Baaghi TV

Category: متفرق

  • راتوں رات سُپر ماڈل بننے والا نائجیریا کا بے گھر نوجوان

    راتوں رات سُپر ماڈل بننے والا نائجیریا کا بے گھر نوجوان

    لاگوس: قسمت ہوئی مہربان بے گھر نوجوان راتوں رات سُپر ماڈل بن گیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائجیریا کا ابھرتا ہوا ماڈل ’علی اولاکومنی‘ آج سے ڈیڑھ ماہ پہلے تک ایک بے گھر نوجوان تھا جو دن بھر میں چھوٹی موٹی مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالتا تھا اور تھک ہار کر جہاں جگہ ملتی، وہیں سو جاتا۔

    اپریل کی ابتداء میں لاگوس کی ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ایفولابی، المعروف ’اے ایل‘ نامی کری ایٹیو ڈائریکٹر اوسون اسٹیٹ میں ایک پل کے نیچے اپنے تمام عملے سمیت موجود تھا۔

    یہ جگہ اس نے ایک تازہ فوٹو شوٹ کےلیے منتخب کی تھی لیکن جس ماڈل کو اس فوٹو شوٹ میں کام کرنا تھا، وہ کسی وجہ سے لوکیشن پر نہیں پہنچ سکا۔

    تیاری مکمل ہونے کی وجہ سے ایفولابی وہ فوٹو شوٹ کسی صورت میں منسوخ کرنا نہیں چاہتا تھا لہذا اس نے پل کے نیچے ہی چکر لگانا شروع کردیا۔

    کچھ دوری پر اسے پل کے نیچے سوتے ہوئے کچھ لوگ دکھائی دیئے جن میں سے ایک کا حلیہ اسے مطلوبہ ماڈل کے حساب سے موزوں ترین لگا ایفولابی نے فوراً اسے جگایا اور فوٹو شوٹ میں کام کرنے کی پیشکش کر ڈالی۔

    علی اولاکومنی نامی یہ نوجوان پہلے تو بوکھلایا لیکن جلد ہی سنبھل گیا اور اس نے ایفولابی کی پیشکش قبول کرلی اگلے ایک گھنٹے میں ماڈل کے کپڑے علی کو پہنائے گئے جو حیرت انگیز طور پر بالکل فٹ آئے۔ فوٹو شوٹ شروع ہوا اور کامیابی سے مکمل ہوگیا۔


    اگلے روز ایفولابی نے یہ واقعہ، تصاویر سمیت اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کردیا ساتھ ہی اس نے علی کےلیے ایک علیحدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بنوادیا، جس کے فالوورز کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے۔


    اسی اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے جواب میں ایک صارف نے مختصر ویڈیو بھی شیئر کروا دی ہے جس کے پہلے حصے میں ’علی‘ کو پل کے نیچے سوتے ہوئے دکھایا گیا جبکہ یکایک اس کی کایا پلٹ ہوجاتی ہے
    https://twitter.com/OgaLandlord_/status/1379074424306028547?s=20
    واضح رہے کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ ارشد ’’چائے والا‘‘ اور دینا نیر مبین کے ساتھ ہوا تھا جو سوشل میڈیا کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچ گئے تھے-

  • 3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

    لندن: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کینیا کے ایک دور افتادہ غار میں 78 ہزار سال پرانی 3 سالہ بچے کی قبر دریافت کی ہے-

    باغی ٹی وی : یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا ہے لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔


    معروف تحقیقی مجلے ’نیچر‘ کی رپورٹ کے مطابق قبر کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے قبر بنائی گئی، اس کے بعد قبر کے فرش پر پودوں کی پتیاں اور نرم شاخیں بچھائی گئیں، پھر بچے کو ان پر لٹایا گیا اور اس پر غالباً کسی درخت کی نرم چھال رکھ کر قبر کو بند کردیا گیا۔

    واضح رہے کہ جنس ’ہومو‘ (Homo) سے تعلق رکھنے والی مختلف انواع کی آٹھ لاکھ سال تک پرانی باقاعدہ قبریں دنیا بھر میں دریافت ہوچکی ہیں البتہ جدید انسان یعنی ’ہومو سیپیئنز‘ (Homo sapiens) کی قدیم ترین اور باقاعدہ قبر یہی ہے جو 78 ہزار سال پرانی ہے۔

    قبر سے ملنے والی لاش کو ماہرین نے ’مٹوٹو‘ (Mtoto) کا نام دیا ہے جو سواحلی زبان کا لفظ ہے اور جس کا مطلب ’بچہ‘ ہے۔


    یہ قبر 2013ء میں ’پنجہ یا سعیدی‘ غار کے تقریباً دہانے پر دریافت ہوئی تھی جو 3 فٹ گہری ہے اور اس میں سے کسی بچے کی نہایت بوسیدہ ہڈیاں بھی برآمد ہوئیں تاہم یہ ہڈیاں اس قدر بوسیدہ تھیں کہ انہیں فوری طور پر وہاں سے نکالا نہ جاسکا۔ یہ کام پوری احتیاط سے 2017ء میں انجام دیا گیا۔

    فوٹو بشکریہ نیچر
    یہ ہڈیاں مزید تجزیئے کےلیے اسپین میں واقع انسانی ارتقاء کے تحقیقی مرکز بھجوا دی گئیں جہاں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے مزید تین سال تک تحقیق کرنے کے بعد نہ صرف ان ہڈیوں، بلکہ آس پاس سے ملنے والے دیگر آثارِ قدیمہ کے بارے میں بھی اپنی معلومات کو حتمی شکل دی۔

    کیمیائی اور خردبینی تجزیئے سے معلوم ہوا کہ اس بچے ’مٹوٹو‘ کی موت قدرتی طور پر ہوئی تھی جبکہ اسے مرنے کے فوراً بعد ہی پورے اہتمام سے دفنا دیا گیا تھا۔


    ’مٹوٹو‘ کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر قبر میں اتارنے کے بعد، اس کے ننھے سر کو کسی نرم تکیے جیسی کسی چیز پر رکھا گیا اور اسے سیدھی (دائیں) کروٹ سے لٹا کر دفن کیا گیا۔

    اگر یہ محض اتفاق نہیں تو یہ بات یقیناً توجہ طلب ہے کیونکہ میت کو سیدھی کروٹ دے کر دفنانا بہت سے مذاہب میں قدرِ مشترک ہے۔ ان مذاہب میں اسلام بھی شامل ہے۔

    غار میں ’مٹوٹو‘ کی قبر کے ارد گرد سے ملنے والی باقیات سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید اس بچے کی آخری رسومات بھی اسی غار میں، قبر کے آس پاس ادا کی گئی تھیں۔

  • اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر خاتون اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر تماشا دیکھنے لگی

    اپنے ہی گھر کو آگ لگا کر خاتون اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر تماشا دیکھنے لگی

    میری لینڈ: امریکا میں ایک خاتون اپنے گھر کو آگ لگانے کے بعد باغیچے میں کرسی پر بیٹھ پر اطمینان سے گھر جلنے کا تماشا دیکھنے لگی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ کی سیسل کاؤنٹی میں 47 سالہ گیل مٹ ویلی نے اپنے ہی گھر کو آگ لگا دی، اور پھر لان میں کرسی پر اطمینان سے بیٹھ کر گھر کو شعلوں میں گھرا ہوا دیکھنے لگی اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دوران خاتون لان میں کرسی پر فرصت سے بیٹھی مزے سے کتاب بھی پڑھتی رہی۔

    یہ دل دہلا دینے والی ویڈیو خاتون کے پڑوسی ایوری ہیمنڈ نے بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی، ویڈیو میں گھر کو جلانے والی خاتون پورچ میں ایک اور شخص کے ساتھ جھگڑا کرتی بھی دکھائی دیتی ہے۔

    عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ خاتون نے گھر میں متعدد جگہوں پر آگ لگائی، صرف یہی نہیں بلکہ لوگ یہ جان کر خوف زدہ ہو گئے کہ گھر کے اندر ایک شخص بھی موجود تھا۔

    پڑوسیوں کو گھر کے تہ خانے کی کھڑکی سے کسی کے مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں سنائی دیں، جس پر انھوں نے مذکورہ شخص کو گھر سے باہر نکالا، اسی دوران گھر کو آگ لگانے والی خاتون وہاں سے چلی گئی۔

    بعد ازاں پولیس نے خاتون کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا، خاتون کو گھر کو جان بوجھ کر آگ لگانے اور قتل کی کوشش کرنے کا فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

    پڑوسیوں نے آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کو بلایا محکمے نے بعد میں بتایا کہ گھر میں چار افراد کی رہائش تھی تاہم واقعے کے وقت گھر میں صرف دو افراد موجود تھے۔

  • انسٹاگرام پر مقبول ترین پرندہ

    انسٹاگرام پر مقبول ترین پرندہ

    حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ کون سے پرندوں کی تصاویر بہترین ہوتی ہیں اور اس کی وجہ کیا ہے؟-

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق اُلو کے ایک دور کے رشتہ دار فراگ ماؤتھ کی تصاویر باقی پرندوں کی نسبت انسٹاگرام پر زیادہ مقبول ہوتی ہےفراگ ماؤتھ (یعنی مینڈک کی شکل کا پرندہ) عموماً برصغیر کے حصوں میں پایا جاتا ہے اور لوگ اسے اُلو ہی سمجھتے ہیں۔

    انسٹاگرام پر جانوروں کی فوٹوگرافی کے لاکھوں مداحوں نے اس فراگ ماؤتھ کی تصاویر کو پسند کیا ہے اس سے محققین بھی حیران ہیں تاہم اس تحقیق کے نتائج کو محققین نے ’ستم ظریفی‘ قرار دیا کیونکہ اس نسل کے شب بیدار پرندوں کو اکثر بدصورت سمجھا جاتا ہے۔

    جرمنی میں یونیورسٹی آف کونسٹانز کی سائیکالوجسٹ اور تحقیق کی سربراہ کیٹجا تھومس کہتی ہیں کہ اپنے چہرے کی خصوصیات کی بنا پر یہ (اُلو) کسی اور پرندے جیسا نہیں دکھتا۔

    فراگ ماؤتھ کافی نایاب ہوتے ہیں ہماری 20 ہزار تصاویر کے ڈیٹا بیس میں اس کی صرف 65 تصاویر سامنے آئیں۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید پرندوں میں دلچسپی لینے والے افراد اس کے ہر دیدار پر ڈھیروں لائیکس دیتے ہیں۔

    ڈاکٹر تھومس خود بھی ایک فوٹوگرافر ہی ہیں انھوں نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے کہ بہترین تصاویر کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں- انھوں نے ہر نسل کے پرندے کی تصاویر پر ملنے والے لائیکس کی مدد سے ان کی درجہ بندی کی ہے جس سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ رنگ برنگے بال و پر والے پرندوں کی درجہ بندی بہتر رہی۔

    سائیکالوجی سے متعلق جریدے آئی پرسیپشن میں وہ اپنی تحقیق میں لکھتی ہیں کہ ’ٹراکو اور ہد ہد کے سر پر تاج نما بال ہوتے ہیں اس لیے انھیں زیادہ لائیکس ملتے ہیں۔

    اب تک گہرے نیلے رنگ کے پرندے سب سے پُرکشش مانے گئے ہیں۔ دیگر تحقیقات کی طرح اس تحقیق میں بھی کہا گیا ہے کہ سیاحت سے متعلق تصاویر میں لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں۔

    جبکہ سمندری پرندوں کو اس تحقیق میں زیادہ پُرکشش نہیں سمجھا گیا فہرست کے آخری حصے میں ’کم پُرکشش پرندوں‘ کا شمار کیا گیا جن میں سینڈ پائپر چڑیا، اویسٹر کیچر، بگلے اور گدھ شامل ہیں۔

    تاہم سونی ورلڈ فوٹوگرافی ایوارڈز یافتہ وائلڈ لائف فوٹوگرافر گریم پردی کے مطابق جو تصاویر زیادہ شیئر یا لائیک کی جائیں ان سے مراد یہ نہیں کہ پرندے اتنے ہی خوبصورت بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی پُرکشش یا پیاری چیز انسانی فطرت کو متاثر کرتی ہے، جیسے بڑی آنکھیں۔

    گریم کے مطابق انسٹاگرام پر لوگ بڑی بلیاں (یعنی شیر) اور ہاتھی پسند کرتے ہیں مگر بعض اوقات مجھے کسی نیولے کی تصویر بہت اچھی لگتی ہے لیکن اس پر کوئی لائیک نہیں آتا اس لیے خوبصورت اور مقبول تصاویر کو یکساں نہیں سمجھا جاسکتا۔

    اس رائے سے انسٹاگرام کے اعداد و شمار بھی اتفاق رکھتے ہیں انسٹاگرام پر سب سے مقبول وائلڈ لائف فوٹوگرافر کے 69 لاکھ فالوورز ہیں۔ جبکہ ایک خوبصورت پومیریئن کتے (جس کا نام جِف پوم ہے) کو ایک کروڑ سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں۔

    وائلڈ لائف فوٹوگرافی، خاص کر پیارے جانوروں کی تصاویر، کی مدد سے لوگ تلخ حقیقتوں سے دھیان بٹا پاتے ہیں۔

    انسٹاگرام پر اب ایسے کئی وائلڈ لائف فوٹوگرافی کے اکاؤنٹ ہیں جو جانوروں اور پرندوں سے متعلق لوگوں کی آگاہی بڑھاتے ہیں۔ گذشتہ سال دی ایکالوجی پروجیکٹ نامی ادارے نے ان فوٹوگرافرز کی فہرست جاری کی تھی جو اپنی تصاویر کی مدد سے ’سماج میں مثبت سوچ کو فروغ‘ دیتے ہیں۔

    ڈاکٹر تھومس کے مطابق صرف وائلڈ لائف کی تصاویر دیکھ کر لوگوں پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، خاص کر اِن وقتوں میں۔

  • کیا خچر،گدھے اورجنگلی گھوڑے اپنی پیاس بجھانے کے لئے کنویں کھودتے ہیں ؟

    کیا خچر،گدھے اورجنگلی گھوڑے اپنی پیاس بجھانے کے لئے کنویں کھودتے ہیں ؟

    سائنسدانوں نے گدھوں، خچروں اور جنگلی گھوڑوں کے متعلق انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے کنویں کھودتے ہیں بعد ازاں اس کا پانی دیگر جانور وں کے پینے کے کام آتا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آرہس یونیورسٹی، ڈنمارک ایرک لیونڈ گرن اور ان کے ساتھیوں نے ایریزونا کے سونورن ریگستان میں چار چشموں کا بغور مشاہدہ کیا ہے اگرچہ یہ چشمے زمین سے پھوٹتے ہیں لیکن جلد ہی خشک ہوجاتے ہیں-

    سائنسدانوں کی ٹیم نے 2015،2016 اور2018 کے موسمِ گرما میں کئی بار ان چشموں کو جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس علاقے کے گدھے اور گھوڑے زمینی پانی نکالنے کے لیے کنویں کھودتے ہیں۔

    ایرک کے مطابق یہ بہت گرم اور خشک ریگستان ہے اور کئی جادوئی جگہیں ایسی ہیں جہاں آپ تازہ پانی دیکھ سکتے ہیں گھوڑے اور گدھے دو میٹر گہرائی تک گڑھا کھودتے ہیں جسے کنواں کہا جاسکتا ہےتحقیقی ٹیم نے ان جانوروں کے کنووں پر 59 اقسام کے فقاریئے جانوروں کو دیکھا جن میں سے 57 ان کنووں کا پانی پی رہے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں کنویں عام تھے وہاں دیگر بنجر علاقوں کے مقابلے میں 51 زائد اقسام کے جانور دیکھے گئے جو عین اسی عرصے میں دونوں جگہوں پر ریکارڈ ہوئے۔

    اس طرح جانوروں میں ہرن، گلہریاں، عام بٹیر، سیاہ ریچھ اور دیگر جانور شامل تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کے یہ وسائل کس طرح اور کتنی اقسام کے جانوروں نے استعمال کئے۔ پھران کنووں کو پودوں کی افزائش کا اہم وسیلہ بھی قرار دیا گیا ہے جن میں پیپل، شاہِ بلوط اور دیگر اقسام کے مفید درخت شامل ہیں۔ اس طرح گدھے اور گھوڑے ایک ریگستان کو سبز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے  محققین

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

    محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

    ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

    ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

    ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


    فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

    محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

    ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

    محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

    محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

    معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

    اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

    عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

    اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

    پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

    اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔

  • ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ورجینیا: ہمارے سمندروں کو کئی عارضے لاحق ہوچکے ہیں تاہم اب ان سمندروں کو محفوظ کرنےا کا ایک عالمی منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 80 لاکھ مربع کلومیٹر سمندری علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی منصوبہ شروع کیا گیا ہے جسے ’بلیو نیچر الائنس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    بلیو نیچر الائنس میں کئی ادارے اور فلاحی تنظیمیں ہیں جو مل کر پانچ برس تک اس منصوبے پر کام کریں گی۔ ابتدا میں اہم نوعیت کے تین بحری مقامات یعنی فجی کے قریب واقع لاؤ سی اسکیپ، انٹارکٹیکا میں سدرن اوشن اور جنوبی بحرِ اٹلانٹک میں ٹرسٹان ڈی کنہا کے تحفظ اور بحالی پر کام کیا جائے گا۔
    https://twitter.com/nature/status/1383061640451604483?s=20
    بلیو نیچر الائنس میں شامل اوشن یونائٹ نامی تنظیم کی سربراہ کیرن سیک کہتی ہیں کہ ہمارے سمندر بحران کے شکار ہیں اور ان کی نوعیت بہت پیچیدہ ہے۔ عالمی منصوبے کے تحت بحری نوعیت کے اہم علاقوں کے تحفظ اور فطری مقامات کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس دوران مقامی آبادیوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔

    سائنسداں متفق ہیں کہ اگر ہمارے سمندر تندرست اور صاف رہتے ہیں تو انسان کی بقا بھی انہی سے وابستہ ہے۔ آلودگی اور پلاسٹک کا کچرا تیزی سے سمندر میں پھیل رہا ہے اور اب جانوروں کی بڑی تعداد کو ہلاک کررہا ہے۔

    ہم انسان ہر سال640,000 ٹن کچرا اور پلاسٹک سمندر میں ڈال رہے ہیں۔ ان میں ماہی گیری کے پرانے جال بھی ہیں جن میں وہیل سے لے کر کچھوے تک پھنس کر مر رہے ہیں۔

    سمندر ہمیں غذا اور دنیا کی نصف آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ پھرعالمی حدت اور کلائمٹ چینج سے سمندروں کی تپش بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب کورل ریف اور مرجانی چٹانیں تباہ ہورہی ہیں جو اکثر سمندری حیات کی نرسریاں اور گھر ہوتی ہیں۔ پھر پوری دنیا میں بحری سطح بلند ہورہی ہے اور سمندر کی لہریں ساحلوں کو کاٹ رہی ہیں۔

    معاہدے کے تحت فوری طور پر سمندری اور ساحلی علاقوں کا اہم ترین 30 فیصد حصہ بچایا جائے گا اور اس میں اقوامِ متحدہ کی تائید ومدد بھی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ بحری تحفظ والے علاقوں (مرین پروٹیکٹڈ ایریاز) یا ایم پی اے میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور مناسب وسائل خرچ کیے جائیں گے۔

    اگرچہ 2020ء تک دس فیصد عالمی سمندر کو محفوظ کرنا تھا لیکن یہ ہدف 7.65 ہی حاصل ہوسکا ۔ تاہم 1985ء سے تحفظ شدہ بحری علاقوں کی تعداد 430 سے بڑھ کر اب 18500 ہوچکی ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔

    لیکن اب بھی بہت بڑے ایم پی ایز علاقوں میں ماہی گیری، کان کنی اور ڈرلنگ وغیرہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے اس مشقت کے باوجود سمندری علاقوں کو تحفظ شدہ علاقے قرار دینے کی اسکیم پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان علاقوں میں مرجانی چٹانیں تیزابیت اور تباہی کی شکار ہورہی ہیں۔

    دوسری جانب اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ سمندری مسکن اور علاقوں کو بچانے سے نازک بحری حیات کا بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور وہاں نایاب جانوروں کی نسل خیزی کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے تاہم بلیو نیچر الائنس کے اس اقدام کو دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات نے مجموعی طور پرسراہا ہے۔

  • ایک ساتھ 30 سے زائد خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر لوٹنے والا جعلساز گرفتار

    ایک ساتھ 30 سے زائد خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر لوٹنے والا جعلساز گرفتار

    ٹوکیو: جاپانی پولیس نے گزشتہ دنوں ایک ہی وقت میں 35 الگ الگ خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر قیمتی تحفے بٹورنے والے شخص کو گرفتار کیا ہے-

    باغی ٹی وی :’سورا نیوز 24‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جاپان کے علاقے کنسائی کا 39 سالہ رہائشی تاکاشی میاگی پچھلے دو سال سے خواتین کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ان سے قیمتی تحفے تحائف بٹور رہا تھا۔

    مبینہ طور پر اس نے اپنی کارروائیوں کا سلسلہ تب شروع کیا جب وہ غسل خانے اور شاور سے متعلق مصنوعات بنانے والی ایک کمپنی کی مختلف چیزیں گھر گھر جا کر فروخت کیا کرتا تھا جو عام طور پر خواتین کےلیے ہوتی تھیں۔

    اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاکاشی میاگی نے خاص طور پر ادھیڑ عمر خواتین کو دوست بنانا شروع کیا، جن میں سے بیشتر یا تو غیر شادی شدہ تھیں یا پھر اُن کی ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ گھلی ہوئی تھی۔

    تاکاشی میاگی نے ان میں سے ہر خاتون کو یقین دلایا کہ وہ اس سے پوری طرح مخلص اور سچا دوست ہے ان خواتین کی عمریں 40 سے 47 سال تک بتائی گئی ہیں جبکہ جاپانی پولیس کے مطابق ان خواتین کی تعداد کم از کم 35 ہے۔

    میاگی نے ان میں سے ہر خاتون کو اپنی مختلف تاریخِ پیدائش بتائی اور اپنی سالگرہ کے بہانے ان سے قیمتی تحفے تحائف لیتا رہا۔

    پولیس کے مطابق، وہ ان تمام عورتوں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ ین (ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) مالیت کے تحائف لے چکا ہے جن میں میں تقریباً 30 ہزار ین جتنی مالیت کا ایک قیمتی سوٹ بھی شامل ہے۔

    دلچسپی کی بات یہ ہے کہ میاگی کو پکڑوانے کےلیے اس کی جھوٹی محبت کا نشانہ بننے والی خواتین نے پولیس کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی کیونکہ وہ اس فراڈیئے سے واقف ہوچکی تھیں اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہتی تھیں۔

    فی الحال جاپانی پولیس میاگی سے تفتیش کررہی ہے تاکہ مزید خواتین کے بارے میں جان سکے جنہیں وہ اپنی محبت کے جال میں پھانس کر تحفے بٹور چکا ہے۔
    https://youtu.be/-UAmRRnfC8U

  • کیا ڈولفن میں بھی خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے منفی جذبات رکھتی ہیں؟

    کیا ڈولفن میں بھی خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے منفی جذبات رکھتی ہیں؟

    آسٹریلیا: مطلب پرستی، بغض اور خودغرضی صرف ہم انسانوں تک ہی محدود نہیں پہلے یہ منفی جذبات، پرائمیٹس میں دریافت ہوئےاور اب سمندر کی ہمیشہ ہنستی مسکراتی ذہین ترین مخلوق ڈولفن میں بھی اس رویے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق مغربی آسٹریلیا میں شارک بے کے مقام پر سائنسدانوں نے بعض تجربات کے بعد کہا ہے کہ یہ سمندری ممالیہ بھی آپس میں بغض و عداوت رکھتے ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق بوٹل نوز ڈولفن کے نر اپنے انہی ’ساتھیوں‘ کی پکار پر توجہ دیتے ہیں جو ماضی میں انہیں بچانے یا مدد کے لئے آئے ہوں جبکہ مدد نہ کرنے والے ڈولفن گروہ کی پکار پر وہ کان نہیں دھرتے اور نظرانداز کردیتےہیں۔

    برسٹل یونیوررسٹی نے اسے’اتحادی نیٹ ورک‘ قرار دیا ہے جو نر ڈولفن کے درمیان قائم ہوتا ہے عین سماجی رویے کی طرح ڈولفن کے غول ملکر شکار کرتے ہیں یا پھر مل کر ایک دوسرے کی شکاریوں سے حفاظت کرتے ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ اسٹیفنی کنگ کہتی ہیں کہ ڈولفن سماجی جانوروں کی طرح اپنی ہم انواع میں تعلقات کی درجہ بندی کرتے ہیں عین اسی طرح ہم بھی اپنے ہم جنسوں کی ایسے ہی درجہ بندی کرتے رہتے ہیں ’انسانوں سے ہٹ کر بوٹل نوز ڈولفن میں اتحاد اور تعاون کا بہت پیچیدہ نظام ہوا ہے جسے ہم سمجھنا چاہتے تھے-

    اسٹیفنی کنگ نے مزید بتایا کہ ڈولفن یاد رکھتی ہیں کہ کس نے ان کی مدد کی تھی اور اس کے جواب میں انہیں کس کے کام آنا ہے پھر اپنی مخصوص سیٹی نما پکار سے یہ ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں کیونکہ ہر ڈولفن کی مخصوص آواز زندگی بھر یکساں رہتی ہیں اسی لیے مشکل میں ڈولفن کا ایک گروہ دوسروں کو بلاتا ہے۔