باغی ٹی وی : تلہ گنگ (شوکت علی ملک سے) ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن کا کل آخری روز، اہلیانِ تلہ گنگ نوٹیفکیشن کے اجراء کےلیے پُرامید، نوٹیفیکیشن کے اجراء پر ق لیگی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنے کا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر الٹی گنتی شروع کرنے پر غور، گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے تلہ گنگ ضلع کے قیام کے حوالے سے مختلف پیشن گوئیاں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں، مختلف ذمہ دار ذرائع نے ماہِ ستمبر کے آخر میں تلہ گنگ ضلع کے نوٹیفیکیشن کے بلند و بانگ دعوے کر رکھے تھے، جس کا کل آخری روز ہے، عوامی حلقوں نے اگلے چند گھنٹوں میں تلہ گنگ ضلع کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر ایم پی اے حافظ عمار یاسر سمیت تمام ق لیگی مقامی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اگر دی گئی ڈیڈ لائن تک نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا اور مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کی گئی تو الٹی گنتی شروع کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کر رکھا ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار تلہ گنگ ضلع کے نام پر اپنی سیاسی ہٹیاں چمکانے کی کوشش کی گئی اور ہمارے جذبات کیساتھ کھیلا گیا مگر اب کی بار کوئی گنجائش باقی نہیں، لہذٰا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا حیل و حجت اور بغیر کسی تاخیری حربے کے تلہ گنگ ضلع کا نوٹیفکیشن جاری کرکے ہمارا دیرینہ اور دِلی مطالبہ پورا کرکے شکریہ کا موقع فراہم کیا جائے۔
Category: متفرق

ڈیرہ غازیخان- پروفیسرشعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی
باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان (شہزاد خان ) پروفیسر شعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی۔
الحمرا آرٹ گیلری لاہور میں پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سےعالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے تاریخی ورثہ کے موضوع پر دو روزہ تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا۔پنجاب لیول کی اس نمائش میں جنوبی پنجاب سے ڈیرہ غازی خان کے پروفیسر شعیب رضا نےحصہ لیا ، پنجاب کے خوبصورت ورثہ کے حوالے سے ان کی تین تصاویر کا انتخاب کیا گیا جن میں ایک تصویر ملتان کی تاریخی انگریز دور کی عمارت گھنٹا گھر کی ہے۔ اس عمارت کا سنگ بنیاد 1884 میں رکھا گیا تھا، یہ عمارت ہر دور میں سیاحوں کے لیے پر کشش رہی ہے اور آج بھی ملتان آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح قلعہ ملتان کے ساتھ اس عمارت میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں پروفیسر شعیب رضا کی اٹک خورد کے انگریز دور کے ریلوے اسٹیشن کی تصویر پوری نمائش میں خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ اس تصویری نمائش میں پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز نے حصہ لیا اور عوام کی خاصی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا، اس نمائش کے انعقاد کا سہرہ پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن عثمان قریشی صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز کو موقع دیا کہ وہ اپنی بہترین تصاویر نمائش میں پیش کریں ۔ ایسی تصویری نمائشوں سے پرانے فوٹو گرافرز کی پذیرائی ہوتی ہے اور نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، پروفیسر شعیب رضا نے کہا کہ ایسی تصویری نمائشیں پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی منعقد ہونی چاہیئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایسی مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے اور فوٹوگرافی کے آرٹ کوفروغ ملے۔
کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک
میں نے بار بار ہوائی سفر کیا ہے لیکن مجھے آج بھی اس لمحے سے ڈر لگتا ہے جب جہاز ٹیک آف کے وقت زمین سے اٹھنے لگتا ہے. کچھ دیر کیلئے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جہاز وقت زندگی اور سانسیں سب اپنی جگہ کھڑے ہوگئے ہوں .
لیکن اسی جہاز میں وہ لمحات جب میں ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادی کو اوپر سے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اچھا بھی لگتا ہے. بڑے بڑے گھر اور بڑی بڑی آبادیاں چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہیں. اور میں سوچتا ہوں ان چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو کیسے پہاڑ سمجھ لیتے ہیں. ان کے بوجھ تلے ہماری سانس گھٹ رہی ہوتی ہے.
مسائل کس کی زندگی میں نہیں ہوتے.؟ اللہ رب العزت نے اس دنیا کو بنایا ہی امتحان ہے. لیکن یہ مسائل جب ہم سر پر سوار کر لیتے ہیں تو چھوٹا سا مسئلہ بھی پہاڑ لگتا ہے لیکن جب ہم مسائل کو اپنے قدموں کے نیچے کرلیں تو بڑے بڑے مسائل بھی چھوٹے لگتے ہیں. جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے جس مسئلہ پر رو رہا ہوتا ہے بڑے کو اس رونے پر ہی ہنسی آجاتی ہے.
مسائل لے کر بیٹھ نہ جائیں چلنا سیکھیں. آج کے مسئلے کیلئے کل آپ بڑے ہوں گے, آپ کو خود پر ہنسی آئے گی. لیکن اگر آپ نے چلنا نہ سیکھا تو آپ کبھی بڑے نہیں ہوں گے.

مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس
اگر تمہارے پاس کچھ بھی ہونے کا اختیار ہو، تو بس مہربان ہو جاؤ!!!
اگر تمہارے پاس کچھ بھی کرنے کا اختیار ہو، تو بس مہربانی کر جاؤ.
دنیا میں آٹھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں. دیکھنے کو درجنوں رنگ، ترنگ، ادائیں، رویے، سٹائل ہیں. دیکھنے میں لگتا ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک الگ کائنات آباد ہے. بھانت بھانت کے روپ، بہروپ ہیں. کوئی عاجز تو کوئی میر شہر، کوئی سوالی تو کوئی موالی، لیکن بہت اندر سے ہم ایک ہی ہیں. پیار کے متلاشی، یہی کہ کندھے پر کوئی تھپکی دے دے، جب گرنے لگیں تو کوئی تھام لے. اگر گر پڑیں تو کوئی ہاتھ بڑھا دے، بغیر طعنہ دیے اٹھنے دے، اٹھ کر چلنے دے.
پھر ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی جنگ میں ہے. جنگ نہ سہی، لڑائی سہی. کچھ لوگ اپنے اس نصیب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوئے ہیں، جس کے ساتھ وہ پیدا ہوئے ہیں، مگر اس پر راضی نہیں ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اس سے بہتر کے حقدار ہیں.
کچھ محبت کے حصول کے لیے کشمکش میں ہیں. شعوری، لاشعوری طور پران میں چاہے جانے کی تمنا ہے، جو کائنات کی ساری آسائشیں حاصل کرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتی. محبت انہیں راتوں کو جگاتی ہے اور بدن میں لکڑیاں جلاتی ہے.
کچھ روگ پال لیتے ہیں. کسی کا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے تو کسی کے اندر خلیے بے قابو ہوجاتے ہیں کوئی بصارت کھو دیتا ہے تو کسی کی بصیرت لاپتہ ہوجاتی ہے.
پھر ہم سب اندرونی خوف کے ساتھ دست پنجہ کرتے ہیں. پیدائش سے لے کر بڑے ہونے تک ہم بہت سےخوف دل میں پال لیتے ہیں. وہم ہیں جو ہم سےسکون چھین لیتے ہیں، انہونی کا ڈر، چھننے کا ڈر، کم ہونے کا ڈر، کیسے کیسے آسیب ہمارے اندر چھپے بیٹھے ہیں.
پھر ایک باہر کی دنیا ہے جواب ہمارے گھروں، کپڑوں، گاڑیوں اور چالیس ڈھال کو دیکھتی ہے، ہماری پہنچ اور ہماری دسترس کو ناپتی ہے. ہمیں کامیاب یا ناکام کے خانے میں ڈالتی ہے ترازو میں تولتی ہے اور ہماری قیمت لگاتی ہے. کامیابی کا سکہ جمتا ہے، اس کے دام اونچے ہیں، مگر یاد رہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ناکام بھی ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی کرچیاں بعض اوقات پلکوں سے چننی پڑتی ہیں.
ہم انسان کوہکن بھی ہیں، فرہاد بھی ہیں، کہنے اور کرنے کو پتھروں کا سینہ چیر کر نہر بھی کھود لیتے ہیں. تاہم کبھی کبھی ایک چھوٹا سا وہم بھی ہمیں کھا جاتا ہے، کمر دوہری کردیتا ہے اور سانسیں صلب کرلیتا ہے.
ہمیں چاہت کی طلب ہوتی ہے، ہم دوستیاں بھی پالتے ہیں، اب تو ہمارے گرد ڈیجیٹل دوستوں کی بھرمار ہوتی ہے. کچھ دوست واقعی ہمارے ہونے پر مہر ثبت کرتے ہیں، مگر سچی بات یہی ہے کہ ہمیں زندگی کی اکثر جنگیں پرائیوٹ طور پر لڑنی پڑتی ہیں، بہت دفعہ تو ہم کسی کو آواز بھی نہیں دے پاتے. یاد رکھیں کہ جو لوگ ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، ہم اکثر انہی کو دکھ دیتے ہیں.
اسی دنیا میں ہم لوگوں کو ملتے ہیں، انہیں نظروں ہی نظروں میں تولتے ہیں اور ان کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں. پھر ہم اس رائے کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا لہجہ بلند اور تلخ ہوجاتا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارا سچ موجود ہے، پھر ہم اشارے کرتے ہیں اور نعرے لگانے لگ جاتے ہیں.
اپنی زندگی میں، ہزاروں لوگوں کے مسائل سنے. ان میں شاہی خاندان والے بھی تھے اور دریوزہ گر بھی. کارپوریٹ کنگ بھی اور ہتھ ریڑھی کھینچنے والے بھی. بہت سے ایسے زرداروں اور زورآوروں کو سنا جن کے بارے میں لوگ قسم کھا سکتے تھے کہ ان کو پوری زندگی کسی تڑخن کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا. دیکھا کہ زندگی ہر ایک کو اپنی جگہ مارتی ہے، توڑتی ہے، بے بس کرتی ہے. ہم ناکام بھی ہوتے ہیں، ٹوٹتے بھی ہیں، جڑتے بھی ہیں، شاید ٹوٹنا ہمارے ہونے کا حصہ ہے کہ بعض اوقات اسی جگہ سے روشنی ہمارے اندر داخل ہوتی ہے.
بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنا اپنا لگیج اٹھائے ہوئے نظر آئیں اور ہماری کمر کے پیچھے کوئی سٹکر لگایا ہو تو لوگوں کو کیسا لگے گا؟ شاید ہم زیادہ عاجزی کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کر پائیں گے، یا گالی دینے سے، یا آوازہ کسنے سے گریز کرسکیں گے یا ججمنٹ عارضی طور پر ملتوی کردیں گے.
زندگی مشکل ہے. آسانی ہے، پھر مشکل ہے. راستہ ہے جو کاٹنا ہے، آہستہ آہستہ اپنے پیار کرنے والوں سے محروم ہونا ہے. ہمارے والدین، ہمارے زندگی سے رخصت ہونے والے تقریباً سب سے پہلے افراد ہوتے ہیں. کوئی بھی کتنے بڑے صدمے میں ہو، دیگیں کھڑکتی رہتی ہیں، زندگی ہمیں اپنے چرخے پر چڑھا کر چکر دے دیتی ہے. اور ہمیں "بھوں” چڑھ جاتے ہیں.
ہمارے ارد گرد خودکشیاں عام ہوتی جارہی ہیں. ہم نہیں جانتے کہ جسے ہم جج کر کے، منصف بنتے ہوئے، پھانسی کی سزا سنارہے ہوتے ہیں وہ کن کن جاں گسل مرحلوں میں زندگی کو سہار رہا ہوتا ہے. کیا ہی بہتر ہو ہم منہ بھر کر گالی دیتے وقت، اپنی ججمنٹ دیتے وقت، فیصلہ سناتے وقت، ہارن دیتے وقت، چیختے، غراتے، باؤلے ہوتے وقت یہ یاد رکھیں کہ ہر شخص عرصہ محشر میں ہے، زندگی میں اپنی جنگ کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہے اور کیا پتہ ہمارا اس کے گلے کی طرف اٹھتا ہوا ہاتھ اگر اس کے کندھے پر رکھ دیا جائے تو شاید اس کی زندگی اور امید بچائی جاسکتی ہو.
زندگی امتحان ہے اور کڑا امتحان ہے. اکثر لوگ اس لیے بھی ناکام رہ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کا پرچہ نقل کرلیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ہر ایک کو مختلف قسم کا پرچہ پکڑاتی ہے. زندگی میں ہوسکتا ہے کچھ لوگ سفر میں ساتھ چلیں، پر سفر اپنا اپنا اور الگ الگ ہے. کوئی جتنا چاہے دوسرے کا پینڈا نہیں بھگتنا سکتا.
آپ ہر چیز پر قابو نہیں ہا سکتے، مگر اپنے اوپر زین کس سکتے ہیں. اپنے لہجے کو نرم کر سکتے ہیں، تلخی کو جھٹک سکتے ہیں، چہرے پر مسکراہٹ لاسکتے ہیں، غلطیاں معاف کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو بھی معاف کیا جاسکے.
کریم بنئے, کرم کی چادر اوڑھیے تاکہ وہ کریم آپ کے ساتھ مہربان ہو کہ کریم اپنے غلاموں کو رسوا نہیں کرتا.
(مصنف کی کتاب "صبح بخیر زندگی” سے ری براڈکاسٹ)

اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور
اُستاد کسی بھی معاشرے کے لیے ہمہ وقت ایک مفکر، ایک مصلح، ایک دردِ دل رکھنے والا انسان، مخلص دوست، روحانی باپ اور پیشوا ہوتا ہے. اُستاد اپنا تن، من، دھن اپنے شاگردوں کی زندگیوں کو بہتر سے بہترین کرنے میں لگا دیتا ہے اور وہ یہ کام خالصتاً رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کرتا ہے. ایک اچھا اور بہترین اُستاد ایک مکمل معاشرے کو سنوارنے میں اور اس کے مستقبل کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. پڑھانا نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اللہ وحدہ لم یزل کی طرف سے اُستاد کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے. اُستاد چنیدہ ہوتا ہے اور چنیدہ لوگوں کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہوتی ہیں.
نبی آخر الزماں خاتم النبیین جنابِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اس بات پر فخر کیا تھا کہ انھیں معلم بنا کر بھیجا گیا اور آپ ص نے جس طرح اصحابِ صفہ کی تربیت کی اُس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی. بات یہ ہے کہ معلم اور متعلم کا رشتہ بہت منفرد اور بے غرض ہوتا ہے. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا اُستاد یہ کام کر رہا ہے؟ کیا آج کا اُستاد بچوں کی اخلاقی تربیت کر رہا ہے؟ عصرِ حاضر کا معلم بچوں کو وہ دے رہا ہے جس کی انھیں ضرورت ہے؟ کیا ہماری موجودہ نوجوان نسل مستقبل کے لئے کارآمد ثابت ہو گی؟ کیا معاشرے کے بگڑتے ہوئے حالات میں اُستاد کا ہاتھ بھی ہے؟ اور کیا بچوں کی اخلاقیات میں خامیاں اساتذہ کی وجہ سے ہیں؟
یہ اور اس جیسے سینکڑوں سوال ہمارے ذہن میں اُبھرتے ہیں اور ہم اُن کے جواب تلاش کرنے کی بجائے اُس کبوتر کی طرح لا پروا ہوئیے بیٹھے ہیں جو بلی کے آنے پر آنکھیں بند کر لیتا ہے. موجود حالات کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی یہی بات کہہ رہا ہے کہ بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی. گھر والے دھیان نہیں دیتے. اُستاد اب پہلے جیسے نہیں رہے. بچوں کے اخلاق بگڑ رہے ہیں اور وہ ہاتھوں سے نکل رہے ہیں. والدین کی نہیں مانتے، بڑوں کا احترام نہیں کرتے. جو بات کرے اسے آگے سے غیر مہذب انداز سے پیش آتے ہیں. بچے روحانی طور پر کمزور ہو رہے ہیں.
جس کو دیکھو وہ اُستاد سے بچوں کے متعلق شکایت کر رہا ہے. لوگوں کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ کیا عصرِ حاضر میں اُستاد کو وہ مقام و مرتبہ مل رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن اب دیکھنے میں آیا ہے کہ اسے ماں سے ہی تربیت نہیں مل رہی. ماں بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے موبائل پر لگی ہوتی ہے. بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اُس پر انفرادی توجہ کرنے کی بجائے اسے موبائل تھما دیا جاتا ہے یا ٹی وی پر عجیب و غریب (poems) نظمیں اور کارٹون لگا دیے جاتے ہیں. وہ توجہ چاہتا ہے اور گھر سے اسے موبائل مل جاتا ہے. باپ کام کاج سے واپس آتا ہے تو بچے کو وقت دینے کی بجائے موبائل میں مصروف ہو جاتا ہے اور یوں دھیرے دھیرے بچہ موبائل اور اس کے متعلقات کو اپنے ذہن میں بٹھا لیتا ہے اور یوں اُس کو سکول بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ اُستاد توجہ نہیں دیتے. بچے کی عادات پہلے ہی بگڑ چکی ہوتی ہیں اور سکول میں آ کر اسے ہر رنگ کے بچے مل جاتے ہیں اور یوں اس کی اچھی بری عادات کو ہوا ملتی ہے. اُستاد کو تدریس کے علاوہ اور بہت ساری پیچیدہ ذمہ داریوں میں زبردستی دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ بیچارہ اپنی نوکری کو بچانے کے پے در پے ہی رہتا ہے. اُستاد صرف ایک کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ ہے تدریس. جب معاشرہ معلم سے وہ کام ہی نہیں لے رہا جس کے لیے وہ آیا ہے تو پھر معلم معاشرے کو وہ کیوں کر دے سکتا ہے معاشرہ جس کا متمنی ہے؟
سزا و جزا کا تصور ختم کر کے بچوں کو دلیر اور استاد کو کمزور بنا دیا گیا ہے. بچہ گھر سے نکل کر جہاں مرضی جائے، قصور استاد کا ہے. اس کی پڑھائی اچھی نہیں، قصور استاد کا، اس کا نتیجہ اچھا نہیں، قصور استاد کا، وہ غیر حاضر ہے، قصور استاد کا، وہ بدتمیر ہے قصور استاد کا،وہ بد اخلاق ہے قصور استاد کا.
تو بات یہ کہ ہم اگر یونہی چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے رہیں گے تو ہماری آنے والی نسل نا صرف تعلیمی لحاظ سے بلکہ جسمانی و روحانی لحاظ سے بھی لاغر و ضعیف ہو جائے گی اور ہم سب ایک دوسرے کا منھ تکتے رہیں گے. اچانک ہی یہ سب نہیں ہو جاتا بگاڑ اور سنوار میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے.
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتاپرانے زخم مندمل ہوتے وقت لگتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی اپنا کام ایمانداری سے کرے اور ہر ایک کو وہی کام کرنے دیا جائے جو کام وہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں ہم اپنے معاشرے کو تمام طرح کی غیر اخلاقی روایات سے محفوظ بنا سکیں

مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار — اعجازالحق عثمانی
کلرکہار یوں تو اپنے قدرتی حسن اور منفرد تاریخ کی وجہ سے پاکستان بھر میں جانا جاتا ہے ۔ مگر بیشتر لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہاں بڑے اعلیٰ معیار کا عرق گلاب بھی دیسی طریقے سے کشید کیا جاتا ہے۔ تاریخی کتب کے مطابق مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی بیوی نور جہاں کو کلرکہار کا عرق گلاب اس قدر پسند تھا کہ وہ خصوصی طور پر یہاں سے عرق گلاب منگوایا کرتی۔چند دہائیاں قبل بازاری کاسمیٹکس تو تھا ہی نہیں۔ خواتین اپنے چہرے کو تر و تازہ رکھنے کی غرض سے گلاب کا عرق استعمال کرتیں۔ ملکہ بھی شاید اسی مقصد کے لیے کلرکہار سے عرق گلاب منگواتی ہونگی۔
گلاب کی پنکھڑیوں سے نکالا گیا عرق ہاتھوں کی تازگی، آنکھوں کی چمک اور جلد کو نرم وملائم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹس بھی ہوتے ہیں۔ سو یہ جلد کو مضبوط کرتا ہے۔عرق گلاب مختلف اشیا مثلاً آئس کریم، کیک، بسکٹ اور دیگر مٹھائیوں میں ذائقے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ طبعی طور پر اس کے بہت سارے فوائد ہیں ۔
گلاب کے فوائد کے ساتھ ساتھ اسکی رنگت میں اس قدر کشش ہے کہ سبھی شعرا نے اس کو تختہ مشق بنایا ۔ کسی کو محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی لگے تو کسی کو اس کی رنگت سے رخسار محبوب کی یاد نے گھیرا ۔ چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔
؎ وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں؎ عرق نہیں ترے رو سے گلاب ٹپکے ہے
عجب یہ بات ہے شعلے سے آب ٹپکے ہے؎ آ نکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہےکلرکہار میں بنائے جانے والے عرق گلاب کی تیاری میں صرف پیتل کے برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مٹی سے بنی بھٹی کے اوپر بڑے سے برتن میں پانی اور گلاب کی پنکھڑیاں ڈال کر برتن کا ڈھکن بند کر دیا جاتا ہے ۔ اسی برتن سے ایک پائپ بھی منسلک ہوتا ہے ۔جس سے بھاپ گزر کر ٹھنڈے پانی میں پڑے ایک برتن میں جا گرتی ہے۔ جو بعد میں عرق کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔انھی بھٹیوں میں عرق چوعرقہ، عرق سونف ، عرق پودینہ ، عرق لوٹاٹ وغیرہ بھی کشید کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ واقعی خالص عرق گلاب کے متلاشی ہیں تو کلرکہار جائیے بے فکر ہو کر خالص عرق گلاب خریدیئے ۔

23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی
تین دن قبل یہ دن اتنی ہی خاموشی سے گزر گیا جتنی خاموش یہ زبان ہے، خیر اشاراتی زبان سے مراد ، جسم کے مختلف حصوں مثلاً ہاتھوں ، انگلیوں اور کندھوں وغیرہ کی مدد سے گفتگو کرنا ہے۔ گونگے افراد بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ اشاروں کی مدد سے اپنی بات دوسروں کو سمجھاتے ہیں ۔دسمبر 2017 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ،2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی دفعہ 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔یوں تو 17 ویں صدی سے ہی مغربی دنیا میں اشاراتی زبان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔1620 میں ایک ہسپانوی پادری نے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سےتقریر سیکھانے کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ لیکن آج کے اس سائنسی دور میں ہم آج بھی بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔
ڈبلیو ایف ڈی کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیٹا کے مطابق تقریبا 7.2 کڑور افراد دنیا بھر میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
سماعت سے محروم 80 فیصد افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ یہ لوگ مجموعی طور پر تقریباً 300 سے زائد زبانوں کی مدد سے اپنی روزمرہ کی زندگی میں گفتگو کرتے ہیں۔
ڈیٹا کے مطابق” پاکستان میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ جو کہ ملک میں موجود معذور افراد کا7.4 فیصد بنتے ہیں”۔
انٹرنیشنل ڈے آف سائن لینگویجز یا اشاروں کی زبان کا عالمی دن گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ مگر صرف اظہار یک جہتی سے کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔انڈونیشیا کے شہر یوگیاکارتا میں ایک مدرسہ ہے۔ جہان کبھی بھی تلاوتِ قرآن کی آواز نہیں سنی گئی۔یہ اشاراتی زبان سمجھنے والے بچوں کے لیے بنایا گیا ایک مدرسہ ہے جہاں اشاروں کی مدد سے قرآن کی تلاوت سیکھائی جاتی ہے ۔ لیکن سوچیے پاکستان میں اشاراتی زبان سمجھنے والوں کے لیے اس اندھی قوم نے کیا گیا ہے۔ یہاں صرف انکا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ ان کو اپنے سے کم تر سمجھا جاتا ہے ۔اس اندھی قوم سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس اشاراتی زبان کی خوبصورتی تو دیکھیے۔ خاموشی اور سکوت میں سب کچھ ہی کہہ جاتی ہے۔
کہاں سے سیکھا ہے تو نے ہنر محبت کا
کلام کرتی ہے دنیا سے تیری خاموشیاشاروں کی زبان سمجھنے والوں کے اشاروں سے یاد آیا کہ فطرت بھی تو انسان سے اشاروں میں گفت و شنید کرتی ہے۔ فطرت کے اشارے چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ اشاراتی زبان فطرت کے بہت قریب تر ہے ۔ جب اس ننھے سیارے پر زندگی کا آغاز ہوا ہوگا تو زبان نام کی تو کوئی شے نہیں ہو گی۔ تب بھی تو حضرت انسان نے اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کےلیے اشاروں کا ہی سہارا لیا ہو گا۔
ہمیں سماعت سے محروم لوگوں کو معاشرے میں عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اشاروں کی زبان سمجھنے والے لوگ آنکھوں پر پٹی بندھی اس قوم سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں ۔
پاکستان کو قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کےلیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

تلہ گنگ: تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی, تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل قائم کیاجائے
باغی ٹی وی : تلہ گنگ (نامہ نگار) ہر چار منٹ کے بعد ایک فرد تمباکو کے باعث موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، ہر روز 1200 سے 1500 نئے بچے تمباکو کا استعمال شروع کرتے ہیں، جبکہ تمباکو کے استعمال کے باعث 610 ارب روپے سالانہ صحت کے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور تمباکو کے باعث سالانہ 160000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تمباکو سے بچنے اور اپنی آئندہ نسلوں کو اس سے بچانے کےلئے انسداد تمباکو قوانین کا اطلاق بہت ضروری ہے اور تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کےلئے اس کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیئے، ان خیالات کا اظہار تلہ گنگ میں منعقدہ ایک روزہ آگاہی ورکشاپ بعنوان "ٹوبیکو انڈسٹری مانیٹرنگ اور انسداد تمباکو قوانین” سے کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان (سی ٹی سی پاک) کے نیشنل کوآرڈینیٹر ذیشان دانش نے کیا، ورکشاپ کا اہتمام سوشل ویلفیئر سوسائٹی (تلہ گنگ) نے کیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طاہر زمان نیازی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک محمد صفدر، تحصیل ڈرگ انسپکٹر صبیح الرحمان، سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ سے سلیم اقبال، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹی سے فاروقی ملک، اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی، سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر فیاض احمد گھاڑا نے ورکشاپ کے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور تلہ گنگ گرد و نواح کے علاقوں میں انسداد تمباکو قوانین کے اطلاق کے بارے میں بریفنگ دی۔ فیاض احمد نے کہا کہ انسداد تمباکو قوانین کی صحیح معنوں میں اطلاق کی ضرورت ہے۔ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد نہیں ہو رہا۔ کھلے سگریٹ سر عام فروخت ہو رہے ہیں، پبلک مقامات پر سائن بورڈ آویزاں نہیں ہیں۔ دوکاندار حضرات بچوں کو بھی تمباکو سے بنی اشیاء فروخت کرتے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات کا بیچنا، ذخیرہ کرنا، اس کی تشہیر کرنا قانون کے خلاف ہے لیکن ان قوانین کا خیال نہیں کیا جاتا، فیاض احمد کا کہنا تھا کہ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد کروانے کے لئے پولیس اور سول سوسائٹی کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہو گی اس سلسلے میں آگہی کو پھیلانا ہو گا تاکہ قوانین سے واقفیت کی بناء پر عوام اپنا فرض ادا کریں اور انسداد تمباکو قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ سی ٹی سی پاک کے کمیونیکیشن آفیسر اشفاق احمد نے تمباکو کی نئی مصنوعات جیسے ای سگریٹ، ویپ اور ویلو وغیرہ کے بارے میں شرکاء ورکشاپ کو آگاہ کیا کہ کیسے تمباکو انڈسٹری نئے ہتھکنڈوں سے نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر مطالبہ کیا کہ تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی لگنی چاہیئے اور چکوال کو تمباکو سے پاک کرنے کے لئے ضلع اور تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل کا قیام عمل میں لانا چاہیے۔

پنڈی بھٹیاں : محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا
بپنڈی ھٹیاں محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا،ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے چیئرپرسن ٹیوٹا میاں مامون جعفر تارڑ
باغی ٹی وی : بپنڈی بھٹیاں(شاھدکھرل) جلالپور بھٹیاں کے گاؤں محمود پور سمیت دیگر دیہات کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند تعمیر کیا جائیگا۔ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے سمری کمشنرکو ارسال کردی۔ڈپٹی کمشنر حافظ آباد توقیر الیاس چیمہ اور چیئرپرسن ٹیوٹا و ایم پی اے مامون جعفر تارڑ نے محمود پور کا دورہ کیا، اوروہاں دریاکے کٹاؤ اور حفاظتی بند کی تعمیر کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر پنڈی بھٹیاں بلاول علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ حافظ مبشر الحسن محکمہ انہار کے افسران اور مقامی معززین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ محمود پور اور قریبی بستیوں کے رہائشی دیہاتوں کے جان و مال اور قیمتی زرعی اراضی و فصلوں کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے ایک میگا پراجیکٹ تیار کیا گیا ہے،اور محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جا ئیگا،اور اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے سمری کمشنر کو ارسال کر دی ہے۔ جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں صوبائی کابینہ اس منصوبے کے لیے فنڈ ز کے اجراء اور تعمیراتی کام کی منظوری دے گی۔انکا کہنا تھا کہ حفاظتی بند کی تعمیر سے لوگوں کا قیمتی جان و مال، زرعی اراضی اور فصلیں محفوظ ہو سکیں گی۔اس موقع پر چیئرپرسن ٹیوٹا و مقامی ایم پی اے مامون جعفر تارڑنے کہا ہے کہ محمود پور کے مقام پر حفاظتی بند کی تعمیر انکی اولین ترجیح ہے، اور انشاء اللہ وہ جلد وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے اس منصوبے کیلئے باقاعدہ فنڈز منظور کر وا کر تعمیراتی کام شروع کروائینگے۔انہو ں نے کہا ہے کہ دریاکے کٹاؤ سے عوام کے قیمتی جان و مال کا جو نقصان ہور ہا ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے اور انشاء اللہ اس حفاظتی بند کی تعمیر سے محمود پور سمیت دیگر دیہات بھی دریا کے کٹاؤ اور سیلابی صورتحا ل سے محفوظ رہ سکیں گے۔
محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم
باغی ٹی وی : محمدپوردیوان( جنید احمدانی)منہاج ویلفئیر فاونڈیشن راجن پور کے زیرانتظام محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم کیا گیا۔جس میں مہمان خصوصی مرکزی نائب ناظم اعلی سردار شاکر خان مزاری،ڈاکٹراختر عباس کوارڈینیٹر منہاج ویلفئیر فاونڈیشن یو ۔کے ،ملک عبدالروف مصطفوی کوارڈینیٹر ایم ڈبلیو ایف راجن پور اور ڈائریکٹر جامعہ منہاج القرآن راجن پور ،خالد بلال اعوان ،محمد اشرف ملک،غلام مصطفیٰ مغل نے خصوصی شرکت کی۔۔۔اس موقع پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے فلسفے اور ان کے منشور کے مطابق ہر مشکل گھڑی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن بلا رنگ و نسل دکھی انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش نظر آتی ہے راجن پور ،ڈی جی خان سمیت پورے پاکستان کے سیلابی علاقوں کے لوگ خود کو تنہا نا سمجھیں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی بھی جا رہی ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن مدد کی جائے گی اس کے علاؤہ فاضل پور میں سیلاب متاثرین کیلئے تقریباً 50 خیموں پر مشتمل خیمہ بستی بھی لگائی گئی ہے جس میں لوگوں کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی سہولیات اور بچوں کو تعلیم بھی دی جا رہی ہے جو کہ ایک احسن اقدام ہے









