Baaghi TV

Category: متفرق

  • زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    رتن ٹاٹا نے ایک انٹرویو میں کہا جب وہ ٹاٹا موٹرز شروع کر رہا تھا تو اس وقت اسکا کوئی دوست نہیں تھا. ایلون مسک سے ایک انٹرویو میں جب پوچھا گیا آپ اس نئے نوجوان کو کیا مشورہ دیں گے جو کل کا ایلون مسک بننا چاہتا ہے؟ مسک نے کہا میں اسے ایلون مسک بننے کا مشورہ کبھی نہیں دوں گا. اس زندگی میں کوئی fun نہیں ہے.

    دولت و شہرت کی دوڑ میں ایک مقام آتا ہے جب دوڑنے والے کو اچانک احساس ہوتا ہے میں کتنا تنہا ہوں. اسکا تجربہ اسے سمجھا دیتا ہے میرے آس پاس ہر وقت جی جی کرنے والے میری محبت میں میرے ساتھ ہیں یا اس دولت و شہرت میں اپنا حصہ لینے کیلئے.؟ کیونکہ ہماری اکثریت زندگی کی شروعات میں دوڑنے اور چلنے کا فرق نہیں سمجھ پاتی.

    ہم لوگ سمجھتے ہیں چلنے اور دوڑنے میں بس رفتار کا ہی فرق ہے. لیکن جسم کیلئے یہ دو بلکل الگ چیزیں ہیں. چلتے ہوئے ایک قدم آپ کا ہر وقت زمین پر ہوتا ہے جبکہ دوڑتے ہوئے آپ ہوا میں ہوتے ہیں. کچھ دیر زمین کو جو چھوتے بھی ہیں تو اپنے ہی جسم کا وزن تین گنا ہو کر ایک جھٹکا جسم کو دیتا ہے. ہمیں یہ جھٹکے تھکا دیتے ہیں.

    زندگی کا فن چلنے میں ہے. چلتے رہنے میں ہے. چلنا آپ کو اپنے لئے اور اپنوں کیلئے وقت دیتا ہے. زمین ہمیں تھکنے نہیں دیتی ہر قدم دوسرے قدم کیلئے حوصلہ دیتا ہے. دوڑ تھکا دیتی ہے. ہمارے پاس نہ اپنے لئے نہ اپنوں کیلئے پھر کوئی وقت ہوتا ہے. ہم بہت قیمتی لمحے کھو کر آگے نکل تو جاتے ہیں لیکن پھر ہم تنہا اور تھکن سے چور بھی ہو جاتے ہیں.

  • 8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان میں گرمی اپنے زوروں پر تھی۔کہ اکتوبر میں موسم نے انگڑائی لی اور راتیں سہانی ہونا شروع ہو گئیں۔ اکتوبر نے خنکی نے راتیں تو سہانی کر دی۔ مگر یہ ماہ خود قیامت خیز ثابت ہوا۔ قیامت خیز یوں کہ 8 اکتوبر کو زوردار زلزلے کے جھٹکے نے پاکستان کے شمالی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ 7.6 کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے اسلام آباد، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 86 ہزار لوگ ہلاک اور تیس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔

    8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین سے اظہار ہمدردی و یک جہتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے آگاہی فراہم کرنے کے لیے پاکستان میں 8 اکتوبر کو قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے آج تک کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟ کیا صرف دن منا لینا کافی ہوتا ہے؟۔ جواب ہے ، بالکل بھی نہیں، پاکستان نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی بنانے کی کوشش تک نہیں کی۔ جس کی زندہ مثال 2022 کا حالیہ سیلاب ہے۔

    آج بھی ملک پاکستان کے کئی علاقے سیلاب جیسی قدرتی آفت سے متاثر ہیں۔بلوچستان کے بتیس ، گلگت بلتستان کے چھ، پنجاب کے تین، خیبر پختونخوا کے سترہ اضلاع اس ہولناک آفت کا شکار ہوئے ہیں۔ جبکہ سندھ کو سیلاب نے جتنا تباہ کیا ہے۔ اس کا تو صحیح سے اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔

    پاکستان میں شاید اب سیلاب ایک معمول بن چکا ہے۔ ہر چند برس کے بعد شدید بارشوں کے باعث سیلاب آتا ہے۔نشیبی اور کمزور انفراسٹرکچر والے علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔ کچی بستیوں کے نام و نشان تک باقی نہیں رہتے۔ لوگوں کے مویشی بھی یہ آفت ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔ کئی انسانی جانیں پانی کی نذر ہوجاتی ہیں۔اور پھر ان غریبوں کے ساتھ ظلم یہ ہوتا ہے کہ حکومت ان کو پوچھتی تک نہیں ہے ۔

    آج بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی امور میں ریاستی عمل داری آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مختلف فلاحی ادارے متاثرہ علاقوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ ان ہی فلاحی ادارے میں سب سے نمایاں نام اور کام الخدمت فاؤنڈیشن کا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار جنوبی پنجاب ، گلگت، خیبرپختونخوا اور سندھ کے ان علاقوں تک پہنچے ، جہاں جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔

    افسوس حکومت وقت نا تو متاثرین کے زخموں کا مرہم بنی اور نا ہی سیلاب سے بچاؤ کے لیے کوئی اقدام کر پائی۔ قدرتی آفات سے بچاؤ یا نمٹنے کے متعلق آگاہی پھیلانے سے ہزاروں قیمتی جانیں تو بچائی جاسکتی ہیں۔مگر کاش آگاہی پھیلانے کے لیے چند بینرز لگانے اور تقاریب منعقد کروانے کے علاؤہ کوئی عملی اقدام بھی کیا جاتا۔

  • چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل کی کوئی اتنی قدر نہیں کرتا لیکن بہت مہنگے والا موبائل فون کوئی خرید لے تو اس کی قیمت مجبور کرتی ہے کہ اب اس کی قدر بھی کی جائے. موبائل فون استعمال کرنے والے یہ قدر مند پھر اس کی تین باتوں کا بہت خیال رکھتے ہیں.

    اول اس کے سوفٹویر اپڈیٹ کا کہ اتنی مہنگی چیز اپڈیٹ نہ ہو تو فائدہ کیا. دوسرا اس کی بیٹری ہر وقت فل چارج رہے اور تیسرا اس کی صفائی چاہے اندرونی ہو جیسے اینٹی وائرس فضول لنکس اور میموری صاف رکھنا یا بیرونی جیسے سکریچز سے بچانے کیلئے کور پروٹیکٹر وغیرہ.

    کیا آپ خود کو بھی قیمتی سمجھتے ہیں؟ کیونکہ یہی تینوں چیزیں آپ کی بھی ضرورت ہیں. کتابیں علم اور تجربات آپ کو اپڈیٹ رکھتے ہیں. اچھی نیند اور اچھی صحت آپ کی توانائی کی بیٹریاں چارج رکھتی ہیں. آپ وہ فضول عادات ختم کرتے ہیں جو آپ کی توانائی ضائع کریں. اور اندرونی بیرونی صفائی آپ کیلئے بھی لازم ہے. آپ اپنی زندگی اپنی سوچ کو صاف ستھرا رکھتے ہیں.

    اللہ رب العزت نے انسان کو بہت قیمتی بنایا ہے. یہ ہم پر ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر گزار بندے بن کر اس نعمت زندگی کی قدر کریں یا خود کو چائنا موبائل سمجھ کر بے قدر زندگی گزار لیں. کام دونوں ہی کرتے ہیں لیکن کلاس بہت الگ ہے. جیسے ایک ہی ٹرین کی فرسٹ کلاس اور تھرڈ کلاس کا سفر ہو.

  • من کی مجلس— عمر یوسف

    من کی مجلس— عمر یوسف

    کچھ خدشات کتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ جیسے ہی دل و دماغ میں آتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح نکل جائے گی ۔ انسان پر کتنا بھاری بوجھ ہوتے ہیں یہ خدشات ۔۔۔۔ اندر ہی اندر جیسے طوفان سا اٹھ جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی تمام عمارتوں کو مسمار کردیتا ہے ۔

    جیسے چیخنے کو دل کرے ۔ جیسے جلدی سے آزاد ہونے کو دل کرے ۔ لیکن ہر طرف تو پنجرہ ہے جیسے انسان قید سا ہوگیا یے ۔ بے بسی بغاوت پر آمادہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ کاش وہ آنسو ہی نکل آئیں جو انسان کو ہلکا کردیتے ہیں لیکن آنسو بھی تو بے وفا نکلے ۔

    مردانگی کے مان کے آگے ہار گئے اور غم ہلکا کرنے سے فرار ہوگئے ۔ کون ہے جو فرسان حال بنے ۔ جو کندھا دے اور مان بنے ۔ دل کو سمجھائے اور غمخوار بنے ۔ چاروں طرف چھائے اندھیرے ، وحشت ، دہشت ، خوف ، ڈر ، فکر ، غم کے سانپوں سے نجات دلوائے ۔ زندگی گلزار ہوجائے ۔

    جب میں تھک گیا ، ڈھے گیا ، ہار گیا ، شکست کھاگیا ، اکتا گیا امید ہار گیا تو من کی دنیا سے ہلکی سی آواز سنی جو ہولے ہولے تیز ہوتی گئی جیسے ہلکی سی روشنی کی پو پھوٹی ہو اور روشنی پھیلتی ہی جائے ۔ فطرت کی آوازیں یہ صدائیں لگا رہیں تھیں نحن اقرب الیہ من حبل الورید وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی نزدیک ہے جس نے موسی کو سمندر ، ابراہیم کو آگ ، عیسی کو یہود ، اور محمد کریم ص کو دشمنوں سے بچا کر قدرت کاملہ اظہار کردیا ۔

    جس نے لامحدود کائنات کو اس انداز سے مستحکم کیا کہ کمی کا شائبہ تک نہیں ۔ دیو ہیکل پہاڑ ، ٹھاٹیں مارتا سمندر ، ان گنت ذرات کے صحرا ، کڑکتی بجلیاں ، دھاڑتے ہوئے شیر ، چنگارتے ہوئے ہاتھی ، سنسناتی ہوئی ہوائیں ، چمکتا چاند ، دہکتا سورج ، ٹمٹماتے تارے سب اسی کے کنٹرول میں ہیں تو تیرے غم کیا اس کی قدرت سے باہر ہیں ؟ تو چلتے ہوئے یا رب جی کہہ وہ دوڑتے ہوئے یا عبدی کہے گا ۔

  • ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار) ڈیزل سستا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے کوچ مالکان وہی پرانا کرایہ وصول کرنے میں مصروف۔محکمہ انڈسٹریل کے افسران واہلکاروں کی غفلت اورنااہلی کی وجہ سے کوچ مالکان کی لوٹ مارجاری،کرایوں میں اضافے کی وجہ سے مسافر پریشانی سے دوچار، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے کرایوں میں کمی اورکوچ مالکان کی ہٹ دھرمی کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیزل اورپیٹرول کے ریٹ انتہائی کم کیے گئے ہیں مگرکوچ مالکا ن نے کرایوں کے وہی ریٹ رکھے ہوئے ہیں اوران میں کوئی کمی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے مسافرزائد کرایوں پر سفرکرنے پر مجبورہیں۔محکمہ انڈسٹریل افسران واہلکاروں کی مبینہ بھتہ خوری کی وجہ سے کوچ مالکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیاجارہاہے اورانہیں مسافروں سے لوٹ مار کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ کوچ مالکان نے اپنی روش نہیں بدلی ہے اورہٹ دھرمی پر قائم ہیں اورعوام سے زائد کرایے وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ مسافروں سے کرایوں میں کمی نہ کرنے کی وجہ سے کوچ مالکان کھلے عام لوٹ مار کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے حکومت کی جانب سے پیٹرول وڈیزل کے ریٹ کم ہونے کی وجہ سے کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کرانے کامطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کاپابندکیاجائے تاکہ مسافرلوٹ مار سے محفوظ رہیں۔

  • حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں!!! — نعمان سلطان

    حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں، فلاں ابن فلاں، فلاں کے بھائی، فلاں کے والد اور فلاں کے قریبی رشتے دار کا رضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا ہے نماز جنازہ بوقت… بجے صبح /دوپہر /شام فلاں جنازہ گاہ میں ادا کی جائے گی، نماز جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ ۔

    یہ وہ اعلان ہے جو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر سنتے ہیں اور سن کر اگر وہ شخص کوئی واقف ہو تو اس کی آخری رسومات میں شرکت کرتے ہیں ورنہ اس اعلان کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔

    مشہور ہے کہ کسی نے ملک الموت سے پوچھا کہ آپ کسی بھی شخص کی روح قبض کرنے سے پہلے اسے تھوڑی سی مہلت تو دیا کریں تاکہ وہ توبہ کر سکے تو ملک الموت نے کہا کہ کہ کیا آپ روز اپنے اردگرد ہونے والی اموات نہیں دیکھتے یہ اس بات کا اعلان ہی تو ہے کہ جو روح دنیا میں آئی اس کا کسی بھی وقت واپسی کا بلاوا آ سکتا ہے تو ہر وقت موت کو خوش آمدید کہنے کی تیاری رکھو۔

    دنیا میں ہر نظریہ کو ماننے والے لوگ ہیں ملحد حضرات بھی ہیں، ہو سکتا ہے آخری وقت میں ان کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ ہم ساری عمر خدا کے وجود کا انکار کرتے رہے، کیا ہم درست تھے؟ البتہ ایسے ملحد حضرات بھی موجود ہوں گے جنہوں نے زندگی کے ہر لمحے سے خوشی کشید کی ہو اور وہ خندہ پیشانی سے اپنے انجام کو قبول کریں ۔

    مختلف مذاہب کو ماننے والے لوگ بھی ہوں گے جن کے بارے میں گمان غالب ہے کہ وہ اپنے آخری وقت میں اپنے عقیدے کی صداقت کے بجائے اس بات پر متفکر ہوں گے کیا ان کے اعمال اس قابل ہیں جن کی بنیاد پر وہ بے خوف و خطر اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں سکیں البتہ ان میں بھی ایسے لوگ کم تعداد میں ہی سہی لیکن موجود ہوں گے جن کو یقین ہو گا کہ ہم نے تمام زندگی اپنے رب کی نافرمانی نہیں کی اس لئے ہمارے ساتھ رب خیر والا معاملہ کریں گے ۔

    پاکستان میں 40 سال کی عمر کے بعد زندگی کو بونس سمجھا جاتا ہے یعنی کسی وقت بھی رب کا بلاوا آ سکتا ہے سابقہ زندگی جو غفلت میں گزر گئی اور نامہ اعمال پر جو سیاہی چڑھ گئی اس کا مداوا تو صرف رب کی بارگاہ میں سچے دل سے کی گئی توبہ اور اشک ندامت ہی ہیں لیکن جو زندگی بچ گئی اسے غفلت میں گزارنا سراسر نادانی ہے۔

    برسبیلِ تذکرہ بتاتا چلوں کہ میرے خیال میں تمام لوگوں کو اپنے نظریات اور عقیدوں کے ساتھ جینے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے البتہ دوسروں کو اپنے نظریات کی تبلیغ کرنے کے بجائے ہمیں خود کو ایسا بنانا چاہئے کہ لوگ ہمارے جیسا بننے کی آرزو کریں ۔

    ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو
    ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے

    اس تحریر کی وجہ یہ ہے کہ 40 سال کی عمر میں جب ہماری زندگی کی عصر ہو گئی ہے اور کسی وقت بھی زندگی کی مغرب (زندگی کا سورج غروب) ہو سکتی ہے ہم ایسے کیا اعمال کریں کہ جن کی وجہ سے ہم رب سے ملاقات (بعد از موت) سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ شدت سے اس ملاقات کے متمنی ہوں ۔

    ہر مذہب میں رب کو راضی کرنے کے لئے مختلف احکامات ہیں اس تحریر میں ہم اسلامی نکتہ نظر سے رب کو راضی کرنے کے لئے لازمی احکامات یا فرائض بیان کر رہے ہیں، تحریر پڑھتے ہوئے یہ بات مدنظر رہے کہ یہ تحریر کسی عالم دین کی نہیں بلکہ ایک عام دنیا دار بندے کی ہے اس لئے آپ بندے کی تحریر سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔

    دنیا کی زندگی ہمارا امتحان ہے کہ ہم رب کے فرماں بردار ہیں یا نا فرمان، ایسا امتحان جس میں تھیوری بلوغت سے پہلے پڑھائی جاتی ہے جبکہ بلوغت کے بعد صرف پریکٹیکل (عمل) پر زور دیا جاتا ہے ۔

    بقول علامہ اقبال

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    دین ہے کیا؟

    اللہ کے بتائے گئے اعمال یا احکامات کا مجموعہ ہے ۔

    1۔کلمہ طیبہ
    2۔نماز
    3۔روزہ
    4۔حج
    5۔زکوٰۃ

    کلمہ طیبہ پڑھ کر ہم دین میں داخل ہوتے ہیں، روزے سال میں ایک مہینے کے لئے فرض ہیں اس میں بھی بیمار لوگوں کو رعایت ہے ، حج زندگی میں ایک مرتبہ لازمی (صاحب استطاعت لوگوں پر) اور زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ صاحب نصاب لوگوں پر فرض ہے ۔

    روزانہ کرنے والا عمل صرف نماز بالغ مسلمان پر دن میں پانچ مرتبہ فرض ہے اس میں بھی رعایت ہے کہ اگر مسجد میں باجماعت ادا نہیں کر سکتے تو گھر میں یا جہاں پاک جگہ میسر ہو ادا کریں، اگر بیمار ہیں تو بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشاروں سے ادا کریں اور اگر کسی وجہ سے نماز وقت پر ادا نہیں کر سکے تو بعد میں قضاء نماز ادا کریں ۔

    اس کے علاوہ ایک آخری بات کہ حقوق العباد کا خیال کریں کسی دوسرے کی حق تلفی نہ کریں جس بات پر آپ کا ضمیر آپ کو لعن طعن کرے وہ عمل نہ کریں ۔

    دین مشکل نہیں مشکل ہم نے خود بنایا ہوا ہے اس لئے فرائض کی ادائیگی کا اہتمام کیجئے اگر اس کے بعد گنجائش ہو تو مزید اعمال بھی کیجئے تاکہ آخری وقت میں آپ سورۃ فجر کی ان آیات کی عملی تفسیر ہوں ۔

    يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ (27)
    (ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔

    اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28)
    اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔

    فَادْخُلِىْ فِىْ عِبَادِيْ (29)
    پس میرے بندوں میں شامل ہو۔

    وَادْخُلِىْ جَنَّتِيْ (30)
    اور میری جنت میں داخل ہو۔

  • تلہ گنگ : پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن نے ڈھلی کے متعدد غریب مستحق بچوں کی سکول فیسیں ادا کر دیں

    تلہ گنگ : پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن نے ڈھلی کے متعدد غریب مستحق بچوں کی سکول فیسیں ادا کر دیں

    باغی ٹی وی : تلہ گنگ (شوکت ملک سے) پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن کی جانب سے خدمت خلق کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن نے ڈھلی کے متعدد غریب مستحق بچوں کی سکول فیسز ادا کر دی۔ پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن جوکہ تلہ گنگ گردونواح کے مختلف علاقوں میں غریب کمزور و لاچار افراد کی فلاح و بہبود کےلیے دن رات کوشاں ہے، فاؤنڈیشن کے ممبران کی جانب سے قائم کیے گئے خصوصی فنڈز سے تلہ گنگ کے نواحی گاؤں ڈھلی کے متعدد مستحق بچوں کی سکول فیسز ادا کر دی گئی، اس موقع پر پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن کے سینئر ممبر عامر عقیل کا کہنا تھا کہ ڈھلی، محمود والا گردونواح کے غریب اور مستحق والدین جو اپنے بچوں کی فیسز ادا نہیں کرسکتے وہ فاؤنڈیشن ممبران سے رابطہ کریں ان کی ضرور مدد کی جائے گی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد صرف اور صرف دکھی انسانیت کی خدمت ہے جوکہ بھرپور طریقے سے جاری رہے گا۔

  • وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی جلد ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے،بس ٹرمینل،پناہ گاہ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی جلد ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے،بس ٹرمینل،پناہ گاہ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے

    باغی ٹی وی ، ڈیرہ غازیخان (نامہ نگار): ڈیرہ غازی خان میں انٹر سٹی بس ٹرمینل کے افتتاح کو حتمی شکل دے دی گئی۔کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے عوامی مسائل کے حل اور میونسپل سروسز کی بہتری کیلئے افسران کو ٹاسک دے دئیے کمشنر نے شہر کے مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے ساتھ سیوریج،واٹر سپلائی،صفائی اور میونسپل سروسز کے معاملات دیکھے کمشنر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہی جلد ڈیرہ غازی خان کا دورہ کریں گے،بس ٹرمینل،پناہ گاہ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔متعلقہ محکمے انتظامات کو جلد حتمی شکل دیں۔کمشنرنے کارپوریشن واجبات کی وصولی کیلئے غیر قانونی ہاؤسنگ کالونیوں اور نادہندہ دکانداروں کے خلاف کارروائی کے احکامات جاری کئے کمشنر نے گدائی،خدابخش چوک اور مین ڈسپوزل ورکس دیکھے۔مانکا کینال پر مین سیوریج لائن کی تنصیب کا جائزہ لیا۔انہوں نے زیر تکمیل بس ٹرمینل،سول مائنر اور دیگر مقامات کا بھی دورہ کیاکمشنر نے میونسپل سروسز کی بہتری کیلئے احکامات جاری کئے۔انہوں نے کہا کہ تمام ڈسپوزل ورکس کی بھل صفائی کے ساتھ انہیں مکمل گنجائش کے ساتھ چلایا جائے۔خراب مشینری کو بروقت مرمت کرکے فنکشنل حالت میں رکھا جائے۔کوئی بھی ڈسپوزل ورکس بند نہیں ہونا چاہئے۔متبادل مشینری اور جنریٹرز کا بندو بست کیا جائے۔اس موقع پر ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ عبید الرشید،اے ڈی سی آر طیب خان،ایس ای پبلک ہیلتھ جواد کلیم،اے سی شکیب سرور،چیف آفیسر کارپوریشن جواد الحسن گوندل،ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملک محمد رمضان،ایکسئین عدنان نسیم،سیکرٹری آر ٹی اے ثناء اللہ ریاض،محمد افضل جتوئی اور دیگر افسران موجود تھے۔

  • آزادی کے 75 برس اور 75 کا نوٹ

    آزادی کے 75 برس اور 75 کا نوٹ

    آزادی کے 75 برس اور 75 کا نوٹ، تحریر: حنا سرور
    پاکستان کی آزادی کے 75 برس بیتے تو پاکستان کے قومی بینک نے بھی 75 روپے کا نوٹ جاری کرنے کا اعلان کیا جو اب جاری کیا جا چکا ہے، اور شہریوں کے لئے دستیاب ہے ،

    سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 75 روپے کا اعزازی نوٹ ملک بھر میں خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا ، 75 روپے کے نوٹ کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک اور مقامی آرٹسٹوں نے مرتب کیا نوٹ کے ایک جانب قائداعظم، علامہ اقبال، سرسید احمد خان اور فاطمہ جناح کی تصاویر ہیں، نوٹ کے دوسری جانب مار خور اور دیودارکے درخت کی تصاویرہیں، سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری نوٹ سبز زمرد رنگ کا ہے جبکہ اس کا سائز 147 ملی میٹر چوڑا اور 65 ملی اونچا ہے .نوٹ کی پشت کو ماحولیاتی تبدیلیوں پرقومی عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے

    پاکستان کا قومی بینک، اہم دنوں، مواقع پر سکے جاری کرتا ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے یادگاری نوٹ جاری کیا جائے، 75 روپے کے نوٹ کے حوالہ سے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نوٹ میں سبز رنگ ترقی اور نمو کے ساتھ پاکستان کی اسلامی شناخت کی علامت ہے جبکہ سفید رنگ آبادی کے مذہبی تنوع پر زور دیتا ہے کرنسی نوٹ پر بانی پاکستان محمد علی جناح ،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ہمراہ سرسید احمد خان کی تصویر بھی لگائی گئی ہے جو پہلے کسی نوٹ پر نہیں ہے، کرنسی نوٹوں پر بانی پاکستان کی تصاویر ہی چھپتی رہی ہیں، سرسید احمد خان کی تصویر بارے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ سرسید احمد خان نے آزادی کی بنیاد علی گڑھ تحریک کے ذریعے رکھی اور انہیں دو قومی نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے

    بانی پاکستان قائداعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کی تصویر بھی کرنسی نوٹ پر موجود ہے، اس تصویر بارے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان میں اپنے بھائی کی مدد کی ،

    پاکستان کے قومی بینک کی جانب سے نئے نوٹ پر تصویروں کے حوالہ سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اعتراض عائد کیا ہے اور تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے نوٹ پر ذوالفقار بھٹو اور بینظیر کی تصویریں بھی ہونی چاہیے تھیں۔ جس اخلاس میں اعتراض عائد کیا گیا اس میں گورنر سٹیٹ بینک بھی موجود تھے انہوں نے کمیٹی اجلاس میں کہا کہ کرنسی نوٹوں کا اجراء ایک رسمی طریقہ کار سے ہوتا ہے بحیثیت پاکستانی میں تمام قومی رہنماﺅں کا احترام کرتا ہوں

    پاکستان کی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے پر 75 روپے کا نوٹ تو سٹیٹ بینک کی طرف سے آ گیا،یقینا خوش آئندہ اور یادگار موقع ہے. تا ہم پاکستانی قوم کے ذہنوں میں سوال ہے کہ ایسے نوٹ جاری کرنے سے پاکستان کو کیا فائدہ ؟ پاکستانی کرنسی کی اہمیت کیا رہ گئی ہے؟ ڈالر دن بدن بڑھ رہا ہے،پاکستانی کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے،نئے نوٹ جاری کرنے سے بہتر تھا کرنسی کی قدر بہتر کرنے کی کوشش کی جاتی،پاکستانی روپے کی قدر کم ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور اس مہنگائی کی شدید لہر نے قوم کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے.

  • روجھان :  پاکستان ایئر فورس کی طرف سے  سیلاب سے متاثرہ کچی آبادیوں اور کچے کے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

    روجھان : پاکستان ایئر فورس کی طرف سے سیلاب سے متاثرہ کچی آبادیوں اور کچے کے علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

    باغی ٹی وی : روجھان(ضامن حسین بکھر) پاکستان ایئر فورس کے شاہین چیف آف ایئر سٹاف کی ہدایت پر روجھان کی سیلاب سے متاثرہ کچی آبادیوں اور کچے کے علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری متاثرین سیلاب کچی آبادی بستی عیدگاہ، بستی سیفلانی مرحلہ وار امدادی سامان کی تقسیم جاری ہے پاکستان ایئر فورس کے جوان دشوار گزار راستوں سے رودکوہی پانی میں گھیری بستیوں کے متاثرین افراد مرد و خواتین میں خشک راشن ،گرم ملبوسات، اور سیلاب متاثرین کے چھوٹے بچوں کے لئے بسکٹس، پانی کی بوتلیں بستی متاثرین میں تقسیم کیں علاوہ ازیں معزور اسپیشل بچوں کو بھی امداد سامان دیا گیا امدادی سامان نظم و ضبط کے ساتھ بلا امتیاز تقسیم کیا گیا ۔ اس سلسلے میں پاکستان ایئر فورس کے جوان پہلے دن سے ہی عوامی خدمات و قومی فریضہ احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں ۔
    کچی آبادی کے سیلاب متاثرین مکینوں نے پاکستان ایئر فورس کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان زندہ باد، پاک آرمی زندہ باد. پاکستان ایئر فورس زندہ باد کے نعرے فضاء میں گونج رہے تھے اس موقع پر ایئر فورس کے جوانوں کا کہنا تھا کہ چیف آف ایئر سٹاف کی ہدایت پر روجھان کے کچے کے علاقوں اور روجھان کی کچی آبادیوں کی متاثرہ بستیوں کی بحالی تک اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے ۔ قومی خدمت کے جزبے کے ساتھ پاکستان ایئر فورس ملکی و قومی خدمات کے لئے پرعزم ۔