Baaghi TV

Category: متفرق

  • "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    "دو خواب۔۔۔۔اور۔۔۔۔تعبیریں۔۔۔!!!” جویریہ چوہدری

    صدیوں پہلے اللّٰہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑھاپے میں اپنے پروردگار سے دعا مانگتے ہیں۔۔۔۔:
    رَبِّ ھَب لِی مِنَ الصّٰلِحِین¤
    "میرے رب مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما۔۔۔”
    اللّٰہ تعالی نے اپنے خلیل کی دعا قبول کرتے ہوئے بردبار لڑکے کی بشارت دی۔۔۔
    مگر آزمائش کا دور ابھی باقی تھا۔۔۔بیٹا جب دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللّٰہ کے خلیل پیغمبر خواب میں دیکھتے ہیں کہ اسے ذبح کر رہے ہیں۔۔۔
    اپنے فرمانبردار اور صالح بیٹے سے مشاورت کی۔۔۔۔کیونکہ پیغمبروں کے خواب بھی وحی ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔!!!
    تو بیٹے نے نہایت عاجزی اور ثابت قدمی سے کہا:
    ابا جان!
    آپ کو جو حکم اللہ کی طرف سے ملا ہے۔۔۔۔اسے بجا لایئے۔۔۔
    کر گزریئے۔۔۔!!!!!
    ان شآ ء اللّٰہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔۔۔
    باپ اپنے لاڈلے بیٹے کو لے کر چل پڑا۔۔۔۔اور چھری تلے گردن رکھ دی۔۔۔
    جہانوں کا خالق اپنے بندے کی فرمانبرداری کے نظارے عرش پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔:
    فرشتے کے ذریعے ندا آئی۔۔۔”یقیناً تو نے خواب سچ کر دکھایا۔۔۔”
    تیرے اس بھاری عمل کی لاج اب ہم یوں رکھیں گے کہ قیامت تک تیری اس سنت کو زندہ رکھیں گے۔۔۔۔
    اور اہل ایمان قیامت تک اللّٰہ کی رضا کے لیئے تیری اس قربانی کی یاد میں اپنے جانور اللّٰہ کی راہ میں قربان کرتے رہیں گے۔۔۔
    "اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔
    ابراھیم علیہ السلام پر سلام ہو۔
    ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔
    بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔۔۔”(سورۃ الصّٰفٰت)
    اسکے ساتھ یہ سبق بھی ابراھیم علیہ السلام کی سنت کی اتباع کرنے والوں کے لیئے اہمیت رکھتا ہے کہ جب وقت آ گیا حق کے لیئے وہ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔۔۔!!!!

    بیسویں صدی کے باسیانِ ہندوستان نے بھی ایک خواب دیکھا تھا کہ اگر ان غیور و باشعور مسلمانوں کے لیئے برصغیر کے اندر الگ سے ایک نمائندہ ریاست قائم ہو جائے۔۔۔جہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق جی سکیں۔۔۔۔اپنے دین کی تعلیمات پر آذادی سے عمل کر سکیں۔۔۔
    ظاہر سی بات تھی کہ یہ انسانوں کی زبان سے نکلتی بات تھی۔۔۔جسے دیوانے کا خواب بھی کہا گیا۔۔۔۔نا قابل عمل بھی کہا گیا۔۔۔مگر سنت ابراہیمی سے پیار رکھنے والوں نے تاریخ کے انمٹ ابواب پر خونِ دل سے تحریر کر دیا کہ لا الہ الا اللہ کے وارث کسی دور میں بھی قربانیوں سے ہچکچائے نہیں ہیں۔۔۔
    امتحان بڑا سخت تھا۔۔۔
    سفر بڑا کٹھن اور راہیں بڑی دشوار گزار تھیں۔۔۔!!!!
    مال کی قربانی تھی۔۔۔۔جان کی بھی۔۔۔۔
    گھر بار کی۔۔۔تو خاندان کی بھی۔۔۔
    مگر قافلہ ہجرت چل پڑا تھا۔۔۔جانبِ منزل۔۔۔۔آبلہ پا۔۔۔سورج کی حدت اور موسم کی شدت سے بے پرواہ ہو کر۔۔۔
    ایک ہی امید کا چراغ دلوں میں جلائے۔۔۔کہ خواب سے تعبیر تک کا سفر طے ہو جائے۔۔۔
    آذاد دھرتی۔۔۔پاک وطن۔۔۔پاکستان کی مٹی کا بوسہ نصیب ہو جائے۔۔۔!!!!!!
    ردا و آنچل۔۔۔۔
    لختِ جگر۔۔۔۔
    ماؤں کی ممتا۔۔۔
    شفقتِ پدری۔۔۔۔
    کی قربانیاں دے کر یہ قافلہ ہجرت اپنے مشن میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔۔۔
    14اگست 1947ء اقوام عالم کی تاریخ کا تابناک دن جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کی ریاست”پاکستان” کے انوکھے اور پیارے نام کے ساتھ ابھری۔۔۔
    دشمن کے سینے آگ سے بھڑک اٹھے تھے مگر۔۔۔۔۔
    اللّٰہ کا وعدہ بھی برحق تھا:
    "ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔”

    اس پاک وطن کی عمارت۔۔۔۔ انسانوں کے اعضاء اور پاکیزہ لہو کے گارے سے چُنی گئی۔۔۔
    کتنی نسلوں کی قربانیوں سے ملا۔۔۔۔
    اے وطن تو ہماری وفا کا صلہ۔۔
    خواب سے تعبیر تک سفر تو کس عزم سے طے ہوا تھا۔۔۔۔شاید ہم جیسے اس کا ادراک کبھی صحیح معنوں میں نہ کر سکیں۔۔۔
    ہاں چودہ اگست تک جوش و خروش باقی رہے گا۔۔۔پھر وہی ڈگر۔۔۔؟؟؟
    لیکن سوچنا یہ ہے کہ اپنی اپنی”میں”سے ہٹ کر ہم سب مل کر اس پاک وطن کی مضبوطی اور نا قابل تسخیر دفاع میں شامل ہو جائیں۔۔۔
    اس آذادی کے تحفہ کی دل و جان سے قدر اور بقاء کے لیئے کمر بستہ ہو جائیں۔۔۔
    اس پاک وطن کے دفاع میں اپنے اپنے محاذوں پر ڈٹ جائیں۔۔۔
    اور پاکستان کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام پہنچا دیں کہ ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں عید و یومِ آذادی مناتی یہ قوم کبھی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس کے جوان بیٹے آج بھی اپنے پاکیزہ لہو سے اس کے در و دیوار کا بھر پور دفاع کر رہے ہیں۔۔۔
    جس طرح 12،13،14اگست کو ہم مالی قربانی کریں گے۔۔۔۔
    اسی طرح 14اگست کو یوم آزادی مناتے ہوئے اس عہد کا اعادہ بھی کریں گے کہ اس دیس کی حرمت ہمیں جانوں سے بڑھ کر ہے۔۔۔۔!!!
    اور لاریب اس وطن پاک کو بھی قیامت تک پائندہ و سلامت رہنا ہے۔۔۔۔۔!!!!!
    ہم اس دھرتی کے روشن مستقبل کے خواب کو کبھی بکھرنے نہیں دیں گے۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔
    آیئے!
    اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس وطن کی ترقی و استحکام کے لیئے اپنے اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لیں۔۔۔۔کہ آذادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہے۔۔۔سب سے پہلی چیز یہی”آذادی” ہے۔۔۔۔
    کیونکہ جب ہم آذاد ہوں گے تو آزادانہ اپنے تمام عملوں کو بھی بجا لا سکیں گے۔۔۔۔!!!!!
    اس کا بہترین مشاہدہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے مسلمانوں کی حالت زار سے کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔!!!
    تو سلامت وطن۔۔۔۔تا قیامت وطن۔۔۔!!!
    دل دل کی آواز۔۔۔۔ہر دل کی آواز "پاکستان زندہ باد”

  • تشکیل پاکستان اور عوام کا جذبہ ایثار ۔۔۔ ثنا صدیق

    تشکیل پاکستان اور عوام کا جذبہ ایثار ۔۔۔ ثنا صدیق

    پاکستان انتہائی کٹھن حالات میں معرض وجود میں آیا اس کا قیام انگریزوں اور ہندوں کی مرضی کے خلاف تھا بلکہ ہندو تو یہاں تک کہا کرتے تھے کہ پاکستان صرف چھہ ماہ تک ہی قائم رہ سکتا ہے کیونکہ ہندوستان کو تقسیم خاص کر ہندوں کی مرضی کے خلاف کیا گیا تھا انہیں مجبورا اس تقسیم کو ماننا پڑا تھا اس لیے انہوں نے کبھی بھی پاکستان کو دل سے تسلیم ہی نہیں کیا الٹا پاکستان کو ختم کرنے کی سازش میں مصروف ہیں
    پنڈت لال نہرو نے ایک موقع پر کہا تھا:
    "یہ تقسیم عارضی ہے ہندوستان ایک دفعہ پھر متحد ہو کر رہے گا جناح کو پاکستان لینے دو لیکن اقتصادی حربوں اور دوسرے طریقوں سے اتنی مشکلات پیدا کر دی جائیں گی کہ بااخر پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا اور دوبارہ ہندوستان میں شمولیت کی درخواست کرے گا”
    لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے، قائداعظم کی مدبرانہ قیادت سے اور پاکستان کی عوام کے جذبہ و ایثار اور اتحاد کی بدولت نہ صرف قائم ہوا بلکہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا
    انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس کی تاریخ جون 1948 تک مقرر کی گی تھی فروری 1947 کو برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ جون 1948 کو برصغیر کو اقتدار منتقل کر دیا جائے گا اور ساتھہ یہ ابھی طے نہیں کیا گیا تھا کہ اقتدار کس کے حوالے کیا جائے گا لیکن پٹیل کے کہنے کی وجہ سے لارڈ ماونٹ بیٹن نے برطانوی حکومت کو لکھہ بھیجا کہ دو ماہ کے اندر اندر انتقال اقتدار کی منظوری کا قانون پاس کرے اگر اقتدار کی منتقلی 1948 کو ہوتا تو دونوں حکومتوں کو اثاثے، فوج اور دیگر سازوسامان کی تقسیم کا وقت مل جاتا مگر دو ماہ کے قلیل عرصے میں پاکستان کی تقسیم سے پیدا ہونے والے مسائل کا اندازہ لگانا نہ صرف مشکل تھا اس کو سلجھانا بھی ناممکن تھا اس کے پیچھے وہ سازش تھی جو کانگریس کی پاکستان کو ناکام کرنے کی تھی ہندوں کی یہ سازش تھی اگر انتقال اقتدار میں طویل وقت مل گیا تو مسلم لیگ اس کے لے کئی انتظامات کر لے گی لیکن افراتفری کی صورت میں اقتدار منتقل ہو جائے تو مسلمان اس کو سنبھال نہیں سکے گے اسی سارش کے تحت انگریز اور ہندوں کے گٹھہ جوڑ سے قانون آزادی ہند 1947 کو پاس کروایا گیا ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان کے لیے بہت سے مسائل تھے کچھہ مسائل تو ایک نئی ریاست کو لازما پیش اتے ہیں لیکن زیادہ تر مسائل ہندوں کے پیدا کردہ تھے بھارت کے لیڈروں نے یہ مسائل اس لیے پیدا کیے تھے کہ پاکستان اپنے پاوں پر کھڑا نہ ہو سکے لیکن پاکستان کی عوام کا بے دریغ قربانیاں اور جذبہ ایثار نے دنیا کو دکھایا کہ یہ پاکستان ختم ہونے کے لیے نہیں بلکہ ہمشہ قائم رہنے کے لیے تشکیل پایا گیا ہے
    پاکستان کی عوام نے قائداعظم کی قیادت کے علاوہ مسلمانوں کی بے پناہ جذبہ اخوت اور ایثار کی وجہ سے قائم ہوا وہ اپنا علحدہ وطن اور اسلامی ریاست کے حصول کے لیے اپنا سب کچھہ قربان کرنے کے لیے تیار ہو گے قیام پاکستان کے بعد سب سے سنگین مسئلہ مہاجرین کا تھا اگرچہ پاکستان تو بن گیا تھا لیکن اتش زنی اور خنجر زنی کے واقعات بڑی تعداد میں رونما ہو رہے تھے سب سے زیادہ تکلیف دو صورتحال مہاجرین کی تھی کیونکہ ہندوں نے ٹھان لیا تھا کہ کوئی مسلمان زندہ بچ کر نہ جائے اگر مسلمان زندہ بچ بھی جائے تو زخمی اور برباد کر دیا جائے ہندوں اس قدر اشتعال تھے کہ زیادہ تکلیف دہ صورتحال مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی تھی جن کے پاس لباس کے سوا کچھہ نہ تھا پاکستان کی عوام نے اپنے ان بے یارومددگار اور بے خانماں بھائیوں کو جس فراخ دلی اور جذبہ اخوت سے دل کے ساتھہ لگایا وہ ہماری اعلی تاریخی روایات کا ایک حصہ ہے اقتصادی میدان میں اور دوسرے شعبوں یہاں ماہرین کی کمی تھی اس کو جس محنت اور دل لگی سے پورا کیا گیا وہ ہماری قومی خلوض دیانت اور محنت کی عمدہ مثالیں ہیں پاکستانی قوم انتہائی کٹھن حالات میں بھی احساس محرومی اور کمتری کا شکار نہیں ہوئی بلکہ قومی جذبہ سے سرشار تعمیر وطن کے لیے تیار ہو گئی انتظامیہ کے سامان کی قلت کے پیش نظر خیموں اور فوجی بارکوں میں بیٹھہ کر محنت سے دن رات کام کیا گیا ڈاکٹروں نے آلات کی عدم موجودگی کے باوجود زخمی مہاجرین کا خلوص دل سے علاج کیا غرضیکہ کہ ہر شعبہ ذندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے ثابت کیا کہ قوموں کی بقاء کے لیے وسائل کی کمی نہیں بلکہ محنت دل لگی خلوص ایثار و قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح پاکستانی عوام نے چند مہنوں میں دنیا کو خاص کر ہندوؤں کو دکھا دیا کہ پاکستان ہمشہ رہنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

  • اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

    اک قرض…. جو ابھی چکانا باقی ہے… ڈاکٹر ماریہ نقاش

    لمحوں کی قید سے آزاد ہو کر پل بیتتے رہے….لمحوں اور پلوں کے تانا بانا بنتے بنتے …گھنٹوں, ہفتوں اور مہینوں کے گزرنے کا پتا ہی نہ چل سکا….اور ماہ و سال کی پت جھڑ اور شب و روز کی قید سے آزاد ہو کر اک بار پھر اگست کا مہینہ آن نازل ہوا….
    وہی آزادی کا مہینہ جسے باقی عام مہینوں پر اس لیے بھی برتری حاصل ہے کہ اس مہینے میں ملک آزاد ہوا تھا ….آج آزادی کے اکہترویں سال جب قلم ہاتھ میں لیے میں لکھنے بیٹھی تو بڑے بوڑھوں سے سنے آزادی اور قربانی کے کئ قصے ذہن کی سکرین پر اک تسلسل کے ساتھ گردش کرنے لگے…
    کہیں لڑکیوں کو عصمت بچانے کیلیے بھاگتے ہوۓ دیکھ رہی ہوں …..
    کہیں عزت لٹنے کے خوف سے کنویں میں کودتی لڑکیاں دکھائ دے رہی ہیں…
    کہیں ماں کی چیخوں کے درمیان بچے کو برچھے میں پروتا ہوا منظر آنکھوں کو دھندھلا کر رہا ہے…
    کہیں باپ کی کٹتی ٹانگیں دل کو افسردہ کر گئیں….
    کہیں بھائی کے چیختے وجود سے گردن الگ ہوتے دیکھ کر وجود لرز سا گیا….
    اور کہیں بیٹا بازو کٹوا کر بوڑھے باپ کی ڈھال بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ دکھا تو روح لرز گئ…
    گھبرا کر ان مناظر کو نظروں سے دل و دماغ سے اوجھل کرنا چاہا نکالنا چاہا ….
    تو….. یہ کیا….؟؟؟
    میں ناکام کیوں ہو گئی..؟؟؟
    یہ اذیت اور درد بھرے مناظر میری سوچ و فکر کی قید سے آزاد کیوں نہیں ہو رہے؟؟؟
    کیوں مجھے اس آزادی کے پر کیف نشے اور خوبصورت آزاد فضاؤں میں اکیلا نہیں چھوڑ رہے؟؟؟
    ذہنی قید سے آزاد ہو کر ان آزاد فضاؤں کا مزہ کیوں نہیں لوٹ پا رہی….؟؟؟
    یہ اک آزاد ملک ہے جسکی آزاد باشندی ہوں میں….میری اک اک سانس آزاد ہے…پھر کیوں یہ خطرناک مناظر مجھے اپنی قید سے آزاد نہیں کر رہے…؟؟؟
    کوئ گھنٹہ بھر ان سوچوں سے لڑنے کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچی…آئیے قارئین کرام….!!!
    آپ بھی سنتے چلیے….
    کیا معلوم
    کبھی نہ کبھی…
    کہیں نہ کہیں….
    کسی بھیڑ میں یا تنہائی میں…
    کبھی دکھ میں یا درد میں…
    کبھی جلوت میں یا خلوت میں…
    کبھی خوشی میں یا غم میں….
    کسی سوچ میں یا فکر میں…
    آپ بھی کبھی اس کیفیت کا شکار ہوۓ ہوں….
    تو ناظرین کرام….!!!
    یہ آزادی اک ایسی حقیقت ہے جسے آپ کبھی بھی محسوس کریں تو کچھ افسردہ یادیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں….
    آزادی کو تصور کرتے ہی وہ قربانیاں آپکی بے قراری اور بے چینی کی وجہ بن جائیں گی….
    جیسے دھوپ اور چھاؤں کاساتھ ہے….
    دریا اور کنارے کا سنگم ہے….
    سمندر اور ساحل دونوں اک دوسرے کا لازمی جزو ہیں….
    بادل اور بارش…..
    آندھی او طوفان…
    کا ساتھ ہے….بالکل اسی طرح آزادی اور قربانی کا ساتھ بھی ازل سے ہے…
    آج ہم آزاد ملک کے باشندے ہیں….آزادی حاصل کر کے بے فکر ہیں….بے فکری کی نیند سوتے جاگتے ہیں….
    مگر یاد رکھیے ہم سب پر اس آزاد سر زمین کا اک قرض ہے…جو ہم سب کو اپنی اپنی حیثیت میں رہتے ہوۓ اتارنا ہے…
    یاد رکھیے…!!
    کوئی بھی کیفیت مستقل نہیں ہوتی….
    کوئی بھی عروج ہمیشگی حاصل نہیں کر سکتا …
    کوئی ذی روح ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا….
    اسی طرح آزادی ہمیشہ قائم رہنے والی چیز کا نام نہیں….
    اسے قائم رکھنا ہے…
    میں نے…
    آپ نے….
    ہم سب نے ملکر…
    جب تک اس ملک کے سبھی لوگ اپنے اپنے حصے کا کردار ادا نہیں کریں گے….اس ملک کی درو دیوار دائم و قائم اور سلامت رکھنے میں آرمی کا ساتھ نہیں دیں گے…تو یاد رکھیے دنیا کی ابتدا ہی اسی شرط پر ہوئ تھی….( کہ اک دن ہر چیز کو زوال ہے )سواۓ رب تعالی کے….
    ارے وہاں تو ماں, بیٹی, باپ, بھائی سب کٹے تھے…مرے تھے….
    ہمیں تو یہاں صرف ملک کی سرحدوں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے…
    چاہے وہ فنڈز کی صورت میں ہو…
    یا آرمی کے روپ میں جوان بیٹے کی شکل میں ہو…
    چاہے نیک خواہشات اور تمناؤں کی شکل میں ہو ….
    یا چھوٹی موٹی کوششوں کی شکل میں….
    یا…..
    اک فکر و خیال اور جذبات کو ابھارتی ہوئ تحریر کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو….
    قارئین….!!!
    میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہوں… یہ اپنی سوچ میں.,,, قلم اور کاغذ کے ذریعئے آپ تک پہنچا رہی ہوں….اب آپکی باری ہے….چاہے پڑھ کر نظر انداز کریں…
    یا
    عمل کریں….
    اور وطن سے محبت کا ثبوت دیتے ہوۓ دوسروں سے بھی عمل کروائیں….اور ملک دوست بن جائیں…..
    کیونکہ…..!!!
    آزادی اک قرض ہے…جسے ہم سب نے ملکر چکانا ہے….

  • ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے…

    لیکن جب معاہدے کیے ہوں تو معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے

    اور دشمن کو بھی یہ موقع دینا ضروری ہے کہ وہ اپنا چہرہ بے نقاب کر سکے کہ وہ کسی معاہدے کو ماننے اور سننے والا نہیں

    جب دشمن کا چہرہ مکمل طور پر دنیا کے سامنے آ جائے گا تو ہم وہ کرنے کا حق رکھتے ہوں گے جو نہ کرنے پر آج احتجاجی آوازیں آٹھ رہی ہیں

    اور اگر ہم نے وہ سب پہلے کر لیا… تو نہ تو دشمن کا اتنا نقصان ہو گا اور نہ ہی ہمیں کوئی فائدہ ملے گا.

    قوموں کے درمیان رہنا ہے تو بین الاقوامی قوانین کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے. اپنا آپ بچانا پڑتا ہے… دشمن کو سامنے لانا پڑتا ہے ورنہ اچھی بھلی جیتی جنگ کے ہارنے کا خدشہ رہتا ہے.

    جن لوگوں نے کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خموش کروایا ہے…وہ اس خاموشی کے نقصانات بھی جانتے ہیں اور اب وادی نیلم سے سیالکوٹ تک کے بارڈر پر ان کے فوجی جذبہ شہادت سے سرشار کھڑے ہیں.
    جہاں جہاں وہ مناسب سمجھ رہے ہیں جواب بھی دے رہے ہیں.

    بیشک پاک فوج کی خاموشی وحشت ناک ہے لیکن وقت اور جگہ کا تعین بھی تو پاک فوج ہمیشہ سے خود ہی کرتی آئی ہے اس لیے گزارش ہے کہ میڈیا کی خاموشی کو عسکری محاذ پر خاموشی نہ سمجھا جائے. بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور 26 فروری جیسے کسی سرپرائز کا انتظار کیا جائے.

  • ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ہم ایک بار پھر یوم آزادی منانے جا رہے ہیں،یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں تحریک آزادی میں شامل ہمارے قومی رہنماؤں اوراسلاف کی قربانیوں کے نتیجے میں برطانوی سامراج سے آزاد ہوکر دنیا میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا دوسرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یوم آزادی ہر سال کیطرح 14اگست کو سرکاری و قومی سطح پر شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔مسلم لیگ نے برصغیر کو قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ نواب بہادر یار جنگ‘ خواجہ ناظم الدین‘ شیر بنگال‘ مولوی فضل الحق اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنما دئیے جن کی محنت اورجہد مسلسل کے نتیجہ میں آج ہم ایک آزاد وطن میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ آج یوم آزادی کی اہمیت‘ اسلاف کی قربانیوں اور ان کے پیغام کو بھر پور اندازمیں اجاگر کرنے اور ہرمکتبہ ہائے فکر خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے،
    ہمیں اس وطن کی ترقی و دفاع کیلئے ہر وقت کام کرنا چاہئیے، اپنے محافظوں کی عزت کریں، انکے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں، اپنے اپنے شعبہ سے انصاف کریں،
    ہم سب کو چاہئیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھرپور شکر ادا کریں، اور رب العزت کا شکریہ ادا کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ ہم شکرانے کے نوافل ادا کریں اور اپنے سر کو اللہ کے سامنے جھکا دیں،
    ناکہ ہم اس مہینے میں اپنوں کی قربانیوں، شہادتوں کا مذاق بننے کا سبب بنیں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز نکال کر منہ پر پینٹ کر کے آوارہ گردی کریں اور بلا وجہ کے تماشے کر کے اھل وطن کو تنگ کریں۔

  • مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    نئی حکومت کے آتے ہی تجاوزات آپریشن کی آڑ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیات سے قبضے واگزار کرانے کے لیے اور اپنی دلی تسکین کے لیے پورے ملک میں تباہی مچا دی گئی مگر اس کا حاصل کیا ہوا کیا ان واگزار کروائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین سے کوئی فائدہ مل رہا ہے جبکہ اس کو قانونی طریقے سے بولی کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے لیز پر دے کر اچھی خاصی انکم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ دوسری طرف وہ بے روزگار طبقہ بھی کام میں لگ سکتا تھا جو آج اسی تجاوزات اور واگزار آپریشن میں عام مزدور طبقہ ملازم طبقہ متاثر ہوا ہے۔

    لیکن اس آپریشن سے الٹا لوگ بے روزگار کاروبار تباہ املاک تباہ زمینیں واگزار مگر فائدہ کچھ نا ہوا ہے البتہ کرائم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک میں لوگ پھر یا تو مانگ کر کھائیں گے یا چھین کر اور روز روز بھی کون مانگنے پر دیتا ہے۔۔

    اگر وہی سرکاری املاک یا زمینوں یا پتھاروں پر سال چھے ماہ کے لیے ٹیکس لگا دیا جاتا تو اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جاسکتا تھا اور ایک سال یا چھے ماہ کا نوٹس دے کر ختم بھی کیا کرایا جاسکتاتھا جس سے نقصان بھی نا ہوتا اور لوگ اپنا کوئی متبادل بھی بنا لیتے یا شفٹ کرلیتے اپنے کاروبار دکانیں وغیرہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ملکی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو پہلے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ لاگو کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں تو قانون اتنے بنا دیے کہ اب اگر لاگو ہوجائیں تو بندہ ایک دن بھی جی نہیں سکتا کسی نا کسی قانون میں دھر لیا جائے گا اور جو قانون بنتا ہے دوسرے دن لاگو اور عمل درآمد شروع جس سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں

    جبکہ دوسری طرف عوام کو این ٹی این کے چکر میں ڈال کر ذلیل و خوار کر دیا گیا۔ آج نیب اور ایف بی آر کے خوف سے پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا اور آج کی ایک اور بری خبر بھی آگئی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے

    حکومت نے عوام پر آج یکم اگست 2019 کو ایک اور بم بھی گرادیا ہے۔‏وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری منظور کر لی ‏اوگرا کی سفارشات پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ ‏پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ ‏پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 132.47 روپے۔ مقرر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

    آج اپوزیشن کی کی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے مہنگائی کرنے کی ڈیل کی خبریں بھی سچ ہونے لگیں ہیں جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے ہر آنےوالا دن متوسط اور غریب لوگوں پر بم بن کر گر رہا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے

    لوگ ویسے تو ہر دور میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ جو چیز پاکستان میں ان کو 100 روپے کی ملتی ہے وہی چیز دوبئی میں 500 روپے کی بڑی خوشی کے ساتھ خریدتے نظر آتے ہیں تو اس مہنگائی کا رونا رونے کی اصل وجہ لوگوں کو آج تک شائد سمجھ نہیں آسکی ہے۔ اصل میں مہنگائی کا رونا انسان اس وقت روتا ہے جب اس کے پاس آمدن ۔ انکم ۔ آمدنی ۔ کاروبار ۔ روزگار ۔ ذرائع آمدن نہیں ہوتے اور ضروری خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تو وہ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں اگر ہر انسان کی بنیادی ضروریات اور خرچے بھی پورے نا ہوں تو وہ بے چارے پریشانی کے عالم میں بس مہنگائی مہنگائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل بات کی ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔
    یہی صورتحال آجکل کچھ پاکستان اور اس کی عوام کی ہے جو آپ کو بھٹو دور میں بھی شائد اگر کچھ یاد کرنے پر مہنگائی کا رونا روتی نظر آئی ہوگی تو کبھی بے نظیر بھٹو تو کبھی نوازشریف تو کبھی آصف زرداری تو کبھی عمران خان کے دور میں بھی مہنگائی مہنگائی کا رونا روتی نظر آتی ہے

    ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت پاکستان ایسے حالات اور پالیسیاں مرتب کرے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہو لوگ اپنے اپنے کاموں روزگار کاروبار میں مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوں

    یہ محاظ آرائی کی موجودہ پالیسیاں عمران خان اور حکومت کا طریقہ عوام میں اور ملک پاکستان میں افراتفری پریشانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو کوئی پرواہ نہیں ہے کسی بھی کرپٹ یا کسی بھی دہشت گرد کوچاہے کسی کو بھی پھانسی لگا دیں مگر خدارا عوام کو اس پریشانی کے عالم سے نکالیے اب آپ کی لچھے دار تقریریں بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اب صرف یہی بات بار بار کر کر کے آپ اچھے نہیں بن سکتے کہ فلاں برا تھا فلاں غلط تھا کچھ کر کے آپ کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے جو تاحال عملی طور پر کچھ نا ہوسکا ہے البتہ باتیں بہت بڑی بڑی ضرور ہیں کیونکہ عمران خان صاحب اب تک آپ نے پاکستانی عوام کو کچھ نا دیا ہے البتہ چھینا ضرور ہے اور آپ کے اداروں میں بھی عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ان کے کام میرٹ انصاف اور وقت ضائع کیے بغیر نہیں ہو رہے ہیں آج بھی وہی تھانہ کلچر وہی افسر شاہی کلچر وہی کرپشن کلچر وہی لوڈ شیڈنگ وہی سرکاری اداروں میں زلالت اور خواری ہے آج بھی تھانے میں ایم پی اے ایم این اے کی مرضی کے بغیر پولیس والے ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں یا پھر قائد اعظم کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ بس صرف رپورٹیں سب اوکے اوکے اوکے کی ضرور کی جا رہی ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام آج جتنی مشکلات پریشانیوں کا شکار ہے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد اتنی نا تھی یا شائد ہم نہیں جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی 40 سالا زندگی میں اتنے پریشان لوگ نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔

    *امید رکھتے ہیں حکومت و حکمرانوں کی آئندہ پالیسیوں کا محور عام آدمی ہوگا اور اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے زبانی سے زیادہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا

  • کیا انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے؟؟؟فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    کیا انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے؟؟؟فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    عموماً سننے میں آتا ہے کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے۔ اس لیے اس کو سیکھنے کا التزام بڑے تزک و احتشام سے کیا جاتا ہے۔ اور اس کو سیکھنے کے بعد اس پر اترایا بھی جاتا ہے۔ آئیے جائزہ لیا جائے کہ کیا انگر یزی واقعی ایک
    بین الاقوامی زبا ن ہے؟
    پاکستان کی غلام اشرفیہ انگریزی
    کی بین الاقوامیت کا پراپیگنڈہ کر کے اسکے تسلط کاجواز پیدا کرتی ھےجبکہ حقیقت یہ ھےکہ انگلش صرف امریکہ برطانیہ آسٹریلیااورنیوزی لینڈ کی زبان ہے۔ کینیڈا کے آدھے حصےمیں ںولی جاتی ھے یورپ میں برطانیہ کےعلاوہ کہیں نہیں بولی جاتی. حتی کہ یورپی یونین کی کرنسی، جھنڈا اور پارلیمنٹ ایک مگر کیا اس کی زبان بھی ایک ھو یہ آج تک کسی نےنہیں سوچا!
    انگلش کی محدودیت کا اس سےبڑا ثبوت اور کیا ھو گا؟ا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا انگریزی کی بین الاقوامیت صرف پاکستان تک ہی محدود ہے دنیا کہ کسی اور ملک نے بھی اس کی بین الاقوامیت کا پرچار اپنے اوپر بھی ایسے ہی مسلط کیا ہے جیسے یہ پاکستان میں ” تھوپی” گئی ہے؟
    سوچیے گا ضرور ………!

  • تم کو اللہ پوچھے گا ۔۔۔ فرحان شبیر

    تم کو اللہ پوچھے گا ۔۔۔ فرحان شبیر

    میں جس فلیٹ یا اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہوں ( کرائے پر ) اسکی قیمت کوئی ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے ۔ مجھے یہ فلیٹ پسند بھی ہے اور خواہش ہے ایسا ہی کبھی پیسے ہوئے تو خرید بھی لوں ۔ میں ہی کیا ہم سب میں کتنے ہی لوگ ہیں جو ایسے ہی ایک اچھے مکان یا فیلٹ کا خواب دیکھتے ہیں ۔ آخر کو انسان کے پاس ایک اپنا گھر تو ہو کہ کل کلاں کو کچھ ہوگیا تو فیملی کرائے کے مکانوں میں دھکے نہ کھاتی پھرے روز روز مالک مکان سے جھک جھک نہ ہو۔ کیوں کے کرائے پر اچھے مکان کے ملنے سے بھی زیادہ اچھا مالک مکان کا ملنا ایک بڑی نعمت ہے ۔

    پاکستان کی پینتالیس فیصد آبادی تو ایک سو پچیس فیصد روز پر زندگی گزار رہی ہے یعنی کہ ساڑھے بیس کروڑ میں سے آٹھ کروڑ لوگ تو سیدھے سیدھے کسی اچھے مکان کے خریدنے کی دوڑ سے ہی باہر نکل جاتے ہیں اور باقی کے چار چھ کروڑ بھی بس ابا یا دادا کے اچھے وقتوں کی زمینوں کو بیچ کر یا آبائی گھروں میں ہی پورشن بنا بنا کر اپنے لئیے چھوٹے چھوٹے آشیانے بنا رہے ہیں ۔ سالوں گھر کو رنگ روغن اور مرمت کرانے کے پیسے ہی نہیں نکل پاتے ۔ پچیس تیس ہزار کا کام آجائے تو بھائی بھائی میں جھگڑا ہوجاتا ہے کہ کون کام کرائے گا اور کون اس ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ لے گا ۔ میں نے بجلی کے بلوں کے پیسے تقسیم ہوتے وقت پنکھوں اور اے سی تک کے کم زیادہ استعمال پر بحث مباحثہ ہوتے دیکھا یے ۔ افسوس تو یہ کہ ایک طرف تو ہمارے ملک کے تیرہ چودہ کروڑ عوام سو سو دو دو سو روپے کا حساب رکھ کر چل رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب ہمارے حکمران اور ہمارے افسران اس غریب اور محروم قوم کا پیسہ اس بے دردی سے لٹاتے رہیں کہ تفصیلات سامنے آنے پر خون کھول اٹھتا ہے ۔

    اب یہی دیکھئیے کہ کپتان نے اپنے امریکہ دورے کے دوران صرف فضائی سفر کے اخراجات کی مد میں ہی گیارہ سے بارہ کروڑ روپے بچائے ہیں ۔ ظاہر ہے ہمارے دانشوڑوں کی نظر میں یہ کوئی بڑی رقم نہیں ۔ لیکن ہم جیسے مڈل کلاسیوں کے لئیے یہ بہت بڑی رقم ہے ۔ ہم میں سے کتنوں نے ہی کبھی خواب میں بھی دس بارہ کروڑ اپنے بینک اکاونٹ میں جمع ہونے کا سوچا بھی نہیں کہ ہمیشہ ہی اخراجات اور آمدنی کا مقابلہ ہی چلتا چلا آرہا ہے ۔ لاکھوں لوگوں کا اکاونٹ کبھی سکس فگرز میں جا ہی نہیں پاتا ۔ ایک ڈیڑھ کروڑ کا مکان بنانا ایک پوری زندگی کھا جاتا ہے وہ بھی کتنی ہی خواہشوں اور کتنی ہی حسرتوں کا گلہ گھونٹ کر اور کتنی ہی جگہ اپنی عزت نفس خود داری اور عزت و احترام کو گروی رکھ کر ۔

    اب جب ہم جیسے ٹٹ پونجئیے یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران جب امریکہ جاتے تھے تو انکے لئیے پورے کا پورا long-range, wide-body , twin-engine, 300-seater jet airliner Boing-777 فکس کر دیا جاتا تھا تو خون کھول اٹھتا ہے کہ اس طرح سے تو کوئی دشمن کے پیسے کو بھی نہیں خرچ کرتا کہ حضور اب PIA کا یہ پورا بوئنگ 777 آپکے ڈسپوزل پر اور اسکے ساتھ ایک جہاز اسٹینڈ بائی پر تاکہ اس کو کچھ جائے تو دوسرا جہاز سرکار کے لئیے فوری تیار ہو ۔ یعنی مرے کو مارے شاہ مدار ۔ مرتی ہوئی PIA کے دو جہازوں کے نکالنے سے پی آئی اے کا سارا ٹائم ٹیبل درہم برہم ہوتا ہو تو ہوجائے حکمرانوں کی نقشہ بازیوں اور شاہ خرچیوں پر کمی نہ ہو ۔ پھر جہاز میں سے سیٹیں نکال کر کر بیڈ روم ، پریس روم، اور دیگر لاونجز بنانے کی رنگ بازیاں الگ جیسے چین جاپان جیسے امیر ملکوں کے حکمران ہوں ۔

    پھر یہی نہیں کہ صرف جہاز کا خرچہ ہی ایک چونچلا ہوتا یہاں تو پی آئی اے کے لئیے ہمارے مغل شہنشاہوں کے لئیے انکی پسند کے کھانے اور ناشتے بنانا بھی ایک درد سر ہوا کرتا تھا کہ نجانے کب سرکار کا دل لسی کے لئیے مچل جائے یا کب بھنڈی کی فرمائش آجائے ۔ پتہ نہیں یہ لوگ پاکستان کے مسائل کا حل ڈھونڈنے جاتے تھے یا پکنک منانے جو پکوانوں سے لیکر سونے جاگنے کے آرام کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا ۔ اس پر بھی دل مان جاتا اگر ان دوروں کا کوئی فائدہ بھی ہوتا مگر یہاں تو غیر ملکی حکمرانوں کے سامنے فدویانہ انداز میں گردنیں جھکانے ، پرچیاں ہاتھ میں تھامنے اور دنیا بھر سے الزامات کی پوٹلی اٹھا کر واپس آنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تھا ۔

    ظاہر ہے اس حال میں دنیا کا کونسا ملک آپکو سیریس لے گا جارہے ہیں دنیا کو پاکستان کی مالی مشکلات سے نکالنے میں مدد لینے اور انویسٹمینٹ لانے اور حال یہ ہو مرسیڈیز اور کیڈیلک گاڑیوں کے قافلوں کے قافلے جھرمٹ میں ہوں ۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں پوری پوری بارات لیکر ٹہر رہے ہوں اور دنیا سے کہہ رہے ہوں کہ پیچھے گھر میں بچوں کو پڑھانے کے لئیے اور گھر چلانے کے لئیے پیسے نہیں ہیں ۔ ملک اور قوم قرضوں کے انبار میں دب رہی ہو اور حکمران چالیس پینتالیس لاکھ فی گھنٹہ کے حساب سے بوئنگ 777 سے آنا اور جانا کریں اور یوں ان حکمرانوں کے آنے اور جانے کے 28 گھنٹوں کی مسافت کی قیمت قوم کو گیارہ سے بارہ کروڑ میں پڑے ۔ کسی کی پوری عمر گذر جاتی ہے ایک کروڑ نہیں کماتا اور کسی کے چند گھنٹوں کے سفر کا خرچہ ہمارے جیسے کئی مڈل کلاسیوں کی پوری زندگی کی کمائی سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے ۔

    حالانکہ ہیڈز آف اسٹیٹ کے دوروں لئیے چھوٹے طیارے رکھے گئے ہیں پی آئی اے کے فلیٹ میں 2 عدد us-made,12-seater Gulfstrean Jet موجود ہیں جنہیں سربراہان مملکت کے لئیے ہی رکھا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے حکمرانوں کا اپنے پورے خاندانوں سے لیکر مالشیوں تک کو پورے پورے بوئنگ بھر بھر کر یورپ اور امریکہ جانا اور بدھوں کی طرح لوٹ کر آنا غصہ دلا دیتا ہے ۔ اور یہ سوچ کر مزید غصہ آتا ہے سابقہ حکمرانوں کے ساتھ جہاز غول در غول جانے والے صحافیوں کو بھی یہ توفیق نہیں ہوسکی کہ میاں صاحب سے کبھی پوچھ ہی لیتے یہ قوم کے پیسوں سے نانا جی فاتحہ کیوں پڑھائی جارہی ہے ۔ ہم تو اتنا ہی کہتے ہیں کہ دنیا کو جتنا بھی چکر دے دو جب اوپر جاوگے تو تم کو تو اللہ پوچھے گا ۔

  • نیلسن منڈیلا، حقوق انسانی اور کشمیر

    نیلسن منڈیلا، حقوق انسانی اور کشمیر

    نیلسن روہیلا منڈیلا، (پیدائش: 18 جولائی 1918ءترانسکی، جنوبی افریقا) جنوبی افریقا کے سابق اور پہلے جمہوری منتخب صدر ہیں جو 99-1994 تک منتخب رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقامیں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان کو مختلف جرائم جیسے توڑ پھوڑ، سول نافرمانی، نقض امن اور دوسرے جرائم کی پاداش میں قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔ 11 فروری 1990ء کو جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے پر تشدد تحریک کو خیر باد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔
    نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پزیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو “ماڈیبا“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندانکے لیے اعزازی خطاب ہے۔ 
    جیل کا وہ کمرہ جہاں نیلسن منڈیلا 27 سال قید رہے آج نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ اور تمام دنیا میں ایک تحریک کا نام ہے جو اپنے طور پر بہتری کی آواز اٹھانے میں مشہور ہے۔ نیلسن منڈیلا کو ان کی چار دہائیوں پر مشتمل تحریک و خدمات کی بنیاد پر 250 سے زائد انعامات سے نوازا گیا جن میں سب سے قابلذکر 1993ءکا نوبل انعام برائے امن ہے۔ نومبر 2009ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 18 جولائی (نیلسن منڈیلا کا تاریخ پیدائش) کو نیلسن منڈیلا کی دنیا میں امن و آزادی کے پرچار کے صلے میں “یوم منڈیلا“ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔نیلسن منڈیلا کی خدمات میں سے ایک اہم ترین کام آزادی کا حصول ہے ۔نیلسن منڈیلا نسلی امتیاز سے پاک تھے اور انہوں نے اسی آواز کو بلند کرنے کے جرم میں 27 سال جیل کے کمرے میں گزارے۔جس طرح نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں آزادی، نسلی تعصب سے پاک اور برابری کی آواز بلند کی ۔اسی طرح اگر دیکھا جائے تو مسلمان کشمیر کے ہو تو ان پر بھارت اپنی طاقت کی وجہ سے مسلط ہے۔ماوں کی عزتیں لوٹ رہا ہے۔معصوم بچوں کی بینائی چھین رہا ہے ۔مسلمانوں کو وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہی ہے۔جیسا کہ 22 نوجوان ایک اذان کو مکمل کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں نے شہید کر دئیے۔اسی طرح کشمیر جو کہ گلشن تھا اس میں اپنی کم و بیش 8 لاکھ آرمی داخل کر کے اسے فوجی چھاونی میں بدل دیا۔اگر کوئی پرامن احتجاج کرے تو ان پر شیلنگ کی جاتی ہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کدھر گئی ۔جیسا کہ نیلسن منڈیلا کا ہی ایک قول ہے:-
    *I am fundamentally an optimist. Whether that comes from nature or nurture, I cannot say. Part of being optimistic is keeping one’s head pointed toward the sun, one’s feet moving forward. There were many dark moments when my faith in humanity was sorely tested, but I would not and could not give myself up to despair. That way lays defeat and death* .
    اقوام متحدہ کو چاہیے کہ کشمیر مسلمانوں کی آہیں سنے ،اس کے علاوہ فلسطین کو دیکھ لے جس پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا۔اسرائیل کے پاس طاقت ہے اسلحہ ہے ٹینک ہے اس لیے اس نے طاقت کی بنا پر فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینی عوام کا بے پناہ خون بہایا ہے۔وہ فلسطینی بچے، کشمیری بچے ،برما کی عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کوئی قدم ہی نہی اٹھاتی۔کیا یہ اقوام متحدہ کے قوانین جو ہے یہ بھارت پر ،اسرائیل پر ،امریکہ پر ،روس پر لاگو نہی ہوتے صرف و صرف مسلمانوں پر ہی ہوتے ہیں ۔
    اللہ تمام مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے

  • پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    2016 یا 2017 کی بات ہے حسب عادت دوست کے ساتھ اتوار کے روز ملاقات کی غرض سے اکھٹ ہوا ہنسی مزاح جگت بازی جاری تھی کہ نظریہ پاکستان پر بات شروع ہوئی اتنے میں ایک دوست کہنے لگا عثمان بھائی آپکا وقت درکار ہے میں نے پوچھا خیریت کہنے لگا بھائی آپ جیو نہیں دیکھتے یا جنگ اخبار کو نہیں پڑھتے میں نے نا میں جواب دیا اور وضاحت طلب کی تو معلوم ہوا جیو نیوز کی جانب سے ایک نیا فتنہ جو نظریہ و اساس پاکستان یا یوں کہا جائے کہ تعبیر پاکستان سے لے کر تعمیر پاکستان تک کے خلاصہ کو بڑے احسن انداز سے
    "پاکستان کا مطلب کیا پڑھنا لکھنا اور کیا” کی کیمپین شروع کر چکا تھا نوجوان نسل اور ابتدائی تعلیم کی شروعات کرنے والے معصوم پھول انکا نشانہ تھے کچھ حد تک وہ کامیاب ہوتا نظر آرہا تھا
    لبرل و پاکستان مخالف اس کیمپین کے حامی تو تھے ہی ہمارا اصلی دشمن بھارت بھی کیمپین کا حصہ بن رہا تھا سوشل میڈیا پر گرفت پکڑ رہا تھا خیر اسی اثناء میں سوال کیا میں کیا خدمت کر سکتا ہوں
    جواب ملا کہ نظریہ پاکستان رابطہ کونسل کے زیر اہتمام پاکستان کی گلی گلی نگرنگر نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے اور
    ” پاکستان کا مطلب کیا
    لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ” کی کیمپین شروع کی ہے آپ اس میں ساتھ دیں بس آہ بھر کر ارادہ کیا اور اس ارداہ کے ساتھ حامی بھر لی کے
    ان شاء اللہ نظریہ پاکستان کو خود بھی سمجھنا ہے اور سمجھانابھی ہے اپنے شہر کے ایک کونے سے آغاز کیا لوگوں نے بھرپور ساتھ دیا پروگرام کروانے کی حامی بھری تھکاوٹ تو بہت ہوتی مگر دل خوش تھا کہ پاکستان کے لئے نا ہونے کے برابر اس تعمیر شدہ پاکستان کی تزئین و آرائش کے لئے تھوڑا سا کام کر گیا۔
    واللہ حقیقت بات ہے پہلے پروگرام میں نے سفید داڑھی والے چند بزرگوں کے آنسو دیکھے کہنے لگے پتر جئے ٹائم ہے تے گل سن جا پھر ایک داستان سنائی

    23 مارچ 1940 کا دن بہت تاریخی تھا جب برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو و مسلم مسئلے کا حل نکالتے ہوئے تقسیم برصغیر کے ذریعہ سے الگ ملک پاکستان کا مطالبہ کیا تھا۔یہ وہ دن تھا جب جب رنگ و نسل کے سارے بت خانے توڑ کر مخالف عقائد کے سارے ماننے والے مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقائی و خاندانی ثقافتوں کے حامل تمام مسلمان ایک کلمہ توحید کی بنیاد پر پرچم پاکستان کے سائے تلے اکھٹے ہونے کا اعلان کیا۔
    اس وقت کسی جٹ نے جٹستان، کسی آرائیں نے آرائیں آباد کی بات نہیں کی تھی نا پنجاب سے پنجابستان کی آواز آئی تھی نا کسی پٹھان، سندھی یا بلوچی نے اپنے نام سے منسوب ملک کئ بات کی تھی یہاں تک کہ سنی تھا یا شعیہ وہابی تھا یا دیو بند کسی نے بھی اپنے عقائد کی ترجیح کی بات نہیں کی تھی مذہبی و سیاسی طور پر انکی صفوں میں کسی قسم کا انتشار کی لہر نہیں تھی بلکہ یہ پیغام تھا
    ” ہماری صف بھی ایک ہے کیونکہ ہم سب کا رب ایک ہے سب ایک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور انہی پر نازل کتاب قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں
    کیا تھا اس یکجہتی کی آواز سے برصغیر میں موجود دشمنوں کو ایک پیغام گیا یہ سب اتفاق کی رسی میں آ چکے ہیں اب ہماری تدبیروں کا فائدہ نہیں یہ ایک صف کی شکل میں ایک آواز بن چکے ہیں اب پاکستان کا معرض وجود لازم ہو چکا ہے

    بتاتے بتاتے اس بات پر رو پڑے پتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن ِ عزیزکی بنیادیں استوارکرنے کے لئے متحدہ مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ،گوشت گارے کی جگہ ،اورخون پانی کی جگہ استعمال ہوا ہے۔جن کی عظیم قربانیوں کے بعد 14 اگست 1947 کو وطن عزیز پاکستان کا قیام وجود عمل میں آیا۔

    میں سننے کی طاقت نہیں رکھتا تھا حالانکہ کہ ان حالات کی عینی شاہدین میں سے تھے بہرحال تب سے ارادہ کیا تھا جو نعرہ سن 47 میں لگا تھا
    *پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ*
    اس کو گلی گلی نگر نگر سمجھانا ہے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے اس نظریے کی ترویج کرنی ہے پاکستان کے لئے گمنام محافظوں کی طرح ایک مشن کے طور پر کام کرنا ہے
    اسکی تعمیر میں ہم حصہ تو نا لے سکے کم از کم تعمیر شدہ پاکستان کی حفاظت تو کر سکتیں ہیں

    دعا ہے اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو نیست و نابود کرے۔
    پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد