہا ہے تو ناجانے دہشت گرد اس اہم فرمان کو جھٹلا کر کیوں اس میں کود پڑتے ہیں
    ہر مذہب میں دہشت گردی کو حرام قرار دیا گیا ہے
    جتنے بھی صحیفے اتارے گئے چاروں آسمانی کتابوں ( تورات، انجیل، زبور، قرآن پاک) کسی میں بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ محبت، امن اور بھائی چارے کا سبق اور پیغام دیا گیا
    میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دہشت گرد کونسی مخلوق یا پھر کونسے جہان سے ہیں جو آئے روز اپنے ناپاک عزائم کرتے ہیں لوگوں کی زندگی اجبیران کرتے ہیں معاشرے میں نفرت کی ہوا کو بھڑکاتے ہیں

    گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی عروج پر رہی دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث پاکستان کو بدنام کیا جاتا رہا، جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو دہشتگردی کی جنگ میں دھکیلا گیا جس کی وجہ پاکستان کو اسکی بھاری قیمت چکانا پڑی
    یہ وہ دہشت گردی ہی تھی جس کے لیے پاکستانی فورسز نے دن رات ایک کر کے پاکستان کو اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹانے کے لیے بلا خوف نڈر ، بہادر اور بے باک بن کر بے پناہ قربانیاں دی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ملک کی خاطر شہید ہونے کو ترجیح دی تاکہ پاکستان کو امن و امان کا گہوارہ بنا سکیں، ملک کو امن کی جانب گامزن کرسکیں ، تاکہ ملک کو ترقی کی جانب پروان چڑھا سکیں، تاکہ پاکستان کا مستقبل نیک شگون ثابت کرسکیں
    تاکہ پاکستانی قوم سکون، سٔکھ، اور چین کی زندگی بسر کر سکیں
    الحمدللہ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کوششوں کے باعث
    آج پاکستان میں امن و امان کی صورتحال ہے مساجد، عبادت گاہیں دہشت گردی سے پاک ہیں ہر پاکستانی سکون و اطمینان کی زندگی بسر کررہا ہے کھیلوں کے میدان آباد ہیں، دنیا بھر کی ٹیمیں پاکستان میں کھیلنے کو ترجیح دے رہی ہیں، بلوچستان امن کا گہوارہ بن چکا، کراچی کے لوگ قربانیوں کی بدولت سکون کی فضاء میں جی رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کردیا گیا

    دہشتگردوں کے ناپاک عزائم مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث دہشتگرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکے ہیں عالمی برادری پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کوششوں اور قربانیوں کو سراہ رہی ہے، پاکستان کو امن کی جگہ قرار دیا جارہا ہے،
    دہشت گردی کی جنگ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز جن میں پولیس، ایف سی، رینجرز، اور افواجِ پاکستان نے دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ پروگرام تشکیل دیا اور اسکی بدولت ملک امن و امان، سلامتی، اور سکون کا مرکز بنا، انکی لازوال قربانیاں قوم پر احسان ہیں پاکستان کو اس دہشتگردی سے پاک کرنے کے لیے جتنی بھی قربانیاں دی گئی قوم اپنے شہداء کی مقروض ہے

    بے شک شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ایک سپاہی شہید ہوکر ہی قوم کو امن کی زندگی میسر کرتا ہے قربانی دے کر ہی ملک کا سہارا بنتا ہے

    ایک ایک قربانی قوم شہیدوں کی یاد رکھی ہوئی ہے شہید اس ملک کا سرمایہ ہیں، فخر ہیں، ہمارے سروں کے تاج ہیں،

    دعا ہے کہ اللّٰهُ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائے اور ہمارے جوانوں کی غیبی امداد فرمائے آمین

  • گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی . تحریر: احسن ننکانوی

    گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی . تحریر: احسن ننکانوی

    شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے گالی پنجاب کا کلچر نہیں ہوسکتی کیونکہ پنجاب کا کلچر بہت ہی سوبر اور مہذبانہ ہے ۔
    جہاں حضرت بلھے شاہ جیسے صوفی بزرگ ہو اس کا کلچر گالی کیسے ہو سکتا ہے۔

    بلھے شاہ زہر دیکھ کے پیتا تے کی پیتا
    عشق سوچ كے کیتا تے کی کیتا
    دِل دے كے دِل لین دی آس رکھی
    وی بلھیا پیار اہو جیا کیتا تے کی کیتا..
    مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے
    ڈھیندا جو کچھ ڈھا دے
    اک بندے دا دِل ناں ڈھاویں
    رب دلاں وچ رھیندا..

    جس دھرتی میں حضرت وارث شاہ جیسے بزرگ سو رہے ہو تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    کئی بول گئے شاخ عمر دی تے،ایتھے آہلھناکسے نہ پایا ای

    کئی حکم تے ظلم کما چلے،کس نے ساتھ لدایا ای

     وڈی عمر اولاد والا ،جس نوح  طوفان منگایا ای

    ایہہ روح قلبوت دا ذکر سارا،نال عقل دے میل ملایا ای

    اَگے ہیر نہ کسے نے کہی ایسی، شعر بہت مرغوب بنایا ای

    وارث شاہ میاں لوکاں کملیاں نوں،قصہ جوڑ ہشیار سنایا ای

    جہاں پر حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ ہستیاں ہوں صوفی شاعر ہوں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    الف اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ہو
    نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہر جائی ہو
    اند بوٹی مشک مچایا جاں پُھلن تے آئی ہو
    جیوے مرشد کامل باہو جیں ایہ بوٹی لائی ہو​
    الف اللہ پڑھیوں پڑھ حافظ ہویوں ناں گیا حجابوں پردا ہُو
    پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویوں بھی طالب ہویوں زر دا ہُو
    سئے ہزار کتاباں پڑھیاں پر ظالم نفس نا مردا ہُو
    باہجھ فقیراں کسے نا ماریا باُہو ایہ چور اندر دا ہُو..
    جواب الف اللہ چنبے دی بوٹی
    عشق دریا محبت وچ تھی مردانہ تریئے ہو
    جتھے لہر غضب دیاں ٹھاٹھاں قدم اتھائیں دھرئیے ہو
    اوجھڑ جھنگ بلائیں بیلے ویکھو ویکھ نا ڈریئے ہو
    نام فقیر تد تھیندا باہو جد وچ طلب دے مریئے ہو
    ایہ تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ہو
    ناں کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ہو
    شوق دا دیوا بال ہنیرے متاں لبھے وست کھڑاتی ہو
    مرن تھیں اگے مر رہے باہو جنہاں حق دی رمز پچھاتی ہو۔۔

    جہاں پر حضرت بابا فرید شکر گنج جیسے بزرگ صوفی شاعر ہوں تو وہ کلچر گالی کیسے ہو سکتا ہے۔

    فریدا،، خاک نہ نندیئے خاکو جیڈ نہ کوئ
    جیوندیاں پیراں تھلے مویاں اوپر ہوئ
    اٹھ فریدا وضو ساج صبح نماز گزار
    جو سر سائیں نہ نیویں سو سر کپ اتار

    جہاں پر حضرت میاں محمد بخش جیسے صوفیانہ شاعر ہوں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔۔

    آدردا وچ خالی خانے پا وچ دخل مکاناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبوباں نوں وداع کریندیاں مشکل بچدیاں جاناں
    ؂بے شرمی دے حلوے نالوں ساگ جماں دا چنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے وفاسجن دے نالوں سنگ چُوہڑے دا چنگا
    ؂پاٹا چولا لیرولیر ، سی لیندا اے درزی۔۔۔۔۔۔ دل دا محرم کوئی نہ ملیا جو ملیا سو غرضی
    ؂ٹہا دے مسجد مندر ٹہادے جو کجھ ٹہیندا۔۔۔۔۔۔اک بندیاں دا دل نہ ٹہاویں ربّ دلاں وچ رہندا
    ؂حرص طمع دے گھوڑے چڑھیوں، ڈھلیاں چھڈ لگاماں۔۔۔۔۔۔ گھرنوں واگاں موڑ اسوارا ، سر تے پے گئیاں شاماں
    ؂گئی جوانی آیا بڑھاپا پیاں سب پیڑاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہن کس کم محمد بخشاؔ سونف جوائن ہریڑاں

    جہاں پر باباگرونانک جیسے لوگ ہیں تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

    گرو نانک کی تعلیمات سے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک کی بنیاد، بقول کول اور سامبھی، مقدس جنم سکھی پر ہے جس کے مطابق سکھ مت 15ویں صدی میں اسلام اور ہندو مت کی ہم آہنگی کی کوشش یا معاشرتی احتجاج کی تحریک نہیں، بلکہ نانک کی تعلیمات اور سکھ مت خدا کی طرف سے الہام تھا۔ دوسرا نظریہ، بقول سنگھا، کہتا ہے کہ ’’سکھ مت اوتار کا نظریہ یا پیغمبری کا تصور پیش نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا محور گرو کا تصور ہے جو خدا کا مظہر نہیں ہوتا اور نہ ہی پیغمبر ہوتا ہے۔ وہ تو بس ایک روشن روح ہوتا ہے۔‘‘
    مقدس جنم سکھیاں نانک نے خود نہیں لکھی تھیں، بلکہ بعد ازاں ان کے پیروکاروں نے تحریر کی تھیں جن میں تاریخی صحت کا خیال نہیں رکھا گیا اور نانک کی شخصیت کو محترم بناکر پیش کرنے کی غرض سے متعدد داستانیں اور قصے تخلیق کیے گئے۔ کول اور سامبھی واضح کرتے ہیں کہ سکھ مت میں ’مکاشفہ‘ کی اصطلاح صرف نانک کی تعلیمات سے مخصوص نہیں، بلکہ اس میں تمام سکھ گروؤں کے علاوہ ماضی، حال اور مستقبل کے مرد و عورتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جنھیں مراقبے اور غور و فکر کے ذریعے الہامی طور پر علم حاصل ہوا۔ سکھ مکاشفات میں غیر سکھ بھگتوں کے اقوال بھی شامل ہیں، جو نانک سے کی پیدائش سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے اور ان کی تعلیمات سکھ صحیفوں میں شامل ہیں۔ منڈیر کے مطابق، ادی گرنتھ اور جانشین سکھ گرووؤں نے مسلسل اس بات پر زور دیا کہ سکھ مت ’’خدا کی طرف سے آوازیں سننے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ یہ انسانی دماغ کی خاصیت تبدیل کرنے سے متعلق ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت براہ راست مشاہدہ اور روحانی کاملیت مل سکتی ہے۔‘‘ گرو نانک نے تاکید کی کہ تمام انسان بغیر کسی رسوم یا مذہبی پیشواؤں کے، خدا تک براہ راست رسائی پاسکتا ہے۔

    جہاں پر شاہ حسین جیسے بزرگ صوفی ہو تو وہ کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔
     ہوویں تاں عشق کماویں راہ عشق سوئی دا ٹکا،دھاگہ ہویں تاں ہی جاویں باہر پاک اندر آلودہ، کیہا توں شیخ کہاویں کہے حسین جے فارغ تھیویں،تاں خاص مراتبہ پاویں عاشق بننا ہے تو عشق حقیقی اختیار کر عشق کا راستہ سوئی کے سوراخ کی مانند ہے ، دھاگے کی۔۔

    خواجہ غلام فرید جیسے بزرگوں کا کلچر کیسے گالی ہو سکتا ہے۔

     والیاں، ربّ لائے نیں ساون،
    کائی مینہہ میہر دے وسّ گئے ۔

    ٹر گئے یار دناں دے،
    ن کوئی پتہ نشانی دسّ گئے ۔

    اونہا ویلے سانوں چیتے آون،
    جدوں نال اساں دے ہسّ گئے ۔

    غلام فرید اوہ سجن ناہ نیں،
    جہڑے چھوڑ ستی نوں نسّ گئے

    جہاں پر ایسے بزرگ اور صوفی بستے ہو میری نظر میں اس زمین کا کلچر گالی نہیں ہوسکتا ۔ شیخ روحیل اصغر کو اس کا جواب دینا ہو گا یا اس کو معافی مانگنی چاہیے کیونکہ
    پنجاب کے تمام پنجابیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
    پنجابی لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے جو ایک ہند یورپی زبان ہے جو باشندگان پنجاب میں مروج ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں ہندومت، سکھ مت، اسلام اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ اول الذکر مذہب کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں کیے گئے مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعدا 14-15کروڑ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ اردو،ہندی اور انگریزی بطور دوسری زبان استعمال کرتے ہیں۔
    سرسوں کا ساگ مکھن اور مکئی کی روٹی سب سے مقبول پنجابی کھانا ہے اس کے علاوہ ساون میں مسی تندوری روٹی بھی شوق سے پکائی اور کھائی جاتی ہے
    اس کے علاوہ یہاں کا لباس پگڑی اور شلوار قمیض ہے۔
    پنجاب کے لوگ ہنس مکھ اور خوش مزاج اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے والے ہیں اس بیان کے بعد شیخ روحیل اصغر کافی وقت تک سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنے رہے لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو ہماری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے لیں اور تمام لوگوں سے معافی مانگیں جن جن کے جذبات مجروح ہوئے ہیں

    تحریر: احسن ننکانوی

  • سلجوق سلطنت اور اسکا قیام .تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اسکا قیام .تحریر: سمیع اللہ

    دوسرا حصہ
    سلطان محمد الپ ارسلان (بہادر شیر)

    طغرل بیگ کی وفات کے بعد اسکے بھتیجے الپ ارسلان سلطان کے مسند پر فائز ہوا وہ بھی طغرل بیگ کی طرح ایک نہایت مدبر، تجربہ کار لیڈر اور جرات مند شخصیت کا مالک ایک مخلص قائد تھا اس نے ملکی سرحدوں کو وسیع کرنے کے لئے ایک نہایت ہی دانشمندانہ پالیسی اختیار کی جو علاقے سلجوقی سلطنت کے زیر نگیں تھے پہلے انکے استحکام کو یقینی بنایا اسکے بعد بیرونی دنیا کی طرف پیش قدمی کی۔ سلطان الپ ارسلان ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ اور اپنی پڑوسی میسحی سلطنتوں میں اسلام کی اشاعت کے لیے بے قرار رہتا تھا اسکی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی کہ ارمن اور روم کے علاقے اسلامی قلم رو میں شامل ہوں دراصل وہ ایک مخلص مجاہد تھا اور اسلامی جہاد کی روح ہی وہ واحد عامل ہے جسکی بدولت الپ ارسلان کو شاندار کامیابیاں ملی اور اسکی جہادی سرگرمیوں نے دینی رنگ اختیار کیا
    سلجوقی سلطنت کا یہ عظیم مجاہد ایک مخلص جہادی شخصیت اور میسحی علاقوں میں اسلام کی اشاعت کے لے بے حد حریض انسان کی شکل میں نمودار ہوا اور سلطنت بیزنطینیہ کے بہت سارے علاقوں پر اسلام کا علم لہرا دیا
    الپ ارسلان اپنی مملکت کی سرحدوں کو وسیع کرنے سے پہلے سات سال کے عرصہ تک اپنی مملکت کے دوردراز کے علاقوں کے حالات کا جائزہ لیتا رہا اور جب ان علاقوں میں امن وامان کی صورت حال سے مطمئن ہو گیا تو اپنے عظیم مقاصد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئے پلاننگ شروع کر دی۔ ان کے سامنے ایک ہی ہدف تھا سلجوقی سلطنت کے پڑوس میں واقع مسیحی علاقوں کو فتح کرنا ، مصر میں فاطمی بدولت کے اقتدار کو ختم کرنا اور تمام اسلامی دنیا کو عباسی خلفاء اور سلجوقی اقتدار کے جھنڈے کے نیچے متحد کرنا۔ الپ ارسلان نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا اور اس لشکر کی قیادت کرتا ہوا ارمن اور جوجیا کی طرف روانہ ہوا۔ یہ علاقے بہت جلد انکے ہاتھوں فتح ہوئے۔ الپ ارسلان آگے بڑھا اور شام کے شمالی علاقے پر یورش حلب مرداسی حاکم تھا۔ اس سلطنت کی بنیاد 414ھ بمطابق 1023ء میں صالح بن مرداس نے رکھی تھی۔ یہ شیعہ سلطنت تھی۔ الپ ارسلان نے مرداسی سلطنت کا محاصرہ کیا اور اس سلطنت کے فرمانروا محمود بن صالح بن مرداس جو مجبور کیا کہ وہ مصر کی فاطمی خلیفہ کی بجائے عباسی خلیفہ کی حکومت کو تسلیم کرے اور لوگوں کو اس حکومت کی احکام کا پابند کیا اسکے بعد الپ ارسلان نے ایک ترکی نژاد قائد اتنسز بن اوق خوارزمی کو جنوبی شام پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا خوارزمی نے فاطمیوں سے رملہ اور بیت المقدس چھین لئے لیکن عسقلان پر قبضہ نہ کر سکا جسے مصری حدود میں داخلہ کے لئے ایک بہت بڑے دروازے کی حیثیت حاصل تھی اس طرح سلجوقی بیت المقدس کے اندر خلیفہ عباسی اور سلجوقی سلطان کے مرکز کے قریب ہو گئے۔

    426ھ میں مکہ مکرمہ کے گورنر محمد بن ہاشم کا قاصد سلطان الپ ارسلان کے دربار پہنچا۔ قاصد نے اطلاع دی کہ شریف مکہ خلیفہ القائم پاشا اور سلطان الپ ارسلان کے نام کا خطبہ دے رہا ہے اور آئندہ سے وہ عبیدی سلطنت کی بجائے عباسی خلافت کے احکامات کی پابندی کرے گا۔ قاصد نے یہ بھی بتایا کہ مکہ شریف میں آئندہ حئی علی خیرالعمل کے الفاظ اور دوسرے شیعی الفاظ اذان میں نہیں دہرائے جائے گئے سلطان نے شریف مکہ کے قاصد کی بڑی عزت افزائی کی۔ تیس ہزار دینار گورنر مکہ کی خدمت میں ارسال کئے۔ اور کہلا بھیجا کہ اگر گورنر مدینہ ایسا کرے گا تو اسکی خدمت میں بیس ہزار دینار پیش کئے جائے گئے ۔
    الپ ارسلان کی ان فتوحات نے رومی شہنشاہ ڈومانوس ڈیوجیس کو آتش زیر پا کر دیااور اس نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنی شہنشاہیت کا دفاع کرے گا۔ سو اس مقصد کی خاطر اس نے اپنی پوری فوج سلجوقیوں کے خلاف جنگ میں جھونک دی۔ رومی اور سلجوقی فوجوں میں کئی خونریز معرکے ہوئے۔ "ملاذکرد” کا معرکہ ان سب میں زیادہ اہم ہے جو 463ھ بمطابق اگست 1070 ء کو برپا ہوا

    اس معرکے میں روم کا بادشاہ ڈومانوس پہاڑ کی مانند لشکروں کو لیکر روانہ ہوا۔ ان لشکروں میں روم، روس، برطانیہ، اور کئی دوسرے ملکوں کے سپاہی شریک تھے۔ ڈومانوس کی جنگی تیاریاں بھی خوب تھی اس لشکر میں 35 بطریق بھی شریک تھے۔ اور ہر بطریق کے ساتھ دو دو لاکھ گھوڑ سوار تھے۔ 35ہزار فرنگی اور 15 ہزار دوسرے جنگ جو اسکے علاؤہ تھے جو قسطنطنیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اسکے علاؤہ ایک لاکھ نقب لگانے والے، ایک لاکھ کھدائی کرنے والے، ایک ہزار روز جاری، چار سو بیل گاڑیوں جن پر فوجوں کی وردیاں، اسلحہ، گھوڑوں کی زینیں، منجنیقیں، قلعہ شکن آلات لدے ہوئے تھے۔ ان منجنیقیوں میں ایی منجنیق ایسی بھی تھی جس کو ایک ہزار دو سو آدمی چلاتے تھے ڈومانوس یہ سب لاؤ لشکر لیکر اسلام اور اہل اسلام کو مٹانے کا مقصد لیکر آگے بڑھا تھا۔ اسکو اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ فتح سے پہلے ہی اسلامی علاقے اس نے بطریقوں کو جاگیر میں دینے کا اعلان کیا حتیٰ کہ بغداد بھی ایک بطریق کے نام کر دیا۔ انکا پروگرام یہ تھا کہ جب عراق اور خراسان کے علاقے فتح ہو جائیں گئے تو وہ یکبارگی حملہ کر کے شام کے علاقے مسلمانوں سے واپس لے لیں گئے۔ وہ یہ سوچ رہے تھے اور تقدیر ہنس رہی تھی ۔ سلطان الپ ارسلان اور رومی فوجوں کا آمنا سامنا الزھوہ کے مقام پر بدھ کو ہوا۔ ذیقعد کے اس مہینے کے ابھی پانچ دن باقی تھے۔ رومی فوج کی کثرت دیکھ کر الپ ارسلان کچھ پریشان ہوا۔ لیکن فقیہیہ ابو نصر محمد بن عبدالماک بخاری نے انکو حوصلہ دیا اور کہا: سلطان محترم! جمعہ شریف کے روز جب خطباء جمعہ کے خطبے پڑھ رہے ہوں اور مجاہدین کے لئے دعائیں مانگ رہے ہوں عین اس وقت دشمن پر حملہ کر دیں۔ اللہ کریم مسلمانوں کی دعاؤں کے طفیل سلطان کو فتح عطا فرمائے گا۔

    جب وہ وقت آیا اور دونوں لشکر میدان میں اترے تو الپ ارسلان گھوڑے سے اترا۔ زمین پر سر رکھ کر اور اپنی پیشانی کو خاک کو آلود کر کے بارگاہ خداوندی میں فتح و نصرت کے لئے ملتجی ہوا۔ اللہ کریم نے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ اور نصرانیوں کے سروں کو جھکا دیا۔ مسلم سپاہ نے کشتوں کے پشتے لگا دئیے رومی بادشاہ اور سپہ سالار فوج ڈومانوس گرفتار ہوا۔ اسے ایک رومی غلام نے گرفتار کیا۔ جب بادشاہ کو سلطان کے حضور پیش کیا گیا تو سلطان نے اپنے ہاتھ سے اسے تین کوڑے مارے اور پوچھا: اگر میں گرفتار ہو کر تیرے سامنے پیش ہوتا تو تو میرے ساتھ کیسا سلوک کرتا؟ ڈومانوس نے کہا: میں تم سے انتہائی برا سلوک کرتا۔ الپ ارسلان نے کہا: میرے بارے میں تیرا کیا گمان ہے ؟ ڈومانوس بولا۔ تو یا تو مجھے قتل کر دے گا یا اپنے ملک میں میری تشہیر کرے گا یا معاف کر دے گا یا فدیہ لیکر رہا کر دے گا۔ الپ ارسلان چنے کہا: میرا ارادہ یہ ہے کہ تجھ کو معاف کر دوں اور فدیہ لیکر چھوڑ دوں۔ لہذاسلطان نے پندرہ لاکھ اشرفیاں لیکر اسے آزاد کر دیا۔ جب ڈومانوس روانہ ہونے لگا تو سلطان نے اسے پینے کے لئے مشروب دیا۔ وہ سلطان کے اس نیک سلوک سے بہت متاثر ہوا۔زمین بوس ہوا۔ تعظیم بجا لایا۔ سلطان نے ازراہِ عنایت دس ہزار دینار فدیے سے چھوڑ دئیے۔خود اس کی پیشوائی کے لئے دور تک چلا قید بطریقوں میں سے ایک کو آزاد کر کے اسکے ساتھ کر دیا۔ اسکے علاؤہ ایک محافظ دستہ ساتھ دیا تاکہ کوئی گزند نہ پہنچائے۔سلطان الپ ارسلان کا ایک مختصر سا لشکر جسکی تعداد پندرہ ہزار تھی ڈومانوس کے ایک لاکھ سے زائد کے لشکر کو شکست فاش کرنا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ اس واقعے نے رومیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
    الپ ارسلان ایک متقی اور پرہیز گار انسان تھا۔ فتح کے مادی اور معنوی ہر دو اسباب سے استفادہ کرتا تھا۔ علماء اکرام کی ہم نشینی سے بہرہ ور ہوتا۔ ان کی نصیحتوں کو گوش ہوش سے سنتا اور ان پر عمل پیرا ہوتا تھا۔ اسلام کا یہ بطل جلیل اور عظیم سپہ سالار ایک باغی کے ہاتھوں شہید ہوا۔اس باغی کا نام یوسف خوارزمی تھا
    ۔ آپ کا سن وفات 10 ربیع الاول 465ھ بمطابق 1072 ء ہے۔ آپ مروکے شہر میں اپنے باپ کے پہلو میں دفن ہوئے اور ملک شاہ کو اپنا جانشین چھوڑا۔