Baaghi TV

Category: متفرق

  • افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

    افغانستان کا مستقبل ایک مرتبہ پھر انتہائی غیریقینی صورت حال سے دوچار نظرآتاہے۔ بین الافغان مذاکرات پچھلے دومہینوں سے تعطل کاشکار ہیں جس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ فریقین کے درمیان پرتشدد کاروائیوں میں بے پنا اضافہ ہورہا ہے ۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو مارنے کی اطلاعات آرہی ہیں ۔ طالبان نے توحالیہ ہفتوں کے دوران اپنی کاروائیوں میں اتنی شدت لائی ہے کہ ملک کے کئی صوبوں میں انہوں نے زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

    ۔ دیکھا جائے توپچھلے بیس برسوں کے دوران افغانستان پہلی مرتبہ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

    ۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پاکستان کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں شیخ رشید نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاک افغان باڈر پر باڑ مکمل کر لی جائے گی ۔ کیونکہ افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت کے پہلے سے ہی کم امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔

    ۔ آئندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی بریک تھرو کے حوالے سے زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔

    ۔ اس سے پہلے پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔

    ۔ دوسری جانب طالبان بھی اس امید پر امن معاہدے کے زیادہ خواہشمند نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    ۔ پاکستان کا اندازہ یہ ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز میں ملک سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

    ۔ یہ بات اب عیاں ہوچکی ہے کہ عیارامریکہ کوافغان حکومت اورنہ ہی طالبان عزیز ہیں بلکہ اپنے مفادات اس کی اولین ترجیح ہیں ۔ کیونکہ دوحہ قطر مذاکرات کی کوئی منزل نہیں ملی اس لیے امریکا نے اس بات چیت سے خود کو الگ کرتے ہوئے انخلا کا یکطرفہ فیصلہ کرکے خطے میں ایک عظیم کنفیوژن پیدا کردی ہے ۔

    ۔ افغانستان میں سب سے خوفناک منظرنامہ خانہ جنگی کا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ امریکا خود بھی خانہ جنگی چاہتا تھا یا پھر اسے فرار کی اس قدر جلدی تھی کہ اس نے کئی پہلوؤں پر غور ہی نہیں کیا۔

    ۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کی تاریخ ایسے وقت پر دی جب افغان فریقوں کے درمیان استنبول میں مذاکرات ہونے والے تھے۔ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے قیام پر بات ہونا تھی اور امن کے لیے یہی سب سے اہم نکتہ تھا لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے استنبول نہ جانے کا اعلان کیا۔

    ۔ بائیڈن کے غیر مشروط انخلا کے اعلان کے بعد طالبان قیادت نے فیصلہ کیا کہ مکمل فوجی انخلا تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دراصل اس فیصلے کے پس پردہ یہ سوچ تھی کہ غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد کابل پر قبضہ مشکل نہیں ہوگا۔ بائیڈن انتظامیہ کے بغیر سوچے سمجھے اعلان نے خانہ جنگی کا امکان بڑھا دیا ہے۔ اس لیے اب نئے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔

    ۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں نئی خانہ جنگی کا خواہاں ہو کیونکہ اس خانہ جنگی سے روس اور چین کو نئے محاذ پر توجہ دینا پڑے گی اور امریکا خطے میں اپنے عزائم کو پروان چڑھانے اور چین کی فوجی و اقتصادی ترقی روکنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کے قابل ہوجائے گا۔

    ۔ ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ کابل ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں جانے کی صورت میں افغانستان میں تمام سفارتی مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں، آسٹریلیا پہلے ہی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے جبکہ امریکا سمیت تمام اہم ملکوں کے سفارتی عملے میں کمی کی جاچکی ہے۔ اگر سفارتی مشن بند ہوگئے تو افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی دھچکا لگے گا۔

    ۔ افغان فورسز کو اب تک امریکی افواج کی فضائی مدد حاصل تھی جو طالبان کو پیش قدمی سے روکے ہوئے تھی۔
    11
    ستمبر کو جب انخلا مکمل ہوجائے گا تو یہ مدد بھی ختم ہوجائے گی جبکہ افغان فضائیہ کا امریکی اور نیٹو مددگاروں کے بغیر قابل پرواز رہنا بھی محال نظر آتا ہے۔

    ۔ ایسی صورتحال میں افغان فوجیوں کا وفاداری بدلنا اور جنگی سرداروں یا طالبان کی اطاعت قبول کرنا ممکنہ منظرناموں میں شامل ہے۔

    ۔ امریکا فوجیوں کے انخلا کا
    44
    فیصد عمل مکمل کر چکا ہے۔ دراصل جس رفتار سے انخلا کا عمل جاری ہے اس نے بھی پاکستان کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

    ۔ افغانستان میں اہم ہوائی اڈے بگرام ایئر بیس پر امریکی فوج اور رسد کا سب سے زیادہ دارومدار تھا وہ بھی خالی کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پندرہ سے بیس دنوں تک بگرام بیس افغان فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔

    ۔ امریکا شاید جولائی یا اگست تک انخلا کا عمل مکمل کرلے اور کابل میں صرف اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے تھوڑی سے فوج چھوڑ جائے۔

    ۔ اسکے بعد نظر آرہا ہے کہ طالبان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کریں اور کابل کی طرف دبائو بڑھائیں۔ دوسری طرف پاکستان میں اندرونی اور سرحدوں پر سیکورٹی خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے مزید پناہ گزین پاکستان کی جانب آنے کا امکان ہے ۔ اور ہماری معیشت تو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

    ۔ حقائق یہ ہیں کہ افغانستان سیکیورٹی کا ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہو سکتا ہے، افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی دہشت گرد بھی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے شرپسند عناصر گٹھ جوڑ کر لیں۔

    ۔ افغان حکومت کی ہچکچاہٹ، داخلی کمزوریوں، مخاصمت، وژن کی کمی اور جنگجو دھڑوں کے دباؤ نے فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے ۔ اسی لیے طالبان کے تیور بھی بدلے ہوئے ہیں ۔ اب وہ فرنٹ فٹ پر نظر آتے ہیں ۔

    ۔ اس وقت افغانستان میں
    30
    فیصد سے زیادہ علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے اور یہ سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ افغان حکومت کا عمل دخل
    40/45
    فیصد علاقے تک محدود ہے۔

    ۔ اس لیے کہتا ہوں کہ اس وقت اشرف غنی کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔ وہ مغربی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں ہیں امریکیوں کے نکلتے ہی اگلے دن کابل حکومت گِرے نہ لیکن آخر کارہونی تو ہو کر رہے گی۔

    ۔ اس وقت مغربی افواج کی مدد کرنے والے بہت سے افغانی مغربی ویزوں کے متلاشی نظر آتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندانوں کوطالبان حکومت سے بچا کر یورپ اور امریکا میں آباد کر سکیں۔

    ۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان سے حیران کر دینے والی خبریں آ سکتی ہیں۔

    ۔ اس لیے افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے۔

    ۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کی گزشتہ تاریخ دہرانے کا ارادہ کیا ہے جس کے بعد افغانستان میں خون خرابے کا بازار گرم ہواتھا۔

    ۔ اس بار پھر امریکہ افغانستان کو آگ میں جھونک کرجارہا ہے اور یہ ایسے وقت اور حالات میں کیا جارہا ہے کہ نہ تو امن معاہدے پر فریقین کی جانب سے عمل ہورہا ہے اور نہ حالات میں بہتری کی کوئی کرن نظر آرہی ہے۔

    ۔ کیونکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان نئی تلخیاں جنم لے چکی ہیں اور خطے میں امریکا کے نئے فوجی اڈوں کے امکانات پر طالبان بھی کسی ملک کا نام لیے بغیر دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔ یہ ایسا منظرنامہ ہے جو عدم استحکام کو مزید گہرا کرسکتا ہے اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔

    ۔ کابل انتظامیہ میں بھی پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد بیٹھی ہے جن میں ایک اشرف غنی کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب بھی ہیں۔ پچھلے دنوں حمد اللہ محب نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا اور پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ اس پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیر کے ساتھ رابطوں اور کام کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے۔ اس کے علاوہ امراللہ صالح اور اس جیسے کئی عہدے دار ہیں جو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں۔

    ۔ دراصل یہ بھارت نواز سیاستدان اور سیکیورٹی عہدے دار ہیں۔ بھارت کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان بارڈر پر لگائے رکھے۔

    ۔ اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کو اپنی جگہ بنانی اور مضبوط کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سیکیورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دار ہو بلکہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ بھی کرسکے۔

    ۔ کیونکہ امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد جاپان اور بھارت کو افغانستان میں اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی ماضی میں افغانستان کے ساتھ کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں رہی، کابل کی موجودہ انتظامیہ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے بیرونی مالی اور فوجی مدد پر انحصار کرنا پڑے گا اور امریکا خطے میں نئے چار فریقی اتحاد کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔

    ۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت کو بہت سوچ سمجھ اور غیر معمولی مہارت سے قدم اٹھانے ہوں گے۔ دور اندیش قیادت ایسے ہی موقعوں پر بہترین فیصلے کرکے قومی قیادت کی اہل کہلا سکتی ہے۔ چیلنجز بہت ہیں۔خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں،خدا کرے پاکستان سُر خرو ہو۔

  • خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش

    جنوبی افریقا : خاتون کے ہاں بیک وقت 10 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقا کی رہائشی 37 سالہ سیتھول نامی خاتون نے بیک وقت 10 بچوں کو جنم دیا جن میں 7 بیٹے اور 3 بیٹیاں شامل ہیں۔

    ڈاکٹرز نے بتایا کہ تمام بچے زندہ ہیں مگر قبل از وقت پیدائش کی وجہ سے اُن کا وزن کم ہے تاہم ان کی صحت خطرے سے باہر ہے –

    ڈاکٹر کے مطابق ان بچوں کو چند ماہ کے لیے انکیبیوٹر پر رکھا جائے گا تاکہ وہ صحت مند ہوسکیں-

    اگر افریقی خاتون کے بچے زندہ بچ گئے تو وہ ایک نیا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل افریقی ملک مالی کی 25 سالہ خاتون حلیمہ سیسی نے 5 مئی کو افریقی ملک مراکش میں بیک وقت 9 بچوں کو جنم دیا تھا، ان کے ہاں 5 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہوئی تھیں جبکہ ان سے قبل 2009 میں امریکی خاتون نادیہ سلیمان کے ہاں پیدا ہونے والے 8 ہی بچے زندہ ہیں۔

  • دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات، تحریر : سمیع اللہ

    دل کا دورہ پڑنے سے قبل کی علامات،تحریر : سمیع اللہ

    انسان کا جسم دل کے دورے سے ایک ماہ قبل بلکہ اس سے بھی پہلے خبردار کرنا شروع کردیتا ہے۔بس ان علامات یا نشانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پریشان بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ صحت کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

    یہاں ایسی علامات کے بارے میں جانیں، جو دل میں خرابیوں کی جانب کئی ہفتے پہلے اشارہ کرنے لگتی ہیں۔

    تھکاوٹ

    یہ ایسی علامت ہے جو 70 فیصد ہارٹ اٹیک کی شکار خواتین میں کئی ہفتے پہلے سامنے آئی، غیر معمولی حد تک جسمانی تھکاوٹ ہارٹ اٹیک کی جانب سے اشارہ کرتی ہے اور مرد و خواتین دونوں میں یہ نظر آسکتی ہے۔ اگر یہ تھکاوٹ کسی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کا نتیجہ نہ ہو اور دن کے اختتام پر اس میں اضافہ ہو، تو اس پر توجہ ضرور مرکوز کی جانی چاہیے۔

    پیٹ میں درد

    50 فیصد ہارٹ اٹیک کے واقعات میں یہ علامت کچھ عرصے پہلے سامنے آئی، معدے میں درد، دل متلانا، پیٹ پھولنے یا موشن وغیرہ متعدد عام علامات ہیں، ہارٹ اٹیک سے قبل پیٹ یا معدے میں درد کچھ عجیب سا ہوتا ہے، یعنی کبھی ہوتا ہے اور پھر آرام محسوس ہونے لگتا ہے، مگر کچھ وقت بعد پھر لوٹ آتا ہے۔

    بے خوابی

    یہ علامت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نظر آتی ہے، ویسے طبی ماہرین اس علامت کو ہارٹ اٹیک یا فالج وغیرہ کے بڑھتے خطرے کا عندیہ قرار دیتے ہیں۔ رات کو نیند نہ آنے کے ساتھ شدید نوعیت کی ذہنی بے چینی اور غیر حاضر دماغی کا سامنا ہو تو یہ تشویشناک ہوسکتا ہے۔

    سانس گھٹنا

    چالیس فیصد کیسز میں یہ علامت سامنے آتی ہے، یعنی سانس لینے میں مشکل اور یہ احساس کہ گہرا سانس لینا ممکن نہیں، یہ مردوں اور خواتین کے اندر ہارٹ اٹیک سے 6 ماہ قبل بھی اکثر سامنے آتی ہے، یہ عام طور پر ایک انتباہی علامت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

    بال گرنا

    بالوں کا تیزی سے گرنا بھی امراض قلب کی ایک واضح علامت ہے، عام طور پر یہ پچاس سال سے زائد عمر کے مردوں میں زیادہ نظر آتی ہے مگر کچھ خواتین میں بھی یہ سامنے آتی ہے۔

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی

    دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اکثر پینک اٹیک اور ذہنی بے چینی کے ساتھ حملہ آور ہوتی ہے، خاص طور پر خواتین میں، یہ اچانک حملہ کرتی ہے۔ اگر دل کی دھڑکن میں تیزی ایک سے دو منٹ تک برقرار رہے اور اس میں کمی نہ آئے، اس کے علاوہ دھڑکن کی رفتار میں کمی بیشی سے غشی اور تھکاوٹ کا محسوس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کرلینا چاہیے۔

    بہت زیادہ پسینہ آنا

    غیرمعمولی یا بہت زیادہ پسینہ آنا بھی ہارٹ اٹیک کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہے، جو کہ دن یا رات کسی بھی وقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ علامت عام طورپر خواتین میں زیادہ سامنے آتی ہے، تاہم وہ اسے نظر انداز کردیتی ہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ فلو جیسی علامات ہوں، جلد پر چپچپا پن یا خوشگوار موسم کے باوجود پسینہ آئے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہوسکتی ہے۔

    سینے میں درد

    مردوں اور خواتین دونوں میں سینے میں درد مختلف شدت اور طریقے سے سامنے آتا ہے۔ مردوں میں یہ علامت انتہائی اہم ابتدائی علامات میں سے ایک ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ خواتین کے 30 فیصد واقعات میں یہ سامنے آتی ہے۔ سینے میں درد ایک یا دونوں ہاتھوں میں (اکثر بائیں ہاتھ میں)، نچلے جبڑے میں، گرد، کندھوں یا معدے میں شدید نوعیت کی بے اطمینانی کی شکل میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کرلیا جانا چاہیے۔

  • 5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    کمبوڈیا میں 5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرکے ہزاروں انسانی جانیں بچانے والا ’ہیروچوہا‘ اس سال اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کےمطابق کمبوڈیا نے 5 سال قبل میگاوانامی اس چوہے کی خدمات بیلجیم کے ایک فلاحی ادارے APOPO سے حاصل کی تھی۔ یہ ادارہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے چوہوں کو بارودی سرنگوں اور بموں کی شناخت کرنے کی تربیت دیتا ہے۔

    اپنی پانچ سالہ ملازمت میں میگاوا نے2 لاکھ 25 ہزار اسکوائر میٹر سے زائد رقبے کو بارودی سرنگوں سے صاف کیا، 31 فٹ بال کے میدانوں جتنے اس رقبے میں میگاوا کی بدولت 71 بارودی سرنگیں اور 38 ایسے دھماکہ خیز مواد کی شناخت کی گئی جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکے، میگاوا نے اپنی نوکری ایمان داری سے ادا کی اور ہزاروں افراد کی جان بچانے کا فریضہ سر انجام دیا۔

    اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ بارودی سرنگیں اور مواد کو سن 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پھیلایا گیا تھا۔

    میگاوا کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر کمبوڈیا میں انہیں’ ہیرو چوہے‘ کا خطاب دیا گیا۔ گزشتہ سال میگاوا کو برطانیہ کے متعبر ترین اعزاز ’پی ڈی ایس اے‘ گولڈ میڈل نے بھی نوازا گیا تھا، جو کہ برطانوی شہریوں اور فوجیوں کو بہادری اور ہیروازم کا مظاہرہ کرنے والے ’ جارج کراس‘ کے برابر ہے۔

    یہ ایوارڈ یا گولڈ میڈل برطانیہ کی جانوروں کی بہبود کی بین الاقوامی غیر حکومتی تنظیم پیپلز ڈسپینسری برائے سِک اینیملز (PDSA) نے زمین کے نیچے چھپائی گئی بارودی سرنگوں کو سونگھ کر انہیں امدادی ورکروں کے ہاتھوں تلف کرنے پر بھی دیا گیاتھا-

    میگاوتی چوہے کی عمر آٹھ سال ہے اور اس کو بارودی سُرنگ کی بُو سُونگھنے کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔ اب یہ بہادر اور ذہین چوہا اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہے اور اس کو خطرناک بارود کو تلاش کرنے کی ڈیوٹی سے جلد فارغ کر دیا جائے گا کیونکہ اب میگاوا اپنے فرائض سے سبکدوش ہوکر بقیہ زندگی چین و سکون سے گزارنا چاہتا ہے۔

  • خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    خاتون جس نےتتلیوں کی سالانہ نقل مکانی دیکھنے کیلئے سائیکل پرسولہ ہزار کلومیٹر سفر کیا

    ہر سال امریکہ اور کینیڈا میں پیدا ہونے والی لاکھوں تتلیاں اڑ کر میکسیکو جاتی ہیں جہاں وہ ایک موسم سرما گزار کر واپس آ جاتی ہیں۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہر گزرتے برس کے ساتھ ان تتلیوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہر ماحولیات سارہ ڈائیکمین تتلیوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے حوالے سے کچھ کرنے کے لیے نکل پڑی ہیں۔ وہ بھی تتلیوں کے ہمراہ میکسیکو سے شمالی امریکہ اور کینیڈا اور پھر واپس میکسیکو تک سائیکل پر سفر کیا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین ماہر ماحولیات کے ساتھ ایک استاد بھی ہیں سارہ وہ پہلی شخص ہیں جنھوں نے ’بادشاہ تتلیوں‘ کے امریکہ سے میکسیکو تک نقل مکانی کو دیکھنے کے لیے اپنے سائیکل پر 16,417 کلومیٹر کا لمبا سفر طے کیا ہے۔

    بی بی سی کو انٹر ویو میں سارہ نے بتایا کہ ا نہوں نے اپنے طویل سفر کا آغاز مرکزی میکسیکو سے کیا۔ انھوں نے بلند و بالا پہاڑوں پر دیکھا کہ ہزاروں تتلیاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر کود رہی ہیں، میکسیکو کے وہ پہاڑ جہاں یہ تتلیاں سردیاں گزارتی ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق ان پہاڑوں کا موسم اُن کے لیے بہت مناسب ہے۔ دس ہزار فٹ کی بلندی پر موسم نہ تو بہت گرم اور نہ ہی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے شمال کی جانب سیرا مادرے پہاڑی سلسلے کی جانب سفر کرتی ہیں جب وہ امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتی ہیں۔ اور انہیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے گوگل نقشوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور کئی دفعہ انھیں تتلیوں کا پیچھا کرنے کے لیے سائیکل کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے بتایا کہ تتلیاں کسی ایک کھیت سے راستہ نہیں بناتیں بلکہ رات کو ایک کسی کونے سے اگلے سفر پر روانہ ہوتی ہیں۔ کبھی تو ان کا سفر شروع کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن بعض اوقات بہت ہی مشکل۔‘

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کا کہنا تھا کہ ایک مادہ تتلی 500 انڈے دیتی جس میں تقریباً ایک فیصد اپنی بلوغت تک پہنچ پاتے ہیں۔ بقیہ 495 انڈے دوسرے حشرات کے لیے خوراک کا ذریعہ ہیں۔

    ایسی تتلیاں جو بلوغت کو پہنچ جاتی ہی اور امریکہ کی شمالی ریاستوں اور کینیڈا تک پہنج جاتی ہیں وہ میکسییکو میں اپنے قیام کے برعکس کسی اجتماع کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ کھلے علاقے میں پھیل جاتی ہیں –

    ڈائیکمین تتلیوں کے ساتھ اپنے سفر کے دوران ہر روز سائیکل پر نوے میل کا سفر طے کرتی ہیں۔ وہ اپنے جسم کو آرام دینے کے لیے ہر دس روز بعد ایک چھٹی کرتی ہیں لیکن تتلیاں کوئی چھٹی نہیں کرتیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بادشاہ تتلیوں کے رینگنے کے لیے بہترین درجہ حررارت پانچ سینٹی گریڈ جبکہ اڑنے کے لیے تیرہ سینٹی گریڈ ہے۔موسمیاتی تبدیلیاں تتلیوں کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ چونکہ ان کے جسم کا درجہ حرارت ماحول کے درجہ حرارت کے برابر ہوتا ہے اور اگر عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے تتلیوں کے وجود کے لیے خطرات ہو سکتے ہیں۔

    فوٹو بشکریہ سارہ ڈائیکمین

    سارہ ڈائیکمین کے مطابق وہ تتلیاں جو میکسیکو سے اپنا سفر شروع کرتی ہیں وہ جب امریکہ میں داخل ہوتی ہیں تو وہ مرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ تتلیوں کی اگلی نسل دو سے پانچ ہفتوں تک زندہ رہتی ہیں۔ کینیڈا اور شمالی امریکہ تک پہنچتے پہنچتے تتلیوں کی چوتھی نسل تیار ہو چکی ہوتی ہے۔

    سارہ نے بتای کہ لیکن کینیڈا میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیوں کی نسل کا جسمانی حجم قدرے بڑا ہوتا ہے اور ان کی زندگی کا دورانیہ آٹھ مہینے ہے، جو بہت بہت طویل ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے مزید کہا کہ کینیڈا اور شمالی امریکہ کے موسم خزاں میں پیدا ہونے والی بادشاہ تتلیاں ہی ہیں جو سردیوں کے موسم میں میکسیکو کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں اور پھر موسم بہار میں واپس امریکہ لوٹ کر انڈے دیتی ہیں.

    انہوں نے بتایا کہ موسم بہار میں کینیڈا کی طرف سفر کے دوان ان کی توجہ انڈے دینے پر مرکوز ہوتی ہے لیکن موسم خزاں کی ہجرت کے دوران ان کی زیادہ توجہ پھولوں سے رس چوسنے پر ہوتی ہے۔

    سارہ ڈائیکمین نے تتلیوں کے ساتھ دونوں جانب ہجرت کی ہے، میکسیکو سے امریکہ اور پھر امریکہ سے میکسیکو تک 264 دن سفر کیا-

  • چیونٹیوں سے متعلق حیران کن معلومات       بقلم :شمائلہ تنویر

    چیونٹیوں سے متعلق حیران کن معلومات بقلم :شمائلہ تنویر

    آؤ بچو سنو کہانی
    میں چیونٹیوں سے متعلق معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔

    بچپن میں ہم نے ایک سبق پڑھا تھا قطار بنائیں
    اس میں چیونٹیوں کے ٹیم ورک اور منظم ہو کر قطار بنانے کا ذکر تھا ، اور بھر کسی اور کتاب کے مطالعہ کے دوران معلومات میں اور اضافہ ہوا کہ جب چیونٹیوں کےکام کے دوران کوئی ایسا دشوار راستہ آ جائے تو ٹیم کی راہنمائی کرنے والی سردار چیونٹی انھیں خطرے کا سگنل دیتی ہےاور بعض اوقات تو وہ ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہوئے ایک پل بنا لیتی ہیں اور ساتھی چیونٹیاں ان کے اوپر سے گزر کر دشوار راستہ عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ان تمام معلومات سے ہمیں نظم و ضبط ، محنت اور ٹیم ورک یعنی مل جل کر کام کرنے کا درس ملتا ہے
    میرے بچو!

    معلومات میں تھوڑا اور اضافہ کرتے ہیں
    سائنس دانوں نے
    دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد!ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے ہرا ہوجاتا…

    اس سے بھی زیادہ حیرت اس بات پر کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے،

    اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں….
    زرا غور کیجئے قرآن مجید میں باربار ان تمام مشاہدات پر غور وفکر کا حکم دیا گیا ہے۔
    سوچنے کی بات..!
    ان سب کو یہ کس نے سکھایا…؟
    یقیناً ہمارے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے۔ میرے پیارے بچو یہ دعا کیجئے اے رب ہمارے علم میں اضافہ فرما، ہر وقت علم میں اضافہ کی دعا کیجئے اور اس ذات پاک کی پاکی بیان کیجیے….
    سبحان الله وَ بِحَمدہ
    سبحان اللہ العظیم…
    دعاؤں کی طالب
    شمائلہ تنویر

  • کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    کائی سے مضبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار

    سائنس دانوں نے کائی کوفوڈ سپلیمنٹ میں استعمال کرنے کے بعد اس کا ایک اور ماحولیاتی استعمال تلاش کرلیا ہے جی ہاں اب کئی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی :سائنس جریدے ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نیدر لینڈ کی یونیورسٹی آف راکیسٹر کے محقیقین کائی سے مظبوط ، لچک دار اور دیدہ زیب ڈیزائن والا کپڑا تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    اس تحقیق میں شامل ریسرچر سری کانتھ بالا سبرا مینیئن کا کہنا ہے کہ کائی سے بنے لباس مستقبل میں فیشن کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سہہ جہتی پرنٹنگ جاندار فنکشنل مادوں کی بناوٹ کے لیےایک طاقت ور ٹیکنالوجی ہے اور اس جان دار مادے کے ماحولیاتی اور انسانوں کے لیے بننے والی ایپلی کیشنز کے لیے بہت امکانات ہیں۔

    اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے-

    انہوں نے بتایا کہ ہم نے کائی کو فوٹو سینتھیسز مادے میں پرنٹ کرنے کے لیے تھری ڈی پرنٹر اور نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک استعمال کی۔

    فوٹو سینتھیسز مادے کو تخلیق کرنےکے لیے ہم نے بے جان بیکٹریل سیلولوز(پو دوں کے خلیوں کی دیواروں میں موجود نشاستہ) سے آغاز کیا بیکڑیل سیلولوز ایک نامیاتی مادہ ہے جو کہ بیکٹریا کی جانب سے پیدا اور خارج کیا جاتا ہے، بیکٹریل سیلولوز میں لچک، سختی، مظبوطی اور اپنی شکل میں رہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    سائنسدانوں نے بیکٹریل سیلولوز کو بطور کپڑا اورخرد بینی کائی ( مائیکرو الجی) کو بطور روشنائی استعمال کیا اور پرنٹنگ کے لیے نئی بائیو پرنٹنگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے جاندار کائی کو بیکٹریل سیلولوز پر پرنٹ کیا۔

    خورد بینی کائی اور بے جان بیکٹیریل سیلولوز کے ملاپ کے نتیجے میں ایک ایسا انوکھا مادہ بنا جو کہ کائی کا فوٹو سینتھیسز معیاراور بیکٹریل سیلولوز کی مظبوطی رکھتا ہے، یہ مادہ سخت، لچک دار ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول دوست، بایو گریڈایبل اور بنانے میں سادہ ہے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ اس مادے سے نہ صرف کپڑے، بلکہ مصنوعی پتے، فوٹو سینتھیسز کھال بھی تیار کی جاسکتی ہے۔ کائی سے بننے والے کپڑوں سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے ماحول پر مرتب ہونے والے منفی اثرات میں کمی آئے گی جبکہ اسے عام کپڑوں کی طرح بار بار دھونے کی ضرورت بھی نہیں پیش آئے گی جس سے پانی کی بچت بھی ہوگی۔

    یاد رہے کہ کائی کے کپڑے بنانےکے لیے ماضی میں بھی کئی تجربات کیے جاچکے ہیں تاہم ان کی کپڑوں کی پائیداری کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

  • گرم لاوے پر پکایا جانے والا  آتش فشانی پیزا

    گرم لاوے پر پکایا جانے والا آتش فشانی پیزا

    گوئٹےمالا: ڈیوڈ گارسیا نامی شیف 1,000 ڈگری سینٹی گریڈ جتنے شدید گرم لاوے پر پیزا بناتا ہے جو سوشل میڈیا پر ’آتش فشانی پیزا‘ اور ’لاوا پیزا‘ جیسے ناموں سے بھی مشہور ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق وسطی امریکی ملک گوئٹے مالا میں آتش فشاں ’پاکایا‘ اس سال فروری سے اُبل رہا ہے جس کی وجہ سے آس پاس رہنے والے لوگ شدید خوفزدہ ہیں لیکن ڈیوڈ گارسیا نامی ایک مقامی اکاؤنٹنٹ اور شوقیہ باورچی نے اسی گرم اور پگھلے ہوئے لاوے کو اپنا باورچی خانہ بنا لیا اور وہاں پیزا پکانا شروع کردیا۔

    اس پرخطر ماحول میں پیزا پکانا اپنے آپ میں جان جوکھم کا کام ہے تاہم اسی وجہ سے گارسیا کا ’لاوا پیزا‘ یا ’آتش فشانی‘ پیزا مشہور بھی ہے –

    گرم اور پگھلے ہوئے آتش فشانی لاوے پر پیزا پکانے کےلیے گارسیا نے عارضی میز کے علاوہ خصوصی کپڑوں، جوتوں اور برتنوں تک کا انتظام کیا ہوا ہے جو شدید گرمی برداشت کرسکتے ہیں۔

    تازہ پیزا پکانے کےلیے وہ آتش فشاں کے قریب ہی پیڑے بناتے ہیں اور انہیں خاص ٹرے میں پھیلا کر گرم سرخ لاوے پر جمی راکھ میں دس سے پندرہ منٹ کےلیے رکھ دیتے ہیں۔

    تیار ہوجانے کے بعد وہ مقامی گاہکوں اور سیاحوں کو گرما گرم پیزا بھی وہیں پیش کرتے ہیں ویسے تو اس پیزا کا باقاعدہ نام ’’پاکایا پیزا‘‘ ہے لیکن سوشل میڈیا پر یہ ’لاوا پیزا‘ اور ’وولکینک پیزا‘ (آتش فشانی پیزا) جیسے ناموں سے مشہور ہورہا ہے۔

  • صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے ننگر پارکر سے ماہرین نے 700 سال پرانی مورتیاں دریافت کر لیں-

    باغی ٹی وی : بی بی سی اردو کے مطابق ننگر پارکر سے ملنے والی جین مت کی 700 سال پرانی دو مورتیوں کو ’کیمیکل پراسیس‘ کے ذریعے محفوظ بنانے کے فیصلے کے بعد ان سمیت چھ دیگر مورتیوں کو حیدر آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

    سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے قدیم شہر ننگر پارکر میں نصف درجن کے قریب جین مندر خستہ حالت میں موجود ہیں، جن کی بحالی کا کام محکمہ آثار قدیمہ اور سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ذمہ ہے۔

    ننگر پارکر کی ایک طرف رن آف کچھ ہے تو دوسری طرف انڈیا کی ریاست گجرات۔ تقسیم سے قبل یہاں کے لوگوں کا انڈین ریاست گجرات سے سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تجارتی تعلق رہا ہے۔

    مگر ان مورتیوں کی حیدر آباد منتقلی پر تھر کی علمی و ادبی حلقوں نے اعتراض کیا ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم بھی چلائی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان مورتیوں کو ننگر پارکر میوزیم میں رکھا جائے۔

    اس پر محکمہ آثار قدیمہ کے ڈی جی منظور قناصرو نے غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایک تو ان مورتیوں کی مرمت کرنی ہے، دوسرا اس وقت ننگر پارکر میں سٹاف نہیں۔ ’جیسے ہی وہاں سٹاف کی تعیناتی ہو گی، مورتیاں منتقل کردی جائیں گی۔‘

    ننگرپارکر شہر میں واقع قدیم جین مندر کی بحالی کے کام کے دوران وہاں سے پانچ مورتیاں برآمد ہوئی تھیں۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز سے منسلک مندر کی بحالی میں شریک ایک ماہرکے مطابق بحالی کے دوران کھدائی کی گئی تو گربھاگرہ یعنی زیر زمین عبادت کے کمرے کا سراغ لگا، جس کا راستہ پتھر لگا کر بند کیا گیا تھا اسے ہٹا کر وہ جب اندر داخل ہوئے تو دو فٹ کی سفید ماربل کی مورتی ملی جو جین مذہب کے اوتار مہاویر کی ہے۔

    اس ماہر کے مطابق مندر کے ساتھ جو گئوشالہ ہے وہاں کھدائی کے دوران مزید پانچ مورتیاں ملیں، جو گولڈن سینڈ سٹون کی بنی ہوئی ہیں اور دس انچ سے لے کر دو فٹ کے قریب اونچی ہیں۔ یہ بھی مہاویر کی ہیں۔

    ننگرپاکر شہر میں واقع مندر کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے 13ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ یہ مہاویر مندر تھا اور اسی کی پوجا کی جاتی تھی۔

    یاد رہے کہ مہاویر یا مہاویرا جین دھرم کے چوبیسویوں اور آخری تیرتھانکر (گروؤں کا سلسلہ) ہیں، جن کی پیدائش چھٹی عیسوی میں بہار میں ہوئی تھی۔

    سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ جین دھرم کے لوگوں نے جب یہاں سے نقل مکانی کی تو اس سے قبل زیر زمین عبادت کے کمرے میں مہاویر کی مورتی رکھ کر دروازے کو بند کردیا ہو گا کیونکہ مندر کی یہی مرکزی مورتی ہے۔

    ان کا خیال ہو گا کہ یہ یہاں محفوظ ہو گی اور جب صورتحال بہتر ہو گی اور وہ واپس آئیں گے تو اپنی اصل جگہ پر لگا سکیں گے۔

    ننگرپارکر اور اس کے آس پاس میں بھوڈیسر، ویراہ واہ میں جین دھرم کے کئی مندر ہیں، جن میں پتھر اور ماربل کا کام کیا گیا ہے۔ بعض کے اندر کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں تاہم کسی بھی مندر کے اندر مورت موجود نہیں۔

    ایک قدیم مندر ویرا واہ شہر میں بھی واقع ہے سندھ اینڈومنٹ فنڈز کے ماہر کے مطابق یہ جین مندر شانتی ناتھا سے منسوب ہے، جو جین دھرم کی چھٹے تیرتھانکر تھے۔ ان کی پیدائش موجودہ میرٹھ شہر کے قریب شہر میں ہوئی تھی۔

    اس ماہر کے مطابق سنہ 1971 کی جنگ میں یہ علاقہ انڈین فوج کے قبضے میں رہا اور وہ یہ مورتی اپنے ساتھ لے گئے جو اس وقت ممبئی میوزیم میں موجود ہے۔

    جین دھرم کے پانچ اہم اصول یہ ہیں: عدم تشدد، سچ گوئی، چوری نہ کرنا، پاکیزگی اور دولت کی لالچ سے خود کو دور رکھنا۔ اس دھرم کے پیروکار ماحول دوست تصور کیے جاتے تھے۔

    ننگر پارکر کے رہائشی اللہ نواز کھوسو ان لوگوں میں تھے جنھوں نے جین دھرم والوں کو یہاں دیکھا تھا۔ ان کا چند برس قبل انتقال ہوا۔

    انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جینی لوگ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا بھی خیال رکھتے تھے۔ وہ صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے اور سورج غروب ہونے سے قبل ہی کھانا کھا لیتے تھے۔

    وہ گھروں میں بتی یا دِیا روشن نہیں کرتے تاکہ کیڑے مکوڑے اس سے جل کر ہلاک نہ ہو جائیں اور اس کے علاوہ جانوروں اور کتوں کو خوراک فراہم کرتے تھے۔

    اللہ نواز کھوسو کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی نے جینی لوگوں کو آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ پاکستان بننے کے سال میں وہ اپنی مورتیاں لے کر یہاں سے چلے گئے۔ باقی جو چند خاندان موجود تھے وہ بھی 1971 میں چلے گئے۔

    حکمہ نوادرات کے سابق سیکریٹری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ ننگر پارکر اور پاری نگر جین دھرم والوں کا گڑھ رہا ہےاسلام کی آمد سے پہلے سے لے کر تیرھویں صدی تک جین کمیونٹی نے تجارت میں عروج حاصل کیا اور جب یہ کمیونٹی خوشحال ہوئی تو انھوں نے یہ مندر تعمیر کرائے۔

    ’موجودہ مندر بارہویں اور تیرہویں صدی کے بنے ہوئے ہیں۔‘

  • گیارہ سو سال پُرانی نظم شئیر کرنے پر چینی کمپنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    گیارہ سو سال پُرانی نظم شئیر کرنے پر چینی کمپنی کو اربوں ڈالرز کا نقصان

    بیجنگ: متنازعہ نظم شیئر کرنے سے چینی کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق چین میں غذائی اشیا تقسیم کرنے والی مشہور کمپنی مائی توان کے سی ای او، وینگ چِنگ نے گیارہ سو سال قبل لکھی گئی ایک نظم چینی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تاہم ایک دن بعد ڈیلیٹ بھی کردی تھی-

    لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ چینی حکومت نے اس نظم کو اپنے خلاف قرار دیا اس کے بعد حکومت نے کمپنی کی بعض بے ضابطگیوں کو نوٹس لیا جو ایک نقصان دہ کریک ڈاؤن تھا۔

    پیر کے روز کمپنی کے حصص 5.3 فیصد گرگئے بلکہ اگلے روز یہ شرح 9 فیصد تک پہنچ گئی اس طرح کمپنی کو کم سے کم ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    وینگ نے اپنی پوسٹ چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فین فاؤ پر پوسٹ کی تھی جو بعد میں ہٹادی گئی انہوں نے اپنی صفائی میں کہا کہ وہ اپنی نظم سے ای کامرس صنعت کے درمیان سخت مسابقت اور خطرناک حریفوں کا حوالہ دے رہے تھے نہ کہ ان کا نشانہ سرکار تھی۔

    وینگ نے چند اشعار پر مبنی کلاسیکی نظم منتخب کی تھی جو چینی بادشاہ چِن شائی ہوانگ کے عہد میں کتابوں کو جلانے پر اس کی خاموشی کےردِ عمل میں ایک گمنام شاعر نے لکھی تھی۔ اس عمل میں وینگ یہ بھول گئے کہ چینی حکومت اس وقت بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری اور من مانی پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے اس ضمن میں انٹرنیٹ سینسر شپ بھی عروج پر ہے اس سے قبل علی بابا کمپنی پر ضوابط کی خلاف ورزی پر دو ارب 80 کروڑ ڈالر کا جرمانہ بھی ہوچکا ہے۔

    واضح رہے کہ چِن شائی شہنشاہ جدید اور متحدہ چین کے بانی بھی تصور کیا جاتا تھا لیکن وہ اپنی ذات میں بہت سخت اور آمرانہ مزاج کا حامل بھی تھا۔