Baaghi TV

تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:بابر امین ابر

تمباکو کا آغاز سب سے پہلے امریکہ کے مقامی باشندوں کے ہاں ہوا۔ ریڈ انڈینز اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ قریباً چھ ہزار قبل مسیح میں وسطی اور جنوبی امریکہ میں تمباکو کے پودوں کی کاشت کاری کی گئی۔ ابتدائی طور پر اسے مذہب رسومات، علاج اور روحانی تقریبات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے نزدیک دھواں دعائیں آسمان پر پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ 1492ء میں کرسٹوفر کولمبس جب امریکہ پہنچا تو اس نے مقامی لوگوں کو تمباکو پیتے دیکھا پھر وہ تمباکو کے بیج اور پتے یورپ لے گیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کی لت پھیلنا شروع ہوئی۔ ابتدا میں لوگ اسے پینے کے لیے لکڑی اور مٹی کے پائپ استعمال کرتے تھے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں اسے بادشاہوں، فوجی حلقوں اور امراء کی شان و شوکت کی علامت سمجھا جانے لگا۔ سگار میں تمباکو بھر کر پینا بھی شان و شوکت اور امراء کی عزت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔انیسویں صدی میں مشینوں کی مدد سے سگریٹ تیار ہونا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں تیزی آ گئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں سپاہیوں کو سکون مہیا کرنے کے مواد کے طور پر سگریٹ بھی دیے جاتے تھے۔ تاہم 1950ء میں سائنس نے یہ بات ثابت کی کہ تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کا کینسر، سانس کے مسائل اور دل کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
تمباکو نوشی ایسی عادت ہے جس سے صرف فرد واحد کی زندگی نہیں بلکہ معاشرہ تباہ و برباد ہوتا ہے۔ آج پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی اور منشیات کا استعمال ستعمال جنون کی حد سے گزرنے والا ہو چکا ہے۔ تمباکو اپنے اندر نکوٹین اور کئی زہریلے کیمیکل رکھتا ہے جو دل، دماغ اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس سے فالج ہونے کا اندیشہ بھی لاحق رہتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والا صرف خود ہی متاثر نہیں ہوتا ہے بلکہ آس پاس بیٹھے لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ پیسو سموکنگ کہلاتا ہے۔

آج کی نئی نوجوان نسل ملکِ عزیز کی ترقی کا زینہ بننے کی نسبت تمباکو نوشی اور دیگر نت نئے ایجاد ہونے والے نشوں میں ڈوبتے جانا زیادہ پسند کرتی ہے۔ نا صرف ذاتی زندگی تباہ و برباد کرتے ہیں بلکہ حلقۂ احباب کو بھی اس لت کا عادی بناتے ہیں۔ سگریٹ، آئس اور پائپ جیسے نشے آج بطور فیشن استعمال کیے جاتے ہیں۔ دوست احباب آپس میں مل بیٹھ کر علمی مباحث کرنے کی بجائے سگریٹ، آئس اور پائپ یا حقے کی مختلف فلیور استعمال کر کے زیادہ روحانی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ اسے شخصی آزادی اور ہائی ویلیو سٹیٹس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں نئی نسل کو اس برائی سے بچانے کے لیے حکومت کو اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا پڑے گا۔ حکومتی اقدامات اور تنبیہات کے باوجود بھی تمباکو نوشی کا استعمال اپنی حدود سے تجاوز کرتا جا رہا ہے۔ اب تو سکول، کالج اور گرلز ہوسٹل بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس مسئلے کے سلجھاؤ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ جو کہ معمارِ قوم ہیں۔ ان کے پاس علم کی نورانی قوت موجود ہے۔ انھیں چاہیے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور عادات پر توجہ مرکوز کریں۔ انھیں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے رہنمائی فراہم کریں اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد اولین ترجیح بنائیں۔ تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم چلائیں۔ والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور بری صحبت پر خصوصی طور پر نظر رکھیں۔

سگریٹ کی تشہیری مہم اور پروگرامز کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے۔ علماء اور سماجی رہنما اس سلسلے میں معاون کا کردار ادا کریں۔ عوام میں تمباکو نوشی اور دیگر نشہ جات کے خلاف سماجی بیداری اور آگاہی کی مہم چلائیں۔

کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے نئی نسل ایک بیش قیمت خزانہ ہوتی ہے۔ اس کی حفاظت اور کردار سازی کے لیے حکومت اور عوام کو مل جل کر کردار ادا کرنے ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی نوجوان نسل کو ہنر، مہارتیں اور ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے نوجوان بجائے مہارتوں کے حصول، فنی خدمات اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے، کلف لگے اکڑے لباس پہن کر ہاتھوں میں سگریٹ اور دیگر نشے تھامے ناصرف خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کے نقصان کے ضامن بنتے ہیں۔

دینِ اسلام حلال اشیاء کی ترغیب دیتا ہے اور برائی اور بری اشیاء چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ہر اس نشہ آور شے کو حرام قرار دیتا ہے جو انسان کو ہوش و حواس سے بیگانہ کرے اور اسے کسی بھی بری لت کا شکار بنائے۔
اس ضمن میں حکومت کو خصوصی اقدامات اٹھانے اور قوانین کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔ تب ہم کہیں جا کر پاکستان کو تمباکو سے پاک صاف پاکستان بنا سکتے ہیں۔

More posts