Baaghi TV

Category: متفرق

  • نقشہ برائے عوام، ٹریفک پولیس کراچی

    نقشہ برائے عوام، ٹریفک پولیس کراچی

    ازدفتر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ٹریفک کراچی

    مورخہ 13 رجب المرجب 1442 ہجری(26 فروری2021) بوقت 1600 بجے ایک جلوس بسلسلہ ولادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ غفور چیمبر سے نکالا جائے گا جو محفل شاہ خراساں پر اختتام پزیر ہوگا:۔
    جلوس کا روٹ:
    غفور چیمبر ، عبداللہ ہارون روڈ، شارع عراق، زیب النساء اسٹریٹ، آغا خان روڈ، ایم اے جناح روڈ، فادر جیمنس روڈ تا شاہ خراساں۔
    متبادل راستے
    بہادر یار جنگ روڈ استعمال کرنے والے
    گرومندر سولجر بازار نمبر 3 سگنل ، سولجر بازار نمبر 2 سگنل سے آنے والی ٹریفک کو سولجر بازار نمبر 1 سگنل
    کوسٹ گارڈ ، انکل سریا سگنل سے ہوتے ہوئے اپنی منزل کی طرف جا سکتے ہیں۔

    ایم اے جناح روڈ استعمال کرنے والے
    ٹاور ، فریسکو، عید گاہ چوک سے ایم اے جناح روڈ آنے والی ٹریفک کو ڈاکخانہ سے بائیں جانب جوبلی سے نشتر روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ یا تبت سینٹر دائیں جانب ریگل چوک کی طرف جا سکیں گے۔

    عبداللہ ہارون روڈ استعمال کرنے والے
    فوارہ چوک ، زیب النساء مارکیٹ سے آنے والی ٹریفک کو پیراڈائز سگنل سے بائیں جانب پاسپورٹ آفس یا دائیں جانب صدر یا لکی اسٹار کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

    آغا خان سوئم روڈ استعمال کرنے والے
    نشتر روڈ، گارڈن باغیچہ سے آنے والی ٹریفک کو گارڈن چوک سے دائیں جانب ایم اے جناح ، تبت چوک سے بائیں جانب ریگل چوک سے اپنی منزل کی طرف جا سکیں گے۔
    عوام الناس سے گذارش ہے کہ زحمت اور پریشانی سے بچنے کے لیے نیو ایم اے جناح روڈ (صدر دواخانہ سے پی پی چورنگی )۔ نشتر روڈ (گارڈن باغیچہ سے لسبیلہ )اور بہادر یار جنگ روڈ (گرومندر سے سولجر بازار 1 نمبر سگنل سے انکل سریا) کے متبادل راستوں کا انتخاب کریں.

  • باغی بنا مظلوم کی آواز، ملیر کے علاقے چمن کالونی میں پانی کی عدم فراہمی

    باغی بنا مظلوم کی آواز، ملیر کے علاقے چمن کالونی میں پانی کی عدم فراہمی

    کراچی: ملیر کے علاقے کھوکھراپار چمن کالونی یوسی 12 میں گزشتہ 20 روز سے پینے کے پانی سے علاقہ مکین محروم

    ملیر کھوکھراپار چمن کالونی یوسی 12 میں سوریج لائن کی کھدائی کے دوران واٹر بورڈ کی مین لائن کو نقصان پہنچا،
    جس پر علاقہ مکین کی جانب سے واٹر اینڈ سیوریج کے اعلیٰ عہدیداران کو بھی آگاہ کیا گیا
    چند دن بعد واٹر بورڈ کے عملے نے سروے کیا، سروے کے بعد دو جگہ سے متاثر شدہ لائن کو جوڈ دیا گیا،
    جو پانی کی سپلائی بحال ہونے کے بعد پھر متاثر ہوگئی
    واٹر بورڈ کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے
    جس کی وجہ سے سیوریج لائن کا کام متاثر ہونے سے علاقے کی مین سڑک متاثر ہونے سے ٹرانسپورٹ اور کاروبار بھی متاثر ہے رہائشیوں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے.

    گہرے گڑھوں میں پانی جمع ہونے سے چھوٹے بچوں کا گرنے اور کسی بھی حادثے کا بھی خدشہ ہے

    وزیر بلدیات اس پر فوری نوٹس لیں اور کام کو جلد مکمل کروائیں۔

  • ہمارے  بچے  کہاں  غائب   ہوتے ہیں؟

    ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

    ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟
    کبھی یہ سوال ہمارے دل و دماغ میں کیوں نہیں آتا؟

    اگر آتا بھی ہے تو شاید اپنے ہی مسائل میں الجھا ہوا انسان اس کو نظر انداز (ignore) کر دیتا ہے؟

    آج،
    ہم یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

    بچوں کے غائب (missing) ہونے کا آغاز پیدا ہوتے ہی زچگی خانہ ( maternity hospital ) سے ہی شروع ہو جاتا ہے _
    غریب والدین کی غربت و افلاس کا فائدہ اٹھاکر چند ہزار روپے میں بچہ کو خریدا جاتا ہے __
    اس میں عیسائی مشینریز اور بچوں کے کاروبار کرنے والی ٹولیاں ہو تی ہیں _
    جو،
    بہت ہوشیاری اور خاموشی سے گدھ (vulture) کی طرح دواخانوں میں منڈلاتے رہتی ہیں.

    عیسائی طبقہ
    کی آبادی صرف دو فیصد ہے _ جو،
    اپنے یتیم خانوں کو بھرنے کے لئے غریب بچوں کو خریدتے ہیں. _
    اس طرح ،
    ہمارے بچے عیسائی ہوجاتے ہیں.

    بچوں کے غائب ہونے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پورے ملک میں بچوں کو اغواء کرنے والی ٹولیاں گھومتے رہتی ہیں ،
    جو۔۔۔،
    امیر غریب کسی کے بھی بچوں کا اغواء کرتے رہتی ہیں_
    اس میں بھی ہمارے بچوں کی قابل لحاظ تعداد ہوتی ہے _
    اس بارے میں بھی آج تک کسی کو غور کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی.

    کسی بھی سماج (society)کا تقریباً تیس فیصد حصہ نفسیاتی مریضوں ( psychiatric patients ) پر مشتمل ہوتا ہے _
    جس کی غالب اکثریت بغیر کسی علاج کے زندگی گزارتے رہتی ہے.

    یہ نفسیاتی مریض شادی بھی کرتے ہیں.
    بچے بھی پیدا کرتے ہیں _
    پھر یہی بچے ان نفسیاتی مریضوں کے مظالم کا شکار بنتے ہیں.
    نفسیاتی مریض کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہو تا ہے کہ یہ بہت غیر ذمہ دار ہوتے ہیں _
    یہ ملازمت ، نوکری ، تجارت ، محنت مزدوری کسی معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتے _
    بلکہ،
    ان کی بڑی تعداد شراب ، چرس، گانجہ، جوا یا کم از کم بیکاری اور رضاکارانہ بیروزگاری کی عادی ہوتی ہے _

    ایسے گھروں کے بچے باپ کے مظالم کا شکار ہو تے ہیں _

    آخرکار باپ کے مظالم ، غربت و افلاس اور بھوک سے تنگ آکر گھر سے بھاگ جاتے ہیں __

    گھر سے بھاگے ہوئے یہ مظلوم بچے انسانی درندوں اور گدھوں کا شکار ہوجاتے ہیں _

    جو بڑے ہوکر عادی مجرم بن جاتے ہیں.

    حسب روایت،
    ہم حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہو گئے.

    کسی بھی اخبار میں اس کے اسباب پر کوئی ایک تحریر بھی نہیں آئی اور نہ ہی اس کے تدارک پر غور کیا گیا.

    سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنی قوم کے شعور اور ضمیر کو بیدار کرنا ضروری ہے _
    پہلے،
    یہ تو سمجھنا چاہیے کہ ہمارے مسائل کیا ہیں؟
    اور ان کا حل کیا ہے.؟

    ہر شہر ، ٹاؤن اور گاؤں میں مسلم یتیم خانہ ہونا بہت ضروری ہے _
    جہاں یتیم اور بےسہارا غریب بچوں کو پناہ مل سکے _
    ہماری قوم کا کوئی بچہ یتیم اور بے سہارا ہو جائے تو سب سے پہلے اسے سر چھپانے کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہونا انتہائی ضروری ہے __
    جہاں اس کا معصوم بچپن محفوظ اور سلامت رہے.
    ایک یتیم اور بے سہارا بچہ کے لئے کھانے سے بڑھ کر رات کی پرسکون نیند ہوتی ہے_
    جسے فراہم کرنا ملت کی اولین ذمہ داری ہے.

    ہر شہر ، ٹاؤن ، اور گاؤں میں ایسے چھوٹے چھوٹے ہی سہی ادارے ضرور قائم کریں _
    اگر آپ کا بجٹ بہت کم بھی ہوتو مسلہ نہیں ہے.
    بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کریں _
    باقی آپ حسب استطاعت کچھ کریں _
    قوم کے صاحب حیثیت لوگوں سے رجوع ہوں ،
    ہمت کریں،
    معاون اور مددگار مل جائیں گی.
    انشاء اللہ۔۔

    یہ بچے۔۔۔
    جن کا بچپن گدھوں اور بھیڑیوں نے نوچ نوچ کر چھین لیا تھا_
    بڑے ہو کر جیلوں میں ہی زندگی گزار تے ہیں _
    جیل کی زندگی کیا ہوتی ہے _
    سارے مجرم ایک جگہ جمع ہوتے ہیں
    __ چرس ، گانجہ اور بدفعلی جیل کی زندگی کا خلاصہ ہے.

    جس سے عادی مجرم ایسے مانوس ہوجاتے ہیں،
    کہ
    تاحیات جیل ان کا گھر آنگن بن جاتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ جیل میں ہمارا گراف کم ہو،
    تو،
    اس کا حل صرف یہی ہے کہ اپنی قوم کے بچوں سے محبت کرو.
    ان کے معصوم بچپن کا تحفظ کریں __
    ان شاء اللہ۔۔۔۔
    بڑے ہوکر وہ جیل جانے کے بجائے خیر امت کا کردار ادا کریں گے.

    اگر ہم مسلمان باعزت اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں،
    تو کرپشن اور بدعنوانی سے پاک یتیم خانے قائم کرکے اس مسلہ کا حل تلاش کریں.

    قاضی : محمد قاسم اعوان

  • چینی موبائل فون کمپنی انفنکس انتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام

    چینی موبائل فون کمپنی انفنکس انتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام

    مشہور اردو کہاوت ہے اونچی دکان پھیکا پکوان تاہم اب حال ہی میں اس کہاوت کی ایک حقیقی سائیڈ اس وقت سامنے آئی جب پاکستان میں موبائل فون فروخت کرنے والی چینی کمپنی انفنکس موبائل فون نے 35 سے زائد ڈیلرز کو پانچ روزہ مالدیپ کا ٹور دیا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پاکستان میں موبائل فون فروخت کرنے والی چینی کمپنی انفنکس موبائل فون 35 سے زائد ڈیلرز کا پانچ روزہ مالدیپ کا ٹور دیا اس ٹور کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں پانی کی سیر کے علاوہ چینی موبائل فون کمپنی Infinixانتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام بھی کروایا گیا-


    ٹور میں شامل ڈیلرز نے بتایا ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ مردوں کا بیلی ڈانس کرایا گیا ہے اور بیلی ڈانس کے دوران وہ جو گیت بول رہے تھے اگر اس کا ترجمہ کروائیں تو اس کا بھی یقیناً کچھ شاندار ہی مطلب نکلے گا-

  • زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    زمین کا ایک ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلموں نے زمین کی ایک ارب سالہ ارضیاتی تاریخ کو 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمو دیا-

    باغی ٹی وی : ہماری زمین پر ارضیاتی عدسے سے نظر دوڑائیں تو یہ ابلے ہوئے انڈے کی مانند جگہ جگہ سے چٹخی نظر آتی ہے۔ کیونکہ یہاں فالٹ لائنیں ہیں جو خشکی کے بڑے بڑے ٹکروں پر مشتمل ہیں۔ انہیں عرفِ عام میں ٹیکٹونک پلیٹیں کہا جاتا ہے۔ اب ٹیکٹونک پلیٹوں کے مکمل ارتقا کو صرف ایک 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں سمویا گیا ہے –

    ٹیکٹونک ارضیاتی پلیٹیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ان میں ناخن بڑھنے کے رفتار کے تحت اوسط حرکت ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے تمام ٹیکٹونک معلومات کو ایک ہی ویڈیو میں سمودیا ہے جس میں ہرطرح کے حقائق درست ہیں۔ یوں زمین کا ارب سالہ سفر صرف 40 سیکنڈ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    جامعہ سڈنی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم مائیکل ٹیٹلے اور ان کے ساتھیوں نے یہ ویڈیو بنائی ہے اگرچہ یہ پلیٹیں سال میں چند سینٹی میٹر سرکتی ہیں لیکن جب اربوں سال تک انہیں نوٹ کیا جائے تو ان میں غیرمعمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں آج کا انٹارکٹیکا سخت برفیلا ہے اور جب وہ خطِ استوا پر ہوتا تھا تو اس وقت ایک بہت خوبصورت اور تفریحی مقام تھا۔

    اسے سمجھتے ہوئے ہم زمینی موسم، آب و ہوا، ارضیات اور خود ہمارے مستقبل کے بارے مین بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ یہ ویڈیو اب تک دستیاب جدید ارضیاتی ماڈؑل کی بنا پر تیار کی گئی ہے۔

  • امریکی نیوی اہلکار کا 53 سال بعد ملنے والا بٹوہ

    امریکی نیوی اہلکار کا 53 سال بعد ملنے والا بٹوہ

    امریکی نیوی اہلکار کا انٹارکٹیکا میں کھونے والا بٹوہ 53 سال بعد اسے واپس مل گیا۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا کے رہائشی اور سابق نیوی اہلکار91 سالہ پال گریشم کا بٹوہ1960 میں انٹارکٹیکا میں ڈیوٹی کے دوران کھو گیا تھا۔

    وقت گزرنے کے ساتھ پال اپنے بٹوے کو بھول گئے لیکن 53 سال بعد انٹارکٹیکا میں امریکی بیس کی تعمیرِ نو کے دوران پال کا کھویا ہوا بٹوہ ملا جس میں پال کا نیوی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، منی آرڈر کی رسیدیں وغیرہ موجود تھیں۔

    53 سال بعد بٹوہ ملنے پر پال گریشم نے حیرت و خوشی کا اظہار کیا ہے-

  • اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نا کریں

    اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نا کریں

    اولاد اللہ کی نعمت ہے،اسے قتل نہ کریں،چھیپا کے جھولے میں ڈالیں،بے اولادوں کی گود بھریں، خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپاکی اپیل۔۔

    آج کراچی میں ایک نومولود بچے کی نعش ملنے پر خادِم اِنسانیت محمد رمضان چھیپا کااظہار تشویش۔۔۔

    بلدیہ مواچھ گوٹھ پل کے پاس کچھرا کنڈی سے ایک نومولود بچے کی نعش ملنا انسانیت سوز فعل ہے،۔۔۔رمضان چھیپا

    خداکے واسطے،معصوم بچوں کوقتل نہ کریں، نالے اور کچرا کنڈیوں میں پھینک کرانہیں خونخوار درندوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں،۔۔۔رمضان چھیپا

    نومولود بچوں کوکچرا کنڈی اور نالوں میں پھینکنے کے بجائے، انہیں چھیپا سینٹرز پر نصب چھیپا جْھولے میں ڈال دیں،۔۔۔رمضان چھیپا کی اپیل

  • انوکھے اور دلچسپ انداز میں سجائی گئی کار کے سوشل میڈیا پر چرچے

    انوکھے اور دلچسپ انداز میں سجائی گئی کار کے سوشل میڈیا پر چرچے

    سوشل میڈیا پر انوکھے انداز میں سجائی گئی کار کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو اپنی دلچسپ سجاوٹ کے باعث صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی :مشہور کہاوت ہے کہ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تاہم اس بات کی سچائی اور حقیقت کا اندازہ سوشل میڈیا پر وائرل انوکھے طریقے سے سجائی گئی گاڑی کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کو ایک چھوٹے سے فارم ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے اس کو نہ صرف رنگ برنگے پرندوں مختلگ رنگوں کے اسٹیکرز سے سجائی گئی ہے بلکہ اس کے فرنٹ پر پاکستان کا جھنڈا ، کینو ،گائے میزائلز اور انڈوں پر بیٹھی ہوئی مرغی اور دیگر چیزوں کے ڈھانچے بھی آویزاں کئے گئے ہیں-

    جبکہ کار کے ٹائروں کو بھی خوبصورتی کے ساتھ سجایاگیا ہے-

    کار کے مالک کا کہنا ہے کہ ابھی ان کا آدھا شوق پورا ہے اور اس پر 4 لاکھ روپے کا خرچہ آ چکا ہے اور ابھی 4 لاکھ س کے اوپر اور لگے گا تب اس کی سجاوٹ پوری ہو گی-

    کار کے مالک کا مزید کہنا تھا کہ ابھی لوگ اس کی گاڑی کو جاتے جاتے دیکھتے ہیں جب پوری تیار ہو جائے گی تو لوگ کھڑے ہو کر دیکھیں گی-

  • مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

    پاک بحریہ نے علاقائی بحری ہم آہنگی کو فروغ دینے اور دیگر معاملات میں مطابقت کو بڑھا نے کے لیے2007 میں بحری مشقوںکے سلسلے کی میزبانی کا آغاز کیا۔ لفظ ‘امن’ پاکستان کی قومی زبان اردو سے لیا گیا ہے۔ پاک بحریہ کی میزبانی میں اس مشق کے تحت 45 سے زائد ممالک کی بحری افواج کو ایک نعرے "امن کے لئے متحد” کے تحت مدعو کیا جاتا ہے جس کا مقصد کثیرالجہتی دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا اور سمندری اور بحری آپریشنزمیں باہمی تعاون اور ثقافتی روابط کا فروغ ہے۔

    بحر ہند کو مختلف سیکورٹی اور جیو اسٹریٹیجک تبدیلیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ساحلی ریاستوں بشمول پاکستان کو بیشتر چلینجز کا سامنا ہے۔ ان تبدیلیوں سے علاقائی منظر نامے پر متعدد مسائل ابھر رہے ہیں جیساکہ عسکری علاقے (ops enduring freedom)، صومالیہ کے قریب بحری قزاقی، یمن تنازعہ، داعش کا اُبھرنا، ایران – مغربی ممالک اورسعودی عرب کے بدلتے تعلقات، عرب اسپرنگ اور لیوانت میں بد امنی جو علاقائی امن و استحکام کے لئے باعث تشویش ہیں۔ اس کے علاوہ ،غیر روایتی خطرات بحر ہند میں مزید پیچیدہ اور مشکل چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ غیر روایتی خطرات کا دائرہ وسیع اور روایتی خطرات سے وابستہ ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی، غیر قانونی ،غیر مرتب شدہ اور غیر منظم ماہی گیری (IUU)، غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ، بحری قزاقی اور سمندری دہشت گردی شامل ہیں۔
    2007 میں پاک بحریہ کی جانب مشق امن کی میزبانی شروع کی گئی جس کے بعد ہر دو سال میں یہ مشق منعقد کی جاتی ہے۔ اس سلسلے کی ساتویںکثیر المکی مشق2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے امن مشق کئی حصوں اور پروگرامز پر مشتمل ہے۔ سمندری فیر میں آپریشنل اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی اور اس مشق کے ذریعے روایتی اورغیر روایتی خطرات کے خلاف ردعمل ، حکمت عملی ، تکنیک اور طریقہ کار کی تخلیق کے مقاصدکے لیے وی بی ایس ایس(VBSS) ، نیول گن فائر ، بحری قزاقی کا مقابلہ ، اینٹی سب میرین مشق ، مواصلات ، آپریشنز ، یکجا بورڈنگ اور ایئر ڈیفنس کی مشقیں کی جاتی ہیں۔ مشق کے سی فیز میں ، جدید بحری مشقیں شامل ہوں گی جن میں کاو¿نٹر ٹیررازم آپریشنز ، میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز ، اینٹی پائریسی ، سطح آب سے فائرنگ کی مشقیں ، سرچ اینڈ ریسکیو مشقیں اور بین الاقوامی فلیٹ ریویوشامل ہیں۔

    ہاربر فیز میں بین الاقوامی میری ٹائم کانفرنس ، میری ٹائم ٹیرراِزم ڈیمو، پیشہ ورانہ امور پر ٹیبل ٹاپ ڈسکشن اور بندرگاہ میں متعدد ثقافتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دھماکہ خیز مواد کی آرڈیننس ڈسپوزل ٹیم، اسپیشل آپریشن فورسز اور دیگر سمندری یونٹس اس مشق میں جدید ہتھیاروں اور جدید تکنیکی سازوسامان کا ا ستعمال سیکھیں گے۔

    ‘مشق امن’ کے خیال نے متعدد سمندری ممالک کو اپنی طرف راغب کیا جو پرامن باہمی بقاءاور مشترکہ تعاون کے لئے دنیا کے سمندروں کے مشترکہ استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ مشق میں شریک ممالک کی تعداد پنتالیس سے زیادہ ہو گئی تھی جو کہ 2007 میں اٹھایئس ممالک سے شروع ہوئی تھی۔

    امن سیریز کی اب تک چھ مشقیں منعقد ہوچکی ہیں اور ساتویں مشق فروری، 2021 میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس مشق نے نہ صرف پاکستان کے قومی وقار اور عزت میں اضافہ کیا ہے بلکہ پاکستان نیوی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس مشق میں اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ عالمی برادری نے علاقائی امن و سلامتی کے لئے پاکستان کے اقدام کوسراہا ہے۔ مزید یہ کہ ،مشق امن کے شرکاءکی بڑھتی ہوئی تعدادخطے کے ممالک کی جانب سے بحر ہند میں ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھانے کے لیے کی جانے والی پاکستان کی کاوشوں میں تعاون کا عندیہ بھی ہے۔

    مشق امن: علاقائی ہم آہنگی کا مظہر—(بابر علی بھٹی)

  • خوابوں کی تعبیر

    خوابوں کی تعبیر

    مرے ہوئے سانپ

    ساجد : کاہنہ نو لاہور

    خواب :میں اور میری ہونے والی بیوی کھیتوں کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے میں نے وہاں پر نالے میں بیت سارے سانپ دیکھے جو مر چکے تھے لیکن مگرمچھ وغیرہ ہم سے ڈر کر بھاگ گئے ہیں-

    تعبیر:آپ کے خواب کی تعبیر اچھی ہے ان کے اوپر کچھ جادو کے اثرات تھے جو نماز یا ذکر و اذکار کی وجہ سے اور جب ان کی شادی ہوئی اس وجہ سے وہ تمام اثرات زائل ہو گئے جو شیاطین تھے چھوٹے چھوٹے وہ مر گئے یا بھاگ گئے اور مگر مچھ وہ بڑا شیطان تھا جو انہیں اس ان کی طرف لا رہا تھا یہ ان لوگوں سے خلاصی پائیں گے جو ان کو اذیت دینا چاہ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے نجات دے دی ہے-

    پُرانا گھر دیکھنا

    شعیب مسعود:لاہور

    خواب: میں نے دیکھا ہے کہ میں رات کے وقت پرانے گھر میں جاتا ہوں اور ساتھ تمام پرانی چیزوں اور پرانی جگہوں کو دیکھتا ہوں-

    تعبیر: یہ خواب اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے حالات بدتر ہو سکتے ہیں ان پر مصیبتیں آ سکتی ہیں اور پرانے گھر سے مراد قبرستان بھی ہے موت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے پرانے گھر سے ویران گھر بھی مراد ہے حالات کا بگڑ جانا اور خستہ حالی افسردہ حالی اور روزانہ کی بنیاد پر مصیبیتیں آنا شروع ہو جانا مراد ہے کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہونا پڑے گااس کے برعکس اگر نیا گھر دیکھیں تو اس کا مطلب اچھے حالات کی طرف اشارہ ہوگا-

    خواب کی تعبیر جاننے کے لئے اپنا خواب اپنے نام اور شہر کے نام کے ساتھ 03030204604 پر واٹس ایپ کریں-