Baaghi TV

Category: متفرق

  • تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    تیزی سے کم ہوتے پانی کے ذخائر اور صوبوں کے درمیان پانی کا تنازعہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ

    پانی قدرت کے خزانوں میں سے انسان کے لئے ایک نعمت ہونے کے ساتھ کرہ ارض پر زندگی کے وجود کے لئے بھی لازمی ہے مگر بدقسمتی سے دنیا بھر پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

    پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں جہاں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ماضی میں سیاسی اختلافات اور اس اہم ترین مسئلے پر قابو پانے کے لئے فنڈز مختص نہ کئے جانے کے باعث نئے ڈیمز تعمیر کرنے کا معاملہ ہمیشہ التوا کا شکار رہا اور یوں گلیشیرز کے تیزی سے پگھلائو کی وجہ سے پانی کی ایک بڑی مقدار ذخیرہ نہ ہونے کے باعث سمندر کی نظر ہو کر ضائع ہو جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملک میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ سالہا سال سے چلا آرہا ہے مگر کسی بھی دور حکومت میں مستقل بنیادوں پر اس مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔کسی بھی حکومت نے اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ صوبائی سطح پر منتخب عوامی نمائندوں کی طرف سے ایک دوسرے پر پانی چوری کا الزام لگانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ہاں کوئی مستقل پالیسی پانی کی تقسیم کے حوالے سے موجود نہیں اگر واٹر منیجمنٹ کے حوالے سےسائنسی بنیادوں پر کوئی طریقہ کار موجود ہوتا توصوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا تنازعہ کبھی سر نہیں اٹھاتا مگر ماضی کی طرح کچھ دنوں سے سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر تنازعہ میں شدت آئی ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کے ذخائر بڑھانے کے لئے نہ صرف نئے ڈیمز کی تعمیر کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہےبلکہ وزیراعظم عمران خان صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے تنازعہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بھی کمر بستہ ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم تمام صوبوں کو پانی کی تقسیم کے طریقہ کار کے حوالے سے ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں، وفاقی حکومت تمام صوبوں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہے، وزیراعظم عمران خان ان دس سالوں کو نئے ڈیمز تعمیر کرنے کی دہائی قرار دے چکے ہیں اور حکومت اگلے دس سالوں میں 13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
    حکومتی ذرائع کے مطابق گذشتہ ماہ اپریل کے دوران پنجاب میں پانی کی قلت45 فیصد اور سندھ میں 9 فیصد تھی جبکہ ان دنوں پنجاب کو 22 فیصد اور سندھ کو 17فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔پنجاب میں 2 فیصد پانی کوہ سلیمان سے شامل ہو کر بڑھا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ایک مرتبہ پھرپانی کی فراہمی کے حوالے سے سندھ حکومت کو شدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ بلوچستان کو پٹ فیڈر کینال سے 7600 کیوسک پانی ملنا چاہئے مگر سندھ کی جانب سے تقریباً 6 ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے اسی طرح کیر تھر کینال سے 2400 کیوسک کے بجائے 1800 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے بلوچستان حکومت کے مطابق حالیہ دنوں سندھ کی جانب سے ان دونوں نہروں میں 55 فیصد پانی کم چھوڑا جارہا ہے۔حکومت بلوچستان ذرائع نے بتایا کہ پانی کی کمی کے باعث حالیہ صورتحال میں سندھ سے ملحق بلوچستان کے زرعی علاقوں میں 76 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہونے کا خطرہ ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے پانی چوری کا معاملہ سندھ حکومت اور مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی تقسیم کے فارمولے کو منصفانہ بنایا جائے، صوبوں کے مابین پانی کی تقسیم کے لئے جدید آلات نصب کئے جائیں تاکہ کسی بھی صوبے کی عوام کے حقوق پامال نہ ہوں پانی کی نگرانی کا نظام آن لائن کیا جانا چاہئے تاکہ حقائق پر مبنی ڈیٹا ہمیشہ دستیاب ہو جبکہ تمام صوبوں میں بڑے ڈیمز کی تعمیراور زیر تعمیر ڈیمز کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان میں زراعت کے شعبے میں ترقی آسکے۔ پانی کو بچانے اور اس نعمت خدا وندی کے بہترین استعمال کے لئے ہمیں پانی کے استعمال میں جدت لانے کی بھی ضرورت ہے، کچے نالوں،گڑھوں اور نہروں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کی آبپاشی میں پانی خاصی مقدار میں ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمیں پانی کو ری سائیکل کرنے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی ضرورت ہے تاکہ فیکٹریوں اور کارخانوں سے نکلنے والے پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنائے جانے کے ساتھ سیوریج کا گندا پانی فصلوں میں شامل ہو کر انہیں آلودہ نہ بنائے۔ ہمیں اپنے کاشتکاروں کو جدید آبپاشی کے نظام سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کم پانی سے بہتر اور زیادہ فصلیں اگائیں۔ پانی کے ضیاع کو روکنےاور اس کی اہمیت اجاگر کرنے کے حوالے سے عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ پانی استعمال نہ کریں۔ ہمیں اپنے پانی کے ذخیرہ میں اضافہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے پاس 190 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے ان حقائق کی بنیاد پر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی بنا کر عملدرآمد یقینی نہ بنایا گیا تو آنے والے سالوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں قحط کی تباہ کاریوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

  • سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    سترہ جون، چودہ خون ،کہاں ہے قانون؟ تحریر: فروا منیر

    کسی معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون کی بالادستی لازم و ملزوم ہے ۔ اگر معاشرہ عدل و انصاف سے عاری ہو تو وہ معاشرہ مہذب معاشرہ نہیں بن سکتا۔
    اگر اسلامی قوانین کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کا بہت اہم مقام ہے اگر ہم پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں عدل و انصاف کی بالادستی واضح نظر آئے گی۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقام پر فرمایا
    خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دیتا ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے
    اب بات کرتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جس کے الگ مقام کا مقصد اسلامی قوانین کا نفاذ اور اسلامی قوانین کی بالادستی ہے
    لیکن افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انصاف برائے فروخت ہے
    17 جون 2014 لاہور ماڈل ٹاؤن کے مقام پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر پنجاب پولیس کی جانب سے تجاوزات کے نام پر معصوم اور نہتے لوگوں کے خلاف آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے

    اگر بات صرف تجاویزات کی تھی تو چودہ معصوم لوگوں کا بے گناہ قتل کرنے کا کیا مقصد؟؟
    اس سانحہ کو تقریبا سات سال گزر چکے ہیں مگر آج تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے ورثا انصاف حاصل کرنے میں نا کام ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ اپنے ہی معصوم لوگوں پر دشمنوں کی طرح اندھا دھند گولیاں نہیں برساتا یقینا اس عمل کے لیے لیے حکومت کی طرف سے احکامات کا ملنا واضح ہے ۔ یاد رہے 2014 میں وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نون کی حکومت تھی

    کیا شریف برادران نہتے لوگوں سے اتنے ڈرگئے تھے کہ خادم اعلی کو قاتل اعلی بننا پڑا ۔ وزیر قانون پنجاب کو قانون کی دھجیاں اڑانی پڑیں اور وزیراعظم نواز شریف کی زبان کو تالے لگ گئے ۔
    پنجاب پولیس کی جانب سے بزرگوں خواتین اور بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور ان کو زخمی بھی کیا گیا مجھے یاد ہے تنزیلہ امجد کی والدہ جو کہ حاملہ تھیں وہ بھی پنجاب پولیس کی جانب سے کیے گئے مظالم میں شہید ہوئیں تنزیلہ امجد نے اپنی شہید ماں کے لیے انصاف کے حصول کے لیے عدل مہیا کرنے والے اداروں کا دروازہ کھٹکایا صرف ایک بار نہیں بار بار کھٹکایا گیا مگر خاموشی۔
    افسوس ہے اس نظام پہ کہ جہاں غریب کے لیے سزا اور امیر کے لیے معافی
    ایک تو انصاف فوری مہیا حاصل نہیں ہوتا اگر حاصل ہو بھی جائے تو غریب کی جیب کے برداشت سے باہر کی بات ہے جہاں سابقہ وزیر اعظم کی بیٹی کی درخواست پر چھٹی والے دن عدالت لگ جاتی ہے اور وہاں دوسری طرف قوم کی بیٹی تنزیلہ انصاف کی راہ دیکھتی رہ جاتی ہے اگر مریم نواز قوم کی بیٹی ہے تو کیا تنزیلہ قوم کی بیٹی نہیں ؟؟
    کیا قوم کی بیٹی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے والد کا وزیراعظم اور چچا کا وزیراعلیٰ ہونا ضروری ہے

    یہاں انصاف بکتا ہے یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    اگر کوئی سچ میں حقیقی تبدیلی چاہتا ہے تو اس کےلیے ضروری ہےکہ نظام عدل کو بہتر بنایا جائے ،فوری اور سستا انصاف مہیا کیا جائے۔

  • مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ .تحریر: نوید شیخ

    ابھی ایک دن گزارا نہیں تھا کہ مغرب کی جانب سے چین پر دوسرا بڑا حملہ کر دیا گیا ہے ۔ G7 بارے تو میں آپکو گزشتہ ویڈیو میں بتا چکا ہوں ۔ اب نیٹو کے سربراہ اجلاس کے دوران بھی چین کو مستقل سکیورٹی چیلنج قراردیا گیا ہے ۔ اب نیٹو نے پہلی بار چین کے فوجی مقاصد کے بھرپور مقابلے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

    ۔ اس وقت لگ ایسا رہا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف میڈیا وار تو آغاز کر دیا ہے کیونکہ جیسے وہ ہر فورم پر اپنے ہم خیال ممالک کے ساتھ چین کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے ۔ جیسے ہر فورم پر امریکہ یہ نہیں بھولتا کہ وباء ، انسانی حقوق ، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور تائیوان کا ذکر لازمی ہو ۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے ۔ تو میرے حساب سے اس وقت چین کو میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ایک جارحیت کا سامنا ہے ۔ اب وہ اس کو counter کیسے کرتا ہے یہ دیکھنا ہے ۔ کیونکہ یاد رکھیں مغربی ذرائع ابلاغ اس وقت بڑے طریقے سے ایک مقصد کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اور چین کو ایک نیا دشمن ایک نیا خطرہ بنا کر دنیا کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی عوامی رائے کو اس حوالے سے mouldکیا جاسکے ۔ ایسا ہی یہ ممالک سب سے پہلے روس کے ساتھ پھر افغانستان ، لیبیا ، شام اور عراق کے معاملے میں کرچکے ہیں ۔

    ۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا یہ کہنا بھی بڑا معنی خیز ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی دوبارہ متحرک ہوچکے ہیں۔ جمہوریتیں اور آمریتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔۔ جمہوریت اور آمریت والا تو ایک منجن ہی ہے حقیقت میں یہ ممالک کسی بھی اور ملک کو اتنا مضبوط اور مستحکم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے کہ وہ ان کے اثر و رسوخ سے باہر نکل جائے۔ چین اور روس اس وقت بالعموم دنیا کے تمام ملکوں اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنارہے ہیں جس سے ان کے بین الاقوامی اثر و رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ کسی بھی طور قبول نہیں۔

    ۔ اس تمام صورتحال میں دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے بھی مسائل میں اضافے روز بروز بڑھتے دیکھائی دے رہے ہیں کیونکہ جس طرح چین کو لے کر دنیا میں polarizationبڑھتی جارہی ہے ۔ اور جو پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہورہے ہیں۔ اگر امریکا اور اس کے اتحادی چین اور روس کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہیں تو پاکستان بھی ان کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ کیونکہ ہم چین کے اہم اتحادی ہیں تو اس حوالے سے پاکستان پر پریشر کے ساتھ ساتھ سازشوں میں بھی اضافے کا اندیشہ ہے ۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ۔ کیونکہ سی پیک one belt one roadمنصوبے کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جس تیزی سے گزشتہ کئی ماہ سے امریکی اور مغربی ممالک کے highest dignitaries پاکستان کے دورے کرر ہے ہیں اس میں افغانستان کے ساتھ ساتھ چین بھی یقینی طور پر زیر بحث آیا ہوگا۔

    ۔ دیکھا جائے تو معاشی اور دفاعی دونوں جانب سے پاکستان پھنسا ہوا ہے ۔ ایک جانب بھارتی جارحیت تو دوسری جانب افغانستان کی روز بروز بگڑتی صورتحال ہمارے سامنے پھن پھیلائے کھڑی ہے ۔ سونے ہر سہاگہ معاشی مبجوریوں کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک ، یورپی یونین اور امریکہ کے محتاج بھی ہیں ۔ آئی ایم ایف کی قسط نہ ملی تو ملک نے چلنا نہیں اور یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ہماری تجارت رکی تو تب بھی ہم کو بڑا دھچکہ لگ سکتا ہے تو آنے والے دنوں میں خوفناک منظر دیکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان کو ایک بار پھر سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ اس میں بھی کوئی بحث نہیں ہے کہ چین ہمارا ہمسایہ اور دوست ملک ہے اور ہمارے سرد و گرم کاساتھی بھی ہے ۔ ہر عالمی فورم اور معاملے میں چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے ۔ پاکستان کی جغرافیائی صورت حال کو دیکھا جائے تو بھارت جیسے مکار دشمن کے ہوتے ہوئے چین کی ہمسائیگی نعمت سے کم نہیں۔ چین جب تنہا تھا تو اس وقت پاکستان نے اس کا کھل کے ساتھ دیا تھا ۔

    ۔ ساتھ ہی سی پیک ایسا منصوبہ ہے جس پر تقریباً قومی اتفاق رائے ہے اس کے لئے چین نے جو پیکج دیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اور یہ آج کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی حکومتوں کے دور میں تسلسل سے چلتا آرہا ہے ۔ اب آنے والے دنوں میں خصوصی طور پر امریکہ کی جانب سے پریشر بڑھتا دیکھائی دے رہا ہے کہ with us or against us
    تو پاکستان کے لیے صورتحال کافی tricky ہوچکی ہے ۔ یقینی طور پر پاکستان اس وقت کسی کی بھی مخالفت مول لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اگر تفصیل میں جائیں تو چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے نیٹو رہنماؤں کا کہنا تھا کہ چین اپنی جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہا ہے اور روس کے ساتھ عسکری تعاون کر رہا ہے۔ بیجنگ کے تیزی کے ساتھ جوہری میزائل بنانے پر بھی تشویش کا اظہار کیاگیا ۔ ۔ نیٹو کے سربراہ jens stoltenbergجینس سٹولٹنبرگ نے توتنیہہ کی ہے کہ چین نیٹو کی عسکری اور تیکنیکی صلاحیتوں کے ’قریب‘ پہنچ رہا ہے۔ ۔ جبکہ امریکی صدر جوبائیڈن نے نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین اور روس کی جانب سے لاحق نئے چیلنجوں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ روس اور چین ہماری توقعات کے مطابق نہیں چل رہے ۔ جوبائیڈن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چین کو کورونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو بھرپور رسائی دینی چاہیے۔ کیونکہ شفافیت کے بغیر ایک اور وبا پھیل سکتی ہے۔

    ۔ جرمن چانسلر anglina merkhal نے چین کو حریف قرار دے دیا۔ تو فرانسیسی صدر mackron کا کہنا تھا کہ نیٹو فوجی اتحاد ہے، جبکہ چین سے تعلقات صرف فوجی نہیں۔ دوسری جانب چین نے نیٹو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چین کی امن ترقی پر بہتان لگا رہے ہیں۔ اور زور دیا کہ چین کسی کے لیے چیلنج نہیں پیش کرے گا لیکن اگر کوئی چیلنج ہمارے قریب آیا تو ہم ہاتھ باندھ کر بیٹھے بھی نہیں رہیں گے۔ درحقیقت چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی وقت کے ساتھ ساتھ پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور نیٹو کو خدشہ ہے کہ چین یورپی ممالک کی سکیورٹی اور ان کے جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ نیٹو چین کے افریقہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بھی پریشان ہے۔ اصل میں چاہے یہ نیٹو ہو یا جی سیون ممالک یا
    quadگروپ ان سب کے پیچھے تو امریکہ ہی ہے ۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جی سیون کی طرح نیٹو 30 یورپی اور شمالی امریکی ممالک کا ایک انتہائی اہم اور طاقتور سیاسی اور عسکری اتحاد ہے جو امریکی عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔ اب سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا نیٹو کا ایجنڈا 2030 روس اور چین کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے؟

    ۔ اس حوالے سے نیٹو سیکٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس کے اپنے پڑوسیوں یوکرین اور جارجیا سے تعلقات ٹھیک نہیں، وہ سائبر اور ہائبرڈ حملے کر رہا ہے، یہ وہ چیز ہے جس نے ہمارے اور روس کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، ہم اسے دیکھ رہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو تبدیل بھی کر رہے ہیں۔ ہم علاقے میں اپنی فوجی موجودگی اور اپنے دفاعی اخراجات میں
    2014 سے مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، یہ ہمارے 2030initiative کا اہم حصہ ہے۔۔ دوسری جانب چین کے بارے میں نیٹو سیکٹری جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے دروازے پر آچکا ہے، ہم اسے سائبر اسپیس، افریقا اور سرد علاقوں میں دیکھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہمارے انفرااسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نئے نیوکلیئر اور جدید ہتھیار بنارہا ہے، اس کا بھی رویہ جنوبی چین سمندر میں زبردستی والا ہے۔ اس نے ہانگ کانگ میں جمہوری process پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس کا رویہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں، وہ نئی artifical intelligence کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دبا رہا ہے۔

    دراصل امریکا سمیت چند ملکوں کے مذموم مقاصد بے نقاب ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عالمی وبا کے باعث دنیا کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے تمام ملکوں کو اتحاد اور تعاون کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی مگر اس کے بجائے امریکہ اپنی سیاست کے ذریعے دنیا کو تقسیم کر رہا ہے ۔ اس مصنوعی محاذ آرائی اور کشیدگی پیدا کرنے کے بجائے عالمی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے تھی ۔ مگر ایسا نہ ہورہا ہے نہ ہونے کی امید ہے ۔

  • ہمارا عزم باشعور پاکستان .تحریر : فیصل خان

    ہمارا عزم باشعور پاکستان .تحریر : فیصل خان

    میت کاندھوں پہ بعد میں اٹھتی ہے۔ دیگ میں چمچے پہلے کھڑک جاتے ہیں
    لواحقین کی دھاڑیں کم نہیں ہوتیں کہ "مصالحہ پھڑا اوئے” کی صدائیں پہلے بلند ہو جاتی ہیں
    قبر پر پھول سجتے نہیں کہ کھانے کے برتن پہلے سج جاتے ہیں
    آنکھوں میں آنسو خشک نہیں ہو پاتے کہ عزیز و اقارب کے لہجے پہلے ہی خشک ہو جاتے ہیں:-
    "چاولوں میں بوٹیاں بہت کم ہیں۔ فلاں نے روٹی دی تھی تو کیا غریب تھے جو دو کلو گوشت اور ڈال دیتے۔”

    مرنے والا تو چلا جاتا ہے۔ لیکن یہ کیسا رواج ہے کہ جنازہ پڑھنے کے لیے آنے والے اس کی یاد میں بوٹیوں کو چَک مارتے دیگی کھانے کی لذت کے منتظر ہوتے ہیں؟

    فرسودہ روایات کو بدلو۔ یہ کیا طریقہ ہے کہ جنازے پر بھی جاؤ تو "روٹی کھا کے آنا؟” قرب و جوار کی تو بات ہی نہ کریں دور سے آئے ہوؤں کو بھی چاہیے کہ زیادہ بھوک لگی ہے تو کسی ہوٹل سے کھا لیا کریں

    تہیہ کر لیں کہ آئندہ اگر کبھی کسی جنازے میں شرکت کرنا پڑی تو خواہ ہزار کلومیٹر کر کے کیوں نہ جائیں۔اور عزیز و اقارب ہی کیوں نہ پکائیں۔ میت والے گھر سے کھانا نہیں کھانا۔ خوشی، غمی ہر انسان کے ساتھ ہے۔ لیکن روایات کو بدلیں۔ اس سے پہلے کہ معاشرتی نظام ہی لپیٹ میں آ جائے

  • تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    تعلیم نسواں معاشرے کی اہم ضرورت .تحریر: ملک ضماد

    عورت کا تعلیم یافتہ ہونا معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے
    ایک عورت اگر پڑھی لکھی یے تو اس سے کا پورا گھر، پورا خاندان پڑھ لکھ سکتا ہے لیکن اگر عورت پڑھی لکھی نہیں تو اس کو کوئی پرواہ و دلچسپی نہیں ہوتی اس کے گھر میں کوئی پڑھا لکھا ہے یا نہیں اس کو بس اپنی زندگی گزارنے کی فکر ہوتی ہے باقی اس کے ارد گرد کیا ہوتا ہے اس کو پرواہ نہیں ہوتی عورت کے لیے تعلیم یافتہ ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مرد کے لیے
    اس دور جدید میں عورت کے لئے دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے جس سے وہ دور جدید کے تقاضوں کو پورا کر سکے اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال سے واقفیت ہو سکے اگر ایک عورت پرھی لکھی ہوتی ہے تو وہ اپنی اولاد کو بھی پڑھا لکھا بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود کو کہا گیا ہے جہاں سے بچہ سب سے پہلے جو لفظ بھی سکتا ہے وہ بھی ماں ہی ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کی زندگی میں جو بھی آتا ہے بھلے وہ اچھا ہے یا برا اس کے پیچھے تربیت کا اثر ہوتا ہے وہ تربیت اس کو بادشاہ بھی بناتی ہے اور گداگر بھی

    "”کہتے ہیں نا ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے””
    وہ عورت اس کی ماں ہی ہوتی ہے جو اس کی تربیت ایسی کرتی ہے جس سے وہ دنیا کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہتا ہے اگر ماں بچے کو شروع سے اچھا راستہ دیکھاتی ہے تو وہ ماں اس بچے کی بہترین خیر خواہ اور بہترین معلمہ ہوتی ہے اگر ہم تاریخ انسانیت کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے جس معاشرے جو بھی پڑھا لکھا ہوتا ہے بھلے وہ مرد ہو یا عورت اس کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کو معاشرے میں اہم مقام دیا جاتا ہے

    تعلیم نسواں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث شریف کا مفہوم ہےجو شخص اپنی بیٹی کی خوب اچھی طرح تعلیم وتربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو (بیٹی) اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگی(المعجم الکبیر للطبرانی ۱۰۴۴۷)
    ایک بیٹی، رحمت اسی وقت بن سکتی ہے، جب کہ اس کا قلب اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور ہو، وہ فاطمی کردار و گفتار کا پیکر ہو

    آج تعلیم گاہوں اور دینی تعلیمات کے متعدد ذرائع کے موجود ہونے کے باوجود، دینی تعلیم سے بے رغبتی اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے، جس مذہب نے دینی تعلیم کو تمام مردوں عورتوں کے لیے فرض قرار دیا ہو اور جس مذہب میں علم وحکمت سے پُرقرآن جیسی عظیم کتاب ہو اور جس مذہب کی شروعات ہی ”اقرأ“ یعنی تعلیم سے ہوتی ہو، اسی مذہب کے ماننے والے دینی تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہیں اور اگر بات عورتوں کی مذہبی تعلیم کی، کی جائے (نہ کہ محض عصری ومغربی تعلیم کی) تو معاملہ حد سے تجاوز ہوتا ہوا نظر آتا ہے، کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچوں کے لیے پہلا مکتب ہوتا ہے

    تعلیم نسواں معاشرے کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مرد کے لیے مرد اگر گھر سے باہر رہ کر گھر کو سنبھالنے میں لگا رہتا ہے تو عورت گھر کی چاردیواری کے اندر اپنا فرض نبھا رہی ہوتی ہے مرد اگر پیشہ کماتا ہے تو عورت اس کے خاندان کی خدمت کر کے اس کا ساتھ دیتی ہے مرد اگر گرمی سردی میں باہر رہ کر کام کرتا ہے تو عورت گرمی کی تپتی دوپہر ہو یا سردی کی ٹھٹرتی رات ہو اس کے بچوں کو سنبھال رہی ہوتی ہے مرد گھر سے باہر اگر اپنے بچوں پر فخر کر رہا ہوتا ہے تو عورت انہی بچوں کی تربیت کر کے قابل فخر بنا رہی ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں اس دور میں تعلیم کا رحجان تو بہت ہے لیکن دینی تعلیم سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں جس کی ہمیں زیادہ ضرورت ہے

  • چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    چین کی بڑھتی ہوئی طاقت اور مغربی ممالک ، تحریر: نوید شیخ

    کل امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، جاپان اور اٹلی نے جی سیون کے پلیٹ فارم سے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ جس کے بعد ایک بار پھر مغرب اور مشرق آمنے سامنے آچکے ہیں کیونکہ اس میں واضح ٹارگٹ چین اور روس تھا ۔ جبکہ چین پر تو ایک طرح سے مغرب نے charge sheet لگانے کی کوشش کی ۔ کہ چین سے وائرس کیسے شروع ہوا ۔

    چین میں ایغور مسلمانوں پر ظلم کیوں ہورہا ہے ۔تائیوان اور بھارت کے حوالے سے چین کا رویہ جارحانہ ہے ۔چین کے نظام میں شفافیت نہیں ہے ۔ اور سب سے اہم چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو بڑے کھلے الفاظ میں نشانہ بنایا ہے ۔ اب انھوں نے چین کے مقابلے میں ایک نیا منصوبہ لانے کا اعلان کیا اور اس OBOR (One Belt One Road)منصوبے کے مقابلے میں بڑے جارحانہ انداز میں پیش کیا جارہا ہے ۔ اس پر چین کی جانب سے تو بہت ہی سخت درعمل سامنے آیا ہے ۔ دراصل جی سیون ممالک نے ترقی پذیر ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے سرمایہ کاری کے ایک ایسے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد چین کے بڑھتے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر رہنماؤں نے چین کے خلاف سٹریٹیجک مقابلے کے موضوع پر بات چیت کی ہے جس کے بعدbuilt back better world ya B3W یعنی عالمی سطح پر تعمیر نو کے ایک نئے منصوبے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔

    ۔ اب جی سیون کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک 400 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ترقی پذیر دنیا میں انفراسٹرکچر تعمیر کریں گے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ بیجنگ نے دنیا کے کئی ممالک میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے مغرب کا ماننا ہے کہ چین نے ترقی پذیر اور غریب ممالک کو مقروض کیا ہے اور وہ یہ قرض واپس نہیں کر سکیں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی چین پر سنکیانگ صوبے میں جبری مشقت اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی الزام عائد کرتے ہیں۔اس جی سیون کے اعلامیہ میں بھی اس جانب اشارہ کیا گیا ہے ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو تو اس سال کے آغاز میں امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ اور کینیڈا نے چین کے خلاف مل کر مختلف پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ان میں سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے افسران کے خلاف سفری پابندیاں، اور ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنا شامل تھا ۔ چند ہفتے قبل بھی امریکہ نے مزید چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کیا تھا ۔ اور کئی چینی کاروباری حضرات پر مختلف نوعیت کی پابندیاں لگائی تھیں ۔ جبکہ چین نے اپنے خلاف لگنے والی پابندیوں کے جواب میں یورپی حکام پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

    ۔ چین نے حالیہ اعلامیہ کے بعد جی سیون کے عالمی رہنماؤں کو ورننگ دی ہے کہ وہ دن گئے جب چھوٹے ممالک کے گروہ دنیا کی قسمت کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چھوٹے، بڑے، مضبوط، کمزور، امیر اور غریب ہر طرح کے ملک برابر ہیں۔ اور یہ کہ عالمی امور پر تمام ممالک کی مشاورت کے بعد فیصلے ہونے چاہئیں۔

    ۔ یہ درحقیقت ایک پلان کا حصہ ہے کیونکہ امریکی صدر جوبائیڈن اپنے پیش رو ٹرمپ کی طرح سمجھتے ہیں کہ مغربی طاقتوں کو فوری طور پر چین کے خلاف اتحاد مضبوط کرنا ہوگا۔ مگر جوبائیڈن کا طریقہ واردات ٹرمپ سے مختلف ہے ۔ جوبائیڈن اچھی اچھی باتیں کریں گے ۔ امیج اپنا اچھا رکھیں گے ۔ مگر چین کے خلاف سازش کرنے کا کوئی موقع نہیں جانے دیں گے ۔ سیاسی ، معاشی اور دفاعی ہر جانب سے چین کو کاری ضرب لگانے کی کوشش کریں گے ۔۔ مغرب کے خیال میں صدر بائیڈن کا build back better world منصوبہ چین کی ایک ایسی سکیم کا حریف بنے گا جس کی مدد سے کئی ملکوں میں ٹرین، سڑکیں اور بندرگاہیں بنائی گئی ہیں۔ میرے خیال سے امریکہ بڑی ہوشیاری اور تیزی سے چین کا راستہ بند کرنے پر لگا ہوا ہے ۔ اگر آپ دیکھیں تو اس کی ابتداء وباء کے پھوٹنے کے بعد چین پر لگنے والے الزامات تھے ۔ امریکہ کی چین کے خلاف ٹریڈ وار تھی ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے امریکہ نے چین کے خلاف QUADگروپ کو منظم کیا ۔ بہت سے ایسے ممالک جہاں چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت بندگاہیں تعمیر کر چکا ہے یا کررہا ہے ۔ ان سب کو امریکہ نے کسی نہ کسی طرح engage کر لیا ہے یا کرنے کی کوشش میں ہے ۔ اس کی واضح مثال پاکستان ہے ۔ ایران ہے ، سری لنکا ہے اور بنگلہ دیش ہے ۔ جن پر اس وقت امریکہ کا سخت پریشر ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ چین کے منصوبے سے الگ ہوجائیں ۔

    ۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ مختلف محاذوں پر ناکامی کے بعد امریکہ اپنے اصل ازلی اتحادیوں کے ساتھ چین کے سامنے کھل کر آچکا ہے کہ اب اس کا مقابلہ کیا جائے گا ۔ کہ کسی طرح مشرق کے غلبے کو روکا جائے ۔۔ اس وقت مغرب اور مشرق کی ٹکراؤ کی کیفیت اتنی شدید ہوچکی ہے کہ آپ دیکھیں ویکسین کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے ۔ کہ مغرب یعنی یورپ اور امریکہ میں چینی اور روسی ویکسین لگانے والوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ جس نے وہاں آنا ہو pizferلگوائے یا پھر astrazenca ۔ یعنی اب اس ویکسین پر نیا ڈرامہ شروع ہوگیا ہے۔
    مالی منافع اور کمپنیوں کے جھگڑے نے دنیا تقسیم کردی ہے۔۔ اس تمام معاملے کو تجارتی اور عالمی تھانیداری سے ہٹ کر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ جس کو کہتے نا clash of civilizations اس وقت دنیا واضح طور پر دوحصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ابھی تک تو معاملہ زبانی کلامی اور اقدامات تک ہی محدود ہیں ۔ پر آگے چل کر یہ محسوس ہورہا ہے کہ ایک بہت بڑا war theatre تیار کیا جا رہا ہے ۔ اور کسی بھی جنگ سے پہلے جو صف بندیاں ہوتی ہیں وہ کی جا رہی ہیں ۔

    ۔ اگر آپکو یاد ہو امریکہ چین والے معاملے پر جو میں نے گزشتہ ویڈیو کی تھی اس میں بڑی تفصیل سے بتایا تھا کہ اس سال کے لیے امریکہ تاریخی بجٹ 6 ٹریلین ڈالرز کا رکھا ہے ۔ جس میں
    1.5 ٹریلین ڈالر صرف پینٹاگون یعنی دفاع پر خرچ ہوگا ۔ جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے ۔ دراصل امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مغربی اقدار غالب ہیں۔ اور دنیا پر ان کو ہی حکمرانی کاحق ہے ۔ کیونکہ یہ پاک صاف جمہوریت سے لبریز اور اعلی انسانی اقدار کی حامل ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب دنیا کو چینی سرمایہ کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ کہ جو سنکیانگ میں ہو رہا ہے جو تائیوان سے چین برتاؤ کر رہا ہے ۔ جس طرح چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے ۔ جو چین میں جبری مشقت لی جاتی ہے ۔ اس لیے چین کا معاشی غلبہ کسی طور پر ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ مساویانہ مقابلے سے روکتا ہے۔۔ سننے میں مغرب کا یہ پراپیگنڈہ بہت اچھا لگاتا ہے ۔ پر اگر دیکھا جائے جس کی جانب چین بھی اشارہ کرتا ہے ۔ کہ مغرب کا دوغلا پن جب کشمیر ہویا فلسطین یا شام یا لیبیا یا افغانستان یا عراق وہاں پر آکر عیاں ہوجاتا ہے ۔ اور دنیا میں گزشتہ صدی اور اس صدی میں جتنا بھی خون خرابہ اور جنگیں برپا کی گئی ہیں بلکہ تھوپی کئی گئی ہیں وہ سب مغرب کی پیدا کردہ ہیں ۔ اس لیے امریکہ یا جی سیون ممالک جو کہہ رہے ہیں وہ صرف چین کے مقابلے کی بات نہیں بلکہ دنیا کے سامنے ایک مثبت متبادل پیش کرنا ہے۔ اور دنیا کو یہ باور کروانے کی ایک ناکام سی کوشش دیکھائی دیتی ہے کہ مغرب ہے تو ایک بھڑیا مگر انصاف پسند بھڑیا ہے ۔ جو بھیڑ بکریوں کو مارتا ضرور ہے مگر کسی قانون کے تحت ۔ پھر چاہے وہ آئی ایم ایف ہو ورلڈ بینک ہو یا اقوام متحدہ یا پھر سیکورٹی کونسل ہو ۔ جس سے اجازت لو ، قرارداد پاس کرواو اور بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی ملک پر weapons of mass destructionکا الزام لگا کر اس کو برباد کر دو ۔

    ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں کہ عالمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مغرب کیسے رقم خرچ کرے گا ۔ کیونکہ جمہوریت میں کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی عوام کا دیا ہوا ٹیکس دوسرے مملکوں میں انفراسٹکچر پر خرچ کرے ۔ ابھی تک صرف یہ ہی بات واضح ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے مقابلے کے لیے مغربی طاقتوں کے اندر ایک نیا عزم پیدا ہو گیا ہے۔ اور یہ تمام مغربی ممالک چین کا راستہ روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔

  • مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    مائنڈ پروگرامنگ، ایک خطرناک ہتھیار!! تحریر: سیدہ

    وہ زمانے گئے جب جنگیں محاذوں پر آمنے سامنے لڑی جاتی تھیں، دور جدید میں جنگ کی اصطلاح ہی بدل چکی ہے اب مقابلہ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معاشی و فکری میدان میں بھی ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کو بغیر جنگ کیئے غلام بنانے کے کچھ مخصوص طریقے ہوتے ہیں۔۔۔۔ ایسی قوم کو بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ اندرونی سازشوں سے توڑا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ تو خون خرابہ ہوتا ہے نہ جائیدادوں کا نقصان، بس یہ طریقہ سست اور صبر آزما ہے۔ اس مقصد کے لیئے میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرنے کے علاوہ تعلیمی اداروں اور نصاب کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ تاریخ ایک ہتھیار ہے (history is a weapon)۔ ایک قوم کو اس کی اساس سے دور کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ اسے نہتا کر دیا جائے مثال کے طور پر پاکستان دو قومی نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا،

    آج کچھ لوگ اس پر ہی سوال اٹھاتے بلکہ اس کو سرے سے رد کرتے نظر آتے ہیں، اب آپ سوچیں کہ پاکستان کی بنیادی اساس پر ہی سوالیہ نشان لگادیا جائے تو پاکستان کے وجود اور اسکی بقا کی کیا ضمانت ہوگی؟ ایک ڈیزائنڈ لٹریچر لوگوں کو با آسانی تاریخ سے دور کر کے ملکی دفاع کو کمزور کرسکتا ہے، بچوں/نوجوانوں کو ایجوکیشن کے نام پر mis-education دی جاتی ہے، تاریخ مسخ کر کے پڑھائی جاتی ہے اور انہیں آہستہ آہستہ وہ اصول سکھائے جاتے ہیں جو دشمن کو دوست دکھاتے ہیں، ایک مخصوص مائنڈ سیٹ پروان چڑھایا جاتا ہے جو ریاست/مذھب سے مخالفت اور بغاوت کا تصور ذہنوں میں راسخ کردیتا ہے، ظلم و استحصال کی داستانیں دہرا دہرا کر ایک پراگندہ biased ذہن بنادیا جاتا ہے جو اپنی عقل سے فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور اپنے رہبر/استاد کی بتائی باتوں پر ہی من و عن یقین رکھتا ہے، عدم برداشت کا انتہا پسندانہ رویہ انہیں اس حد تک لے جاتا ہے کہ پھر وہ اپنے نظریئے سے اختلاف کرنے والے کو بدترین دشمن گردانتے ہیں اور اس طرح کے لوگ پھر قومی دھارے میں شامل ہو کر ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہیں

    ہم دیکھتے ہیں پاکستان میں کئی ایسے "گروہ” سرگرم ہیں جو اپنے مذموم عزائم اور بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے نئی نسل کی مائنڈ پروگرامنگ کر رہے ہیں جس کے ثمرات و اثرات ہمیں اپنے اردگرد دکھائی بھی دیتے ہیں کہ لوگ یا تو مذھب بیزار نظر آتے ہیں یا ریاست مخالف۔۔۔۔

    ابھی کا واقعہ لیجیئے تیس سال سے دس غیر قانونی ایرانی اسکولز چل رہے تھے بلوچستان میں جہاں اساتذہ بھی غیر ملکی تھے اور نصاب بھی۔۔۔ ان تیس سالوں میں کتنے بچے وہاں سے فارغ التحصیل ہوئے ہونگے؟ وہ بچے ایران کے وفادار ہونگے یا پاکستان کے؟ اسی طرح یونیورسٹیز میں سیکولرازم کی ترویج و اشاعت جاری ہے، سعودی فنڈڈ مدارس بھی چل رہے ہیں اور دیگر سیاسی، مذھبی و لسانی قوم پرستی کے پروپیگنڈے کا سلسلہ بھی جاری ہے

    اب وہ وقت ہے پاکستانیوں کو اس برین واشنگ کا شکار ہونے سے روکا جائے!!
    یکساں تعلیمی نصاب لاگو ہونے کے بعد دیگر کسی بھی قسم کے لٹریچر کو سرکاری منظوری کے بغیر ہرگز نہ پڑھایا جائے، بصورت دیگر یہ فرقوں اور قومیتوں میں بٹی قوم آپس میں ہی لڑ لڑ کے مر جائے گی اور دشمن فقط تماش بین ہونگے!!!

    از قلم: سیدہ
    ‎@SyedaSays__

  • زندگی کی رنگینیاں، تحریر: وسیم اکرم

    زندگی کی رنگینیاں، تحریر: وسیم اکرم

    زندگی کے کئی رنگ ہیں انہی رنگوں میں ایک رنگ موت ہے۔۔۔ موت کو ویسے ہمیشہ ہی کالی رات سا کہا جاتا ہے۔ اور ایسا رنگ جس کو ہم اوڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ مگر موت کا رنگ بھی ہمارے لئے ہی ہے۔ اور ہم پیدا ہوتے ہی اوڑھ چکے ہوتے ہیں۔۔۔ بس جب وقت آتا ہے اس وقت یہ رنگ ہمارے مکمل وجود پر چڑھ جاتا ہے اور پھر زندگی کے دوسرے رنگوں کو نگل جاتا ہے۔۔ کبھی لگتا ہے موت کا رنگ نیلا یا کالا ہے۔ مر جانے والوں کے ہونٹ اکثر نیلے یا کالے ہو جاتے ہیں۔ مگر مرنے والوں کے رنگ تو اکثر لال بھی ہو جاتے ہیں۔کبھی سفید بھی اور کبھی مکمل سپاٹ چہرے لیے ہوتے ہیں۔گو کہ موت بھی کئی رنگ رکھتی ہے۔اور اس موت کو دیکھنے والوں کے پاس صرف ایک رنگ بچتا ہے سفید رنگ جو مایوسی اور اداسی کے رنگ کو ساتھ ملا کر مسلسل آنسوؤں کی صورت میں بہتا رہتا ہے۔اور یہ رنگ پھر ختم ہی نہیں ہوتا۔ یوں تو مر جانے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔مگر جاتے جاتے وہ لوگ ہمیں بھی ساکت کر جاتے ہیں۔۔۔ منجمند کر جاتے ہیں میرے الفاظ کھو گئے۔ میری سوچ ختم ہو گئی۔میری باتیں ختم ہوگئی۔۔

    میرا دل خالی سا ہو گیا۔مجھے موت سے انکار نہیں مگر موت کے بعد جو سناٹا چھا جاتا ہے اس سے وحشت ضرور ہے وہ سناٹا جو ہمیں بولنے نہیں دیتا۔سننے نہیں دیتا کچھ کہنے نہیں دیتا کچھ کرنے نہیں دیتا، مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے زندگی تھم سی گئی  ہے۔ کچھ نہیں ہے کرنے کو نہ ہی کچھ کرنا اہم ہے۔ کتنی گھٹن ہوتی ہے جب سانس چل رہی ہو مگر ہم اسکے چلنے سے خود رُک سے گئے ہوں۔میں بھی ٹھہر سا گیا ہوں۔رک گیا ہوں۔۔۔ مجھے اس سرکس میں اب اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عجیب سی الجھن ہوتی ہے۔کہتے ہیں انسان کٹھ پتلی ہے۔اسکی ڈور اللہ کے پاس ہے وہ ہمیں جیسے چاہے چلا رہا ہے۔۔۔ مگر یہ دنیا تو واقعی قدرت کی سرکس ہے۔

    ایسی سرکس جہاں ایک یا دو نہیں سب کے سب جوکر ہیں۔مگر جب ایک مکمل جوکر بن کر اپنا کردار نبھا رہا ہوتا ہے تو باقی جوکروں کا کردار قہقہے لگانا ہے۔۔۔ پھر ان قہقہے لگانے والوں میں سے کوئی جوکر اپنا کردار نبھائے گا اور باقی جوکر تالیاں بجائیں  گے۔۔۔ اور یہ سرکس یونہی آباد رہتی ہے۔اور جوکر آتے جاتے رہتے ہیں۔ دنیا کا میلہ انہی جوکروں سے آباد ہے۔ دنیا کے رنگ انہی جوکروں سے قائم ہیں۔۔ یہ زندگی کی سرکس بھی بڑی ہی عجیب ہے دیکھا جائے تو تماشے ہزار اور محسوس کیا جائے تو غم ہزار۔۔۔

  • جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیرکو کب ملے گی آزادی، تحریر:جام جازم

    ‏انڈیا کی جہاں اپنی معاشی صورتحال خراب ہے وہی اس کے کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں یہ الگ بات ہے ساری دنیا اس پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہے۔دنیا میں ہی جنت کا نظارہ پیش کرنے والی وادی کشمیر پر انڈیا نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور ساتھ ہی اس کے رہنے والوں پر سانس لینے کے لیے جگہ تنگ کر رکھی ہے۔پوری دنیا کو اس وقت کورونا سامنا ہے لیکن بدقسمتی سے کشمیر کو کورونا کے ساتھ ساتھ کرفیو اور بھارتی جارحیت کا بھی سامنا ہے۔تقسیم ھند کے وقت پانچ سو باسٹھ ریاستیں تھیں جن میں ایک سو چالیس ریاستیں خود مختیار تھیں اور انکو مکمل آزادی تھی وہ انڈیا یا بھارت میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر سکتی ہیں لیکن تین ایسی ریاستیں تھیں جو کسی کے ساتھ الحاق نہیں چاہتی تھیں ان میں سے ایک کشمیر بھی تھا جس پر بعد میں بھارت نے ناجائز قبضہ کر لیا اور وہاں کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی رہی۔گزشتہ سالوں میں کرفیو لگا کر کشمریوں کی داخلی خودمختاری کی آئینی شق ہٹا دی گئی اور کشمیریوں کی مزاحمت پر ان پر توڑے گئے ظلم کے پہاڑ سے دنیا کا ہر شخص واقف ہے۔ کشمیر پچھلے کئی سالوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔آج بھی کشمیر کی دیواروں پر "وی وانٹ فریڈم” کے الفاظ درج ہیں جو چیخ چیخ کر کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی ترجمانی کرتے ہیں۔

    برہان وانی کی شہادت کے بعد اس تحریک نے زور پکڑا اور کشمیری اپنی آزادی اور خود مختاری کی جنگ لڑنے باہر آئے لیکن ان پر کے جانے والے ظلم کا سوچ کر انسان کی روح کپکپاتی ہیں۔کس طرح سے نہتے کشمیریوں پر آزادی کی آواز بلند کرنے پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے۔انکو انہی کے گھروں میں محصور کیا گیا اور انکو اشیاء خوردنوش اور چھوٹے بچوں کو دودھ تک سے محروم رکھا گیا مزید ظلم یہ کہ بیماروں کو ادویات کی سہولیات تک بند کر دی گئی۔حریت پسند راہنماؤں کو قید کر لیا گیا اور کس طرح سے آنسو گیس لاٹھی چارج اور پلٹ گن کا استعمال کیا گیا ۔کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کی جاتی رہی۔ان سب کے باوجود بھارت کشمیریوں سے نہ تو آزادی کی تمنا کم کر سکا ہے نہ ہی ان کے دلوں سے یہ نعرا مٹا سکا ہے "کشمیر بنے پاکستان”۔کیوں کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔آخر میں میں جام جازم بحثیت ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کے کشمیریوں کو ان کی خواہش کے آزادی ملنی چاہیے جو کہ انکا بنیادی حق ہے-

    تحریر: جام جازم

  • جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران ایک شخص کوایک پتھر ملا تھا،جس کے بارے میں مقامی افراد کادعوی ہے کہ یہ ہیرا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق 12 جون سے علاقے میں کھدائی کی جارہی ہے اور پیر کو ایک ہزار سے زیادہ ملک بھر سے لوگ اپنی قسمت آزمانے کیلئے جنوبی افریقہ کے کوزاولو – نٹل صوبے کے کوہلاٹھی گاؤں کا رخ کرچکے ہیں جہاں اس علاقے میں نامعلوم پتھروں کی دریافت کے بعد انہیں ہیرے ہونے کا یقین تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    12 جون کو ملک بھر سے لوگ اس گاؤں میں کھدائی کے لئے گئے جہاں ایک آدمی کو کھلے میدان میں پہلا پتھر ملا ، جسے کچھ لوگ کوارٹج کرسٹل سمجھتے ہیں –

    ایک کھودنے والے شخص منڈو سبیلو نے بتایا کہ اس نے دریافت ایک زندگی بدلنے والا تھا ، جب اس نے ایک مٹھی بھر چھوٹے پتھر دیکھے تھے-

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک…

    دو بچوں کے 27 سالہ والد نے کہا”اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی بدل جائے گی کیونکہ کسی کے پاس مناسب ملازمت نہیں تھی ، میں عجیب و غریب ملازمتیں کرتا ہوں۔ جب میں ان کے ساتھ گھر واپس آیا تو ، (کنبہ) واقعی بہت خوش ہوا ،”

    بے روزگار سکھموبو مابھل نے اتفاق کیا ، انہوں نے مزید کہا: "میں نے اپنی زندگی میں کسی ہیرے کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی چھوا تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    محکمہ بارودی سرنگوں نے پیر کے روز بتایا کہ وہ نمونے جمع کرنے اور تجزیہ کرنے کے لئے ارضیاتی اور کان کنی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم سائٹ پر بھیج رہی ہےمحکمہ نے بتایا کہ باقاعدہ تکنیکی رپورٹ مقررہ وقت پر جاری کی جائے گی تاحال حکام کی جانب سے ان پتھروں کے ہیرے ہونے کی ابھی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    گرم لاوے پر پکایا جانے والا آتش فشانی پیزا

    رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقہ کی معیشت طویل عرصے سے بے روزگاری کی انتہائی کشمکش میں مبتلا ہے ، لاکھوں افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور 1994 میں فرقہ واریت کے خاتمے کے بعد تقریبا تین دہائیوں تک قائم سخت عدم مساوات میں کردار ادا کیا ہے۔ کورونا وائرس وبا نے اسے مزید خراب کردیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    کچھ لوگوں نے پتھر فروخت کرنا شروع کردیئے ہیں ، جس کی ابتدائی قیمت 100 رینڈ (.2 7.29) سے 300 رینڈ تک یعنی 1100 پاکستانی روپے سے ساڑھے تین ہزار تک فروخت بھی کئے جارہے ہیں۔

    صوبائی حکومت نے اس کے بعد سے ان تمام لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مقام کو چھوڑ دیں تاکہ حکام کو مناسب معائنہ کرنے کی اجازت دی جا ئے ، خدشہ ہے کہ اس جگہ پر کھودنے والے افراد ممکنہ طور پر کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا