Baaghi TV

Category: متفرق

  • قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    یہ تو آپ کو ہی پتہ ہوگا کہ جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں سے دوسری بلند ترین چوٹی K2 کتنی دور ہے. لیکن آپ جہاں سے بھی آئیں گے تو کے ٹو کا راستہ پاکستان سے سب کیلئے ایک ہی ہے. 16 ہزار تین سو فٹ بلندی پر بیس کیمپ ہے. جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ 17400 فٹ کی بلندی پر ان لوگوں کیلئے ہے جو تہیہ کر لیں ہم نے اسے سر کرنا ہی کرنا ہے.

    موسم اور حالات اگر سازگار ہوں تو سفر کیمپ اول کیلئے شروع ہوگا جو انیس ہزار نو سو فٹ بلندی پر ہے. اگلا پڑاو کیمپ ٹو پر ہوگا جو کچھ بائیس ہزار فٹ پر ہے تیسرا پڑاو کیمپ تھری پر 23 ہزار آٹھ سو پر کریں گے چوتھا 25 ہزار تین سو پر اور ہھر آخری کوشش ہوگی جس میں کوئی پڑاو نہیں بلکہ ایک تنگ راستہ ہے جسے بوٹل نیک کہتے ہیں.

    اعتماد کی بھی دو اقسام ہیں. ایک معلوم ہونے کا اعتماد اور دوسرا عمل کا اعتماد. ہماری اکثریت پہلا اعتماد رکھتی ہے. جسے معلوم ہونے کا اعتماد کہتے ہیں. آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کے ٹو کا راستہ معلوم ہے.؟ آپ کو معلوم ہوگا تو بہت اعتماد سے فرفر بتا دیں گے ورنہ گوگل سے چیک کر لیں گے جیسے میں نے اوپر گوگل سے لکھ دیا.

    گھر میں لیٹے لیٹے بھی آپ اپنی معلومات پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ مجھے معلوم ہے تو اسکا مطلب ہے میں قراقرم کے سر کا تاج کے ٹو سر کر سکتا ہوں. لیکن عمل کا اعتماد وہ ہے جو آپ کو اس سفر کیلئے گھر سے نکالنے کی جرات و ہمت دیتا ہو. یہ ہر سال کے ٹو سر کرنے والے لوگ ہوں یا دور دراز کے سفر پر نکل جانے والے ہوں یہ تاریخ میں اپنا نام لکھانے نہیں بلکہ اپنا اعتماد ہی چیک کرنے نکلتے ہیں. کیونکہ اعتماد کا بوٹل نیک یہی امتحان ہے.

    یہ امتحان ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے ہم کتنے پانی میں ہیں اور اس امتحان کے نمبرز ہمارا رزلٹ طے کرتے ہیں. اور یہی رزلٹ ہمارا مقام طے کرتا ہے.

  • اگناڈس – ریاض علی خٹک

    اگناڈس – ریاض علی خٹک

    پیدائش عیسی علیہ السلام سے چار صدی پیچھے ایک دن یونان کی گلیوں میں خواتین اچانک احتجاج کیلئے نکل آئیں. اس دور میں جب معاشرے میں خواتین کا کردار خاندان کی خدمت بچے پالنا اور صرف امور خانہ داری تھا یہ احتجاج ایک انوکھا کام تھا. اس کے پیچھے اگناڈس کا ایک قصہ ہے.

    یونان میں علم طب صرف مرد کا پیشہ تھا. خواتین کیلئے یہ علم ممنوع تھا. اگناڈس نام کی لڑکی لیکن اس دور کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. کیونکہ زچگی میں مرد ڈاکٹروں سے فطری شرم کی وجہ سے اکثریت خواتین یہ تکلیف خود گزار دیتی لیکن ڈاکٹر کی خدمات نہ لیتی. بہت سی خواتین اس لئے زچگی میں زندگی کی اپنی جنگ ہار جاتیں. اگناڈس یہ بدلنا چاہتی تھی.

    اس نے مردانہ کپڑے پہنے بال مردانہ بنا لئے اور اسکندریہ کی علم طب کی درسگاہ میں بطور مرد داخلہ لے لیا. تحصیل علم کے بعد واپس یونان میں آکر مطب کھولا. خواتین میں سینہ بہ سینہ بات پھیلی اور حاملہ خواتین سب اگناڈس کی کلینک جانے لگیں. مرد ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے. انہوں نے الزام لگایا اگناڈس ڈاکٹر خواتین کو ورغلاتا ہے.

    اگناڈس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں اس نے اپنا لباس اتار کر ثبوت دیا کہ میں مرد نہیں عورت ہوں. اب لیکن ایک اور مقدمہ کھڑا ہوگیا. عورت نے علم طب کیسے حاصل کر لیا.؟ اس غداری پر جب کیس چلا تو خواتین سب احتجاج کیلئے نکل آئیں. یہ احتجاج اتنا پھیل گیا کہ یونان کو اپنا قانون بدلنا پڑا اور خواتین کو علم طب کی اجازت مل گئی.

    مجھے نہیں پتہ یہ یونانی قصہ کتنا سچا ہے. لیکن یہ البتہ تاریخی سچ ہے کہ جب بھی خواتین احتجاج کیلئے نکل آئیں تو تاریخ بدل جاتی ہے. آپ کسی مرد کو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس عورت کو خوفزدہ نہیں کر سکتے جو ایک بیمار معاشرے میں نئی زندگی کیلئے نیا گھر بسانے کا حوصلہ رکھتی ہو.

  • خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    بنجامن فرینکلن کا ایک سیاسی حریف اسے شدید ناپسند کرتا تھا. جبکہ دوسری طرف فرینکلن چاہتا تھا وہ اسکا دوست بن جائے. فرینکلن کو پتہ چلا اس کے پاس ایک نایاب کتاب ہے. فرینکلن نے اسے پیغام بیجھا کیا آپ کچھ دن کیلئے عاریتاً یہ کتاب مجھے پڑھنے کیلئے دے سکتے ہیں.؟ کتاب اسے دے دی گئی. کچھ دن بعد کتاب پڑھ کر فرینکلن نے اسے ایک شکریہ اور تشکر کے تحریری نوٹ کے ساتھ واپس کردی. اور ان کی دوستی کی ابتداء ہوگئی.

    بنجامن فرینکلن ایک ہی وقت میں بہت کچھ تھا. وہ سائنس دان بھی تھا اور سیاستدان بھی لکھاری بھی تھا پبلشر بھی سفیر بھی تھا اور فلسفی بھی لیکن اوپر اس کے تحریر اس تجربے کو بن فرینکلن ایفیکٹ کہتے ہیں. ہمارا دماغ دو انتہاؤں کے درمیان اکثر کنفیوز ہوتا ہے ہم اپنی تسلی اور اطمینان کیلئے پھر چیز کو یا تو سفید یا سیاہ کہتے ہیں. دن یا رات اچھا یا برا فرشتہ یا شیطان. دماغ درمیان میں کچھ رکھنا نہیں چاہتا تو دستیاب معلومات پر فوراً ایک انتہا پر چلا جاتا ہے.

    بنجامن فرینکلن نے اپنے اس حریف کو مجبور کیا وہ بنجامن پر احسان کرے. حریف کے دماغ کو اس احسان کیلئے اپنی انتہا سے کچھ نیچے اترنا پڑا. اور واپسی کے نوٹ نے کہا یار بندہ اتنا بھی برا نہیں اور ایک تعلق کی ابتداء ہوگئی. بقول امام راغب اصفہانی احسان ایسا عمل ہے جو ہر طرف سے خوبصورت ہو متوازن ہو.

    ایک حدیث میں ہے احسان دین کی تیسری ضرورت ہے. اور یہ درجہ بندے کو تب حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں. یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ہم کسی انتہا پر نہ ہوں. نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کیلئے. اگر آپ سمجھتے ہیں دوسرے آپ کیلئے انتہا پر ہیں تو فرینکلن ایفیکٹ کی سائنس سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو موقع دیں وہ آپ پر کوئی احسان کریں.

    لیکن اگر ہمارا نفس دوسرے کا احسان لینے پر بھی آمادہ نہ ہو تو پھر انتہا پر ہم خود کھڑے ہوتے ہیں. ایسے میں خود پر احسان کریں. انتہا سے نیچے اتریں. بندگی کا سارا حسن دو انتہاؤں کے درمیان ہوتا ہے.

  • آر  یو  او کے؟ —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آر یو او کے؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ ایک مسافر کو ڈراپ کرکے واپس گھر جارہا تھا کہ شہر کے پوش ہوٹل کے باہرایک قطار میں لگے درجن بھر فلیگ پوسٹس پر اسے سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آیا ۔اس کا دل دھک سے باہر آگیا کیونکہ یہ ناروے کا ایک دور دراز قصبہ تھا جس میں وہ واحد پاکستانی تھا- اسے یہاں رہتے ہوئے کئی برس بیت گئے تھے لیکن کسی اور پاکستانی سےاس شہر میں اس کا سامنا نہیں ہوا تھا اور وہ بھی اب اس ماحول میں رچ بس گیا تھا-غیر ارادی طور پر اس نے اپنی ٹیکسی کا رخ ہوٹل کے صدر دروازے کی طرف موڑ دیا اور ٹیکسی پارکنگ میں لگا کر وہ ہوٹل کے میں گیٹ سے استقبالیہ کی طرف بڑھا –وہ حیران ہورہا تھا کہ اندر سے یہ ہوٹل کتنا بڑا اور شاندار تھا- وہ تو بس اس کے باہر سے ہی ہر دفعہ گزر جاتا تھا اور کبھی اس کے اندر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی تھی-

    استقبالیہ پر بیٹھی سنہری رنگت کے بالوں والی نارویجئین لڑکی نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا ” میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہوں؟”-اس نے باہر لگے پاکستانی پرچم کا پوچھا کہ اس کو آج ہوٹل کے باہر لہرانے کی کیاخاص وجہ ہے؟ ۔ لڑکی نے بتایا ” ہمارے ہاں آج ایک پاکستانی مہمان بھی ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے یہ جھنڈا لگا دیا ہے۔”

    اس کا دل اس مہمان سے ملنے کے لئے مچل اٹھا جس کی وجہ سے آج اس دور دراز جگہ پر بھی سبز ہلالی پرچم لہراتا دیکھنے کا موقع ملا تھا۔اس نے اپنی خواہش کا اظہار لڑکی سے کیا جو کہ تھوڑی بہت منت ترلے کے بعد اس کا رابطہ اس پاکستانی مہمان سے کروانے پر راضی ہوگئی تھی اور اب ملِک میرے کمرے میں بیٹھا مجھے احترماًاس طرح دیکھ رہا تھا جیسے میں ابھی ابھی حج کرکے مکہ سے لوٹا ہوں۔وہ مجھے اپنے گھر آنے کی د دعوت دے رہا تھا تاہم میرا اگلے پورے ہفتے کا شیڈول ہائیڈروپاور پراجیکٹس کے لئے بک تھا اور ویک اینڈ پر ہی ملاقات ہو سکتی تھی۔

    میں خود اس طرح اتنی چھوٹی سے جگہ پر ایک ہم وطن کے ملنے پر خوش تھا اور اس سے ناروے میں ملنے والے کھانوں کے بارے میں شکوہ کر رہاتھا۔ پچھلے دوتین دن سے مسلسل ابلی ہوئی لوبیا، ابلے چاول اور آلو کھا کھا کر ٹیسٹ بڈ جواب دے چکے تھے ۔نمک مرچ کے شدید کمی کے شکار اس ملک میں اگلے چند ہفتے گزارانا مشکل نظر آرہا تھا۔ملک مجھے ناروے میں اپنی سیٹنگ بنانے کے قصے سنا رہا تھا کہ کس طرح وہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے خالی ہاتھ کسی نہ کسی طریقے سے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔پہلے ایک گوری سے شادی کی،پیپر ببنائے اور پھر جب کاغذ برابر ہوگئے تو پاکستان سے شادی کرکے بیگم کو لے آیا اور اب ماشااللہ اس کا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ اور تین ٹیکسیاں چل رہی تھی۔ دو بچے تھے جو کہ وہیں کی جم پو تھےاور اردو بمشکل ہی سمجھ سکتے تھے۔

    میں نے کہا” یہ بتاو ملک کہ ادھر تو پاکستانی نہیں ہیں تو تمھارا ریسٹورینٹ کیسے چلتا ہے”۔ کہنے لگا ” آپ بھی بڑے سادہ ہو۔ بھئی ہم گوروں کی خوراک اور مشروبات بیچتے ہیں ۔مجبوری ہے”۔ میں نے اسے کہا کہ اس کا مطلب ہے اب تم سیٹ ہوگئے ہو اور خوب مزے ہورہے ہیں۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا تاہم وہ سنبھلتے ہوئے رونی صورت بنا کر بولا ” کہاں بھائی؟ مزے تو پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ ادھر تو پد مارنے کے لئے بھی حکومت کی اجازت لینی پڑتی ہے۔میں اپنے گھر میں ایک نیا باتھ روم بنانا چاہ رہا تھا۔ سب سے پہلے میونسپیلٹی کو درخواست دی۔ ان کے لوگوں نے فزیبیلٹی چیک کی کہ اس سے گھر بندوں کے لئے رہنے کی کم سے کم گنجائش تو متاثر نہیں ہوگی۔پھر ان کے لائسنس یافتہ نقشہ ساز سے گھر میں باتھ روم کا ترمیمی نقشی بنوایا۔ پھر ان کے منظور کردہ پلمبر سے پلمبنگ کا کام کروایا، بجلی والے سے بجلی اور پھر سینٹرل ہیٹنگ والے سے اس کا کام کیونکہ ہمیں یہاں باتھ روم ہر وقت خشک رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہوتے تو جس طرح مرضی بنا لیتے”۔

    پھر مزیذ فرمانے لگا کہ” میں یہاں ٹیکسی چلاتا ہوں لیکن ادھر کے قانون کی پابندی نے میری ڈرائیوننگ ایسی خراب کر دی ہے کہ قسم سے میں اب پاکستان میں جا کر خود گاڑی ڈرائیو نہیں کر سکتا۔ ہمیشہ ٹھوک دیتا ہوں- اسی لئے اب پاکستان جاتے ہی میں سب سے پہلے رینٹ پر ڈرائیور سمیت کار لیتا ہوں جو میرے پورے قیام کے دوران میرے ساتھ رہتی ہے”۔میں نے کہا "یہ تو واقعی ظلم ہے "۔

    وہ ضد کرکے زبردستی مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں سٹی سنٹر کا چکر لگوانے لے گیا۔پھر اس نے مجھے ریل اسٹیشن بھی دکھایا ہم نے ایک جگہ سے کافی پی ۔ اب رات ہورہی تھی اور نائٹ لائف انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی تھی ۔ کلب اور بار آباد ہونے لگے تھے اور سڑک کنارے سجائی گئی کرسیوں پر نوجوان جوڑے بیٹھے پینے پلانے میں مشغول تھے-ہم نے دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد واپسی کی راہ لی۔ سٹی سنٹر سے نکلتے ہی ایک اشارہ سرخ تھا لیکن ملک صاحب نےبائیں طرف کے بار کی طرف جاتے ہوئے ایک جوڑے کو مسلسل دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی آگے بڑھا لی جو مخالف سمت سے آنیوالی کار کے ساتھ ٹھک گئی۔ گاڑیوں کی ٹکر کی آواز سن کر سڑک کنارے بائیں طرف کے بار میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ داخل ہوتی لڑکی تیزی سے بھاگ کر ملک صاحب کی طرف دوڑی اور انہیں تھپتھپا کر بولی ۔۔۔”آر یو اوکے ڈیڈ”

  • جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں. میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.

    وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.

    استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.

    کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں. بار بار شرمندہ کرتے ہیں.

  • آؤ کچھ نیا کر جائیں —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آؤ کچھ نیا کر جائیں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے۔۔۔“وقت سے پہلے تیاری”۔۔۔۔تاہم اب تک این ڈی ایم اے، فیڈرل فلڈ کمیشن یا واپڈا سمیت کوئی بھی ادارہ بارش یا سیلابی پانی کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرکے مستقبل کی پیش بندی کے لئےکسی بھی قسم کی مفید اور فوری قابل استعمال معلومات سامنے نہیں لائے۔ محکمہ موسمیات بھی ڈیٹا بیچنے کے چکر سے نکل کر مفاد عامہ کے لئے اسے پبلک اور قابل رسائی نہیں کرسکا۔

    دوسری طرف سیلابی نظام معیشت خوب پھل پھول رہا ہے۔ نقصانات کے اعدادوشمار 30 ارب ڈالر کا ہندسہ بتا رہے ہیں۔ ساہوکار خوش نما عالمی بنکوں اور مالیاتی اداروں کے روپ میں قرض دینے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں اور ہماری پٹاری میں اس قرض کو خرچ کرنے کے لئے کوئی قابل عمل منصوبے نہیں۔ الماریوں میں کئی سالوں سے پڑے پی سی ون کی جھاڑ پونچھ کرکے کنکریٹ، مٹی اور پتھر سے بننے والے منصوبوں پر قرض کی رقم خرچ کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔تاہم عوامی بھلائی کے لئے اہم منصوبوں کا فقدان ہے جن پر اصل توجہ ہونی چاہیے۔

    غیر معمولی سیلاب سے ہونے والی تباہی ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔

    ۱-سیلاب کا پیشگی اطلاعاتی اور فوری ردعمل کا نظام

    زلزلے یا کووڈ کے برعکس سیلاب ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کی اب جدید نظام پیمائش کے ذریعے قبل از وقت پیش گوئی کرنا ممکن ہے۔ بہت سے کمپیوٹر ماڈل اور سیٹیلائٹ ڈیٹا نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ خود ہمارے ہاں محکمہُ موسمیات اس سال طوفانی اور سیلابی صورت حال کی پیش گوئی دو ماہ پہلے ہی مئی کے اوائل میں کر چکا تھا۔تاہم یہ ایک بہت سطحی انداز میں کی گئی اور متعلقہ ادارے ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے مزے لینے میں مصروف تھے اور اس سے صرف نظر کر گئے۔پاکستان میں ایسا نظام دریائی سیلاب کی پیشگوئی کے لئے تو کسی حد تک کام کر رہا ہے لیکن دریائی نظام سے باہر اس کا وجود نہیں۔ اس سال کوہ سلیمان، کیرتھر رینج اور شمال مغربی بلوچستان سیلاب کا نشانہ تھے جو کہ انڈس روور سسٹم باہر ہیں۔

    ۲- محکمہ موسمیات کے نظام پیمائش کو جدید بنانا اور اس کی پہنچ کو بہتر بنانا

    محکمہ موسمیات کے پاس موجود بیش تر ریڈار اور آلات وقت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب کہ دنیا میں اس وقت سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے کئی ماہ پہلے موسمیاتی پیش گوئی کرنا ممکن ہوچکا لیکن ہمارے ہاں کوہ سلیمان اور شمالی بلوچستان کی سیلابی بارشوں کو وقت سے پہلے نہ پکڑا جاسکا۔ ژوب کے بعد محکمے کا اگلا موسمیاتی اسٹیشن ہی تین سو کلومیٹر دور کوئٹہ یا بارکھان میں ہے جب کہ سیلابی تباہی درمیان میں قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، لورالائی اور ہرنائی وغیرہ میں ہوتی رہی۔لہذا موسمیاتی اسٹیشنوں کا نیٹ ورک بڑھانا ہوگا اور عوامی مفاد میں پچھلے ۷۵ سالوں کا موسمیاتی ڈیٹا پبلک اور فری اور ہر کسی کے لئے قابل رسائی کرنا ہوگا۔

    ۳- ملکی سطح پر فلڈ میپنگ ، فلڈ زوننگ اور فلڈ زون بائی لاز

    ملک کےسیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔پورے ملک کی فلڈ زوننگ ہونی چاہئے اور تمام انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے فلڈ زون بائی لاز بننے چاہئیں۔ تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔ سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔ سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں۔

    ۴۔ قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا مقامی سطح تک پھیلاؤ

    قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا نظام کم ازکم تحصیل یا ٹاون کی سطح پر فوری طور پر استوار کیا جائے۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔ مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    ۵۔آفت سے پہلے بچاو کا انتظام

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں مقامی تربیت یافتہ لوگ اور رفاہی تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔

    ۶-فلڈ ریسکیو اینڈ ریلیف ایپ

    آئی ٹی کی جدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی ایپ لانچ کی جائے جوکہ سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرسکے اور پانی سے بچاو کے لئے راہنمائی کرے۔ اس ایپ میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سپورٹ کریں گے۔

    ۷- سیلاب موافق عمارتیں

    سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کی سطح سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ ک جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    ۸۔ ریسکیو کاموں میں جدت اور مقامیت

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر پور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔ آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کے مستقل راستوں کی باقاعدہ نشاندہی ہو۔

    ۹۔ تربیتی پروگرام

    این ڈی ایم اے , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    ۱۰۔ مستقبل کی عارضی پناہ گاہیں

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے این ڈی ایم اے کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں اونچی اور محفوظ جگہوں پر قائم خیمہ بستیوں کی جگہوں کو باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔ حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    ۱۱۔ موبائل ہسپتال اور موبائل صاف پانی

    سیلابی پانیوں میں گھرے لوگوں تک صحت اور خوراک پہنچانا سب سے مشکل مگر اہم کام ہے اور موبائل ہسپتال اور صاف پانی کے یونٹ سب سے موثر اور وسیع الاثر ثابت ہوتے ہیں۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرز پر موٹر سائیکل بردار پیرا میڈیکل سٹاف اس معاملے میں سب سے اہم ہیں۔ اس معاملے میں الخدمت اس سال بھی کام کر رہی ہے لیکن اسے حکومتی سطح پر پھیلانا ہوگا اور بلوچستان ، چولستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں کے لئے تو یہ نظام سارے سال کی بنیاد پر استوار کر دینا چاہئے۔

    موسمیاتی تبدیلی کا حل اس آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے اوراپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئیں اور ریسکیو، ریلیف دیا اور اب بحالی کے کانوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اگلے سیلاب سے نپٹنے کی تیاری کون کر رہا ہے؟؟ آؤ کچھ نیا کر جائیں۔

  • اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    بے شک ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہماری جلد سے ہر منٹ ہزاروں مردہ سیل جھڑ کر گر رہے ہوتے ہیں. جسم ان کی جگہ جلد کے نئے سیلز بنا رہا ہوتا ہے. اللہ رب العزت نے ہمارے جسم میں یہ ایک خودکار نظام بنایا ہے. شُکر کریں اللہ نے روزانہ کی یہ مرمت ہمارے ذمہ نہیں لگائی ورنہ تو آج کا کام کل اور کل کا پرسوں پر چھوڑ کر ہم سب بھوت بن چکے ہوتے.

    گاڑی بھی جب سڑک پر چلتی ہے تو اسے ڈینٹ بھی پڑتے ہیں خراشیں بھی آتی ہیں اور بدقسمتی ہو تو ایکسیڈنٹ بھی ہو جاتے ہیں. شکر ہے ہم میں کچھ لوگ ڈینٹر پینٹر بن گئے یہ کاریگر ایسے ہیں کہ گاڑی کو دوبارہ وہی شکل دے دیتے ہیں جیسے نئی گاڑی ہو. ورنہ سڑکوں پر کباڑ دوڑ رہا ہوتا.

    کسی بھی ڈینٹر پینٹر استاد سے پوچھیں آپ کے اوزار میں سے اہم اوزار کیا ہے تو وہ آپ کو جو چند اوزار دکھائے گا اس میں ریگمال ضرور ہوگا. یہی ریگمال ہماری شخصیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے. تکلیف تو ہوتی ہے لیکن اپنی مرمت کیلئے پہلے ہمیں اپنی سطح صاف کرنی ہوتے ہے ہموار کرنی ہوتی ہے. تب ہی اس پر وہ نیا رنگ چڑھتا ہے جو بے جوڑ نہ ہو.

    کچھ کام اللہ نے ہمارے ذمہ نہیں لگائے. ہم اپنے سیلز کی مرمت خود ہر منٹ نہیں کر سکتے. لیکن کچھ ہمارے ذمہ لگائے ہیں جو ہمارے اعمال کا حساب بناتے ہیں. ان اعمال کو اپنی عادت بنانے کیلئے شخصیت میں پڑے ڈینٹ اور خراشیں صاف کرنی ہوتی ہے. بری عادت کو کھرچ کھرچ کر نکالنا ہوتا ہے. اسی پر نئی اچھی عادات کا رنگ بھرا جاتا ہے.

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں . دیکھتے ہیں مجھے اور آپ کو کونسے نمبر کا ریگمال لگے گا.؟

  • ظاہر پر مت رہیے!!! — ضیغم قدیر

    ظاہر پر مت رہیے!!! — ضیغم قدیر

    ٹین ایج میں جب آیا تو ایک چیز ہر طرف نوٹس کی کہ میرے تمام دوست بڑی داڑھی رکھنے کا شوق رکھنے لگ پڑے ہیں۔ یہ کبیر سنگھ جیسی داڑھی، اوپر بڑے سے بال اور انکلز والا لباس، لیکن جب انکی داڑھی نہیں آ رہی تھی تو وہ پریشان ہونے لگ پڑے جیسے ایک بہت ہی خاص چیز ان کو نہیں مل رہی ہے۔

    ایسے ہی اپنی ہم عمر لڑکیوں کو دیکھا تو وہ ایک ایسے جسم کی مالک لڑکی بننے کی طرف چلنے لگی جس کی جلد دو کلومیٹر دور سے بھی چمکتی نظر آئے۔ جس کے جسمانی خدوخال ایسے ہوں کہ ہر دوسرا شخص ان کو نوٹس کرے اور انکی طرف جانے کی خواہش رکھے۔

    ان دو پیراگرافس کا تعلق بائیولوجیکل فینامینا سے ہے جس کا تعلق ہمارے ہارمونز سے ہے۔ پہلا خاصہ جو لڑکے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اس کو ہم مسکولینیٹی یا پھر مردانہ وجاہت کہتے ہیں دوسرا خاصہ زنانہ خوبصورتی کے انڈر آتا ہے۔

    مگر یہ دونوں چیزیں وقت کے ایک خاص دورانیے میں اپنا اظہار کرتی ہیں۔

    لیکن یہاں ایک گڑبڑ پیدا ہوگئی ہے۔

    ٹی وی چینلز میں جو چیز بطور ٹین ایجر متعارف کروائی جاتی ہے وہ ٹین ایجرز میں ہو ہی نہیں سکتی۔ اس وقت آپ نیٹ فلکس سے لیکر کسی لوکل پروڈکشن تک، کسی بھی ٹین ایج ڈرامہ سیریز کو دیکھ لیں سب میں ایک پچیس سے تیس سال کے شخص کو ٹین ایجر جبکہ چالیس سال کے شخص کو ایک جوان شخص بنا کر دکھایا جاتا ہے۔

    اب جبکہ وہ بائیولوجیکل سٹیج جو کہ ایک شخص تیس سال کی عمر میں پا رہا ہے وہ سٹیج ڈرامہ دیکھ کر ایک پندرہ سولہ سال کا بچہ یا بچی پانے کی کوشش کرتی ہے ایسے ہی پینتیس سال کے شخص کے روپ کو وہ لڑکا یا لڑکی بیس پچیس سال کی سٹیج میں اپنانے کی طرف چلی جاتی ہے۔

    اس بات کا ہماری فزیکل اپیئرنس کو حد سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

    آپ اپنے گرد جتنے بھی لوگ دیکھیں گے اگر وہ لڑکا ہیں تو وہ بیس سال کی عمر میں ہی ایک میچور مرد کی طرح داڑھی رکھ کر اپنی شکل کسی سنجیدہ فلم کے کردار میں ڈھالنے کی کوشش کرے گا وہیں پہ ایک لڑکی اپنے جسمانی خدوخال کو بیس سال کی عمر میں ہی ایسا کرنے کی طرف لے جائے گی جو اس کو دو بچے ہونے کے بعد ملنا تھی۔

    اب چونکہ ایک شخص خود سے دو دہائیاں بڑے شخص کی فزیکل اپیئرنس کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں بہت سی بائیولوجیکل تبدیلیاں آتی ہیں۔یہ تبدیلیاں اس کے ظاہری خدوخال کو بڑھانے کی طرف لے جاتی ہیں مطلب اس شخص کی aging کی رفتار تیز کر دیتی ہیں۔ اور ہمارا کلچر ایسا ہے کہ یہاں پہ زندگی میں پہلے پچیس سال مکمل سکون ہوتا ہے اور اگلے پانچ سالوں میں اتنا سٹریس ملتا ہے کہ وہ شخص جوانی میں ہی ہمت ہار بیٹھتا ہے۔ سو جہاں وہ شخص 15-25 سال کی عمر کے دوران ایک 25-40 سال کے شخص کے روپ کو آئیڈیلائز کرکے خود کو بڑا دیکھنے کی خاطر ویسی فزیکل اپئیرنس اپناتا ہے تو وہیں پہ 25 کے بعد جب اس کو مشکلات والی زندگی ملتی ہے تو وہ آٹو میٹیکلی ایک بوڑھا شخص بن جاتا ہے۔

    حتی کہ آپ دیکھیں گے کہ لڑکے 25-26 سال کی عمر میں ایسے لگتے ہیں جیسے تین پندرہ سالہ بچوں کے باپ ہوں یا پھر لڑکیاں ایسی بن جاتی ہیں جیسے کوئی خالہ ہو۔ اور ان باتوں کے پیچھے ان لوگوں کا مائنڈ سیٹ ہوتا ہے۔

    مگر اکیلا مائنڈ سیٹ ایسی تبدیلی کر سکتا ہے؟

    اس کا جواب نہیں ہے۔ مگر اس کی وجہ سے ہمارا کھانے پینے کا پیٹرن بدلتا ہے۔ اب پندرہ سال کی عمر میں 25 والا روپ اپنانے کی خاطر ایک skinny جسم کی بجائے موٹا جسم چاہیے سو اسکی تلاش میں بچے reactive oxygen species والی خوراک کھاتے ہیں جسے عرف عام میں ہم high fat یا پھر high carbohydrates والی خوراک کہہ سکتے ہیں یا زیادہ عام الفاظ بولیں تو زیادہ چربی اور میٹھے کو کھانا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ایجنگ کا پراسس تیز ہو جاتا ہے اور وہ اپنی عمر سے پہلے ہی بوڑھا لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے ایسی خوراک ہماری جلد کی چمک کو بھی ختم کر دیتی ہے۔

    اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی خوراک کا پیٹرن بدلیں جس کو بدلنے کے لئے آپ کو اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے کی ضرورت ہے اور وہ تب ہی بدل سکتا ہے جب آپ ماڈلز کو آئیڈیلائز کرنا چھوڑ دیں گے۔

    یاد رہے آپ کا جسم جس حالت میں ہے پیارا ہے آپ عمر کیساتھ ساتھ بڑے بھی ہونگے اور موٹے بھی، نوعمری میں انکل بننا اور جوانی میں خود کو بڑھاپے والے روپ کی طرف لیجانا آپ کی اوسط عمر کے لئے خطرناک ہے سو ایسی تمام کوششوں سے بچیں۔ بیس بائیس سال کی عمر میں گھنی داڑھی رکھ کر ایک میچور شکل والا مرد یا سڈول جسم والی عورت بننے کی بجائے عمر کا یہ فیز انجوائے کریں میچور شکل خود بخود تیس کے بعد مل جائے گی۔

    وہیں سکن چمکنے والی خاصیت اگر آپ کی خوراک اچھی ہو تو خود ہی آپ کے ہارمونز کی وجہ سے بیس سال کے بعد آنا شروع ہو جاتی ہے آپ کو کسی کریم کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ وہیں ایک بات یاد رکھیں جس نے آپ کو قبول کرنا ہے وہ آپ کی داڑھی یا سڈول جسم سے متاثر ہوئے بغیر بھی قبول کر لے گا اور جس نے قبول نہیں کرنا اسکے سامنے آپ کچھ بھی بن جائیں وہ نہیں کرے گا سو یہ ‘خوبصورتی ‘ بڑھانے کی سوچ کو چھوڑ کر ٹینشن فری جینا شروع کریں جس میں آپ کا کوئی بھی آئیڈیل نا ہو۔

  • نامعلوم انجمن —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نامعلوم انجمن — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تاریخ کا نہایت ہی اہم میچ شروع ہوا ہی چاہتا ہے ،ٹاس ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کھیلنے ٹیم کا اعلان ہی نہیں ہوا ۔ یہ میچ اس لئے بھی اہم ہے کہ تمام دنیا پاکستان کو سننے کے لئے آرہی ہے۔ آپ کے دکھ درد بانٹنا چاہتی ہے۔

    نومبر پاکستان میں COP کی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ایک اور سرخ نومبر ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔ بدقسمتی سی بد قسمتی ہے کہ وہ ساری توجہ جو COP27 پر مرکوز ہونی چاہیے تھی وہ 29 نومبر پر ہے۔ تمام بڑے اپنی اپنی سودا بازی میں مصروف ہیں جب کہ دنیا شرم الشیخ مصر میں آپ کو سننے کے لئے آرہی ہے۔

    کانفرنس آف پارٹیز (COP27) اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن پر نظر رکھنے کے لئے قائم کی گئی جسے 1992 میں دنیا کے 154 ممالک نے دستخط کیا۔دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے تمام ممالک اس معاہدے کے تحت ماحول کی بہتری کے اقدامات کرنے کے پابند ہیں جب کہ اس سے متاثرہ ممالک کو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے قابل عمل منصوبوں کے لئے امداد دی جاتی ہے۔

    ‏COP کی 27 ویں سالانہ میٹنگ 6 نومبر کو شروع ہونے جارہی ہے لیکن ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا کہ اس میں پاکستان کی نمائندگی کون کر رہا اور پاکستان کون کون سے قابل عمل منصوبے اس میں فنڈنگ کے کئے لے کر جا رہا ہے۔کس طرح لابنگ اور مذاکرات ہوں گے؟ پاکستان دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ٹاپ کے دس ممالک میں شامل ہے اور حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد دنیا ہمیں سننے کو بے تاب ہے۔ ہماری مدد کرنا چاہتی ہے۔

    چند دن پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اس بارے اجلاس بھی بھی ہوا لیکن اس میں انہیں COP پر بریفنگ دی گئی مگر پاکستانی وفد کے ناموں پر تاحال خاموشی ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار شرم الشیخ مصر جانے کا ہما کس کس کے سر پر بیٹھتا ہے کیونکہ کانفرنس 6 نومبر سے شروع ہورہی ہے ۔ ٹاس ہو چکا ہے میچ شروع ہونے جارہا ہے لیکن پلئیرز کو ابھی تک پتہ نہیں کہ کس نے کھیلنا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری صاحب ایک نوجوان ، متحرک اور پڑھے لکھے وزیر خارجہ ہیں۔وہ پالیسی لیول پر تو اچھا بول لیتے ہیں لیکن نچلی کمیٹیوں کی سطح پر ان کے ساتھ اس کانفرنس میں اچھی ، سمجھدار اور کام کرنے والی ٹیم ہونی چاہئے۔ یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ امید ہے وہ اس دفعہ ایک مستعد ٹیم کا انتخاب کریں گے جو پاکستان کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ سکے۔

  • انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    بادشاہ وقت کو بھیانک خواب نے ہلا کر رکھ دیا ۔ ایسے برے خواب نے بادشاہ کے دل کا چین وسکون برباد کردیا ۔ وقت کے اعلی معبرین تعبیر بتانے والے بلائے گئے ۔

    بادشاہ وقت نے بتایا کہ رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ یکے بعد دیگرے سارے دانت ٹوٹ رہے ہیں اور پھر سارے ہی جھڑ گئے ۔

    معبرین سوچ میں پڑگئے حساب کتاب لگائے اور پھر تعبیر بادشاہ کے سامنے تھی ۔

    بتایا گیا ۔۔۔۔ حضور خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے سارے بیٹے فوت ہوجائیں گے ۔

    بادشاہ کو اس تعبیر نے اتنا پریشان کیا کہ مارے بوکھلاہٹ کے حقائق سمجھ کی بجائے معبرین کو پھانسی دیکر غصے کی آگ بجھائی ۔

    جو معبر آتا ایسی ہی یا اس سے ملتی جلتی تعبیر بتاتا ۔

    بادشاہ پھانسی دیے جاتا ۔

    پھر ایک معبر کو بلایا گیا وہ ساری صورت حال سن چکا تھا ۔

    پھر جان کی خلاصی پانے کا سوچنے لگا ۔

    جب بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو تعبیر یوں بیان کی ۔

    کہ حضور آپ کی خواب بہت ہی خوبصورت ہے اور عمدہ حالات پیشین گوئی کرتی ہے ۔

    حضور اللہ نے آپ کو سارے خاندان میں لمبی عمر دینی ہیں۔ لوگ بہت لمبے عرصے آپ کے زیر سایہ محکوم رہیں گے ۔ اور آپ کی بادشاہت آپ کی لمبی عمر کی وجہ سے بہت عرصہ تک قائم رہے گی ۔

    فرسٹریشن کا مارا بادشاہ یہ سن کر انتہائی مسرور ہوا ۔

    پہلی بھی ایک حقیقت تھی یہ بھی حقیقت ہے ۔ فرق دونوں میں نہ تھا بتانے کے انداز نے پریشان کیا اور بتانے کے ہی انداز نے انتہائی مسرور کر دیا ۔

    انداز بدلنے والے معبر کو درہم و دینا اور اشرفیوں سے مالا مال کر کے بھیج دیا گیا ۔

    آپ بھی دیکھیے کو نسا انداز آپ کو نقصان دے رہا ہے ۔

    پھر انداز بدل کر نقصان کو نفع میں تبدیل کردو ۔

    بہترین انداز کا پتہ چلانا ہو تو تمہارے سامنے ایک اسوہ حسنہ ہے وہ اسوہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اس اسوے میں سارے نفع مند انداز مل جائیں گے ۔