حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھاکیونکہ مکہ مکرمہ ا ور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوئوں اور لٹیروں کا راج تھا۔
پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شہزادہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن السعود نہایت ہی زیرک اور جرأت مند حکمران تھے انھوں سے صرف دس افراد کے ہمراہ پانچ جنوری 1902ء کو ریاض شہر فتح کرکے ایک ایسی مملکت توحید کی بنیاد رکھی جو آج ’’ مملکت سعودی عرب ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ دس افراد کے ہمراہ ریاض کی فتح ایک ایسا کارنامہ ہے جسے مورخین نے تاریخ عالم کا محیر العقول واقعہ قرار دیا ہے ۔ شاہ عبدالعزیز مجاہد ، بہادر ، انصاف پسند اور عالم باعمل حکمران تھے ۔ انھوں نے 1926ء میں مسجد الحرام میں حجاز کے بادشاہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مملکت کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے لاتعداد ڈاکوئوں ، لیٹروں ، رہزنوں کو عبرتناک سزائیں دی گئیں، قاتلوں کی گردنیں ماردی گئیں اور ان کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔
شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج بھی ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سفر کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کے تحت روڈ ٹو مکہ جیسا عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کیا گیاہے جس سے سعودی عرب پہنچنے پر طویل امیگریشن اور کسٹم کی چیکنگ کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور عازمین حج کے ہوائی اڈوں پر انتظار کے وقت میں بھی نمایاں کمی ہوتی ہے۔
امسال بھی روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن اور کسٹم کلئیرنس کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے گئے۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں جاری کی گئیں ۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے عازمین حج کو رخصت کیا۔جبکہ امسال اسلام آباد اور کراچی سے پچاس ہزار سے زائد عازمین حج روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے گئے ۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف جو کہ بہت ہی نیک نام ، شریف النفس انسان ،تجربہ کار اور حجاج کرام کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیںان کا کہنا تھا ہم کوشش کررہے ہیں کہ جلد ہی پاکستان کے دیگر بڑے شہروں سے بھی روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں شروع کی جائیں ۔
اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ پراجیکٹ کے تحت عازمین حج فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب پہنچے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولتیں دستیاب ہوں گی ۔
حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا ہے، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولیا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔
یہ بات معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حجاج کرام کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ جیسے جیسے حجاج کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت انتظامات کو بہتر سے بہتر بنارہی ہے ۔ اس کیلئے جدید ترین وسائل اور ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے ۔عازمین حج کی تعداد دنیا کے کئی ملکوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن۔۔۔۔صفائی کا ایسا عمدہ انتظام کہ کہیں ایک تنکا بھی نظر نہ آئے یہ ایسا روحانی اور ایمانی منظر ہے کہ جسے دیکھ کر ہی غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے ہیں ۔ میدان عرفات میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے اور فضائی ایمبولینسیں مسلسل گردش میں رہتی ہیں ۔ جب کسی حاجی کی طبیعت ناساز ہونے کی اطلاع ملے تو اسے پانچ یادس منٹ میں ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے ۔ ایک طرف سعودی حکومت حجاج کرام کی خدمت کے بھرپور انتظامات کرتی ہے تو دوسری سعودی عوام بھی ایمانی جذبے سے حجاج کرام کی خدمت کرتے ہیں ۔ حجاج میں مشروبات ، کھانے اور تحائف تقسیم کرتے ہیں ۔
الغرض امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیں کے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیرحج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔
