Baaghi TV

Category: متفرق

  • میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    میرٹ کا قبرستان سندھ پبلک سروس کمیشن–از–انشال راؤ

    جس طرح مودی کے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو حقوق و آزادی کے حصول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بالکل اسی طرح پاکستان نیا ہو یا پرانا بالخصوص سندھ میں میرٹ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، گذشتہ کئی دہائیوں سے میرٹ کی بحالی اور میرٹ کی پامالی کے دعووں کو لیکر حکومتوں و اپوزیشن کے مابین الفاظی جنگ چلی آرہی ہے لیکن ہمیشہ سے پاکستان بالخصوص سندھ میں میرٹ کا جنازہ ہی نکلتا آرہا ہے،

    موجودہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے لیکن حکومت شاید بھول رہی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی، اسی بات کا فائدہ اٹھا کر سندھ سرکار نے تو جدید بادشاہت کا نفاذ کر رکھا ہے، اٹھارہویں ترمیم کے فوراً بعد بادشاہ سلامت سندھ نے کراچی کے شہری اختیارات کے علاوہ یونیورسٹیز اور سندھ پبلک سروس کمیشن SPSC کو گورنر کی بجائے وزیراعلیٰ کے ماتحت کرلیا جسکے بعد سندھ کی سرزمین پر دھوم دھام سے میرٹ کا جنازہ نکالا گیا

    اب اسے میرٹ کا قبرستان قرار دیا جاسکتا ہے، اگر اس ابتری کا جائزہ لیا جائے تو اس کا لائسینس ایک طرف تو ریاست کے نظام نے دے رکھا ہے جبکہ دوسرا اسے عدلیہ نے جائز قرار دے رکھا ہے کیونکہ یہ جسٹس صاحبان ہی ہیں جو خائن بیوروکریٹس کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہیں جسکے نتیجے میں وہ کھل کر اندھیر نگری چوپٹ راج کو شد و مد کے ساتھ جاری رکھتے ہیں،

    کاش اگر سپریم کورٹ کے جسٹس صاحب SPSC کے ان افسران و ممبران کو عبرتناک سزا دے دیتی تو آج ایک بار پھر سے اہل افراد عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے پہ مجبور نہ ہوتے، ہوتے، 2017 میں سپریم کورٹ نے SPSC میں میرٹ کے برخلاف بھرتی ممبرز کو باعزت واپسی کا راستہ دیا اور کمبائن کمپیٹیٹو ایگزام 2013 کو مختلف غیرقانونی و میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی وجوہات کی بنا پر دوبارہ کروانے کا حکم دیا لیکن دلچسپ بات دیکھیں اس پورے کیس میں کسی ممبر یا افسر کو بدعنوانی و خیانت پر سزا نہیں دی گئی

    حتیٰ کہ کنٹرولر SPSC جمعہ خان چانڈیو کو بھی واپس سبجیکٹ اسپیشلسٹ بنادیا جبکہ وہ شخص لاکھوں خاندانوں کے مستقبل سے کھیل چکا تھا، ہزاروں نااہل افراد کو بھرتی کرنے والے SPSC کے ممبران و افسران کو بخش دیا گیا یہ جانتے ہوے بھی کہ ان ہزاروں نااہل بھرتی افراد نے اگلے تیس سال پاکستان کی ایسی تیسی کرنی ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو سزا نہیں دی گئی الٹا ان غریب و اہل افراد کو بھینٹ چڑھادیا گیا جو محنت کرکے پاس ہوگئے تھے، ایسے میں جہاں سزا کا تصور ہی نہ ہو تو بھلا کوئی سوچ سکتا ہے کہ بدعنوانی اور خیانت رک پائیگی،

    ایک بار پھر سندھ پبلک سروس کمیشن میں میرٹ کا قتل عام ہونے پہ اہلیت سراپا احتجاج ہے اور اہل افراد انصاف کے حصول و میرٹ کے لیے عدالت کا سہارا لینے پہ مجبور ہیں لیکن ہوگا وہی جو روایت ہے متعدد پیشیاں ہونگی، پاریش راول اور امریش پوری کی طرح جسٹس صاحبان ڈائیلاگ ماریں گے کہ اگر ہم نے فلاں کچھ لکھ دیا تو تہماری نسلیں یاد رکھیں گی، ہم نے لال قلم چلادیا تو یاد رکھوگے، اپنے لیے خود ہی سزا منتخب کرلو اگر ہم نے کی تو تمہیں لگ پتہ جائیگا وغیرہ وغیرہ اور نظام بدستور کھڈے لائن ہی لگا رہے گا،

    زرا سوچئے کہ اگر عدلیہ دو تین بڑے افسران کو جرم ثابت ہونے پہ کڑی سزا دے دے تو پھر کوئی افسر بدعنوانی و خیانت کرے گا؟ کبھی نہیں، زرا سوچئے جب سابق کنٹرولر جمعہ چانڈیو پہ جرم ثابت ہوا اور اس کی بھرتی بھی میرٹ کے خلاف ثابت ہوگئی اس کے اثاثوں میں بھی بغیر کسی زریعے کے لاکھوں گنا اضافہ ثابت ہوگیا تو پھر عدالت کا اسے بخش دینا کیا دوسروں کو خیانت و بدعنوانی کا لائسینس دینا نہیں؟

    اگر اس وقت عدالت کی طرف سے ملوث افراد کو نشان عبرت بنادیا گیا ہوتا تو دوبارہ کسی کو جرات نہ ہوتی کہ وہ میرٹ سے کھیلواڑ کرے، نہ دنیا نیوز کو پروگرام کرنا پڑتا نہ ہی کسی کو عدالت جانا پڑتا، کبھی کبھی تو مجھے ایسا بھی لگنے لگتا ہے کہ ایسا جج صاحبان اس لیے بھی کرتے ہیں کہ اگر یہ حضرات کیسز کو جلدی جلدی نمٹادینگے اور سخت سزائیں دینے لگیں گے تو پھر لوگ غلط کام کرنا چھوڑ دینگے جب لوگ غلط کام نہیں کرینگے تو پھر ججز کو کون پوچھے گا،

    ان کا گزر پانی کیسے چلے گا، خیر کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی میرٹ کے بغیر ممکن نہیں، ہاں بالکل مگر پاکستان کو ترقی نہیں چاہئے کیونکہ گزارا تو IMF یا ADB یا کسی ملک سے قرض لیکر ہی چلانا ہوتا ہے وہ بھی نہیں تو بیچاری عوام تو ہے ہی ٹیکسز بڑھادینگے بجلی مہنگی کردینگے گیس کا ریٹ بڑھادینگے سو یوں گاڑی چل جائیگی اس لیے میرٹ کی کیا ضرورت ہے، میرٹ آگیا تو عوام نے اوطاقوں اور ڈیروں پہ آنا جانا چھوڑ دینا ہے کیونکہ پالیسی ساز اہل افراد آجائینگے تو عوام آزاد ہوتی جائیگی،

    اس کے علاوہ آئے دن ہم سنتے ہیں کہ DG/ISPR صاحب پریس کانفرنس کررہے ہوتے ہیں کہ ملکی سلامتی کو خطرہ ہے دشمن ففتھ جنریشن وار مسلط کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن مجھے حیرت ہے کہ سالوں سے نیشنل سیکیورٹی کے نام پہ قوم کے پیسے کا بیڑہ غرق کیا جارہا ہے لیکن جنگلیوں کی طرح لڑنے کے سوا آج تک ایک کام بھی ایسا نہیں کیا گیا جس سے نوجوان نسل میں مایوسیاں ختم ہوں، نوجوان نسل وڈیروں و سیاستدانوں کی گرفت سے آزاد ہوں، ان کے ذہنوں میں غلط نظام و ناانصافیوں کی وجہ سے ریاست سے نفرت کا عنصر پیدا نہ ہو،

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ملک کے تھنک ٹینک و پالیسی ساز چاہتے کیا ہیں، ایک بات تو طے ہے یا تو وہ بدنیت ہیں یا نااہل ہیں جو انہیں یہ تک نہیں پتہ کہ نیشنل سیکیورٹی کے لیے سب سے اہم ترین چیز میرٹ اور قانون کا عملی نفاذ ہے یاد رہے کہ میرٹ کے بغیر نہ تو قانون کا عملی نفاذ ممکن ہے نہ ہی کرپشن و بدعنوانی کا خاتمہ ہوسکتا ہے، اور یہ بات بچے بچے کو پتہ ہے کہ میرٹ کی کتنی اہمیت ہے اگر نہیں پتہ تو بس اسٹیبلشمنٹ کو نہیں پتہ یا پھر وہ بدنیت ہے وہ نہیں چاہتے کہ عوام آزاد ہو،

    حالانکہ میرٹ کا نفاذ کوئی راکٹ سائنس نہیں دو دن میں مکمن ہے ایک دن میں ہوسکتا ہے بس تھوڑا ڈنڈا اٹھانا پڑتا ہے یہ بدعنوان بیوروکریٹ مافیا تو ایسی سیدھی ہو کہ دنیا میں مثال دی جانے لگے گی مگر بات وہی ہے کہ نیت ٹھیک نہ ہو تو ایک صدی تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوسکتا اس لیے پاریش راول و امریش پوری والے ڈائیلاگ چلتے رہتے ہیں،

    کپتان صاحب کہتے ہیں کہ میرٹ کا نفاذ انکی اولین ترجیح ہے تو بھائی کب کروگے 16 مہینے گزرنے کے بعد بھی نسٹ یونیورسٹی میں یہ کہنا پڑے تو پھر کیا الفاظ کہوں بس اللہ ہی حافظ، NTS یا دیگر نجی ٹیسٹنگ سروسز ہزاروں افراد کا تحریری ٹیسٹ لیتی ہیں اور چند گھنٹوں بعد حاصل کردہ نمبرز کیساتھ نتیجہ جاری کردیتی ہیں

    لیکن واحد انوکھا ادارہ سندھ پبلک سروس کمیشن ہے جو ایک تو نتیجہ دینے میں مہینے یا سال لگا دیتا ہے اور حاصل کردہ نمبر تو ان کو بھی معلوم نہیں ہوتے جو اپائنٹ ہوتے ہیں یا اپائنٹ کرنے والے ہیں، کپتان صاحب اگر آپکی ترجیح واقعی میرٹ کی بحالی ہے اور آرمی چیف صاحب واقعی آپ سنجیدہ ہیں ملکی سلامتی کے لیے تو خدارا اس طرف دھیان دیجئے سندھ میں لسانیت کارڈ کو ریاست مخالف استعمال کیا جاتا ہے

    خدا کے لیے میرٹ کے نفاذ کو یقینی بنائیے تاکہ یہ لسانیت کارڈ ہمیشہ کے لیے ختم ہو اور لوگوں کا ریاست پہ اعتماد بحال ہو، سندھ پبلک سروس کمیشن جوکہ میرٹ کا قبرستان ہے اسے آڑے ہاتھوں صحیح کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ میرٹ کا قبرستان نااہل افراد کو بھرتی کر کر کے ملکی اداروں اور معاشرے کو قبرستان بنادیگا جو آگے چل ملک و قوم کا قبرستان بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ

  • قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت–از–عبدالحمیدصادق

    امریکی مورخ ’’سٹینلے والرٹ‘‘ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’جناح آف پاکستان‘‘ کی ابتداء ان الفاظ سے کرتا ہے ’’بہت کم شخصیات تاریخ کے دھارے کو قابل ذکر انداز سے موڑتی ہیں اس سے کم وہ افراد ہیں جو دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں اور ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جسے ایک قومی ریاست تخلیق کرنے کا اعزاز حاصل ہو۔

    جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے۔‘‘ایسے تمام افراد جنہوں نے دنیا میں کچھ بڑے کام کیے ہوتے ہیں، ان میں کچھ ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو انہیں باقی لوگوں سے ممتاز رکھتی ہیں ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تاریخ کو ایک نیا رخ دیا۔ ظاہری طور پر دبلے پتلے اورکمزور، لیکن اصول پسندی، پختہ عزم و یقین، صاف گوئی، انصاف پسندی، خوش مزاجی اور پابندی وقت جیسی عظیم خوبیاں ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔ یہی وہ خوبیاں تھیں کہ جن کا اعتراف دشمن بھیکیا کرتے تھے۔

    یہی وجہ تھی کہ انگریزوں اور ہندوئوں کے بڑے بڑے کردار بھی آپ کے سامنے نظریں جھکا لیا کرتے تھے کہ ایک اصول پسند آدمی کے سامنے خود کو کس طرح بڑا بنا کر پیش کریں کیونکہ بڑا آدمی وہ نہیں جس کے پاس سلطنت یا پیسہ زیادہ ہو بلکہ بڑا آدمی وہ ہے جو اصول پسند اور وقت کا پابند ہو۔ قائداعظم محمد علی جناح کے اصول ان کی زندگی کی سب سے قابل قدر چیز ہیں۔ ان کی زندگی کے راہنما اصول ہمارے لیے واضح پیغام ہیں۔

    ان کی اصول پسندی کا ہی نتیجہ تھا کہ برٹش انتظامیہ اورکانگرس پارٹی کی راہ میں ایک یہی شخص سب سے بڑی رکاوٹ تھا، جس کا آ ہنی حوصلہ اور صبر و استقلال سب کے لیے باعث حیرت اور باعث تشویش تھا۔قائداعظم محمد علی جناح کی اصول پسند زندگی کے چند ایک واقعات آپ کی خدمت میں گوش گزار ہیں۔23 مارچ 1941ء کی بات ہے کہ قائداعظم کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے والی مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی ۔ جب وہ تشریف لائے تو مرزا عبدالمجید تقریر کر رہے تھے۔

    قائداعظم کو داخل ہوتے دیکھ کر لوگوں نے اگلی صف تک راستہ بنانا شروع کر دیا۔ اتنے میں ایک لیگی کارکن نے کہا :’’سر ادھر سے آگے بڑھیے‘‘ تو قائداعظم نے جواب دیا: ’’میں آخر میں آیا ہوں اس لیے یہاں آخر میں ہی بیٹھوں گا۔‘‘ قائداعظم چاہتے تو آگے بڑھ سکتے تھے لیکن انہوں نے آخر میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔

    اسی طرح ایک بار قائداعظم گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی صحن میں چہل قدمی کر رہے تھے اور نیوی کے اے ڈی سی لیفٹیننٹ ایس ایم حسن تھوڑے فاصلے پر ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ سیر کے دوران وہ خلاف معمول ذرا آگے بڑھ گئے اور گورنر جنرل ہاؤس کے جنوبی گیٹ کے بالکل قریب جا نکلے جہاں ایک ایسا نیا سنتری کھڑا تھا جس نے قائداعظم کو روبرو نہیں دیکھا تھا۔ سنتری نے کہا یہیں رک جائیے جناب! آپ آگے نہیں جا سکتے، اجازت نہیں ہے۔ قائداعظم نے کہا
    ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔

    سنتری نے کہا نہیں جناب! یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ کسی شخص کو اس نشان سے آگے جانے کی اجازت نہیں، یہی آرڈر مجھے ملا ہے اور اس کی پابندی کروانا میرا فرض ہے، اس پر قائداعظم نے ہاں میں سرہلا دیا۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کو سالگرہ کے موقع پر بے شمار خطوط موصول ہوئے، ان میں سے ایک خط پنجاب کے ایک پرانے مسلم لیگی خان بہادر کا بھی تھا۔

    سیکرٹری نے یہ خط آپ کو پیش کیا اور کہا کہ جناب یہ خط پنجاب سے خان بہادر نے بھیجا ہے، لکھا ہے آپ میرے مرشد ہیں اور مسلم لیگ میرا مذہب ہے، میں مسلم لیگ کے لیے ہر قربانی دینے لیے تیار ہوں، انہوں نے سالگرہ کا تحفہ بھی بھیجا ہے۔ اتفاق سے اس خط پر ٹکٹ نہیں لگے تھے۔۔ قائداعظم نے خط کے مندرجات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ جواب میں لکھو کہ آپ کے خط پر ٹکٹ نہیں تھا،

    بغیر ٹکٹ کے خط وصول نہیں کیے جاتے، سیکرٹری نے غلطی سے آپ کا خط لے لیا، ہر روز بے شمار بے رنگ خط وصول کیے جائیں تو مسلم لیگ کے پیسے کا ضیاع ہو گا۔1947ء کے اواخر کی بات ہے کہ قائداعظم کے بھائی احمد علی گورنر جنرل ہاؤس میں ان سے ملنے کے لیے آئے اور بڑے فخر سے اپنے ملاقاتی کارڈ پر اپنے نام کے ساتھ قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی کے الفاظ لکھ کر کارڈ قائداعظم کے اے ڈی سی گل حسن کو دیا اور کہا کہ قائداعظم کا بھائی ہوں۔

    بھائی اور قائداعظم کا۔۔۔ اے ڈی سی کو کچھ لحاظ تو کرنا ہی تھا، انہوں نے کارڈ فوراً قائداعظم کو پیش کیا۔۔۔ اس کو توقع تھی کہ قائداعظم دیکھ کر بہت خوش ہوں گے لیکن قائداعظم نے اے ڈی سی سے پوچھا یہ ملاقاتی کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا سر آپ کے بھائی ہیں۔ قائداعظم نے پوچھا کیا انہوں نے وقت لیا تھا؟ جس پر گل حسن نے جواب دیا کہ سر انہوں نے وقت تو نہیں لیا تھا۔

    قائداعظم نے سرخ پنسل سے ’’قائداعظم گورنر جنرل کا بھائی‘‘ کے الفاظ کاٹنے کے بعد کہا
    ان سے کہوکہ کارڈ پر صرف اپنا نام لکھے۔ انہوں نے یہ کارڈ لے جا کر قائداعظم کے بھائی کو دیا اور کہا کہ یہ الفاظ قائداعظم نے خود کاٹے ہیں، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں صرف اپنا نام لکھیں پھر ممکن ہے قائداعظم سے ملاقات کر لیں۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک پرجوش مسلم لیگی کارکن عبدالستار خیری کو حکومت نے گرفتار کر لیا۔ دوران قید قائداعظم کو بارہاخط بھی لکھتے رہے۔ جب رہا ہوئے تو قائداعظم کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے میری رہائی کے لیے بہت کوششیں کیں، جس پر قائداعظم فرمانے لگے کہ میں اصولاً یہ بات گوارا نہیں کر سکتا کہ بغیر مقدمہ چلائے اور بغیر عدالتی کاروائی کے کسی شخص کی آزادی صلب کرلی جائے۔

    جب کوئی فرد یا قوم اپنے وقت کی صحیح معنوں میں قدر کرنا جان جاتی ہے تو دنیا کی تمام کامیابیاں ان کے قدموں کی خاک بن جاتی ہیں۔ پہلے وہ وقت کو اپنے لیے اہم بناتے ہیں، پھر وقت ان کو لوگوں کے لیے اہم بنا دیتا ہے۔ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور جو شخص وقت کی اس تیزی سے فائدہ نہیں اٹھاتا وقت اس کو اٹھا کر کامیابیوں سے دور پھینک دیتا ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی سب سے بڑی خوبی جس نے انہیں کامیاب کیا وہ وقت کی پابندی تھی۔ اس بارے میں قائداعظم کے کئی واقعات بہت مشہور ہیں۔ سب سے دلچسپ اور انوکھا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان بننے کے بعد سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا گیا۔قائداعظم اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ وہ ٹھیک وقت پر تشریف لائے لیکن کئی وزراء اور سرکاری افسران اس تقریب میں نہیں پہنچے تھے، جن میں وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے۔

    اگلی قطار کی کرسیاں جو افسران اور وزراء کرام کے لیے مخصوص تھیں، خالی پڑی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر قائداعظم غصے میں آگئے اور حکم کیا کہ پنڈال سے تمام خالی کرسیاں اٹھا دی جائیں تا کہ جو حضرات بعد میں آئیں، انہیں کھڑا رہنا پڑے۔ اس طرح انہیں احساس ہو گا کہ پابندی وقت کتنا ضروری ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ پروگرام شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی جناب وزیر اعظم لیاقت علی خان تشریف لائے تو ان کے ساتھ چند وزرا ء بھی تھے۔

    پنڈال میں موجود کسی شخص کو جرأت نہ ہوئی کہ ان کے لیے کرسی لائے یا پنی نشست پر انہیں بٹھائے۔ تقریب کے دوران لیاقت علی خان اور ان کے ساتھ آنے والے وزرا کھڑے رہے۔ ان کا مارے شرمندگی برا حال تھا۔ اس واقعہ کے بعد کسی اعلیٰ افسر کو جرأت نہ ہوئی کی تقریب میں دیر سے آئے۔دسمبر1941 ء میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ سیشن کے آخری روز مقامی طلبا نے قائداعظم سے ملنے کا وقت لیا اور کسی وجہ سے پندرہ منٹ لیٹ ہو گئے۔

    قائداعظم نے اپنے سیکرٹری سے کہا
    ’’مطلوب الحسن!
    ان سے کہہ دو کہ تم لیٹ ہو گئے ہو۔ اب میں تم سے نہیں مل سکتا، کل وقت لے کر آئو۔‘‘ اگلے روز جب وہ طلبا حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی بہتری کے لیے ایسا کیا، آپ نوجوان ہیں، آپ کو وقت کی قیمت کا احساس ہونا چاہیے۔عزیز طلبا! آج ہم بھی نوجوان ہیں، کیا ہمیں بھی وقت کی قیمت کا احساس ہے؟’’

    آج ہمارے پاس وقت جیسی عظیم نعمت موجود ہے ہم اس کی قدر کر لیں گے تو یہ وقت آنے والے دنوں میں ہمیں عظیم بنا دے گا اور اگر آج وقت کی اہمیت کو نہ جانا تو کل بھی دنیا میں ہمیں کوئی پہچاننے والا نہ ہو گا۔‘‘لیڈر کبھی بھی آسمانوں سے نہیں اترتے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو اپنے اندر خدمت انسانیت کا جذبہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو غنی کر دیتے ہیں اور امت کی آسانی کے لیے ان کی راہیں ہموار کر دیتے ہیں۔

    قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کو اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے وہ کس قدر، نڈر، بے باک، بے لوث، سچائی کے پیکر، نظم و ضبط کی اعلیٰ مثال، مخلص، اصول پسند، محنتی اور عوام دوست تھے۔ جب کسی انسان میں اتنی ساری خوبیاں اکھٹی ہو جائیں تو بلاشبہ وہ انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر پہنچا دیتی ہیں۔ اسی لیے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا کہ

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
    قائد اعظم ایک اصول پسند شخصیت
    تحریر: عبدالحمید صادق

  • آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    آنسوؤں کو دفاع میں بدلو!!!! تحریر: محسن نصیر

    حمزہ نے کہا، میں فرسٹ ائیر میں تھا جب یہ دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھاایک دن پہلے سب کچھ نارمل تھاحملے کے دن فرسٹ ائیر کوچھٹی تھی_ میں نے سب کو بکھرے ہوئے اور آنسوؤں کی حالت میں بیدار پایامیں اپنے دوستوں کے بارے میں سوچ کر صدمے میں پہنچ گیاجو حملے کے دوران سکول میں موجود تھے_ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اموات کی تعداد بڑھتی جا رہی تھیاور میں اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکا

    مجھے سکول میں رہ کر علم اور حکمت حاصل کرنا تھا اور مسائل پر قابو پانا تھا جسکا مجھے مستقبل میں سامنا کرنا تھا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسی طاقت مجھے علم حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے ہمارے کاج کی عمارتوں کے ساتھ چلتے ہوئے یہ دہشت اب بھی ہمارے دل میں ہے لیکن یہ ہمیں مزید مطالعہ کرنے اور ہمارے حوصلے بلند کرنے کی ہمت دیتی ہے_

    احمد نے کہا، تعلیم کا مطلب ہر وہ چیز ہے وہ تمام یادیں اور احساس ہے اور دہشت گردوں کو میرا پیغام یہ ہے تم نے ہمیں قتل کرنے جی کوشش کی، اسکے بجائے آپ نے ہمیں لافانی بنایا_ ہماری یاد ہمیشہ زندہ رہے گی، اور سب کو حوصلہ، طاقت اور امید فراہم کرے گی_

    دونوں طلباء اے پی ایس کے حملے کا شکار ہیں وہ اپنے دوستوں کو 16 دسمبر 2014 کو صبح ساڑھے دس بجے کھو بیٹھے تھے، تحریک طالبان کے سات بندوق بردار اسکول میں داخل ہوئے اور طلباء اور عملے کو مارنا شروع کر دیا اس دن آٹھ سے اٹھارہ سال تک کے 140 سے زیادہ بچے اس دن شہید ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے_

    بھائیو! دہشت گردی اب ہمارے لئے ایک بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے اس نے ہم میں بڑھے پیمانے پر خوف کو جنم دیا ہے ہمیں پاکستان کے ایک وفادار شہری کی حیثیت سے اس طاقت اور بہادری کے ساتھ اس خطرہ اور خطرے کا سامنا کرنا چاہیے ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے اس طرح دہشت گردی کے اس خطرے کے کچھ موثر حل بھی ہیں اگر ان کا صحیح طریقے سے عمل کیا جائے گا_

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
    ” جن لوگوں نے کفر کیا وہ چاہتے ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کر دیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں یا بیمار ہو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا اللہ نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے_(102:4)

    آج ہم 1990 کی دہائی کے آخر سے بدتر حالات کا سامنا کر رہے ہیں_ روزانہ نیوز چینلز اور اخبارات، جرائم کی کہانیاں، خودکش دھماکوں اور بہت سے چھوٹے چھوٹے حالات سے بھرا ہوا ہےجسکا مستقبل میں خطرہ ہو سکتا ہے اور متعصب میڈیا کے ذریعہ بھی انکی اطلاع نہیں ہے جسکی وجہ سے ہماری پوری قوم ناامیدی اور بالآخر بے عمدگی کی گہرائیوں میں جارہی ہے عمدگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے آج ان وجوہات کی بنا پر نوجوان کچھ مایوس، ناامید اور بے بس ہیں لیکن ان سب کے علاوہ نوجوان ابھی بھی سرنگ کے اختتام پر روشنی کے منتظر ہیں یہاں تک کہ انہوں نے عملی میدانوں میں خود کو آگے بڑھایا ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان کے پاس وہی کرنے کی طاقت نہیں ہوتی وہ جو کرنا چاہتے ہیں موجودہ منظر نامے سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ این سی سی (نیشنل کیڈٹ کور) کے لئے شہریوں کو تحفظ کے لیے متحرک کرنے کے لیے نوجوانوں کی تربیت کا اب سے موزوں وقت ہے جب خودکش حملے ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں تو بھارت، بلوچستان، فاٹا اور کشمیر میں ہمارے خلاف غیر سرکاری جنگ لڑ رہا ہے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ انڈیا ہمارے پڑوسی افغانستان میں بیٹھ کر ہمارے خلاف کھیل کھیل رہا ہے
    جب بھارت نے ہمارے پانی کو دریائے چناب اور راوی میں روک دیا ہے، دفاعی اور تجویزاتی تجزیہ نگاروں کا نظریہ ہے کہ اگلی جنگ بہت جلد متوقع ہے اور اس جنگ کی وجہ پانی کا مسئلہ اور دیگر مسائل سرفہرت ہونگے_

    المیہ یہ ہے جب ہم اس قسم کی تربیت کی بات کرتے ہیں تو لوگ سوچتے ہیں ہم انتہاپسند ہیں ہم جنگ کو دعوت دے رہے ہیں خوابوں کی ناممکنات اور خیالات اور افعال کی منفی سمت کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس نقطہ نظر کے لوگوں کو اسرائیل میں یوتھ بٹالین کی تربیت کا علم نہیں ہو سکتا اسرائیل میں ایک طالبعلم کو دسویں جماعت کی ڈگری نہیں دی جاتی جب تک وی ایک ہفتہ کی ٹریننگ پاس نہ کرے ایک ماہ کی تربیت کے بغیر انٹرمیڈیٹ ڈگری اور گریجویٹ ڈگری کے لئے تین ماہ کی تربیت نہیں دی جاتی ہے اس تربیت کے تحت ہر بھرتی ایک بنیادی تربیتی پروگرام میں جاتا ہے جہاں انہیں فوج کے نظم و ضبط شوٹنگ، ابتدائی طبی امداد، کیمیائی اور حیاتیاتی جنگ سے متعلق معلومات اور جسمانی فٹنس کی تعلیم دی جاتی ہےیہ تربیت قومی دفاعی خدمت قانون 1986 کے تحت کچھ مستثنیات کے ساتھ مطلوب مرد اور خواتین دونوں کے لئے لازمی ہے یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو خواتین کے لیے لازمی قومی خدمات کع برقرار رکھتا ہے اسرائیل جیسے چھوٹے سے ملک کی چستی کا راز اپنے نوجوانوں کے لیے لازمی فوجی تربیت کی پالیسی ہے اسرائیل نے بہت سی جنگیں لڑی ہیں 1948،1967 اور 1973 میں اور وہ ہمیشہ ان جنگوں کو جیتے اور اسکی وجہ یہی ہے کہ اسکی آخری آبادی اسکے آخری مرد اور عورت تک ایک سپاہی کی حیثیت سے لڑاکا ہے

    ہندوستان نے بھی اس طرح کی تربیت کا آغاز کیا ہے نیشنل کیڈٹ کارپس (دہلی) نے 1948 کے نیشنل کیڈٹ کور ایکٹ کے ساتھ تشکیل دی یہ ایک رضاکارانہ تنظیم ہے جو پورے ہندوستان میں ہائی اسکولوں اور کالجوں سے کیڈٹس کی بھرتی کرتی ہے _

    نیشنل کیڈٹ کور، جانباز، مجاہد فورس پاکستان میں وہ قسم کی فوجی تربیت ہے جو 2002 تک کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کع دی جاتی تھی جب پرویز مشرف نے اس تربیت کا روکا تھا ان کے تحت، پاکستان کے محب وطن اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو ابتدائی طبی امداد کی سرگرمیوں بنیادی ہتھیاروں کے استعمال اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تربیت دی گئ تھی جس میں جنگ یا لڑائی سے متعلق حالات بھی شامل ہیں اس وقت ان خطرات، سازشوں اور غیر یقینی کی صورتحال بہتر جانتے تھے جنکا سامنا ہمارا ملک (داخلی دشمن) اور بین الاقوامی دشمنوں کی شکل میں بھی کر رہا ہے_

    اس قسم کی تربیت آرمڈ فورس اور سویلین کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو کم کرتی ہے جنکو دشمن بدتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں_کیڈٹ کور /سویلین آرمی ایک مخصوص فوج کی حیثیت سے خدمات انجام دے سکتی ہے فوج کے ذخائر فوج کی افرادی قوت کی ضروریات کو پورا کریں گے _

    ریزرویونٹس فلسطینیوں کی حالیہ لہر میں اسرائیلیوں کی طرح دفاعی شیلڈ جیسے بہت سے آپریشن کرتی ہیں مزید برآں، تربیت یافتہ کیڈٹ عوامی سول ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں، کھلی منڈیوں اور پارکنگ لاٹوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ چوکیوں پر مدد کرنے جیسے دیگر سول خدمات انجام دے سکتے ہیں_

    مزید یہ کہ این سی سی دفاع کی دوسری لائن کے طور پر کام کرتی ہے وہ آرڈیننس فیکٹریوں کی مدد کے لیے کیمپوں کا اہتمام کر سکتے ہیں محاذ کو اسلحہ اور گولا بارود کی فراہمی کرتے ہیں اور دشمن کے پیرا ٹروپرز کو پکڑنے اور مشتبہ خودکش بمباروں کی شناخت اور گرفتاری کے لئے پٹرولنگ ٹیم کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھااین سی سی بچاؤ کے کاموں اور ٹریفک کنٹرول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے سول ڈیفینس حکام کے ساتھ بھی کام کرسکتے ہیں تاہم این سی سی کے پچھلے نصاب کو مزید جدید بنانے کے لیے نظر ثانی کی جانی چاہیےجیسے ہندوستان نے 1965 اور 1971 کی ہند پاک جنگ کے بعد این سی سی نصاب میں نظر ثانی کی تھی محض دفاع کی دوسری لکیر ہونے کی بجائے این سی سی کو اپ گریڈ کیا گیا تاکہ وہ قیادت والی خصوصیات کی نشوونما کو بڑھا سکیں_

    بھارت اور اسرائیل ہمارے خطرناک دشمنوں میں شامل ہیں دونوں ہی نوجوانوں کو این سی سی کی تربیت دے رہے ہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں کیوں نہیں؟بحیثیت مسلمان ملک ہمیں ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہونا چاہیئے ہمارے مذہب کی بھی ضرورت ہے طاقت کو متوازن کرنا چاہیے اگر آج نہیں، اس ہنگامہ خیز دور میں تو پھر صحیح وقت کب آنے والا ہے؟

    اب وقت آگیا ہے کہ سول طرف سے بھی قومی محب فوج تیار کی جائے ان مشکل وقتوں میں ہمیں تعلیم اور دفاع کی وزارتوں کے اشتراک سے اپنے نوجوانوں کے لئے لازمی فوجی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے

    ہمیں نوجوانوں کو جدید ہتھیاروں اور آلات کے استعمال کے لیے تیار کرنا ہوگا تاکہ نوجوان شہری جنگ کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی نبھا سکیں جو ہم پر عائد کی گئی ہے اور شہروں، قصبوں اور گلیوں کی حفاظت کی جاسکے ہماری فوج پہلے ہی بہت زیادہ دباؤ سے نمٹ رہی ہے وہ نہ صرف ہماری سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ مساجد اور اداروں کی حفاظت بھی کر رہے ہیں نہ صرف سرحد پر جانیں دے رہے ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی شہادتیں پیش کر رہے ہیں ہمیں اس پاک سر زمین کو بچانے کے لیے اپنی پاک فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا جب محب وطن، بصیرت، اچھی طرح سے لیس اور حوصلہ افزائی کرنے والے نوجوان فوج کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے، تو کبھی بھی کوئی بری طاقت ہمارے ملک اور عوام کے ساتھ بری نیت رکھنے کی جرت نہیں کرسکتی_

    ہمیں اپنی درخواست کو باضابطہ حکام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا ہمیں آنے والے وقتوں کے لیے باضابطہ طور پر تیار ہعنے کی ضرورت ہے ہم بہترین کے لیے امید کرتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں ہمیں بد ترین کی تیاری کرنی ہو گی یہ ایکشن پلان ہے جو زندگی کے تمام فاتح تخیل کو حقیقت میں، تصور کو حقیقت میں بدلنے اور خوابوں کو اصل مقاصد میں اور بالآخر عمل میں بدلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں نوجوانوں کے پاس آج خواب، محرکات اور امیدیں ہیں اور وہ پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں صرف اس مثبت توانائی کو کچھ نتیجہ خیز کاموں میں تبدیل کرنا ہے_

    آئیے سب پاکستان کے امن و خوشحالی کے لیے دعا کریں اور ہر سطح پر پاکستان کے دفاع کیلئے کچھ نہ کچھ اپنا کردار ضرور ادا کریں _

    پاکستان زندہ باد

  • ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    16 دسمبر 1971 کو دشمن کی مدد سے اپنے ہی غداروں نے مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا حالانکہ دنیا گواہ ہے کہ چند دن کے گولہ بارود ہونے کے باوجود ہماری بہادر افواج تقریبا سات ماہ تک لڑی اور آخر کار عالم اسلام کی وہ مایہ ناز فوج کے جس نے 1948 اور 1965 میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور عرب اسرائیل جنگ میں کہ جب عالم اسلام کے کئی خلیجی ملک اسرائیل کے قبضے میں جا چکے تھے اس وقت تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا تھا اس اسلامی جہادی فوج نے ورنہ یقینا اسرائیل ایک اٹامک پاور ہوتا اور دنیا کا نقشہ آج یہ نا ہوتا مگر افسوس کہ وہ فوج اپنوں کی غداری کی بدولت ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا
    ہم نہیں بھولے سقوط دھاکہ اور ہم نہیں بھولے سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر 2014 کو ایک بار پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارے ملک کے اندر سے ہی غداروں اور دین کے نام نہاد دعویداروں کو خریدا اور پشاور میں بچوں کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا اور اس بار مکتی باہنی کا کردار دین کے نام نہاد دعویداروں ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے ادا کیا مگر میں قربان افواج پاکستان اور عوام پاکستان پر کہ جنہوں نے مل کر مقابلہ کیا اور ٹی ٹی پی کے تمام سورمے جہنم واصل کر دیئے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا کہ اب ارض پاک کے بچے سکول نہیں جائینگے
    میرے ملک کے دشمنوں دکھ تو ضرور ہوتا ہے ان گزرے واقعات کو یاد کر کے مگر ہمارا حوصلہ پھر بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے لئے رب نے ناکامی رکھی ہی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں یا لڑتے ہوئے دشمن کو مار دیں ہر صورت ہم ہی کامیاب و کامران ہوتے ہیں وہ ہمارے پولیس و فوج کے جوان ہو یا آرمی پبلک سکول کے اساتذہ و نہتے معصوم بچے ان شاءاللہ کامیاب و کامران ہیں
    ہاں مگر دشمنوں خارجیوں دین و ملت کے باغیوں ناکامی صرف تمہارے لئے ہی ہے کہ تم نے مکتی باہنی بنا کر میرے اپنوں کو میرے خلاف کرکے ڈھاکہ کا سقوط تو کروا لیا مگر آج بھی دیکھ لو بنگلہ دیش کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ پاکستان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور دیکھ لو بنگلہ دیش بنانے والوں کا انجام بھی ذرا کہ کیسے اپنی ہی بنگلہ دیشی فوج کے ہاتھوں اپنے بیوی بچوں سمیت قتل ہو گئے اور نشان عبرت بن گئے اور تم نے اپنی اس حزیمت کا بدلہ لینے کیلئے پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کو شہید کروا دیا اور تمہارا خیال تھا کہ اب پاکستان کے بچے ڈر جائیں گے اور سکول کی راہ نہیں لینگے مگر دیکھو ظالموں تم پھر ناکام ہو گئے
    اللہ کی قسم ایسی درندگی کی مثال نہیں ملتی تم نے سوچا تھا اے پی ایس کو ویران کرکے ملک کے باقی سکولوں میں دہشت کی فضا قائم کرکے بچوں کو سکول سے دور کر دو گے مگر آؤ دیکھو اسی اے پی ایس کے سکول کے بچوں کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ بلند ہیں اور اے پی ایس اسی شان و شوکت سے قائم و دائم ہے مگر اب تو ہمارے معصوم بچے بھی بے خوف ہو کر تمہیں للکار رہیں ہیں کہ جس عمر میں بچے ویڈیو گیم اور چاکلیٹ کھانے کی باتیں کرتے ہیں اب اے پی ایس کے بچے بلکہ پورے ملک کے بچے کہہ رہے ہیں مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    کیا جب کبھی کوئی دہشت گرد مرتا ہے تب اس کے بچوں نے بدلہ لینے کی بات کی ؟ نہیں بلکل نہیں کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں حق کیا ہے باطل کیا ہے دہشتگردوں خارجیوں اللہ کے دین کے دشمنوں تم نے بہت نہلایا اس ارض پاک کو خون سے مگر اللہ کی قسم ہمیشہ تم ناکام ہوئے اور ان شاءاللہ ہوتے ہی رہوگے کیونکہ آج بنگالی بھی مانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیساتھ زیادہ مضبوط تھے اب تو پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے بھی کہہ رہے جیوے جیوے پاکستان مگر کہاں گئے وہ دہشت گرد اور ان کے یار آج وہ بیرون ممالک اور پہاڑوں غاروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں
    دنیا نے دیکھا پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ گئے کیونکہ اس ارض پاک کی بنیادوں میں سولہ لاکھ شہداء کا خون شامل ہے اور خون کی بنیاد بڑی مضبوط ہوتی ہے ان شاءاللہ تم جتنا مرضی زور لگا لو جتنا لگا چکے اس سے بھی زیادہ لگا کر دیکھ لو پاکستان تھا ہے اور قیامت تک رہے گا ان شاءاللہ کیونکہ اس ملک کے بچے بوڑھے اور جوان سب کا ایک اللہ پر ایمان
    اوہ مودی نجس میرے فوجیوں میرے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل تو اب اپنے ہی ملک میں بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اٹھتی ہوئی سونامی کو دیکھ اور ڈر اس وقت سے جب تیرے اس ہندوستان کے اندر کئی پاکستان بنے گے ان شاءاللہ

  • "کرتارپور میں ہورہا ہے خلاف توقع اور فکر انگیز کام” تحریر : طارق محمود

    2 روز قبل چند دوستوں کے ساتھ کرتار پور جانے کا اتفاق ہوا تقریباً 140 کلومیٹر سفر کرنے کے بعد جب گیٹ پر پہنچے تو پاکستان رینجرز کے جوانوں نے ہیمں فوراً روک لیا اور کہا کہ آپ کیمرہ لے کر اندر نہیں جا سکتے۔ کیمرہ یا مائیک اندر وہی لے کر جا سکتے ہیں جن کے پاس آئی ایس پی آر کا اجازت نامہ نا ہو یہ سننے کے بعد ہم نے سیکورٹی اہلکاروں سے بحث کرنا مناسب نا سمجھا اور اپنے کیمرے باہر رکھ کر اندر چلے گئے جب دربار کرتار پور صاحب میں داخل ہوئے تو وہاں کا منظر ہی کچھ نرالہ تھا ہم نے تقریباً 50 کے قریب کیمرے لوگوں کے پاس دیکھے جو وہاں کے مناظر کو محفوظ کر رہے تھے دوستوں نے استفسار کیا کہ یار ہمیں کیمرے کی اجازت نہیں دی گئی پر یہاں تو لاتعداد کیمرے ہیں یہ کیسے اندر ا گئے ہیں دوستوں کا کہنا تھا کہ یار سب باتیں ہیں پورا سسٹم ہی خراب ہے جس کی اپروچ ہوتی ہے وہ کیمرہ اندر لے آتا ہے ورنہ ایسا کون سا خطرہ ہے جو ہمارے کیمرے سے درپیش ہے اور دوسروں کے کیمرے اس سے استثنیٰ ہیں دوسری بات جس نے دلخراش کیا وہ یہ تھی کہ ہم عام شہریوں کی طرح لائن میں لگ گئے اور سیکیورٹی اہلکار بھی لوگوں کو لائنوں میں رہنے کا بار بار کہہ رہے تھے اسی دوران گاہے بگاہے چند لوگ اہلکاروں سے ا کر کچھ کہتے اور نظم و ضبط کے سارے اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو فوراً اندر بھیج دیا جاتا۔ یوں نظم و ضبط قائم کروانے والے ہی اس کی دھجیاں بکھیرتے رہے۔ واپسی پر جب گیٹ سے باہر نکلنے لگا تو سوچا ساری صورتحال پر اہلکاروں کا مؤقف ہی لے لوں جب سوال کیا کہ حضور ہمیں کیمرہ کی اجازت نہیں دی گئی لیکن اندر تو بے شمار کیمرے تھے وہ کس دستور کے تحت اندر گئے تو اہلکار کا جواب سن کر جو سکتا طاری ہوا وہ شائد ابھی بھی قائم ہے رینجرز اہلکار کا کہنا تھا کہ صاحب آپ کو پتا ہے جنگل کا قانون ہے جو پروٹوکول والی گاڑیاں ہوتی ہیں ان کو ہم چیک نہیں کرتے ۔ ان میں کیا کچھ اندر چلا جاتا ہے ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ دوسری وجہ اوپر سے فون آنا ہوتا ہے جس کی کال ا جائے اس کو ہم منع نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہماری مجبوریوں کو سمجھنا ہو گا اور گزارہ کرنا ہوگا آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں جیسے شہری جو بڑی مشکل سے وقت نکال کر اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جب محتلف سیاحتی یا مذہبی مقامات پر پہنچتے ہیں اور اپنے کیمرے سے پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو کیمرہ اندر لےجانے سے منع کیوں کیا جاتا ہے حالانکہ غیر ملکی سیاحوں کو کیمرہ اور ڈرون سے کبھی منع نہیں کیا گیا۔ کیا سیکورٹی خدشات صرف اور صرف میرے جیسے دیگر پاکستانی سیاحوں سے لاحق ہیں؟ اور سیکورٹی اہلکاروں کا پروٹوکول یا اپروچ والا رویہ درست ہے اگر ایسا ہے تو پھر سیاحت سے اور پاکستان کے مثبت چہرہ کو دیکھانے سے میری توبہ۔

  • غلام مصطفی خان جتوئی وفات پاگئے،تاریخ لوٹ آئی

    کراچی :تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے،آج بھی تاریخ نےوہ دن دوبارہ دہرادیا اورباورکرادیا جس دن پاکستان کے سابق وزیراعظم اپنے خالق حقیقی سے جاملے،اسی سابق وزیراعظم کی تاریخ‌پیدائش بھی بہت مشہوردن کی ہے،اسی دن چودہ اگست 1931ء کوپاکستان کے بزرگ سیاستدان اور سابق نگراں وزیراعظم غلام مصطفی خان جتوئی سندھ کی سرزمین میں‌پیدا ہوئے۔

    غلام مصطفی خان جتوئی کے والد غلام رسول جتوئی کئی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انہوں نے 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کی رکنیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1967ء میں جب پاکستان پیپلزپارٹی کا قیام عمل میں آیا تو وہ اس کے اساسی ارکان میں شامل ہوئے۔ 1970ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1971ء میں جب ملک میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو وہ مرکزی کابینہ کے رکن بن گئے۔

    1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں صوبہ سندھ کا وزیراعلیٰ مقرر کیا ۔ 1977ء میں وہ بلامقابلہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعدازاں متفقہ طور پر وزیراعلیٰ بھی بن گئے۔ 1977ء میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کے لئے بڑا فعال کردار ادا کیا اور 1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک کی قیادت بھی کی۔

    مارچ 1986ء میں جب بے نظیر بھٹو نے ان سے مشورہ کئے بغیر سندھ پیپلزپارٹی کی قیادت میں بنیادی تبدیلیاں کی تو انہوں نے اسے بڑا محسوس کیا اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ 1986ء میں ہی انہوں نے اپنی سیاسی جماعت نیشنل پیپلزپارٹی قائم کی۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہ ہوسکے مگر اگلے ہی برس وہ کوٹ ادو کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات میں منتخب ہوکر نہ صرف قومی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ متحدہ اپوزیشن کے سربراہ بھی بن گئے۔

    6 اگست 1990ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ نگراں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ وہ 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم 2002ء اور 2008ء کے عام انتخابات میں انہوں نے حصہ نہیں لیا۔20 نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے۔وہ نیو جتوئی کے مقام پر آسودۂ خاک ہیں

  • سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

    سانحہ تیز گام ایکسپریس پاکستان کی تاریخ کا ایک رقت انگیز واقعہ ہے۔ اس واقعے کا تعلق کراچی سے چلنے والی تیز گام ایکسپریس سے ہے۔ سچی بات ہے اس تحریر کا مقصد کراچی کے نشیب و فراز کو بیان کرنا نہیں بلکہ سو چا ذکر آیا ہے توکچھ نہ کچھ لکھتا جاؤں۔ شہر کراچی جوکہ کبھی پاکستان کے دارالخلافہ کے طور پرہی نہیں بلکہ کاروباری عروج کے اعتبار سے بھی اپنی مثال آپ تھا ۔مزید یہ کہ اسے روشنیوں کے شہر کے طورپر بھی جانا جاتا تھا۔ روزگار کے حصول کے لیے پاکستان کے طول و عرض سے لوگوں کی اکثریت اس شہر کی طرف سفر کرتی تھی ۔ مگر اب اس شہر کے حالات پہلے کی نسبت قدرے مختلف ہیں ۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، بدبودار گندا پانی اگلتے گٹر، ٹوٹ پھوٹ کی شکار سڑکیں ،سفر کے لیے ہچکولے لیتی جان لیوا پرانی بسیں جن سےشہریوں کی زندگیاں اجیرن ہی نہیں بلکہ اس شہر کا حسن بھی ماند پڑگیا ہے۔ شاعر کے الفاظ میں

    بس میں لٹک رہا تھا کوئی ہار کی طرح
    کوئی پڑا تھا سایۂ دیوار کی طرح
    سہما ہوا تھا کوئی گناہ گار کی طرح
    کوئی پھنسا تھا مرغ گرفتار کی طرح

    اس شہر کے مکین پینے کے لیے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے حصول کے لیے بھی مارے مارے پھرتے نظر آتے ہیں جو کہ حکومت سندھ کی حسن کارکردگی پر ایک سیا ہ دھبہ ہے۔کہنے کے لیے بہت کچھ ہے خیر اس پر پھر کبھی تفصیلی بات کریں گے اور اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ افسوسناک سانحہ تیز گام ایکسپریس اس وقت رو پذیر ہوا جب پاکستان کے سیاسی میدان میں ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔اقتدار کی کرسیوں پر جلوہ افروز حکمران اورحکومت مخالف تمام سیاسی ومذہبی پارٹیاں ایک دوسرے پر بھرپور تنقید کررہی ہیں۔ مگر اس واقعے نے تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے باہمی اختلافات کو بھلا کر ہر ذی شعور کو انسانی ہمدردی میں یکجا ہی نہیں بلکہ ہر آنکھ کو اشکبار بھی کر دیا ہے۔ ہاں ہاں ہر طرف سے سانحہ تیز گام ایکسپریس کی لپیٹ میں آنے والوں کے لیے غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    معاملہ کچھ یُوں ہے کہ فلسفہ زندگی ایک ہی جگہ سکونت پذیر اختیار کرنے کا نام نہیں ہےبلکہ معاملات زندگی کو نمٹانے کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کا نام ہے۔ یہ معاملات زندگی نوعیت کے اعتبار سے مختلف اشکال میں ملتے ہیں جن میں عبادات، کاروباری لین دین ، رشتہ داروں سے میل جول یا گھریلو مصروفیات وغیر ہ سر فہرست ہیں۔ اسی فلسفہ زندگی کے تحت کچھ لوگ کراچی سے تیز گام ایکسپریس پر سوار ہوئے جن میں تبلغی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی بھی اکثریت تھی

    یہ اسلام پسند لوگ جو کہ محمد عربیﷺ کے مشن پر چلتے ہوئے پروردرگار کے ہاں سجدہ ریز ہونے نکلے تھے بس ذہن میں ایک ہی خیال سمیٹے ہوئے تھے کہ رب کبریا سے گناہوں کی بخشش کروا لیں گے، رسول خدا کی حدیث سے سینے منوّر کرلیں گے۔ اسی خوبصور ت آرزو کے پیش نظر کعبہ کے رب کی خوشنودی کےلیے نہ مہنگائی سے بڑھتے ہوئے کرایوں کو دیکھا نہ گزرتے ہوئے وقت کو بتانے والی گھڑی کی ٹک ٹک پر کان دھرےاور نہ ہی اس بات کو سوچا کہ خود کی غیر موجودگی سے کاروبار اور دیگر معاملات زندگی متاثر ہوسکتےہیں۔ بس الرزّاق اور المھیمن کو ہی بڑا مانتے ہوئے اپنے بوری بسترے کو گول کیا اور کچھ استعمال کی چیزوں کو ہمراہ لیا۔ جن میں بدلتے ہوئے موسم کے پیش نظر رضائیاں ، گدے، رومال ،خشک راشن، کھانا پکانے کےلیے دیگچیاں اور سیلنڈر شامل تھے۔

    تیزگام ریل گاڑی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوئی تویہ بھلے مانس مسافر نہیں جانتے تھے کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آج آخری سفر ثابت ہوگا۔ بہرحال ریل گاڑی چلتے چلتے جب ساہیوال کے قریب پہنچی تو اس میں خطرناک قسم کی آگ بھڑک اُٹھی جس نے مختصر وقت میں ریل گاڑی کی کم وبیش تین بوگیوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی کے باعث اس کی شدّت و حدّت میں آضافہ ہوتا چلا گیا۔ہنستی مسکراتی زندگیاں تڑپنے لگیں، دم گھٹنے لگے ،اور دیکھتے ہی دیکھتے لقمہ اجل بن گئے۔ یقین جانیے یہ سماں کس قدر ہیبت ناک ہو گا ؟ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

    ہائے زندگی تو ہر کسی کو محبوب ہوتی ہے جس کے پیش نظر کچھ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زندگی بچانے کے لیے چلتی ریل گاڑی سے چھلانگیں لگانا شروع کردیں کچھ کے بازوؤں کی ہڈیاں چُور چُور ہو گئیں، کچھ کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور طرح طرح کے زخم آئے ۔ جو لوگ خود کو آگ کے نکلتے ہوئے دہکتے شعلوں سے بچانے میں ناکام رہے ان کے جسم مکمل طور پر جھلس گئے جو کہ پہچان کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پر نظردوڑائی جائے تو تقریباً پچھتر لوگ جان سے گئےاور ساٹھ کے لگ بھگ شدید زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں زیر علاج ہیں۔

    پاک فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فلاحی تنظیموں نے اس کام میں بھرپور حصہ لیا۔ اور حکومت وقت نے جاں بحق ہونے والے کے لواحقین کے لیے 15،15 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 5 لاکھ فی کس دینے کا اعلان کیاہے۔ جو کہ مالی معاونت تو ثابت ہوسکتی ہے مگر لوگوں کے اصل زخم نہیں بھرے جا سکتےہیں۔

    بہرحال اس درد بھرے سانحے سے کئی گھروں میں صف ماتم بچھ گئی ہے ۔ ابو ابو پکارنے والےبچے یتیم ہو گئے، عورتیں بیوہ ہوگئیں، ماں باپ کی آنکھوں کے تارے ٹوٹ گئےاور لوگ اپنے پیاروں کی راہیں تکتے رہ گئے۔ مگر ریل گاڑی کے یہ سوار ہمیشہ کے لیے دنیا فانی سے رخصت ہوگئےاور اس کے ساتھ ہی رب کبریا کے پیغام کی ترجمانی بھی کرتے چلے گئے۔قرآن حکیم میں ارشاد ہے۔

    جو کوئی زمین پر ہے فنا ہوجانے والا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے (سورہ الرحمان آیت 26-27)

    اس سانحےنے دنیا فانی کے مال و دولت سےخود کو آراستہ کرنے کی لالچ میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھنے والوں کے لیے ، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے لیے،نفرت کو ہوا دینے والوں کے لیے، ایک دوسرے کو بے جا اذیت کا نشانہ بنانے والوں کے لیے بھی ایک سبق چھوڑا ہے ۔شاعر کے الفاظ میں

    زندگی سے اتنا پیار نہ کر
    چلے تجھ کو بھی جانا ہے زمین کے اندر

    ساتھ ہی ساتھ اس درد ناک واقعے نے سیاستدانوں کے لیےبھی کئی سوالات ہی پیدا نہیں کیے بلکہ ایک امتحان میں بھی ڈال دیا ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ سلینڈر پھٹنے سے ہوا ہے ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر چلنے والی دیگر ویڈیوز کے مطابق عینی شاہدین کا یہ کہنا ہے کہ یہ واقعہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہواہے۔ اگر سلینڈر پھٹنے سے دھماکہ ہوتا تو زور دار آواز سنائی دیتی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا

    بہرحال عینی شاہدین اور وزیر ریلوے کے بیانات میں خوب تضاد پایا جاتا ہے۔ دونوں اعتبار سے ریلوے انتظامیہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے جس پر عام عوام ایک دوسرے سے سوال کرتے نظر آتے ہیں۔ گیس سے بھرے سلینڈر ریل گاڑی میں کیوں لے جانے دیے گئے؟۔اگرشارٹ سرکٹ سے ہوا تو عوام کے خون پسینے کا پیسہ کس جگہ خرچ ہورہاہے؟ حکمران عوام سے سنجیدہ کیوں نہیں ہیں؟

    رہی بات اس سانحے کی شفاف تحقیقا ت کی تو اس حوالے سےوزیر اعظم عمران خان کے ماضی کے بیانات ملتے ہیں جو کہ ریلوے حادثے پر ڈنکے کی چوٹ کہا کرتے تھے کہ یہ تحقیقات اتنی دیر تک شفاف نہیں ہوسکتیں جب تک ریلوے کا وزیر اپنے عہدے سے مستعفی نہ ہو۔ شیخ رشید صاحب کی وزارت میں متعدد بار ریلوے حادثات ہو چکےہیں مگر کوئی استعفی عمران خان صاحب نے نہیں مانگا اور نہ ہی وزیر ریلوے نے اس بارے میں کچھ سوچا۔معاف کرنا انسان ہوں سوچ سوچی جا سکتی ہے فی الحال اب بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ اقبال نے اسی لیے کہا تھا۔

    اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا یہ غازی توبنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

    سانحہ تیز گام ایکسپریس ۔ کیاعمران خان اپنی بات پر عمل پیراہوں گے؟..از…عرفان قیوم

  • ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

    سکول میں پڑھایا جاتا ہے، یوم پاکستان ہو یا آزادی یہ شعر گائے جاتے ہیں اور خصوصا یوم دفاع و شہداء پر ملک کے کونے کونے پر بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے جاتے ہیں۔
    ” شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”

    ایک جگہ لفظ شہید پر بات ہو رہی تھی ایک صاحب سوال کرنے لگے کہ جیسے ہم لوگ اس کو شہید کہتے ہیں جو رب کی رضا میں جان دینے والے کو کہتے ہیں پوچھنے لگا کہ دنیا کے ہر ملک میں شہیدوں کے نام پر یادگاریں ہیں، سڑکیں ہیں، پارک ہیں، ان کی قربانی کو یاد کیا جاتا ہے، ان کا بھی احترام کیا جاتا ہوگا راقم نے یوں جواب دیا انکا احترام دنیا کے ہر مذہب و ثقافت ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے مقدس صحیفوں کا۔ مجھے یقین ہے کہ شہید کے متبادل دنیا کی ہر زبان، ہر مذہب اور ہر تہذیب میں موجود ہوں گے کیونکہ ہر قوم کو اپنی بقا کے لیے اور ہر تحریک کو اپنی نمود کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں، یقینی موت کے طرف لپکیں اور اپنی زندگی دے کر قوموں کو اور تحریکوں کی نظریات کو دوام بخشیں۔

    اسی اثناء میں پاکستان کے شہیدوں کا تذکرہ شروع ہوا اے پی ایس ہو یا پولیس کے جوانوں کا یا پھر فوج اور ہزاروں گمنام شہیدوں کے تذکرے ہو رہے تطے اچانک بلوچستان کے والے عظیم بیٹے کی سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ہو گیا انکی شجاعت اور بہادری کی باتیں چل رہیں تھیں کہ اتنے میں خبر ملی کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا پاکستان کا ایک اور بیٹا سید غوث اللہ آغا جس کو پی ٹی ایم اور این ڈی ایس کی غنڈہ گردی، دہشت آلود درندوں نے آزادی کے دن 14 اگست کو اغوا کیا اور نا جانے کتنے ظلم و جبر کے پہاڑ تھوڑے ہوں گے انکی درندگی کا شکار ہو کر موت کی وادی میں چلا گیا اور اج افغان سرحد کے قریب قلعہ عبداللہ سے اس غیور بیٹے کا جسد خاکی ملا اور معلوم ہوا پاک دھرتی کی حفاظت کرنے والوں میں اسے ایک نام شہر خاموشاں میں داخل ہوگیا اور بیٹا اس ملک پر جان قربان کر گیا۔

    سوچ رہا تھا اس کا جرم کیا ہوگا معلوم ہوا سوشل میڈیا نامی ایک بلا ہے جہاں وہ اپنے قلم سے اپنے موبائل سے پی ٹی ایم، بلوچ لبریشن آرمی سمیت ان تمام ملک دشمنوں کے خلاف برسرپیکار تھا پاکستان کا سرفروش مجاہد بن کر اور سچا بیٹا بن کر اپنی دھرتی ماں سے بے پناہ محبت کا سبق سکھاتا تھا آزاد بلوچستان کی بجائے پاکستان کا نعرہ بلند کرتا تھا بھارت کے ٹکڑوں پے پلنے والے ملک دشمنوں کی تراغیب کو رد کر نوجوانوں میں پاکستان زندہ باد پاکستان آرمی زندہ باد کے جذبے جگاتا تھا شہید غوث اللہ وہ مرد مجاہد تھا جو سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کے رستے پر چلتے ہوئے بلوچستان میں بدترین حالات میں بھی پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا۔

    غوث اللہ شہید ففتھ جینریشن وار کا سچا اور محب وطن سرفروش سپاہی تھا۔ یہی اس کا جرم تھا وہ ہماری طرح بلوچستان میں جاری بھارتی سازشوں سے بخوبی آگاہ تھا نوجوانوں اور بچوں کو آگاہ کرتا تھا اس لئے بھارت سے شدید نفرت رکھتا تھا۔ جس کا برملا اظہار کرتا تھا ہاں نفرت کی اظہار کی وجہ سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کہ بھارتی ترنگے کا جوتا بنا کر پہنتا تھا۔

    اپنی زندگی کی قیمت لگا کر ان تمام لوگوں کو پیغام دے گیا جو یہ کہتے ہے سوشل میڈیا بیکار ہے جو بوٹ پالشیت کا طعنہ دیتے ہیں جو وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ نہیں مانتے ہیں سبز ہلالی پرچم کو لہراتے لہراتے آنے والی نسلوں کی خاطر قربانیوں کا ذکر چھوڑ گیا دشمنوں کے خلاف اتحاد کا سبق دے کر، حب الوطنی کا درس دے کر، سبز ہلالی پرچم کو لہرانے کا انداز سکھا کر،نظریہ پاکستان اور لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھا کر اسکی بنیاد کو سمجھاتے ہوئے ریاست سے غداری کرنے ،لوٹنے اور عیاشی کرنے والوں کو بتا گیا کہ وطنیت کیا ہے؟ شہادت پر غم نہ کرنے کا درس دے گیا اور پیسے کی لالچ کو پست کرتے ہوئے جان قربان کرتے ہوئے پاکستان سے عشق تا دم آخر پہچان بنا کر بالآخر اسی سبز ہلالی پرچم کو اوڑھ کر ابدی نیند تو سو گیا اور یہ پیغام دے گیا

    چادر میں نہیں ھم کوجھنڈے میں اُتارو
    مٹی کے عشق میں ہم، جوانی میں مَرے ہیں
    حرف آخر یہ
    مسافران راہ وفا کو شہید منزل دکھا گئے
    کٹا کے غیور اپنے سر کو غرور کا سر جھکا گئے ہیں
    اگر میرے بس میں ہوتا تو سید غوث اللہ آغا سمیت تمام شہداء کو نشانِ حیدر سے سرفراز کرتا جس سے اس عالی مرتبت تمغے کی شان دوبالا ہو جاتی کہ وہ شہیدِ وفائے پاکستان تھا”
    کیونکہ شہید سراج رئیسانی ہو یا غوث اللہ اپنے بلوچ جانبازوں کے ساتھ پاکستان کے لئے میدان جنگ میں لڑ رہا تھا۔وہ شہید وطن اپنی جان سے گذر گئے اور یہ پیغام دے گیا
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    سوچ رہا ہوں

    اج پھر شہید وطن سراج رئیسانی شہید رحمتہ اللہ علیہ کی شہادت کی طرح غوث اللہ کا جسد خاکی بھی گواہی دے رہا تھا اور دھرتی گواہ بن گئی ہے کہ

    ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
    رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
    شہادت نے ان کی شخصیت کو نظریئے میں بدل دیا ہے پاکستان سے محبت کا نظریہ’ سرفروشی کی لازوال داستان بنادیا ہے۔
    سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    ففتھ جینریشن وار فئیر کے شہید سپاہی سید غوث اللہ آغا…از…عثمان عبدالقیوم

  • ملکہ چیونٹی کی عمر کتنی ہوتی ہے،ماہرین نے بتادیا

    لندن :ملکہ چیونٹی تمام حشرات الارض میں سب سے لمبی عمر پاتی ہے اور خاندان میں نر و مادہ کی موجودگی کے باوجود تولید کام بھی صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے۔کیا آپ نے کبھی چیونٹیوں کی قطار کو بغور دیکھا ہے؟ ایک سیدھی قطار میں ایک کے پیچھے ایک چلتی ہوئی یہ چیونٹیاں بظاہر بہت منظم معلوم ہوتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی یہ اپنے اندر بہت سی خصوصیات رکھتی ہیں۔

    کراچی کے رہائشی گیارہ سالہ ایماز کا نام گینیز بک آف ورلڈ میں درج کیسے ہوا؟

    غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق چیونٹیوں میں بھی خاندان ہوتے ہیں اور ہر خاندان کی ایک ملکہ چیونٹی ہوتی جو پورے 30 برس تک زندہ رہتی ہے۔کیا آپ جانتے ہیں دنیا بھر میں پائے جانے والے حشرات الارض میں ملکہ چیونٹی کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

    فاسٹ باؤلر جنید خان پر جرمانہ عائد ، کیوں ہوا؟ جانیئے اس خبر میں‌

    آئی سیک آن لائن کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیڑے کا خاندان ہزاروں چیونٹیوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں نر و مادہ چیونٹیاں بھی موجود ہوتی ہیں لیکن تولید کا کام صرف ملکہ چیونٹی ہی کرتی ہے اس کے سوا کوئی تولید کا کام انجام نہیں دے سکتا۔

    پنجاب کے 6 اضلاع میں کیا ہونے جارہا ہے، ترجمان نے بتا دیا

    چیونٹی آپ کے باس سے بہتر مینیجر ثابت ہوسکتی ہے،تحقیقی رپورٹ کے مطابق خاندان میں مختلف شک و رنگ و روپ کی چیونٹیاں موجود ہوتی ہیں اور تمام ہی ملکہ کے حکم کی تابع ہوتی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر چیونٹیوں کے کسی خاندان کی ملکہ چیونٹی مر جائے تو شہد کی مکھیوں کی طرح یہ کسی دوسرے چیونٹی کو اپنی ملکہ نہیں بناتی بلکہ دوسری کالونیوں میں بس جاتی ہیں

  • کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    آپ لوگوں نے جہاز کو ائیرپورٹ کی حدود میں ٹیکسی کرتے عموماً دیکھا ہوگا۔ اس وقت جہاز کی رفتار بہت مدھم اور سست ہوتی ہے۔ کیونکہ اس وقت جہاز اپنے انجنوں کی پوری قوت استعمال نہیں کررہا ہوتا

    جہاز سست رفتاری سے رینگتا ہوا مین رن وے کے شروعاتی پوائنٹ تک پہنچتا ہے، اپنی سمت کو درست کرتا ہے اور اسکے بعد بھرپور طاقت سے اپنے انجن کو اسٹارٹ کرکے ٹیک آف اسپیڈ پکڑتا ہے۔ یہ رفتار اور طاقت کچھ ہی سیکنڈز بعد اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔

    کاروبار کی بھی بلکل یہی مثال ہے۔۔۔

    کاروبار کی شروعات سست ہوتی ہے۔ کیش فلو بہت کم ہوتا ہے، منافع کی دھار ہلکے ہلکے بن رہی ہوتی ہے۔ آپ دھیرے دھیرے قدم جما رہے ہوتے ہیں۔ لمبی اڑان (بڑے منافع) کے لیے رن وے (صحیح سمت اور موقع) پر آرہے ہوتے ہیں۔

    کاروبار کے رن وے پر کامیابی سے پہنچنے کے بعد آپ کو "انجن” پوری طاقت کے ساتھ اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔

    بہت سے کاروباری، کامیابی سے رن وے تک پہنچنے کے باوجود "انجن” کو اسٹارٹ نہیں کرپاتے۔ یہ رن وے پر بھی سست رفتار سے دوڑتے رہتے ہیں۔ جب کہ اسمارٹ اور زہین کاروباری، رن وے پکڑتے ہی، انجن اسٹارٹ کرکے آسمانوں کی بلندیوں پر نکل جاتے ہیں

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کاروبار کی اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے کیا مراد ہے؟

    نہیں جانتے؟

    میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔

    کاروباری اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے مراد ہے،

    کاروبار کے مختلف پراسسز کو delegate کرنا۔۔۔

    آسان الفاظ میں، اپنے کام خود کرنے کی بجائے، دوسروں سے کروانا

    مثال کے طور پر، مائیکروسافٹ کے شروعاتی دور میں، بل گیٹس اپنے سافٹ ویئر خود کوڈ کرتا تھا لیکن مائیکروسافٹ کے جہاز کے رن وے پر چڑھتے ہی اس نے developers ہائیر کرنا شروع کئیے جو مائیکروسافٹ کی پروڈکٹس کو کوڈ کرتے اور بل گیٹس کی ساری توجہ بزنس گروتھ پر لگنے لگی۔

    کے ایف سی کے فاؤنڈر، کرنل سینڈرز خود فرائیڈ چکن بنایا کرتے تھے، لیکن پھر انھوں نے کاروبار کے پھیلتے ہی ورکرز رکھنے شروع کئیے اور خود کو بزنس کی گروتھ کے لیے وقف کرلیا۔

    پاکستانی چیف جسٹس کوویزا جاری نہیں کریں گے، امریکہ

    آپ Elon Musk کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف گروتھ اور نت نئے بزنس آئیڈیاز پر کام کرتا ہے، باقی ہر کام کے لیے اس نے ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں۔

    یہ تو بلین ڈالر کمپنیوں کی مثالیں تھیں۔ چھوٹے بزنس اس کو کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟

    مثال کے طور پر، آپ نے چھوٹے پیمانے اور کم بجٹ سے ای کامرس میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ محدود ہونے کی بناء پر، سارے کام آپ کو خود کرنے پڑتے ہیں۔

    آپ ہول سیل پر پراڈکٹ خرید کر لاتے ہیں، پھر انھیں پیک کرتے ہیں، کسٹمر کی کالز اور میسجز کو خود مینج کرتے ہیں، پیک کرکے ڈیلیوری کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ باقی فیس بک پیج یا ویب سائٹ بھی آپ مینج کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

    شروع میں یہ سب کچھ آپ ہی کو مینج کرنا پڑے گا۔ لیکن، کچھ عرصے پرافٹ میں چلنے کے بعد آپ کو ان تمام پراسس ورک کے لیے کسی کو ہائیر کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنا "تمام” فوکس بزنس گروتھ اور ڈیویلپمنٹ پر لگاسکیں۔

    اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟

    جتنا بھی ممکن ہوسکے، ہر شعبے کے لیے ہیلپر یا ماہر افراد رکھتے جائیے۔ اگر کسی کام کے لیے فل ٹائم بندہ ہائیر نہیں کرسکتے تو پارٹ پوزیشن آفر کیجیے۔ یہ بھی مشکل لگتا ہے تو آؤٹ سورسنگ کی طرف جائیے۔ اسکے علاوہ کسی کو پارٹنر بنا کر یا اسٹیک آفر کیجیے اور اپنے کام میں ساتھ ملا لیجیے۔

    دھیرے دھیرے ٹیم ڈیویلپ کرنا، پراسسز کو delegate کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکے بناء آپ بڑا کاروبار نہیں کھڑا کرسکتے۔

    یاد رکھئیے، چھوٹا بزنس delegation، مطلب کے دوسروں کو کام سونپنے سے ہی بڑا بنتا ہے یعنی کے ٹیک آف کرپاتا ہے۔ اگر آپ صرف پیسے بچانے کے لیے سارے کام خود سے کرنے پر لگے رہیں گے تو کئی سالوں بعد بھی رن وے پر ہی رینگ رہے ہوں گے۔۔۔!!!

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر