Baaghi TV

Category: متفرق

  • مصر:سنہری زبانوں والی دو ہزار سال پُرانی حنوط شدہ لاشیں دریافت

    مصر:سنہری زبانوں والی دو ہزار سال پُرانی حنوط شدہ لاشیں دریافت

    مصر کی وزارت آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ماہرین نے ملک کے شمالی حصے میں دو ہزار سال پرانی ایسی حنوط شدہ لاشیں دریافت کی ہیں جن کے جبڑوں کے درمیان سنہری زبان رکھی ہوئی تھیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق مصر اور ڈومینک رپبلک کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم نے اسکندریہ کے شہر کے قریب تاپوسیریس میگنا کے مندر میں سولہ ایسے مقبرے دریافت کئے ہیں جو پتھر کی چٹانیں کاٹ کر بنائے گئے تھے۔

    اس طرح کے مقبرے یونانیوں اور رومیوں کے دورے میں بنائے جاتے تھے ان مقبروں میں سے ایسی مخروط شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جنھیں محفوظ بنانے میں احتیاط نہیں برتی گئی تھی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ مرنے والوں کی زبانوں کی جگہ سونے کا ملمع چڑھا زبان کی شکل کا تعویذ رکھ دیا جاتا تھا تاکہ وہ بعد از مرگ اپنے دیوتا اوسائرس کی عدالت میں بول سکیں قدیم مصر میں اوسائرس مُردوں کو انصاف دینے والا اور زمین کے اندر کا دیوتا تصور کیا جاتا تھا۔

    سانتو ڈیمنگو یونیورسٹی کے رکن اورمذکورہ مقبرے دریافت کرنے والے ماہرین کی ٹیم کے سربراہ کیتھلین مارٹنیز نے بتایا کہ اس دیوتا کا عکس ایک ڈبے پر بھی بنا ہوا تھا جس میں ایک مخروط شدہ لاش رکھی گئی تھی۔

    انہوں نے بتایا کہ اس مخروط شدہ لاش کا سر اس ڈبے میں رکھا ہوا تھا جس پر ایک تاج، سینگھ اور کوبرا سانپ کے عکس بھی بنے ہوئے تھےتابوت کے اوپر بنے نقش و نگار میں ایک ہار کی تصویر بھی شامل تھی جس میں ایک باز یا شاہین کا سر لٹکا ہوا تھا جو کہ دیوتا ہورس کی علامت ہے۔

    اسکندریہ کے آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل خالد ابو الحمد نے کہا کہ تاپوسیریس مگنا میں آثار قدیمہ کی کھدائی میں انھیں ایک خاتون کے جنازوں پر پہنے جانے والے نقاب، آٹھ طلائی پھولوں کی چادر کی سونے کی پتیاں اور سنگ مرمر کی سلیں بھی ملیں جو یونانی اور رومی دور کی ہیں۔

    آثار قدیمہ کی وزارت کا کہنا ہے کہ اس ہی مقبرے سے ایسے سکے بھی ملے تھے جن پر ملکہ کلوپطرہ ہفتم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

    کلوپطرہ ہفتم یونانی زبان بولنے والی پطلیموسی سطلنت کی آخری ملکہ تھیں جو مصر میں 51 قبل از مسیحی سے 30 قبل از مسیح تک قائم رہی۔ کلوپطرہ کی موت کے بعد مصر روم کے دائر اختیار میں چلا گیا۔

  • گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے والا کراچی کا سب سے زائد العمرخاندان

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بننے والا کراچی کا سب سے زائد العمرخاندان

    ڈی کروز فیملی کے نام سے مشہور ایک خاندان کا نام ایک طویل العمرخاندان کے طور پراب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ڈی کروز خاندان کے تمام 12اراکین کراچی میں پیدا ہوئے اور اب ان کی اکثریت مختلف ممالک میں آباد ہے۔ بہن بھائیوں کی اوسط عمر 75 سے 97 برس ہے اور اگر ان کی عمروں کو جمع کیا جائے تو وہ مجموعی طور پر 1042 برس اور 325 دن بنیں گی۔ اس لحاظ سے ان 12 افراد کو مجموعی طور پر سب سے زائد عمر والا خاندان کہا گیا ہے۔

    2018 میں پورا خاندان ایک جگہ جمع ہوا تو سب سے چھوٹی بہن 75 سالہ جینیا نے اپنے ایک بھانجے کی بات د ہرائی جس میں اس نے گنیزبک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت سب غیریقینی انداز میں ہنسے لیکن دو سال بعد 15 دسمبر 2020 کو خود گنیز نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ایک سند سے نوازا۔

    جینیا کے مطابق یہ ایک خوشگوار لمحہ تھا اور تمام بہن بھائیوں کا شمار ملکر ایک ریکارڈ بن گیا ہے۔ ڈی کروز خاندان کے بہن بھائی سوئزرلینڈ، امریکہ ، کینیڈا اور لندن میں رہتے ہیں۔ لیکن اب بھی وہ سال میں تین مرتبہ ضرور ملتے ہیں۔

    تاہم 2020 میں عالمی وبا کے دوران انہوں نے زوم اورآن لائن ملاقاتیں ہی کیں۔ اب ہر روز وہ لند کے وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے زوم کانفرنس میں جمع ہوکر گفتگو کرتےہیں۔

    جینیا جب ڈیڑھ سال کی تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اس طرح 22 برس میں 12 بچوں نے دنیا میں آنکھ کھولی جس کے بعد ان کی والدہ نے تمام بچوں کی پرورش کی اور انہیں پروان چڑھایا۔

    ڈی کروز خاندان کے افراد کی تفصیلات کچھ یوں ہے:

    ڈورین، 3 ستمبر 1923، پیٹرک 30 ستمبر 1925، جینی وی، 4 جولائی 1927، جوائس، 2 مارچ 1929، رونی، 24 اگست 1930، بیرِل، 26 اگست 1932، جو، یکم جون 1934، فرانسیسکا، 17 ستمبر 1936، التھیا، 24 جولائی 1938، ٹیریسا، 9 جون 1940، روزمیری، 30 مارچ 1943، یوجینیا، 24 اکتوبر 1945۔

    ان نو بہنوں اور تین بھائیوں کے والد کا نام مائیکل اور والدہ کا نام سیسیلیا تھا۔

  • پاکستان کا قدیم ترین اور حیرت انگیزجانور جسے ماہرین نے وہیل کا جد امجد قرار دیا

    پاکستان کا قدیم ترین اور حیرت انگیزجانور جسے ماہرین نے وہیل کا جد امجد قرار دیا

    آج سے تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جہاں اٹک و فتح جنگ شہر کے درمیان ”کالا چٹا پہاڑ“ نامی سلسلہ کوہ واقعہ ہے لاکھوں سال قبل ان میں سے بیشتر علاقے سمندر کا حصہ تھے اور یہیں یہ حیرت انگیز جانور گہرے پانیوں میں شکار کیا کرتا تھا۔

    باغی ٹی وی : وہیل کو عام طور پرمچھلی لکھ دیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے کیونکہ وہیل کا شمار دودھ پلانے والے جانوروں یعنی ممالیہ میں ہوتا ہے جبکہ وہیل کے ارتقائی آباؤ اجداد آج سے کروڑوں سال پہلے خشکی پر اُن علاقوں میں رہا کرتے تھے جو آج پاکستان کا حصہ ہیں۔

    آج سے کروڑوں سال پہلے، خشکی پر رہنے والے، وہیل کے یہ آبا و اجداد اپنی جسامت اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے کتوں/ بھیڑیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے جنہیں پاکی سیٹس Pakicetus کہا جاتا ہے-

    یہ ایک گوشت خور شکاری جانور تھا جو کہ لمبوترے جسم، لمبی تھوتھنی، مظبوط جبڑوں اور تیز دانتوں کے ساتھ ساتھ ایک لمبی دم رکھتا تھا۔ بنیادی طور پر یہ خشکی کا جانور تھا لیکن شکار کے لیے اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ پانی میں بھی گزارا کرتا تھا۔

    اس کے لمبے شکل کی جسامت اسے تیرنے اور غوطہ لگانے میں مدد دیتی تھی جیسے کچھ مچھلیاں لمبے جسم کی حامل ہوتی ہیں۔

    ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پاکی سیٹس کی جسمانی لمبائی 7 فٹ تک ہوا کرتی تھی جبکہ اس کے وزن کا اندازہ 50 پاؤنڈ تک لگایا گیا ہے۔

    بنیادی طور پر اس کی خوراک مچھلی اور آبی جانوروں پر مشتمل ہوتی تھی تاہم اس کی خوراک میں کچھ زمینی جانور بھی شامل ہوسکتے تھے۔

    پاکی سیٹس کا پہلا ڈھانچہ سال1981 میں اٹک میں کالا چٹا پہاڑ سے برآمد ہوا تھا۔ یہ جانور ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ایک معمہ تھا کیونکہ اس کا جسم زمینی جانوروں سے ملتا جلتا تھا جبکہ کھوپڑی کسی وہیل جیسی تھی اور اس کے گھٹنے کی ہڈیاں سبزی خور جانوروں سے مشابہہ تھیں۔

    سال2001 میں اس کے مزید ڈھانچے برآمد کیے گئے جو کہ کافی حد تک مکمل تھے۔ طویل تحقیقات کے بعد 2009میں اس جانور کو آج کی وہیل کا جد امجد قرار دیا گیا تاہم اس پر تحقیقات ابھی تک مکمل نہیں ہوئیں-

    کہا جاتا ہے کہ پاکی سیٹس کی معدومی کا اندازہ 4 کروڑ 10 لاکھ سال قبل کا ہے معدومی کی کوئی کنفرم وجوہات کا اندازہ تو نہیں مگر غالب امکان یہی ہے کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں اس کی معدومی کا سبب بنی ہوں گی۔

  • امریکی خاتون نے مسلسل 100 دن ایک ہی لباس کیوں پہنا؟

    امریکی خاتون نے مسلسل 100 دن ایک ہی لباس کیوں پہنا؟

    سارہ رابن کول نامی امریکی خاتون نے دنیا کو بچانے کے لیے ایک ہی لباس مسلسل 100 روز تک پہنے رکھا۔

    باغی ٹی وی : ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن سے تعلق رکھنے والی سارہ رابن کول نامی اس خاتون نے یہ لباس اس لیے اتنا لمبے عرصے تک پہنا کیونکہ وہ کچھ بھی اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتیں۔

    تاہم سوشل میڈیا پر اس لباس کے ساتھ سارہ نے اپنی تصاویر شیئر کیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ ایک لباس کو کبھی پینٹ تو کبھی اسکرٹ کے ساتھ زیب تن کیے ہوئے ہیں۔

    امریکی خاتون کا یہ اقدام 100 روزہ لباس چیلنج کی ایک کڑی تھا جو بدلتے فیشن کے خلاف تھا اور اس کا مقصد کرہ ارض کو محفوظ بنانا ہے۔

    اپنے اس چیلنج کا آغاز انھوں نے گزشتہ سال 16 ستمبر کو کیا تھا، جس کا اختتام کامیابی کے ساتھ 25 دسمبر کو کیا۔

  • خادم حسین رضوی  کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفر ۔از،محمد ناصر اقبال خان،سیکرٹری جنرل ورلڈ کالمسٹ کلب

    خادم حسین رضوی کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفر ۔از،محمد ناصر اقبال خان،سیکرٹری جنرل ورلڈ کالمسٹ کلب

    مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفر ۔از،محمد ناصر اقبال خان،سیکرٹری جنرل ورلڈ کالمسٹ کلب

    جوانسان اپنے محبوب کے” قرب” کیلئے قدم قدم پر” کرب” کاسامناکرے جبکہ محبوب کی آن اور شان کیلئے اپنے ہاتھوں سے اپنی اناکوفنا اورجان قربان کردے اسے اسیر عشق کہاجاسکتا ہے۔سچے” عشق” پرہرکسی کو” رشک” آتا ہے جبکہ راہِ عشق میں” اشک”زمین پرگرتے ہیں لیکن اِن کی آواز” عرش” پرسنی جاتی ہے ۔سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اورحضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سمیت ہر عہدکے سچے عاشق آج بھی قابل رشک ہیں۔راہِ حق میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں لیکن راہِ عشق میں کامرانی یقینی ہے۔معبود برحق اپنی پاک بارگاہ میں اپنے بندوں کے رکوع وسجوداوران کی دعا قبول کرے نہ کرے لیکن اپنے محبوب سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کی بارگاہ میں ان کے درود وسلام کو ضرور مستجاب فرماتا ہے۔بیشک اللہ رب العزت کی منتخب شخصیات کے سواکوئی دین حق کی اشاعت کیلئے کام نہیں کرسکتا ۔کلا م اِقبال ؒکی تاثیر کاکوئی اسیر کسی میدان میں زیرنہیں ہوتا ۔حضرت محمد اقبال ؒ نے اپنے کلام سے سچائی تک رسائی آسان بنادی ۔ کلامِ الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت محمداقبال ؒ اپنے کلام میں ایک بیش قیمت راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
    کی محمد سے وفاتونے توہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

    مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کوکلام الٰہی اورکلام اقبالؒ دونوں ازبر تھے،بابا جی کی طبیعت میں جوسرشاری کی کیفیت تھی اُس میں محمداقبال ؒ کی شاعری کابہت دخل تھا۔عشق ِمصطفی کے اسیر اورتحریک لبیک کے امیر مولاناخادم حسین رضوی شہید ؒ نے انتہائی خلوص ،صادق جذبوں اورمضبوطی کے ساتھ تحریک ختم نبوت اورناموس رسالت کاپرچم اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اوران کی پرجوش قیادت میں شمع رسالت کے پروانے متحداورمستعد ہوتے چلے گئے۔ تحریک ختم نبوت اورناموس رسالت کے پرچم اب کروڑوں ہاتھوں میں ہیںجواب قیامت تک سرنگوں نہیںہوں گے۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ نے مسلمانوں کو ناموس رسالت کا پہرہ دیتے ہوئے سردھڑ کی بازی لگانے اورسودوزیاں سے بے نیاز عشق مصطفی کامفہوم سمجھادیاہے،خادم حسین رضوی شہیدؒ بظاہر "عالم دین” لیکن اندر سے "علم دین” تھے۔جومحبوب کی شان پرجان قربان کرنے سے ہچکچاتا یا ڈرتا ہووہ عشق کادعویٰ نہیں کرسکتا ۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ پاکستانیوںکیلئے عشق مصطفی کااِستعارہ تھے،ان کی شہادت سے قوم یتیم ہوگئی۔ باباجی کے جذبوں کی شدت اورحدت نے بتادیاانہیںشہرت کی بھوک نہیں تھی مگردنیا میں ان کے نام کاڈنکا بجتا تھااوربجتا رہے گا۔محمدعلی جناح ؒ نے اِسلام کی آبیاری کیلئے پاکستان بنایا جبکہ خادم حسین رضوی شہید ؒ ناموس رسالت پرہونیوالے حملے روکنے کیلئے پاکستانیوں کو بیدار کرتے ہوئے خود ابدی نیند سوگئے لیکن ان کے فرض شناس جانشین مولانا سعدرضوی اور کروڑوں پیروکاراب بھی جاگ رہے ہیں ۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ کادل عشاق مصطفی کے ساتھ دھڑکتاتھا۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کے وجود کی برکت سے ہمارامعاشرہ زندہ لگتا تھا ،ان کے بعدمعاشرے کوزندہ رکھنا ایک چیلنج ہوگا۔ مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ سے اظہارمحبت اور ان کے پیروکاروں سے اظہار یکجہتی کیلئے اگرہرکوئی مرحوم کے مشن کواپنامشن بنالے تویقینا بابا جی کی روح کو مزیدراحت نصیب ہو گی اوران کے درجات مزید بلندہوں گے۔ پاکستان میں ہر حکمران اورسیاستدان کانعم البدل ہے مگر خادم حسین رضوی شہیدؒ کاکوئی متبادل نہیں۔سرورکونین حضرت سیّدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کے باوفااورباصفا "خادم "کی کفار کیخلاف حالت جنگ میں شہادت،ایمان افروز نمازہ جنازہ اورقابل رشک تجہیزو تدفین بیشک ناموس رسالت کے ساتھ کمٹمنٹ اورجہدمسلسل کا ثمر ہے ورنہ عہدحاضر کے بڑے بڑے "مخدوم” خاموشی سے دنیا چھوڑ گئے۔جس طرح ناموس رسالت کا پہرہ دیتے ہوئے ملعون رام پال کوجہنم واصل کرنیوالے غازی "علم دین "شہیدؒسے اُس دور کے ہزاروں” عالم دین” پیچھے رہ گئے تھے،اِس طرح "خادم” حسین رضوی شہیدؒ نے اپنی نیت کی برکت سے عشق مصطفی کاامتحان نمایاں پوزیشن کے ساتھ پاس کرلیا جبکہ عہدحاضر کے کئی "مخدوم ” ابھی تک عشق مصطفی کانصاب یادکررہے ہیں ۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کانام ،مقام اوراحترام اِسلامیت ،عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت کیلئے ان کی بے پایاں خدمات کا انعام ہے ۔خادم حسین رضوی شہیدؒ اِسلامیت کے علمبرداراور عشاق مصطفی کاسرمایہ اِفتخار تھے۔ اجل نے خادم حسین رضوی شہیدؒ سے ان کی زندگی چھین کرپاکستان بلکہ عالم اسلام کو ناموس رسالت کے حق میں بلندہونیوالی ایک تواناآواز سے محروم کردیا۔خادم حسین رضوی شہیدؒ نے مرقد میں اترتے اترتے بھی اندرون ملک اوربیرون ملک باطل قوتوں کودوٹوک پیغام دے دیاجس سے یقینا آئندہ کوئی عاقبت نااندیش عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت کے نصاب میں نقب لگانے کی ناپاک جسارت نہیں کرے گا۔جس اقدام سے کوئی انسان بیزارہواسے آزادی اظہارکہناجہالت ہے۔ موت نے مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی زبان اورآنکھوں کوتوبندکردیا مگران کی دنیا سے رخصتی کے بعدبھی ان کاکام بولتا جبکہ "لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم "کانعرہ پاکستان کی فضاﺅں میںگونجتا رہے گا۔باباجی کی زندگی میں لوگ سوشل میڈیا پران کے پرجوش خطابات کو اس قدرعقیدت ومحبت ،دلچسپی اورسنجیدگی کے ساتھ نہیں سنتے تھے جس قدر اب سن رہے ہیں۔ باباجی کی شہادت سے تحریک لبیک کے” کاز” اورناموس رسالت کے حق میں بلندہونیوالی ©”آواز”میں مزیدشدت پیداہوگی ۔سراپارحمت ،سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی صحابی نے پوچھا ،”مومن جب قبر میں داخل ہوتا ہے تواس کوسب سے پہلا تحفہ کیا دیاجاتا ہے ،آپ نے ارشاد فرمایا اس کی نمازجنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے”،میں باباجی کی نمازجنازہ کے خوش نصیب شرکاءکومبارکباد پیش کرتاہوں۔

    پاکستان کے اندراورباہرجومٹھی بھر لوگ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے زبان وبیان سے ناخوش تھے ان کی خدمت میں عرض ہے گستاخانہ خاکے بنانیوالے شرپسندعناصر کے ساتھ شیریں لہجے میں بات چیت منافقت کے زمرے میں آئے گی جبکہ ان کی گستاخیاں مذمت نہیں بلکہ مزاحمت کی متقاضی ہیں۔سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم خوراک اورپوشاک کے معاملے میں سادگی پسند تھے لیکن آپ ہتھیاروں کے معیار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔آپ نے ظہوراِسلام کے ابتدائی ایام میں دین فطرت کی تقویت کیلئے کسی صاحب علم ، سردار یاسرمایہ دار نہیں بلکہ اُس دور کے ایک زورآور” عمر ؓ”کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعا فرمائی جومستجاب ہوئی اوراِسلام کے فیضان سے حضرت عمر ؓ کو”فاروق اعظم "کالقب دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روسے دورِنبوت کے دوران صحابی کفار کومرعوب کرنے کیلئے سینہ تان کر خانہ کعبہ کاطواف کیا کرتے تھے اورآج بھی طواف کے دوران صحابی ؓ کی سنت اداکی جاتی ہے ۔ باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے،”شہدکے سواہر میٹھی چیزمیں زہر جبکہ زہر کے سواہر کڑوی شے میں شفاءہے۔جس طرح بیمار کوشفاءکیلئے دعا کے ساتھ ساتھ کڑوی دوا دی جاتی ہے اس طرح مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ گستاخ کافروں اورپاکستان کے اندرمنافقوں کوکڑوی زبان میں مخاطب کیا کرتے تھے۔

    مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفرجہاں ختم ہواوہاں سے ان کے فرزندمولاناسعد رضوی نے پراعتماد انداز سے اپنے سفر کاآغازکردیا ہے۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے بعد تحریک لبیک کی قیادت ان کے فرزند ارجمندمولاناسعدرضوی کے سواکوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔تحریک لبیک کی قیادت پرسیاست کرنیوالے عناصر بری طرح ناکام ہوں گے ۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کے دوٹوک اعلانات ،ٹھوس اقدامات اور چھوڑے ہوئے نشانات بہت واضح ہیں لہٰذاءاس کارواں کو دنیا کی کوئی طاقت گمراہ نہیں کرسکتی۔ کامیابی وکامرانی مولاناسعد رضوی کامقدربنے گی ۔ مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی ولادت اور شہادت والے دنوں کوقومی دن قراردیا جائے۔ہراسلامی ریاست خادم حسین رضوی شہیدؒ کی عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت کی حفاظت کیلئے گرانقدر خدمات کی پذیرائی کیلئے مختلف مقامات کو ان کے نام سے منسوب جبکہ ہرسال ان کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرے۔میں احمدفراز کی شہرہ آفاق غزل مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی روح کو نذرکرتا ہوں

    ستم کاآشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا
    کہ شام غم توکاٹ لی سحر ہوئی چلا گیا
    ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آگئی
    وہ اک دیا بجھا توسینکڑوں دیے جلا گیا
    سکوت میں بھی اس کے اک ادائے دلنواز تھی
    وہ یارِ کم سخن کئی حکایتیں سنا گیا
    اب اک ہجوم ِعاشقاں ہے ہرطرف رواں دواں
    وہ ایک رہ نورد خودکہ قافلہ بناگیا
    دلوں سے وہ گزرگیا شعاع ِ مہر کی طرح
    گھنے اداس جنگلوں میں راستہ بناگیا
    کبھی کبھی تویوں ہو اہے اس ریاض ِدہر میں
    کہ ایک پھول گلستاں کی آبرو بچاگیا
    شریک بزم دل بھی ہیں چراغ بھی ہیں پھول بھی
    مگر جوجان ِانجمن تھا وہ کہاں چلا گیا
    اٹھو ستم زدو! چلیں ،یہ دکھ کڑا سہی ، مگر
    وہ خوش نصیب ہے یہ زخم جس کوراس آگیا
    یہ آنسوﺅں کے ہار ،خوں بہا نہیں ہیں دوستو
    کہ وہ توجان دے کے قرض ِ دوستاں چکا گیا

  • ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری و موجودہ معاشرتی حالات مثل قوم نوح از قلم: غنی محمود قصوری

    ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری و موجودہ معاشرتی حالات مثل قوم نوح از قلم: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور میں مذہب سے دوری کی بنا پر ہم میں ہر وہ برائی آ گئی ہے جس سے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اور کتاب الٰہی نے منع کیا ہے خاص کر کاروباری حضرات میں ذخیرہ اندوزی اور سرکاری ملازمین میں رشوت خوری جبکہ عام عوام میں دیگر سینکڑوں معاشرتی برائیاں جنم لے چکی ہیں جن سے ہر کوئی فکر مند ہے کسی بھی کاروباری سے حکومتی مقرر کردہ نرخوں پر چیز حاصل کرنا اور سرکاری کام بغیر رشوت کے سر انجام پا جانا ایک عجوبہ ہی لگتا ہے جبکہ مہنگائی بےروزگاری اور امن و امان کی مخدوش صورتحال بھی ایک لمحہ فکر ہے
    یوں تو یہ جرائم بہت پرانے ہیں مگر موجودہ دور میں ان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دن بدن بڑی تیزی سے ہو بھی رہا ہے جس سے ہر خاص و عام سخت پریشان ہے اور مارے مایوسی کے ہر کسی کی زبان پر یہی بات ورد کرتی ہے کہ یہ حالات نہیں سدھر سکتے بلکہ مذید خراب ہونگے جن کا سوچ کر ہی دل خوف زدہ ہو جاتا ہے
    مگر نا امیدی کفر ہے کیونکہ اللہ کے ہاں دیر تو ہوسکتی ہے مگر اندھیر ہرگز نہیں
    فی زمانہ اللہ تعالی نے اقوام کی اصلاح و تربیت کیلئے پیغمبر و رسول بیجھے جو اپنی قوموں کی معاملات دین و دنیا میں اصلاح فرمایا کرتے تھے تاکہ امن و سکون قائم ہو پیغمبروں کی باتیں ماننے والی قومیں کامیاب و کامران ہوئیں اخروی و دنیاوی صورتوں میں
    ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسوہ رسول اور اللہ رب العزت کی طرف سے ہمارے لئے اپنے نبی پر بیجھی گئی کتاب یعنی قرآن مجید کی محتاج ہے چونکہ نبی ذیشان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اس لئے موجودہ حالات کا جائزہ بھی ہمیں قرآن و حدیث سے ہی ملے گا
    اللہ تعالی قرآن مجید میں ایک سرکش قوم کہ جس نے اپنے پیغمبر کی بات کو جھٹلایا اور تکبر و سرکشی،معاشرتی برائیوں میں لتھر کر اور نافذ کردہ حدیں پار کرکے عذاب کی مستحق ٹھہری،قوم نوح کی مثال ہمیں پیش کرتے ہوئے ہم سے یوں مخاطب ہیں
    کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں ، قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات ( الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے ) کی ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ۔۔ سورہ التوبہ آیت 70
    اللہ تعالی ہمیں پہلی سرکش و معاشرتی برائیوں سے عذاب کی مستحق قوموں کی مثالیں پیش کر رہے ہیں یہ قومیں چاہے تباہ ہو چکیں مگر اللہ وہی ہے اور وہ پہلی سی طاقت رکھتا ہے اس لئے اللہ نے قوم نوح کی کارستانی ہم سے بیان کی تاکہ ہم عبرت حاصل کرسکیں اور نافذ کردہ اسلامی حدوں پرعمل پیرا ہو کر اخروی و دنیاوی فلاح پائیں
    نوح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بیجھا یہ قوم انتہائی سرکش اور معاشرتی برائیوں کی عادی تھی نوح علیہ السلام نے ان کو اللہ کی نافذ کردہ حدیں بتلائیں اور عذاب الہی سے ڈرایا جس کا قوم نوح نے رد کیا ان کی باتوں سے نوح علیہ السلام پریشان ہو گئے کیونکہ ان کے مخالفین میں ان کا حقیقی بیٹا بھی شامل تھا
    اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے نوح آپ غمگین نا ہو بلکہ میرے حکم سے ایک بہت بڑی کشتی بنا اور ان کو میری طرف سے ایک بڑے عذاب کی خبر سنا جب عذاب آنے لگے گا تم اور تمہارے پیروکار اس میں سوار ہو جانا اور ان سرکشوں پر عذاب کا نظارہ کرنا
    حکم ربی کے پابند نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو آسمانی پیغام سنایا اور حکم ربی سے ایک بہت بڑی کشتی تیار کی
    حکم ربی سن کر اور کشتی تیار ہوتی دیکھ کر اس قوم کے سرداروں نے نوح علیہ السلام کا مذاق اڑایا
    نوح علیہ السلام نے کشتی تیار کرلی اور پھر ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر ان سرکشوں نے کشتی میں مارے حقارت کے رفائے حاجت کر کر کے اس کشتی کو بول و براز سے بھر دیا اور کہنے لگے کہ اے نوح اپنے رب سے کہہ کہ بیجھے ہم پر عذاب
    کشتی میں بول و براز بھرا دیکھ کر نوح علیہ السلام سخت پریشان ہو گئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی پریشانی بھانپی اور اس کشتی کو اسی قوم سے صاف کروانے کی خاطر ان میں ایک خاص وبائی مرض پھیلا دی جو بول و براز میں لیٹنے سے رفع ہوتی تھی
    سو چند ہی دنوں میں اسی متکبر اور معاشرتی برائیوں میں لتھری قوم نے اپنی شفا حاصل کرنے کی خاطر کشتی نوح کو لیٹ لیٹ کر اس طرح صاف کر دیا کہ گویا اس میں کبھی گندگی تھی ہی نہیں باقی قوم نوح پر عذاب آیا اس اور وہ تباہ ہو گئے جو ایمان والے اور پیغمبر کے جانثار تھے وہ کشتی نوح میں سوار ہو کر بچ گئے
    آج ہم میں سابقہ قوموں والی برائیاں سرعت کرچکی ہیں جن کی بدولت ہمارے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید سدا حالات ایسے ہی رہنے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں
    سابقہ قوموں کو دیکھتے ہوئے آج ہمیں یقین کرنا چاہئیے کہ ہماری معاشرتی برائیوں کی عادت کو ختم کرنے کیلئے اللہ تعالی ہم میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اس گندگی سے بھرے نظام کو صاف کر دینگے اور احکام الہٰی پر عمل کراوائینگے کیونکہ میرا رب نہایت مہربان اور بہتر چال چلنے والا ہے ہمیں بس خود کو درست کرنا ہے باقی ان شاءاللہ جلد اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا جو سمجھ گئے وہ بچ جائینگے اور جو سر کشی پر ڈٹے رہے وہ عذاب الہی کا شکار ہونگے

  • لڑکی کے 18 سال کے ہونے کے لیے 4 سال تک انتظار کرنے والا عاشق

    لڑکی کے 18 سال کے ہونے کے لیے 4 سال تک انتظار کرنے والا عاشق

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بُک پر ایک صارف کی 3 سالہ پُرنی چیٹ کی تصویر گردش کر رہی ہے جس میں صارف نے لڑکی سے دوستی کرنے کے لئے 4 سال تک انتظار کیا-

    باغی ٹی وی : یوں تو سوشل میڈیا ویب سائٹس پر آئے دن نت نئی پوسٹس گردش کرتی رہتی ہیں جن کو دیکھ کر صارفین حیران ہوئے بغیر نہیں رہتے اور دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں کچھ پوسٹس لوگوں کے لئے تفریح و دلچسپی کا باعث بن جاتی ہیں یہاں تک کہ کچھ پوسٹس تو گمنام لوگوں کو راتوں رات لوگوں شہرت کی بلدیوں پر پہنچا دیتی ہیں-

    تاہم اب بھی سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر گردش کر رہی ہے جسے دیکھ کر کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا موجودہ کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراسمنٹ اور بلیک میل کرنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور آئے دن ان گنت خواتین سوشل میڈیا ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں-

    لیکن سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں فیس بُک صارف نے فیس بُک پر اپنی دوست کے 18 سال ہونے تک کا انتظار کیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی-

    تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صارف 14 دسمبر 2103 کو رات 9 بجکر 53 منٹ پر اپنی فیس بُک فرینڈ کو فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے دوستی کرنے کو کہتا ہے لیکن اس کے جواب میں لڑکی بتاتی ہے کہ وہ ابھی صرف 14 سال کی ہے –

    جس پر وہ صارف افسردگی کا اظہار کرتا ہے تاہم ٹھیک 4 سال بعد 14 دسمبر 2017 کو 9 بجکر 58 منٹ پر لڑکی کے 18 سال کی ہونے پر میسج کرتا ہے کہ اب آپ 18 سال کی ہوگئی ہیں؟

  • حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کے حوالے سے پنجاب کی سب سے بڑی مارکیٹ حفیظ سینٹر کا جہاں بیشتر حصہ جل گیا اور اربوں کا نقصان ہوا وہیں ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کی کمزوریاں اور کوتاہیاں بھی کھل کر سامنےآئیں صبح پونے پانچ لگنے والی آگ رات میں کہیں جاکر بجھائی جاسکی.
    فائر برگیڈ کی اکثر گاڑیوں میں پانی ہی نہیں تھا ، اگر پانی تھا تو پائپ پھٹے ہوئے جس سے پانی کا پریشر ہی نہیں بن پا رہا تھا بیشتر گاڑیاں بےکار میں کھڑی تھیں اور ایک دو گاڑیاں آگے بجھانے میں مصروف تھیں.
    سب سے اہم چیز جو ٹیکنیکل غلطی تھی جو فائر فائٹنگ کے بنیادی اصولوں میں ہے کہ الیکٹرانک کی اشیا اور مارکیٹ کو لگی آگ کو پانی سے بجھایا جا رہا تھا. پہلی بات تو یہ کہ الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو پانی سے بجھانا ہی بےوقوفی ہے کیونکہ اس سے آگ بجھتی نہیں اور بڑھک اٹھتی ہے چیز مکمل بےکار ہوجاتی ہے.دوسری بات جو چیزیں آگے کی حد سے باہر ہیں پانی کی بوچھاڑ میں وہ سب بھی بےکار ہوگئیں.
    ہماری سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چیزوں اور اداروں کو اپڈیٹ کرنا ناممکن ہے یہاں پر البتہ کریڈٹ لینا سب کا من پسند مشغلہ ہے. گزشتہ دنوں میں موٹروے حادثہ میں بھی بجائے اس کے جائے وقوعہ پر پیٹرولنگ پولیس، ٹریفک پولیس کی عدم دستیابی پر بات ہوتی کریڈٹ لیا گیا کہ موٹروے ہم نے بنائی یہ وہ.
    ایسے ہی حفیظ سینٹر کے تقریباً مکمل جل جانے کے بعد بجھنے والی آگ پر مبارکبادیں دی جارہی ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ ہم نے بنایا …حالانکہ بات اس پر ہونی چاہیے کہ فائر برگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے دیگر ذرائع کیوں نہیں ہیں، گاڑیوں میں پانی کیوں نہیں ہے، گاڑیوں کے پائپ کیوں پھٹے ہوئے ہیں. الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو بجھانے کے متبادل ذرائع اور آلات کیوں نہیں ہیں.
    ہم نے وہاں کے دوکانداروں کو حفیظ سینٹر میں لگی آگ پر روتے دیکھا اور رونا بنتا بھی تھا کہ سالوں کی محنت آگ میں جل رہی تھی اور وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے لیکن اگر یہ یہ رونا حادثے سے قبل رو لیا جاتا تو نقصان اتنا نہ ہوتا. جن لوگوں نے حفیظ سینٹر کو وزٹ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں پر تاروں کے بچھے جال کس کیفیت میں، بجلی چوری کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں اور اس کے لیے لگائی گئی "کنڈیاں” بھی نظر آتی ہیں.
    سب سے بڑھ کر اتنے بڑے پلازے میں، فائر الارمنگ سسٹم، فائر اسٹنگشورز اور فائر فائٹنگ کے آلات بھی نصب نہیں ہیں اور اگر فائر اسٹنگشورز ہیں تو ان کی ری فلنگ کیے ہوئے برس ہا برس بیت چکے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ آپ کھیل تو سکتے مگر آگ پر قابو نہیں پاسکتے. یہ انجمن تاجران حفیظ سینٹرز اور مالکان حفیظ سینٹرز کے کرنے کے کام تھے.
    یہاں پر محکمہ تعمیرات اور بلڈنگز کی کاردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کیا کر رہے ہیں.اتنے بڑے بڑے پلازوں میں حفاظتی اقدامات پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی.

  • بطخ کی ڈھولکی بجانے کی ویڈیو وائرل

    بطخ کی ڈھولکی بجانے کی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر بطخ کی ایک عجیب و غریب اور دلچسپ ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جسے دیکھ کر صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر آئے دن عجیب و غریب اور دلچسپ ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کردیتی ہیں اور دیکھتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں جبکہ لوگ بھی ایسی دلچوپ ویڈیوز کو دیکھ کر خوب محفوظ ہوتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں-

    تاہم اب ایسی ہی سوشل میڈیا پر ایک بطخ کی دلچسپ ویڈیو وائل ہو رہی ہے جس میں بطخ ڈھولکی بجا ہی ہے-

    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے ویڈیو شئیر کی ہے جس میں بطخ کو اپنے دونوں پاؤں کے ساتھ تیزی سے ڈھولکی بجاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں ایک شخص نے بطخ کو ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے جبکہ نیچے ڈھولکی رکھی ہے بطخ اپنے دونوں پاؤں تیزی سے چلاتی ہے جو کہ ڈھولکی پر پڑتے ہیں جس کی وجہ سے ڈھولکی کی موسیقی کی آواز پیدا ہوتی ہے-

    جبکہ دیکھنے میں یہ ویڈیو کافی دلچسپ اور حیرت انگیز دکھائی دیتی ہے سوشل میڈیا پر اس دلچسپ ویڈیو کو صارفین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے-

  • حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    سینٹرل جیل مچھ میں کچھ عرصہ وقت گزارنے والے سابقہ قیدی عبد الرحیم کا پیغام

    جیل کے گزرے ایام میں لوگوں کو شکایت کرتا پایا ، بہت سے شاید وہ لوگ ہونگے جو واقعی مظلوم اور بے قصور تھے لیکن میرے لیے حیرت کی بات تھی شکوے شکایتیں کرتے ہوئے اور پاکستان کو برا بھلا کہتے ہوتے ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے واقعی جرم کیا تھا۔ ایسے ہی ایک شخص سے جو چوری کے کیس میں آیا تھا سلام دعا ہوگئی اسکے شکوے شکایتوں کی وجہ یہ تھی کہ چوری اس نے ایک کی تھی جبکہ پولیس نے اس پر کئی اور کیسز بھی ڈال دئیے تھے۔ جب میں اسکے شکوے شکایتوں سے تنگ ہونے لگا تو پھر ذہن میں ایک ترکیب آئی میں اسے اپنے احاطے کے ایک سیل میں موجود قیدی فتح کے پاس لے گیا۔ کچھ دیر اسکے پاس بیٹھے ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں اس دوران اسکے منہ سے ایک لفظ بھی پاکستان کے خلاف نہیں نکلا ۔

    جب میں نے اس چور کو بتایا کہ اسے تیس سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے بے گناہ قید ہے تو اس چور کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ اس ملاقات کے بعد اس چور میں میں نے واضح تبدیلی دیکھی ۔ فتح کو معلوم نہیں تھا لیکن میں اس کامیاب تجربے پر بہت خوش تھا۔ آج بھی جب فتح کے متعلق سوچتا ہوں تو یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ کیسا پہاڑ جیسا صبر ہے اس شخص کا ، جو اتنا عرصہ جیل میں گزارنے کے باوجود پاکستان کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا ۔۔۔ حب الوطنی کیا ہے یہ میں نے فتح سے ہی سیکھا ۔۔۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے جلد ازجلد رہائی نصیب فرمائیں آمین