Baaghi TV

Category: متفرق

  • جب ڈاکو نے ڈکیتی سے پہلے اپنے دوست کو پہچان لیا

    جب ڈاکو نے ڈکیتی سے پہلے اپنے دوست کو پہچان لیا

    دنیا مفاد پرستوں کی اماجگاہ ہے جس شخص کو جس چیز میں اپنا فائدہ نظر اتا ہے وہ اس کی طرف لپکتا ہے اگرچہ اس سے کسی دوسرے کا نقصان ہی کیوں نہ ہو رہا ہو، لیکن مفاد پرست شخص کے راستے میں بھی کبھی کبھار ایسی چیزیں آ جاتی ہیں کہ وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ کس چیز کو فوقیت دے ،
    اسی طرح کا ایک واقعہ روسی ٹیلی ویژن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شئیر کیا ، جس میں دو ڈاکو ایک موٹر بائیک پر آتے ہیں اور ایک راہگیر کو لوٹنے کیلئے پستول اس کے سر پر تان لیتے ہیں ، اسی اثنا میں ڈاکو اس راہگیر کو پہچان جاتا ہے کہ یہ تو میرا اپنا دوست ہے ، پھر ڈاکو اپنے دوست سے معذرت بھی کرتا ہے اور جاتے ہوئے کہتا ہے اپنی امی کو میری طرف سے ہائے بولنا ،
    یہ ایک ایسا واقع ہے جو سننے اور دیکھنے والے کو بھی پریشان کر دے کہ آیا وہ اس پر ہنسے یا اس سوچ پر روئے جو ترقی یافتہ معاشروں کو بھی نگل رہی ہے ، بحرحال سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے روسی ٹیلی ویژن کی پوسٹ کو کافی پسند کیا جا رہا ہے ، اور ٹوئٹر صارفین اس ویڈیو پر دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں

  • انشاء اللہ سعودی عرب کو کچھ نہیں ہوگا،،،،، از —عبدالرب

    انشاء اللہ سعودی عرب کو کچھ نہیں ہوگا،،،،، از —عبدالرب

    بعض لوگ اس امکان پر پھولے نہیں سما رہے کہ خدانخواستہ سعودی عرب پر کوئی برا وقت آنے والا ہے۔ ہم تو ضیا نماؤں کے حامی سعودی عرب کے مشرف سے کیا ہمدردی رکھیں گے، لیکن یہ بات بتاتا چلوں کہ خدانخواستہ سعودی عرب کی حکومت مشکل میں آتی ہے تو 10 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کو فاتحہ پڑھ لیجیے گا۔

    ترسیلات زر میں کمی کا مطلب یہ ہوگا کہ انصافی حکومت اپنے سوا سال کی کارکردگی کا خلاصہ جس کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کو بتا رہی ہے، یہ واحد حاصل بھی ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ رعایتی پٹرول اور دیگر جو مراعات سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات سے ہم حاصل کرتے ہیں، ان سے یکسر محروم ہونا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیروزگاری کا ایک نیا طوفان آئے گا جس کے آگے بند باندھنا ناممکن ہوگا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں 40 لاکھ پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ اگر ان میں سے 5 فیصد پاکستانیوں کے لئے وہاں رہائش مشکل ہو جائے تو کیا ہمارے پاس ان کے لیے کوئی متبادل موجود ہے؟

    یاد رہے کہ چند سال پہلے لیبیا میں 20000 کے قریب پاکستانی آباد تھے جو ہر سال لاکھوں ڈالر پاکستان بھیجا کرتے تھے۔ جب لیبیا کو کرپٹ قذافی سے نجات ملی تو نتیجتاً یہ 20 ہزار بے دخل ہو گئے۔ ہماری حکومت ان کیلیے سوائے جہاز بھیجنے کہ کچھ نہ کر سکی۔ کسی کو پتہ ہے آج ان پاکستانیوں کے ساتھ کیا گزر رہی ہے؟

    ترتیب غلط رکھنے کے لئے معذرت، ہمیں تو سعودی عرب سے اس لیے محبت ہیکہ ہماری عقیدتوں کے تمام تر محور اسی زمین پر ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ بھی گوارا نہیں کہ گرم ہوا کے جھونکے گزریں، لیکن جو لوگ اس خواہش میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں کہ آل سعود اپنے مآل تک پہنچے ان کے لیے اطلاعا عرض ہے،

    کیا آپ کو خطہ سعودی عرب میں کہیں بھی کوئی ایسا گروپ نظر آتا ہے جو پاکستان کے لیے آل سعود سے زیادہ دوستانہ رویہ رکھتا ہو؟ کوئی ایسا گروپ جس کے بارے میں آپ یہ توقع رکھ سکیں کہ وہ آپ کے کہنے پر انڈیا سے تجارت منقطع کر سکتا ہے، یا کوئی ایسا گروپ جو امت کا درد رکھتے ہوئے پاکستان سے بڑھ کر کشمیریوں کی وکالت کرسکتا ہے، تو بڑے شوق سے اس کی حمایت کیجیے۔

    یاد رکھیں کہ اگر پورے عرب میں ڈھونڈے سے آپ کو کوئی غمخوار نہ ملے، تو جان لیجیے یہی والی آل سعود ہی آپ کی نجات کی ضمانت ہے، چاہے آپ کو جتنے برے لگتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ خلیفتہ اللہ علی الارض ہیں بلکہ اس لیے کہ اس وقت پاکستانیوں کے مفادات کی ضمانت یہی ہیں

    انشاء اللہ سعودی عرب کو کچھ نہیں ہوگا،،،،، از —عبدالرب

  • جنگ نہ ہونے دیں گے—– از تحریر اٹل بہاری واجپائی ، سابق وزیراعظم کی جنگ نہ کرنے کی خواہش

    جنگ نہ ہونے دیں گے—– از تحریر اٹل بہاری واجپائی ، سابق وزیراعظم کی جنگ نہ کرنے کی خواہش

    اٹل بہاری واجپائی 25 دسمبر 1924کو پیدا ہوائے ، وہ تین بار بھارت کے وزیر اعظم رہے۔ بھارت کے سابق وزیراعظم نے 16 اگست 2018 کو وفات پائی ، اٹل بہاری واجپائی نے 2016 میں ایک نظم لکھی تھی جس کا مرکزی خیال پاکستان سے جنگ نہ کرنا اور خطے کی عوام کو پرامن زندگی گزارنے کا درس تھا ، وہ نظم کچھ اس طرح‌ہے ، اٹل بہاری واجپائی کہتے ہیں‌کہ!

    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
    وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
    کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
    کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
    آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
    ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
    ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
    منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
    کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
    دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا
    کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
    ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
    ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
    آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
    ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے
    بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
    پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
    تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
    روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے
    جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
    جنگ نہ ہونے دیں گے

    از تحریر :اٹل بہاری واجپائی

  • عجیب اور جدید تحقیق : مچھلیوں کو بھی انسانوں کی طرح درد ہوتا ہے

    عجیب اور جدید تحقیق : مچھلیوں کو بھی انسانوں کی طرح درد ہوتا ہے

    کراچی : انسانوں‌کی طرح مچھلیوں‌بھی درد محسوس کرتی ہیں، اب ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھلیوں کو درد محسوس نہ ہونے والی بات غلط ہے۔ فلاسفیکل ٹرانسیکشنز آف دی رائل سوسائٹی میں شائع ہونے والے نتائج بتاتے ہیں کہ چھوٹی بڑی تمام مچھلیوں کو بالکل ویسے ہی درد محسوس ہوتا ہے جیسے انسانوں کو ہوتا ہے۔

    وطن واپسی پرسفیر کشمیر وزیراعظم پاکستان عمران خان مطالعہ کرتے رہے،خوبصورت انداز، یادگار لمحے ،

    طبی ماہرین نے جال یا کانٹے میں پھنسنے والی مچھلیوں کو زندہ حالت میں دافع درد کی ادویات بھی دیں جس کے بعد اُن کی حالت بہتر ہوئی۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ سنیڈانس کہتی ہیں کہ ہم شکار کرنے کے عمل سے خبردار رہنا چاہیے، کیونکہ جب ہمیں درد محسوس ہوتا ہے تو ہم اُن کے ساتھ ایسا کیوں کریں۔

    “آو چلیں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی تحقیقات کرنے ،دولت مشترکہ کے فیصلے سے بھارت سخت پریشان” لاک ہے

    آو چلیں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی تحقیقات کرنے ،دولت مشترکہ کے فیصلے سے بھارت سخت پریشان

    مطالعے کے دوران سنہری مچھلی کے شکار اور اُسے کرنٹ لگا کر پکڑنے کے عمل کا بھی مشاہدہ کیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھلیاں پھنسنے یا مرنے سے قبل ایسے ہی درد اور کیفیت محسوس کرتی ہیں جیسے انسان حادثے کے وقت کرتے۔

    غیرت مند وزیراعظم کے غیرت مند سپوت : عمران خان کے بعد یو این میں پاکستانی مندوب ذوالقرنین چھینہ بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنے میں مصروف

    اس تحقیق میں‌کہا گیا کہ مچھلیوں کی جلد انسانوں سے زیادہ نازک ہوتی ہے، انہیں قتل کرکے نقصان نہ پہنچائیں۔مطالعے میں مچھلیاں پکڑنے اور اُن کے کانٹے مین پھنسنے کے دورانیے کو نوٹ کیا گیا علاوہ ازیں جال میں پھنسنے والی مچھلیوں کے ردعمل کو بھی نوٹ کیا گیا۔

  • عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

    عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

    دہشتگردی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ، دہشتگردی کی ابتک کوئی متفقہ تعریف یا تشریح سامنے نہیں آسکی، اس کے پیچھے کوئی سوچ یا نظریہ ہوسکتا ہے میرے نزدیک دہشتگردی کا دوسرا نام راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ RSS ہے، ابتک RSS کے دہشتگردانہ نظریات اس کی پرتشدد سرگرمیوں پہ کتابوں کی کتابیں لکھی جاچکی ہیں، راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ 1925 میں ناگپور میں قائم کی گئی جس کی بنیاد نظریہ ہندوتوا پر رکھی گئی,

    ہندوتوا کا لفظ اور نظریہ سب سے پہلے ساورکر نے استعمال کیا اور اسے ایک خاص معنی پہنائے، یہ اتنا مبہم نظریہ تھا کہ مصنف بھی اس سے مطمئن نہیں تھا اسی لیے اس کا پہلا ایڈیشن مصنف کے نام کے بغیر شایع ہوا اور پھر 1923 میں ساورکر کے نام سے شایع ہوا، سنگھ اسی سے بھرپور استفادہ کرتا ہے اسی نظریہ کی بنیاد پہ گلواکر جوکہ مہاراشٹرین برہمن تھے ایک تنظیم بنائی جسکے لیے تین نام پیش ہوے مگر زیادہ ووٹ راشٹریہ سویم سیوک سٙنگھ کو پڑے تو متفقہ طور پر یہ نام قرار پایا، دنیا آگے بڑھنے کے لیے جدیدیت کو اپناتی ہے اور ترقی و معاشرے کے استحکام کے لیے روایات و اداروں تک کی قربانی دیتی آئی ہے جیسا کہ یورپ، جاپان وغیرہ کیونکہ ترقی ہمیشہ آگے کی جانب دیکھتی ہے جبکہ نظریہ ہندوتوا وہ واحد نظریہ ہے جو آگے کی بجائے پیچھے کی جانب دھکیلتا ہے،

    نیشنل سلیکشن کمیٹی کوآرڈینیٹر کی تلاش ، مصباح الحق نیا آئیڈیا لے آئے

    ہندوتوا کا ٹارگٹ بھارت کو ہندو راشٹر دیس بنانا ہے جسکے لیے وہ ہندو ماضی کے مخصوص زمانے کی مثال پیش کرتے ہیں ساتھ ساتھ کچھ کتب اور شخصیات کو شامل کرتے ہیں، بھنڈارکر کے مطابق تقریباً 400 تا 200 ق۔م تک بھارت میں بدھ مت کا دور دورہ تھا چنانچہ سٙنگھ لٹریچر کے مطابق اس کے بعد برہمنوں اور سنسکرت کو پذیرائی ملنا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ مسلمانوں کی آمد سے قبل تک چلتا رہا اسی کو سٙنگھ گروہ شاندار ہندو ماضی قرار دیتے ہیں, ہندوتوا آئیڈیولوجی کے اہم اجزاء ریاست، نسل پرستی اور ہندو راشٹر ہیں، سٙنگھ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو نظریہ ہندوتوا پر یقین رکھتے ہیں سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے تقریباً 52 تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن کا نیوکلیئس RSS ہے،

    سنگھ پریوار کے جھنڈے تلے چند اہم تنظیموں میں بجرنگ دل، شیو سینا، راشٹریہ سیوکا سمیتی، ون بندھو پریشد، ویشوا ہندو پریشد، سیوا بھارتی، ونیاسی کلیان آشرم، بھارتیہ مزدور سٙنگھ، خواتین ونگ، تاجر ونگ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ ودیا بھارتی ان کی تعلیمی ونگ ہے اور حکمران جماعت BJP سٙنگھ پریوار کی سیاسی ونگ ہے, سنگھ پریوار کی ماں کا درجہ رکھنے والی RSS ایک شدت پسند مسلح تنظیم ہے جس کی بنا پر متعدد بار پابندیوں کا سامنا بھی رہا اور مقامی سطح سے لیکر عالمی سطح تک زیر تنقید رہتی آرہی ہے

    گاندھی جی کے قتل کے بعد RSS پر بھارت سرکار کی جانب سے پابندی لگائی گئی اور اعلان کیا کہ ” آر ایس ایس کے کارکنان ملک کے 19 حصوں میں آگ زنی، لوٹ مار، ڈاکے، قتل اور پوشیدہ طور پر گولا بارود و اسلحہ یکجا کرنے میں ملوث ہیں اور دہشتگردانہ سوچ و فکر پہ مبنی لٹریچر کے زریعے انتشار و منافرت پھیلانے میں پیش پیش ہے” اس کے علاوہ سردار پٹیل نے پارلیمینٹیرینز کو کانفیڈینشیل بریفنگ دی جوکہ "انڈین نیشنل آرکائیو میں مائیکروفلم کی صورت موجود ہے” اس میں بتایا گیا کہ "راشٹریہ سیم سیوک سنگھ ناگپور میں بوائے اسکاوٹ موومنٹ کے طور پر قائم ہوئی جو کچھ عرصے بعد پیراملٹری گروہ میں تبدیل ہوگئی، یہ خالصتاً مہاراشٹرین برہمن تنظیم ہے جس کا مقصد فقط و فقط پیشوا راج کا بھارت میں نفاذ کرنا ہے ان کا جھنڈا بھگوا پرچم ہے جوکہ آخری مہاراشٹرین برہمن بادشاہ کا جھنڈا تھا جسے برطانیہ نے شکست دیکر مہاراشٹر پر قبضہ کیا،

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    آر ایس ایس کے نظریات فاشزم پہ مبنی ہیں، یہ گروہ خفیہ، مشکوک اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے جن کے زریعے فسطائیت کو پروموٹ کرتے ہیں”، RSS اپنے وجود کیساتھ ہی ہندو مسلم فسادات کا باعث بنی اور 1930 کے پرتشدد واقعات میں پیش پیش رہی جس سے ہندو مسلم میں فاصلے بڑھے، 1937 کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کو ووٹ دینے پر ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جسکے نتیجے میں متعدد شہادتیں اور زخمی ہوے، بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، پیرپور رپورٹ اور شریف رپورٹ آج بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، دنیا بھر میں نازیوں کے ظلم کا شکار ہونے والے یہودیوں کو لیکر ہمدردیاں پائی جاتی ہیں یہودیوں نے اپنے قتل عام کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ساٹھ لاکھ یہودی کے قتل ہونے کا دعوہ کیا جوکہ ہولوکاسٹ کے نام سے مشہور ہے جبکہ RSS جوکہ نازی طریقے کے ہی پیرو ہیں ان کے ہاتھوں مسلمان یہودی ہولوکاسٹ سے زیادہ متاثر ہوے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے،

    تقسیم ہند کے وقت ہندوتوا مائنڈسیٹ نے مسلمانوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جس میں بیس لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوے، لاکھوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی، لاکھوں افراد لاپتہ ہوے، کروڑوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوے، یہ تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی تھی، جانی نقصان کے علاوہ اربوں نہیں کھربوں ڈالر کا مالی نقصان ہوا، اسی کے ساتھ ساتھ RSS کے دہشتگردوں نے ڈوگرا فوج کے ساتھ مل کر جموں کے علاقے میں مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جوکہ اکتوبر کے وسط سے نومبر کے اوائل تک جاری رہی جسکے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد مسلمان قتل کیے گئے اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزارہا افراد لاپتہ ہوے، سات لاکھ سے زائد مسلمانوں کو مجبوراً ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا، جموں جو کبھی مسلم اکثریتی علاقہ تھا صرف تین ہفتوں بعد ہندو اکثریتی علاقے میں بدل گیا، بالکل ایسا ہی ایجنڈا BJP نے کشمیر کے لیے سیٹ کررکھا ہے جہاں کرفیو کو پچاس روز سے زیادہ ہوگئے ہیں اور مکمل مواصلات کو معطل کررکھا ہے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں جن پر بھارتی میڈیا پردہ پوشی کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے،

    سنگھ پریوار اپنے آپ کو غیرسیاسی تنظیم کے طور پر پیش کرتے ہیں RSS کو ثقافتی و سماجی تنظیم قرار دیتے ہیں، کھلے عام RSS کے دہشتگردوں کی فوجی ٹریننگز اور خنجر پر حلف کو یوگا و معمول کی ورزش قرار دیتے ہیں جسکی نفی RSS سربراہ موہن راو بھاگوت کے بیان سے ہی ہوجاتی ہے جس نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ "بھارتی فوج کو بارڈر پر پہنچنے میں وقت درکار ہوگا مگر RSS کے تربیت یافتہ کئی ملین کمانڈوز تین دن کے مختصر ترین وقت میں بارڈرز پر پہنچ کر ڈیوٹیاں سنبھال سکتے ہیں” بھارتی میڈیا ڈھٹائی کیساتھ ہندوتوا کی دہشتگردانہ سوچ و سرگرمیوں پہ پردہ پوشی کرنے کیساتھ ساتھ ثقافتی و سماجی تنظیم کے طور پر پیش کرنے میں مصروف عمل ہے بھارتی میڈیا اپنے مذموم مقاصد کے لیے کسی اخلاقی ضابطے کو نہیں مانتے اور نہ ہی بروئے کار لانا چاہتے ہیں، بھارت میں ہندوتوا دہشتگردوں کے ہاتھوں اقلیتوں پر بالعموم مسلمانوں پر بالخصوص تشدد و ناروا سلوک پر مبنی امریکہ و اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹ کوئی نئی بات نہیں، RSS کی تاریخ فسادات و مسلم نسل کشی سے بھری پڑی ہے،

     

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے کشمیریوں کے سفیر وزیراعظم عمران خان کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر گفتگو

    تقسیم ہند کی مسلم نسل کشی کے بعد 1948 میں حیدرآباد دکن پر بھارتی سرکار نے چڑھائی کردی آپریشن پولو میں فوج کیساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سندر لعل رپورٹ کے مطابق صرف دو دن میں ہی چالیس ہزار سے زائد نہتے مسلمانوں کو بیدردی سے شہید کردیا گیا، سرکاری رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ آزاد زرائع سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کی شہادتوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، گاندھی کے قتل کے بعد RSS پر پابندی لگی تو کچھ عرصے کے لیے اقلیتوں کو سکھ کا سانس ملا لیکن اس پابندی کے کوئی خاطر خواہ اثرات اس جماعت پر نہیں پڑے، پابندی کے دوران ہی سنگھ پریوار نے اپنے سیاسی ونگ کا بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے آغاز کیا جس کا نام 1980 میں بھارتیہ جنتا پارٹی رکھ دیا گیا اور اندرون خانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، 1964 میں وشنو ہندو پریشد کی بنیاد رکھی جسے ورلڈ ہندو کونسل بھی کہا جاتا ہے یہی وہ ونگ ہے جو RSS کی پروپیگنڈہ بریگیڈ ہے اور میڈیا و سنگھ لٹریچر کو یہی ونگ کنٹرول کرتی ہے، 1998 میں BJP نے اقتدار میں آکر ہزاروں کی تعداد میں VHP ورکرز کو ٹیکسٹ بک بورڈ اور اطلاعات و نشریات میں بھرتی کیا جس کے بعد سے بھارتی میڈیا BJP کی پروپیگنڈہ مشین بن کر رہ گیا ہے، سنگھ پریوار کے ہاتھ بلکہ سنگھ پریوار پورا کے پورا مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے خون میں دھنسا ہوا ہے، جنوری 1964 میں مغربی بنگال، بہار اور اڑیسہ میں شدید فسادات گرم ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان قتل و زخمی ہوے، لاکھوں گھرانوں کی ساری جمع پونجی لوٹ لی گئی،

    1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کے گاوں کے گاوں کو آگ لگادی، 1967 کے انتخابات کے موقع پر رانچی بہار میں اردو کیخلاف مظاہرے شروع ہوے جو جلد ہی مسلم مخالف فسادات میں تبدیل ہوکر پورے بہار میں پھیل گئے نتیجتاً ہزاروں مسلمان گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 1969 میں RSS نے منصوبہ بندی کے ساتھ احمدآباد میں مسلم کش فسادات شروع کردئیے جس نے پورے گجرات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس بار بھی نتیجہ مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی نکلا، 1971 میں ریاستی سرپرستی میں ہندوتوا دہشتگرد مشرقی پاکستان میں دہشتگردی میں براہ راست ملوث رہے جس کا اعتراف مودی خود کرچکے ہیں اس کے علاوہ بھارتی صحافی سدھیر چودھری جذبات میں متعدد بار اس کا اعتراف کرچکے ہیں کہ مکتی باہنی میں ہندوتوا دہشتگرد پیش پیش تھے، 1979 میں منظم طریقے سے ہندوتوا تخریبکاروں نے جھاڑکھنڈ میں مسلم کش فسادات کو ہوا دی جس میں ہزارہا مسلمان شہید و زخمی ہوے اور ہندوتوا کے روز روز کے دنگوں کی وجہ سے علاقہ پسماندگی کا شکار ہوتا گیا، لوٹ مار و فسادات سے تنگ آکر صنعتیں مسلم علاقوں سے دوسرے علاقوں کی طرف شفٹ ہوگئیں، اگست نومبر 1980 میں مرادآباد اترپردیش میں ایک دلت لڑکی کے قبول اسلام کے بعد مسلم نوجوان سے شادی کرلینے کو ہندوتوا دہشتگرد ہضم نہ کرپائے اور پروپیگنڈہ کرکے پولیس کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر چڑھائی کردی جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان مرد و خواتین کو سرکاری سرپرستی میں قتل کردیا گیا،

    فروری 1983 الیکشن کے دوران نیلی آسام کے علاقے میں منظم طریقے سے ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمانوں کی نسل کشی شروع کردی جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان لقمہ اجل بنے لاکھوں گھرانوں کو لوٹ لیا گیا، موجودی عدم شناخت کرنے کا بل ان ہی کیخلاف لایا گیا ہے آسام کے مسلمان ایک عرصے سے ہندوتوا دہشتگردوں کے ظلم کا نشانہ بنتے آرہے ہیں اور اب آکر نریندر مودی نے تقریباً ستر لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کردیا ہے، ہندوتوا دہشتگردوں کی بربریت سے سکھ بھی محفوظ نہ رہ سکے اندرا گاندھی قتل کو جواز بناکر ہندوتوا دہشتگردوں نے سکھوں کا قتل عام شروع کردیا بہت سے گوردواروں کو تباہ کردیا مشہور گوردوارہ اکالی تخت بھی مسمار کردیا اس لہر میں بیسیوں ہزار سکھ قتل ہوے جبکہ سرکاری رپورٹ میں تعداد کو بالکل ہی چھپا لیا گیا اور محض چند سو ظاہر کی گئیں اس کے علاوہ آپریشن گولڈن ٹیمپل میں بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ ہندوتوا دہشتگرد بھی پیش پیش تھے سکھ زرائع کے مطابق چھ لاکھ سے زائد سکھ اس آپریشن کی بھینٹ چڑھے،

    مئی 1984 میں سٙنگھ دہشتگردوں نے بھوانڈی اور بمبئی میں مسلمانوں کیخلاف منظم اشتعال انگیز مہم شروع کی جو پورے مہاراشٹر میں پھیل گئی مسلمان آبادیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا، مسلح دہشتگردوں نے حملے کیے، گھروں اور املاک کو نذر آتش کردیا نتیجتاً ہزاروں مسلمان شہید ہوے، مارچ سے جون 1985 تک احمدآباد گجرات کے پسے ہوے مسلمانوں کو ایک بار پھر ہندوتوا کے ظلم کی چکی میں پسنا پڑا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کیے اور فائرنگز کیں جسکے نتیجے میں کئی ہزار مسلمان شہید و زخمی ہوے، مئی 1987 میرٹھ UP میں ایک ہندو برہمن اور مسلمان کے زمین کے تنازعہ کو ہندوتوا پروپیگنڈہ بازوں نے ہندو مسلم فسادات میں بدل دیا، پولیس نے بھی ہندوتوا دہشتگردوں کا ساتھ دیا جس کی سرپرستی میں مسلمان آبادیوں کو جلایا جاتا رہا، املاک کو لوٹا جاتا رہا، مرادآباد پولیس نے فائرنگ کرکے سو سے زائد مسلمانوں کو ایک ہی دن میں شہید کردیا کئی سو افراد زخمی ہوے، ریاست نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہندوتوا کے ظلم پر پردہ پوشی کی اور پولیس کو بجائے سزا دینے کے مزید تھپکی دی،

    بھاگلپور فسادات اکتوبر 1989 میں اس وقت پھوٹ پڑے جب ہندوتوا دہشتگردوں نے تیاری کے ساتھ بہانہ بناکر نہتے مسلمانوں پر مسلح حملے شروع کردئیے یہ فسادات آگ کی طرح پھیلے اور بھاگلپور سے نکل کر دور دور تک پھیل گئے جسکے نتیجے میں آزاد زرائع کے مطابق کئی ہزار مسلمان شہید ہوے، ان واقعات میں پولیس براہ راست شامل رہی، پولیس کے ملوث ہونے کے جرم میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا مگر وزیراعظم راجیو گاندھی نے اسے بحال کردیا، اپریل 1990 میں VHP نے بابری مسجد کیخلاف اشتعال انگیز مہم لانچ کی جوکہ دسمبر تک جاری رہی اس مہم کے نتیجے میں پورا بھارت متاثر ہوا، کئی ہزار مسلمان شہید کیے گئے کئی ہزار زخمی ہوے، ویشوا ہندو پریشد نے 1992 میں وسیع پیمانے پر رام جنم بھومی کے نام پر ہندو موبیلائزیشن کی مہم چلائی اور ماہ دسمبر میں ایل کے ایڈوانی و دیگر سٙنگھ لیڈروں کی قیادت میں ہندوتوا دہشتگردوں نے تاریخی ورثہ و عظیم بابری مسجد کو شہید کردیا جسکے ردعمل میں پورے بھارت میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے نتیجتاً بیسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بنے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، ہزاروں خواتین کی عزتیں پامال ہوئیں، اربوں کھربوں کا مالی نقصان ہوا،

    2002 میں گجرات میں مودی سرکار کی سرپرستی میں منظم مسلم کش فسادات شروع ہوے جسکے نتیجے میں ہزاروں مسلمان شہید ہوئے بیسیوں ہزار زخمی ہوے، ہزاروں مسلم خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزاروں لاپتہ ہوے، لاکھوں مسلمان نقل مکانی پہ مجبور ہوے جسکے بعد اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے بیان دیا کہ "یہ آبادی بڑھانے والے طبقے کو سبق سکھانے کے لیے کافی ہے” اشارہ مسلمانوں کی طرف تھا، اگست 2008 اڑیسہ میں عیسائیوں کو منظم طریقے سے ٹارگٹ کیا گیا جس میں ہزارہا عیسائی گھرانے اجڑ گئے، ستمبر 2013 میں مظفر نگر و شاملی میں پروپیگنڈہ گھڑ کر ہندوتوا دہشتگردوں نے مسلمان آبادیوں پر حملے شروع کردئیے نتیجتاً سینکڑوں مسلمان شہید ہوے ہزاروں زخمی ہوے لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے، ہزاروں خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی، ہندوتوا دہشتگردوں کو سرکار نے مکمل تحفظ فراہم کیا،

    BJP کے اقتدار میں آنے کے بعد سینکڑوں افراد کو ہندوتوا دہشتگرد گائے ذبیحہ کا الزام لگاکر نشانہ بناچکے ہیں جبکہ ہندوتوا کے نزدیک مستند مفکر سوامی وویکانند کے مطابق "وہ اچھا ہندو نہیں بن سکتا جو گوشت نہیں کھاتا اور اہم موقع پر اسے بیل کی قربانی دینا چاہئے اور اسے کھانا چاہئے (لیکچر شیکسپئیر کلب پساڈینا، کیلیفورنیا)، ہندوتوا کے نزدیک ہندومت کا شاندار دور ویدک دور ہے جبکہ ویدک دور کے ماہر محقق سی کنہن راجا کی تحقیق کے مطابق "ویدک دور میں ہندو مچھلی، گوشت حتیٰ کہ بیف بھی کھاتے تھے، مہمان نوازی کے طور پر بیف پیش کیا جاتا تھا البتہ دودھ دینے والی گائے ذبیحہ معیوب تھا جبکہ بیل، بانجھ گائے، بچھڑے وغیرہ ذبح کیے جاتے تھے”، ہندوتوا دہشتگرد ایک نمبر کے جھوٹے ہیں اور اب ان کی دہشتگردی کی وجہ سے نہ صرف خطے کے امن کو خطرہ ہے بلکہ پوری دنیا اس کی زد میں آئیگی۔

    عنوان: دہشتگردی کا دوسرا نام RSS—————آرزوئے سحر——–از–انشال راؤ

  • پولیس اصلاحات کے مسودے پر  ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ !!! حجاب رندھاوا

    پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ !!! حجاب رندھاوا

    پولیس اصلاحات کے مسودے پر ڈی ایم جی افسران اور پولیس افسران میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئ

    ‏پنجاب میں سنئیر پولیس افسران نے دھمکی دی ہے کہ اگر نئی اصلاحات کے نام پر ضلعی پولیس کو ڈپٹی کمشنر کے مزید ماتحت کیا گیا تو وہ استعفی دے دیں گے پولیس کے مطابق بیوروکریسی پولیس کو کام ہی نہیں کرنے دیتی پولیس کے کاموں میں مداخلت کی جاتی ہے ،

    پولیس اصلاحات میں بیورو کریسی کے پولیس میں عمل دخل پہ پولیس سروس آف پاکستان کے بھرپور احتجاج کے بعد، وزیراعلیٰ نے وزیر قانون راجہ بشارت کے ماتحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے اجلاس میں پولیس افسران اور بیوروکریسی آمنے سامنے آ گئ تلخ کلامی کے بعد افسران نے نوکریا ں چھوڑنے کی دھمکیاں بھی دیدیں۔ اجلاس میں صوبائی وزرا دونوں گروپوں کے افسروں میں صلح کروانے کی کوشش کرتے رہے ، تین گھنٹے سے زائد ہونیوالا اجلاس بے نتیجہ رہا
    جبکہ راجہ بشارت کے مطابق کمیٹی کے اجلاس میں 90؍ فیصد پولیس ریفارم پیکیج کا اتفاق رائے سے جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کو بیوروکریسی (پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروسز) کے ماتحت کیے جانے کے حوالے سے پولیس کے تحفظات دور کرنے کیلئے کچھ تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں

    سول سیکرٹریٹ کے ہنگامی اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں طرف سے تلخ کلامی کے بعد ایک دوسرے کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں،بیوروکریسی نے واضح کر دیا کہ اب مسودہ تیار ہو چکا اب ہر صورت عملدآمدہوگا، پولیس کا موقف تھا کوشش کر کے دیکھ لیں اس پہ کسی صورت عمل نہیں ہوگا
    پی ایس پی افسران کی رائے ہے کہ ان اصلاحات کے ذریعے سابقہ ڈی ایم جی گروپ (اور اب پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس) اصل میں پولیس پر اپنا کنٹرول واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ماضی میں نوآبادیاتی دور میں ہوا کرتا تھا۔
    پولیس حکام ذرائع کا کہنا ہے پولیس ریفارمز سفارشات پرعمل درآمد پنجاب پولیس کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے رحم وکرم پر لے آئے گا۔ پنجاب پولیس کی آپریشنل خود مختاری اور غیرسیاسی کرنے کے مسئلے کا حل بھی سفارشات نہیں۔

    پولیس حکام ذرائع نے کہا سفارشات کے تحت ڈپٹی کمشنرز کو پولیس اور امن و امان سے متعلق بے پناہ اختیارات مل جائیں گے۔ سفارشات کے تحت بے بس عام آدمی ڈپٹی کمشنر کے رحم وکرم پر ہو گا۔ سفارشات میں تھانے کی اصلاح سے متعلق کوئی تجویز نہیں دی گئی۔

    وفاق حکومت نے پولیس اصلاحات کیلئے سفارشات تیار کی ہیں۔ اصلاحات پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لائی جائیں گی۔
    وفاقی سطح پر پولیس اصلاحات، قانون سازی، کابینہ کے فیصلوں کے لیے پنجاب کو 30؍ ستمبر کی ڈیڈلائن دی گئی ہے

    سفارشات کے مطابق پولیس کو بیوروکریسی کے ماتحت کیا جائے گا۔ کارکردگی مانیٹرنگ کے لئے سیاستدانوں کو بھی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ سفارشات کے مطابق تھانوں کی انسپکشن کے لئے پولیس کو ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہو گی۔

    ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ون ونڈو ٹربلز شوٹر قائم کیا جائے گا۔ صوبے میں ون ونڈوٹربلزشوٹر کے نام سے چھتیس دفاتر قائم ہوں گے۔ عوامی وسائل کے انتخاب میں ڈپٹی کمشنر مکمل بااختیار ہو گا۔ انکوائریاں، انسپکشن بھی کراسکے گا
    بیوروکریسی کے مطابق یہ سب تجاویز میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے تیار کی ہیں اور یہ بہت بہتر ہیں،
    بیوروکریسی کی جانب سے کہا گیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس مکمل آزاد ہو، جو قانون بنائے گئے یہ اوپر سے احکامات ملے
    ان کی ابتدائی منظوری وزیراعظم عمران خان دے چکے ہیں ، وزیر قانون راجہ بشارت کی زیر صدارت ہنگامی طورپر اجلاس میں صوبائی وزراانصر مجید، تیمور بھٹی، ہاشم ڈوگر، چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ پنجاب سید علی مرتضیٰ، سیکرٹری آبپاشی سیف انجم، سیکرٹری بلدیات جاوید قاضی، آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ضعیم شیخ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر،ڈی آئی جی آئی ٹی ذوالفقار حمید، ڈی آئی جی احسن یونس، ڈی آئی جی جواد ڈوگر سمیت ریٹائرڈ پولیس افسران بھی موجودتھے ۔

    پولیس کی جانب سے کچھ تجاویز پیش کی گئیں ان میں کہا گیا کہ
    سپیشل برانچ کو وزیراعلیٰ پنجاب کے ماتحت دینے کے بجائے آئی جی پنجاب کے ماتحت ہی کیا جائے
    لیکن پولیس اصلاحات پیکج میں کہا گیا ہے کہ جیسے انٹیلی جنس بیوروکا سربراہ وزیراعظم ہے اسی طرح سپیشل برانچ کا سربراہ وزیراعلیٰ ہو گا، لیکن اس پر بیوروکریسی کو شدید اختلافات ہیں، دوسرا پوائنٹ یہ سامنے آیا ہے کہ پولیس کمپلینٹ کمیشن محکمہ داخلہ پنجاب یا سی ایم سیکرٹریٹ کے بجائے پنجاب کی امن و امان کی کیبنٹ کمیٹی کے ماتحت کیا جائے ، جبکہ نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کو ایکٹو کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے ، جبکہ پنجاب پولیس کا الگ سے کنٹرول انسپکٹوریٹ بنانے پر بھی اختلاف کیا گیا ہے ،
    بیوروکریسی کی جانب سے مسلسل ان معاملات کی مخالفت کی گئی ،
    اجلاس میں سید علی مرتضیٰ اور ایک صوبائی وزیر کی جانب سے کہا گیا کہ پولیس کی جانب سے یہ انتہائی خفیہ ڈرافٹ میڈیا کے ساتھ شیئر کیا گیا
    جس پر پولیس افسران سخت ناراض ہوئے اور کہاکہ آپ ہم پر الزام تراشی کر رہے ہیں
    پولیس اصلاحات پیکج میں افسران کی تقرریوں کے لائحہ عمل بھی طے کیا گیا ہے کہ سینئر پولیس افسران پر مشتمل ایک انٹرنل بورڈ کارکردگی کے مظاہرے کی بنیاد پر تقرریوں کی تجاویز پیش کرے گا۔
    سفارشات آئی جی کو پیش کی جائیں گی اور پھر آئی جی پولیس ڈی پی او، آر پی او اور ایڈیشنل آئی جی کے عہدوں کیلئے تین تین افسران کے نام ترتیب وار ترجیح کے ساتھ پینل کو پیش کرے گا اور ساتھ ہی کارکردگی کا چارٹ بھی منسلک کرے گا، جس کے بعد یہ تجاویز منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو بھجوائی جائیں گی۔ جواز پیش کرکے حکومت قبل از وقت ٹرانسفر بھی کر سکے گی۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے اپنے پولیس آرڈر میں فوری تبدیلیاں لائے۔
    دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ صرف تربیت یافتہ اور مصدقہ افسران کو تحقیقات (انوسٹی گیشن) اور سینئر انتظامی عہدوں پر تعینات کیا جائے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پی پی او سرٹیفکیشن فریم ورک کا تعین کرے گا۔ پنجاب حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر سرٹیفکیشن کے متعلق شقیں پولیس آرڈر میں ترامیم کرکے شامل کرے۔ سرٹیفکیشن فریم ورک تیار کرنے کیلئے پنجاب حکومت کے پاس 60؍ دن ہیں۔ پنجاب حکومت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسٹیشن ہائوس افسران (ایس ایچ اوز) کو ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کے طور پر بھی نامزد کرے اور اس مقصد کیلئے متعلقہ قوائد اور قانون میں ترامیم کی جائیں۔ فنانس ڈپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر پولیس اسٹیشن کیلئے بنیادی اخراجات کا تعین کرے اور اس مقصد کیلئے پولیس کے ساتھ مشاورت کی جائے۔ یہ کام 30؍ دن میں مکمل کرنے کیلئے کہا گیا ہے.

  • یوم امن دہشت گردی کا شکار —- از عبدالواسع برکات

    یوم امن دہشت گردی کا شکار —- از عبدالواسع برکات

    عالمی یوم امن جی ہاں یہ ہر سال 21 ستمبر کو منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں میں امن کی اہمیت اور امن کی ضرورت بتانا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے تمام اراکین ممالک مناتے ہیں اور اپنے ملک کی عوام کو امن کی اہمیت بتاتے ہیں ۔ یہ دن اقوام متحدہ سے بین الاقوامی طور پر اعلان شدہ ہے ۔ اقوام متحدہ نے لازمی طور پر امن کے لیے اہداف بھي مقرر کیے ہوں گے جس کو اس کے تمام رکن ممالک نے منظور بھی کیا ہوگا۔

    اقوام متحدہ کی پوری دنیا میں پھيلی ہوئی یہ تمام کوششیں اور کاوشیں اپنی جگہ قبول جاسکتی ہیں لیکن ان کوششوں کا دنیا میں کوئی فائدہ بھی نظر آتا ہے یا نہیں ؟؟ 193ممبر ممالک کی امن کے حصول کی تمام جدوجہد ، ہر ملک میں لا تعداد امن تنظیمیں بھی موجود ہیں ، بین الاقوامی امن ایوارڈ موجود ہیں ، دنیا کا ہر ملک ہر فرد ہر تنظیم امن کا داعی بنا ہوا ہے سیکڑوں تقریبات ، سیمنارز، ریلیوں کا انعقاد ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر طرف بدامنی ، نفسا نفسی ، خوف وہراس کی فضا ء، قتل و غارت گری ، اغوا کاروں کی کاروائیاں اپنے جوبن پر ہیں ،

    ملکوں کی ایک دوسرے کو زِیر کرنے کی کوششیں جاری ہیں ، اسلحہ کی خریدوفروخت کے بھاری معاہدے بھی جاری ہیں ۔انسانیت خطرے میں نظر آرہی ہے ۔ UNO کے رکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دہشت گردی سے عراق تباہ ہو چکا ۔ شام کی تباہی جاری ہے ۔ افغانستان میں بھی انسانیت کے ساتھ جنگ جاری ہے ۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے ہی رکن ملک اسرائیل کے ہاتھوں فلسطین میں کئی دہاہیوں سے انسانیت سسک کر مر رہی ہے ۔ بچے بوڑھے معذور ہورہے ہیں ۔ برما میں انسانیت کے قتل کا ننگا کھیل کھيلا جا چکا ہے ، جس کو پوری دنیا جانتی ہے۔

    اور یہ حالیہ دن جو گزر رہے ہیں ان میں سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت جو اقوام متحدہ کا رکن ملک بھی ہے اس نے اقوام متحدہ کی تمام تر امن کوششوں کی دھجیاں بکھیڑتے ہوئے کھلم کھلا دہشت گردی کرکے کشمیریوں پر زندگی بند کردی ہے ان کی سانسوں کو بند کیا جا رہا ہے ۔ نہ خوراک پہنچائی جا رہی ہے نہ ہی میڈیکل کی سہولیات دی جا رہی ہیں ، ایمبولینس کا پہیہ چل رہا ہے اور نہ ہی ہسپتال کھلے ہیں کشمیری گھروں میں قبریں بنا نے پہ مجبور ہیں۔کشمیر میں دہشت گرد رکن بھارت کے ہاتھوں انسانیت سسک سسک کر مر رہی ہے ، ایڑیاں رگڑتی انسانیت کو تڑپا تڑپا کر اس سے دشمنی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔

    آج اقوام متحدہ میں بھی یوم امن منایا جا رہا ہے اور اس کے حکم پر پوری دنیا بھی امن ڈے منا رہی ہے لیکن فلسطین ﴾، عراق، شام، افغانستان اور کشمیر کے نہتے سسکتے انسانوں کو امن دئیے بغیر ہم کیسے یوم امن منا سکتے ہیں ؟؟ اقوام متحدہ کا کیا کردار ہے ؟؟؟ کیا اقوام متحدہ بھارت اسرائیل اور امریکہ جیسے دہشت گرد ممالک کو لگام نہیں ڈال سکتی؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ امریکہ بھارت اور اسرائیل کے ہاتھوں اقوام متحدہ یرغمال بنی ہوئی ہے، ان تین ممالک کی مسلسل دہشت گردی کو اقوام متحدہ نظر انداز کرکے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر کاروائی سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے ۔لگتا ہے اس کی تمام تر کوششیں نام نہاد امن کی خاطر ہیں ۔

    اگر اقوام عالم حقیقی امن کی خواہاں ہے تو 47دن ہو چکے ہیں کشمیر کو جیل میں تبدیل ہوئے کیا اقوام متحدہ نے امن فوج اتار دی ؟؟؟؟ کیا اس نے اپنے مبصر بھیجے ؟؟؟ کیا یونیسف نے اپنے ڈاکٹروں کا مشن بھیجا ؟؟؟ پھر یہ عالمی یوم امن منا کر دنیا کو دھوکہ اور فریب دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ دنیا میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی غیر جانبداری پر بھي سوالیہ نشان کھڑا ہے ۔ مسلمانوں کے علاوہ دنیا میں کسی اور مذہب کا مسئلہ ہو اور یہ اقوام متحدہ دنوں میں معاملہ حل کر دے گی مگر مسلمانوں کے مسائل کو پچاس پچاس سال ہو چکے ہیں کوئی ایکشن ہی نہیں لیا جا رہا ۔ مسلمانوں کے احتجاج کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ یہ اقوام عالم کے کردار پر سوالیہ نشان ہے ۔

    اقوام متحدہ سے امید رکھنا کہ یہ کشمیر فلسطین کا مسئلہ حل کروا دے گی نا ممکن ہے۔ آئیے اسلام کی طرف اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جو اللہ رب العزت نے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ پر نازل کیا ۔ یہ دین اس بات کا درس دیتا ہے کہ رنگ و نسل کے بغیر انسانیت کا تحفظ کیا جائے ۔ اسلام ہی یہ درس دیتا ہے کہ ظالم جو بھی ہو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور ہر مذہب کے مظلوم کی داد رسی کی جائے اس کے زخموں پہ مرہم رکھی جائے اس کو امن دیا جائے ۔ اسلام ہی ہے جو ظلم کو برداشت نہیں کرتا ۔ یہ اسلام ہی ہے جو ہر مذہب کے پیروکاروں کو تحفظ دیتا ہے ان کی عبادتگاہوں کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ یہ اسلام عیسائی یہودی بدھ مت کی عورتوں بچوں کو ان کے گھر والوں سے زیادہ عزت دیتا ہے ۔

    آج بھي اسلام کے پیروکار امن کے داعی بن کر کھڑے ہیں ۔سعودی عرب پر ڈرون حملے اور پاکستان پر مسلسل انڈیا کے چھوٹے پیمانے پر سرحدی حملے، را کے اندرونی حملے، افغانستان سے اتحادیوں کے حملے، اس کے باوجود مسلم ممالک صبر کا دامن تھامے امن کے پیغامبر بن کر کھڑے ہیں کہ شاید پر امن طریقوں سے یہ مسائل حل ہو جائیں ۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی۔ پاکستان بھارت کے کئی ہوابازوں کو ابھی نندن سمیت صرف امن کی خاطر انڈیا کے حوالے کر چکا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو اہمیت دی صرف امن کے فروغ کے لیے ۔ لیکن انڈیا نے ہمیشہ پاکستان کی امن کوششوں کے جواب میں دہشت گردی کو فروغ دیا ۔ انسانیت کا قتل عام کیا

    اقوام متحدہ بتائے کہ دنیا میں کون سا مسلم ممالک ہے جو دہشت گردی کو پھيلا رہا ہے؟ لیکن اس کے برعکس بے شمار مسلم ممالک ایسے مل جائیں گے جو دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ کیوں کہ ان کا اسلام اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا ۔ اسلام تو اس بات کا بھي درس دیتا ہے کہ جنگ کے دوران بھي دشمن کی عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پہ تلوار نہیں اٹھانی ۔
    عالمی یوم امن پہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ آج کشمیر کی عورتوں اور بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کو کس نے بچانا ہے ؟؟ کیا کشمیری بھی یوم امن منائیں گے ؟؟ وہ تو اپنی ہی سرزمین پر قید کردیے گئے ہیں ۔ ان کے تو گھروں کا بھي امن تباہ کر دیا گیا ہے ان کے سکولوں کالجوں ، ہسپتالوں مارکیٹوں پر اور گھروں کے دروازوں پہ فوجی بٹھا دیے گئے ہیں ۔ مجھے لگتا ہے کشمیر میں امن کو ہی ذبح کر دیا گیا ہے ۔

    اقوام متحدہ اگر حقیقی اور پائیدار امن کی خواہاں ہے تو امریکہ بھارت اور اسرائیل کی کھلی دہشت گردی کو لگام ڈالنی پڑے گی غیر جاندارانہ فیصلہ کرنا ہوں گے ۔ کشمیر ، فلسطین ، یمن ، شام جیسے دہشت گردی کا شکار تمام ممالک کے باسیوں کو امن فراہم کیا جائے۔ مسلم اور غیر مسلم میں تفریق ختم کرکے صرف انسانیت کی بنیاد پر پوری دنیا کے انسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا جو رکن ممالک دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہوں  ان کی رکنیت معطل کر دی جائے ان پر پابندیاں عائد کی جائیں ۔ یہ اعمال کرکے ہم حقیقی اور پائیدار امن تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ یہ کھوکھلے نعرے اور دکھلاوے کی کوششیں کبھي کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔ اور ہر سال یوم امن دہشت گردی کا شکار رہے گا ۔

    تحریر از عبدالواسع برکات

  • ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ابصار عالم کا پیمرا کو بڑا نقصان… تفصیل جانیے!!! تحریر: حجاب رندھاوا

    ‏سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے خلاف ضابطہ سرکاری گاڑی استعمال کی..اتھارٹی کو ایک ملین روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا گیا
    آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ریکوری کی سفارش کردی

    بچپن میں کہانی سنتے تھے کہ بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوے اور انعام کے طور پر اس ہیرے اور جواہرات سے نوازا
    اج کل چونکہ جدید دور ہے ہیرے جواہرات نے بھی جدیدیت اختیار کر لی ہے اج جب بادشاہ اپنے قصیدہ گو سے خوش ہوتا ہے تو کسی کو چیئرمین پی ٹی وی، کسی کو چیئرمین پی ٹی اے، کسی کو چیئرمین پیمرا لگا دیتا ہے
    ایسا ہی جناب نوازشریف نے کیا

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ابصار عالم کو چیئر مین پیمرا تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تعیناتی کو سپریم کورٹ نے بھی کالعدم قرار دیا تھا کیونکہ ابصار عالم چیئرمین پیمرا کیلئے مطلوبہ معیار اور مطلوبہ تعلیمی قابلیت پر پورا نہیں اترتے تھے جبکہ نواز شریف حکومت نے ابصار عالم کو قواعد کے برعکس اہم عہدے پر تعینات کیا تھا
    ابصار عالم کی تقرری کے لیے 2 بار اخبارات میں اشتہار دیکر رولز اینڈ ریگولیشن ظاہر کرنے کی کوشش کی گئ ، وہ پہلے اشتہار کے تعلیمی معیار پر پورا نہ اترے تو دوسری بار کم اہلیت کا اشتہار جاری کیا گیا
    آج کل کانسٹیبل کی بھرتی کے لئے بی اے کی شرط ہے، جس کی تنخواہ چند ہزار ہوتی ہے،
    مگر اسی بی اے کی ڈگری پر ابصار عالم 33 لاکھ ماہانہ کا مراعات یافتہ پیکیج لیتے رہے جس میں سے ہر ماہ تنخواہ سولہ لاکھ روپے تھی جبکہ دیگر مراعات جس میں گھر ‘ ڈرائیور‘، گاڑی، ٹی اے ڈی اے‘ کلب ممبر شپ کارڈ وغیرہ ملا کر 33 لاکھ کا پیکیج تھا ۔ ابصار عالم چیئرمین پیمرا بننے سے قبل نواز شریف خاندان کی جی حضوری میں مصروف رہتے تھے بالخصوص اسحاق ڈار اور شریف خاندان کی خوشنودگی حاصل کرنے کیلئے ٹی وی پروگراموں میں ان کے حق میں پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتے تھے جس کی وجہ سے انھیں نوازا گیا
    یہ بہت آزمودہ بات ہے کہ جو لوگ بادشاہ کی طرف سے نوازے جائیں، وہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں آگے چلے جاتے ہیں، اس کا بادشاہ کو نقصان تو ہوتا ہے، فائدہ بالکل نہیں ہوتا۔ ابصار عالم نے اپنے دور میں ذاتی لڑائیاں بھی لڑیں اور ان لڑائیوں کا نزلہ اُن پر کم اور نواز حکومت پر زیادہ گرا۔
    پیمرا کا کام چینلوں کو ضابطۂ اخلاق کے دائرے میں رکھنا ہے، لیکن ابصار عالم کا کام نوازشریف کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پہ پابندیاں لگانا ہوتا تھا
    ابصار عالم ایک طرف حکومت اور نواز شریف کے خلاف پروگراموں پر گرفت کرتے رہے اور دوسری طرف انہوں نے عدلیہ کے خلاف وزیروں کی پریس کانفرنسیں ٹیلی کاسٹ ہونے دیں۔

    گویا پیمرا ان حالات میں ایک پارٹی بن گیا تھا ریاستی اداروں میں اپنے چہیتوں کو بٹھا کر انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی کے بارے میں جو منفی ردِ عمل پیدا کیا اس کا نقصان تو انھوں نے خود اٹھایا لیکن جو نقصان نوازشریف کے قاسمی اور ابصار عالم جیسے قیصدہ گو نے اداروں کو پہنچایا اس کی بھرپائی ان سے وصولی کے زریعے ممکن ہے

  • میڈیا ورکرز کا استحصال بند کیا جائے، صحافی برادری سراپا احتجاج

    میڈیا ورکرز کا استحصال بند کیا جائے، صحافی برادری سراپا احتجاج

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے صحافتی ورکرز دشمن میڈیا مشیراور پبلک نیوز چینل کے مالک یوسف بیگ مرزا اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کے قریبی دوست اور صحافتی ورکرز دشمن نیوز ون چینل کا مالک طاہر اے خان صحافتی ورکرز کی پانچ پانچ تنخواہوں کے مقروض نکلے ہیں،
    کئی سالوں سے حکومتوں سے اربوں کا بزنس اشتہارات کی مد میں وصول کرکے لمبے چوڑے اثاثے بنانے والے ان دونوں مالکان نے اپنے صحافتی ورکرز سے دن رات ایک کرکے کام لیکر ان کی پانچ پانچ ماہ کی تنخواہیں دبا لی ہیں جبکہ ان دونوں نے اپنے اپنے اداروں میں ایسے افراد کو بھی رکھا ہوا ہے جو فری آف کاسٹ کرکے باہر اداروں کو بدنام کرکے بلیک میلنگ کے زریعے پیسے کماتے ہیں اور تنخواہیں مانگنے والے ورکرز کی اداروں میں بیٹھ کر مخالفت کرتے ہیں جن ورکرز نے دن رات محنت کرکے فلیڈ میں اداروں کا نام بنایا ہے آج ان کے پاس گھروں کا کرائے دینے کے لئے پیسے نہیں ہے آج ان کے بچے فیس کی وجہ سے سکول نہیں جاسکتے ہیں آج ان کے گھروں کے بیمار والدین ، بیوی بچے اور بہن ، بھائی دوائی لینے کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں

    آج وہ اپنے گھروں کے بجلی ، پانی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لئے لوگوں سے قرضے مانگ رہے ہیں آج وہ دکانداروں سے منہ چھپا کر محلے سے گزرتے ہیں اور کوئی ان کو گھر کا راشن ادھار دینے کے لئے تیار نہیں ہے آج وہ دفتر جانے کے لئے پیدل آفس آنے پر مجبور ہیں جناب وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب یہ آپ کے وہ مشیر اور دوست ہیں جو آپ کے لئے صحافتی دنیا میں بدنامی کا باعث بن رہے ہیں جس کی وجہ سے صحافتی کمیونٹی آپ کو بدعائیں دینے اور آپکو نااہل کہنے پر مجبور ہے یہ وہ لوگ ہیں جہنوں نے دوسرے صحافتی اداروں کے مالکان کو ورغلا کر تنخواہیں روکنے اور ورکرز فارغ کرنے اور تنخواہوں کی کٹوتی کے لئے تیار کیا ہیں یہ وہ دونوں ورکرز دشمن ہیں جہنوں صحافتی ورکرز پر چند دنوں میں شب خون مارا ہیں

    اگر یہ دونوں مالکان نے اپنے ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی نہ کی تو ہم اسلام آباد وزیر اعظم ہاوس اور ان دونوں مالکان کے گھروں کے باہر مظاہرے بھی مظاہرے بھی کریں گے کشکول بھی لٹکائیں گے اور ان تمام حالات اور ماحول کے ذمہ دار یہ دونوں صحافتی اداروں کے مالکان ہونگے

  • پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    14 ستمبر2019 کی رات ر شمالی وزیرستان کی تحصیل سپن وام میں افواج پاکستان کے ایک پٹرولنگ دستے پر مغربی سرحد سے آنے والے دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور دھرتی کے چار سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ، یہ واقع بظاہر افغان انٹیلی جینس ایجنسی این ڈی ایس اور را کی سرحد پار سے کی جانے والی کاروائی لگتی ہے لیکن حقیقت میں اس کی کی کڑیاں اندرون پاکستان موجود غداروں سے بھی جا ملتی ہیں، اور ان اندرون ملک پائے جانے والے خطرات کا نام پی ٹی ایم ہے ،

    کچھ عرصہ پہلے پاکستانی عوام اس نظریے سے بے خبر اور شش و پنج میں مبتلا نظر آتے تھے کہ پاکستان کی قومی سالمیت میں پاکستان کے اندر سے بھی کوئی بڑا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن آج پاکستان اور خاص طور پر پشتون عوام یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان دشمنی کے بیج پی ٹی ایم اور اس جیسی دوسری جماعتیں بو رہی ہیں ، جن کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرکے پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا کر دیا جائے اور پاکستان بغیر کسی دشمن سے لڑے فنا ہو جائے، لیکن پاکستان کا نوجوان طبقہ اور پاکستان کے سائبر سپائڈرز اس بات سے کلی طور پر وقف ہیں کہ دشمن کیا چالیں چل رہا ہے،
    اس کی عکاسی ہمیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھنے کو مل سکتی ہے کہ کس طرح پاکستان کے نوجوان دشمن کے عزائم کو خاکستر کر رہے ہیں
    محمد قاسم صدیقی لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی یم را کہ ایجنڈا پر کام کر رہی ہے


    آر کے خٹک لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی ایم کو افواج پاکستان نے مکمل طور پر کھول کر عوام کے سامنےرکھ دیا ہے ، اور اب عوام کو چاہیے کہ وہ ان غداروں کو اپنی صفوں سے پہچانیں اور ان کا صفایا کریں
    https://twitter.com/PrinceKhyber2/status/1173593529010008066
    علی حسن نے ایک گرافک شیر کی اور کہا کہ پی ٹی ایم قبائلی عوام کی تعمیرو ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،
    https://twitter.com/alihassanirb/status/1173586904413036545
    ہنس مسرور بادوی کہتے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے کئی بار پریس کانفرنسیں کی اور ٹھوس شواہد کے سساتھ پی ٹی ایم کی انٹرنیشنل فنڈنگ کو عوام کے سامنے رکھا ،
    https://twitter.com/hansbadvi/status/1173553119416000512