Baaghi TV

Category: متفرق

  • سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب (مورخہ سات اپریل دو ہزار بیس)—-از— بلال شوکت آزاد

    سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب (مورخہ سات اپریل دو ہزار بیس)—-از— بلال شوکت آزاد

    کل ایک نشست ہائے سوال و جواب منعقد کی تھی جس میں سنجیدہ اور علم کے متلاشی احباب نے بھرپور شرکت کرکے حوصلہ افزائی کی اور بہت سے دلچسپ اور اہم سوالات کیے جن کے جواب دیکر مجھے بے خوشی, طمانیت اور علمی تازگی کا احساس ہوا۔

    میں ان سوالات اور جوابات کا سیاق و سباق بطور تحریر پیش کررہا ہوں تاکہ دیگر احباب بھی استفادہ لیں۔

    میں سوالات اور جوابات بالترتیب درج کررہا ہوں ضروری ترمیم اور نام حذف کرکے۔

    تو پہلا سوال کچھ یوں تھا کہ

    سوال: کیا خلافت کی جدوجہد کرنے کا حکم اسلام میں ملتا ہے ؟

    جواب: نہیں, میرے ناقص علم کے مطابق خلافت کوئی انسانی ساختہ نظام نہیں لہذا اسکے لیے جد و جہد کا کشٹ اللہ نے انسان کے ذمہ لگایا ہی نہیں۔

    خلافت تسلیم و رضا اور پیہم عمل اور فرمانبرداری کا نظام ہے جبکہ جس چیز کے حصول میں طمع لالچ اور جدوجہد آجائے وہ فتنہ بن جاتا ہے رحمت نہیں جبکہ ہم جانتے ہیں خلافت ناصرف مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام انسانوں کے لیے رحمت ثابت ہوئی تھی۔

    جمہوریت اور وطن کے حصول میں جدوجہد کا عمل دخل ہے لہذا ان میں کمزوریاں اور فتنے بھی ان گنت ہیں۔

    قصہ مختصر خلافت کو جدوجہد کی ضرورت نہیں بلکہ یہ شریعت پر عمل کرنے سے خودبخود نافذ العمل ہوسکتی ہے۔

    بیشک ہم اہل القرآن کا یہ ایمان اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم تعامل مع الحکام پر زور دیں اور عمل کریں۔

    یہ بذات خود ایک فتنہ ہے کہ ہم خلافت کی خواہش اور جدوجہد کرتے پھریں۔
    ابھی تک جن جن نے خلافت کا نعرہ لگا کر جدوجہد کی انہوں نے کیا پایا اور مسلمانوں کو کیا فائدہ دیا؟

    ایک تنکے کا بھی نہیں۔

    سوال: کیا کورونا وائرس "نیو ورلڈ آرڈر” کی طرف اشارہ ہے؟

    جواب: پوری طرح نہیں, مبینہ اور خود ساختہ سپر پاورز اور سیکرٹ سوسائٹیز صرف موقع پیدا نہیں کرتی طاقت کے حصول کی خاطر بلکہ بعض اوقات قدرتی و فطرتی عوامل اور مصائب کا فائدہ بھی اٹھاتی ہیں۔

    نیو ورلڈ آرڈر دراصل کچھ بھی نہیں ماسوائے سپرمیسی کی دوڑ کے۔

    فلحال تو انسانی بقاء اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔کورونا وائرس صرف اللہ سے رجوع کرنے اور حقوق العباد نبھانے کا اشارہ ہے۔

    سوال: پاکستان اور پوری دنیا سے کورونا وائرس کا مکمل خاتمہ کب تک ممکن ہے؟ کوئی آئیڈیا یا تحقیق؟

    جواب: یہ ایک آفاقی وباء ہے, کسی انسان کی اختراع نہیں۔

    اور قرین قیاس یہی جواب بنتا ہے کہ جو چیز آفاق سے سر پر مسلط ہو وہ آفاق والے کو منا کر ہی سر سے اتاری جاسکتی ہے۔

    سردست آفاق والا یہی چاہتا ہے کہ ہم صلہ رحمی, اخوت, ایثار اور ایمان کامل کے ساتھ نہایت صبر اور تشکر سے رہیں۔

    البتہ دنیاوی لحاظ سے بتاتا چلوں کہ جب تک چین آف انفیکشن نہیں ٹوٹتی اور جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی یہ وباء ٹلنے یا ختم ہونے والی نہیں۔

    سوال: اس کے لیے کئی ویکسین تیار ہوئی بھی ہے یا صرف قیاس آرائیاں ہیں اور اگر نہیں تو کب تک ممکن ہے؟

    جواب: ویکسین کی دریافت اور تیاری میں اس وقت درجن سے زائد ممالک شامل ہیں۔
    دراصل ویکسین اسی وائرس یا بیکٹیریا کے کمزور جراثیم ہوتے ہیں جنہیں تھوڑی بہت ڈی این اے موڈیفیکیشن کے بعد انسان میں داخل کردیا جاتا ہے تاکہ اگر انسان کو کبھی متعلقہ وائرس یا بیکٹیریا لاحق ہو تو وہ بے اثر ہوکر زائل ہوجائے کیونکہ ویکیسن قوت مدافعت کو مستحکم کردیتی ہے اور مرض کمزور ہوجاتا ہے۔

    سوال: کیا ھمارے اداروں میں امتیازی عہدوں پر قادیانی قابض ہیں, اگر ہاں تو ایسا کیوں ہے اور جنکو پتہ ھے اس بارے تو وہ کیوں ایکشن نہیں لیتے یا عوام تک یہ بات کیوں نہیں پہنچاتے؟

    جواب: پہلے سوال کا جواب ہے کہ نہیں ہمارے اداروں میں سپر سیڈ یا امتیازی عہدوں پر اعلانیہ قادیانی تعینات نہیں تو قبضہ کی صورتحال ہی ندارد۔

    تو جیسا میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ محض افواہ ہے تو ایکشن اور نوٹیفیکیشن کی ضرورت ہی نہیں بچتی۔

    سوال: بھائی اب اعلانیہ کون کہے گا کہ وہ قادیانی ہے؟

    جواب: تو آپ کس طرح کسی کے باطل میں جھانک سکتے ہیں؟, میرے ناقص علم میں ہے کہ ہمارے لیے ظاہر ہی کافی ہے جب تک اگلا اعلان نہ کردے کہ وہ کافر ہے وغیرہ وغیرہ۔

    سوال: اچھا دوسری بات اگناسٹکس کے خدا کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

    جواب: اگناسٹکس دراصل متذبذب اور متشکک ہوتے ہیں۔ مطلب یہ نا تو خدا کے مکمل طور پر انکاری ہوتے ہیں اور نا ہی مکمل طور پر اقراری, ان کا خدا پر یقین تحقیق سے مشروط ہوتا ہے اسی لیے انہیں اگناسٹکس کہا جاتا ہے۔

    جبکہ ایتھسٹ خدا کے صاف انکاری ہوتے ہیں اور انہیں خدا کے وجود سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بیشک دلیل سے ثابت کردیا جائے تب بھی لیکن اگناسٹک دلیل ملنے پر خدا پر یقین کرنے کو تیار رہتے ہیں پر دلیل صیقل ہو تب۔

    سوال: مبشر زیدی کے بارے کیا خیال ہے, 100 لفظوں کی کہانی والا؟

    جواب: وہ دراصل متشکک یا اگناسٹک ہی ہے پر اس کا عمل ایتھسٹ ہونے کی چغلی کھاتا ہے باقی واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: کچھ لوگوں کے نزدیک دجال کا ظاہری و جسمانی وجود نہیں اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

    جواب: بلکل متضاد, کیونکہ میں قرآن و حدیث کا طالبلعلم اور ماننے والا ہوں۔ احادیث میں دجال کی بابت بہت واضح اشارے اور احکامات موجود ہیں۔

    دجال دراصل دجل یا دجلے کی جمع ہے جبکہ دجل یا دجلہ فریب اور دھوکے کو کہتے ہیں مطلب دجال ایک مخلوق ہوگی جو کثیر الفتنہ کردار ہوگا, باقی واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: شریعت میں جمہوریت کی کیا حیثیت ہے ؟ نیز اگر ملک میں جمہوری نظام نافذ ہو تو امیر (جمہوری حکومت ) کے خلاف خروج کر کے اسلامی شریعتی نظام کے نفاذ کی کوشش کرنا درست ہو گا؟

    جواب: جمہوریت ایک باطل اور انسانی ساختہ نظام ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں لیکن ہم اس وقت اضطراری کیفیت کا شکار ہیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کی بدولت تو ہم اس نظام کے تحت زندہ رہ سکتے ہیں "نفرت کی نگاہ” سے اس نظام کو دیکھتے ہوئے پر اس کا حصہ بننا صریح گمراہی اور عمل بد ہے۔

    اور جہاں تک بات ہے جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کرنا تو اسلام کا اصول واضح ہے کہ حکومت خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی, ہم پر خروج یا بغاوت حلال نہیں بلکہ حکومت جیسی بھی ہو ہمیں تعامل مع الحکام کا حکم ہے مطلب بلا چوں چراں اور لعن طعن کے حکمران اور امیر کی اطاعت فرض ہے ماسوائے شعار اسلام پر قدغن کے لیکن خروج کا حکم تب بھی موجود اور حلال نہیں, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: آپ کی ساری باتوں پر اتفاق کرتا ہوں پر جب اسلامی ملک ہو اور اس پر انسانوں کا بنایا ہوا قانون لاگو کیا جائے جبکہ اسلام اس چیز کی سخت مخالفت کرتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون و آئین میں خامیاں ہو سکتی ہیں تو پھر ایسا کیوں ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف آپ یا ہم بغاوت نہیں کر سکتے, تھوڑی وضاحت کر دیں؟

    جواب : کیونکہ بغاوت اور خروج اسلام کا مزاج نہیں۔ اسلام اگر افراد پر لاگو نہیں ہوسکتا تو کم سے کم فرد اسلام کو خود پر ضرور لاگو کرے۔

    اسی اصول کی بنیاد پر تعامل مع الحکام کا حکم وضع ہوتا ہے۔ ہماری ذاتی پسند ناپسند یا علمی ضد کے لیے اسلام کا مزاج اور فطرت نہیں بدلی جاسکتی۔

    اور ثانیاً بتادوں کہ خلافت اب کبھی نہیں آئے گی اور نہ ہی اسلامی ملوکیت کی گنجائش نظر آتی ہے اس لیے جو نظام رائج ہے اس کو پسند کیے بغیر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اصطراری کیفیت میں ماننا اور اس کے تحت بنے حکمران کی اطاعت کرنا واجب ہے, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: اگر کوئی حکمران اور اس کے ماتحت ادارے عوام کی خدمت کرنے سے قاصر ہوں اور ایسا مسلسل ہو رہا ہو تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیئے؟

    جواب: صبر اور شکر اور اپنے کام سے کام رکھیں, اسلام کا یہی حکم ہے۔

    جہاد کی آٹھ وجوہات میں ایک بھی وجہ ایسی نہیں جو یہ بتائے کہ ہم جہاں رہتے ہیں وہیں ہتھیار اٹھا لیں, واللہ عالم بلصواب۔

    سوال: یہاں ہر دوسرا شخص یہ بات کر رہا ہے کہ کوئی کرونا نہیں ہے گورنمنٹ اپنے آقاؤں (امریکہ) کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کُچھ کر رہی ہے, صرف میڈیا وار ہے, جسکا عملی نمونہ بھی نظر آیا, مطلب کسی کو کوئی فکر نہیں, بس عوامی مقامات بند ہیں, آپ کیا کہتے ہیں؟

    جواب: میں جز وقتی دانشور ہونے کے علاوہ کل وقتی طبی و ادویاتی نمائندہ بھی ہوں, سارا دن ہسپتال و ڈاکٹرز اور مریضوں میں گزرتا ہے۔کورونا کوئی ڈرامہ اور گریٹ گیم نہیں بلکہ فطرت کا انسان سے بدلہ ہے۔ کورونا ایک سنگین جان لیوا مرض ہے اور میں خود کافی مریضوں کا گواہ ہوں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کورونا کچھ نہیں وغیرہ وغیرہ وہ جاہل ہیں۔ اور کچھ اثرات سازشی تھیوریز اکا بھی ہے۔

    جہاں تک بات ہے لاک ڈاؤن میں تفاوت کا تو لاک ڈاؤن کا حکم سب کے لیے ایک جیسا ہے پر یہ عوام ڈنڈے کے بغیر نہیں سمجھتی۔

    جب تک بڑے شہروں میں کرفیو نہیں لگتا اور باقی شہروں کو سخت لاک ڈاؤن نہیں کیا جاتا اس وبا پر کنٹرول ناممکن ہے۔

    سوال: ہر سوال کا کوئی نا کوئی جواب ہوتا ہے, بس اتنا بتا دیں کہ (لفظ سوال) کا مطلب کیا ہے؟

    جواب: سوال کا لفظی مطلب ہے کہ پوچھنا ، معلوم کرنا ، دریافت کرنا جبکہ قران پاک میں ہے کہ یایھا الذین امنوا لا تسالوا عن اشیاء ان تبدلکم تسئوکم مطلب ایسی باتیں تم دریافت نہ کرو کہ تم کو بتادی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں اور دوسری جگہ ہے کہ فاسال بہ خبیرا مطلب اسے کسی باخبر سے پوچھو۔

    سوال: لیڈر شپ کا فقدان کیوں ہے, کیوں مخلص قیادت نہیں؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

    جواب: اللہ پر یقین کامل, سنت سے محبت, شریعت کی ضرورت اور اخلاق کی قدرو منزلت میں جب کمی آجائے اور انسان کو لگے کہ وہ عقل کل ہے تب قیادت اور مخلص قیادت کا بحران ہی جنم لیتا ہے۔

    مانو یا نا مانو جب اوپر مذکورہ عوامل پر ہماری گرفت تھی تب ہم مخلص قائدین سے قطعی محروم نہیں تھے۔

    سوال: نفس کی پاکیزگی کیا ہے؟

    جواب: نفس پاکیزگی یہ ہے کہ ہم دوسروں کے نفس مت ٹٹولیں مطلب ٹوہ اور تجسس سے گریز کرکے خوش گمان رہیں اور نیک اعمال کی دعوت دیں اور خود بھی نیک اعمال پر عمل کریں۔

    نفس ناپاک ہی تب ہوتا ہے جب ہم اس کو دوسرے کے نفس کی جاسوسی کرنے اور خودساختہ نتائج سمجھنے پر لگاتے ہیں۔

    سوال: کیا موجودہ نظام جمہوریت سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے یا اس جمہوری نظام میں تبدیلی لا کر؟ کیا کہتے ہیں آپ اس پر؟

    جواب: پاکستان کی ترقی اب نظام سے زیادہ افراد اور ان کی ایمانداری سے جڑی ہے۔
    موجودہ زمانے میں نظام خواہ خلافت کا بھی ہوا لیکن افراد ایماندار نہ ہوئے تو ترقی کے بجائے تنزلی طے ہے۔

    سوال: عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سیاست اور خود مختاری پر کیسے اثر انداز ہوتی ھے
    اور کتنا کنٹرول ھے عالمی اسٹیبلشمنٹ کا؟ اور سیاست میں کچھ ایسے لوگ جو اداروں کو بھی پتہ ھے کے یہ دشمن ملک کے الہ کار ہیں پھر بھی انکو دوسرے ممالک کی طرح کیوں نہیں پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جاتا؟

    جواب: بہت سے طریقے ہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پاکستان پر حاوی ہونے کے لیکن ایک رائج طریقہ ہے گھر میں کمند ڈالنا یا سیندھ لگانا۔ غدار وہ واحد سہارہ ہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ کا جو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ٹف ٹائم دیتے ہیں۔

    اور یہ کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ میں بھی انسان ہی ہیں جن سے صحیح غلط سب کی بعید ہے لہذا ان میں چھپی کالی بھیڑوں کی بدولت غدار اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ایجنڈے تاحال محفوظ اور کارگر ہیں۔

    ہمارے محب وطن اور ایماندار لوگ کام کررہے ہیں اور ان جونکوں کا صفایا خاموشی سے کرنے کی کوشش کررہے ہیں پر وقت لگے گا۔

    سوال: دنیا تو ہے ہی کافر, پاکستان میں بنے گستاخانہ پیجز اور پاکستان مخالف نعرے مارنے والوں کا اسٹیبلشمنٹ, سیکیورٹی ایجنسیز اور نمبر ون کچھ بھی نہیں اکھاڑ پاتی, آپکے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟

    جواب: جواب ہے کہ بوجہ جمہوریت وہ قاصر یا معذور ہیں بہت سے معاملات پر سخت اور خودکار و رضاکارانہ ایکشن لینے میں۔ قصہ المختصر تمام ادارے اور ایجنسیز جمہوری ایوانوں کے ماتحت ہیں لہذا ان سے ہر کام کی توقع رکھنا سراسر کج فہمی اور بیوقوفی ہے۔

    سوال: ہم نے تو سنا ہے جمہوریت آتی ہی ان (اسٹیبلشمنٹ, سیکیورٹی ایجنسیز اور نمبر ون) سے ہے, کیا یہ جھوٹ ہے؟

    جواب: یہ کتنا جھوٹ ہے اور کتنا سچ ہے یہ میں نہیں بتاسکتا پر اتنا بتادوں کہ جمہوریت ایک عفریتی چکر ہے اور یہ دنیا کی طرح گول ہے, گھوم پھر کر وہیں واپس لاتی ہے جہاں سے سب شروع ہوتا ہے۔

    آخری سوال یہ تھا کہ

    سوال: آپ کے نذدیک کورونا وائرس خدا کا عذاب ہے یا اسرائیل کی سازش یا پھر چائینہ اس میں ملوث ہے؟ یہ کیا کہانی ہے؟

    جواب: یہ فطرت کا ایکو سسٹم ہے۔
    جب سے یہ کائنات بنی ہے اور دنیا سجی ہے تب سے کچھ بھی ایسا نہیں جس کی تخلیق اللہ نے نہیں کی۔

    بے جان اشیاء کی ایجاد تو انسان کرسکتا ہے پر جاندار مخلوق انسان کی ایجاد کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔

    وائرس اور بیکٹیریا جیسا خوربینی جاندار تو بہت دور انسان ایک سانس خود نہیں بناسکتا جس پر یہ زندہ ہے۔

    البتہ یہ جو اس وقت ہورہا ہے یہ نہ عذاب ہے, نہ یہودی و اسرائیلی سازش اور نہ ہی کوئی جنگ۔

    یہ اللہ کی قدرت ہے کہ مبینہ طور پر ہر سو سال بعد بعد زمین خود کو ری سیٹ کرتی ہے اوپر اور نیچے سے تب وبائیں اور مصیبتیں پھوٹنا ایک عام سی بات ہے۔

    "محدود رہیے اور محفوظ رہیے”, یہ اللہ کا حکم نبیوں کو بھی ہوتا تھا جب اللہ واقعی عذاب مسلط کرتا تھا اب عذاب تو معلوم نہیں پر فطرت کا احتساب چلتا ہے تو کیفیت عذاب والی ہی بنتی ہے لہذا احتیاط اور محدود رہنے میں ہی عافیت ہے۔

    تو یہ تھے کچھ سنجیدہ نوعیت کے دلچسپ سوال جن کے ممکنہ جوابات دیکر مجھے بے حد خوشی اور طمانیت ہوئی اور میرا دماغ بھی تازہ ہوا۔

    امید ہے کہ احباب کو یہ نیا سلسلہ ضرور پسند آئے گا کیونکہ میں اس کو ایک دن چھوڑ کر مستقلاً چلانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

    سیاق و سباق نشست ہائے سوال و جواب (مورخہ سات اپریل دو ہزار بیس)

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں—–از—- حفیظ اللہ سعید

    آپ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے کہ پوری دنیا کے ڈاکٹرز حکومتی کرتا دھرتا اور میڈیا والے شور مچا رہے ہیں ہاتھ دھوئیں بار بار دھوئیں بلکہ 20 سے 30 سکینڈ تک لگاتار دھوئیں.جبکہ میں آپ کو بول رہا ہوں پانی سے ہاتھ ہرگز مت دھوئیں

    تو صاحبو! معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہم کرونا سے بچاؤ کے لیے دن میں کافی بار ہاتھ دھو رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ اس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ آپ پانی کا استعمال محفوظ طریقے سے کریں کیونکہ صاف پانی اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اس کا بے جا استعمال اس کی مقدار کم کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے.جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہمارے شہری علاقوں میں پانی کی سطح دن بہ دن کم ہوتی چلی جا رہی ہے تو اس کا حل ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے جن کو دھونے کے لیے ہم فضول خرچی کی حد سے بھی بڑھ کر پانی استعمال کر رہے ہیں

    کرنا آپ کو بس یہ ہوگا کہ جب بھی آپ ہاتھ دھوئیں تو ہاتھوں کو گیلا کرنے کے بعد صابن لگائیں اور صابن لگے ہاتھ کے ساتھ نل ( ٹوٹی ) کے ہیڈ یا ہینڈل کو اپنے ہاتھ سے بند کر دیں اس سے ہوگا یہ کہ 20 سے 30 سیکنڈ کا جو وقت ہاتھ دھونے میں ہم صرف کریں گے

    اس دورانیہ میں پانی کا ضیاع نہیں ہوگا. اور جب آپ نل کو دوبارہ کھولیں گے تو نل کے ہیڈ پہ دوبارہ صابن لگے ہاتھ لگیں گے تو ہیڈ کے جراثیم اپنی موت آپ مر چکے ہوں گے ان شاء اللہ. اب آپ پانی کے ساتھ ہاتھوں پہ لگا صابن صاف کریں اور نل کے ہیڈ پہ بھی چلو بھر کے پانی ڈال دیں اور لگے ہاتھوں نل کو بند کر دیں. اس ساری مشق کے دوران ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے ایک تو پانی ضائع نہیں ہوگا

    دوسرا نل بند کرتے ہوئے اس کے ہیڈ پہ لگے جراثیم آپ کے ہاتھوں پہ منتقل نہیں ہوں گےاب سمجھ آئی کہ میں کیوں بول رہا ہوں پانی سے ہرگز ہاتھ مت دھوئیں

    #سچیاں_گلاں
    پانی سے ہاتھ ہرگز نہ دھوئیں
    حفیظ اللہ سعید

  • کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    کرونا وائرس،علماء اور حکمرانوں کے پھڈے. تحریر: انجینئر ذیشان وارث

    علماء اور حکمرانوں کے پھڈے

    دنیا بھر میں کرونا نے خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے۔ طبی ماہرین نے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے جو طریقے بتائے ہیں، ان میں سب سے موثر آئسولیشن یعنی افراد کا ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنا بتایا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر کسی ایک بندے کو بیماری ہے وہ یا تو اپنا علاج کروالے گا یا شہادت سے سرفراز ہو جائے گا۔ کسی دوسرے میں بیماری منتقل نہیں کرے گا۔

    اب اس بات پر حکمرانوں نے کہا کہ عوام میل ملاپ کم کر دیں۔ میل ملاپ کی جگہوں میں مساجد بھی آتی ہیں۔ اب علما کو لگا کہ اگر دو چار ہفتے کیلئے مساجد بند ہو گئیں تو شاید اسلام کا وجود مٹ جائے گا۔ لہٰزا کچھ علما نے اس فیصلے کا بائیکاٹ فرمادیا۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی ہے جس میں مولوی صاحب فرمارہے آیسولیشن اور سوشل ڈسٹینسنگ دی پین سی سری۔ اور یہ کہ "دوری نا رہے کوئی آج اتنے قریب آؤ”۔ کندھے سے کندھا اور گٹے سے گٹا ملاؤ۔

    علماء اور حکمرانوں کے یہ پھڈے آج کے نہیں ہیں شروع سے چلے آرہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ علماء کا کام صرف فتوٰی لگانا ہوتا ہے۔ زمینی حقائق یا فتوے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال سے حکمرانوں کو ہی نمٹنا پڑتا ہے۔ تاریخ اسلام میں بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ علماء اور حکمرانوں میں ٹھن گئی۔ حجاج بن یوسف کی سختی مشہور ہوئی۔ اس کے پیچھے وجہ یہ تھی ہ وہ ہر بات کا جواب تلوار سے دیتا تھا۔ اس کے زیرِنظر واحد مقصد سلطنت کا استحکام تھا۔

    یہی وجہ ہے کہ اس وقت محمد بن قاسم نے جب ہندوستان کے کچھ علاقے فتح کیے تو اس نے کچھ ایسے انتظامی فیصلے کیے جو کہ اگر علماء کی نظر سے دیکھے جائیں تو کالعدم ہوجائیں۔ مثلا کچھ جگہوں پہ جزیہ معاف کرنا یا غیرمسلموں کو عہدے دینا۔ دلی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تو علماء کو خصوصی مقام دیا گیا۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں وہاں علماء نے حکمرانوں کے فیصلوں پر انگلی اٹھانا شروع کردی۔ شمس الدین التتمش کے دور میں حالات اتنے کشیدہ ہوئے کہ اس کے وزیراعظم نے علماء کو اکٹھا کرکے سمجھایا کہ حکومت کو بھی اسلام کا درد ہے لہٰزا آپ ہر کام میں مداخلت نا فرمائیں۔

    تاریخی طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ جہاں بھی مسلمانوں کی کامیاب سلطنتیں قائم ہوئیں وہاں حکمرانوں نے علماء کو انتظامی معاملات سے علیحدہ رکھا۔ جہاں جہاں علماء کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا موقع ملا، اکثروبیشتر خرابی ہی ہوئی۔ مشہور مؤرخ ایس ایم اکرام نے ہندوستانی تاریخ پہ لکھی گئی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اورنگ زیب جب بادشاہ بنا تو اس نے علماء کے کہنے پہ اسی (80) کے قریب ٹیکس معاف کردیے اور جزیہ و زکات باقی رکھے۔ انتظامی لحاظ سے یہ فیصلہ دو دھاری تلوار ثابت ہوا کیونکہ اس سے ریاستی فنڈز بھی کم ہوئے اور ہندو رعایا میں بہت زیادہ بے چینی اور بغاوت پھیلی۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ تنقید کرنے والے ایس ایم اکرام اورنگ زیب کے ممدوحین میں سے ہیں اور کچھ مؤرخین نے تو ان پر اورنگ زیب کا اپالوجسٹ ہونے کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

    اس کے علاوہ پاکستان میں بھٹو نے علماء کے بہت سارے مطالبات کوتسلیم کیا۔ ختم نبوت ترمیم، شراب اور جوئے پر پابندی، جمعے کی چھٹی اور اسلامی کانفرنس کا انعقاد۔ مگر علما کے مطالبات ھل من مزید کے تحت بڑھتے گئے یہاں تک کے بھٹو پھانسی پہ جھول گیا۔ اس کے بعد ضاء نے اسلامائزیشن کا عمل شروع کیا تو قسما قسم کے جہادی برانڈز متعارف کروائے گئے۔ جنہوں آگے بڑھ کر حقیقت میں پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، قتل و غارت گری کی وہ مثالیں قائم کیں کہ چنگیز خان کی روح خوش ہو گئی ہوگی۔ اس کے علاوہ خارجہ محاذ پہ پاکستان کو جو نقصان ہوا اسکا ازالہ آج تک پاکستان کررہا ہے۔

    سب سے بڑا ہاتھ سعودی عرب کے ساتھ ہوا۔ پوری دنیا میں جن لوگوں کو اس نے پیٹرول سے کمائے گئے پیسے کھلائے وہی اس کی گردن کو آگئے۔ جہیمین سے لیکر القاعدہ اور اخوان المسلموں سب سعودیہ کہ یہود سے بڑے کافر سمجھتے ہیں جبکہ ان سب کی پرورش سعودی ریالوں سے ہوتی رہی۔

    یہ کہانی بہت لمبی ہے شاید پوری کتاب کا موضوع ہے۔ مختصرا تجزیہ کیا جائے تو دو وجوہات سمجھ میں آتی ہیں کہ علماء ایس کیوں کرتے ہیں۔ ایک خبطِ عظمت، دوسری زعمِ تقوٰی۔ لب لباب یہ ہے مولوی صاحب جتنی مرضی جزباتی تقریریں فرمالیں، اگر گٹے سے گٹا ملاتے وقت آپ کو کرونا لگ گیا تو یہ آیسولیشن وارڈ میں آپ کے پاس بھی شاید نہ آئیں۔ اس وقت حکومت کو گالیاں نکالنے سے اچھا ہے کہ ابھی ان کی بات مان لیں۔

    آخر میں سوچنےوالی بات یہ ہے کہ آخر عوام علماء حضرات کے پیچھے چل کے حکومتوں کو کیوں یہودی ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ بدگمانی ہے جو حکمرانوں کے متعلق پید کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شاید اسلام سے ویسی محبت نہیں رکھتے جیسی علماء رکھتے ہیں۔ مشرف اور حجاج بن یوسف جیسے حکمراں اس سوچ کو جواز بخشتے ہیں۔ یہ جھگڑے تو چلتے ہی رہیں گے۔ اس وقت لازمی چیز یہ ہے کہ اپنی حفاظت کی جائے۔ جس دن اسلام اتنا کمزور ہوگیا کہ اسے ہماری حفاظت کی ضرورت پڑجائے، اس سے پہلے قیامت آچکی ہوگی۔

    ذیشان وارث

  • کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس کا حملہ اس وقت بہت شدید ہوچکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے اب تک 1,34,113 کنفرم کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. جن میں سے 4968 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ 67,003 لوگ اس مرض سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں.
    چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کو شروع میں اتنا سنجیدہ نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہوتا اب مکمل گلوب پر پھیل چکا ہے. کینیڈا کے جسٹن ٹرڈو کی بیوی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے. اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ سے ملنے والے برازیلین شہری میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آچکی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ٹیسٹ سے تاحال انکاری ہیں.
    کئی ایک ممالک میں اعلیٰ سطحی لوگ اس کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے سبھی ممالک لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر رہے ہیں. اٹلی میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے ہاتھوں اموات کے بعد اٹلی کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے. سعودیہ نے گزشتہ شام بہتر گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا جس میں سے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اس مدت کے دوران عارضی آمد و رفت کو مکمل کرکے سعودیہ کو لاک ڈاؤن کردیا جائے گا.
    بھارت میں ایک بندے کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت اور کئی دیگر کنفرم کیسز کے بعد بھارت نے ایران سے اپنے شہریوں کی واپسی کا پروگرام شروع کردیا ہے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی میں دفع 144نافذ کردی ہے. امریکہ میں بھی کئی کیسز کرونا وائرس کے رپورٹ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ نے یورپ کے ساتھ فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بڑی تعداد میں اس وقت خیمہ زن لوگ موجود ہیں.


    دنیا بھر میں کھیلوں کے بڑے مقابلے منسوخ کردیئے گئے ہیں، دہلی میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ کے کرکٹ میچز کو بھی منسوخ کردیا ہے. پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے جبکہ سندھ گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ کراچی میں ہونے والے میچز میں شائقین نہیں آسکیں گے صرف ٹیمیں اور ان کے آفیشلز ہی شرکت کرسکیں گے. اسی طرح سندھ کے تعلیمی اداروں کو بھی تیس مئی تک بند کردیا گیا ہے اور اس دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے.
    بدقسمتی سے شروع میں پاکستان نے کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ پاکستان کے اطراف و کنار میں کرونا وائرس گھوم رہا ہے. چین سے شروع ہوا جبکہ ایران میں بڑی تعداد میں اس سے متاثرہ لوگ موجود ہیں اور انڈیا میں بھی کئی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. اگر شروع میں ہی اس پر سنجیدگی دکھائی جاتی تو پاکستان اس سے بچ سکتا تھا. پاکستان میں اب تک کرونا کے 21 کنفرم کیسز ہیں جبکہ 2 لوگ اس مرض سے پاکستان میں صحتیاب ہوچکے ہیں اور بحمدللہ پاکستان میں کرونا سے تاحال کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے.
    لیکن ابھی بھی کرونا وائرس کو پاکستان میں اس طرح سے سنجیدہ نہیں لیا جارہا جس طرح سے دنیا بھر میں اس کو لے کر ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے.پاکستان کی سرحدیں ایران کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے بند ہوئی تھیں مگر پھر سے کھول دی گئی ہیں اور لمبی سرحدی پٹی پر اسکیننگ کے انتظامات بھی موجود نہیں جبکہ زائرین اور دیگر افراد کی آمد و رفت وسیع پیمانے پر جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے خطرات موجود ہیں.
    پاکستان میں تعلیمی ادارے بھی کھلے ہوئے ہیں اور چھوٹے بڑے اجتماعات بھی منعقد ہورہے ہیں اگرچہ رائیونڈ میں ہونے والا تبلیغی اجتماع موسم کی خرابی اور پنڈال میں پانی بھر جانے کے باعث دعا کروا کر ختم کردیا گیا ہے لیکن چھوٹے بڑے اجتماعات اور سیاسی جلسے جاری ہیں. جن پر فالفور پابندی عائد ہونی چاہیے. تعلیمی اداروں اور ملک میں جاری کھیلوں کے مقابلوں پر بھی فالفور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتماعی صحت ے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے.
    اسی طرح عوام الناس کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کریں. پبلک مقامات پر میل جول اور چیزوں کے استعمال سے گریز کریں. ماسکس ، ٹشوپیپرز اور گلوز کا استعمال کریں. عوامی اجتماعات میں شرکت سے بھی گریز کریں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں اسپتال اور ڈاکٹرز سے رجوع کریں.
    یہ آفتیں اور بیماریاں انسانی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں جو اللہ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہیں تو ان آفتوں اور بیماریوں پر بجائے ٹھٹھہ و مذاق کرنے اور لطائف بنانے کے اللہ سے توبہ کرنی چاہیے یقیناً وہی شفا دینے والا اور بیماریوں اور آفتوں کو کنٹرول کرنے والا ہے. صحیح بخاری کتاب الطب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کا علاج یا دوا نہ نازل فرمائی ہو یقیناً اس کرونا وائرس کی شفا بھی کسی نہ کسی چیز میں موجود ہوگی. اس کا علاج دریافت ہونے تک ہمیں چاہیے کہ ہم حتیٰ الامکان احتیاطیں اختیار کریں اور یہ دعائیں کثرت سے پڑھتے رہیں.
    أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
    "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
    اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
    یہ آفات انسان کی آزمائش بھی ہوتی ہیں تو اپنا ایمان اور توکل اللہ پر مضبوط کرنا چاہیے اور اس کرونا وائرس سے بچنے کی جو احتیاطیں دنیا بھر میں بتائی جا رہی ہیں ان سے اسلامی شعار طہارت، وضو، غسل وغیرہ کی حقانیت واضح ہوتی ہے.

  • 27 فروری سرپرائز ڈے  تحریر: غنی محمود قصوری

    27 فروری سرپرائز ڈے تحریر: غنی محمود قصوری

    یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیا
    مگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا
    6 ستمبر 1965 کو ایک مرتبہ پھر ہندو کو اپنی درگت بنوا کر سرپرائز لینے کی سوجھی اور اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس پر امت محمدیہ کی پاک فوج نے ایسا سرپرائز دیا کہ 17 روزہ جنگ میں ہندو تو پریشان ہونا ہی تھا پورا عالم کفر اس سرپرائز پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہندو اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل میں پہنچا اور جنگ بندی کروائی
    دو مرتبہ سرپرائز لینے کے بعد ہندو نے اپنا طریقہ بدلا وہ جان چکا تھا مغربی پاکستان میں اسے دو مرتبہ سرپرائز بہت مہنگا پڑا ہے لہذہ اس مرتبہ اس نے مشرقی پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرکے کچھ غداران ملک و ملت کو اپنے ساتھ ملایا اور مکتی باہنی کے نام پر ایک مسلح لڑاکا تنظیم بنائی جس نے پاک فوج پر حملے شروع کر دیئے اور بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کی تحریک شروع کر دی اس مرتبہ ہندو کا وار کچھ کارگر ہوا مکتی باہنی و انڈین فوج نے بنگلہ دیش کی عوام میں پاکستان کے خلاف خوب زہر بھرا اور یوں مکتی باہنی کی پاک فوج سے باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کی کمان اینڈ کنٹرول انڈین فوج کے ہاتھ تھی آخر مکمل جنگ چھڑ گئی مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان تک گولہ بارود کی رسد ختم ہو کر رہ گئی مگر پھر بھی پاک فوج کے شیروں نے وسائل کی کمی اور اپنوں کی غداری کا غم سہہ کر بھی مردانہ وار مقابلہ کیا مگر فوجی افسران و جوان ہتھیار پھینکنے کو تیار نا تھے جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے بنگلہ دیش کے پاکستانی حامی لوگوں و مغربی پاکستان سے آئے سول اداروں کے اہلکاروں کے خاندان کے لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات تھی اس کے بعد بھارت نے ایک اور چال چلی اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور اپنی فوجیں ڈھاکہ میں لا کر ایسٹرن کمان کے امیر عبداللہ خان نیازی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس پر جوانوں و افسروں میں تشویش کی لہر ڈور گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے دوبارہ عام شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا اس پر مجبور ہوتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے بھی ہماری فوج کو اپنوں کی غداری کی بدولت 6 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور یوں 45000 فوجی اور 40000 سے کم سول محکموں کے اہلکار انڈین فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے مگر پاکستان کو فتح کرنے کا انڈین خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نا ہوسکا کیونکہ 1971 میں راجھستان کے محاذ لونگے والا میں انڈین فوج کو سخت جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انڈین فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے بھاگی جس کا اعتراف خود انڈین جرنیل بھی کرتے ہیں اسی طرح سلیمانکی کے محاذ پر میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کو بہت پیچھے تک دھکیل دیا اور ان کی کئی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا جبکہ قصور کے محاذ پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ کھیم کرن کا محاذ چھوڑ کر انڈین فوج پیچھے کو بھاگ نکلی اور اس طرح تاریخی شکست انڈیا کو 1971 میں قصور کے محاذ پر ہوئی زندہ دلان قصور نے اپنی پاک فوج کیساتھ مل کر کھیم کرن شہر پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرایا جس کی تصویریں آج بھی انڈین فوج اور عوام کے ذہنوں پر سوار ہیں غیور قصوریوں نے کھیم کرن سے خوب مال غنیمت حاصل کیا جس کے ثبوت کے طور پر آج بھی اہلیان قصور کے گھروں میں لگے انڈین شہر کھیم کرن سے لائے گئے دروازے ،کھڑکیاں،برتن و دیگر سامان ضرورت لوگوں کے پاس موجود ہے حتی کہ رائیونڈ قصور روڈ جو کہ کچہ راستہ تھا اسی کھیم کرن سے لائی گئی مال غنیمت کی اینٹوں سے بنا
    28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے ایک بار پھر انڈیا کو بہت بڑا سرپرائز دیا مگر شاید مار کھائے بغیر سرپرائز کو قبول کرنا انڈیا کی عادت نہیں سو اس نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستانی فوج اور مجاھدین کشمیر سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 مئی 1999 کو باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہوا جس میں انڈیا کے 30000 اور پاکستان کے 5000 فوجی آمنے سامنے ہوئے پہلے ہی ہلے میں انڈیا کے 1000 سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ 2000 کے قریب فوجی زخمی ہونے کیساتھ انڈین ائیر فورس کے 3 طیارے تباہ ہوگئے جس سے بھارتی فوج سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور دونوں ملکوں پر ایٹمی قوت ہونے کی بدولت عالمی دباؤ بڑھ گیا اور یوں دونوں ملکوں کو بغیر کسی نتیجے کے جنگ بندی کرنی پڑی مگر نقصان کے لحاظ سے ایک بار پھر شکست انڈیا کی ہوئی
    14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج پر کشمیری مجاھدین کی مسلح آزادی پسند تحریک جیش محمد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد انڈین فوجی مارے گئے جبکہ سرکاری طور پر انڈیا نے صرف 44 فوجیوں کی موت تسلیم کی پلوامہ حملے کے بعد اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے انڈیا نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی جس پر پاک فوج کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جھڑپیں بڑھتی گئیں اور 26 فروری 2019 کو انڈیا نے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے مگر ہمارے شاہینوں کی بروقت اڑان سے انڈین پائلٹ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اپنے جنگی جہاز کا پے لوڈ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بالا کوٹ کے مقام پر گرا کر بھاگ گئے اور دعوی کردیا کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں جاکر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپوں پر فضائی کاروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد جیش محمد کے کارکنان شہید کر دیئے ہیں جس کے چند گھنٹوں بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اس جھوٹ کو جلد بے نقاب کرینگے اور ایک سرپرائز بھی دینگے جنرل صاحب کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستانی ائیر فورس کے دو شاہینوں اسکورڈن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے انڈین علاقے میں گھس کر اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک طیارہ مقبوضہ وادی کشمیر جبکہ دوسرا آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو کشمیری عوام نے گھیر لیا اور اس کی تاریخی دھلائی کرکے ایک بہت بڑا سرپرائز دیا اس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بالاکوٹ کا دورہ بھی کروایا جس پر انٹرنیشنل میڈیا نے انڈین ائیرفورس کی ناکامی کا پول کھول کر اسے ایک اور ناکامی کا سرپرائز دیا
    ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا
    معرکہ 27 فروری پر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا تھا کہ انڈین اس سرپرائز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہے پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا

  • پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔!  تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    پاکستان میں فیلڈ کے بے روزگار صحافی اور ایک امید عمران خان۔۔۔۔۔! تحریر: ملک محمد رفیع شاکر راجن پور

    ایک اندازے کے مطابق پچھلے چھے سالوں میں پاکستان میں 30 کے قریب صحافی اپنی جان گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں ایسے ہیں جن پر بااثر اور کرپٹ لوگوں کی طرف سے ناجائز ایف آئی آر درج کرائی گئی ہیں کئی ایسے بھی صحافی ہیں جو حقائق اور کرپشن اور ظلم و زیادتی کو بے نقاب کرنے کی وجہ سے دھمکیوں کا سامنا ہے اور ان صحافیوں کے خاندان آج فاقوں اور کسمپرسی کی حالت کو پہنچ چکے ہیں اور کئی ایسے بھی سینیئر ترین صحافی ہیں جنہوں نے اس ملک قوم اور معاشرے کے لیے اپنی زندگی لٹا دی مگر آج بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور میڈیا صحافتی اداروں سمیت وزارت اطلاعات اور حکومت سمیت کوئی بھی آن کو کسی قسم کی سپورٹ کرنے کو تیار نہیں ہے

    حقیقت یہ ہے کہ اگر یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی اپنی دو دن خبریں دینا ہی بند کردیں تو چینلز بند ہو جائیں گے اخبار تک نہیں چھاپے جاسکیں گے جبکہ ان میڈیا چینلز اور اخبارات کو شہرت اور بلندیوں پر پہنچانے والے ٹاپ سٹوری اور بریکنگ نیوز دینے والے سردی گرمی بھوک پیاس دن یا رات سفر اور دھمکیوں اور خطرات کے باوجود بریکنگ نیوز اور سٹوری دینے والے یہی فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کے ساتھ میڈیا مالکان کا رویہ دشمنوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویہ سے بھی بدتر ہے

    جب صحافتی ادارے صحافی کو اس کی محنت کا کوئی معاوضہ یا تنخواہ نہیں دیں گے تو آخر مرتا کیا نا کرتا پھر مجبور ہوکر اس نے کسی کرپٹ کو بلیک میل کرنا ہے یا کسی بھی غلط کام کا حصہ بن جانا ہے یا پھر اچھے سچے پڑھے لکھے لوگ صحافت چھوڑتے جائیں گے اور کرپٹ اور برے لوگ صحافت میں گھستے چلے جائیں گے یا پھر مجبور ہوکر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں نے کچھ نا کچھ تو کرنا ہے اپنے گھر کا چولہا جلانے اور بچوں کو پالنے کے لیے۔ ہمارے پاکستان میں سب سے زیادہ آج کا صحافی ہی مظلوم ہے جو درحقیقت سب سے زیادہ معاشی استحصال کا شکار ہے اور جھوٹ کا پردہ اوڑھ کر زندگی گزار رہا ہے۔

    پاکستان میں صحافت کے سسٹم اور حکومتوں اور محکمہ اطلاعات کی نااہلی یا منافقت یا اپنی ہی کرپشن کی وجہ سے آج تک اس شعبہ میں کسی قسم کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    کیونکہ بڑے بڑے اخباروں اور ٹی وی چینلز کے مالکان جو سیٹھ نما دولت کے پجاری انسان اور اثرورسوخ والے ہیں ان کے خلاف اور فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار صحافیوں کے لیے ستر سالوں سے کوئی اقدامات نہیں ہوسکے ہیں

    حقیقت یہ ہے کہ یہ میڈیا مالکان تمام حکومتوں سیاستدانوں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ اور ججوں سمیت سب کے راز جانتے ہیں اور یہ کسی کے خلاف بھی اپنے اپنے اداروں میں موجود بڑے بڑے قابل لکھاریوں اور اینکرز جو کہ بے چارے اپنی نوکری بچانے کے لیے جب ان کو یہ میڈیا مالکان اشارہ کرتے ہیں تو حکومتوں بیوروکریسی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مہم چلانا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ان میڈیا کے سیٹھوں کو کوئی چھیڑنے کو تیار نہیں ہوتا ہے

    کیونکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں جس کی وجہ سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے سیٹھ نما کرپٹ مالکان فیلڈ میں محنت کرنے والے صحافیوں کو تنخواہ مراعات تو دور کی بات ہے الٹا ان سے نمائندہ بننے کا ہزاروں لاکھوں روپے لیتے ہیں اور سالانہ ششماہی سہ ماہی بزنس اشتہارات کی مد میں علاوہ لیتے ہیں

    اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایک دن یہ پڑھے لکھے با کردار صحافی جو کسی کو بلیک میل کرنے کے لیے پگڑی نہیں اتارتے بلکہ پروفیشنل طریقے سے مثبت رپورٹنگ کرنے والے ہیں چھوڑتے چلے جائیں گے اور حقیقت میں بھی ایسے ہی بلیک میلر کرپٹ دونمبری کے سرپرست ظالم کے حمایتی صحافی ہم آپ سب کو ملیں گے یا نظر آئیں گے جو واقعی میں بلیک میلر یا کرپٹ یا ان کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرنے والے ہوں گے جبکہ مظلوم کمزور کےے ساتھ کھڑے ہونے والے حق سچ کا ساتھ دینے والے صحافی دور دور تک نظر نہیں آئیں گے جس کے بہت زیادہ منفی اثرات اس ملک پاکستان اور اس معاشرہ پر پڑیں گے کیونکہ جو ارباب اختیار تک سچ کو سو پردوں سے نکال کر باہر لانے والے سچے اچھے اور قابل صحافی نہیں ہونگے تو معاشرے میں ایک بہت بڑا بگاڑ پیدا ہوگا جو پھر کسی سے بھی ٹھیک نہیں ہو پائے گا۔

    بظاہر تو ہم کو بلیک میلر فیلڈ کے صحافی نظر آتے ہیں مگر درحقیقت اصل بلیک میلر صحافتی اداروں کے یہ سیٹھ نما مالک ہوتے ہیں جو ان صحافیوں کو مجبور کردیتے ہیں کہ وہ ان کو کما کر کھلائیں

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک پاکستان کے خاص طور پر فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار اور مظلوم صحافیوں کے لیے کچھ اچھے اور ٹھوس اقدامات کریں جس کی امید عمران خان اور فردوس عاشق اعوان مشیر اطلاعات سے آج ان کو لگ رہی ہیں اگر اب بھی ان فیلڈ میں کام کرنے والے بے روزگار مظلوم صحافیوں کی زندگی میں تبدیلی نا آئی تو شائد کبھی نا آسکے

  • مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان اور حریم زادے ، بینش علی خان کی نظر میں

    مبشر لقمان کو مفت میں رگڑا جا رہا ہے مبشر لقمان کا یوٹیوب والا پروگرام میں نے خود دیکھا ہے جس میں راۓ ثاقب اینکر پرسن مہمان بن کر آئے ہیں اب ایک پروگرام میں ایک مہمان جو کچھ کہتا ہے اس کاحق ہے اس کو آزادی رائے کا پورا اختیار ہے۔
    مبشر لقمان کے پروگرام سے ایک دن پہلے سماء چینل کا 31 دسمبر کا پروگرام لائیو وِد ندیم ملک دیکھ رہی تھی جس میں اسد عمر اور زرتاج صاحبہ موجود تھے حریم شاہ کو کال پر لیا جاتا ہے اور وزارتِ داخلہ کے دفتر میں جانے کے بارے میں پوچھا جاتا ہے پاکستان کی حکومت ان دنوں صرف سرکس خانہ بن چکا ہے اس واقعے کے بعد تو اس لڑکی کو اصولاً حوالات میں ہونا چاہیے لیکن پیچھے ایک منسٹر دلال موجود ہو تو پھر قانون جوتی کی نوک پر ہوتا ہے حریم کی بات سننے کے بعد اسد عمر اور زرتاج گل سے اس بات پر جب رائے لی جاتی ہے تو صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کا رنگ اڑ جاتا ہے اور وہ خاندانی عورت ہونے کا کہہ کر اور پولیٹکس میں اپنے کوششوں کا حوالہ دے کر کوئی بھی رائے دینے سے انکار کرتی ہے یہاں صاف پتا لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور اس بات کی کڑی مبشر لقمان کے پروگرام سے ملتی ہے اور زرتاج گل کی بوکھلاہٹ سمجھ میں آتی ہے اور پھر زرتاج صاحبہ کا جان بوجھ کر معصوم احتجاج کامران شاہد کے پروگرام میں کہ مبشر لقمان نے اس پر الزام لگایا ہے کہ زرتاج صاحبہ کے پاس کسی عورت کی وڈیوز ہے اور وہ اس نے لیک کی ہے بی بی جذباتی ہو کر رونے لگتی کہ وہ کسی کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی بھئی پروگرام تو دیکھو کہ الزام مبشر لقمان نے نہیں لگایا رائے ثاقب نے بات کی تھی اب مبشر لقمان کے پروگرامز میں اس سے پہلے بہت سے سیاسی جماعتوں کے لوگ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے آکر کچھ بھی بولتے تھے اس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تو یہاں وہ قصور وار کیسے ؟

    فواد چودھری کی مبشر لقمان سے بدتمیزی، اصل حقیقت کیا؟ مبشر لقمان نے جواب دے دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” کا سلسلہ جاری، فیاض الحسن چوہان کی کال ریکارڈنگ شیئر کر دی

    شیخ رشید کی کردار کشی، حریم شاہ کو کس نے دیا ٹاسک؟ باغی ٹی وی سب سامنے لے آیا

    حریم شاہ نے کس ملک کی شہریت کے لئے اپلائی کر دیا؟ سن کر فیاض الحسن چوہان پریشان

    ننگے ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ، حریم شاہ نے کس کو شرمناک دھمکی دی؟

    سراج الحق بھی……حریم شاہ نے کیا تہلکہ خیر انکشاف

    حریم شاہ کی کسی شخص کے گھٹنے پر بیٹھنے کی تصویر وائرل، وہ شخص کون؟ حریم نے خود بتا دیا

    حریم شاہ کی "لیکس” زرتاج گل بھی میدان میں آ گئیں، کیا کہا؟ جان کر ہوں حیران

    زرتاج صاحبہ الزام یہ نہیں تھا کہ آپ نے کسی عورت کی ویڈیوز لیک کی ہے بات یہ ہے ک اس عورت کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس آپ کی ویڈیوز ہے پی ٹی آئی کے نائٹ ڈانس پارٹی میں بنا لی ہونگی اس نے اب رو دھو کر فیس سیونگ کرو۔
    اب آتے ہیں فواد صاحب کی طرف پہلے تو یہ بندہ انتہائی بدتمیز ہیں وہ اس قابل ہی نہیں کہ سکول میں ٹیچر بن سکے پیشے کے اعتبار سے وکیل اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی عمران خان کے بلنڈرز میں سب سے بڑا بلنڈر آئے روز کسی نہ کسی کو تھپڑ مار رہے ہیں خاندانی لوگوں کا یہ شیوا نہیں اس بات پر وہ رپورٹ کرتے عدالت جاتے مبشر لقمان کے خلاف خیر مبشر لقمان کو میں زرا بھی قصور وار نہیں مانتی لیکن فواد صاحب نے قانون کو ہاتھ میں لینے کو بہتر جانا کیوں کہ ان کو پتا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں کا خدا ہی حافظ ہے دوسرے ملک کے اخبار تو اِن کو امراء کی رنڈی لقب کا دے چکے ہے جو کے غلط نہیں ہے پاکستان میں قانون صرف طاقت وروں کی حفاظت اور غریب کو سزا دینے کے لئے ہے جس کو فواد جیسے بڑے لوگ پھاڑ کر نکل جاتے ہے۔

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    تیسری بات اس عورت کی سب کو کھیل سمجھ میں آگیا ہے ان کی ہر جگہ گھسنے ہر کسی تک رسائی کے پیچھے سوائے فیاض چوہان کے علاوہ کوئی اور نہیں ان کو صرف اس نے پلانٹ کیا سب سے پہلے ایسی جگہوں تک رسائی دے کر ویڈیو اپلوڈ کی جو عوام کی توجہ حاصل کرے اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑائی گئی اور اپنے کام نکلوانے کے لئے ان کو بڑے بڑے مگرمچھوں کے بستر تک تب پہنچایا جب مشہور نہیں کروایا تھا اور ساتھ میں اُن کی وڈیوز بنوائی تاکہ وقت آنے پر کام آئے, اور اپنے سیاسی مخالفین یا جن کے ساتھ اختلافات تھے ان کو خراب کرنے کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جیس کا ثبوت مبشر لقمان اور شیخ رشید ہے اور ساتھ میں جن کو خوش کرنا تھا اُن کو اِن لڑکیوں کے زریعے خوش کیا دنیا کا کوئی مرد تیار عورت کو نہیں چھوڑتا پھر اگر وہ ہمارے ٹھرکی رال ٹپکاتے سیاست دان اور بیوروکریٹس ہوں تو چھوڑنا ناممکن اس حریم بہتے گنگا میں سب نے دل کھول کر ہاتھ دھوئے بلکہ نہا لیے, تاریخ کی اوراق میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت کے وزراء اور ایک رنڈی والا باب نہایت سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا دعا ہے کہ اس لسٹ میں وزیراعظم کا نام نا ہو.
    بینش علی خان

  • جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

    لفظ جلدی جس کے لغت میں معنی ہیں کہ کام کو بغیر تاخیر  کے سر انجام دینا. آج ہم اس لفظ(جلدی) کا بغور جائزہ لیں گے وہ بھی بغیر تاخیر کے. ہم دیکھتے ہیں کے جو لوگ ناکام ہوتے ہیں ان کی ناکامی کا راز بھی یہی لفظ یعنی(جلدی) ہے. کیونکہ وہ جب کوئی کام شروع کرتے ہیں تو وہ یہ سوچ لیتے ہیں کے اب ان کا طوطی بولنے لگے گا اور شرق و غرب ان کے نام کے چرچے ہوں گے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے.

    انسان جب بھی کوئی کام یا کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کامیابی میں منتقل ہونے کے راستے وہ خود اختیار کرتا ہے.اب یہ اس پر منحصر ہے اگر وہ طویل مدتی راستہ اختیار کرتا ہے جس میں سالوں کی محنت اور کوشش تو ہو تو مگر ہو جہد مسلسل۔۔۔۔۔تو عین ممکن ہے کہ واقعی اس کا طوطی بولنے لگے اور اگر وہ دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے جس میں راتوں رات طوطی بولنے کی سکیم ہو اور وہ محنت کو قطع نظر کرکے غلط اور مختصر مدت کے راستے کو اختیار کرے گا تو عین ممکن ہے کہ منزل کے قریب اس کے قدم لڑکھڑا جائیں اور وہ منزل سے دور ہو جائے. اب ہم اسی بحث کو تھوڑا سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں.

    ہم سب نے یہ دیکھا اور سنا ہو گا کہ یہی وہ لفظ (جلدی) ہے جس نے پاکستان کے دو ٹکڑے کروائے اور پاکستان کو بنگلا دیش کی صورت میں قربانی دینا پڑی. مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں کے سیاسی لیڈروں کو یہی جلدی تھی کہ فوراً سے پہلے ہی اقتدار ہماری مٹھی میں آجائے یہ سوچے بغیر کے مشرقی پاکستان کو واضح اکثریت حاصل تھی.

    اس لفظ کی اہمیت آپ کو اس بات سے معلوم ہوگی کے اکثر بھٹو یحییٰ خان سے کہتے رہتے تھے کہ جلدی سے اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے اس کی دلیل بہت دلچسپ ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان کے لوگ کم عمر میں ہی فوت ہوجاتے ہیں . اس لیے ان کو اقتدار کی جلدی تھی.ویسے تو ہمیشہ آمریت جمہوریت پر غالب آتی رہی ہے ،

    حالیہ دنوں میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب تو جمہوریت کے روح رواں دونوں جمہوری جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ایک تیسری قوت جو کے جمہوریت میں ایک نئی تاریخ رقم کرکے اقتدار میں آئی ہے اس کے پہ در پے ہےاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پرانی جماعتیں تیسری قوت کی شراکت قبول نہیں کر رہیں اس وجہ سے دونوں ہی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ بھی جلدی.

    اگر ہم حالیہ دنوں میں دیکھے تو تمام اپوزیشن حکومت کا تختہ الٹنے میں سرگرم عمل نظر آتی ہے. اسی کی ایک جھلک ہم نے مولانا کے دھرنے میں دیکھی. پر یہ کوشش یہاں ہی ختم نہیں ہوتی بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیان سے تو اس کی جلدی نظر آئی کے اب تو بس اس حکومت کا خاتمہ ضروری ہے. موصوف کہتے ہیں کے متحدہ قومی موومنٹ سندھ حکومت کے ساتھ اتحاد کر کے اس موجودہ وفاقی حکومت کا تختہ الٹ دے .

    یہاں یہ بات زیر غور ہے کہ یہ بات کہہ بھی تو کون رہا ہے( بھٹو کا نواسا) ، جنھیں ہمیشہ اقتدار کی جلدی ہوتی ہے. جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ موجودہ حکومت کو کچھ وقت دینا چاہیے کہ وہ اپنی کوشش کر دیکھیں اور ممکن ہے کہ پاکستان کی ترقی میں وہ بھی کچھ اچھا کردار ادا کر سکیں کیونکہ جب بھی بھی کسی کام کی جلدی کی جاتی ہے تو اکثر اوقات انسان کو ندامت کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔

    تو نتیجتاً لفظ جلدی کو اگر ہم محاورہ میں ڈھالیں تو وہ محاورہ ہو گا کہ "جلدی کا کام شیطان کا”. ہم دیکھتے ہیں کے واقعی لفظ جلدی شیطان کا راستہ ہے کیونکہ یہ بات حدیث میں بھی موجود ہے کہ "شیطان” انسان کو جلدی میں ڈال کر نقصان کرواتا ہے۔ لہذٰا ہمیں بحیثیت مسلم و قوم مجموعی طور پر اس قسم کے شارٹ کٹ راستے اور لفظ(جلدی) سے پرہیز کرنا چاہیے

    جلد بازی اور منزل کا حصول ….از…ہمایوں شاہد

  • جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون ؟–از.. ملک جہانگیر اقبال

    آج صبح اٹھتے ہی پہلی خبر ایرانی میجر جنرل سلیمان قاسمی کی عراق کے بغداد ایئرپورٹ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی ملی ، واضح رہے کہ میجر جنرل سلیمان قاسمی پاسدارانِ انقلاب کے یونٹ قدس فورس کے کمانڈر تھے

    سلیمان قاسمی کی قابلیت اور ایران میں انکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مشرقِ وسطٰی میں جاری ایران پالیسی انکے دماغ کا شاخسانہ ہے اور کچھ حلقے انہیں ایرانی صدر سے زیادہ طاقتور مانتے ہیں کہ یہ ڈائریکٹ رپورٹ ایرانی سپریم لیڈر کو کرتے تھے ، ایرانی صدر نہ ہی انکی بنائی پالیسی بدل سکتا تھا اور نہ ہی ان کے کسی کام میں مداخلت کرسکتا تھا ۔ اسکے علاوہ بیرونِ ممالک ایران دشمنوں کا صفایا کرنا انکی اولین ترجیح رہی تھی ۔

    اگر سادہ مثالوں سے سمجھاؤں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ملک ہماری پاکستانی خُفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کو ریاستی حملے میں قتل کردے اور باقاعدہ اُس ملک کا صدر فخر سے اس کا اعلان کرے ۔
    ایسے میں پاکستان کا کیا ردِعمل ہوگا ؟

    تو بس ٹھیک ایسا ہی ردِعمل اب ایران کا آنے والا ہے ، وہ تمام لوگ جو نئے سال کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعائیں کر رہے تھے اُنہیں مطلع کرتا چلوں کہ سال کے آغاز کے تین دِن میں ہی اُنکی اربوں دعائیں لگ بھگ ریجیکٹ ہو چکی ہیں ، مشرقِ وسطیٰ میں آگ و خون کا بازار مزید گرم ہونے کا امکان ہے اور اسکی لپٹیں پاکستان سے سعودیہ عرب تک محسوس کیے جانے کے قوی امکانات ہیں .

    آج شام تک جنرل سلیمان قاسمی کی ہلاکت پہ ایرانی ، پاکستانی ، سعودی ، اسرائیلی و روسی ردِ عمل سامنے آجائے گا ۔ شنید ہے روس اپنی حمایت کا پلڑا ایرانی کھاتے میں ڈالے گا کہ شام میں روس اور جنرل قاسمی ایک دوسرے کا مضبوط دست و بازو بنے رہے ہیں ۔

    سعودیہ یقیناً اس پہ خوشی کا اظہار کرے گا اور کوشش کرے گا کہ پاکستان کو بھی "جانی سمائل” کا پیغام پہنچانے کا عندیہ دے جسے پاکستان ” سوری انکل آپکی آواز صاف نہیں آرہی ” کہہ کر نظر انداز کرے گا اور ایران کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال کر سوچے گا کہ کاش ہمارا اگر اگلا جنم ہوتا تو کوشش کروں گا کہ اس خطے سے بہتر ہے اگلی بار انٹارکٹیکا کے کسی برفیلی میدان میں پڑاؤ ڈالوں جہاں ہمسائے و برادر محض پینگوئن ہُوں نا کہہ کوئی "برادر” ممالک ۔

    اسرائیل یقیناً جنگِی پوزیشن میں آ چکا ہوگا ، یورپ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کو گالیاں دیتا ہوا کچھ نہیں سوچ رہ ہوگا جبکہ امریکی ..

    خیر امریکی عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر چنا تھا لہذا ان سے کچھ سوچنے سمجھنے کی توقع کرنا بیکار ہے…
    بہرحال امریکہ و دنیا کو چلانے والی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس نامی عالمی اسٹیبلیشمنٹ بہت خوش ہوگی کہ دنیا جنگ و جدل کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جو جنگ عظیم سوئم میں بھی بدل سکتی ہے لہٰذا اسلحہ ہی اسلحہ بیچا خریدا جائے گا ، دودھ و روٹی کے پیسوں سے انسانوں کو مارنے والی گولیاں خریدی جائیں گی ، ہاتھ پیر کی انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں ہوگا وغیرہ وغیرہ وغیرہ ….

    جنرل قاسم سلیلمانی کی موت کے اسباب ، ذمہ دار کون

    تحریر:از —- ملک جہانگیر اقبال

  • پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز،مہنگائی کی اصل وجہ اورسرمایہ کاری کی حقیقت ..محمد عاصم حفیظ

    کیا آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ شرح سود والے ممالک میں شامل ہو چکا ۔ روزبروز مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے اور عالمی سرمایہ کاری کی حقیقت کیا ہے آئیے اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 19.7 فیصد سے 12.63 فیصد کے درمیان ہے ۔

    مجموعی مہنگائی کی شرح 12.63 فیصد ہے لیکن غذائی اجناس کی مد میں شہری علاقوں میں 16.7 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 19.7 فیصد مہنگائی کی شرح نوٹ کی کی گئی ہے ۔ مہنگائی کی شرح عالمی سطح پر ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستان کا نمبر آٹھواں ہے ۔ اس لسٹ میں زمبابوے جنگ زدہ ہیٹی سوڈان اور ایتھوپیا جیسے ممالک شامل ہیں ۔

    مہنگائی کی شرح میں اس تیزی سے اضافے کے باوجود حکومت ہر ماہ بجلی گیس اور دیگر ایشیائی ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے ۔ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ کیوں کر حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے سے کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھا رہی۔
    آئیے اس کی سب سے بڑی وجہ سمجھتے ہیں ۔

    حکومت نے گزشتہ بجٹ میں انٹرسٹ ریٹ 13.25 فیصد تک بڑھا دیا تھا جو کہ عالمی سطح پر بلند ترین شرح سود والے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان سے بلند شرح سود والے صرف پانچ سے چھ ممالک ہیں جن میں زمبابوے گھانا ملاوی جیسےممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب مغربی ممالک اور بہت سے ترقی پذیر ممالک بھی شرح سود کم کر رہے ہیں حتی کہ جاپان سمیت کئی ممالک میں شرح سود صفر کردیا گیا ہے۔اب ہو یہ رہا ہے کہ مقامی اور عالمی ساہو کار ۔ امیر افراد اور کمپنیاں جنہیں تیزی سے منافع چاہئے وہ اپنا پیسہ پاکستانی بینکوں میں رکھ رہی ہیں۔

    آپ نے بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی خبریں پڑھی ہوں گی لیکن دراصل یہ سب کسی صنعتی ۔کاروباری یا معاشی سرگرمی کے لیے نہیں ہو رہا بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ رکھا جارہا ہے اور اس کے لیے حکومت نے اب تک کی سب سے بڑی ایمنسٹی سکیم اور سرمایہ کاری میں آسانی کی پالیسی متعارف کرائی ہے ۔

    ملک میں پیسہ تو آ رہا ہے یا مقامی سرمایہ کار جمع کرا رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کوئی بڑا منصوبہ نہیں شروع کیا گیا یا کارخانے نہیں لگ رہے فیکٹری نہیں لگائی جارہیں روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہو رہے بلکہ صرف بینکوں میں پیسہ منتقل کرکے بلند شرح سود کے ذریعے منافع کمایا جارہا ہے۔ اب اسی بلند ترین شرح سود کے مطابق منافع دینے کے لیے حکومت ہر ماہ تیل اور گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے کیونکہ جن بیرونی سرمایہ کاروں نے بینک میں پیسہ رکھا ہے انھیں ہر ماہ اپنا منافع چاہیے۔

    بدقسمتی سے اس سرمایہ کاری سے کوئی بھی مثبت معاشی سرگرمی جنم نہیں لے رہی ۔کیونکہ اگر تو بیرونی سرمایہ کاری سے بڑے منصوبے لگیں فیکٹریاں اور دیگر معاشی سرگرمیاں جنم لیں لوگوں کو روزگار ملے مارکیٹ کے حجم میں اضافہ ہو تو اس سے ملک میں معیشت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا

    ۔ملکی اور غیر ملکی دونوں قسم کے سرمایہ کار کاروباری و صنعتی سرگرمیوں کی بجائے بینکوں میں رقم رکھ کر اتنا منافع کما رہے ہیں جو کہ انہیں اصل مارکیٹ میں تجارت و صنعتت سے بھی حاصل نہیں ہوگا۔ دوسری جانب یہ حقیقی سرمایہ کاری نہیں ہے یہ سرمایہ کار جب چاہیں گے اپنی رقم نکال کر بیرون ملک لے جائیں گے جس سے مزید معاشی نقصان ہوگا۔ کیونکہ یہ کاروبار کے لیے نہیں آئے ان کی کوئی فیکٹری کارخانہ پراجیکٹ زمین پر موجود ہی نہیں ہے کہ جس کو سنبھالنا ان کے لیے مسئلہ بنے ۔ بس ایک بنک کی ٹرانزیکشن سے وہ اپنا سرمایہ واپس لے لیں گے ۔

    دنیابھر کے ممالک شرح سود کو کنٹرول کرتے ہیں بینک کا منافع کبھی بھی اتنا نہیں بڑھنے دیتے جس سے صنعت و تجارت متاثر ہو اور سرمایہ کار یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ وہ مارکیٹ میں پیسہ لگانے کی بجائے صرف بینک میں رکھ کر بڑا منافع کما سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی ہو رہا ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے شرائط میں کہیں بھی صنعت و تجارت کے شعبے میں پیسہ لگانے کی ترویج نہیں کی گئی کوئی شرط نہیں لگائی گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنا پیسہ بینکوں میں رکھ رہے ہیں اور دنیا کے بلند ترین شرح سود کے منافع سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ اصول ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے شعبہ جات مختص کیے جاتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو مخصوص شعبہ جات میں ہی سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے۔

    معاشی حوالے سے یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے کیونکہ بلند ترین شرح سود کے منافع کی ادائیگی کے لیے یے مہنگائی کی شرح میں میں روزانہ کی بنیاد پر پر اضافہ کرنا پڑتا ہے ہے غریب عوام سے سے بجلی و گیس کے بلوں پیٹرول و ادویات اشیائے خوردونوش کی مدت میں پیسہ اکٹھا کرکے سرمایہ کاروں کو منافع دیا جا رہا ہے۔

    حکومت کو اپنی پالیسی بدلنی ہوگی شرح سود کو کم کرنا ہوگا اور سرمایہ کاروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ صنعت و تجارت کے میدان میں سرمایہ کاری کریں صرف یہی صورت ہے جس سے ہم بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور عوام کو تھوڑا بہت روزگار و ریلیف مل سکتا ہے۔معیشت کو سود کی ترویج کےلئے استعمال کرنے کی بجائے سود سے بچنا بہترین ہیں کیونکہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ جنگ ہے اور یہ کبھی بھی مفید نہیں ہو سکتا ۔

    پاکستان "سود خوری” کا نیا عالمی مرکز ۔ مہنگائی کی اصل وجہ اور سرمایہ کاری کی حقیقت ….محمد عاصم حفیظ

    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ )