Baaghi TV

Category: متفرق

  • واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار    دبئی پولیس

    واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار دبئی پولیس

    دبئی: بھکاریوں کے خلاف تازہ کارروائی میں دبئی پولیس نے واٹس ایپ کے ذریعے اپنی دکھ بھری داستان سنا کر بھیک مانگنے والا بھکاری گرفتار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :د بئی پولیس کے مطابق انہوں نے ایک عرب ’سائبر بھکاری‘ گرفتار کیا ہے جو مقامی واٹس ایپ صارفین کے نمبر حاصل کرکے انہیں اپنی دکھ بھری داستان لکھ بھیجتا تھا اور ’اللہ کے نام پر‘ مالی امداد مانگتا تھا۔


    اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں دبئی پولیس نے عوام کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ درد بھری کہانیاں سنانے والے بھکاریوں کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ یہ جعلساز ہوتے ہیں اور ان کا واحد مقصد عام لوگوں کو بے وقوف بنا کر رقم اینٹھنا ہوتا ہے۔

    ٹویٹ میں ’سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بھکاریوں‘ سے متعلق بتایا گیا کہ جو رمضان کے مقدس مہینے میں زکوۃ، صدقات و خیرات سمیٹنے کےلیے سرگرم ہوگئے ہیں اور منظم گروہوں کی شکل میں کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق، وہاں بھیک مانگنے والوں، بھیک منگوانے والوں اور بھیک منگوانے کی غرض سے مقامی یا غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے والوں کےلیے سخت سزا کے علاوہ ان پر ایک لاکھ درہم جرمانہ بھی کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستان کی ارب پتی شخصیت اور کامیاب انٹرپرینیور آزاد چائے والا نے منفرد ویب سائٹ متعارف کراکر ایک بار پھر سب کو حیران کردیا ہے

    باغی ٹی وی : جی ہاں پاکستانی نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ اور دیگر ہنر فراہم کرنے والی مشہور شخصیت آزاد چائے والا نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی۔

    آزاد چائے والا نے اس بار ایک منفرد اورحیران کن ویب سائٹ سیکنڈ وائف ڈاٹ کام (Secondwife.com) متعارف کروائی گئی ہے، ویب سائٹ مسلمانوں کو ازدواجی خدمات فراہم کرے گی اور اس کے ذریعے مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسری ،تیسری اور چوتھی شادی کرسکیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ متعارف کرانے کا مقصد ایسی خواتین کی مدد کرنا ہے جن کو شوہروں کی تلاش ہے اور انہیں ایسے مردوں سے رابطے میں لانا ہے جو دوسری، تیسری یا چوتھی بیوی کی تلاش میں ہیں۔

    آزاد چائے والا نے مزید کہا کہ ہم نے اس پراجیکٹ پر بہت سا پیسہ اور وقت خرچ کیا ہے اور اس کی کامیابی پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس قبل آزاد چائے والا اپنی ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ وہ شادی کے موضوع پر ایک ویب سائٹ پر کام کر ہے ہیں جس میں gomarry.com انگلش لوگوں کے لئے اور Secondwife.com مسلمانوں کے لئے ہے-

    کروڑ پتی آزاد چائے والا نے بتایا تھا کہ ایک عرصہ آزاد کشمیر میں ٹافیاں بھی بیچی ہیں بارہ سال کی عمر میں انہوں نے بھمبر میں ستاون روپے کی ٹافیاں خریدی اور لوگوں کو بیچی، کچھ عرصہ یہ کام چلا لیکن پھر والد کے کہنے پر انکو یہ کام بند کرنا پڑا انکے مطابق انہوں نے 53 روپے سے شروع ہونے والے کاروبار سے کچھ ہی دنوں میں اپنی والدہ کو تقریباً بائیس سو روپے کما کے دئیے-

    انکا کہنا تھا کہ پندرہ سال کی عمر میں گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے انگلینڈ جانا پڑا وہاں اکیس سال کی عمر تک قریب چھ سال ریڑھی لگائی، بطور سیلز مین کام کیا اور مختلف چھوٹے موٹے کام کئے انکا کہنا تھا کہ اس سارے عرصے میں نے آئی ٹی کا کام جاری رکھا اور پھر بائیس سال کی عمر میں اپنا پہلا گیمنگ پروجیکٹ مکمل کر لیا-

    آزاد نے بتایا کہ گیم بنانا انکی زندگی کا بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھے اسکے بعد میں دبئی چلا گیا اور کئی اور آئی ٹی پروجیکٹ لانچ کئے آزاد نے مزید بتایا کہ آئی ٹی سے کمانے کے بعد میں نے دبئی اور برطانیہ میں ریل اسٹیٹ میں انویسٹ کیا اور آج یہ پراپرٹیز بھی کروڑوں میں ہے-

    آزاد چائے والا نے نو جوانوں کو پیغام دیا کہ ڈگری کریں مگر ہنر سیکھیں، شروع میں نوکری کریں لیکن اپنا چھوٹا موٹا کاروبار ضرور کریں زندگی میں معاشی کامیابی کا گر کاروبار ہی ہے

  • ائیر کنڈیشنرٹیکنالوجی کی چھٹی: گرمیوں میں گھرکو ٹھنڈا رکھنے والا ‏انتہائی سفید روغن دریافت

    ائیر کنڈیشنرٹیکنالوجی کی چھٹی: گرمیوں میں گھرکو ٹھنڈا رکھنے والا ‏انتہائی سفید روغن دریافت

    انجینئرز نے گرمیوں میں گھروں کی تپش سے چھٹکارا پانے کا سستا طریقہ ڈھونڈ نکالا، دنیا کا ‏انتہائی سفید روغن دریافت کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی :سائنس الرٹ کی رپورٹ کے مطابق سفید ترین روغن ( وائٹیسٹ پینٹ) سے حدت کم ہو جائے گی اور ایئرکنڈیشن ٹیکنالوجی کی ‏ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اگرچہ الٹرا بلیک میٹریل آج کل 99.9 فیصد سورج کی روشنی کو جذب کرسکتا ہے ، لیکن یہ نیا سپر سفید کوٹ اس میں آنے والے تمام فوٹون میں سے 95.5 فیصد کی عکاسی کرسکتا ہے۔

    انتہائی سفید روغن 98 فیصد سے بھی زائد سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ‏ہے۔ یہ تناسب بازار سے ملنے والے روغن کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ کارگر ثابت ہو گا۔

    براہ راست روشنی میں گرم ہونے کے بجائے ، اس نئے ایکریلک مادے سے پینٹ کی گئی اشیاء سورج کے نیچے بھی اپنے آس پاس کے درجہ حرارت سے ٹھنڈا رہ سکتی ہیں ، جس سے گھروں کے اندر درجہ حرارت پر قابو پانے کے لئے ایک نئی توانائی سے موثر طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

    دیگر "حرارت کو مسترد کرنے والے پینٹ” ہمارے پاس فی الحال صرف 80 سے 90 فیصد سورج کی روشنی کی عکاسی کر سکتے ہیں اور وہ ماحول سے کم درجہ حرارت حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔

    اس روغن میں بیریم سلفیٹ نامی کیمیائی مرکب شامل کیا گیا ہے جو کہ حدت کو کم کرتا ہے جو ‏گھر کو گرمی سے بچانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

    اس نئی دریافت کے انڈیانا میں بورڈو یونیورسٹی کے انجینئرز نے تیار کیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ‏اس کے استعمال سے ایئرکنڈیشن کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔یہ ریڈی ایٹو کولنگ کے وسیع پیمانے پر استعمال اور عالمی حرارت کی گرمی کے اثر کو ختم کرنے کے لئے اہم ہے۔

    1970 کی دہائی سے ، سائنس دان یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس طرح سورج کی روشنی کی عکاسی کی جاسکے لہذا غیر فعال کولنگ ایک فعال ائیر کنڈیشنر سے زیادہ موثر ہے حال ہی میں ، کچھ نے یہاں تک کہ ‘ریورس سولر پینلز’ بھی اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے ، جو رات کے وقت بھی ، ہیٹ جذب کر کے اسے توانائی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

    لیکن یہ ابھی تک صرف تصورات ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس طرح کے آلات محض نقالی سے باہر کام کرسکتے ہیں کم از کم مستقبل قریب میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو سپر وائٹ میں پینٹ کرنا زیادہ ممکنہ نقطہ نظر ہوسکتا ہے ،

    دو دن تک مختلف مقامات پر اور مختلف موسمی حالات کے تحت فیلڈ ٹیسٹ کے دوران ، محققین نے پینٹ کی شعاعی ٹھنڈک صلاحیتوں کا تجربہ کیا اور معلوم کیا کہ یہ رات کے وقت محیط درجہ حرارت سے 10 ڈگری سینٹی میٹر اور محیط درجہ حرارت سے کم سے کم 1.7 ڈگری سینٹی میٹر تک ،دوپہر میں سورج کی روشنی کا 95.5 فیصد جذب کر سکتا ہے-

    حادثات سے بچانے والی اینڈرائیڈ ایپلیکیشن

    50 ہزار روپے قیمت رکھنے والاجدید ٹیکنالوجی سے لیس فیس ماسک

    باسی کھانوں اور جان لیوا اعصابی گیسوں کی منٹوں میں شناخت کرنے والا دستی قلم

  • گزشتہ 143 سال میں جاپان سے دریافت ہونے والا پہلا 200 ملی میٹرلمبا جنگلی کنکھجورا

    گزشتہ 143 سال میں جاپان سے دریافت ہونے والا پہلا 200 ملی میٹرلمبا جنگلی کنکھجورا

    ٹوکیو یونیورسٹی اور ہوسی یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر اوکیناوا اور تائیوان کے جنگلات میں بڑی جسامت والے کنکھجورے کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے-

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’زُوٹیکسا‘ کے حالیہ شمارے میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق کنکھجورے کی یہ نئی نسل پانی کے علاوہ خشکی پر بھی رہ سکتی ہے، یعنی اس کا شمار ’جل تھلیوں‘ (amphibians) قسم کے جانوروں میں ہوتا ہے۔

    اس کا سائنسی نام Scolopendra alcyona ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس کا تعلق بڑی جسامت والے کنکھجوروں کی جنس ’اسکولوپینڈرا‘ (Scolopendra) سے ہے جبکہ اس کی نوع ’ایلسایونا‘ (alcyona) ہے۔

    گزشتہ 143 سال میں یہ جاپان سے دریافت ہونے والا پہلا نیا کنکھجورا ہے جس کی لمبائی 200 ملی میٹر (20 سینٹی میٹر) اور موٹائی 20 ملی میٹر (2 سینٹی میٹر) جتنی ہے اسے جاپان میں ’رایوکو‘ جزائر کے سلسلے میں واقعات جنگلات سے دریافت کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ کنکھجوروں کی جنس ’اسکولوپینڈرا‘ کی اب تک تقریباً 100 انواع دریافت ہوچکی ہیں جن میں سے بیشتر منطقہ حارہ کے جنگلات میں پائی جاتی ہیں اس کے باوجود، اب تک جاپان اور تائیوان کے جنگلات میں ان کنکھجوروں کی صرف پانچ اقسام ہی دریافت ہوسکی ہیں۔

    اسکولوپینڈرا بڑی جسامت کے خطرناک کنکھجورے ہوتے ہیں جو بعض اوقات اپنے سے بڑی جسامت والے جانوروں اور کیڑے مکوڑوں پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

    ان کی بیشتر اقسام بھربھری مٹی میں بل بنا کر رہتی ہیں جبکہ نئی دریافت ہونے والی نوع سمیت، صرف تین اقسام ہی ایسی ہی جو بیک وقت خشکی اور پانی میں رہنے کے قابل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ان کی یہ قسم خطرے سے دوچار ہے ، اور فی الحال جنگل کی نہروں میں آباد ہے جہاں لوگ نہیں جاتے ہیں۔ ٹیم کو امید ہے کہ وہ کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک فاصلے سے ان کی نگرانی اور اس کا مطالعہ جاری رکھے گے۔

  • مصر میں تین ہزار سال قبل ریت میں دبنے والا ’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت

    مصر میں تین ہزار سال قبل ریت میں دبنے والا ’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت

    ماہرین نے تحقیق کے دوران مصر کے ریگستانی علاقے سے 3 ہزار سال پُرانا’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت کرلیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کی ارضیاتی تاریخ کے ماہر زاہی ہواس نے مصری بادشاہوں کی مشہور وادی لکسور کے قریب ریت میں دبا تین ہزار سال قدیم شہر دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مصر کی ماہرین آثار قدیمہ یہ قدیم شہر توتخ عنج آمون کے مقبرے کے بعد ملنے والا سب سے اہم اور تاریخی دریافت ہے ریت میں ہزاروں سال سے دبا یہ شہر ’’توتخ عنک آمون‘‘ کا شہر ہے۔

    اس حوالے سے آثار قدیمہ کے پروفیسر بیٹسی برائن نے بتایا کہ یہ شہر تین ہزار سال قبل ریت میں دب گیا تھا یہاں سے زیورات، رنگوں کے برتن، تصویری اینٹیں اور مٹی کی اشیاء برآمد ہوئی ہیں ان تمام چیزوں پر نویں فرعون آمون ہاٹپ کی مہر ثبت ہیں۔

    مصر میں ​​نوادرات کے سابق وزیر ہواسس نے اس دریافت کو قابل فخر کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے غیر ملکی مشن آئے اور یہاں کھدائی کرکے گمشدہ شہر کی تلاش کی لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

  • ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    لکھنو: ملیح آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے حاجی کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اُگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے پشتینی باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے لیکن’’بدقسمتی سے وہ درخت سیلاب کی نذر ہوگیا،‘‘

    کلیم اللہ خان نے کہا آئندہ تیس سالہ تک آم کی کاشت میں تجربہ اور نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد، 1987 میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے لڑکپن کے ادھورے منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی تاہم اب کی بار انہوں نے اپنے پشتینی باغ میں آم کے ایسے درخت کا انتخاب کیا جو 100 سال پرانا اور بہت بڑا تھا۔

    وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔

    وہ اوسطاً ہر مہینے اس درخت میں ایک نئی قسم کی قلم کا اضافہ کردیتے؛ اور یوں بالآخرمیں تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا، جسے بھارت کی ’’لمکا بُک آف ریکارڈز‘‘ میں بھی درج کرلیا گیا۔

    آج یہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کے سائے تلے 15 افراد بہت آرام سے پکنک منا سکتے ہیں جبکہ اس کی ہزاروں شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    آموں سے اپنے عشق اور آموں کی کاشت میں غیرمعمولی مہارت کی بناء پر حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی‘‘ کا لقب بھی مل چکا ہے۔

    بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ کلیم اللہ خان کا یہ کارنامہ صرف نمائشی ہے جس کا کوئی مالی فائدہ نہیں۔ لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہر چیز کا فائدہ پیسے کے ترازو میں تولا نہیں جانا چاہیے۔

    اس کارنامے پر حاجی کلیم اللہ خان کو بھارتی حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔

  • کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    منی پلانٹ کا نام تو سب نے سنا ہوگا ۔منی پلانٹ سے متعلق کئی باتیں منسوب بھی کی جاتی ہیں منی پلانٹ کا سائنسی زبان میں نباتاتی نام ایپی پرینیم منی پلانٹ کہتے ہیں منی پلانٹ ایک آرائشی، سرسبز، خوبصورت اور سدا بہار بیل ہے یہ پانی میں بھی اگائی جا سکتی ہے اور مٹی میں بھی۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اِس پر نہ کوئی پھل لگتا ہے اور نہ پھول۔ لیکن اگر یہ جنگل میں اگا ہو تو اِس پر بہت دیر بعد پھول لگ جاتے ہیں اور ایسا ہونا بہت نایاب ہے اس کا وطن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ اسے بڑھنے کے لیے گرم مرطوب موسم مون سون پسند ہے۔

    پودوں کو تین بنیادی نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا نائیٹروجن دوسرا پوٹاشیم اور تیسرا فاسفورس۔ نائیٹروجن سے پودے میں ہریالی آتی ہے یعنی پتے وغیرہ بہت اگتے ہیں۔ پوٹاشیم سے جریں شاہیں اور تنہ وغیرہ مضبوط ہوتے ہیں اور شاہیں ذیادہ اگتی ہیں اور فاسفورس سے پھول اور پھل بہت ذیادہ اگتا ہے منی پلانٹ کو کسی بھی خاص کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی آپ اِس کو صرف پانی میں بھی لگا دیں تو یہ پھلتا پھولتا رہے گا۔

    منی پلانٹ کے فوائد:
    منی پلانٹ اپنی خوراک ہوا سے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس گھر میں یہ لگا ہو اُس گھر میں جتنی بھی مضر صحت گیسیں ہوتی ہیں منی پلانٹ اُس کو جزب کر لیتا ہے اوراُن کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے اور گھر کا ماحول بھی تازہ اور خوشگوار رہتا ہے۔ اِس کی ایک اور خاص بات جو دوسرے پودوں سے منفرد ہے وہ یہ کے دوسرے پودے دن میں اپنے اندر سے اوکسیجن باہر نکالتے ہیں اور کاربنڈائی اوکسائیڈ اپنے اندر جزب کرتے ہیں اور رات کو اوکسیجن اور کاربنڈائی اوکسائیڈ دونوں ہی جزب کرتے ہیں۔ لیکن منی پلانٹ دن میں بھی اوکسیجن خارج کرتا ہے اور رات میں بھی اوکسیجن ہی خارج کرتا ہے۔ جس سے گھر کے ماحول میں تازگی رہتی ہے۔

    منی پلانٹ لگانے کا طریقہ:
    منی پلاٹ گملے میں بھی لگا سکتے ہیں اور پانی میں بھی اگر گملے میں لگانا ہے تو گملے میں مٹی بھر لیجیے اور اگر پانی میں لگانا ہے تو کسی بوتل وغیرہ میں پانی بھر لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو منی پلانٹ کی بیل کا ایک چھوٹا ٹکرا چاہیے ہو گا۔ وہ بیل کا چھوٹا ٹکڑا آپ اپنی لوکل نرسری سے بھی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اگر آپ کے آس پاس کسی نے منی پلانٹ لگایا ہوا ہے تو آپ اُن سے بھی بیل کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے سکتے ہیں۔ اُس کی لمبائی کم از کم دو اینچ ہونی چاہیے۔ اب اُس بیل کے ٹکرے پر اگر پتے لگے ہوئے ہیں تو اُن کو اتار لیں صرف سرے پر جو چھوٹے پتے لئے ہوں اُن کو نہ اتاریں۔ اب آپ اِس بیل کو گملے میں لگا لیں اور کسی چھاوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہے۔

    لیکن یاد رہے کہ اِس کو دھوپ میں نہیں رکھنا۔ اسی طرح آپ اِس کو پانی میں بھی لگا سکتے ہیں۔ ایک بوتل لیں اور اُس میں پانی ڈال دیں۔ اِس کے بعد اُس بوتل میں بیل ڈال دیں۔ اور اُس کو کسی چھائوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہو۔ بیل لگانے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر آپ کی بیل کی جڑیں نکل آئیں اور آپ کی بیل بڑھنے شروع ہو جائے گی اور اُس پر نئے پتے بھی لگنے شروع ہو جائیں گے۔

    منی پلانٹ کے بارے میں اختیاطی تدابیر:
    اگر آپ نے پانی میں منی پلانٹ لگایا ہے تو جس بوتل وغیرہ میں بھی آپ نے منی پلانٹ لگایا ہے اُس میں پانی کا لیول برکرار رکھیں یعنی اگر پانی ختم ہو رہا ہو تو اُس بوتل میں دوبارہ پانی بھر دیں اگر گملے میں منی پلانٹ لگایا ہے تو اُس کو روز پانی دیں لیکن یہ یاد رہے کہ پانی گملے میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی گملے میں کھڑا رہا تو آپ منی پلانٹ کی جڑیں گل جائے گئیں اور وہ مرجھا جائے گا منی پلانٹ کی بیل اور پتے بہت بد ذائقہ ہوتے ہیں۔ اِس لیے کبھی غلطی سے بھی اُن کو نہ چکھیں۔

    منی پلانٹ کے بارے میں مفروضات:
    نام کی مناسبت سے یہ خیال بھی عام ہے کہ منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے تاہم پودے بیچنے والوں کی نظر میں منی پلانٹ لگا کر امیر ہوجانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں البتہ کہا جاتا ہے کہ صحت بڑی دولت ہے تواس لحاظ سے دیکھا جائے تومنی پلانٹ واقعی بڑا دولت بخش پودا ہے ۔ گھر کے ماحول میں چوبیس گھنٹے وافر آکسیجن سے گھر بھر تروتازہ اورہشاش بشاش رہتا ہے۔

  • پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    چند روز قبل پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں مردہ جیلی فش نظر آنے لگیں۔

    باغی ٹی وی :ایک فٹ سے لے کر نصف فٹ چوڑی اور کلو سے ڈیڑھ کلو وزنی یہ سمندری حیات سمندری لہروں کے ساتھ تیرتی ہوئی کراچی کے سی ویو سے لے کر بلوچستان کے اوڑماڑہ ساحل تک دیکھی گئیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیلی فش آخر آئی کہاں سے اور ان کا ساحلوں پر اس طرح نمودار ہونے کا کیا مطلب ہے؟

    اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون معظم خان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں جیلی فش کی تعداد بڑھی تو ماہی گیروں نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کیا اور اس کی ہارویسٹنگ کا آغاز ہو گیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے نمک اور پھٹکڑی لگا کر چین برآمد کیا جاتا ہے برآمد ہونے والی جیلی فش کی دو اقسام ہیں ایک کو ‘اصلی’ اور ایک کو ‘جنگلی’ کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں کویوڈ کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے اور کویوڈ کے بعد انھوں نے برآمدات پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں اس لیے پاکستان سے وہاں جیلی فش جا نہیں رہی یا کم جا رہی ہے اس لیے اس موسم میں ماہی گیروں نے اس کی ہارویسٹنگ نہیں کی اور یہ مردہ حالت میں ساحلوں تک پہنچ گئیں۔

    معظم خان کے مطابق پاکستان میں جیلی فش کی پچاس سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جو سندھ کی کریکس سے لے کر بلوچستان کی کلمت تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں اس طرح سمندر میں جیلی فش کا بلوم آتا ہے جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔15 سال پہلے تک یہ اس تعداد میں نہیں ملتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تغیر ہے۔

    ان کے مطابق اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مچھلی کا شکار اور وہ سمندری حیات جو جیلی فش کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کی تعداد میں کمی بھی جیلی فش کی تعداد میں اضافے کے ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر ماہی گیر جال لگا کر بھی مچھلیاں پکڑتے ہیں سی ویو پر بھی ایک درجن کے قریب ماہی گیر ایک طویل جال سمندر میں لے گئے اور وہاں سے کھینچ کر کنارے تک لائے اور اس میں سے جیلی فش نکال نکال کر ساحل پر پھینکتے رہے۔

    ایک ماہی گیر آفتاب نے بتایا کہ مارچ سے لے کر مئی، جون تک جیسے جیسے پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور یہ گرم ہوتا ہے یہ جیلی فش ساحل کی طرف آتی ہیں

    آفتاب نے بتایا کہ عام دنوں میں جال میں مچھلی زیادہ آتی ہے لیکن ان دنوں میں جیلی فش بھی آ جاتی ہے، پہلے یہ جیلی فش چین خرید لیتا تھا ابھی ان کا بھاؤ نہیں اس لیے ہم اس کو پکڑ کر باہر پھنیک دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب چین والوں کو جیلی فش کی طلب ہوئی تو ماہی گیروں نے مچھلی چھوڑ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا اور ساحل پر جال لگا کر مچھلی پکڑنے والوں سے لے کر کشتی والے ماہی گیروں تک بس اس کا شکار کرتے رہے لیکن آج کل اسے کوئی نہیں خریدتا۔

    کراچی یونیورسٹی کے شعبے میرین سائنس کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ قادری کا کہنا ہے کہ جیلی فش میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں Eutrophication یعنی پانی میں معدنیات اور نشوونما کے اجزا شامل ہو جانا، سیوریج سمندر میں جانے سے سمندری نباتات بڑھنا، اس کے علاوہ انسانی سرگرمیاں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

    ’اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو جیلی فش کی تعداد معمول پر آ سکتی ہے۔‘

  • پینٹ شرٹ پہننے والے ہاتھی کے سوشل میڈیا پر چرچے

    پینٹ شرٹ پہننے والے ہاتھی کے سوشل میڈیا پر چرچے

    آپ نے چھوٹے پالتو جانوروں جیسے بلی، کتا یا بکریوں کو تو کپڑے پہنے دیکھا ہو گا لیکن کیا آپ نے کبھی ہاتھی کو پینٹ شرٹ پہنے دیکھا ہے؟اگر نہیں تو آج ہم آپ کو خشکی کے سب سے بڑے جانور کو پینٹ شرٹ میں دکھائیں گے۔

    باغی ٹی وی :بھارت کے ارب پتی تاجر آنند مہندرا کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہاتھی کی پینٹ شرٹ پہنے ایک تصویر شیئر کی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔


    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہاتھی نے جامنی رنگ کی شرٹ اور سفید رنگ کی پینٹ پہن رکھی ہے لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ ہاتھی نے بیلٹ بھی باندھ رکھا ہے جب کہ مہاوت (ہاتھی کے نگہبان) نے لنگی پہن رکھی ہے۔

    ہاتھی کی پینٹ شرٹ والی تصویر کو صارفین کی جانب سے جہاں بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے وہیں اس پر دلچسپ تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔

  • آپ دیکھنے کے خواہشمند ہیں کہ آپکے دنیا چھوڑ جانے والے عزیز و اقارب حرکت کرتے کیسے نظر آتے تھے؟

    آپ دیکھنے کے خواہشمند ہیں کہ آپکے دنیا چھوڑ جانے والے عزیز و اقارب حرکت کرتے کیسے نظر آتے تھے؟

    تو مائی ہیراٹیج نامی ویب سروس کمپنی کی جانب سے متعارف کردہ ڈیپ نوسٹالجیا ٹیکنالوجی نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس میں آپ دیکھ سکیں گے آپ کے دنیا چھوڑ جانے والے عزیز و اقارب حرکت کرتے کیسے نظر آتے تھے-

    باغی ٹی وی : مائی ہیراٹیج نامی ویب سروس کمپنی کی جانب سے متعارف کردہ ڈیپ نوسٹالجیا ٹیکنالوجی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر پرانی تصویریں بھی حرکت کرتی خاصی وائرل ہورہی ہیں۔

    حال ہی میں متعارف کروائی گئی ڈیپ نوسٹالجیا ٹیکنالوجی کے لیے اے آئی(آرٹیفیشل انٹیلیجنس) استعمال کی گئی ہے جس کے تحت وہ سسٹم پر اپ لوڈ کی جانے والی تصویروں کو خود بخود متحرک کردیتی ہے۔


    آسان اور فری ٹرائل کے باعث نئی ٹیکنالوجی ٹوئٹر پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جہاں صارفین اپنی پرانی خاندانی، اہم شخصیات حتیٰ کہ ڈرائنگ اور السٹریشن کا بھی اینیمیٹڈ ورژن اپلوڈ کررہے ہیں۔


    کئی صارفین کی جانب سے ڈیپ نوسٹالجیا کے فیچرکو ایک جادو قرار دیا جارہا ہے جب کہ کچھ صارفین اسے خوفزدہ قرار دیتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں۔


    https://twitter.com/sheppeyescapee/status/1366031504653090816?s=20


    ایک صارف نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ’جعلی ویڈیوز واقعی میں 2020 میں ہونے والی پریشان کن چیزوں میں سے ایک ہے۔ٹیکنالوجی میں تیزی سے بہتری آرہی ہے اور ہمیں اس کے غلط استعمال اور جعلی خبروں کو روکنے کے لیے قوانین اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔‘


    ایک صارف نے لکھا کہ ٹیکنالوجی ایک ایسا آلہ ہے جو برے اور اچھے دونوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ڈیف فیک ٹیکنالوجیز غلط معلومات پھیلانے کے لئے مشہور ہیں لیکن یہ دیکھنے میں دلچسپ ہے کہ اسے اچھ .ے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے میرا ورثہ
    نامی ایک ویب سائٹ ، نے حال ہی میں دیپ نسٹالجیا کو جاری کیا ، جو تصاویر میں چہروں کو متحرک کرتا ہے-


    انہوں نے مزید لکھا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی ایک بہت بڑا حفاظتی مسئلہ بن جائے گی۔جھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں اصلی فلم کو ڈیجیٹل انداز میں بدلا جانے سے الگ کرنے کے لئے ہم کسی بھی طرح سے ویڈیو تصدیق نامے کے سامنے آئیں گے۔

    جبکہ کمپنی کا نئی ٹیکنالوجی سے متعلق کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے لاعلم رہنا خاصا مشکل ہے، اس ٹیکنالوجی کا مقصد پرانی یادوں کا ایک طرح سے استعمال ہے جو کہ آپ کے آباؤاجداد کو ایک بار پھر آپ کے سامنے متحرک کردیتاہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ٹام کروز کے ہمشکل کی ٹک ٹاک ویڈیو کے چرچے