Baaghi TV

Category: متفرق

  • جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ: گاؤں میں کھدائی کے دوران ہیرے ملنے کا دعویٰ

    جنوبی افریقہ کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران ایک شخص کوایک پتھر ملا تھا،جس کے بارے میں مقامی افراد کادعوی ہے کہ یہ ہیرا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق 12 جون سے علاقے میں کھدائی کی جارہی ہے اور پیر کو ایک ہزار سے زیادہ ملک بھر سے لوگ اپنی قسمت آزمانے کیلئے جنوبی افریقہ کے کوزاولو – نٹل صوبے کے کوہلاٹھی گاؤں کا رخ کرچکے ہیں جہاں اس علاقے میں نامعلوم پتھروں کی دریافت کے بعد انہیں ہیرے ہونے کا یقین تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    12 جون کو ملک بھر سے لوگ اس گاؤں میں کھدائی کے لئے گئے جہاں ایک آدمی کو کھلے میدان میں پہلا پتھر ملا ، جسے کچھ لوگ کوارٹج کرسٹل سمجھتے ہیں –

    ایک کھودنے والے شخص منڈو سبیلو نے بتایا کہ اس نے دریافت ایک زندگی بدلنے والا تھا ، جب اس نے ایک مٹھی بھر چھوٹے پتھر دیکھے تھے-

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک…

    دو بچوں کے 27 سالہ والد نے کہا”اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری زندگی بدل جائے گی کیونکہ کسی کے پاس مناسب ملازمت نہیں تھی ، میں عجیب و غریب ملازمتیں کرتا ہوں۔ جب میں ان کے ساتھ گھر واپس آیا تو ، (کنبہ) واقعی بہت خوش ہوا ،”

    بے روزگار سکھموبو مابھل نے اتفاق کیا ، انہوں نے مزید کہا: "میں نے اپنی زندگی میں کسی ہیرے کو نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی چھوا تھا۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    محکمہ بارودی سرنگوں نے پیر کے روز بتایا کہ وہ نمونے جمع کرنے اور تجزیہ کرنے کے لئے ارضیاتی اور کان کنی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم سائٹ پر بھیج رہی ہےمحکمہ نے بتایا کہ باقاعدہ تکنیکی رپورٹ مقررہ وقت پر جاری کی جائے گی تاحال حکام کی جانب سے ان پتھروں کے ہیرے ہونے کی ابھی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    گرم لاوے پر پکایا جانے والا آتش فشانی پیزا

    رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقہ کی معیشت طویل عرصے سے بے روزگاری کی انتہائی کشمکش میں مبتلا ہے ، لاکھوں افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور 1994 میں فرقہ واریت کے خاتمے کے بعد تقریبا تین دہائیوں تک قائم سخت عدم مساوات میں کردار ادا کیا ہے۔ کورونا وائرس وبا نے اسے مزید خراب کردیا ہے۔

    فوٹو بشکریہ رائٹرز

    کچھ لوگوں نے پتھر فروخت کرنا شروع کردیئے ہیں ، جس کی ابتدائی قیمت 100 رینڈ (.2 7.29) سے 300 رینڈ تک یعنی 1100 پاکستانی روپے سے ساڑھے تین ہزار تک فروخت بھی کئے جارہے ہیں۔

    صوبائی حکومت نے اس کے بعد سے ان تمام لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مقام کو چھوڑ دیں تاکہ حکام کو مناسب معائنہ کرنے کی اجازت دی جا ئے ، خدشہ ہے کہ اس جگہ پر کھودنے والے افراد ممکنہ طور پر کورونا وائرس پھیلارہے ہیں۔

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

  • ‏کہانی دو دوستوں کی .تحریر: ملک ضماد

    ‏کہانی دو دوستوں کی .تحریر: ملک ضماد

    کہا جاتا ہے ایک دور میں دو لڑکی لڑکے تھے جو ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے
    کوئی خبر نہیں تھی ایک کہاں سے اور دوسرا کہاں سے تھا
    سوشل میڈیا کا دور تھا دونوں سوشل میڈیا پے رہتے تھے لیکن دونوں کو کوئی خبر نہیں تھی کب کیسے ایک دوسرے سے دعا سلام ہوئی
    کب کیسے ایک دوسرے سے قریب ہوتے گئے
    پہلے صرف دعا سلام تھی پھر وہ دعا سلام دوستی میں بدلی
    پھر دوستی اتنی گہری ہوئی کہ دونوں ایک دوسرے سے 24 گھنٹے رابطے میں رہنے کے خواہش مند رہنے لگے
    آخر کچھ ایسے ہوا دونو کی دوستی ایک سٹیپ اور آگے نکل پڑی اور دونوں ایک دوسرے کے اور قریب ہو گئے
    دونوں کو پیار ہو گیا لیکن اظہار دونوں کرنے سے ڈرتے تھے
    دونوں کو اس بات کا با خوبی اندازہ تھا دونوں کا ملنا ممکن نہیں
    دونوں ایک دوسرے سے بہت دور تھے
    ایک پاکستان کے ایک کونے تو دوسرے دوسرے کونے میں تھا
    دونوں کے کلچر الگ
    زبان الگ
    رہن سہن الگ
    پھر بھی دونو کے دل ایک تھے
    دونو ایک دوسرے کو چاہتے تو بہت تھے لیکن حالات و واقعات سے مجبور دونو ایک دوسرے کو مایوس ہو کر دیکھتے اور سنتے تھے
    دونوں اپنی اپنی جگہ پریشان تو ضرور تھے لیکن حوصلہ بھی بڑھاتے تھے ایک دوسرے کا
    درد ایک کو ہوتا تو پریشان دونوں ہوتے تھے
    پھر ایک دن ایسا بھی آیا لڑکے کے خاندان والوں نے لڑکے کی منگنی اس کی امنگوں کے خلاف کر دی پھر کیا تھا جو بچی کچی امید تھی وہ بھی دم توڑ گئی
    پھر تو دونو کو اس بات کی فکر کھانے لگا کیا بنے گا دوسرے کا
    لڑکی ہر وقت لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کرتی لیکن لڑکا پھر بھی سمجھ نہیں سکتا تھا اس نے بس ہر بات کو دل پے لے رکھا تھا
    ایسا وقت بھی آیا دونوں بیمار بھی رہنے لگے
    آخر وہ وقت بھی آیا لڑکے کی شادی کا وقت قریب آیا لیکن وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کو اپنے خاندان کے سامنے جھکنا پڑا اور خاموشی سے اپنا پیار اپنے دل میں رکھ کر وہ شادی کے لیے تیار ہو گیا
    لڑکی نے بار ہا کوشش کی لڑکے کو سمجھانے کی لیکن لڑکا پاگلوں کی طرح بس ایک ہی بات پے اٹکا تھا لیکن اس کو یہ بھی معلوم تھا وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا

    پھر دنیا کہتی ہے لڑکیاں بیوفا ہوتی ہیں لیکن یہاں ساری کہانی ہی الٹی ہو گئی

    (کہانی کا تعلق رائٹر سے نہیں ہے بلکہ کسی کی سنی ہوئی بات کو کہانی کی شکل دے دی)

  • خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    خاتون نے 8 انچ لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا

    بیجنگ: چینی خاتون کی 8 انچ لمبی پلکیں جن کا وہ بھرپور خیال رکھتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ یو ٹیوب پر گنیز ورلڈ بک کے اکاؤنٹ سے 6 منٹس 19 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شئیر کی جس میں چینی خاتون نے اپنی پلکوں کے بارے میں بتایا-

    انہوں نے بتا یا کہ ان کا نام یون جیانژیا ہے اور ان کا تعلق چین سے ہے انہوں نے لمبی پلکوں کے ساتھ گنیز ورلڈ بک میں ریکارڈ اپنے نام کیا –

    انہوں نے بتایا اب ان کی پلکوں کی لمبائی 20 سینٹی میٹر ہے یو کے مطابق مجھے 2015 میں پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ میری پلکیں بڑھ رہی ہیں۔

    خاتون کے مطابق اگرچہ شروع میں ان کے بڑھنے کی رفتار سست تھی لیکن وہ طویل سے طویل تر ہوتی گئیں میں اکثر سوچتی تھی کہ میری پلکیں آخر اتنی لمبی کیوں ہیں پھر مجھے یاد آیا کہ میں کچھ سال پہلے اپنی زندگی کے 480 دن پہاڑوں میں گزارے تھےتو میں نے خود سے نتیجہ اخذ کیا کہ مجھے یہ پلکیں بدھا کی جانب سے تحفے میں دی گئیں ہیں-

    پھر میں نے یہ جاننے کے لئے کہ میری پلکیں دوسرے لوگوں کی پلکوں سے زیادہ لمبی کیوں ہیں ڈاکٹرز کے پاس گئی اور میں نے کئی ڈاکٹروں سے اس غیرمعمولی اضافے کی وجہ پوچھی تو وہ اس کی تسلی بخش جواب نہ دے سکے لیکن مجھے لگا وہ یہ دیکھ کر بہت حیران تھے-

    ڈاکٹروں کے مطابق انہوں نے اس کی جینیاتی وجہ جاننے کی بھی کوشش کی ہے لیکن ان کے خاندان میں کوئی ایسا نہیں جس کی پلکیں اتنی بڑی ہوں، اس لیے وراثتی طبی عوامل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو وہ مجھے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے کیونکہ میری پلکیں قدرتی تھیں-

    میں روزانہ منہ دھونے کا کوئی آسان طریقہ اختیار کرتی تھی اور میری زندگی کی روٹین جاری تھی لیکن یہ گر کر دوبارہ سے بڑھ جاتی تھیں بعض اوقات تو بے احتیاطی سے کھینچنے سے گر جاتی ہیں-

    یو کے مطابق سب سے پہلے انہوں نے جون 2016 میں اپنا ریکارڈ قائم کیا تھا اور اس وقت ان کی پلکوں کی اوسط لمبائی 4.88 انچ تھی۔ جب وہ ڈاکٹروں کے پاس گئی تو بہت غور کے بعد اس کے پلکوں میں غیرمعمولی اضافہ تو نوٹ کیا گیا لیکن ڈاکٹر بہت تحقیق کے باوجود بھی اس کی وجہ بیان کرنے سے قاصرہیں تب میں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے افسران کو بتایا۔

    یو کے مطابق ان کی الٹی آنکھ کے اوپر کی پلک کو جب ناپا گیا ہے تو وہ 8 انچ طویل نکلی اور یوں انہوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے۔

     

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

  • سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    سلجوق سلطنت اور اس کا قیام ،تحریر: سمیع اللہ

    پانچویں صدی ہجری بمطابق گیارہویں صدی عیسوی میں سلجوق سردار طغرل بیگ نے اس عظیم سلطنت کی بنیاد رکھی۔ یہ سلطنت خراسان مارواءالنہر بلاد شام ایران عراق اور ایشیائے کوچک کے علاقوں پر مشتمل تھی اس سلطنت کا پہلا دارالحکومت ایران کا قدیم شہر رے تھا بعد ازاں عراق کا شہر بغداد میں منتقل کر دیا گیا

    اسی دوران خراسان مارواءالنہر بلاد شام اور ایشیائے کوچک میں چھوٹی چھوٹی سلجوق سلطنتیں وجود میں آئی جو ایران اور عراق میں سلجوقی سلطان کے تابع تھی

    سلجوقیوں نے بغداد کی عباسی خلافت اور اسکے مذہب اہل السنت والجماعت کی بھرپور مدد کی۔ یہ سلطنت ایک طرف ایران وعراق میں شیعہ بوہیمی اور دوسری طرف مصروشام میں عبیدی اثرونفوذ کے درمیان گھری زوال کے قریب پہنچ چکی تھی۔ سلجوقی سردار طغرل بیگ نے 447ھ میں بغداد کے اندر بوہیمی سلطنت کا خاتمہ کر دیا اور تمام شورشوں پر قابو پا لیا اور رافضیوں کے شیخ ابو عبداللہ الجلاب کو رفض میں غلو کی وجہ سے قتل کر دیا ۔

    طغرل بیگ جب ایک فاتح کی حیثیت سے عباسی خلافت کے دارالحکومت میں داخل ہوا تو خلیفہ قائم بامر اللہ نے اسکا شاندار استقبال کیا اسکو بےشمار قیمتی تحائف دئیے اسکے نام کا سکہ جاری کیا اسکو بےشمار القابات سے نوازا جا میں سلطان رکن الدین طغرل بیگ بھی شامل تھا اسکے نام کا خطبہ مسجدوں میں پڑھنے کا حکم دیا۔ خلیفہ کی اس قدر عزت افزائی کی وجہ سے سلجوقیوں کو پوری دنیا میں بےشمار قدر ومنزلت حاصل ہوئی اب وہ بغداد میں بوہیمیوں کی جگہ پر سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ خلیفہ انکے ہر مشورے کو بطیب خاطر قبول کرتا تھا اور انکی عزت کرتا تھا

    8 رمضان المبارک 454 ھ بمطابق 1062 ء کو 70 سال کی عمر میں طغرل بیگ کا انتقال ہو گیا۔ اپنی وفات سے پہلے طغرل بیگ نے خراسان ، ایران اور عراق کے شمال مشرقی علاقوں میں اپنے ہاتھ سے سلجوقی اقتدار اور غلبہ کا کام مکمل کر چکے تھے۔

    جاری ہے…..

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

  • ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ

    ماحول کو نقصان پہنچانے سے باز آئیں. تحریر: نوید شیخ
    یوں تو ہم سب پلاسٹک اور کاربن کے اخاراج کے خطرات سے آگاہ ہیں اور دنیا بھر میں اس کی آلودگی کو کم کرنے پر کام بھی کیا جارہا ہے۔ تا ہم ماحول کو نقصان پہنچانے والی ایک چیز ایسی ہے جس سے ہم سب بے خبر ہیں۔ ماحول کے لیے نقصان دہ اس شے کا ہم بے دریغ استعمال کر رہے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان کی تیاری کے لیے قیمتی درختوں کو کاٹا جاتا ہے۔ وہ چیز ہے پیپر اور ٹشو پیپر ۔

    ۔ دراصل جب نوے کی دہائی میں کمپیوٹر کا دور شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سوچا کہ اب کاغذ کا استعمال بہت کم ہوجائے گا کیوں کہ خط و کتابت اور دستاویزات الیکٹرانک شکل میں ہوں گی ۔ لیکن یہ اندازے غلط ثابت ہوئے ۔ ہمارے دفاتر اور گھروں میں جتنا کاغذ اور ٹشو استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر ماحول کے ماہرین کو شدید تشویش لاحق ہے۔۔ چلیں کچھ اعداد وشمار دے دوں کہ دنیا میں رہنے والے دوسروں لوگوں کے مقابلے میں امریکی سات گُنا زیادہ کاغذ استعمال کرتے ہیں ۔ کمپیوٹر پر ٹائپ کیے ہوئے کاغذات کے پرنٹ نکالنا تو محض ابتدا ہے۔ پیکنگ میں، سگریٹ میں، ٹشو پیپر اور ٹوائلٹ پیپر میں، غرض بے تحاشا کاغذ استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں جس کام کے لیے لوگ لوٹا اور پانی استعمال کرتے ہیں۔ مغربی معاشروں میں کاغذ یعنی ٹوائلٹ پیپر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے کاغذ اور ٹشو پیپر کی اتنی زیادہ مانگ سے تباہی آ رہی ہے۔ دس ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم جنگلات کو کاٹ کر ان کے درختوں سے ٹوائلٹ پیپر بنا رہے ہیں۔

    ۔ جنگلات کا اس طرح صفایا کرنے سے دنیا میں جتنی گرمی بڑھتی ہے اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے تمام ٹرکوں، بسوں، ہوائی اور بحری جہازوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے زیادہ ہے۔ یورپ اور ایشیا میں بیشتر ٹوائلٹ پیپر استعمال شدہ کاغذ سے بنایا جاتا ہے۔ اس حوالے امریکیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ انہیں تین پلائی والا ٹائلٹ پیپر چاہیئے۔ چاہے اس کے لیے دنیا کے قدیم جنگلات ختم کیوں نہ ہو جائیں۔۔ ہم جو ٹِشوز خریدتے ہیں بھلے وہ تازہ کاغذ کے گُودے سے بنیں یا recycle گُودے سے وہ حاصل ان درختوں سے ہی کیا جاتا ہے جنہیں بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ درخت کاٹنے کا عمل جنگلات کو ختم کرسکتا ہے جس کے سبب گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جانور اور پودے اپنی جنگلی حیاتیات کھوسکتے ہیں اور پانی آلودہ ہوسکتا ہے۔

    ۔ دوسری جانب ٹشو پیپر بنانے والے پلانٹس کو انتہائی کثیر مقدار میں پانی اور بجلی درکار ہوتی ہے۔ یہ فضاء کو آلودہ کرتے ہیں اور زہرآلود فضلا دریا یا پانی میں بہاتے ہیں۔ ٹِشوز سے ماحول کو لاحق خطرات سیکڑوں گُنا تب بڑھتےہیں جب انہیں سفید بلیچ کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی چیز جیسے کہ لوشن وغیرہ کا اضافہ کیا جاتا ہے اور کارڈ بورڈ اور پلاسٹک میں پیک کیا جاتا ہے۔ ۔ آپ دیکھیں امریکا میں ٹوائلٹ پیپرز کے بے تحاشہ استعمال نے کینیڈا کے جنگلات کو خاتمے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کیونکہ امریکا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے لیے کینیڈا میں موجود جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔ کینیڈا کے تقریباً 60 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو سالانہ2 کروڑ 80 لاکھ کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں کے برابر کاربن جذب کرتے ہیں۔ تاہم امریکا میں ٹشوز کی بے تحاشہ مانگ کی وجہ سے ان جنگلات کو بے دریغ کاٹا جارہا ہے۔ 1996 سے اب تک 2 کروڑ 80 لاکھ ایکڑ رقبے پر موجود درختوں کو کاٹا جا چکا ہے۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے ٹشو پیپرز کے 20 فیصد صرف امریکا میں استعمال ہورہے ہیں، دوسری جانب امریکیوں کو نرم ملائم ٹشوز بھی درکار ہیں جن کے لیے ٹشوز بناتے ہوئے اس میں دیگر مٹیریل استعمال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں نے ٹشو بنانے کے لیے ماحول دوست اقدامات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وجہ ایک ہی ہے نرم ٹشوز کی مانگ میں اضافہ۔

    ۔ امریکی ہر سال 255ارب36کروڑ ڈِسپوزایبل ٹشوز استعمال کرتے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ عالمی سطح پر ٹِشوز کی سالانہ مانگ میں 2021 تک4 فیصدتک اضافہ ہوجائےگا۔ ان میں فیشل ٹِشوز، ٹوائلٹ پیپر، پیپر ٹاول اور نیپکنز شامل ہیں۔ جس کے حساب سے چین کی مانگ میں 40فیصد، لاطینی امریکا کی مانگ میں 15فیصد اورمغربی یورپ کی مانگ میں11سے12فیصد اضافہ متوقع ہے۔۔ ماہرین کے مطابق ٹشوز بناتے ہوئے اگر اس میں استعمال شدہ recycle مٹیریل کی آمیزش کی جائے تو یہ عمل درختوں کی کٹائی میں کمی کرے گا تاہم ایسے ٹشوز سخت اور کھردرے ہوتے ہیں۔۔درخت جو کئی کئی برس بعد جوان ہوتے ہیں دراصل ہم انہیں ٹشو پیپر کی شکل میں ایک لمحے میں کچرے میں پھینک دیتے ہیں۔ جیب میں رومال جیسی معمولی چیزنہ رکھنے کے بجائے ٹِشو پیپرکا استعمال ہمارے ماحول کوبے دردی کے ساتھ اجاڑ رہا ہےجس کا ہمیں قطعی کوئی ادراک نہیں ہے ۔ پیپرز اور ٹشو پیپرز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماحول دوست ذرائع اپنانے ہوں گے ورنہ ہماری زمین پر موجود تمام درخت ٹشو پیپرز میں بدل جائیں گے۔

  • 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ماہرین کو قازقستان میں جھیلوں اور قدرتی حجری آثار پرمشتمل مشہور سیاحتی مقام پر ایک چوٹی ملی ہے جہاں ماضی کے 50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال معلوم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : لیوزین یونیورسٹی کی ارضیات داں، شارلوٹ پروڈ کا کہنا ہے کہ چارِن گھاٹی (کینویئن) میں ایک مقام پر 80 میٹر طویل پتھریلا سلسلہ ہےجہاں کلائمٹ چینج کا پانچ کروڑ سالہ ریکارڈ موجود ہے۔ یوں یہ بہت نایاب جگہ ہے اور زمین پر ایسے آثار کم ہی ملتے ہیں۔

    ’یہاں مٹی اور گرد کے پرتیں ہیں جو یوریشیائی برِاعظم میں طویل عرصے کا موسمیاتی راز فاش کرتی ہیں اس عرصے میں یہاں کی زمین نے زمین، فضا اور سمندرکے موسمیاتی اتارچڑھاؤ میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ یعنی یہ جگہ ایک طرح کا لِٹمس ٹیسٹ ہے جو بحرِآرکٹک میں میٹھے پانی کے بہاؤ، اور نمی والی ہواؤں کی خشکی تک منتقلی جیسے معاملات کا پورا احوال اس جگہ محفوظ ہے۔

    شارلوٹ نے اپنی تحقیق کمیونکیشنز ارتھ اینڈ اینوائرمنٹ میں شائع کی ہیں 80 میٹر طویل زمینی ٹکڑے پر پلائیوسین اور پلائسٹوسین دور کی کہانی لکھی ہے، ان میں پلائیوسین کا دور 50 لاکھ سال سے 26 لاکھ سال پرانا ہے اوراسی زمانے میں انسانی سرگرمیاں موسم پراثرانداز ہوئی تھیں یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق سے ہم زمین پر آب و ہوا کی تبدیلی کا مستقبل بھی جان سکتے ہیں۔

    اس طرح پہلی مرتبہ وسط ایشیا کا آب و ہوا میں اہم کردارسامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ہم سمندری تحقیق سے ہی اس عمل کو سمجھ رہے تھے اور یوں قازقستان کا یہ علاقہ اب مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ تحقیق سے قدیم موسمیاتی پس منظر کی نقشہ سازی کرنے میں بہت مدد ملے گی یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو دیگر ماہرین نے بھی سراہا ہے۔

    چارِن گھاٹی کے سلسلے میں لگاتار مٹی کے انبارموجود ہیں اور اس کا سلسلہ کہیں بھی نہیں غائب نہیں۔ یہاں کی مٹی میں ماہرین نے مختلف معدنیات، عناصر اور آئسوٹوپس کا مطالعہ کیا ہے۔ قدیم مقناطیسی مطالعے اور یورینیئم ڈیٹنگ سے جمع شدہ ارضیاتی آثار کا ریکارڈ اور عمر معلوم کی گئی تو معلوم ہوا کہ گزشتہ پانچ ملین سال میں یہاں کی خشکی بتدریج بڑھی ہے-

    جبکہ پلائیوسین کے ابتدائی عہد میں یہاں کی مٹی خاصہ پانی موجود تھا۔ تاہم بعد میں وسط طول البلد کی مغربی ہواؤں اور سائبیریا کے بلند دباؤ والے موسمیاتی سسٹم سے یہاں کئی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

    بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جگہ پر مزید تحقیق سے زمین کی موسمیاتی آب بیتی کے کئی راز کھلیں گے۔

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    چین میں گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہاتھیوں کا گروہ

    چین میں ہاتھیوں کا ایک گروہ گذشتہ 15 ماہ سے ایک نامعلوم منزل کی جانب چلے جا رہا ہے ہاتھیوں کے گشت کرتے اس جھنڈ نے پورے چین میں شہرت حاصل کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ہاتھیوں کے اس جھنڈ کو ژیانگ کے قصبے کے قریب چین میںایک جنگل میں سوتے ہوئے دیکھے گئے کیونکہ اس علاقے میں تیز بارشیں ہوئی تھیں اور ان بارشوں کی وجہ سے ان کے سفر کرنے کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ہاتھی گذشتہ 15 ماہ سے سفر کر رہے ہیں اور اپنے مخصوص علاقے سے 500 کلومیٹر کا سفر طے کر چکے ہیں۔

    ادھر چین کے حکام ان ہاتھیوں کے سفر پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جو بہت سے جنگلات، کھیتوں،شہروں اور دیہاتوں سے گزرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ بی بی سی

    بی بی سی نے سرکاری نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کے غوالے سے بتایا کہ حکومت نے ان ہاتھیوں پر نظر رکھنے کے لیے 14 ڈرون اور 500 افراد تعینات کیے ہیں تاکہ ان ہاتھوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے یہاں تک کہ ان ہاتھیوں کو جنوب مغرب کی طرف جانے دینے کے لیے سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ بی بی سی

    ماضی میں ان ہاتھیوں کا رخ موڑنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن لگتا ہے کہ اب یہ ہاتھی واپس اپنے علاقے کی جانب رخ کر رہے ہیں جو کہ چین کے جنوب مغربی یونان صوبےمیں مینگیانگزی کے نیچر ریزور میں قائم ہے۔

    اس جھنڈ میں بچوں سمیت 15 ہاتھی ہیں یونان صوبے کے آگ بجھانے والے ادارے کے اہلکاروں کے مطابق ایک نر ہاتھی جھنڈ سے الگ ہو کر چار کلو میٹر دور موجود ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ان جانوروں نے لاکھوں ڈالر کی مالیت کی کھڑی فصلیں اپنی خوراک بنا لی ہیں۔ اُنھوں نے اپنے راستے میں عمارتوں کو نقصان بھی پہنچایا اور کئی جگہوں پر گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں میں اپنی سونڈیں ڈالیں۔

    یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان ہاتھیوں نے اپنے علاقے کو چھوڑ کر سفر کیوں اختیار کیا ہے اور اس معاملے میں پوری دنیا نے دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی ناتجربہ کار ہاتھی اس پورے جھنڈ کو لے کر نکل پڑا ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہاتھی اب نیا علاقہ ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے اس سے پہلے ہاتھیوں نے کبھی اتنا طویل سفر طے نہیں کیا ہے۔

  • سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    رومانیہ: سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ آج سے تقریباً ایک کروڑ سال پہلے زمین پرایک اتنی بڑی جھیل بھی تھی جس کا رقبہ موجودہ بحیرہ احمر زیادہ تھا۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق سائنسدان اس جھیل کو ’’پیراٹیتھیس سی میگا لیک‘‘ کے نام سے جانتے ہیں جو غالباً زمین کی تاریخ میں سب سے بڑی جھیل رہی ہوگی۔

    تازہ تحقیق میں برازیل، روس، رومانیہ، ہالینڈ اور جرمنی کے ماہرینِ ارضیات پر مشتمل ایک ٹیم نے پیراٹیتھیس (Paratethys) جھیل میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ارضیاتی شہادتیں یک جا کیں تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جھیل کے رقبے میں کمی بیشی کا اندازہ لگایا جاسکے۔

    دو نئی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ پانی کا قدیم جسم کس طرح شکل پایا اور آس پاس کی تبدیلیوں نے کس طرح ہاتھیوں ، جرافوں اور دیگر بڑے جانروں کو جنم دیا جو آج سیارے میں گھومتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پیراٹیتھیس جھیل کے بارے میں ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ کسی زمانے میں یہ ایک سمندر تھا جو ارضیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث باقی سمندر سے بتدریج الگ ہوگیا اور اس کے ارد گرد خشکی آگئی۔

    رپورٹ کے مطابق مرکزی کیمپس میں ساو پالو یونیورسٹی کے پیالو بحر سائنس دان ڈین پالکو اور ان کے ساتھیوں نے شہادتیں جمع کیے تمام شواہد کی روشنی میں انہیں معلوم ہوا کہ آج سے ایک کروڑ سال پہلے اس جھیل کا رقبہ سب سے زیادہ، یعنی 28 لاکھ مربع کلومیٹر تھا اور یہ (حالیہ زمانے کے) اٹلی میں ایلپس پہاڑی سلسلے سے لے کر وسط ایشیا میں قازقستان تک پھیلی ہوئی تھی۔

    دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا سے الگ ہو گیا

    یہ وہ خطہ ہے جو آج کے بحیرہ روم سے بڑا ہے ، وہ اس ہفتے سائنسی رپورٹس میں لکھتے ہیں۔ ان کے تجزیوں میں مزید تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس جھیل میں ایک بار 1.77 ملین مکعب کلومیٹر سے زیادہ پانی موجود تھا ، جو آج کے سب سے تازہ اور نمکین پانی کی جھیلوں کو ملا کر حجم کے 10 گنا سے بھی زیادہ ہے۔

    لیکن آب و ہوا میں ردوبدل کی وجہ سے اس جھیل نے کم سے کم چار مرتبہ اپنے 5 لاکھ سال کی زندگی میں کم سے کم چار مرتبہ سکڑنا شروع کیا اور اس سے پہلے پانی کی سطح 7 کروڑ 55 لاکھ سے 7.9 ملین سال پہلے کے درمیان 250 میٹر تک خشک گئی تھی نتیجتاً اس سے کئی چھوٹی بڑی جھیلیں بن گئیں جن کے درمیان وسیع اور خشک علاقہ موجود تھا۔ اس طرح پیراٹیتھیس جھیل کا خاتمہ ہوا۔

    اس سب سے بڑے واقعہ کے دوران ، اس جھیل نے اپنے پانی کا ایک تہائی پانی اور اس کی سطح کے دو تہائی حصے سے زیادہ کھو دیا اس نے جھیل کے وسطی طاس میں پانی کی نمکینی تہہ چھوڑی جو آج کے بحیرہ اسود کے خاکہ کو قریب سے مماثلت دیتی ہے ، اس میں تقریبا ایک تہائی نمک موجود ہے ، جو آج کے سمندر میں سمندری پانی کے برابر کی سطح پر ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ بات اس لیے بھی معقول لگتی ہے کیونکہ پیراٹیتھیس جھیل کی جگہ سے کئی طرح کی سمندری جانوروں کے رکازات (فوسلز) ملے ہیں جن میں وہیل بھی شامل ہے بعد ازاں اس کے رقبے میں (ایک جھیل کی حیثیت سے) کمی بیشی ہوتی رہی جو آج سے ایک کروڑ سال پہلے سب سے زیادہ ہوگیا۔

    فوٹو بشکریہ سائنس میگزین

    اگر آج زمین پر موجود تمام جھیلوں کا پانی یکجا کرلیا جائے، تب بھی پیراٹیتھیس جھیل کا پانی اس سے بھی دس گنا زیادہ رہا ہوگا-

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

  • 1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

    1 ارب 30 کروڑ روپے میں فروخت ہونے والی لکڑی کی کرسی

    ہانگ کانگ: گزشتہ دنوں ہانگ کانگ میں لکڑی کی کرسی کی نیلامی 85 لاکھ ڈالر (تقریباً 130 کروڑ پاکستانی روپے) میں ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق، اس بیش قیمت لکڑی کی کرسی کا تعلق 17 ویں صدی عیسوی کے چین سے ہے جسے چینی ’’منگ شاہی خاندان‘‘ کے کسی بادشاہ کےلیے بنایا گیا تھا۔

    یہ کرسی ہلکی پھلکی لیکن مضبوط لکڑی سے بنائی گئی ہے جبکہ اسے فولڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔اس طرح کی کرسیاں ’’چائنیز ژیاؤیی‘‘ بھی کہلاتی ہیں جو آج بھی بنائی جاتی ہیں اور مہنگے داموں میں فروخت ہوتی ہیں۔

    تاہم آج سے سیکڑوں سال پہلے کے چینی بادشاہ اور شاہی خاندان کے افراد جب شکار پر جاتے تھے تو اسی قسم کی کرسیاں ان کے سامان میں لازماً شامل ہوتی تھیں چائنیز ژیاؤیی پر کندہ کاری کا باریک اور انتہائی نفیس کام کیا جاتا تھا شکار گاہ میں پہنچنے کے بعد یہ کرسیاں کھول دی جاتی تھیں مگر اِن پر صرف اور صرف بادشاہ یا شاہی خاندان کے افراد ہی بیٹھ سکتے تھے-

    اسی بناء پر یہ ’’شاہی شکاری کرسی‘‘ بھی کہلاتی تھی جسے شاہی خاندان سے وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بیجنگ کے عجائب گھر سے دسمبر 2018 میں ایسی ہی ایک اور شاہی شکاری کرسی تقریباً 40 لاکھ ڈالر (تقریباً 62 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوئی تھی لیکن ہانگ کانگ کے ’’کرسٹیز‘‘ نیلام گھر سے چائنیز ژیاؤیی کی حالیہ نیلامی نے سابقہ ریکارڈ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

  • برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے منجمند جاندار زندہ ہو گیا

    برف میں ہزاروں سال سے دبا خردبینی جرثومہ پھر سے زندہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : روس میں فزیوکیمیکل اینڈ بائیلوجی پرابلمز کے سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق برف میں ہزاروں سال سے دبا خوردبیبی جرثومہ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    جیسے ہی سائنس دانوں نے مستقل برف (پرمافروسٹ) میں دبے اس کثیرخلوی لیکن خردبینی جان دار کو برف سے الگ کیا تو وہ زندہ ہوگیا اور نسل بڑھانے لگا سائنسدانوں کے مطابق اس سے ہم برف میں خلوی تباہ کاری سے بچنے کی نئی راہ تلاش کرسکتے ہیں اور اس سے ہم انسان بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

    اس ادارے سے وابستہ حیاتیات داں اسٹاس مالاوِن کہتے ہیں کہ ہماری تحقیق مشکل سے ملنے والا ثبوت پیش کرتی ہے کہ کس طرح کثیرخلوی جاندار سیکڑوں ہزاروں سال برف میں موت جیسی خوابیدگی کے باوجود زندہ رہتے ہیں اور ان میں استحالے (میٹابولزم) کا پورا نظام بھی شروع ہوجاتا ہے۔

    ’روٹیفائر‘ نہ صرف پھر سے زندہ ہوگیا بلکہ اپنی نسل بھی بڑھانے لگا ہے-

    اس جاندار کا نام ’روٹیفائر‘ ہے جو پوری دنیا کے تالاب اور جوہڑوں میں عام پائے جاتے ہیں اگرچہ ان کی یہ خاصیت سامنے آچکی تھی لیکن ہزاروں برس تک ان کے زندہ رہنے کے ثبوت پہلی مرتبہ ملے ہیں زیرِ تجربہ جان دار آرکٹک پرمافراسٹ سے ملا ہے جہاں پہلے ہی قدیم خرد نامے مل چکے ہیں، جن میں وائرس، پودے اور زردانے بھی شامل ہیں۔

    جس جگہ سے یہ روٹیفائر ملا ہے وہاں ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جانور کم سے کم 24 ہزار سال قدیم ہے۔ زندہ ہونے کے بعد اس جانور نے غیرجنسی کلوننگ سے اپنی نسل بھی بڑھانی شروع کردی جسے ’پارتھینوجنیسس‘ کہا جاتا ہے۔