Baaghi TV

Category: متفرق

  • بھارت :جہاں انسان انسانوں کو قتل کرتے ہیں.وہاں  کتوں نے نومولود بچی کی جان بچالی

    بھارت :جہاں انسان انسانوں کو قتل کرتے ہیں.وہاں کتوں نے نومولود بچی کی جان بچالی

    ہریانہ: بھارت میں انسان کی انسان کو مارنے کی کوشش لیکن جانوروں نے بچالیا بھارت میں جہالت نہ گئی،بیٹی پیداہونےپرنوزائیدہ بچی کوتھیلے میں بندکرکےنالے میں پھینک دیاگیا لیکن کتوں نے تھیلے کونالے سے نکال کربچی کی جان بچالی، ویڈیوسوشل میڈیاپروائرل ہوگئی۔

    تفصیلات کے مطابق ایک خاتون نے ایک نوزائیدہ بچی کوتھیلے میں بند کرکے نالے میں بہا دیالیکن کہتے ہیں نا جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے، کتوں نے اس خاتون کی بچی کومارنے کی کوشش ناکام بنادی اوربروقت تھیلے کونالے میں سے نکال لیا۔

    تھیلے کو نالے سے نکالنے کے بعد کتوں نے شورمچا کراہل علاقہ کوبھی جمع کرلیا جنہوں نے بچی کوفورا اسپتال پہنچایا جہاں اس کی جان بچ گئی۔ سارے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیاپروائرلہوگئی جس پرلوگ خاتون کے عمل کی پرزورمذمت کررہے ہیں۔

  • 21 سال تک سفر کرنے والی پیغام رساں بوتل ، کہاں سے کہاں گئی ضرور جانیئے

    21 سال تک سفر کرنے والی پیغام رساں بوتل ، کہاں سے کہاں گئی ضرور جانیئے

    ایڈن برگ:پیغام رسانی کے لیے کیا کچھ استعمال ہوتا رہا . ایک نئی رپورٹ سے ایک ایسی چیز سامنے آئے ہے جو خود چل بھی نہیں ، دیکھ بھی نہیں سکتی.سنیئے ایک دلچسپ واقعہ جوآپ کو حیران کردے گی .اسکاٹ لینڈ یارڈ میں ساحل پر تعطیلات منانے والے خاندان کو ایک ایسی بوتل ملی جس کے اندر 21 سال قبل لکھا ہوا ایک تحریری نوٹ موجود تھا، یہ بوتل موجوں پر موج کرتے اور لہروں پر جھومتے 2 ہزار 833 میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جا پہنچی تھی۔

    حیرتوں اور اتفاقوں سے بھری دنیا میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک خاندان کے ساتھ بھی کچھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے انہیں سوشل میڈیا پر مشہور کردیا۔ خاندان کو ساحل پر ایک بوتل ملی جس پر لکھا تھا اندر پیغام ہے، پڑھیں جب اہل خانہ نے بوتل کھولی تو اس میں ایک صفحے پر لکھا ہوا تھا کہ میرا نام میٹ رہوڈز ہے اور مجھے اس کا جواب اسی پر لکھ کر سمندر میں پھینک دیں

    اسکاٹ لینڈ میڈیا کے مطابق اہل خانہ نے اس دلچسپ واقعی کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو ٹویٹر پر انہیں وہ شخص مل گیا جس نے ’پیغام رساں بوتل‘ سمندر میں پھینکی تھی تاہم حیرت انگیز واقعے کا دلچسپ ترین لمحہ اب آنے والا ہے ! پیغام رساں بوتل سمندر میں پھینکنے والے شخص نے یہ بوتل 1998 یعنی 20 سال قبل ویلز کے سمندر میں پھینکی تھی۔

  • پاکستان، مدینہ ثانی ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    پاکستان، مدینہ ثانی ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    یہ جنگ احزاب ہے….
    چاروں اطراف سے کفار و مشرکین کے لشکر آپس میں اتحاد کر کے مدینہ پر چڑھ دوڑے ہیں…
    شاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ و سلم سب کچھ سن رہے ہیں … سب کچھ دیکھ رہے ہیں …
    اللہ کے نبی ہونے کے سبب اللہ سے دعا کر کے فرشتوں کے لشکر بلوا کر سب کو کچل دینا…. یا جنگ ِبدر کے موقع پر تلواروں کے مقابلے میں ڈنڈے اور چاقو چھریاں لیکر سارے لشکروں سے ٹکرا جانا اور فتح حاصل کر لینا کچھ مشکل نہیں.
    مگر میرا نبی اپنی امت کو لڑنے کے فن اور طریقے سکھانا چاہتا ہے.

    مشورہ کیا…! سب سے پہلی ترجیح "مدینہ بچاؤ” ٹھہری.
    سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا مشورہ پسند آیا… خندق کھودنا شروع کی.
    سردی، بھوک، پیاس، بارش…. اور سخت پتھر. مگر صحابہ کرام کے ساتھ ملکر کھدائی جاری رہی اور نحن الذین بایعو محمدا کے نعرے لگتے رہے.
    اسی دوران پیٹ پر پتھر باندھے جاتے رہے اور سنگلاخ چٹانیں ٹوٹتی رہیں… یہاں تک کہ ان ٹوٹتی چٹانوں سے ابھرتی چنگاریوں نے روم و ایران کی فتوحات کی خوش خبری دی.

    زمینی دفاع کے بعد سفارتی دفاع کے لئے اللہ کے نبی نے مشرکین مکہ کے خلاف یہودیوں تک سے معاہدہ کر لیا. کہ اگر حملہ ہوا تو یہودی مسلمانوں کے ساتھ ملکر آور مسلمان یہودیوں کے ساتھ مل کر مشترکہ دشمن سے لڑائی کریں گے.

    سفارتی دفاع کے بعد اللہ کے نبی نے نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حملہ آور قبائل میں پھوٹ ڈالنے کے لئے بھیجا اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو جاسوسی کے لئے. دونوں کامیاب لوٹے. اور ان سبھی تدبیروں اور محنت کے بعد وہ اللہ کی مدد آئی کہ اللہ کے لشکر یعنی آندھی طوفان نے لشکر باطل کے خیمے الٹ دئیے، ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی….اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے. بدعہدی کرنے والے بنو قریظہ کے یہودیوں کو قتل کر دیا گیا. اور اس طریقہ سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی.

    یہ چھ ہجری ہے.
    اللہ کے نبی نے خواب دیکھا کہ بیت اللہ میں عمرہ کر رہے ہیں. صحابہ کرام کو بتایا. سفر کی تیاری ہوئی اور چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے روانہ ہو گئے. لوگوں کو اطمنان دلانے کے لیے احرام باندھ لیا گیا لیکن راستے میں پتہ چلا کہ قریش پہلے ہی ایک لشکر تیار کر چکا ہے آپ کو عمرہ سے روکنے کے لیے.

    مشورے کے بعد طے پایا کہ رکنے یا لوٹنے کی بجائے راستہ تبدیل کر کے آگے بڑھا جائے. بالآخر اللہ کے نبی حدیبیہ پہنچ گئے. حدیبیہ پہنچ کر قیام کیا. اور رات کے وقت قریش مکہ کی طرف سے بھیجے گئے ستر نوجوان جو جنگ کی آگ بھڑکانے کے لیے آے تھے، اسلامی قافلے کے پہرے دار کمانڈر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے. اللہ کے نبی نے صلح رکھنے کی خاطر اور جنگ نہ چاہنے کے لیے بغیر کسی شرط کے ان سب کو رہا کر دیا اور معاف کر کے واپس مکہ بھیج دیا.

    اگلے دن عثمان رضی اللہ عنہ کو بطور سفیر قریش کی طرف بھیجا جنہوں نے ان کو مکہ میں ہی روک لیا اور ان کی شہادت کی افواہ اڑا دی. دینی غیرت کے سبب اللہُ کے نبی نے صرف میان میں تلوار لیکر عمرہ کی نیت کر کے آنے والے چودہ سو صحابہ کرام کے ساتھ موت پر بیعت کر لی جو بیعت رضوان کہلائی. اللہ تعالیٰ ان مومنین سے اس بیعت پر خوش ہو گیا جو ایک ایسے قتل کے قصاص کے لیے کی گئی جو قتل ہوا ہی نہیں تھا.

    قریش مکہ تک بیعت کی خبر پہنچی تو انہوں نے صورتحال کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے فورا ایلچی بھیج دیا اور صلح کی گزارش کی اور سب سے پہلی شرط یہ رکھی کہ اس سال عمرہ کرنے کی بجائے مدینہ واپس لوٹ جائیں.

    ایک تو صلح کی شرائط انتہائی گھٹیا محسوس ہو رہی تھیں اور اوپر سے ایلچی کا رویہ انتہائی خباثت پر مشتمل تھا . جب اس نے کہا کہ اگر صلح نامے پر محمد رسول اللہ لکھنا ہے تو جھگڑا کس بات کا. ہمارا جھگڑا ہے ہی اسی بات کا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے. اللہ کے نبی نے حضرت علی کو کہا کہ ٹھیک ہے رسول اللہ مٹا دو اور محمد بن عبداللہ لکھ دو. مورخین و محدثین نے اتنا لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آور زبان دونوں ساکت ہو گئے لیکن کاش کوئی ان کے سینے میں اٹھتے ہوئے درد تک پہنچ سکتا کہ رسول اللہ کے حکم پر رسول اللہ لکھا ہوا مٹانا کتنا مشکل کام ہے . جب اللہ کے نبی نے یہ دیکھا تو کہنے لگے ٹھیک ہے مجھے بتاو رسول اللہ کہاں لکھا ہے؟ میں خود مٹا دیتا ہوں.
    رسول اللہ کے ہاتھوں لکھا ہوا "رسول اللہ” مٹ گیا اور معاہدہ نافذ ہو گیا. اس کائنات کا عظیم ترین سچ ایک عظیم ترین انسان کے ہاتھوں مٹا دیا گیا.

    عین اسی موقع پر مکہ مکرمہ سے بھاگ کر گرتا پڑتا ایک صحابی ابو جندل وہاں پہنچا. قریش مکہ کے ایلچی سہیل نے معاہدے کے مطابق سب سے پہلے اس کا مطالبہ کیا. اللہ کے نبی نے کہا کہ ابھی تو معاہدہ لکھا ہی نہیں ہم نے… مگر اس بدتمیز ایلچی نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو میں کوئی معاہدہ نہیں کرتا. اللہ کے نبی نے اس کی منت کرتے ہوئے کہا کہ چلو اسے میری خاطر چھوڑ دو. اس ایلچی نے کہا کہ نہیں آپ کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتا. معاہدے کے بعد ابو جندل رضی اللہ عنہ اسی ایلچی کے ساتھ واپس روانہ ہو گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ چلاتے رہے کہتے رہے… میرا ایمان خطرے میں ہے مگر اللہ کے نبی نے صبر کی نصیحت کی اور اس کے لیے آسانی کی دعا کی.

    معاہدے کے بعد اللہ کے نبی نے قربانی کے جانور زبح کرنے کا حکم دیا… لیکن دکھ اور غم کی یہ صورت حال کہ ایک صحابی بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا. اللہ کے نبی نے یہ دیکھ کر خود ہی اپنا جانور ذبح کیا جس کے بعد باقی سب صحابہ کرام نے بھی کر لیا.

    حضرت عمر رضی اللہ شدید غصے میں اللہ کے نبی سے کہنے لگے کہ جب ہم حق پر ہیں تو آپ نے قریش مکہ کا دباؤ قبول کر کے کیوں صلح کی. تو اللہ کے نبی نے اتنا جواب دیا کہ خطاب کے بیٹے. میں اللہ کا رسول ہوں… میرا اللہ مجھے ضائع نہیں کرے گا.

    اس کے بعد آیات نازل ہوئیں اور یہ صلح حدیبیہ فتح ِمبین قرار پائی.

    اللہ کے نبی واپس مدینہ پہنچے ہی تھے کہ ابو بصیر رضی اللہ عنہ مشرکین مکہ سے چھوٹ کر مدینہ پہنچ گئے. مشرکین مکہ نے اسے واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے. اللہ کے نبی نے ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو واپس لوٹا دیا.

    مکہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں ایک بندے کو قتل کر کے ابو بصیر رضی اللہ عنہ واپس مدینہ پہنچے اور اللہ کے نبی کو خوش ہو کر بتایا کہ آپ نے بھی معاہدہ پورا کیا اور مجھے بھی اللہ نے ان سے نجات دے دی. مگر رسول اللہ کے ہاتھ تو ابھی بھی معاہدے میں بندھے ہوئے تھے. یہ سن کر اللہ کے نبی نے ذومعنی فرقہ کہا "اگر اس بندے کو کوئی ساتھی مل جائے تو یہ جنگ کی آگ بھڑکا دے” (جنگ کرنے کی خاموش اجازت )

    ابو بصیر رضی اللہ عنہ بات سمجھ گئے. چپ کر کے مسجد نبوی اور پھر مدینہ منورہ سے نکل کر شام جانے والے راستے میں بیٹھ گئے. ابو جندل رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس پہنچ گئے اور اس کے بعد قریش سے بھاگ کر آنے والا ہر مسلمان ان کے لشکر میں شامل ہو کر شام کو جانے والے تجارتی قافلوں کو لوٹنا شروع ہو گیا.

    قریش مکہ نے تنگ آ کر اللہ کے نبی کو گزارش کی کہ انہیں اپنے پاس بلا لیں. ہم کچھ نہیں کہیں گے.

    اس طرح وہ صلح حدیبیہ جسے فتح مبین کہا گیا تھا چار سال بعد فتح مکہ کی شکل میں سامنے آئی.

    وہ احباب جو پاکستان کی موجودہ بدلتی سیاسی و عسکری صورتحال سے گرم، دکھی یا پریشان ہیں… وہ حضرت عمر رضی اللہ کا غصہ، حضرت علی رضی اللہ کا کرب اور ابو جندل و ابو بصیر رضی اللہ عنہا کا دکھ سمجھ سکتے ہیں. وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر ہونے کے باوجود جنگ نہ کرنے اور مشرکین اور یہود و ہنود سے معاہدے کرنے کی کیا ضرورت ہے….؟ حق پر ہونے کے باوجود صلح کی نیت سے قیدیوں کو بغیر کسی شرط کے چھوڑنے میں کتنی بڑی حکمت عملی پوشیدہ ہے….! وہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک بڑے مقصد کے لیے…. ایک بڑے معاہدے کو سرانجام دینے کے لیے "اپنوں” کے بوریا بستر کیسے گول کیے جاتے ہیں حتی کہ انہیں دشمنوں کے بھی حوالے کیا جا سکتا ہے….! وہ جان سکتے ہیں کہ ایک بڑے مفاد کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے. خیر خواہوں کو کیسے دہشت گرد کہا جا سکتا ہے. دشمن کو کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کی منتیں کرے کہ ان نان سٹیٹ ایکٹرز کو اپنے پاس رکھ لو… ہم کچھ نہیں کہیں گے انہیں.

    جب آپ اکیلے ہوں اور دشمن آپ سے کئی گنا زیادہ ہو اور آپ جنگ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہ ہوں تو دشمن کے دشمن کو اپنا دوست بنانے میں ہی عافیت ہے. اس سے جنگ کرنے کی بجائے اس کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے تا کہ وہ آپ کے دشمن کے خلاف آپ کی مدد کر سکے… تا کہ آپ کا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اور اس معاہدے کے لیے اگر آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ جیسی قربانی دینی پڑے تو یہ سوچ کر قربانی دیں کہ اللہ آسانی و کشادگی پیدا کرے گا.

    اور جنہیں سمجھ نہیں آ رہی یہ بات تو وہ ضرور فتوی لگائیں مگر مجھ پر نہیں بلکہ اللہ کے نبی پر لگائیں جنہوں نے یہ سارے کام صرف اس لئے کیے تا کہ مدینہ محفوظ رہے…. تا کہ مسلمان محفوظ رہیں… تا کہ ایک بڑے لشکر سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کو تیاری کا وقت مل سکے… تا کہ مسلمان ایک بڑے دشمن سےلڑنے کے لیے نئے اتحادی بنا سکے. تا کہ مسلمان اپنے مدینہ کا دفاع مضبوط سے مضبوط تر کر سکیں.

    اگر کسی کو شک ہو کہ میں نے کوئی روایت غلط لکھی ہے تو سیرت کی مستند اور انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کا مطالعہ کر کے اپنی تسلی کر سکتا ہے.

    مجھے معلوم ہے ایسے موقع پر کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ جسے اللہ کے نبی نے بچایا وہ مدینہ تھا اور یہ پاکستان ہے اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے تو ان سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ مدینہ کا تقدس مسلَم ہے لیکن یہ وہی مدینہ ہے جس میں منافقین رہتے تھے… یہ وہی مدینہ ہے جس میں چور کے ہاتھ کاٹے جاتے تھے کیونکہ وہ چوری کرتا تھا… یہ وہی مدینہ ہے جس میں زانی کو دُرے پڑتے تھے کیونکہ وہ زنا کرتا تھا. یہ وہی مدینہ ہے جس میں نماز اور جہاد سے بھاگنے والوں کو وعیدیں سنائی جاتی تھیں کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھتے تھے، جہاد نہیں کرتے تھے. اگر پاکستان اس مدینے جیسا نہیں تو اسے مدینے جیسا ہم نے ہی بنانا ہے ملکر…. لیکن اسی طریقے کے مطابق جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بنایا ہے اور جس طریقے سے اللہ کے نبی نے اسے بچایا ہے… اسلام کو دنیا میں زندہ رکھنے لیے… فتح مکہ کے لیے… اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے….!اپنے قیدیوں کو چھڑوانے کے لیے، مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے اور اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کے لئے.

    یہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اس کی حفاظت اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ کے نبی نے سکھائی ہے اور کر کے دکھائی ہے. اگر بڑے دشمنوں سے لڑنا ہے اور فتح حاصل کرنی ہے تو دل بھی اتنا ہی بڑا کرنا پڑے گا. صبر اور حوصلہ قائم رکھنا پڑے گا… حق پر ہوتے ہوئے بھی اپنے جان و مال کو قربان کرنا پڑے گا تا کہ ہمارا مدینہ ثانی محفوظ رہے. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

    میرے وطن یہ عقیدتیں اور پیار تجھ پہ نثار کر دوں
    محبتوں کے یہ سلسلے بےشمار تجھ پہ نثار کر دوں

    تیری محبت میں موت آئے تو اس سے بڑھ کر نہیں ہے خواہش
    یہ ایک جان کیا، ہزار ہوں تو ہزار تجھ پہ نثار کر دوں

  • یہ برطانیہ ہے جہاں سڑک کا نام بھی  گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوگیا

    یہ برطانیہ ہے جہاں سڑک کا نام بھی گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوگیا

    لندن:گینیز ورلڈ ریکارڈ میں‌برطانیہ کی سڑکیں اپنی جگہ بنانے لگیں.حال ہی میں‌ایک برطانوی سڑک کا نام گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا۔ برطانیہ میں واقع ویلز کی اس سڑک چڑھنے کا سوچ کر ہی ہمت جواب دے جاتی ہے،اپنی اسی انفرادیت کی بنا پر اس سڑک کانام نہ صرف گنیز بک میں شامل کرلیا گیا ہے بلکہ یہ سڑک لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ویلز کے ہارلیک ٹاؤن میں دنیا کی سب سے ڈھلوان سڑک 2.86 میٹر کے بعد ایک میٹر اونچی ہے جس کے باعث سڑک پر چلنے والوں کیلئے یہ سفر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل یہ ریکارڈ نیوزی لینڈ کے شہر ڈنیڈن کی سڑک کے پاس تھا جو 2.67 میٹر کے بعد ایک میٹر اونچی ہے۔

  • ماڈلنگ یا ماڈل بکری ،ملائیشیا کےشہری نے اپنی بکری کو دنیا کی خوبصورت بکری قراردیا

    ماڈلنگ یا ماڈل بکری ،ملائیشیا کےشہری نے اپنی بکری کو دنیا کی خوبصورت بکری قراردیا

    کوالالمپور:بکریوں کی بھی ماڈلنگ ہونے لگی ،ملائیشیا میں دنیا کی خوبصورت ترین بکری کے مالک نے اسے فروخت کے لیے پیش کردیا۔تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے دارالحکومت کے رہائشی کسان احمد محمد فیدزیر کے گھر بکری کے بچے کی پیدائش ہوئی جس کی تصاویر انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو صارفین نے اسے دنیا کی خوبصورت ترین بکری کا اعزاز دیا۔

    ملائیشیا کے اس شہری کی سفید رنگ کی بکری کا قد زیادہ بڑا نہیں البتہ اُس کے چہرے کے نیچے داڑھی اور سر پر خوبصورت ریشمی بال ہیں، احمد محمد بکری کے حسن کو مزید بڑھانے کے لیے اُن کی مانگ نکال کر رکھتا ہے۔احمد کے مطابق انہوں نے گزشتہ دنوں بکری کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کی تو ہر کسی نے اس کی تعریف کی اور یہ مشہور ہوئی، کچھ نے تو اسے بکریوں میں ماڈل قرار دیا۔

    بکری کے مالک کا کہنا تھا کہ جب بکری کی پیدائش ہوئی تو یہ انہیں دیگر سے منفرد اور خوبصورت لگتی ہے کیونکہ اس کے سرپر خوبصورت بال ہیں جو کسی کے بھی نہیں ہیں۔احمد کا کہنا تھا کہ میرا فی الحال اسے فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اگر کوئی اسے خریدنا چاہتا ہے تو وہ 150 یورو ادا کر کے لے جاسکتا ہے۔ (پاکستانی کرنسی کے حساب سے مالیت 27 ہزار روپے کے قریب بنتی ہے)

    Comments

  • ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
    یوں تو ففتھ جنریشن وار ہر زبان زد عام ہے مگریہ جاننا ناازحد ضروری ہے کہ یہ ہے کیا؟
    جس طرح فورتھ جنریشن وار فیصلہ کن اور ایک مہلک جنگی حکمت عملی تھی۔اس میں بھاری اور قیمتی اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو زیر کیا جاتا تھا جیسے عراق کا کویت پر حملہ پھر سویت یونین اورافغانستان کی جنگ کے بعد سویت یونین کاٹوٹ کر بکھر جانا اور امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا قابل پر قبضہ۔
    پھر امریکہ کا ہی افغانستان پر حملہ کرکےدوبارہ جنگ میں دھکیلنا وغیرہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں طاقت اور قوت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا جاتا اور بہت جلد اس کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح اب روایتی ہتھیاروں کی جنگ کی جگہ ایک نئی حکمت عملی نے لے لی ہے جو آج کل ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام سے مشہور ہے۔
    نوے کی دہائی میں عراق کو مسلسل اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اندر سے کھوکھلا کرنا اور کیمیائی و حیاتیاتی اسلحہ اور وسیع تر تباہی والے ہتھیاروں کے ذخیرے اور صلاحیت کے متعلق انتہائی مبالغہ آمیز پراپیگنڈوں کے ذریعے عالمی سطح پر تنہا کرنا اور پھر شدید بمباری کرتے ہوئے مختلف شہروں کو تباہ کردینا بغداد اور دوسرے علاقوں کے اندر امریکی اور امفوج کو داخل کرکےبہت جلد مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ففتھ جنریشن وار کا ہی شاخسانہ ہے۔
    یہ طریقہ جنگ کم خرچ بالا نشیں کے مصداق سمجھاجاتا ہے۔
    اور کم خرچ میں میں بہت زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی مہربانی کی بدولت القاعدہ سے داعش کوپیدا کیا اور ففتھ جنریشن وار کے ذریعے مسلمانوں کے اندر زہر قاتل کی صورت اس کو بڑھاوا دیا تاکہ اس شدت پسند تنظیم کی مدد سے دنیا میں اسلام کو دہشت گرد مذہب گردانہ جائے اور اسی کی مدد سے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے لگا۔ الغرض
    مختلف متحارب گروہوں اور عوام کو انکی افواج کے خلاف کھڑا کیا گیا جیسا کہ شام لیبیا یمن اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ ہوا۔
    اسی طرح ففتھ جنریشن وار کو پاکستان میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے گمشدہ افراد کا واویلہ کیا جاتا ہے اور بیرونی این جی اوز موم بتی مافیہا کی مددسےاسکو ایک بڑا ایشو بنا دیتی ہیں۔جبکہ وہ لوگ انہی تنظیموں کے کارکن ہوتے ہیں۔
    اسکو سمجھنے کے لیے کراچی میں چائنہ کے سفارت خانے پر حملے کا ملزم جو گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا اسی طرح گزشتہ ماہ گوادر میں ایک ہوٹل پر ہوئےحملے کے ملزم بھی نام ونہاد گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے جو آپریشن کے دوران مارے گئے
    اسی طرح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے اندر مختلف لسانی صوبائی اور مسلکی تفرقات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
    اور دشمن قوتوں کی طرف سے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سکیورٹی کے مختلف اداروں کے خلاف پراپیگنڈا مہم لانچ کی گئی ہے جس کا مقصد اداروں اور عوام میں دوریاں پیدا کرنا ہے۔
    پی ٹی ایم۔ایم کیو مسلم لیگ ن اور ان جیسی بہت سی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں استعمال ہورہی ہیں۔
    تاکہ عوام کے اذہان کو تسخیر کرتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔
    موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم تمام قسم کے لسانی صوبائی اور مسلکی اختلافات کے ساتھ ساتھ شخصیت پرستی کے ناسور سے بھی بالاتر ہوکر ایک قوم بنیں اور اپنی مسلح افواج اور ایجنسیز کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنی بھر پور قوت کے ساتھ ملکی دفاع کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں یہ تبہی ممکن ہے جب ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
    ہر فورمز پر اپنے نظریات کا دفاع کریں۔
    اور منفی پروپیگنڈوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں مضبوط اور طاقتور پاکستان ہی ہماری بقا کا ضامن ہے اور اسی طرح اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر ممکن ہے۔

  • آسٹریلیا: سونے کی تلاش میں کھدائی کے دوران 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم پتھر دریافت

    آسٹریلیا: سونے کی تلاش میں کھدائی کے دوران 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم پتھر دریافت

    کینبرا: دنیا میں‌پہاڑ کھودنے پر چوہے کے نکلنے کی ضرب المثل تو مشہور ہیں لیکن سونے کی تلاش کرتے کرتے سونے سے بھی قیمتی دھات کا نکل آنا بہت کم ہی سنا ہیے. ایسا ہی ایک وا قعہ آسٹریلیا میں سونا تلاش کرنے والے شخص نے چار ارب 60 کروڑ سال قدیم سرخ پتھر دریافت کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہول سونے کی تلاش میں اپنے گھر کے قریب کھدائی کررہے تھے کہ اُن کی نظر ایک عجیب سے سرخ رنگ کے پتھر پر پڑی۔

    آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ڈیوڈ ہول پتھر اٹھا کر ماہرین ارضیات کے پاس گئے جنہوں نے اس پر تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ ٹکڑا دراصل شہابِ ثاقب ہے اور اتنا ہی قدیم ہے جتنی زمین کی عمر ہے۔ماہرین کے مطابق پتھر 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم ہے، سائنسی تاریخ کے حساب سے بھی کرہ ارض کی عمر تقریباً اتنی ہی ہے۔

    ڈیوڈ ہول کے پاس پتھر کے حوالے سے ماہر ارضیات نے اس ایجاد پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پتھر دراصل ایچ 5 آرڈینری کونڈرائٹ نامی شہابِ ثاقب ہے، جس کا شمار اُن پتھروں میں ہوتا ہے جو ابتدائی نظام شمسی سے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔

    بل برچ کا کہنا تھا کہ زمین کے معرض وجود میں آنے کے وقت پتھر کی بھی پیدائش ہوئی، اس ٹکڑے کی تاثیر اور اجزا زمینی پتھروں سے بالکل مختلف ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ خلاء سے زمین پر اُس وقت گرا جب وہ تیار ہوئی‘‘۔

  • میری نظر میں آج عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا نچوڑ۔۔۔(نعمان بھٹہ)

    میری نظر میں آج عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا نچوڑ۔۔۔(نعمان بھٹہ)

    کیا پاکستان عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوش کے حوالے سے مقدمہ جیت گیا؟؟؟
    ●جس طرح پاکستانی میڈیا پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کو پاکستانی موقف کی جیت بیان کیا جارہا ہے اسی طرح بھارتی میڈیا کلبھوش کیس کے فیصلے کو اپنی حکومت کی کامیابی بیان کررہا ہے۔
    ●اب آتے ہیں حقیقت کی جانب پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ آخر عالمی عدالت انصاف میں چلنے والا یہ مقدمہ ہے کیا ؟
    ●پاکستان نے اپنے ملک میں جاسوسی اور تحریب کاری کے الزام میں بھارتی نیوی کے ایک حاضر سروس آفیسر کو بلوچستان سے گرفتار کیا جس نے پاکستانی اداروں کے سامنے کئی راز اگلے۔
    ان رازوں میں بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسندوں کو بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کی تربیت اور انہیں پاکستان میں مختلف تحریب کاری کی کاروائیوں میں استعمال کرنا بھی شامل تھے ۔
    ●کلبھوشن نے اپنے کئی ویڈیو بیانات میں بھی پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا۔
    ●اب آجاتے ہیں انڈیا کے عالمی عدالت انصاف میں اپنائے گئے موقف پر ۔۔۔۔
    انڈیا کے عالمی عدالت انصاف میں جانے کی وجہ صرف اور صرف کلبھوشن تک کونسلررسائی حاصل کرنا تھی۔
    ●پاکستان بھارت کو کلبھوشن تک کونسلر رسائی دینے سے ہمیشہ انکاری رہا۔
    ●عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد پاکستانی میڈیا اسے اپنی کامیابی بیان کررہا ہے۔
    میڈیا کہ مطابق عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی رہائی کے بھارتی مطالبے کو مسترد کردیا جبکہ اصلیت یہ ہے کہ بھارت نے تو کبھی کلبھوشن کی رہائی کا مطالبہ کیا ہی نہیں وہ تو صرف کلبھوشن کے معاملہ پر کونسلر رسائی مانگ رہا تھا۔
    ●عالمی عدالت انصاف نے کونسلر رسائی کے بھارتی موقف کو تسلیم کر تے ہوئے ویانا کنونشن کے تحت بھارت کو کلبھوشن تک کونسلر رسائی دینے کا حکم دیا۔

    ●اس کے بعد سوچیں آج کا فیصلہ پاکستان کی جیت ہے یا انڈیا کی؟؟

  • نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    ہم ہر اس پاکستانی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں جنہوں نے ہمیں دیکھ کر یا ہماری دعوت پر نفاذ اردو کا جھنڈا اٹھایا ہے۔ ہم نے نفاذ اردو کی آواز عملی طور پر ایسے اجتماعات میں بلند کی جہاں انگریزی کی غلامی کے خلاف بات کرنا ” کفر ” سمجھا جاتا تھا۔ جب ہم پاکستان میں نفاذ اردو کی بات کرتے تھے لوگ ہمیں ہونق ہو کر دیکھتے تھے۔ ہمارا مذاق اڑاتے تھے’ ہم نے نفاذ اردو کا پیغام پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی غلامی کے علمبردار ایچی سن کالج سمیت پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت کو دیا۔ ہم نے آرمی چیف کو خط لکھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے براہ کرم اپنے عہدے کا حلف اردو میں لیں ۔الحمدللہ! آرمی چیف نے ہماری بات کی لاج رکھی اور پاکستان کے پہلے آرمی چیف بنے جنہوں نے اُردو میں حلف لیا!
    ہم نے موجودہ وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب کرنے کے لیے قائل کیا۔
    الحمداللہ! انہوں نے ہماری درخواست پر اقوام متحدہ میں پہلی مرتبہ اردو میں بات میں کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند کیا!
    ہم نے لاہور ‘ اسلام آباد میں نفاذ اردو کی ملک گیر کامیاب کانفرنسیں منعقد کی ہیں!
    ہم نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو آئین کی شق 251 جو پاکستان کی زبانوں کے حوالے سے ہے اس پر عملدرآمد کی طرف توجہ دلائی۔ اس سلسلے میں ان کو عملی طور پر ان کے مقدمے کے ترجمے بھی اردو میں کر کے دیے جس سے متاثر ہوکر چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک اسلام آباد کے وکیل کوکب اقبال کا پرانا مقدمہ جو 2003 میں مٹی کی گرد میں دبا ہوا تھا جس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کررہے تھے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بطور خاص درخواست دے کر اس کی سماعت شروع کی۔۔۔اور اپنی سبکدوشی کے آخری لمحوں میں نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے اپنا نام تاریخ میں رقم کر گئے۔ اور آج بھی وہ اس مقدمے کے نفاذ سے الگ نہیں ہیں ۔ گاہے بگاہے اس مقدمے کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ لمز یونیورسٹی جیسے انگریزی میڈیم ادارے سے وابستہ ہوکر وہاں طلباء اور اساتذہ میں نفاذاردو کا شعور بیدار کر رہے ہیں۔
    پورا پاکستان نفاذ اردو کے حوالے سے ہماری کوششوں سے واقف ہے۔ ہم نفاذ اردو کی جنگ عدالتوں’ سڑکوں’ ذرائع ابلاغ’ بازاروں’ ریستوران’ تعلیمی اداروں’ دفتروں غرض ہر جگہ لڑ رہے ہیں۔۔
    ہماری کانفرنس میں پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت ‘ تمام شعبہ زندگی’تمام سیاسی جماعتوں، سول و عسکری قیادت آتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان’ جنرل حمید گل مرحوم، جنرل راحت لطیف’ بریگیڈیئر حامد سعید’ جنرل غلام مصطفی ‘ اوریا مقبول جان’ عرفان صدیقی’ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ مجیب الرحمٰن شامی’ ڈاکٹر اجمل نیازی’ ڈاکٹر خواجہ ذکریا’ پروفیسر فتح ملک’ اعجاز چوہدری ‘ محمود الرشید’ سعدیہ سہیل’ بشری رحمن’ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘ڈاکٹر فاطمہ حسن’ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید’ ڈاکٹر جاوید منظر’ سابق وزیر تعلیم رانا مشہود’ سابق وزیر بلوچستان صالح بلوچ’ قیوم نظامی’ ابصار عبدالعلی ‘ ڈاکٹر افتخار بخاری’ جسٹس ناصرہ اقبال’ سمیعہ راحیل قاضی اور ایک لمبی فہرست ہے جو ہماری کوششوں سے واقف ہیں۔ ہم اپنی تحریک کے قائد عزیز ظفر آزاد کی قیادت میں دن رات نفاذ اردو کے لئے سر گرم ہیں۔ ان شاءاللہ اردو کو پاکستان کا نظام زندگی بنا کر ہی دم لیں گے!
    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اردو کو پاکستان کی عدالتی ‘ سرکاری اور تعلیمی زبان نہ بنادیں!
    ان شاءاللہ! اللہ کے فضل سے پاکستان میں نفاذاردو کی منزل بہت قریب ہے!
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    تاریخ گواہ ہے ہندوستان نے جب جب پاکستان کے خلاف چوری چھپے سازش کی یا کھلم کھلا دھوکہ دہی، ہمیشہ ناکام و نامراد ہوا خواہ کھیل کا میدان ہو یا جنگی محاذ ! اور تماشہ بھی پوری دنیا نے دیکھا رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کی چمکدار روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔! ہندوستانی وایو سینا کے ابھینندن نے لائن کراس کر کے مار کھائی تو سینا کے نشان زدہ گلوز پہن کر کھیلنے پر اصرار کرنے والے سینائی سپوت دھونی نے لائن کراس نہ کر کے "سوا سو کروڑ” کے دیش واسیوں کی لٹیا ڈبو دی۔ ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف پانچ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی دو طرفہ سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہونے کے بعد "بنیے” کے سازشی دماغ میں پاکستان مخالفت کی "کُھرک” ہوئی تو کرکٹ جیسے مہذب افراد کے کھیل میں بھی سیاست گھسیڑ دی۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں ہندوستانی کھلاڑی بھارتی فوج کی ٹوپی پہن کر گراؤنڈ میں اترے تو پاکستانی نژاد آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ نے پورے ہندوستان کو ہی ٹوپی پہنا دی۔ اس میچ میں سینچری بنانے والے عثمان خواجہ نے اگلے دونوں میچز میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور آسٹریلیا دو کے مقابلے میں تین میچز جیت کر سیریز پر قابض ہو چکا تھا اور عثمان خواجہ مین آف دی سیریز کا حق دار قرار پایا۔ آج ورلڈ کپ کے میچ میں ہندوستان صرف ہارا نہیں ذلیل و رسواء ہوا ہے، ذلالت کی وجہ وہی میچ ہے جو پاکستان کو سیمی فائنل میں جانے سے روکنے کے لیے انگلینڈ سے جان بوجھ کے ہارا تھا۔
    ہاں ہاں جان بوجھ کر ہارا تھا۔۔۔۔۔۔!
    اس میچ کے لیے ایک بار پھر ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ میں بیٹھے پنڈتوں نے سیاسی چال چلی اور ہندو توا کے خاص زعفرانی رنگ کی جرسی پہن اُتری مقصود وہی تھا جو آسٹریلیا کے ساتھ سیریز میں سوچا گیا۔ انگلینڈ کی ٹیم مضبوط اپنی جگہ لیکن اس ورلڈ کپ میں ہندوستان سے مقابلے سے قبل دو ایشیائی ٹیموں نسبتاً کمزور سری لنکا اور پاکستان سے عبرت ناک شکست کھا چکی تھی۔ اس میچ میں پہلے ہندوستان کے باؤلرز نے انگلش بیٹسمینوں سے دل کھول کر پٹائی کھائی اور گراؤنڈ میں واضح دیکھا جا سکتا تھا کہ ہندوستانی کپتان یا کسی ایک کھلاڑی کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔ بیٹنگ کا موقع آیا تو روہت شرما جو سب ٹیموں پر برس رہے تھے اچانک بھیگی بلی بنے نظر آۓ سینچری تو بنائی لیکن نہایت سست روی سے۔ البتہ میچ میں ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستان جیت سکتا ہے لیکن پھر میدان میں دھونی کی آمد ہوئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پانچ وکٹ باقی ہونے کے باوجود "فنشر” کا خطاب یافتہ "دھونی” آخری اوور تک اس خیال سے بیٹنگ کرتا رہا کہ کہیں غلطی سے بھی باؤنڈری نہ لگ جائے۔ ہندوستان کے لیے کھیلتے ہوئے ہدف کے تعاقب میں 47 باریوں میں محض یہ دوسرا موقع تھا جب دھونی ناٹ آؤٹ رہا اور اس کی ٹیم ہار گئی۔ آئی پی ایل میں چنائی سپر کنگ کے کپتان رہنے والے دھونی کی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باعث دو سال تک پابندی کا شکار بھی رہی ہے یہ بات تو سب جانتے ہیں۔ سابق ہندوستانی کرکٹر سارو گنگولی جو اس میچ میں کمنٹری کر رہے تھے وہ بھی اپنے ساتھی کمنٹیٹرز کو اس سست روی سے بیٹنگ کرنے کا کوئی جواز نہ پیش کر سکے اور ہندوستان میچ ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    اس ہار کے اختتام پر ہندوستان میں جشن کا سا سماں تھا۔ کرکٹ کی پوجا اور کرکٹرز کو بھگوان کا درجہ دینے والے ہندوستانی بالخصوص سوشل میڈیا پر اندرونی غلاظت انڈیل رہے تھے۔ علی الاعلان کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان نے کرکٹ کے میدان میں پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے دھونی کو ونگ کمانڈر ابھینندن سے ملایا گیا۔ زعفرانی رنگ کے بھی چرچے رہے۔ سوائے اس میچ کے میری نظر میں کھیل میں کوئی مقابلہ ایسا نہیں گزرا جب ہارنے والی ٹیم نے پٹاخے پھوڑے ہوں۔ مگر ہاں اسی سال 27 فروری کو دو جنگی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی 20 سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت اور ونگ کمانڈر ابھینندن کا زندہ پکڑے جانے کے بعد عوام سے پڑنے والی چھترول پر ہندوستانیوں کو فخریہ جشن منانا دیکھ چکا تھا۔
    خیر پاکستان سیمی فائنل کھیلنے والی نیوزی لینڈ سے پوائنٹ برابر ہونے کے باوجود بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا حالانکہ اس نیوزی لینڈ ٹیم نے سیمی فائنلسٹ ٹیموں میں سے کسی ایک کو بھی شکست نہیں دی۔ جبکہ پاکستان دو سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں کو ہرا کر بھی "متنازعہ” نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر باہر ہو چکا تھا۔ چور دروازے سے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب دیکھنے والے ہندوستان کو سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے روند ڈالا۔ اور آج کے مقابلے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کی توفیق سے پاکستان کے دشمنوں کا ہر وار الٹا اسی کے گلے کا پھندا بنا۔ جیت نیوزی لینڈ کی ہوئی ماتم ہندوستان میں اور سرخرو پاکستان ہوا۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ
    ابھینندن کا کپ لاہور میں
    اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں رہ گیا۔۔۔۔!
    اب "ٹیم انڈیا” کے استقبال کے لیے ہندوستان میں ٹماٹر ختم ہوگئے ہیں تو پاکستان دے سکتا ہے آخر ہمسائے ہیں ہمارے۔

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد