وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اداروں کی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی برادری میں ذمہ دار امن پسند ملک ثابت
سفارتی کامیابی کے بعد اب پاکستان کے لیے داخلی معاشی اصلاحات، بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اقتصادی تعاون ناگزیر
تجزیہ شہزاد قریشی
اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے، جہاز رانی کی بحالی، تیل و گیس کی عالمی ترسیل کے دوبارہ معمول پر آنے اور امریکہ و ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کو دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ پاکستان کی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر متعلقہ اداروں نے خاموش لیکن مؤثر سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان صرف اپنے قومی مفادات ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، صنعتوں اور تجارت پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران کے ٹلنے پر امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور عالمی منڈیاں اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سفارتی کامیابی کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کو اندرونی اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور گورننس کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔
بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی سے سرمایہ کاری، تجارت اور عالمی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی فوائد کے لیے داخلی استحکام بھی ضروری ہے۔ میری رائے میں اگر پاکستان نے واقعی عالمی امن، علاقائی استحکام اور توانائی کے بحران کو ٹالنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے تو امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں کو پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔ امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک کی حوصلہ افزائی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقتصادی تعاون سے بھی ہونی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں دنیا کو تقسیم کرتی ہیں جبکہ سفارتکاری دنیا کو جوڑتی ہے۔ اگر موجودہ پیش رفت پائیدار ثابت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی حالیہ سفارتی تاریخ کی ایک اہم کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔
