Baaghi TV

Category: متفرق

  • اسٹیو سمتھ نے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں ڈبل سینچری جڑ دی

    اسٹیو سمتھ نے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں ڈبل سینچری جڑ دی

    مانچسٹر: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین اسٹیو سمتھ نے انگلیڈ کیخلاف چوتھے ایشز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں شاندار سینچری جڑ دی،سمتھ نے 22 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے ڈبل سینچری کی مکمل کی اور اس کیساتھ ہی آسٹریلیا کا پہلی اننگز میں ٹوٹل سکور بھی 400 کا فگر پار کر گیا
    یادرہے کہ اسٹیو اسمتھ پابندی کے بعد پہلی مرتبہ ایشز سیریز2019 میں ٹیسٹ کٹ پہنے نطر آئے اور تین میچوں میں 194 کی ایوریج سے 583 رنز سکور کیے اور اپنی نمبر ون ٹیسٹ رینکنگ کو درست ثابت کیا،

  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرحان ورک کی اپیل پر صلاح الدین کو انصاف دینے کیلئے احتجاج

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرحان ورک کی اپیل پر صلاح الدین کو انصاف دینے کیلئے احتجاج

    اسلام آباد: رحیم یار خان میں پنجاب پولیس کے تشدد کے باعث جاں بحق ہونے والے اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین ایوبی کے اہلحانہ کو انصاف دلانے کیلئے پاکستان سول سوسائٹی کے ممبران کی طرف سے احتجاج کیا گیا ،
    تفصیلات کے مطابق سول سوسائٹی کے ممبر ڈاکٹر فرحان ورک کی جانب سے بروز جمعرات سوشل میڈیا پر احتجاج کی کال دی گئی جس پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی اور پریس کلب اسلام آباد کے باہر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا،
    سول سوسائٹی کے احتجاج میں شریک ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ صلاح الدین کا جرم صرف یہی تھا کہ اس کا جرم پکڑا گیا تو اگر اس بات کو دیکھا جائے تو پاکستان میں کتنے ہی لوگوں کا جرم پکڑا جا چکا ہے لیکن وہ جیلوں میں اے سی اور ٹی وی کے مزے اڑا رہے ہیں اور صلاح الدین چونکہ ایک غریب باپ کا بیٹا تھا اس لیے ناحق مارا گیا اور کسی حکومتی عہدیدار کو کوئی فرق نہیں پڑا
    سول سوسائٹی کے ممبران کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی پنجاب پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ دو یا چار اہلکاروں کو معطل کردیا جاتا ہے، حلانکہ پولیس کے سینئر افسران اس بات سے باخوبی واقف ہیں کہ پولیس کبھی بھی معطلی سے ٹھیک نہیں کی جاسکتی ، اگر پولیس کو ایک عوام دوست ادارہ بنانا ہے تو لانگ ٹرم اصلاحات متعارف کروانا ہوں گی

  • پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک ماں کا لخت جگر دو شہداء کا بھائی ا ذہنی معذور صلاح الدین پولیس گردی سے قتل ہو گیا الزام کیا تھا اے ٹی ایم مشین توڑنا حالانکہ اس ملک میں لوگ قرآن کے احکامات کھلے عام توڑ رہے ہیں پولیس نے گرفتار کیا مارا پیٹا تفتیش کی وہی تفتیش کہ جس کے سنتے ہی پورا جسم لرز جاتا ہے اسی تفتیش کی بدلت صلاح الدین زندگی کی بازی ہار گیا مگر کیا ہوگا SHO, Si یاں اگر بہت زیادہ سختی کریں تو سرکل کا DSP معطل ہوگا انکوائری لگے گی اور یہ لوگ کچھ دنوں کیلئے پورے پروٹول کیساتھ جیل جائینگے
    لوگ اور میڈیا چند دن شور مچائینگے پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائینگے اور اسی سناٹے مین معزز پولیس اہلکاران بحال ہو جائینگے اور پھر سے کسی نئی صلاح الدین کو تخت مشق بنائینگے اور ایسا 73 سالوں سے ہو رہا ہے
    جناب عزت مآب تخان صاحب اگر پولیس گردی روکنی ہے تو پھر معطل نہیں قتل کرو ان کا قتل کیونکہ قرآن میں رب رحمن نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتلایا ہے قتل کا بدلہ قتل ہے
    فرض کریں اگر ان پولیس اہلکاران کو صلاح الدین کے بھائی یاں کوئی اور رشتہ دار قتل کر دیں تو وہ بھی معطل ہی ہونگیں؟ نہیں بلکہ پولیس مقابلے میں مار دئیے جائینگے
    خان صاحب تبدیلی کہاں سے آئے گی معطل کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ آسمانی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرنے سے آئیگی کل روز قیامت آپ کا گریبان ہوگا اور صلاح الدین کا ہاتھ کیونکہ آپ نے ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور ایک سال سے اوپر ہو گیا آپ کو وزیراعظم یعنی خلیفتہ المسلیمین بنے ہوئے اور اس سال کے اندر کتنے ماورائے آئین و عدالت پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ان سب کا حساب اللہ آپ سے لے گا کیونکہ آپ وقت کے حاکم ہیں ریاست مدینہ ثانی بنانے کے دعوے دار ہیں تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں آئے ہیں.

  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah
  • سوشل میڈیا کا محاذ پاکستان کے نام — عاصم مجید لاہور

    سوشل میڈیا کا محاذ پاکستان کے نام — عاصم مجید لاہور

    ہائبرڈ وار میں پاکستان نے انڈیا کو زبردست طریقے سے پچھاڑ دیا ہے۔ اس کا ثبوت انڈین میڈیا پر سنائی دینے والی چیخیں ہیں۔ کہیں وہ حمزہ علی عباسی کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں اور کہیں ڈی جی آئی ایس پی آر کے ایک ایک ٹویٹ پر پورے پورے پروگرام کرتے نظر آتے ہیں اور دلچسپ بات یہ کہ انڈیا کا ریٹائرڈ لفٹینٹ جنرل عطا حسنین بھی آئی ایس پی آر کی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔
    جس طرح آئی ایس پی آر نے نوجوان نسل کو متحد کیا اور سوشل میڈیا پر انڈین پروپیگینڈے کا جواب دیااور ملک کے طول ارض کے تمام نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر کے دشمن کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
    اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

    بد حواسی کا یہ عالم ہے کہ انڈیا کے ٹویٹر صارفیںن صدر پاکستان اور وفاقی وزیر مراد سعید کے ٹویٹر اکاونٹ کو رپورٹ کر رہے ہیں۔
    انڈین یقینا آئے روز کشمیر کے متعلق ٹویٹر ٹرینڈ سے بہت پریشان ہیں۔

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
    یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جیسے ہی پاکستانی کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں تو کچھ انڈین ان کو مصروف کرنے کے لیے جواب میں موضوع سے ہٹ کر یو ٹیوب لنک شعیر کرتے ہیں اور بحث پر لے آتے ہیں تا کہ وہ ٹویٹر صارف ٹرینڈ پر کام جاری نہ رکھ سکے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا کے ایسے ٹویٹر صارفین کے فالورز بہت کم ہوتے پیں یعنی وہ "را” کے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ جب ان کو جواب نہیں آتا تو گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ اسی طرح باقی سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔
    چند روز پہلے انڈیا نے سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پروپیگینڈا کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ جس میں انڈیا کی ٹی وی چینل اور ٹویٹر ٹرینڈ پیش پیش تھے۔
    اس کا مقصد پاکستانی عوام کا مورال گرانا اور پاکستان سٹاک ایکسچینج جو کی مثبت چل رہی ہے اس کو گرایا جائے۔ مگر اس ٹرینڈ کے چلتے ہی حکومت پاکستان کی طرف سے اس پروپیگینڈے کو ناکام کر دیا گیا اور ہمارے ٹی وی چینل نے بھی بھر جواب دیا۔
    یہاں سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انڈیا پاکستان کے سوشل میڈیا محاز سے کس قدر بوکھلایا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا کی ہائبرڈ وار کو ہم سب پاکستانیو کو سمجھنا چاہئیے۔ اس محاز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ آپ کی ہر پوسٹ ، ہر ٹویٹ انڈیا کو گولی کی طرح لگتا ہے۔ لہزا ہر محب وطن پاکستانی کو اس محاذ پر پاکستان کے دفاع کے لیے آگے آنا چاہئیے۔
    مزید پڑھیں سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کا دفتر خارجہ کے نام کھلا خط … محمد عبداللہ

    حکومت پاکستان نے کشمیر میڈیا سیل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جو یقینا انڈیا کے لیے بہت بری خبر ہے۔

    پاکستان کی ہائیبرڈ وار میں کامیابی اپنی جگہ مگر ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ بھی کافی حد تک جانب دار ثابت ہوئی ہے۔
    ٹویٹر اور فیس بک انتظامیہ کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں اکاونٹ بند کئے گئے۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اس مسئلہ پر آواز اٹھانے کی ہامی بھری۔
    یقینا اس محاز کو مزید موثر بنانے کے لیے پاکستان کو ان سوشل میڈیا ایپلیکیشن کی انتظامیہ سے بات کرنی چاہئیے۔ اور کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بننا چاہئیے۔ تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آئے۔

    عاصم مجید

  • کھال مافیا.حفیظ اللہ سعید

    کھال مافیا.حفیظ اللہ سعید

    کھال مافیا

    حفیظ اللہ سعید

    عید قربان پہ جانوروں کے لین دین اور ٹرانسپورٹ کے بعد ایک بہت بڑا کاروبار کھالوں کی خریدو فروخت ہے۔چمڑے کی صنعت ایک بڑی مقدار میں چمڑا حاصل کرتی ہے عید قربان کے موقع پہ۔اس چمڑے سے بننے والا ایک جوتا پرس یا خالص چمڑے کی کوئی چیز برانڈز کے نام پہ ہزاروں روپے میں بکتی ہے۔جبکہ ملک پاکستان میں دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ کھالوں کا ریٹ انتہائی کم ہو جاتا ہے عید پہ۔امسال بھی دنبے کی کھال 20 روپے بکرے کی 50 اور بڑے جانور کی 450 تک بکنے کی خبریں مل رہی ہیں
    یہ بھی مافیا کا کام ہے جیسے سبزی منڈی کی مافیا عید و رمضان میں سبزی فروٹ کے ریٹ آسمان پہ لے جاتی ہے ویسے ہی کھال مافیا بڑی عید پہ کھال کا ریٹ گوڑیوں کے بھاؤ پہ لے آتی ہے
    ہم من حیث القوم مفاد پرست و مطلبی ہیں کہ اس کی ایک اور مثال دی جا سکتی ہے
    دھوبی مافیا عید کے دنوں میں کپڑے استری کرنے کا ریٹ ڈبل سے بھی زیادہ کر دیتا ہے ڈھٹائی بھی ملاحظہ کریں کہ یہ مافیا عیدی کے نام پہ یہ کرتا ہے
    ہر طرف مافیاز و ابن الوقت لوگوں کا قبضہ ہے ہر شعبہ زندگی پہ جس کا جہاں جیسے اور جتنا داؤ لگتا ہے وہ اتنا ہی عوام کو لوٹنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے

  • اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    حافظ ابتسام الحسن بھائی ایک انسان دوست ، حکمت سے معمور اور دعوتی جذبے سے سرشار عالم دین تھے۔ دعوتی تڑپ اور دین کے پھیلاؤ کی جو لگن ان مِیں دیکھی وہ بہت ہی کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز رات بارہ بجے کے قریب ہمارے ایک مشترکہ دوست اور ایک عزیز بھائی اویس کا فون آیا جنہوں نے اطلاع دی کہ سلمان بھائی ابتسام بھائی ہم میں نہیں رہے ، چند ثانیے تو یقین ہی نہیں آیا وہ کہنے لگے کہ ان کے چھوٹے بھائی اور اہلیہ ہسپتال میں ہیں میں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے پاس جا رہا ہوں آپ بھی آ جائیں۔ میں کچھ تاخیر سے جب وہاں پہنچا تو ان کا جسد خاکی میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاوس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لایا جا رہا تھا۔ گلاب کی طرح کھلا ہوا چہرہ ، اور چہرے پر اطمینان دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
    ابتسام بھائی روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کی ٹکر سے شہید ہوئے ۔ اطلاعات کے مطابق انار کلی بازار لاہور کے قریب گاڑی میں دو لوگ سوار تھے جو آپس میں کسی وجہ سے الجھے جس بناء پر گاڑی ابتسام بھائی کی بائیک سے جا ٹکرائی وہ گرے مگر اٹھ کر کھڑے ہو گئے گاڑی والا ڈر کر بھاگتے ہوئے دوبارہ ان سے جا ٹکرایا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران وہاں موجود لوگ ڈرائیور کے ساتھی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ڈرائیور بھاگ نکلا۔ ابتسام بھائی کو قریب واقع میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس دوران جب ان کی طبیعت بہتر تھی انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو معاف کرنے کی بھی وصیت کی (اللہ اکبر کیسا اعلی ظرف انسان تھا، کیسا وسیع القلب آدمی تھا اللہ تو اس کو معاف کر اور اس سے راضی ہو جا) کچھ دیر ٹھیک رہنے کے بعد طبیعت پھر بگڑنا شروع ہوئی یہاں تک کہ ابتسام بھائی بہت سی آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر گئے۔
    اس دھیمے مزاج اور خوبیوں سے مالا مال شخص کی وفات کی اطلاع جس جس نے سنی اس کا دل غم سےلبریز ہو گیا۔ ابتسام بھائی ایک واعظ اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تحریر و تقریر سے دعوت کے کام میں مصروف عمل رہتے تھے۔ ڈیفنس کی جامع مسجد الرباط میں ایک لمبا عرصہ امام تراویح رہے۔ ان کی دلنشیں اور پرسوز آواز میں کی جانیوالی قرات قران سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے خصوصا قنوت میں ان کا رو رو کر دعائیں کرنا دیکھ کر بہت رشک آتا جب وہ خود بھی رو رہے ہوتے اور ان کے پیچھے کھڑے مقتدیوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر وہ علم و عمل انسٹیٹوٹ، پاک بلاگرز فورم سمیت کئی فورمز سے وابستہ تھے ۔ ان کے مضامین ، کالمز اور آڈیو ویڈیو لیکچرز گاہے بگاہے شائع و نشر ہوتے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حفظ القران اور تجوید کے استاد بھی تھے۔ مرکز الودق ڈیفنس اور دیگر کئی مقامات پر خدمات سرانجام دینے بعد انہوں نے حلیمہ سعدیہ ایجوکیشنل کمپلیکس نزد شرقپور روڈ پر کام کا آغاز کر رکھا تھا جہاں تعلیم بالغاں کے ساتھ مدرسہ حفظ القران اور تجوید کا بھی اجراء کیا جا چکا تھا۔ یقینا وہ گوناگوں صفات کے مالک اور کثیر الصلاحیت شخص تھے۔
    ان کے ساتھ کام کرنے والے دوستوں میں طہ منیب بھائی نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک وفات سے دل بہت غمگین اور اداس ہے۔ دعوتی اور اصلاحی پلیٹ فارمز پر ویڈیو ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ رمضان المبارک اور ربیع الاول میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ان کے متعدد لیکچرز ریکارڈ کروائے جبکہ چند ماہ پہلے ان کی کال آئی جس میں انہوں نے اپنے مقتدیوں کے اصرار پر تلاوت قران کی ریکارڈنگ کے لیے آڈیو ریکاڈنگ سٹوڈیو کا پوچھا ہم نے ریکارڈنگ شروع کی اب تک تین پارے ہو چکے تھے کہ اللہ کی مشیت غالب آ گئی۔
    اس طرح پاک بلاگرز فورم کے مدیر خنیس الرحمان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ
    ہم حافظ ابتسام رحمۃ اللہ کے ہوتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارے درمیان عالم دین موجود ہیں آج پاک بلاگرز فورم ان کے جانے سے یتیم ہوگیا, ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا, یقین ہی نہیں آتا. بار بار ان کی گفتگو اور ان کے کہے ہوئے بہت سے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ ان کو یاد کرنے اور کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ان کی جدائی کا صدمہ اس قدر ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    شہادت کی دعائیں مانگنے والا شہادت کا یہ طلبگار ان شااللہ شہید ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے بھائی کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اس کو معاف فرمائے اس سے راضی ہو جائے اور اس کو جنت الفردوس میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین یا رب العالمین

  • ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    گزشتہ روز سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن محترم کنور دلشاد صاحب نے بلدیاتی انتخابات اور اصلاحات کے موضوع پر خوبصورت سیمنار کا انعقاد ایک پنج تارہ ریستوران میں کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور تھے۔ تقریب میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی تھیں۔اج ایک عرصے کے بعد ڈاکٹر مجاہد منصوری سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر مجاھد منصوری ہمارے نفاذ اردو کے بالکل ابتدائی رہنماؤں میں سے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ نفاذ اردو کی کوششوں کے حوالے سے ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نےہمیں کہا کہ دور جدید کی بہت سی اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے انہیں بتایا کہ ہماری تحریک کے مخلص ساتھی پروفیسر جمیل بھٹی ‘ شاہد ستار شبلی اور پروفیسر اشتیاق احمد اس پر اپنے محدود وسائل کے باوجود سائنس’ معاشیات’ ادب اور کمپیوٹر کی اصطلاحات کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ تقریب میں تحریک انصاف کی ترجمان سیماں انوار’ قیوم نظامی’ سلمان عابد’ عظمی ‘ امریکہ میں مقیم سائنسدان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر خان ‘ تحریک انصاف کے سپورٹس کے چئیر مین میاں جاوید’ وائس چیئرمین انعام الحق سلیم’ خلیل خان نورزئی’ کاشف سجن’ عبداللہ اعوان’ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے اپنے خطاب میں گورنر صاحب کی توجہ عدالت عظمیٰ کےنفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد پر کروائی۔ ہم نے کہا کہ آپ کی حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں آئی ہے’ آپ ایک عرصہ تک بیرون ملک مقیم رہے ہیں آپ بتائیے کہ دنیا کے کتنے ممالک میں یہ فراڈ ہورہا ہے کہ اراکین اسمبلی جلسے جلوس تو اپنی زبان میں کریں جب رکن اسمبلی بن جائیں تو اس اسمبلی کی کار روائی اپنے آقاؤں کی زبان میں کریں۔کیادنیا کے کسی ملک میں کسی غلامی کی زبان میں کار روائی کا سوچا بھی جاسکتا ہے؟ ہمیں بہت خوشی ہے کہ گورنر پنجاب نے نہ صرف ہمارے خیالات کی تائید و توصیف کی بلکہ انہوں نے اپنی انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر کو ایک طرف رکھ دیا۔ کچھ اردو اور پنجابی میں خطاب کیا۔ اپ نےکہا کہ ” اردو دے نال اپنی مادری زبان پنجابی وچ گال کرن دا سواد ای کچھ اور اے” گورنر صاحب نے ساری تقریر فی البدیہہ اور کھلے ڈھلے انداز اور خیالات کی روانی جوش و جذبے کے ساتھ کی۔ یہ فرق ہوتا ہے غلامی کی زبان میں اور اپنی زبان میں بات کرنے کا۔ غلامی کی زبان میں انسان صرف محدود الفاظ کے ساتھ بےتاثرچہرے سے کٹھ پتلی کی مانند بات کرتا ہے۔ حاضرین نے گورنر کے اردو خطاب کو بے حد سراہا۔کنور دلشاد بیورو کریٹ ہیں۔ پہلے وہ اپنا پیغام ہمیشہ انگریزی میں لکھتے تھے ۔لیکن یہ بات انتہائی لائق تحسین ہے کہ اس تقریب کا دعوت نامہ انہوں نے اردو میں بھیجا۔انہوں نے ہمیں مذید بتایا کہ ایک پروگرام ہورہا ہے جس میں تمام مقررین انگریزی میں خطاب کریں گے "میں نے ان سے پیشگی ہی معذرت کرلی ہے کہ میں تقریب میں اردو ہی میں خطاب کرونگا” ہم بھی محترم کنور دلشاد صاحب کو ان کے اس احساس خودی سے بھرپور اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور ہم تہہ دل سے ان کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ان کی بدولت ہمیں گورنر کو اپنانفاذ اردو مشن پیغام دینے کا موقع ملا۔

  • ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔

    حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

    اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔

    پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔

    ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟

    بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟

    دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے

    بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟

    آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
    آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • گمنام۔ تحریر : غازیا

    گمنام۔ تحریر : غازیا

    مہتاب ہو ، آفتاب ہو ، آسمان بھی ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    گمنام ہو چھپے ہوے سے مانند راز ہو تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    وہ لوگ آسمان کی مانند ہوتے ہیں، بجلیاں جن کا سینہ چیر کر ان میں سے گزر جاتی ہیں ، ان کے وجود سے جڑے تارے ٹوٹ ٹوٹ کر دشمن کو بجتے ھی رہتے ہیں ، دھرتی ماں کو سیراب کرنے کے لئے انکے آنسو ہوتے ہیں لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    کبھی کسی نے آسمان میں نمی دیکھی ؟؟؟
    ستارے ٹوٹنے سے کبھی آسمان کی خوبصورتی میں کمی ہوئی ؟؟؟
    کیا بجلی کی کوئی کڑک آسمان میں دراڑ ڈال سکی ؟؟؟ نہیں نہ تو پھر کیسے کوئی انکی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ؟؟؟
    کیسے کوئی انکا درد جان سکتا ہے ؟؟؟
    کیسے کوئی ان تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟؟؟
    شائد نہیں یقیناً کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا ۔
    مگر کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے وہ آفتاب کی مانند ہوتے ہیں جن کی طرف کبھی کوئی دیکھ ھی نہیں سکتا اس کوشش سے ھی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ، کسی میں طاقت ہوتی ھی نہیں کہ سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی ان کو دیکھ پائیں ۔
    اگر کبھی وہ مدھم ہوں بھی تو اپنے ارد گرد بادلوں کا ہجوم بنا لیتے ہیں ٹھنڈی ہوائیں چھوڑ دیتے ہیں تب دشمن موسم کی اس دلفریبی میں کھو جاتے ہیں اور وہ اپنا مشن مکمل کر کے دوبارہ اسی جلال میں آ جاتے ہیں اسی طرح وہ چپ چاپ اپنی زندگی کا مقصد پورا کرتے رہتے ہیں اور جب ان میں سے کسی بھی آفتاب کی زندگی کی شام ہوتی ہے نہ _ تب بھی وہ غروب کہاں ہوتے ہیں مہتاب میں ڈھل جاتے ہیں پھر ساری دنیا دیکھتی ہے انکو۔
    پھر احساس ہوتا ہے کہ ان میں کتنی رعنائی تھی ، وہ کتنے دلکش تھے ، ان کا وجود کتنی ٹھنڈک کا باعث تھا ۔
    پھر راز کھلتے ہیں کہ انکا زہر ، انکا قہر انکی سختیاں صرف دشمن کے لئے تھیں پھر یہ پتہ چلتا کہ وہ انسانوں کے روپ میں ایسے فرشتے تھے کہ ایک ایک سینکڑوں پہ بھاری ، پھر سمجھ آتی ہے کہ وہ لوگ آئی_ایس_ آئی تھے ۔