Baaghi TV

Category: متفرق

  • جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    یوں تو دنیا بھر میں لوگوں کی منفرد ،دلچسپ اور عجیب و غریب سرگرمیوں کے بارے میں اکثر وبیشتر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھنے والوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ حیران و پریشان کر دیتی ہیں اور دلچسپی کا باعث بنتی ہیں-

    باغی ٹی وی : اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر حیران کن اور دلچسپ ویڈیو ز اور تصاویر وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اسی طرح سماجی فابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے اور ہر کوئی اس ویڈیو سے لطف اندوز ہو رہا ہے-
    https://twitter.com/Habibsu16092600/status/1292696204258750464
    حبیب سلطان اعوان نامی صارف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر چائے کے شوقین لوگوں کیلئے ایک ایسی ہی دلچسپ ویڈیو شئیر کی ہے جس میں ایک ایسا چائے کا ہوٹل دیکھا جا سکتا ہے جو کہ درخت پر بنایا گیا ہے-

    اس انوکھی طرز کے بنے عجیب و غریب ہوٹل کی چائے پینے کے لئے چائے کے شوقین لوگوں کو درخت پر چڑھنا پڑتا ہے جہاں چائے پینے والوں کے بیٹھنے کے لئے چارپائی بھی رکھی گئی ہے-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس ہوٹل کو دیکھنے اور چائے پینے کے لئے لوگوں کی ایک خاصی تعداد جمع ہے اور وہ اس انوکھے ہوٹل کو دیکھ کر حیرانی اور دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں –

    حبیب سلطان نامی صارف نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے چائے کے شوقین لوگوں جو اس ہوٹل سے چائے پینے کی دعوت دیتے ہوئے لکھا کہ چاۓ کے شوقین تو بہت لوگ ہوں گے لیکن ایسی چاۓ کسی نے نہیں پی ہوگی جو شوقین ہیں چاۓ کہ وہ یہ چاۓ ضرور پیئں –

    چائے کے نئی طرز کے انوکھے ہوٹل کی ویڈیو سو شل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے اور وہ ہوٹل کے مالک کے اس آئیڈیا کی تعریف کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں-


    ایک صارف نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں بہت۔چائے پیتی ھوں پر درخت پر چڑھ کر چائے آم کا درخت امرود کا درخت سیب کا درخت پھر پیش ہے چائے کا درخت-


    ایک صارف نے کہا کہ وہ دودھ والی چائے کی بالجکل بھی شوقین نہیں ہیں لیکن انہیں ایک دفعہ اس چارپائی پر ضرور بیٹھنا ہے جو درخت پر بنے ہوٹل پر چائے پینے والوں کے لئے رکھی گئی ہے-


    ایک صارف نے تو اسے پاگل پاگل پن قرار دیا-
    https://twitter.com/waqashussain777/status/1292700381349380098?s=20


    ایک صارف نے لکھا کہ ان کو کوئی جگہ نہیں ملی تھی چائے کے چکر میں ہڈی پسلی تڑوا لو-

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے مایا علی

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    مہوش حیات کی مداحوں سے جعلی ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی رپورٹ کرنے کی اپیل

    یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے بلال مقصود

  • میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں تھا، ازقلم: سالار عبداللہ

    میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں تھا، ازقلم: سالار عبداللہ

    ہوا نہیں تھی پر گرد اٹھ رہی تھی دھول کے بادل چھائے ہوے تھے میرے ہر قدم پہ دھول اٹھتی اور گردوپیش گردوغبار چھا جاتا، پر میرے سفید کپڑے ویسے ہی صاف تھے، جیسے چودھویں کا چاند ہوتا ہے، ان پہ کچھ اثر نہیں ہوا، اماں مجھے کبھی سفید سوٹ نہیں لیکر دیتی تھیں ، وہ مسکراتے ہوے کہتی تھیں کہ توں اس قابل ای نئیں، اور واقعی میں اس قابل ای نئیں تھا، مجھے گرد پیاری لگتی تھی، مجھے بھیڑ سے نفرت تھی نام و نمود سے ہچکچاتا تھا، بڑے بڑے عزت داروں کو منہ نہیں لگاتا ، اپنے جیسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوتا ، دھڑام سے کچی زمین پہ بیٹھ جاتا تھا، صبح فجر کے فوری بعد جب سڑکیں ویران ہوتی تھیں تو میں سڑک کی بند دکانوں کے تھڑے پہ بیٹھا مسواک کرتا ہوتا تھا ، کوئی فکر نہیں کہ تھڑا گندا ہے یا ڈسٹ جمی ہے، بس وہیں بیٹھا مسواک کرتا رہتا اور سامنے موجود ڈسٹرکٹ جیل کو تکتا رہتا، وہ جیل جس میں ہزاروں کہانیاں چھپی تھیں، عجیب داستانیں وہ جو یونیورسٹی تھی جرائم کی، جہاں مجرم پیدا ہوتے تھے، اعلی تعلیم حاصل کرتے تھے، جیل کی چھوٹی چھوٹی دیواریں ہوتی تھی جن کے ساتھ گونگلو مولیوں کے کھیت تھے، اسکے بعد عملے کے کوارٹر اور پھر سنٹرل جیل، وہیں بیٹھ کر میں مسواک کرتا جاتا اور اس ریڑھی والے کا انتظار کرتا رہتا تھا جس کے چاول چھولے مجھے پسند تھے، مجھے کبھی بڑے بڑے ریستوران پسند نہیں آئے، برگر کنگز ، ھارڈیز ، میکڈونلڈ سے زیادہ پسند رفیق چھولوں والے کے چاول چھولوں کا پیالہ تھا، آج بھی، مجھے ڈنکی ڈونلڈ اور گلوریا جینز کی کافی سے زیادہ پسند چاچا کھوچے کی چائے تھی، کھوچا اسے ہم پیار سے کہتے تھے ورنہ نام اسکا فیض خان تھا اور تعلق ڈمہ ڈولا سے تھا، اس بندے نے یہاں چائے کا کام شروع کیا اور چھا گیا، یہ میں کدھروں کدھر پہنچ گیا، اڑتی دھول میں چلتے ہوے حد نگاہ بہت کم تھی دھول میں سائے لہرا رہے تھے، بھنبھاہٹیں سنائی دے رہی تھیں، جیسے مکھیاں بھنبھناتی ہیں، چلتے چلتے ٹھوکر لگی تو پتہ چلا وہ بھنبھناہٹیں مکھیوں کی ہی تھیں، مگر وہ مکھیاں ایک سوختہ لاش پہ بھنبھنا رہی تھیں ، دھول کم ہونا شروع ہوئی، اور لاش کے آگے پھر لاش پڑی نظر آئی اور پھر لاشیں ہی لاشیں ، تہبند اور کریزوں والے قمیص پہنے یہ لوگ پتہ نہیں کون مار کر گرا گیا، لاشوں سے بچتا آگے جاتا رہا ، اور لاشوں کے مزید انبار نظر آتے گئے، ایک جگہ ایک آدمی ایک بدنصیب عورت کی سوختہ لاش کی کٹی ہوئی کلائی سے سونے کی باریک سی چوڑی نکال رہا تھا، میں اسکے قریب گیا، وہ سہم گیا، اسکے کرتوت نظر انداز کرتے ہوے اسکے قریب گیا اور حیرت سے پوچھا ۔۔ کون تھے یہ لوگ، اس نے تھوک نگلا اور بولا ۔۔ امرتسر سے جو قافلہ نکلا تھا ۔۔۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا اور بے ساختہ قدم پیچھے کی جانب جانے لگے، دل کر رہا تھا بھاگ جاؤں، پیچھے منہ کیا اور سرپٹ بھاگنے لگا یکدم ایک بچے کی باسی لاش سے رپٹ کر گرا اور ناک پہ چوٹ سے کچھ لمحوں کے لئے ہواس معلق ہوگئے، گھٹنوں کے بل اٹھ کر دیکھا میرا سارا سفید سوٹ سیاہی مائل سرخ خون سے رنگ چکا تھا، چکراتے سر کے ساتھ میں نے اپنے کپڑے دیکھے اور اٹھ کھڑا ہوا، سامنے قصور کا سٹیشن تھا، سٹیشن کے ساتھ تاحد نگاہ محاجر کیمپ لگے تھے جن میں شاید ہی کوئی خاندان مکمل پہنچا ہوگا، ورنہ خاندانوں کے نام پہ چند خوشقسمت افراد بچے تھے باقی سب مارے گئے، سگنل اٹھ چکے تھے، گاڑی آنے والی تھی، لمبے ھارن کی آواز آئی اور بھاپ والا انجن بھاپ اڑاتا سٹیشن میں داخل ہوا، ہجوم اکٹھا ہوگیا، لوگ ٹرین کے گرد پھیلنے لگے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس آنے لگے، بھاپ چھٹ رہی تھی، میرے قدم ٹرین کی طرف اٹھ رہے تھے، پھر وہی خون کی باس آنے لگی، ٹرین میں مسافروں کی جگہ اعضاء تھے، یکدم کسی ٹرین سے ایک بکسا کھینچ کر نیچے اتارا اور بکسے پہ جما سارا خون اُڑ کر میرے کپڑوں پہ گر گیا، لوتھڑوں اور خون سے میرے سفید کپڑے پھر سرخ ہوگئے ، بکسے کے اوپر پڑا ایک مرتبان اُڑتا میرے سر پہ لگا، میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا، ہوش آئی تو میں پھر وہیں جیل کے دروازے کے سامنے بنے گرد آلود تھڑے پہ بیٹھا مسواک کر رہا تھا، اور سوچ رہا تھا، اماں ٹھیک کہتی ہیں ۔
    میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔
    سالار عبداللہ
    #سالاریات

  • کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم:  فہیم شاکر

    کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم: فہیم شاکر

    فیصل آباد میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والے تُجّار پر پولیس کا تشدد، تھپڑ مارے، دھکے دیے
    میرا سوال مگر یہ ہے کہ وہ کون سا اختیار ہے جو پولیس کو وردی پہننے سے مل جاتا ہے؟؟؟
    وہ کون سا قانون ہے جو پولیس کو عوام پر تھپڑ برسانے کا اختیار دیتا ہے؟؟؟
    وہ کون ہے جو پولیس کے جوانوں کو عام آدمی کو دھکے دینے پر اُکساتا ہے؟؟؟

    ایک عام شہری قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر سزا دینا بنتی ہے یا تشدد کرنا؟؟؟

    آج جمعۃ المبارک 31 جولائی کا دن ہے شیخوپورہ کی معروف تجارتی جگہ گلی ککےزئیاں کے صدر انجمن تاجران رانا محمد عمران کے مطابق لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر پولیس نے تحریک انصاف کے معذور کارکن یاسر اکرم پر چیخوں کے باوجود شدید تشدد کیا جس پر تاجر سراپا احتجاج بنے رہے اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی خالد محمود بھی موجود تھے
    لیکن جنگل کے قانون کے حامل اس معاشرے میں کوئی نہیں ہے جو پولیس سے اس کی محکمانہ خلاف ورزی پر سوال کرے
    ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ تشدد کے شکار یا سراپا احتجاج بنے تُجّار کے پاس جا کر اشک شوئی کرنے والا بھی کوئی نہیں

    میں پھر دہرانا چاہوں گا کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی پر شہری کو سزا یا جرمانہ کرنا چاہیے نہ کہ اس کی تضحیک وتذلیل.
    میں چند دن قبل صبح 7 بجے شاہدرہ چوک میں کھڑا تھا
    بچوں کے ماموں انہیں شاہدرہ چھوڑنے اور میں انہیں وصول کرنے وہاں پہنچا تھا
    اسی اثناء میں ٹریفک پولیس والے ڈیوٹی پر پہنچنا شروع ہو گئے
    کاغذات واپسی سنٹر شاہدرہ میں موجود پولیس کے ایک نوعمر جوان نے مجھے تضحیک آمیز رویے کے ساتھ یوں بلایا
    *اوئے مولوی! ادھر آ، جا وہاں سے پانی بھر کے لا*
    میں ایک نظر اسے دیکھوں، ایک نظر اس کی وردی کو، اس کی جرآت پر مجھے حیرت سے زیادہ افسوس ہو رہا تھا کہ وردی پہننے کے بعد عوام انہیں کالانعام دکھائی دیتی ہے.
    *یہ رہی عوام کی اوقات*
    آپ میری بات سے ہزار بار اختلاف کیجیے لیکن یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ پولیس کے جوان اپنی وردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس سے عوام کے اندر سارے محکمے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے
    اعلی حُکام کو اس طرف توجہ دے کر اس مسئلے کو حل کرانا ہوگا ورنہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا سے پہلے تھپڑ اور دھکے دے کر اسے جرم کی راہ پر ڈالنے کی ساری ذمہ داری پولیس کے جوانوں پر ہی عائد ہوتی رہے گی

  • کیا دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟  از قلم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    کیا دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟ از قلم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    گورنمنٹ آف پاکستان نے کلبوشن یادیو ہندوستانی دہشت گرد کا کیس خود ہائیکورٹ میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا
    یہ فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے تحت کیا گیا ہے واضع رہے رواں سال 29 مئی کو صدر پاکستان عارف علوی نے غیر ملکی قیدیوں کو ملٹری کورٹس سے ہوئی سزا پر اپیل کرنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بل پاس کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی غیر ملکی دہشت گرد،جاسوس جو کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ہے اسے حق مل گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اندر اپنی سزا کیخلاف درخواست دائر کر سکے واضع رہے کہ اس سے قبل ایسا نا تھا ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ قیدی کسی بھی سول کورٹ میں اپنی سزا کو چیلنج نہیں کر سکتے تھے
    سوچنے کی بات ہے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صدر کو غیر ملکی سزا یافتہ دہشت گردوں کی اتنی زیادہ فکر کیوں لاحق ہوئی؟
    آخر اتنی خاموشی سے بل کیوں پاس کروا لیا گیا؟
    جبکہ عوام کی سہولت کیلئے اور اسلام کے دفاع کیلئے پیش کئے جانے والے درجنوں بل ابھی بھی زیر التواء ہے جبکہ دوسری جانب اپنے ہی ملک کے لوگوں کو کہ جن پر اس ریاست پاکستان کے خلاف کام کرنے کا کوئی گواہ نہیں اور پاکستان کی عوام ان کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جاتی ہے جس سے ان کے محب وطن ہونے کا ثبوت ملتا ہے ان افراد کو غیر ملکی دباؤ پر جیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور الزام یہ لگایا گیا کہ بیرون ملک ان افراد نے آزادی کی تحریک لڑنے والے افراد کی مالی معاونت کی تھی
    پچھلے سال بڑے فخر سے خود میڈیا پر وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ آسیہ ملعونہ کو پاکستان سے باہر بھجوانے کیلئے ہم نے مولویوں کو گرفتار کیا جو کہ آسیہ کی رہائی میں رکاوٹ تھے
    اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ صدر پاکستان سے منظور شد بل صرف کلبوشن یادیو کی رہائی کی نوید ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو ملک میں کوئی بھی محفوظ نا رہے گا خاص کر انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاران مذید غیر محفوظ ہو جائینگے
    پاک فوج کا کیپٹین قدیر جس اللہ کے شیر نے کلبوشن یادیو کو پکڑا تھا اسے اسی جرم میں بیرونی ایجنسیوں نے شہید کیا کلبوشن کے ہاتھوں پر ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے جس کا اقرار وہ خود اپنے ویڈیو بیان میں کر چکا ہے تو پھر گورنمنٹ کو اس سے اتنی ہمدردی کیوں؟ کیا سابقہ گورنمنٹس کی طرح پی ٹی آئی بھی دباؤ کا شکار ہے؟
    کیا خان صاحب کے سارے کے سارے دعوے محض دکھلاوا تھے ؟
    سیکیورٹی و انٹیلیجنس ادارے دن رات محنت کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک دشمنوں کو پکڑتے ہیں انہیں ملٹری کورٹس سے سزا دلواتے ہیں تاکہ ملک میں امن و امان ہو سکے کسی کا سہاگ،کسی کا لخت جگر پھر کسی کلبوشن جیسے دہشت گرد کی تخریب کاری کا نشانہ نا بن سکے مگر افسوس کہ ریاست مدینہ اور تبدیلی کے دعوے دار ایک دہشت گرد کی رہائی کیلئے خود بل پاس کروا کر خود ہی ہائیکورٹ میں کیس بھی لڑینگے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ دہشت گردوں تم اپنا کام کرو ہم اپنے بل پاس کروا کر تمہیں رہا کرواتے رہینگے
    شاید کہ اگر یہی حالات رہے تو آپریشن فیئر پلے کی ضرورت سخت سے سخت تر ہو جائے گی کیونکہ سب سے پہلے اسلام و پاکستان
    کلبوشن نے اسلامی ملک کے اسلامی باشندوں کو شہید کیا ہے
    جہاں اپنے لوگوں کو جیلوں میں اور بیرون ملک سے آئے ہزاروں پاکستانی مسلمانوں کے قاتل دہشت گردوں کی رہائی کیلئے حکمران بے تاب ہوں وہاں عوام بھی مایوس ہو جاتی ہے پھر وہاں بیرونی ایجنسیوں کے آلہ کار اپنے ہی لوگ اس لئے بن جاتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل سکا لہذہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں

  • شیخوپورہ ٹرین حادثہ ۔ انسانیت کی اعلی مثال ۔  اقلیتوں سے پیار ۔۔ اور پروپیگنڈے کا جواب،،،،،(ذرا سی بات محمد عاصم حفیظ)

    شیخوپورہ ٹرین حادثہ ۔ انسانیت کی اعلی مثال ۔ اقلیتوں سے پیار ۔۔ اور پروپیگنڈے کا جواب،،،،،(ذرا سی بات محمد عاصم حفیظ)

    شیخوپورہ میں ٹرین حادثہ دور دراز دیہاتی علاقے میں ہوا ۔ ریسکیو اور دیگر اداروں کے آنے سے پہلے مقامی افراد مدد کو پہنچے۔ لاشوں اور زخمیوں کو کندھوں پر اٹھا کر ۔ چارپائیوں پر ڈال کر ۔ موٹر سائیکل غرض جسے جو ملا وہ ان سکھ بھائیوں کی مدد کو پہنچا ۔ سکھ سنگت کے اہم عہدیداران کی گفتگو سن لیں ۔

    جی ایسے کرتے ہیں اہل پاکستان اپنے اقلیتی بھائیوں کی مدد ۔ سب نے انہیں بھائی سمجھا اور ان کی مدد میں تن من دھن سب لٹا دیا ۔ مساجد میں اعلانات ہوئے ۔ کوئی پانی اٹھائے بھاگا ۔ کسی نے گرمی اور مشکل راستے کی پرواہ نہیں کی ۔ کسی نے نہ سوچا کہ حادثے کا شکار ہونیوالے تو دوسرے مذہب کے ہیں ۔ گرمی میں ان متاثرین کو کندھوں اور باہوں میں اٹھائے پہنچاتے رہے ۔

    ہمارے ہاں کچھ لبرل و سیکولر بعض خالصتاً مذہبی معاملات کو لیکر پروپیگنڈا کرتے ہیں ۔ یہ واقعہ ہی ان کے منہ پر زور دار تمانچہ ہے ۔ ہم اقلیتوں کی خدمت کو حاضر ہیں ۔ ہمارے لوگ سرکاری ادارے ہر کوئی کہیں بھی مذہبی تفریق نہیں کرتا ۔ مصیبت میں مذہب نہیں دیکھتا ۔ سب متحد ہو کر مقابلہ کرتے ہیں اور دکھ سکھ میں ساتھ بٹاتے ہیں ۔

    مسلمانان پاکستان نہ تو اقلیتوں کے خلاف ہیں ۔ ان سے تفریق نہیں رکھتے ۔ ان سے جینے اور عبادت کا حق نہیں چھینتے ۔۔ اسلام آباد مندر اور دیگر معاملات دراصل جب ایک ایجنڈے کے تحت بزور طاقت نافذ کئے جاتے ہیں ۔ تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ۔

    شیخوپورہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل پاکستان کو اقلیتوں کو کیا مقام دیتے ہیں ۔ اس لئے کسی خالصتاً دینی مسئلے کو لیکر پروپیگنڈے سے گریز کرنا چاہیے ۔ بعض معاملات اقلیتوں کے جائز حقوق کی بجائے کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت ہوتے ہیں جس سے معاشرے میں انتشار و نفرت پیدا ہوتی ہے

  • امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ اور پاکستان ….از… محمد نعیم شہزاد

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آرایف) نے 28 اپریل 2020 کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے پاکستان چیپٹر کے مطابق کمیشن کے پاکستان میں مذہبی آزادی بارے اقدامات پر ردعمل ملاجلا تھا۔ گزشتہ سالوں کے مقابل 2019 اور مابعد حالات پر کافی تسلی بخش رائے کا اظہار کیا گیا۔ جبکہ کچھ اہم نکات ابھی توجہ طلب اور جلد حل کے متقاضی ہیں۔

    اس سالانہ رپورٹ کے بعد گزشتہ منگل 16جون کو واشنگٹن میں جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ اسے ان ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے جہاں مذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہے تو پاکستان کو امریکی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنا چاہیے جس کے تحت پاکستان میں توہین رسالت کے تمام قوانین کے خاتمے یا ان پر نظرثانی کرنے کی یقین دہانی کروائے گا۔ اور شہریت کی شناختی دستاویزات اور نادرا شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کو بھی ختم کیا جائے۔

    سال 2002 سے کمیشن ہر سال پاکستان کو Country of Particular Concern یا سی پی سی کی لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کرتا آ رہا ہے تاہم امریکی محکمہ خارجہ (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) نے پہلی بار پاکستان کو 2018 کو اس فہرست میں شامل کیا۔

    کمیشن نے کہا ہے کہ اگرچہ اس نے اپنی اس سال کی رپورٹ میں پاکستان کوان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے واشنگٹن کو خاص تشویش ہے، تاہم کمیشن نے دیکھا ہے کہ پاکستان نے اس دوران مذہبی اقلیتوں کے حوالےسے کئی مثبت اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

    کمیشن نے خاص طور پر سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی، وجیہہ الحسن کیس، سیالکوٹ میں شوالہ تیجا سنگھ مندر کو ہندوؤں اور کرتارپور راہداری کو سکھ برادری کے لیے کھولنے اور سپریم کورٹ کی حمایت یافتہ قومی کمیشن برائے اقلیت کے قیام کو سراہا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے: ‘خارجہ پالیسی سے متعلق سفارشات کی روشنی میں کمیشن یہ سفارش کرتا ہے کہ عالمی مذہبی آزادی ایکٹ (ایفرا) کے تحت پاکستان اور امریکہ ایک ایسا معاہدہ کریں جس کے تحت حکومت پاکستان کو ایسے معنی خیز اقدامات اٹھانے کو کہا جائے جس سے مذہبی اقلتیوں کی حالت بہتر ہو۔ اس دوطرفہ معاہدے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے پاکستان میں مذہبی اقلتیوں کے حالات بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور خود پاکستان کو سی پی سی سے نکلنے کا راستہ واضح طور پرمعلوم ہو گا۔

    کمیشن نے پاکستان سےسی پی سی سے نکلنے کے لیے کئی قلیل مدتی، درمیانی مدت اور طویل مدتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اس خصوصی رپورٹ میں مطالبہ کیے گئے اقدامات کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بنیادی طور پر دو باتیں ہی سامنے آتی ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قادیانی مذہب کے پیروکاروں کی بات کی گئی ہے اور وہ خود کو غیر مسلم ماننے کو تیار ہی نہیں جبکہ آئین پاکستان ان کو واضح طور پر اقلیت قرار دیتا ہے۔ جب کہ رپورٹ میں یہ اصرار بھی کیا گیا ہے کہ اگر وہ خود کو مسلم قرار دیں تو ان کو روکنا یا اس عمل کو قابل تعزیر قرار دینا غلط ہے۔

    شاید اس رپورٹ کا ہی اثر ہے کہ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے استقبالیہ پر نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کی تصویر لگا دی گئی ہے۔ ایک آزاد ریاست کا شہری ہونے کے ناطے ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ اپنی سالمیت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ اگر کمیشن کو اپنے قوانین پسند ہیں تو ہماری ریاست کے قوانین کا احترام بھی لازم ہے۔ اور بالخصوص قادیانی گروہ کے حوالے سے مسئلہ کو الجھایا نہ جائے۔ قادیانی اگر پاکستان کے آئین کی رو سے مسلمان کی تعریف میں داخل نہیں ہیں تو بلا وجہ کیوں قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ ریاست کا دیا ہوا درجہ قبول کریں اور بغاوت نہ کریں۔

    دوسرا اہم نکتہ جو اس رپورٹ میں پوری شد و مد سے اٹھایا گیا وہ قانون توہین رسالت کے حوالے سے ہے اور اس قانون کو بھی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ شخصی آزادی یا آزادی اظہار رائے کسی دوسرے کی دل آزاری کی اجازت ہرگز نہیں دیتی بلکہ یہ ایک قبیح حرکت ہے۔ سوشل میڈیا سائٹس پر بھی لوگ offensive میٹیریل کو رپورٹ کرتے ہیں اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ انسانی فطرت جس چیز کو ناپسند کرتے اس کا احترام کیا جاتا ہے۔ ریاست کا قانون جس چیز کی مخالفت کرے اس کا احترام بھی سر آنکھوں پر۔ تو ایک ایسا عمل جو ریاست پاکستان میں آئینی حیثیت رکھتا ہے کیا اسے صرف اس لیے رد کر دیا جائے کہ یہ مسلمانوں کے ایمان کی علامت ہے؟ یہ دو رنگی نہ تو انسانی حقوق کی منطق سے سمجھ آتی ہے اور نہ رواداری کے کسی تقاضے کی رو سے۔

    لہٰذا کمیشن کی رپورٹ کو قانون کا درجہ نہ دیا جائے بلکہ اپنی قومی و ملی امنگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے، قابل قبول امور کو اختیار کیا جائے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے امور کی طرف التفات نہ کیا جائے۔

    امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ اور پاکستان ….از… محمد نعیم شہزاد

  • کورونا میت سے خوف کیسا؟؟ احمد ندیم اعوان

    کورونا میت سے خوف کیسا؟؟ احمد ندیم اعوان

    محلے کی بزرگ خاتون فوت ہوگئیں۔ بہو نے اسٹیٹس لگایا۔ میری ساس کا قضائے الہی سے انتقال ہوگیا ہے۔ نماز جنازہ فلاں مسجد میں ادا کی جائے گی۔ ساتھ ہی کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ کا عکس لگایا گیا جو نیگیٹیو تھی۔

    چند روز قبل ایک دوست کے بھائی جنوبی پنجاب میں فوت ہوگئے۔ جنازے میں چند قریبی دوست و رشتہ داروں نے اس لیے شرکت نہیں کی کہیں کورونا سے نہ مرا ہو۔ کچھ نے تو کال کرکے پوچھ لیا کیسے فوت ہوئے؟ گھر میں سب خیریت ہے کسی کو بخار تو نہیں؟ گھر والوں کو اس رویہ پر شدید دکھ تھا۔

    ایسا کیوں ہے؟ ایک طرف ہم کورونا کو وبا مانتے نہیں؟ ہاتھ ملانے میں احتیاط کرتے ہیں اور نہ ہی عوامی مقامات پر جانے سے باز آتے ہیں۔ فیس ماسک کو زحمت سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جنازوں میں شرکت سے خوفزدہ ہیں۔

    یہ خوف سرکاری اقدامات کی وجہ سے زیادہ بڑھا ہے کہ مرنے والے کی لاش مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ صرف چند افراد جنازہ پڑھ کر دفن کریں۔

    ایسی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر کافی شیئر ہوئیں اور ٹی وی چینلز پر دکھائی گئیں جس سے خوف پروان چڑھا۔

    میڈیا پر آگاہی مہم میں بتایا جارہا ہے اگر عام افراد ماسک کا استعمال کریں۔ چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ بار بار ہاتھ دھوئیں۔ تو وہ کورونا سے بچ سکتے ہیں۔

    اگر کورونا مریض ماسک استعمال کرے تو وائرس پھیلنے کا خدشہ کم ہے اور دو طرفہ ماسک ہوتو خدشہ کافی کم ہوجاتا ہے۔

    یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر جیتے جاگتے مریض سے فاصلہ رکھا جائے اور ماسک پہن لیا جائے تو بچا جاسکتا ہے۔

    تو میت کا منہ تو کفن سے بند ہے۔ وہ بول رہی ہے نہ چھینک رہی ہے اور آپ نے بھی چہرے پر ماسک پہنا ہوا ہے تو پھر آپ اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    پانچ وقت نماز کی طرح سماجی فاصلے و دیگر احتیاط کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنا کیوں ناممکن ہے؟؟؟

    کورونا سے بچاو کے لیے پوری احتیاط کیجئے۔ احتیاط نہ کرنا خودکشی ہے جو اسلام میں حرام ہے۔

    احتیاط کے ساتھ جہاں آپ اپنے دیگر ضروری کام سر انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح فوت ہونے والوں کی نماز جنازہ میں بھی ضرور شرکت کیجئے۔

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے مسلمان پر 6 حق بتائے جن میں سے ایک نماز جنازہ ادا کرنا ہے۔

    ان دنوں فوت ہونے والے سب کورونا مریض نہیں۔ خدارا میت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے مسلمان بھائی کا آخری حق ضرو ادا کیجئے۔ اللہ رب العزت سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس وبا سے بچائے۔ آمین

  • "وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”—از—✍️#اخت_عمیر

    "وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”—از—✍️#اخت_عمیر

    پاکستان ان دنوں وباٶں اور بحرانوں کی زد میں ہے۔ ایک طرف وبائی امراض اپنا قہر برسا رہے ہیں گزرتے وقت کے ساتھ کورونا بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ متاثرین کی تعداد 1لاکھ 32 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور اموات 2500 سے بڑھ چکی ہیں۔ تو دوسری طرف رواں سال کے صرف چند ماہ میں اچانک رونما ہونے والی شدید موسمیاتی تبدیلیوں نے فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ باقی کسر فصلوں پر ٹڈی دل کی یلغار نے پوری کردی ہے۔ دہشت گردی غیر محدود کرپشن اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معاشی صورتحال پہلے ہی گھمبیر تھی۔ کہ کورونا وبا کے ہنگامے اور لاک ڈاون کی سختیوں نے ہماری معاشی مشکلات کو دو چند کر دیا ہے۔ تین ماہ سے جاری لاک ڈاون کے باعث پیداواری عمل معطل ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ سبزی اور فروٹ مارکیٹ کھلی رہنے کی وجہ سے امید کی جا رہی تھی کہ زرعی معیشت لاک ڈاون کے اثرات سے بچ جائے گی۔ لیکن بے موسمی بارشوں اور اور ٹڈی دل کی یلغار نے فصلوں کو ناقابل یقین حد تک نقصان پہنچایا ہے۔

    پاکستان بالخصوص پنجاب کے گندم کی کاشت کے علاقوں ملتان، ڈیرہ غازی خان، لاہور، گجرات، سرگودھا اور فیصل آباد کے علاقوں میں گندم کی کٹائی کے موسم میں ہونے والی بارشوں نے نہ صرف فی ایکڑ گندم کی پیداوار کو نقصان پہنچایا بلکہ سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کا ہدف پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا اس لیے کٹائی کے موسم میں ہی گندم کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گندم کی کٹائی کا موسم آتے ہی گرمی کی شدت میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ عموماً گندم کی کٹائی اور اسے سمیٹنے کا موسم خشک ہی رہتا ہے۔ گذشتہ دو سال سے عین کٹائی کے موسم میں شدید بارشیں ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

    پاکستان کسان اتحاد کے سیکرٹری جنرل عمیر مسعود کے مطابق پنجاب کے بیشتر علاقوں میں فی ایکڑ پیداوار 50 سے 60 من کے درمیان ہوتی ہے۔ بے موسمی بارشوں کے باعث یہ کم ہو کر 30 سے 33 من رہ گئی جس سے رواں برس گندم اور آٹے کے بحران کا شدید خدشہ ہے۔ کپاس کی ڈیڑھ لاکھ بیلوں میں سے صرف 90 لاکھ بیلیں حاصل ہو سکیں مزید برآں مکئی کی پیداوار میں 40 فیصد اور چاول کی پیداوار میں 50 فیصد کمی ہو گئی ہے۔ بھکر جو کہ چنے کی کاشت اور پیداوار کے لیے دنیا بھر میں مشہور تھا بے موسمی بارشوں اور ژالہ باری نے اس فصل کو بھی تباہ کر دیا صرف کپاس کی بیلوں کی کم پیداوار کی وجہ سے ہونے والا نقصان ایک ارب ڈالر ہے۔ کسان بارشوں کے اس سلسلے کی وجہ سے شدید پریشان تھے کہ ایک اور بحران ٹڈی دل کی صورت میں پاکستان میں داخل ہو گیا یہ ٹڈی دل زراعت کے میدانوں پر اس قدر شدت سے حملہ آور ہوٸی کہ قحط کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    ٹڈی جمع ٹڈیوں کو عربی میں الجراد کہا جاتا ہے اور واحد کے لیےجَرَادَةٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہےاس لفظ کا استعمال نر اور مادہ دونوں کے لیے ہوتا ہے۔ ٹدی دل ہجرت کرنے والا کیڑا ہے جو غول کی شکل میں ہجرت کرتا ہے ایک غول کئی لاکھ ٹڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

    ایک ٹڈی ایک وقت میں 1200 انڈے دیتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے خوراک کے مطابق اگر ان کو قابو نہ کیا گیا تو ان کی تعداد میں 20 سے 25 فیصد اضافہ ہو سکتاہے۔
    ٹڈی حشرات الارض میں سے فصلوں کو نقصان پہنچانے والی بے رحم اور خوفناک قسم ہے۔ یہ انتہائی منظم طریقے سے کسی تربیت یافتہ فورس کی طرح کھیتوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور کھیت کے ایک سرے سے داخل ہو کر دوسرے سرے تک پہنچتے ہوئے سارا کھیت اجاڑ دیتی ہیں یہ ایک دن میں 93.2 میل کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے چھال سے بیجوں اور پھولوں تک سب کچھ کھاتی ہیں۔اور اپنے پیچھے تباہی و بربادی کی ایک داستان چھوڑ جاتی ہیں۔

    ایک غول 35 ہزار انسانوں کی خوراک ایک دن میں کھا سکتا ہے۔ٹڈی دل کا انڈے دینے کا طریقہ بھی عجیب ہوتا ہے یہ انڈے دینے کے لیے سخت اور بنجر زمین کا انتخاب کرتی ہیں پھر اس زمین میں اپنی دم سے انڈے کے سائز کے برابر سوراخ کرتی ہیں۔ جس میں وہ انڈے دیتی ہیں۔ اس لیے یہ سپرے کے باوجود بھی دوبارہ افزائش کر جاتی ہیں کیونکہ زمین کی سطح پر کیا جانے والا سپرے زمین کے اندر موجود انڈوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ زمین کی گرمی سے ہی انڈوں سے ٹڈیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور جھنڈ بنا کر فصلوں پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔

    اپریل اور مئی میں جس وقت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کپاس اور اور چاول کی کاشت اور گرمیوں کے میوہ جات خاص کر آم کے درخت پھل دے رہے ہوتے ہیں عین اسی موسم میں ٹڈی دل افریقہ سے یمن اور پھر سعودی عرب اور پھر عمان سے ایران اور وہاں سے پاکستان میں ایک خاموش قاتل اور دہشتگرد تنظیم کی شکل میں داخل ہوا اور یلغار کر کے چاول اور کپاس کی فصلوں اور اور میوہ جات کے وسیع باغ اجاڑ دیے۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں آم کے باغوں کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں آلو بخارہ، آڑو،آلوچہ اور خرمانی کے باغ بھی ٹڈی دل کے حملوں سے نا بچ سکے۔

    ٹڈی دل چاروں صوبوں کے 60 اضلاع میں بڑی مقدار میں فصلوں کو کھا چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بیشتر کسان یہ سمجھ رہے تھے کہ غیر موسمی بارشوں سے ہونے والے نقصان کو وہ کپاس کی فصل اگا کر پورا کر لیں گے مگر جیسے کپاس کے پتے نمودار ہوئے ٹڈی دل ان پر حملہ آور ہو گیا۔ ٹڈی دل نے تین سو ہزار مربع کلو میٹر علاقے کو متاثر کیا جو مملکت کے کل رقبہ کا 37 فیصد بنتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان کے زراعت کے 38فیصد شعبے کیڑوں کی افزائش کے میدان ہیں۔ عالمی ماہرین نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ٹڈی دل کو روکنے کا بندوبست نہ ہوا تو تھرپارکر سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیلے ہوئے وسیع رقبوں میں لگائی گئی فصلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔اگر ٹڈی دل ربیع کی فصل کو 25 فیصد نقصان پہنچاتی ہے تو 400 ارب کا نقصان ہوگا اور فصل خریف کی صورت میں 600 ارب نقصان ہو گا اور 50 فیصد نقصان ہونے پر فصل ربیع کی صورت میں 700 ارب اور خریف کی صورت میں 900 ارب سے زائد نقصان کا خدشہ ہے۔

    ٹڈیوں نے پہلے ہی ملک بھر میں روئی، گنے اور سبزیوں کی فصلوں کو تباہ کر دیا ہے اگر یہ سبزیوں کی فصلوں پر بھی حملہ آور ہوتی ہیں۔ تو تباہی کی مقدار کئی گنا زیادہ ہو جائے گی۔

    پاکستان ایک زرعی ملک ہے زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا 20 فیصد ہے اور ٹڈیوں کے نقصان سے جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں پاکستان کی معاشی نمو دو فیصد سے بھی کم ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

    محکمہ تحفظ نباتات کے ڈائریکٹر جنرل فلک ناز نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس سال ٹڈیوں سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ اس قدر شدید ہے کہ پاکستان نے ریاستی سطح پر اس حوالے سے فروری 2020 میں قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کر کے ٹڈی دل کے خلاف ریاستی جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاستی سطح کی ایمرجنسی ایک انتہائی اہم اقدام ہوتا ہے۔ جو قومی سطح کے کرائسز میں اٹھایا جاتا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کہ پاکستان میں ٹڈی دل کا حملہ کس قدر بھیانک اور خطرناک ہے۔

    جس طرح کورونا کی وبا انسانیت کے لیے وبال بنی ہوئی ہے اسی طرح ٹڈی دل بھی انسانیت کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں کسانوں کے نائب صدر محمود نواز شاہ نے کہاکہیہ ٹڈی حملہ کورونا وائرس سے بڑا خطرہ ہے اگر آپ گھر میں رہ کر حفاظتی تدابیر اختیار کر لیں تو وائرس حملہ نہیں کرے گا لیکن بھوک آپکو کسی بھی طرح ہلاک کر دے گی

    اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک اور زراعت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور ایگریکلچرل ورکنگ گروپ کے اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر حبیب وردگ کے بقول پاکستان کے 34 اضلاع ایسے ہیں جن میں 40 فیصد لوگ شدید غذائی تحفظ یا درمیانے درجے کے غذائی تحفظ کا شکار ہیں لیکن اب معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے کیونکہ ٹڈی دل انسانوں اور مویشیوں کی خوراک کے علاوہ قدرتی چرا گاہوں پر بھی حملہ آور ہیں جس سے شدید غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہےکیا کبھی سوچا ہم نے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم ایک آفت سے تو ابھی چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے کہ نئی آفت کا شکار ہو جاتے ہیں؟؟؟ ایک طرف کورونا کی وبا ہمارے لیے وبال جان بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف ٹڈیوں کے غول فصلوں کو اجاڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے بھوک اور خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں۔۔۔ہم سے وہ کون کون سے گناہ سرزد ہوئے کہ اللہ تعالی کی رحمت ہم سے روٹھ چکی ہے؟؟

    ہم نے اللہ تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی فلموں کے تھیٹروں میں ہم جاتے رہے، نمازوں کو ضائع ہم کرتے رہے، سودی لین دین ہم کرتے رہے، یتیموں کامال ہڑپ کرنا ہمارے معاشرے میں عام گناہ بن گیا فحاشی کے پروگرام ہم چلاتے رہے۔

    ان حالات میں ہم پر اللہ تعالی کی رحمت کا نزول ہو تو کیسے ہو؟؟ ایک طرف کشمیر میں ہندو بنیے نے دنیا کا بدترین کرفیو مسلط کیا لیکن عالم اسلام خواب غفلت میں مدہوش رہا۔کشمیر میں روز جنازے اٹھتے رہے معصوم بچے یتیم ہوتے رہے۔سہاگنوں کے سہاگ لٹتے رہے بہنیں اپنے بھائی اسلام اور پاکستان پرقربان کرتی رہیں مسلمان بیٹیوں کی عصمتیں پامال ہوتی رہیں دوسری طرف انڈین اداکار ہماری نوجوان نسل کے آئیڈیل بنے رہے اور انڈین فحش فلمیں ڈرامے اور گانے زندگی موت کا سوال مسلمان ممالک نے بھی اپنی اپنی معیشت کو بچانے کی خاطر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی پاکستان بھی چند مذمتی بیانات سے آگے نا بڑھ سکا یہاں تک کہ مظلوموں کی آہوں نے عرش الہی ہلا دیا اور خواب خرگوش کے مزے لوٹتی ہوئی دنیا خود کورونا وائرس کا شکار ہو کر لاک ڈاون کی مصیبت میں پھنس گئی اور وہ معیشت تہس نہس ہو گئی جس کو بچانے کے لیے ظلم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی ایسا محسوس ہوا جیسے اللہ رب العزت سوال کر رہے ہوں کہ کہاں گئی اب تمھاری معیشت جس کو بچانے کے تم نے قرآن پاک کی آیات سے منہ موڑا؟؟

    کاش کہ ہم اس وقت ہی سمجھ جاتے اور توبہ کا راستہ اختیار کر لیتے لیکن افسوس ہم نے اللہ تعالی کی پکڑ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی اصلاح اور محاسبے کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ کورونا وائرس کو ڈرامہ اور سازش کہنا شروع کر دیا ہم نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ یہ سازش کامیاب کیسے ہو گئی ہمیں قرآن پاک کی آیت یاد نہیں رہی
    مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
    کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالی کے اذن سے
    "سورہ التغابن آیت نمبر11”

    اور ہم حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور کورونا وائرس سے لڑ کر اس کو شکست دینے کی باتیں کرنے لگے۔۔ ہم بھول گئے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا قصہ جس نے عذاب کو آنکھوں سے دیکھ کر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام کی اسلام کی دعوت دینے پر کہا کہ میں اس پہاڑ پر چڑھ کے بچ جاوں گا اور اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دی اور عبرت کا نشان بن گیا ۔۔۔سوچیے اپنے آپ سے سوال کیجئے کیا ہم بھی اس نافرمان اور اور مشرک بیٹے کا عمل نہیں دھرا رہے تھے؟؟ کیا ہم بھی اپنی نافرمانی کے ذریعے اللہ تعالی کو نہیں للکار رہے تھے؟

    ہم نے اللہ تعالی کے غضب کو خود دعوت نہیں دی؟ ہماری ان اجتماعی نافرمانیوں کی وجہ سے ہم پر بے موسمی بارشوں اور ٹڈیوں کی مصیبت مسلط کر دی گئی اور اب قحط کے خوف سے پوری قوم پریشان ہے۔۔

    سوچ لینا چاہیے اگر یہ آفات سازش ہیں تو سازش کامیاب ہو چکی ہے۔ اگر وبا ہیں تو اثر انداز ہو چکی ہے اور اگر بلاء ہیں تو ہمارے سر پر آ چکی ہیں اور ان سے نجات کا واحد حل رجوع الی اللہ ہے۔۔
    توآئیے ہم پلٹ آئیں نماز کے راستے کی طرف، استغفار کے راستے کی طرف، توکل کے راستے کی طرف، صبر کے راستے کی طرف، توبہ کے راستے کی طرف، انابت الی اللہ کے راستے کی طرف، یہ راستے کھلے ہیں اگر ہم ان راستوں کے ذریعے پناہ طلب کریں تو اللہ تعالی بیماریوں کو مٹا دے آفات کو دور فرما دے گا ان شآءاللہ

    اللہ تعالی سے دعا ہے بیشک ہم گناہگار ہیں خطا کار ہیں لیکن آپکی طرف رجوع کرتے ہیں ہمیں اس آفت سے بچا لے یہ ہمارے لیے عذاب نا بنا اور ہمیں اس سے نجات دے دے۔۔۔۔۔۔۔
    آمییین یارب العالمین🤲
    ====================

    "وباٸیں،خطاٸیں اور دعاٸیں”

    ✒️✍️تحریر=”اخت عمیر”

  • اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے!!!  تحریر :غنی محمود قصوری

    اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے!!! تحریر :غنی محمود قصوری

    اللہ رب العزت نے یہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت بنائی جس میں ان گنت مخلوق تخلیق کی اور اس ساری مخلوق میں سے اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بنایا
    انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد ایک اللہ کی بندگی ہے اور اس خالق مالک رازق نے جو حکم دے دیئے وہ ماننا ہم پر فرض ہیں
    اللہ تعالی نے ہمیں ایک مرد اور ایک عورت سے دنیا میں پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ پرندوں،چرندوں،درندوں غرضیکہ ہر مخلوق کے جوڑے بنائے اور ہمارے دنیا میں آنے کا سبب بھی یہی جوڑے یعنی ہمارے ماں باپ ہیں
    اللہ تعالی نے ایک خاص نظام کے تحت ایک نطفے سے ماہ کے رحم میں بچے کی پرورش کی اور اس نطفے کا ذریعہ والد کو بنایا اس کے بعد بچے کی ماہ کے پیٹ میں پرورش ہوئی اور پھر نو ماہ بعد دنیا میں آنے کے بعد اس کے کھانے کا انتظام بھی اسی ماں کی چھاتی سے کیا اور اسی ماں کی چھاتی کو بچے کی پرورش کرنے کیلئے دودھ کا ذریعہ بنایا اور اس ماں کے کھانے کا اہتمام والد کے ذمے لگایا یوں ماں اور باپ دونوں بچے کی پرورش میں برابر کے شراکت دار ہیں اسی لئے اللہ رب العزت نے جہاں اپنی بندگی ،عبادت کا حکم دیا وہیں والدین کیساتھ حسن و سلوک کا بھی حکم دیا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی کہ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو سال ہے ،کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر اور تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔۔سورہ لقمان آیت 34
    یہ آیت ہم پر واضع کرتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کا حکم دیا تو وہی والدین کے دکھ درد کا احساس دلاتے ہوئے ان کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ان پر احسان کرو کیونکہ تیری ماں نے دوران حمل ہزار ہا تکلیفیں برداشت کیں تیرے والد نے تیری والدہ کیلئے روٹی کپڑے کے علاوہ ادویات کا بندوست کیا تاکہ ماں کے پیٹ میں تو خوراک حاصل کر سکے اور دوران حمل لاکھ پرہیز کرکے تجھے تیری ماں نے جنم دیا اور دنیا میں آتے ہی تجھے ماں کی چھاتی سے دودھ کی صورت میں خوراک پہنچائی اور اس خوراک پہنچانے والی ماں کو تیرے والد نے روٹی کھلائی اچھے سے اچھا پھل کھلایا تاکہ وہ یہ چیزیں کھائے اور اپنے دودھ سے ان چیزوں کی طاقت تیرے جسم میں منتقل کرسکے
    اور اب تو بڑا ہونا شروع ہو گیا تیرے والد نے تیری فرمائشیں پوری کرنا شروع کر دیں تجھے پڑھایا لکھایا بڑا آدمی بنایا اور تیری شادی کر دی اور پھر تجھ سے بنی نوع انسان کی پرورش کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اب وقت آ گیا کہ تجھے احساس ہونے لگا کہ تیری بیوی جسطرح دوران حمل تکلیف سے رہی اسی طرح تیری ماں بھی تکلیف سے تھی جسطرح تو اپنی بیوی کو ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لیجاتا ہے کہ تیرا بچہ مادر شکم میں تندرست رہے بلکل اسی طرح تیرا والد بھی تیری والدہ کو ڈاکٹر سے چیک کرواتا رہا اسے دوائی کیساتھ دودھ ،پھل لاکر دیتا رہا کہ میرے بچے کی پرورش اچھی ہو اس کیلئے جیسے تو محنت مزدوری کرتا ہے ویسے ہی تیرا والد تیری خاطر بغیر دن رات کی تمیز کئے محنت کرتا رہا اور تجھے اس قابل بنایا
    یقیناً بچے کی پرورش ماں اور باپ دونوں پر فرض ہے اسی لئے
    ماں کی گود کو بچے کی پہلے درسگاہ اور جنت ماں کے قدموں تلے بتائی گئی اور اس جنت کا دروازہ باپ کو قرار دیا گیا ہے
    سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ
    وہ تمہارے پاس بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نا کہو اور نا انہیں جھڑکو بلکہ ان کے ساتھ عزت سے بات کرو اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو
    اللہ تعالیٰ نے والدین کی خدمت کا خاص حکم دیا تاکہ جیسے بچپن میں انہوں نے تمہاری پرورش کی اسی طرح تم بھی بڑھاپے میں ان کو سکون و راحت پہنچاؤ
    ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟آپ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو وہ والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہیں اور جو بھلائی تم کرتے ہو یقیناً اللہ تعالی اس کو خوب جاننے والا ہے ۔۔سورہ البقرہ آیت 215
    اس آیت میں ہم غور کریں تو اللہ تعالی نے ہمیں مال کو بھلائی کی خاطر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس حکم میں سب سے پہلے نام والدین کا لیا ہے اس کے بعد پھر رشتہ دار مساکین و یتیم وغیرہ ہیں یعنی بھلائی کرنے میں بھی سب سے پہلے حقدار والدین ہی ٹھہرے ہیں باقی سب بعد میں
    مذید احادیث رسول کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر والدین تمہاری ساری دولت یک مشت لے لیں تو یہ ان کا حق ہے تم ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے حقوق پر بہت زور دیا اپنے والدین تو اپنے کسی کے والدین کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے
    رسول اللہ فرماتے ہیں یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شحض اپنے والدین پر لعنت بیجھے اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ کوئی اپنے والدین پہ لعنت کیسے بیجھے گا؟ تو نبی ذیشان نے فرمایا وہ شحض دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا ۔۔صحیح بخاری 5973
    یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی کسی کے ماں باپ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اپنے ماں باپ کے بدلے وہ اس کہنے والے کے ماں باپ کو برا بھلا کہا گے اور کسی کے والدین کو برا بھلا کہنے والے کو اپنے والدین کو برا بھلا کہنے کے مترادف قرار دیا ہے
    آخرت میں جنت حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالی کے ماں باپ کا بھی راضی ہونا لازمی ہے کیونکہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور باپ اس جنت کا دروازہ اب جنت میں جانے کیلئے جنت والے یعنی ماں کا راضی ہونا لازمی ہے اور جب جنت یعنی ماں راضی ہو گئی تو پھر اس داخلے کیلئے دروازے کا کھلنا لازمی ہے اور جنت کا دروازہ باپ ہے اور دروازہ تبھی کھلتا ہے جب آنے والے پر کوئی ناراضی نا ہو
    تو اگر جنت حاصل کرنی ہے تو اللہ رب العزت کو راضی کرنے کے بعد بندوں میں سے سب سے پہلے ماں باپ کا راضی ہونا لازم ہے پھر اس کے بعد دوسروں کے معاملات ہیں
    اللہ تعالی ہمیں اپنی جنت اور اس کے دروازے کی خدمت کرکے انہیں راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے لاکھوں دکھ درد سہتے ہوئے ہمیں اللہ تعالی کے بعد پالا پوسا پڑھایا لکھایا اور اس قابل کر دیا کہ ہم دنیا میں عیش و عشرت حاصل کر سکیں
    جن کے ماں باپ حیات ہیں اللہ تعالی ان کی اولادوں کو انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو چکے ان کی مغفرت فرمائے کیونکہ اسلام و توحید کے بعد یہ سب سے قیمتی اثاثہ ہیں
    آمین

  • اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    اولاد باپ کی نافرمان کیسے بنتی ہے!!! سماجی مسائل کو اجاگر کرتی ساجد مقبول کی تحریر

    دراصل باپ سمجھتا ہے میرا کام صرف کمانا ہے اور کما کر بچوں کو کھلانا ہے باپ یہ بھول ہی جاتا ہے میری اولاد میری دوست بھی ہے باپ دن رات محنت کرتا ہے جب بچے سو رہے ہوتے ہیں باپ کمائی کرنے نکل جاتا ہے اور جب باپ کمائی کر کے گھر لوٹتا ہے تو بچے سو چکے ہوتے ہیں نا باپ نے بچوں کا لاڈ دیکھا نا بچوں نے باپ کی شفقت دیکھی ماں گھر کے کام کاج میں اتنی مصروف ہوتی ہے کہ وہ بیچاری بچوں کی صحیح طرح تربیت نہیں کر پاتی البتہ پھر بھی ماں گھر میں موجود ہوتی ہے تو اس لیے بچوں کو ماں کا پیار مل تو جاتا ہے لیکن باپ کی شفقت باپ کا پیار نہیں ملتا بچے باپ کی تربیت سے محروم ہو جاتے ہیں اور بچے آہستہ آہستہ باپ سے اور باپ بچوں سے اجنبی سا ہو جاتا ہے پھر جب بچے ماں کو زیادہ تنگ کرتے ہیں تو ماں تھک ہار کے باپ کو شکائیت لگاتی ہے تو باپ پہلے ہی روزی روٹی کما کما کر تھکا ہوتا ہے باپ کو پتہ ہی نہیں ہوتا میرے بچوں کو کس تربیت اور شفقت کی ضرورت ہے اور والد صاحب بیوی سے بچوں کی شکائتیں سن کر لنگوٹا کس لیتے ہیں اور بچوں کی مار کٹائی کر دیتے ہیں بچے تو پہلے ہی باپ کی شفقت اور دوستی سے محروم ہوئے ہوتے ہیں تو بچے اور زیادہ باپ سے دور بھاگنے لگ جاتے ہیں اور باپ سمجھتا ہے میرے بچے نافرمان ہیں لیکن اصل مجرم باپ ہی ہوتا ہے جو بچوں کھلاتا تو ہے لیکن تربیت اور اپنے پیار سے محروم رکھتا ہے لہذا اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں ان سے دوستی کریں ان کے گلے شکوے سنیں ان کے ساتھ سیر و تفریح پر جائیں ہنسی مزاح گپ شپ کی محفل لگائیں اور بچوں کو کاروبار سے زیادہ ٹائم دیں کیونکہ باپ اولاد کے لیے وہ درخت ہوتا ہے جو چھاؤں بھی دیتا ہے اور پھل بھی ۔۔۔۔۔