Baaghi TV

Category: متفرق

  • انسانی سمگلنگ سے موت

    انسانی سمگلنگ سے موت

    پاکستان میں انسانی اسمگلنگ ایک مشہورو معروف مسئلہ ہے. بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی جبری شادیوں سے متعلق جنہیں ملک سے باہر لے جا کر جنسی مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اسمگلنگ کے وسیع جال کے پریشان کن معاملات سامنے آئے تھے۔ بڑھتا ہوا مسئلہ نوجوان پاکستانی خواتین اور چینی شہریوں کے درمیان جعلی شادیوں کی وجہ سے تھا۔ یہ چینی شہری پاکستانی خواتین کو دھوکہ دیتے ہیں، جس سے وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ قانون کے پاسدار، اور مالی طور پر مستحکم افراد ہیں۔ تاہم، چین پہنچتے ہی، بہت سی خواتین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے "شوہروں” نے انہیں بطور جنسی غلام استحصال اور فروخت کی نیت سے خریدا ہے [ماخذ: پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا مقابلہ]۔ https://borgenproject.org/human-trafficking-in-pakistan/

    اس معاملے کو بڑھتا ہوا دیکھ کر پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے 52 چینی سمگلروں کو گرفتار کرکے ان پر فرد جرم عائد کی [ماخذ: بروکنگز انسٹی ٹیوٹ: مدیحہ افضل، مارچ 2022]۔ تاہم، مسئلہ ان گرفتار افراد سے آگے بڑھ گیا ہے۔

    طلبا کی بھی پریشان کن کہانیاں ہیں جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں لیکن مطلوبہ تعلیمی نتائج اور وسائل کی کمی کے باعث، ایسے طلبہ کو داخلے دلانے والی ایجنسیوں کے بھیس میں انسانی اسمگلنگ کی اسکیموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ کمزور افراد اس استحصال کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

    اس انسانی سمگلنگ کے بحران کی بنیادی وجوہات مستقبل کے ناامید امکانات، بے روزگاری کی بڑھتی شرح، اور کام کے غیر مساوی مواقع کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ عوامل ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں افراد ہیرا پھیری اور جبر کا آسان نشانہ بنتے ہیں۔
    boat hadsa

    ابھی حال ہی میں یونان کے جنوبی ساحل پہ ایک المناک واقعہ پیش آیا. جہاں ایک کشتی ڈوب گئی جس میں بشمول درجنوں پاکستانی، دیگر قومیتوں کے افراد مثلا شامی، افغان، مصری اور فلسطینی بھی شامل تھے۔ مقامی میڈیا رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ 298 تصدیق شدہ ہلاکتیں پاکستانوں کی تھیں۔

    اگرچہ پاکستانی ایجنسیاں 10 مبینہ انسانی سمگلروں کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئیں، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس مسئلے کا دائرہ، حکام کے تسلیم شدہ، اور فراہم کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

    انسانی سمگلنگ کا مسئلہ ایک بہت بڑا المیہ ہے، جسے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ یونان کے ساحل پر رونما ہونے والا المیہ اس بڑے مسئلے کی محض ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

    کشتی واقعے کے ذمہ داران کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت

  • سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    سسکیوں بھرا لطف اندوز اللہ تک کا سفر۔۔۔۔

    اصل کی طرف نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے
    "کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے”
    مزے کی بات یہ کہ کوئی اسے رو کر پہچانتا ہے ،کوئی ہنس کر پہچانتا ہے اور کوئی پہلے تو اس کا ہوتا ہے مگر پھر بھٹک جاتا ہے مگر پھر دوبارہ لوٹ آتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن چل پھر کر دوبارہ آ ہی جا تا ہے۔۔۔۔۔

    سوال پیدا ہوتا ہے کس کی طرف آتا ہے ؟؟؟

    مخلوق کے رب کی طرف وہ جسے اللہ کہتے ہیں ،وہ جسے دو دن کا بچہ بھی جانتا ہے وہ جسے سو سال کا بوڑھا بھی جا نتا ہے۔

    دنیا میں انسانوں کے دلوں کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ٹھوکریں کھایا ہوا دل صحیح سالم دل سے دیکھنے میں اگرچہ بہت اچھا ہے ،مگر بہت سستا ہے کیونکہ ایسا دل جسے ضربیں بہت لگی ہوں اللہ کے بڑے قریب ہوتا ہے اور جس دل میں اللہ ہے وہی تو اصل میں دل ہے

    میرے پیارے جامعہ "سودۃ بنت ذمعہ رضی اللہ عنہا” کے بانی و مہتمم ہمارے استاد حضرت اقدس مفتی محمود الحسن شاہ مسعودی دامت برکاتہم العالیہ فرمایا کرتے ہیں

    "جس دل میں دل کا دل یعنی اللہ نہیں وہ دل دل نہیں فقط سل ہے”

    اس لیے یوں کہنا کہ ((ٹھوکریں اور ناکامیاں اچھی بلکہ بہت اچھی ہوا کرتی ہیں تو غلط نہیں سو فیصد صحیح ہے))
    کیونکہ یہی رب سے باتیں کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں ،انہیں سے بندہ رب کو پہچانتا ہے اس لیے ٹوٹا دل بڑا قیمتی ہے ہاں اگر کوئی بغیر ٹھوکریں کھائیں بھی اللہ کے قریب ہے تو یہ رب کا بندے پر سراپا انعام ہے پھر بندے کو اس نعمت کے زائل ہو جانے سے ڈرنا چائیے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چائیے اور دعا بھی کرنی چائیے کہیں اس ٹھیک راستے سے پھسل نا جائے

    میرے ابو جان محترم جناب پروفیسر قاضی سخاؤالدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ایک موقع پر مجھے ایک عربی کہاوت یاد کروائی تھی
    "ما کل ما یتمنی المرء یدرکہ
    لان الریاح تجری بما لا تشتھی السفن”
    ہر وہ چیز جس کی بندہ تمنا کرے اسکو پا نہیں سکتا اس لیے کہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں
    میں نے مانا ہوائیں کشتیوں
    کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں لیکن ان ہواؤں کو جو کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں انہیں دل کی داستان سنائے کون اور کیسے ،درد کی شدت بتائے کون اور کیسے خیر اسی کشمکش میں کوئی رب کو پہچان گیا گویا وہ منزل کو پا گیا

    سوچنےکی بات ہے؟ یہ تمنا کیا چیز ہے جس کے لیے بندہ کیا کچھ نہیں کرتا ؟یہی وہ چیز ہے جس کے لیے بندہ اللہ سے مانگتا ہے،کوشش کرتا ہے،اور کچھ نیک لوگوں سے بھی یہ کہتا ہے
    "میرے لیے دعا کرنا”

    دیکھیں بات یہ ہے کہ دعائیں بندے کو ضرورت ہوتی ہیں ۔۔۔۔
    ایسا ہے ناں؟
    ضرورت ہوتی ہیں ناں؟
    مجھے تو ہوتی ہے اور دعائیں کرانے کے لیے سب سے بہترین اور قبولیت کی گارنٹی والا زریعہ والدین ہیں مگر والدین ایسی چیز ہیں جنہیں ہم کچھ پریشانی والی بات بتائیں تو وہ دکھی ہوتے ہیں ،پریشان ہوتے ہیں،اگر صرف دعا ہی کا کہہ دیں پھر بھی وہ سوچتے ہیں بچے کو کیا ہوا پھر دعا تو کروانی ہے ۔۔۔۔۔
    اب والدین کے بعد جو دوسری سہولت اگر موجود ہے تو وہ بہن بھائی ہیں جنہیں درد تو ضرور ہو گا مگر والدین والی فکر اور درد نہیں اور بعض تو وہ ہیں جن کے بہن بھائی بھی نہیں ۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔رکیں ۔۔۔۔۔ہر نعمت کا نعم البدل ہوتا ہے اگر بہن بھائی نہیں تو رکیں۔۔۔۔انتظار کریں۔۔۔۔آپ کے ساتھ احساس و محبت کرنے والے اور بہت ہیں۔۔۔

    اس لیے اگر اللہ نے آپ کو ایسے مخلص رشتے جن کو آپ دعاؤں کا کہتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں ان کی قدر کریں ، اور وہ رشتے بعد از والدین آپ کے شیخ ہیں جو آپ کو ان سیڑھیوں کو عبور کرنا سکھاتے ہیں جن تک ہر ایک کی رسائی نہیں بلکہ ان کی عقل و شعور کے مطابق وہ سیڑ ھیاں ِسِرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ پھر استاد جیسا عظیم رشتہ ہے جس نے آپ کو انسان بنایا جس نے آپ کو یہ سکھایاکہ دعائیں کروائی جاتی ہیں دعائیں اپنے بڑوں کا دل خوش کر کے لی جاتی ہیں

    اور اس کے بعد شاید آپ کے ساتھی ایسے ہوں جو آپ کے لیے اچھا سوچتے ہیں جو آپ کے لیے اچھا مانگتے ہیں ۔
    ویسے بات یہ ہے ہم جیسے جیسے اللہ کی مانتے جاتے ہیں اتنا ہی ہمیں سکون آتا جاتا ہے اتنا ہی ہمارا دل مطمئن ہوتا جاتا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی پریشانی،کوئی مشکل باقی نہیں رہتی بلکہ وہ مشکلیں اور پریشانیاں ساتھ ہوتے ہیں مگر پھر بھی آپ مطمئن ہوتے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ہونے کا احساس آپکے دل کو سکون میں رکھتا ہے ,ماحول کی آزمائشیں ،مشکلیں بھی آپکے دل کا سکون نہیں چھین سکتی اگر ایک وقت میں آپ ہمت ہارتے ہیں مگر دوسرے وقت میں آپ کو ایسے لگتا ہے کہ دنیا میں آپ جیسا بہادر انسان نہیں۔ یہ احساس اور خیال نصیب ہو جانا بڑی نعمت ہے اس نعمت کو تلاش کریں اس نعمت کے ملنے کی دعا کریں اور کوشش کریں اللہ عزوجل آپ سے راضی رہیں،اللہ جس بھی حال میں رکھے آپ مطمئن ہوں اور یہ بھی یقین ہو کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے

    اللہ کی ذات بڑی مہربان ذات ہے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ عزوجل آپ کی ہر بات مانیں تو آپ کو بھی اللہ کی ہر بات ماننی پڑے گی ۔اگر ماننے کے باوجود بھی کھبی آپ کسی بات سے دکھی ہوتے ہیں ،آپ کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو تسلی رکھیں آپ کا شمار اللہ کے ان بندوں میں ہے جن کامانگنا ربِ کعبہ کو پسند ہے ،آپ کا شمار ان برگزیدہ بندوں میں ہے کہ جن کے بارے میں وہ چاہتا ہے یہ ہاتھ مجھ سے بار بار مانگیں عنقریب آپ کو آپ کی دعاؤں کی قبولیت (اجراًعظیما ) کی صورت میں آخرت میں مل جائے گی( انشاءاللہ )وہ اس لیے کہ اللہ دعاؤن کو رد تو نہیں فرماتے وہ تو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ہے
    اور پھر اسی مانگنے کے بعد جب آپ کسی چھوٹی یا بڑی بات سے چکنا چور ہوتے ہیں کیونکہ آپ نے معاملے کا حق بھی ادا کیا ہوتا ہے ،آپ نے دعائیں بھی کی ہوتی ہیں ،آپ نے سب کا دل بھی خوش کیا ہوتا ہے تو آپ کے اس ٹوٹے دل میں آپ سے بہت پیار کرنے والی ذات اچھلتی گیند کی طرح ذور ذور سے اپنی طرف آنے کے لیے بلا رہی ہوتی ہے اور اسی بلانے پر انسان اللہ کے پاس چلا بھی آتا ہے گویا دل اس کی طرف جانے کے لیے اچھلتا گیند بنا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے

    "احساس کر اللہ تمہیں پیار سے دیکھ رہا ہے”

    اسی ساری داستان اور سفر کے متعلق ایک دفعہ ابو جان نے حضرت علی رضی اللہ کا ایک قول بیان کیا :
    "عرفت ربی بفسخ العزائم”
    "میں نے اللہ کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ”

    خیر حقیقت میں کامیابی آخرت کی کامیابی ہے بس۔۔۔۔۔اللہ رب العزت دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائےیقین جانئیے اگر اللہ راضی ہو تو پرواہ نہیں ہے۔بس وہ آخرت کے امتحان میں کامیاب کر دے ہم تو سراپا محتاج ہے وہ عطا کرنے کا خزانہ ، وہ جسے چاہے عزت دے، وہ گدا کو بادشاہ بنا دینے پر قادر ،بادشاہ کو گدا بنانے پر قادر اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔
    خیر ۔۔۔۔۔

    بات ہو رہی تھی اللہ تک کے سفر کی تو اللہ سے دعا ہے
    "اللھم کن لی وجعلنی لک ”
    اے اللہ آپ میرے ہو جائیں مجھے اپنا بنا لیں آمین

    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    پھول۔۔۔۔۔احساس محبت۔۔۔۔اور اللہ کی قدرت

    ایک پھول کی کلی ہے ،وہ ہر وقت پھولوں سے لگی رہتی ہے ،کھبی تو بس گہری سوچ میں انہیں تکتی رہتی ہے اور پھر تکتی ہی رہ جاتی ہے،اور کھبی خوشبو لے لے کر سکون پاتی رہتی ہے اور کھبی نرم نرم ہاتھوں سے پھولوں کی نرمی محسوس کرتی رہتی ہے اور بے اختیار اس کا دل کہہ جاتا ہے
    "سبحان اللہ بقدرتہ ”

    اور ایک اور مزے کی بات پھر ان پیارے پیارے پھولوں کو دیکھ کر ایک دم خیال اللہ کے کچھ خوبصورت ،مقرب بندوں کی طرف چلا جاتا ہے
    (ہمممم !!!سوچ رہی ہوں بتا دوں وہ کون ہیں چلیں بتا دیتی ہوں میرے استاد، میرے والدین ،میرے شیخ اور نیک ساتھی ہیں اور میری اکثر پوسٹ انہیں کے لیے ہوتی)
    اور پھر اس واقعہ کی طرف ذہن جاتا ہے جو خوبصورت مکالمہ اللہ اور حضرت موسی علیہ السلام کے درمیان ہوا تھا اور وہ واقعہ جب عاجزہ ایف ایس سی کے بعد جامعہ گئی تھی اور اسے کالج کے ماحول کے بعد مدرسہ کے پاکیزہ ماحول میں سیٹ ہونا مشکل لگتا تھا اور ظاہر ہے پاکیزہ ماحول اور گندہ ضمیر دل لگتا بھی کیسے ۔۔!!
    خیر اس وقت میرا دل لگانے میں جہاں کچھ کردار سا تھیوں کا
    تھا ،کچھ جامعہ میں لگی فریم
    "” احساس کر اللہ تجھے پیار سےدیکھ رہا ہے””
    کا تھا اور کچھ کردار با اخلاق ، با کمال ،با کردار ،صاحب بصیرت اساتذہ اکرام کا تھااور ادارے کی پرنسیپل ان کے لیے تو میرے پاس الفاظ نہیں جنہوں نےہمیشہ ،ہر وقت بڑی خندہ پیشانی سے مجھے گائیڈ کیا ،حتی کہ بسا اوقات اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلایا ۔۔۔ میں یہ پاکیزہ تعلیمی سفر فقط اللہ سویٹ کے کرم ، امی جی کے شوق، ابو جی کی انتھک محنت ، حضرت جی کی دعاؤں اور اساتذہ کی لگن و توجہ سے کر پائی ،اللہ آپ سب کو دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں آمین

    خیر میں واقعہ کی سند بیان کر رہی تھی تو وہ ایک میری معلمہ جنہوں نے عالیہ ثانی میں مشکوۃ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام پاکیزہ نے سنایا تھا اور اس کا ایسا اثر بھی میری ذات پر ہوا تھا کہ میں نے جامعہ پڑھنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا
    انہوں نے بتایا تھا "” اللہ یہ ماحول ہر ایک کو نہیں دیا کرتے اللہ اس پاکیزہ پڑھائی کے لیے ہر ایک کو نہیں چنا کرتے بات وہی ہے” ایک دفعہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سویٹ سے پوچھا تھا
    اللہ! سارے بندے نیک نہیں ہوتے آپ اس کام کے لیے کسی کسی کو کیوں چنتے ہیں ؟
    تو اللہ رب العزت نے فرمایا:
    موسی فلاں باغ سے میرے لیے پھولوں کا گلدستہ لاؤ
    جب موسی علیہ السلام گئے تو باغ میں پھول تو بہت زیادہ تھے اللہ پاک جانتے بھی تھے لیکن موسی علیہ السلام چند ہی پھولوں کو اتار کر ان کا گلدستہ بنا کر لے گئے
    اللہ سویٹ نے دریافت فرمایا : موسیٰ پھول تو اور بھی تھے آپ یہی کیوں لائے
    موسی علیہ السلام نے فرمایا:اللہ یہ پھول مجھے زیادہ اچھے لگے تھے اس لیے پہی لایا
    تو اللہ سویٹ نے فرمایا: موسی میں بھی اسی کو دین کے لیے چنتا ہوں اسے اس کام کے لیے منتخب کرتا ہوں جو مجھے پسند آئے”””

    اللہ اکبر۔۔اللہ تیری شان واہ واہ

    اور میری معلمہ جنہوں نے مجھے ہدایہ شریف پڑھائی محترمہ استانی صاحبہ ام محمد اکثر فرمایا کرتی تھیں” اللہ رب العزت ستر بار محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو دین کے لیے کسی کو چنتے ہیں”
    تو پھر میں نے بھی کہا کہ وردہ ذرا سوچو تو سہی کس کی محبت کی نظر تم پر پڑی؟ ایک تو محبت کی نظر جو تمہیں ویسے بھی اچھی لگتی دوسرا محبت کی نظر بھی کس کی ۔۔؟ اللہ کی ؟ اللہ سویٹ کی بس اب تو تم پڑھو گی

    پھر الحمدللہ آج وہ وقت ہے اللہ نے وہ لقب عطا فرمایا کہ جس کی نسبت اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف جاتی ہے اس کے محبوبﷺ کی طرف جاتی ہے
    اللہ ﷻان نسبتوں کی لاج رکھنے کی توفیق فرمائے اللہ قبول فر ما لیں اللہ سویٹ دارین میں بھلائیاں عطا فرمائیں حقیقی معنوں میں والدین، استاد اور شیوخ کے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اور رب اندرونی و بیرونی ملک میں احسن طریقے سے دین کا کام لیں رب اتنا قابل بنائے کہ دین سے نفرت کرنے والے دیکھ کر محبت کرنے لگ جائیں, اللهﷻ سنت مصطفیٰﷺ کا شیدائی بنا دیں اور آخرت میں آپﷺ کے ہاتھوں حوض کوثر سے پانی پینا نصیب ہو آمین ثم آمین
    والسلام
    بنت قاضی سخاؤالدین

  • حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    حج عام آدمی کی پہنچ میں کیسے آئے گا……؟ تحریر:محمد نورالہدیٰ

    ایک اکانومی عمرہ فقط 3 سے 4 لاکھ روپے میں ہو جاتا ہے۔ جبکہ حج کیلئے اس سے کم از کم 5 گنا زیادہ (ابتدائی) بجٹ درکار ہوتا ہے۔ حج میں عمرہ کی نسبت چند اضافی عبادات شامل ہوتی ہیں، جن میں منیٰ، عرفات (وقوف عرفہ) اور قربانی شامل ہیں۔ مزدلفہ کا قیام، رمی بھی عمرہ سے اضافی عبادات ہیں جو حج کا حصہ ہیں۔ مسجد الحرام سے فرض کی تکمیل کے بعد مذکورہ اسفار و قیام بھی حج کے دیگر اراکین میں شامل ہیں۔

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان ”اضافی“ عوامل کی مد میں حاجیوں کو لاکھوں روپے اضافی دینا پڑتے ہیں۔ مذکورہ ارکان کے بغیر ہونے والا عمل یعنی، عمرہ، جس میں رہائش، ائیرپورٹ سے آنے اور واپس جانے کا سفر، مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے واپس مکہ کا سفر وی آئی پی پیکج کے ساتھ بھی زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ سے اوپر نہیں جاتا۔ اگر آپ نارمل (اکانومی) عمرہ پیکج کا انتخاب کریں گے تو وہ بھی زیادہ سے زیادہ ساڑھے 3 لاکھ سے 4 لاکھ تک ہوگا، اس سے زیادہ نہیں۔

    اگر حج کو دیکھا جائے تو اضافی عوامل کے ساتھ یہ بھی اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہئے جتنا اسے کر دیا گیا ہے۔ شارٹ اور لانگ حج پیکجز کے ٹکٹ سے لے کر منیٰ، عرفات، مزدلفہ، مدینہ کے اسفار، رہائشی اخراجات اور دیگر سہولیات کا اصل ریٹس پر بریک اپ بنائیں تو یہ رقم زیادہ سے زیادہ بھی 9 لاکھ روپے سے اوپر نہیں جائے گی۔ وی آئی پی حج بھی ہو، تو زیادہ سے زیادہ 11لاکھ روپے تک بآسانی ہو جانا چاہئے۔ موجودہ حج ریٹس مکمل پیکج کے ساتھ 14 لاکھ سے شروع ہو کر 30 لاکھ تک جا رہے ہیں۔ گو، کہ عالمی مہنگائی کے باعث رہائش، مکاتب و مشائر اور دیگر کے اخراجات بڑھے ہیں۔ لیکن مختلف مدات میں ٹیکسز کے اضافے نے حج کی خواہش رکھنے والوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کی نسبت فی حاجی 1 لاکھ روپے خرچہ بڑھا ہے۔ رہائشی اخراجات میں 80 فیصد، طعام میں 100 فیصد، ہوائی سفر کے کرایہ جات کی مد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی ڈبل ہوئے ہیں جبکہ ویزہ فیس اور دیگر سہولیات کا خرچ بھی بڑھا ہے۔ یوں حج عام آدمی کی پہنچ سے مسلسل دور ہو رہا ہے۔

    حج کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ کے تناظر میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ ایک طرف، لیکن سعودی عرب میں ٹیکسوں میں اضافہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ 2021 ء میں کورونا کی وجہ سے جب حج کو صرف سعودی باشندوں کیلئے محدود کر دیا گیا تھا، تب بھی عمومی حج حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی حساب سے تقریباً 9 لاکھ روپے کا تھا۔ جبکہ اس سے محض ایک سال قبل تک یعنی 2020ء میں حج کی پاکستانی قیمت 5 سے 6 لاکھ روپے تھی۔ بعد ازاں 2 سالوں میں اب یہ کم از کم 15 لاکھ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ گو، کہ مشکل معاشی صورتحال کے باوجود حکومت پاکستان ہر سال حجاج کی سہولت کیلئے زر مبادلہ کا انتظام کرتی ہے۔ حاجیوں کو پیکج میں اچھی خاصی سبسڈی بھی دیتی آئی ہے۔ تاہم، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدات کی وجہ سے بھی کافی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ حجاج کو محدود بجٹ میں حج کا موقع دیا جائے۔ لیکن پاکستانی حکومت بھی آخر کتنی کوشش کر سکتی ہے، جب تک دوسرے ملک کی حکومت زائرین کیلئے ٹیکس فری انتظامات کے سلسلے میں تعاون نہ کرے۔
    یہ کس قدر بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو اس مرتبہ حج کا کوٹہ واپس کرنا پڑا؟۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقامی ہوٹلز کو کنٹرول کرنے کیلئے وہاں کی حکومت کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکتی؟ …… ہوٹلز کو سارا سال کمانے کا موقع ملتا ہے۔ عمرہ کی ادائیگی کیلئے پوری دنیا سے لاکھوں لوگ 24/7 بلا کسی تعطل کے اور مسلسل جا رہے ہیں۔ اکثر ایسا وقت بھی آتا ہے جب ہوٹلوں میں عمرہ زائرین کیلئے رہائشی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہاں کے کاروباری معاملات بھی ہر وقت رننگ میں رہتے ہیں۔ یعنی وہاں کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر اچھا خاصہ کما بھی رہے ہیں اور منافع بھی لے رہے ہیں۔ اگر ان مخصوص دنوں (حج کے ایام) میں انتظامی اور دیگر متفرق اخراجات حکومتی سطح پر کم بھی کر دئیے جائیں تو اس قدر منافع ہو جاتا ہے کہ اہلیان سعودیہ کئی سال آرام سے بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔ لہذا اگر حج کیلئے بھی عمرہ کے دنوں والے ریٹ قائم رکھے جائیں، تو رہائش گاہوں کے ”مالی استحکام“ میں فرق نہیں آئے گا، نہ ہی کاروباری سرگرمیوں میں کمی یا عدم استحکام پیدا ہو گا …… لیکن نجانے کیوں حج اور عمرہ کو سیاحت سے منسوب کرتے ہوئے اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر لیا جانے لگا ہے۔ دنیا میں کوئی ایک ملک، کوئی ایک مقام، کوئی ایک سفر تو ایسا ہونا چاہئے جو غیر منافع بخش اور ٹیکس فری ہو، بالخصوص اس مقدس اور مبارک سفر کو تو آسان اور قابل رسائی ہونا چاہئے۔ متعلقہ ملک کے ارباب اختیار کو اس پر سوچنا اور مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

    noorulhuda
    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز (محمد نورالہدیٰ)
  • سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران عبوری حکومت کے فوج کے ہاتھوں قبضے سے بڑھ گیا ہے. اس کے نتیجے میں ملک بھر میں مظاہرے اور مسلّح جھڑپیں ہورہی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ سے 1.1 ملین سے زیادہ پناہ گزینوں کی نقل مکانی ہوچکی ہے، بالخصوص اریٹیریا اور جنوبی سوڈان سے، جو اس وقت مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ان بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد وائٹ نیل ریاست اور خرطوم میں مقیم ہیں۔

    مسلّح جھڑپیں اور اس کے نتائج:
    سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے خاصا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور معاشی سرگرمیاں اس کی وجہ سے مکمل طور پر رک گئی ہیں. جس کے نتیجے میں اشیاء ضرورت، ادویات، آکسیجن اور جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی اپنی امداد معطل کر دی ہے. اس سے پہلے سے ہی سنگین حالات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    علاقائی تناظر اوراس کے اثرات:
    امریکہ جنگ زدہ علاقوں میں کشیدگی سے بھاگنے والے شہریوں کے لیے محفوظ راہداریوں کے قیام پر توجہ دے رہا ہے۔ پڑوسی ممالک پر منفی اثرات کو روکنے کے لیے نقصان پر قابو پانا ضروری ہے۔ سوڈان کے اندر بھی 2003 سے جاری دارفور میں جاری تنازعہ کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سوڈان کی تباہی کے مزید پھیلنے اور پڑوسی ممالک پر اثر انداز ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. خاص طور پر جب سوڈان کی جغرافیائی اور سیاسی مقام پر غور کرتے ہیں۔
    SudaneseCrisis

    جغرافیائی اور سیاسی اہمیت:
    خطے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سوڈان کے مقام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تیل کی پائپ لائنیں اور دریائے نیل جو جنوبی سوڈان میں یونٹی آئل فیلڈ کو پورٹ سوڈان سے ملاتا ہے، پڑوسی ممالک کی قسمت سوڈان کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ سوڈان میں جاری لڑائی ممکنہ طور پر چاڈ کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہے. حکومت نواز سوڈانی عرب ملیشیا، جنجاوید کے نام سے مشہور ہیں. ان کے اور چاڈ کے درمیان جھڑپیں ایک معمول کا مسئلہ ہے۔ ایتھوپیا کو دو طرفہ تشویش کا سامنا ہے، ایک سرحدی تنازعہ کو حل کرنا اوردوسرا گرینڈ ایتھوپیا رینیسانس ڈیم میں اپنا دعویٰ منوانا، جو کہ تکمیل کے بلکل قریب ہے اور ملک کی پانی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    وسطی افریقی جمہوریہ اور لیبیا کے تناظر اوراس کے اثرات:
    وسطی افریقی جمہوریہ ریاست سوڈان کے جنوب مغرب میں واقع ہے.یہ فرقہ وارانہ فسادات اور بدانتظامی کی ایک مثال ہے۔ اسے پہلے ہی خوراک کے ذرائع کی قلّت کا سامنا ہے، اور سوڈان کے حالیہ بحران نے خطے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سوڈانی پناہ گزین لیبیا کا رخ کر سکتے ہیں. اس سے موجودہ کمزور معاشی وسائل پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔
    SudaneseCrisi

    بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ:
    سوڈان میں موجود انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کلیدی نمائندہ گروہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے متحد ہو کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ سوڈان کے تمام متحارب دھڑوں کے ساتھ ایک جامع بات چیت کا آغاز ہونا چاہیے. تاکہ ایک ایسا حل تلاش کیا جا سکے جو دوستانہ، جامع ہو اور اس میں شامل تمام افراد کی فلاح و بہبود کو مددنظر رکھا جائے،

    نتیجہ: سوڈان میں انسانی بحران ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو متعدد عوامل کا ملغوبہ ہے، بشمول اندرونی تنازعات، جغرافیائی اور سیاسی تحفظات، اور علاقائی تناظر اور اثرات ۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ یکجا ہو کر تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں اور ایک پائیدار حل کے لیے کام کریں. ایسا حل جو سوڈان کی عوام کے مصائب کو کم کرے اور خطے میں مزید عدم استحکام کو روکے۔

  • اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر

    اب ڈھونڈ انہیں چراغ رخ زیبا لے کر :تحریر : الیاس حامد
    کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے وقت رخصت پر انسان تو انسان شجر و حجر بھی اشکبار ہوتے ہوں گے۔ انسان کا کسی کے ساتھ جتنا گہرا اور مبنی بر اخلاص تعلق ہو اس کے ہجر و فراق اور وصل و الصاق پر غم اور خوشی کا اثر بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ شاذ ونادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ خونی رشتہ بھی نہیں ہے اور داغ مفارقت پر اس قدر رنجیدہ اور غمناک ہوا جائے۔
    لاریب، یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ استاد محترم حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللہ کی رحلت دور حاضر کے عظیم واقعات میں سے ایک ہے ۔ ان کی وفات کی خبر ان کے چاہنے والوں اور الفت و عقیدت کا دم بھرنے والوں پر قیامت صغریٰ بن کر گزری، مجھ پربھی ان کی وفات کی خبر نے یہی اثر چھوڑا۔ جونہی نماز عصر کے بعد ان کی رحلت کی خبر ملی تو یوں لگا جیسے سب کچھ ہی اجڑگیا ہو۔ اس درد و الم سے لبریز خبر نے گویا چند لمحوں کے لیے سکتہ طاری کر دیا یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک مشفق و مربی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیاہے ۔اب کیا ہوگا۔ ہماری تو دنیا ہی اجڑ گئی، اس سانحے پر کیسے سروائیو کریں گے۔ اب ہمیں ہماری لغزشوں اور سستیوں پر کون متنبہ کرے گا اور اصلاح کا بیڑا اٹھائے گا۔ بس انہی خیالات میں گم کئی لمحات گزر گئے اورپاس ہونے والے حالات و واقعات کی سدھ بدھ ہی نہ رہی۔

    حافظ صاحب کا تعلق اور رشتہ بلا شبہ ہزاروں افراد سے تھا جن میں ان کے طلبا،اساتذہ کرام، جماعتی احباب، معاصرین بزرگ،رشتہ دارو دیگر افراد شامل ہیں اور ہر کسی کو ان سے جتنی بھی نسبت تھی وہ اس پر نازاں ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان سے کم سےکم قربت بھی بہت بڑے اعزاز والی بات ہے۔ اسی طرح ان کی رحلت کے بعد ہر کوئی چاہے گا کہ اس کے ساتھ جو ان کا حسن سلوک اور ہمدردی تھی اس کا اظہار کیا جائے ۔ ان کا ذکر خیر کرنا اب ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔
    یوں تو استاد محترم حضرت حافظ صاحب سب کے ساتھ ہی محبت واپنائیت اور خیر خواہی کا معاملہ کرتے تھے مگر جب ان کو ان کے پرانے شاگرد خصوصا جنہوں نے جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ کے ابتدائی بیجز میں فراغت حاصل کی ملتے تو حافظ صاحب کی خوشی دیدنی ہوتی ۔ اپنی مصروفیت ترک کرکے وقت نکالتے ، محبت اور اپنائیت کے ساتھ پاس بٹھاتےاور اپنے ہاتھ سے ضیافت اور مہمان نوازی کرتے اس پر اگر شاگرد از راہ ادب و احترام حائل ہوتے کہ استاد محترم آپ تکلیف نہ کریں ہم خود اشیائے اکل و شرب لے لیتے ہیں تو ایسا جواب دیتے کہ جس کے بعد مزید اسرار کی سکت نہ رہتی ۔

    حافظ صاحب کے ساتھ میری آخری ملاقات پیارے بھائی اور کلاس فیلو حافظ محمد ابراھیم صاحب کے ہمراہ ہوئی۔ حافظ صاحب تب بخاری کی شرح لکھنے میں اپنے ریسرچ روم میں ہوا کرتے تھے اور ملاقات وغیر بھی وہاں ہی ہوتی تھی، جب باہر والے گیٹ سے اندر پیغام پہچایا گیا کہ آپ کے طالب علم اور روحانی بیٹے آپ سے شرف ملاقات چاہتے ہیں تو نہ صرف اجازت دی بلکہ ہمیں لینے کے لیے باہر والے گیٹ پرخود آگئے دور ہی سے بلند آواز سے پکارنے لگے:”السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ ۔۔۔ واہ واہ مولانا صاحبان اھلا و سھلا اور ساتھ ہی گلے لگا لیا پر تپاک انداز سے معانقہ کیا۔ ہم نے عرض کی استاد جی آپ نے تکلیف کیوں کی ہم خود حاضر ہو رہے تھے تو کہنے لگے بیٹا ایسی بات مجھے اچھی نہیں لگتی جب میں آپ جیسے اپنے شاگردوں کو دیکھتا ہوں تو میرا خون بڑھ جاتا ہے دین کے طلاب اور علما کے لیے یہ تکریم تو باعث اجر ہے۔

    کمرے میں بیٹھنے کے بعد کمرے میں موجود فریج سے ضیافت کے لیے اشیا دیکھنے لگے تو ہم نے کہا استاد جی آپ تشریف رکھیں ہم خود لے لیتے ہیں۔ آپ بتادیں تو فرمانے لگے ” میری چیزیں کہاں پڑی ہیں آپ زیادہ جانتے ہیں یا میں خود ؟” اس جواب پر ہمیں مبہوت و مسکوت ہونا پڑا۔ پھر فریج میں سے فروٹ نکال کر اپنے ہاتھوں سے پیش کرنے لگے یہ سب مناظر ہمارے لیے ایسے تھے کہ جیسے ہم بے ادبی اور عدم تکریم کے مرتکب ہو رہے ہوں لیکن استاد محترم کا سختی سے حکم تھا کہ مولوی صاحب تشریف رکھیں اٹھنا نہیں ہے۔ ان کی یہ ضیافت کی ادا ہمارے لیے اب حکم استاذ تھی جسے اب حکم عدولی کرنے کی گنجائش نہ تھی ۔اس کے بعد استاد محترم ہم دونوں سے فردا فردا گھر کے افراد کی خیریت پوچھتے رہے جیسے ایک باپ اپنے بچوں کو دیر بعد ملا ہو تو ان سے سب بچوں بارے دریافت کرے ہم حیران تھے کہ فراغت کو دو دھائیاں بیت چکی ہیں۔ استاد محترم ہمارے نجی رشتوں کو اب بھی جانتے ہیں اورخیریت دریافت کر رہے ہیں۔ پھر مصروفیت کا پوچھنے لگے کہ کیا کر رہے ہیں اور ان سب میں سے ان کا اہم سوال تھا کہ جمعہ پڑھا رہے ، درس و تدریس کا کام کر رہے ، دین کے لیے کیا کر رہے ؟ ۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ یعنی ہمارے جانے کے بعد بھی ان کو ہمارے دین اور آخرت کی اتنی فکر تھی ۔۔ فجزاہ اللہ لذالک

    حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کی جہاں بہت سی خوبیاں تھی وہاں یہ بھی ایک خوبی تھی کہ وہ خود سے چھوٹے افراد اور اپنے شاگردوں کو بھی ‘آپ، تسیں’ صیغیہ جمع برائے ادب سے مخاطب کرتے تھے ، یا بھائی کہہ کر پکارتے تھے ۔
    حافظ صاحب مجھے فرمانے لگے الیاس بیٹاآپ کا وہ واقعہ میں اپنے درس اور تقاریر میں اکثر و بیشتر بیان کرتا ہوں جب آپ کالج چھوڑ کر گھر سے بھاگ کر مدرسے آئے تھے اور آپ کے والد صاحب جو کہ پولیس میں تھے واپس لینے مدرسے پہنچ گئے تھے ۔پھر آپ ساتھ نہیں گئے بلکہ چھپ گئے ۔ دینی تعلیم مکمل کر کے ہی گئے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے والد صاحب کو بھی اللہ نے سمجھ دے دی۔ وہ کیسے سمجھے اس کے درمیان ایک واقعہ ہے جو مجھے ابھی اچھی طرح مستحضر نہیں ہے اپنا قصہ دوبارہ سنائیں تاکہ میں بہتر انداز سے اس کو بطورتحریض اور موٹیویشن بیان کروں کہ سکول و کالج کے بچوں کے لیے ایک ترغیب ہو۔

    میں نے اختصار سے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے اپنا جامعہ میں آنے تعلیم حاصل کرنے کا واقعہ سنایا، اس میں ٹرننگ پوائنٹ یہ تھا کہ میری تعلیم کے دوران والدہ صاحب رحمہ اللہ کا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیاتھا جس کے بعد اللہ نے انکی خدمت کرنے کا موقع دیا جس میں راتوں کو بھی جاگنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا اور دین کی محبت دل میں ڈال دی۔
    مجھ سے میری بات سننے کے بعد حافظ صاحب فرمانے لگے میں تو اب سامعین کو کہتا ہوتا ہوں دیکھو اب وہ طالب علم اپنی تحریر و تقریر سے دین کا کام کرتا ہے لاکھوں لوگ اس کی تحریر پڑھتے ہیں، حافظ صاحب کا اشارہ جماعت کے میگزین اور جریدے کی طرف تھا کہ جس کی ادارت ایک عرصہ تک میرے ذمہ رہی۔ میرے جیسے ناچیز کے لیے اس سے بڑھ کر متاع حیات کیا ہوسکتی تھی کہ استاد محترم اپنی تقریر میں مجھے مثال کے طور پر بیان کریں، اس موقع پر دینی و ملکی مسائل بھی زیر بحث رہے جس پر استاد محترم نے ہماری ذہنی سازی کی اور دل میں موجود موہومات کو دور کرنے کا سامان پیدا کیا ، پھر ہم نے جب ان سے رخصت کی اجازت چاہی تو محترم حافظ صاحب علیہ الرحمہ ہمارے روکنے کے باوجود پھر سے ہمیں الوداع کرنے باہر والے گیٹ تک چل کر آئے اور جاتے ہوئے گلے لگا کر ڈھیروں دعائیں دے کر رخصت کیا۔
    آہ ۔۔۔ آج وہ استاذ ، وہ مربی ، وہ خیرخواہ ، وہ ہمدرد ، وہ روحانی باپ ہم میں نہیں ہے۔ ان میں علمی ، تدریسی ، تالیفی ، دعوتی، ابلاغی خوبیاں تو بدرجہ اتم موجود تھیں ۔ وہ کس قدر علم کے سمندر اور حکمت و ادب کے پہاڑ تھے ، وہ اس دور کے ابن حجر تھے ایسی اور دیگر کئی خوبیاں جن کا شائد ہمیں ادراک ہی نہ ہوان سب کا حظ وافر اللہ نے انہیں ودیعت کیا تھا۔ لیکن ایک پہلو جسے میں نے محسوس کیا اور مشاہدے کی بنا پر بیان کیا ایسی خوبیاں سینکڑوں افراد نے حافظ صاحب کی ذات میں نوٹ کی ہوں گی۔ دعا ہے کہ اللہ ان کی بشری لغزشوں سے اعراض فرما کر ان کی اسلام کے لیے کاوشوں کو قبول فرما کر اعلیٰ جنتوں میں جگہ دے ہمیں اپنے استاد محترم کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ ان کی دینی وراثت جو ہم تک پہنچی ہے اس کو آگے لے کر چلیں اللہ ان کے مشن پر چلنے کی توفیق دے۔

  • سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    سفرِ حجاز…… چند مشاہدات …… تجاویز،محمد نورالہدیٰ

    گذشتہ دنوں مجھے سفرِ حجاز کا موقع ملا۔ اس سفر کے دوران بے شمار مشاہدات ہوئے۔ بہت سے زائرین سے ملاقات اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ زائرین کی پریشانیوں اور ان پریشانیوں کی وجہ بننے والے عناصر کے بارے میں جاننے کا اتفاق ہونے سمیت کافی تلخ حقائق بھی نظر سے گزرے۔

    میرے مشاہدے میں آیا کہ حرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی) میں نمازیوں کی خدمت پر مامور عملہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔ شاید سعودی نجی ادارہ اس کام کیلئے کسی اور ملک کے لوگ رکھتا ہی نہیں۔ ان لوگوں کی ڈیوٹی حرمین کے عربی ملازمین سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ یہ معمولی تنخواہ کے عوض یہاں کام کر رہے ہیں۔ واٹرز کولرز کی بھرائی، حرمین کی بار بار فرشی اور واش رومز کی صفائی کرتے رہنے سمیت دیگر فرائض ہر گزرتے منٹ مسلسل ادا کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔ تمام ڈیوٹی کے دوران مسلسل کھڑے رہنا ان پر جیسے فرض کر دیا گیا ہے۔ سخت دھوپ میں بھی انہیں اپنے امور مسلسل نبھاتے رہنا ہے۔ اس دوران انہیں بیٹھنے کی اجازت ہے اور نہ ہی سستانے کی۔ یہ خادمین بظاہر خوش باش دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے یہ خالی ہیں۔ میں نے ان کے چہروں پر بے بسی کے واضح آثار دیکھے ہیں۔

    حرمین کے واٹر کولرز (زمزم) پر ذمہ داری ادا کرنے والے ایک ہندوستانی خادم سے میں نے کہا کہ تم فارغ ہی کھڑے ہو۔ پانی کا کولر بھی بھرا ہوا ہے اور پینے والوں کا رش بھی نہیں ہے۔ فالتو کھڑے رہنے کی بجائے تھوڑی دیر بیٹھ کیوں نہیں جاتے؟۔ جواب ملا کہ چاہے پانی پینے والا کوئی نہ ہو، واٹر کولر بھی بیشک بھرا ہو، ہمیں اپنی ڈیوٹی کے دوران بیٹھنے، آرام کی اجازت نہیں ہے…… صفائی کے فرائض سر انجام دینے والے ایک بنگلہ دیشی لڑکے نے بتایا کہ تنخواہ محدود ہے اور ڈیوٹی سخت، مگر جو ملتا ہے صبر و شکر کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔

    دورانِ سفر میں نے بارہا ہوٹلوں میں زائرین کو رہائش، آمد و رفت اور ٹریولنگ ایجنسیوں سے متعلقہ دیگر امور پر خوار ہوتے دیکھا۔ انہیں اپنے الاٹ شدہ مقامی ایجنٹوں سے رابطہ میں شدید مشکل اور پریشانی کا سامنے کرتے پایا۔ کیونکہ یہاں آنے کے بعد وہ قدم قدم اُس کمپنی کے ایجنٹ کے محتاج ہوتے ہیں جس کے ذریعے وہ ویزہ لگوا کر یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ مگر ایجنٹ حضرات کی جانب سے مناسب رسپانس نہ ملنے پر وہ سخت خاصی کوفت کا شکار رہتے ہیں۔

    میرے پاس قلمبند کرنے کو کئی داستانیں موجود ہیں۔زیادہ تر داستانیں پہلی بار حجاز مقدس جانے والوں کی پریشانیوں پر مشتمل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زائرین اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے کہ ان کی سہولت کیلئے وزارت حج و عمرہ موجود ہے، جہاں وہ اپنے مسائل و مشکلات کے ازالے کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایجنٹ حضرات اس لاعلمی کا خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے مشاہدے کی غرض سے کئی ہوٹل وزٹ کئے۔ مجھے مذکورہ صورتحال سے مختلف دکھائی نہیں دی۔ صرف 3 فیصد لوگ اپنے ایجنٹوں سے مطمئن دکھائی دیئے۔ باقی 97فیصد لوگوں سے مجھے ان ٹریول سروسز اور ایجنٹس کے خلاف بددعائیں ہی سننے کو ملیں۔

    کئی پاکستانی زائرین سے گفتگو کے دوران مجھے ایک اور مشاہدہ بھی ہوا کہ حج، عمرہ کی سروسز فراہم کرنے والی اکثر کمپنیاں (ٹریولنگ ایجنٹ) غلط بیانی کر کے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔ جو لوگ گروپ کی صورت میں جانا چاہتے تھے، انہیں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ آپ چلے جائیں، گروپ وہیں جا کر بنے گا۔ وہاں پہنچ کر کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون کس کمپنی یا ٹریول ایجنٹ کی طرف سے آیا ہے۔ لہذا انفرادی طور پر آنے والے زائرین کو اکیلے ہی اپنی سرگرمیوں کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ آنے والوں کو تیاری کر کے آنے کے باوجود فرائض کی انجام دہی میں قدم قدم مشکل پیش آتی ہے۔

    اس کے برعکس میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے لوگ گروپس کی صورت میں آتے ہیں اور اجتماعی عبادات کرتے ہیں جس سے نہ صرف اک دوسرے کو ترویج و تحریک ملتی ہے بلکہ اس اجتماعی عمل سے دیگر افراد بھی استفادہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر پہلی مرتبہ آنے والوں کو مشترکہ سرگرمیوں کی وجہ سے کافی سہولت رہتی ہے۔ انہیں گائیڈ بھی میسر ہوتا ہے جس کی راہنمائی میں وہ عبادات میں خود کفیل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سفر کا فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    میں نے یہ عمل ملائیشیا، انڈونیشیا، فلپائن، برما، بنگلہ دیش، انڈیا، عراق، اور چند دیگر ممالک سے آنے والوں میں دیکھا۔ جو ہوٹل سے لے کر تمام عبادات اور واپسی تک اجتماعی عوامل سر انجام دے کر اک دوسرے کی راہنمائی کرتے اور قدم قدم پر مشترکہ عمل کرتے ہیں۔ جبکہ گروپس کی یہ سہولت صرف پاکستان کے چند ہی شہروں سے آنے والے زائرین کی صورت میں دکھائی دی۔ شاید پاکستان کے ٹریولنگ ایجنٹس کو یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ سالانہ کتنے زائرین بھجوا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں کتنی کمائی ہو رہی ہے۔ زائرین کی پریشانیوں سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔

    دوسری جانب حرمین کے انتظامی معاملات کے حوالے سے مجھے بیشتر امور پر رائے دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ میں سعودی حکام اور بالخصوص وزارت حج و عمرہ کو اس پر چند تجاویز ارسال کرنے کا متمنی ہوں، کیونکہ ان امور پر ہنگامی اقدامات وقت کا تقاضہ ہیں۔ اپنی ارسال کردہ تجاویز اور آراء میں سعودی وزارت حج و عمرہ سے یہ بھی درخواست کروں گاکہ مختلف ممالک کے شہریوں کو ویزہ جاری کرتے ہوئے عدم تعاون کے حامل مقامی ایجنٹوں کی شکایت کیلئے سہولت کا کوئی نمبر بھی جاری کیا جائے …… زائرین کی آسانی کیلئے نہ صرف ہوٹلوں میں شکایت کاؤنٹر بنائے جائیں، بلکہ ایک فعال آن لائن کمپلینٹ پورٹل بھی بنایا جائے تا کہ زائرین اپنی شکایت رجسٹرڈ کروا سکیں اور ان کی مشکل کا فوری ازالہ ممکن ہو سکے …… حج کا سیزن شروع ہو چکا ہے۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ بیان کردہ صورتحال کی مانیٹرنگ اور یقینی ازالے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، نیز اگر اپنے ویژن 2030ء میں مذکورہ امور بھی شامل کرلے تو زائرین کی سہولت اور آسانی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

  • کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    ایران اور افغانستان کے درمیان 1973 میں دو طرفہ پانی کے مطلق معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم، ایران میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے داخلی نقل مکانی کی بڑی وجہ پانی کی قلت اور بڑھتا ہوا گرم موسم کہا جاتا ہے۔ 2021 میں، تقریباً 41,000 ایرانی بوجہ جنگلات کی کٹائی، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے اپنے قدرتی رہائش گاہوں سے بے گھر ہوئے۔ایرانی اور افغان کی افواج کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، ایران دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان کم پانی چھوڑ رہا ہے جو کہ دوطرفہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایران کا جنوب مشرقی علاقہ جو خشک سالی سے شدید متاثر ہے، افغانستان سے آنے والے پانی پر کثیر انحصار کرتا ہے۔

    افغانستان کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیم کھلنے کے باوجود بھی پانی ایران میں نہیں جائے گا۔ دو طرفہ آبی معاہدے کے مطابق افغانستان دریائے ہلمند سے سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی ایران کو فراہم کرنے کا پابند ہے۔
    ایران کا دعویٰ ہے کہ جب سے طالبان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، اس نے معاہدے کے تحت طے شدہ پانی میں سے صرف 4 فیصد پانی حاصل کیا ہے (حسن کاظمی قومی، ا ایرانی خصوصی نمائندہ براے افغاستان : RFE/RFL ریڈیو فاردا، 19 مئی، 2023)۔

    پانی کی قلت کی کے بڑھنے سے ایران کو اپنی عوام کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کے برعکس افغانستان میں جاری خشک سالی، جو 2021 سے 2022-2023 تک برقرار رہی، اس نے پانی کے بحران کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ 20 نومبر 2022 کی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق، "79 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پینے، کھانا پکانے، نہانے یا طہارت جیسی اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے پانی ناقافی ہے۔ خوراک کی قلّت اور گھرداری پر تباہ کن اثر۔”

    افغانستان کے کم پانی رکھنے کے دعوے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، بلخصوص کمال خان ڈیم کی 2022 میں تکمیل کے مدنظر۔ افغان صدر غنی نے ایران کو مفت پانی کی فراہمی بند کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا تھا، اور ایران کے ساتھ پانی کے بدلے تیل کے تبادلے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس سے افغانستان کی پانی کی قلّت کے دعووں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
    کیا کمال خان ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باوجود بھی افغانستان میں سابقہ خشک سالی برقرار ہے یا نہیں، اس کا اندازہ صرف آزاد ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ ان سے معاملات کی جانچ اور ایک فیصلہ تک پہنچنا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہونا چاہئے۔

  • کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟

    کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟

    کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟
    ہاں وہ کر سکتے ہیں. اطلاعات کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے ایک سفارت کار نے اشارہ دیا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ ریاض کے جوہری پروگرام کے حصول پر رضامند ہو جائے اس شرط پہ کہ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں ۔ تاہم، یہ مطالبہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے، اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں امریکہ اس کی تعمیل کرے گا۔ ریاض نے معاہدے پر دستخط کرنے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے جب تک کہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی دفاعی تعاون نہ ہو ۔
    سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ہی مختلف حوالہ سے امریکہ کے لیے اہم اتحادی ہیں. حالیہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے، اور ایران اور شام کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم، امریکہ جمال خاشقجی کے قتل کو نہیں بھولا. اس کے ساتھ ساتھ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے سعودی عرب کے عزم نے تعلقات کو متاثر کیا ہوا ہے۔

    اسی دوران، واشنگٹن میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سعودی عرب اسرائیل سے سنجیدہ سفارتی کوششوں کی بھی توقع رکھتا ہے. بالخصوص تجارت کے لیے فلسطینی کرنسی کے استعمال کے حوالے سے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ ریاض ابراہم معاہدے میں شامل نہیں ہوا۔

    اگر دونوں ملک ان مشکلات سے نمٹیں اور سفارتی تعلقات قائم کر لیں تو کافی مثبت نتائج نمودار ہوسکتے ہیں۔ اولین طور پہ، یہ مشرق وسطیٰ میں پختہ امن و استحکام کے قیام کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مفاہمت کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی تنازعات کو حل کیا جائے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ دوم، یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ بیشتر عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ تیسرے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا انحصار اس چیز پہ ہے کہ اس وقت اقتدار میں بادشاہ کا طرز عمل کیا ہے۔ بالاخر، یہ بات قابل غور ہے کہ اگرچہ اسرائیل اور سعودی عرب کے علاقائی مفادات بعض مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ واشنگٹن کے مفادات سے بھی ہم آہنگ ہوں۔

    اس کے باوجود بھی، اگر آخرکار تل ابیب اور ریاض کے مابین کوئی معاہدہ طے پاتا ہے، تو یہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

    افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

  • گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    گھریلو ناچاقیوں میں زبان کا کردار،تحریر: افضال احمد

    حکیم لقمان سے ان کے آقا نے کہا ایک بکری ذبح کرکے اس کے بہترین حصے کا گوشت لے آئو‘ وہ ذبح کرکے ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے آئے۔ پھر کہا ایک اور بکری ذبح کرکے اس کا بدترین گوشت لے آئو وہ دوبارہ ’’دل‘‘ اور ’’زبان‘‘ لے کر آگئے۔ مطلب یہ تھا کہ یہ حصے جتنے اچھے ہیں ہماری لاپروائی سے اتنے ہی بُرے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ’’زبان‘‘ جسم کا نازک ترین عضو ہے لیکن گوشت کے اس چھوٹے سے لوتھڑے نے دنیا میں جو قیامتیں ڈھائیں ہیں اور انقلاباتِ زمانہ کو جنم دیا ہے اس کی تاریخ بہت طویل اور حیران کن ہے۔
    زبان قوت گویائی کا وسیلہ ہے اور یہی چیز اسے ایک اشرف عضو کا درجہ دیتی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم اپنے خیالات و احساسات دوسروں تک پہنچاتے ہیں‘ ذائقوں کا مزہ اُٹھاتے ہیں‘ یہی زبان ہمیں موت کا پیغام بھی دیتی ہے اور زندگی کی نوید بھی سناتی ہے ہمیں زخمی بھی کرتی ہے اور ہمارے زخموں کا مداوا بھی کرتی ہے۔ زبان سے آپ اچھی باتیں کر کے کسی کا دل جیت سکتے ہیں اور کسی کو گالم گلوچ اور دل دکھانے والی باتیں کرکے دل آزاری بھی کرتے ہیں۔ یہی زبان آپ کو امید دلاتی ہے اور آپ کی امیدوں کو خاک میں بھی ملاتی ہے۔

    زبان کے کرشمے اتنے گونا گوں اور وسیع ہیں کہ انہیں زندگی کے ہر ہر مرحلے پر اور ہر شعبے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ زبان کے گھائو جو تلوار کے زخم سے بھی زیادہ گہرے ہیں اور جن سے ہمارے معاشرے میں کروڑوں انسان مختلف مسائل کا شکار ہیں آپ بھی اگر کسی ’’زبان‘‘ کے زخم خوردہ ہیں تو کبھی کبھی رات کی تنہائیوں میں اس کا درد ضرور محسوس کرتے ہوں گے‘ ہماری زبان کے یہ وار معاشرے کے کئی دلچسپ پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں زبان انسان کی بہترین دوست ہے لیکن کبھی کبھی بدترین دشمن ثابت ہوتی ہے۔ بزرگوں کا قول ہے ‘ پرانے وقت کے بزرگوں کا قول ہے :جب تک زبان آپ کے قابو میں ہے یوں سمجھیں کہ تلوار نیام میں ہے‘ جونہی آپ نے کوئی لفظ بولا یہ تلوار دوسرے کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے‘ معذرت سے آج کل کے 90 فیصد بزرگ بھی اپنی زبان کا غلط استعمال کر رہے ہیں‘ چند بزرگ تو اپنے بیٹے‘ بیٹیوں کا گھر برباد کرنے میں بہت معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
    حضرت امام غزالیؒ نے ’’منہاج العابدین‘‘ میں زبان کی آفات کے باب میں ایک حدیث کا خلاصہ نقل کیا ہے ’’جب انسان صبح کرتا ہے تو بدن کے تمام اعضاء (ایک طرح گویا ہاتھ جوڑ کر) زبان سے عرض کرتے ہیں کہ تُو ہمارے معاملے میں خیال رکھیو ہمارا صحیح استعمال تیرے صحیح استعمال پر موقوف ہو گا‘‘۔ میرا علم ناقص ہے لیکن ’’علماء کرام‘‘ بہتر جانتے ہیں۔ میرا تو مقصد صرف معاشرے کی اصلاح کرنا ہے جانے انجانے میں غلط بات بھی لکھ سکتا ہوں اپنے قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے مضامین پر عمل ضرور کیا کریں اور ’’نماز‘‘ کے پابند ہو جائیں میں نہیں چاہتا کہ میرے قارئین دنیا تو سنوار لیں اور آخرت میں پھنس جائیں کیونکہ نماز کی معافی نہیں ہے۔ اس لئے سب بھائی‘ بہنوں اور خاص طور پر بزرگوں سے گزارش ہے کہ نماز کی پابندی کریں اور دل سے میرے لئے دعا کیا کریں‘قارئین سے کہنا چاہوں گا آپ اس اخبار کو باقاعدگی سے خریدا کریں اس اخبار نے مجھے لکھنے کیلئے معقول جگہ دی ہے انشاء اللہ یہ اخبار آپ کی اصلاح کا باعث بنے گا۔

    بات چل رہی تھی زبان کی تو میں یہاں زبان کی طاقت کیا ہے؟ اس کی ایک مثال سے وضاحت کرتا ہوں ’’میاں بیوی کے درمیان نکاح ہوتا ہے ‘میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے جائز ہو جاتے ہیں جیسے ہی شوہر اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق‘ طلاق‘ طلاق کہہ دیتا ہے تو یہ میاں بیوی چاہے برسوں سے ساتھ تھے ایک دوسرے پر حرام ہو جاتے ہیں‘‘۔ ہم جانے انجانے میں روزانہ اپنی زبان سے لوگوں کا دل دکھاتے ہیں لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں‘ غیبت کرتے ہیں‘ دفاتر میں بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آج کل کی نوجوان نسل شادی کے بے جا رسم و رواج کیلئے پیسہ جمع نہیں کر پاتی تو وہ پھر کیا کرتے ہیں؟ فون کا غلط استعمال کرتے ہیں نوجوان لڑکے لڑکیاں آج کل فون پر جیسی زبان استعمال کر رہے ہیں ایسی زبان تو میاں بیوی کے درمیان کرنا بھی شاید جائز نہیں۔ بات فون سے حقیقت میں ملنے تک بھی آجاتی ہے اور یہ سب زبان کا غلط استعمال ہے جس سے جسم کے دوسرے اعضاء بھی گنہگار ہو جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ زبان کی طاقت صرف ’’طلاق‘‘ تک محدود نہیں باقی سب (جھوٹ ‘ غیبت‘ بات بات پر گالم گلوچ‘ فون پر غلط بات وغیرہ وغیرہ) ان سے بھی روکا گیا ہے اور جو گناہ ان چیزوں کے بارے بتائے گئے ہیں مل کر رہیں گے۔

    آج کے برق رفتار دور میں زبان کا جتنا غلط استعمال ہو رہا ہے شاید ہی کسی اور چیز کا غلط استعمال ہو رہا ہو۔ گھریلو ناچاقیاں کیا ہوتی ہے؟ یہ زبان کی وجہ سے ہی پیدا ہوا کرتی ہیں‘ ساس‘ بہو‘ نند‘ بھابی‘ دیورانی‘ جیٹھانی یا گھر میں جو بھی مرد موجود ہیں آپس میں حالات کب خراب ہوتے ہیں؟ جب انسان اپنے گھر میں غلط بات کرتا ہے یہاں سے گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اور جن گھروں میں گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں اُن گھروں میں خود کشیاں یا موت کا بازار گرم رہتا ہے ‘ ہاں جب گھریلو ناچاقیوں کے باعث بہت سے لوگ خودکشیاں کر لیتے ہیں تو ان کے پیچھے جو موجود لوگ ہوتے ہیں جن کی ’’زبان‘‘ سے نکلی بات کی وجہ سے یہ خودکشی ہوتی ہے وہ ضرور پچھتاتا ہے اور کہتا ہے ’’کاش میں نے اپنی زبان‘‘ کو کنٹرول میں رکھا ہوتا تو آج یہ زندہ ہوتا۔تو بھئی! کاش کو اپنی زندگیوں سے نکال باہر پھینکوں اپنی زندگیوں کو بدلوں اپنی ’’زبان‘‘ پر کنٹرول رکھو یہ زبان ہی آپ کے گھروں کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔

    طلاقوں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ زبان کے غلط استعمال کی وجہ ہے۔ ساس کو بہو نہیں بھاتی بہو کو ساس نہیں بھاتی‘ دیورانی کو جیٹھانی نہیں بھاتی ’مرد‘‘ بیچارا سارا دن لوگوں کی باتیں سن سن کر برداشت کرکے روزی روٹی کما کر گھر آئے تو آگے گھر کی خواتین اُس مرد کو ایک دوسرے کی شکایتیں لگاتی ہیں‘ ماں بیٹے کو کہتی ہے ’’تیری بیوی تو سارا دن سوتی ہے کوئی کام نہیں کرتی‘ اسے تو تیری بوڑھی ماں کی بھی فکر نہیں‘‘ بیوی شوہر کو الگ سے پورے گھر والوں کی شکایتیں لگاتی ہیں تو ایک مرد کہاں جائے؟ مرد کی کون سنتا ہے؟ عورت کو تو اقوام متحدہ تک سپورٹ حاصل ہے۔ مرد کی جب کوئی سننے والا ہے ہی نہیں نہ کوئی ایسا ادارہ قائم ہے جو اس بے چارے کی سنے آخر کار پھر مرد کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ان سب فسادات کی جڑ ’’زبان‘‘ ہے اپنے گھروں ‘بازاروں‘ دفاتر میں زبان پر قابو رکھیں کسی کا دل مت دکھائیں۔