تمباکو سے پاک پاکستان ایک ایسا موضوع ہے ۔ جو آج کے دور میں ایک المیہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ پہلے لوگ تکیوں اور ڈیروں پر بیٹھ کر حقہ پیتے تھے ۔ یہ شام کے مخصوص اوقات میں جب حقہ گرم کیا جاتا تھا ۔ اور جب حقہ ڈال لیا جاتا تھا ۔ تو گرد و نواح سے دوست احباب اکٹھے ہو کر محفل کو گرمایا کرتے تھے۔
جیسے وقت کے ساتھ باقی روایات بدلیں۔ویسے ہی حقے کو بنانے کا تردد کرنے کی بجائے بآسانی سگریٹ خرید کر اس طلب کو پورا کیا جانے لگا ۔ اور حقہ چند مخصوص لوگوں تک محدود ہو کر رہ گیا ۔ اور آہستہ آہستہ معاشرے میں تمباکو نوشی پھیلے لگی۔ کوئی عادتا پیتا ۔ اور کوئی شوقیہ دیکھا دیکھی پینے لگا۔ کوئی اپنے غم کو غلط کرنے کے لیے پیتا ہے ۔ اور کوئی اپنے آپ کو اسٹائل دینے کیلئے اس دھوئیں کو پھونکنے لگا ہے ۔ اور آج کا ہمارا المیہ ہماری نوجوان نسل ہے جونشے کی دلدل میں دھنستی جارہی ہے ۔ کیونکہ ہر نشے کا آغاز سگریٹ نوشی سے ہی ہوتا ہے۔ پہلے مذاق مذاق میں دوست ایک دوسرے سے سگریٹ لے کر پیتے ہیں۔ اور جو نہیں پیتے ان کو زبردستی پلایا جاتا ہے ۔
اور سگریٹ نوشی کوئی کسی بھی نشے کو کرنے کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے ۔ کہ سگریٹ نوشی سے جسم میں نکوٹین کی طلب بڑھتی جاتی ہے ۔اور یوں سگریٹ پینے والا اس طلب کو پورا کرنے کے لیے بار بار سگریٹ پیتا ہے ۔اور یوں وہ زندگی بھر کے لئے اس کا عادی ہو جاتا ہے ۔ تمباکو نوشی کرنے والا صرف خود کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے گرد و نواح لوگ بھی اس کے خارج کردہ دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ بالخصوص بچوں، بوڑھوں اور بیمار لوگوں کے لئے کہا جاتا ہے ، کہ ان کی موجودگی میں سگریٹ نوشی سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ وہ دھواں سانس کے ذریعے دوسرے لوگ اندر (inhale ) لے جاتے ہیں
اور وہ دھواں ان لوگوں کے لیے ایسے ہی نقصان دہ ہے جیسے کسی سگریٹ نوش کے لئے ہے ۔ لیکن لوگ اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کرتے، اور جہاں ان کا دل کرتا سگریٹ سلگھا کر محظوظ ہونے لگتے ہیں۔
سگریٹ نوشی انسانی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ جس میں سرفہرست کینسر آتا ہے ۔اس کے بعد دل کے امراض، منہ اور مسوڑوں کے مسائل، پھیپھڑوں اور سانس کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو معدے کا السر بھی ہو جاتا ہے ۔ ایسے بہت سے مسائل ہیں جو سگریٹ نوشی کی بدولت روزمرہ زندگی میں تنگی کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اس کو ترک کرنے سے قاصر ہیں۔
دنیا بھر میں پانچ میں سے ایک فرد کسی نہ کسی صورت میں تمباکو استعمال کرتا ہے ۔ جس میں مرد، عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں اس کے اعداد و شمار کے مطابق 2 کروڑ 90 لاکھ سے زائد لوگ اس وقت تمباکو استعمال کر رہے ہیں ۔ اور اسی حساب سے تمباکو کی وجہ سے تقریبا 3 لاکھ 37 ہزار لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔
اس کے تدارک کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ۔جو کہ کافی نہیں ہیں ۔
31 مئی کو تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ جس کا مقصد تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے لوگوں کو آگاہی کروانا ہے ۔ اور تمباکو نوشی کی روک تھام کے اقدام کو مرتب کرنا اور ان کے لئے لائحہ عمل کو مقرر کرنا ہے ۔کہ کیسے ہم اس لعنت سے اپنے ملک ، معاشرے، لوگوں اور نئی آنے والی نسلوں کو بچا سکتے ہیں ۔ اس تحریک کا باقاعدہ آغاز 1987 میں عالمی ادارہ صحت کی قرارداد کے ذریعے کیا گیا ۔ لیکن ابھی تک اس سے کوئی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ بلکہ تمباکو کمپنیوں نے اس کو مزید بہتر بناتے ہوئے ویب اور ای سگریٹ کی شکل میں نوجوانوں کو جدید تحفہ دے دیا ہے ۔ جس کو بالخصوص نوجوانوں نسل لڑکے اور لڑکیاں ایک فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور اینٹی نارکوٹکس بورڈ کو مل کر ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ۔ جس سے نارکوٹکس کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہو ۔ ایسے قوانین مرتب کرنے چاہئیں، جس سے ان کاروبار کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہوں۔اور ان کے لئے ٹیکس کا نظام اتنا سخت اور کڑا ہونا چاہیے کہ ان کو اپنا کاروبار چلانے میں خاطرخواہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
یہی نہیں بلکہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ بجائے اس کے کہ والدین اور اپنے بڑوں سے چوری یہ کام کریں، وہ خود ان چیزوں سے دور رہیں۔ اور اپنے اچھے برے کا فیصلہ کر سکیں۔ اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خود بچوں کے سامنے وہ کام نہ کریں، جس سے وہ کل کو اپنے بچے کو روکتے ہوئے جھجک محسوس کریں۔
تمباکو نوشی کرتے ہوئے صحت کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی کیا جاتا ہے ۔ کہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنا مال اور صحت دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں ۔ اور بدلے میں نکوٹین کا زہریلا اور نشہ آور مادہ ہماری رگوں میں دوڑنے لگتا ہے اور ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال دیتے ہیں۔ خود ذاتی کوشش کے ساتھ اداروں کو بھی اس کاروبار کی حوصلہ شکنی کے لئے سخت اور دیرپا اقدامات کرنے پڑیں گے ۔ چند لوگوں کے مفادات کے سامنے نسلوں کی قربانی نہ دیں ۔ بلکہ ان نشے کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں میں ابھی سے قانون کی بیڑیاں ڈال کر اپنی آنے والی نسلوں کو بچا کر تمباکو سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھ دیں ۔
پاکستان زندہ باد
