Baaghi TV

Category: متفرق

  • تلہ گنگ- الخدمت فاؤنڈیشن  نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا

    تلہ گنگ- الخدمت فاؤنڈیشن نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا

    باغی ٹی وی :تلہ گنگ (شوکت ملک سے) اہلیانِ تلہ گنگ کا الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد، الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا، تفصیلات کے مطابق اہلیانِ تلہ گنگ نے الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ کو سیلاب متاثرین کی بھاری امداد فراہم کرکے ریکارڈ قائم کر دیا، صدر الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ افتخار افتی نے دیگر ضلعی عہدیداران کے ہمراہ ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صدر الخدمت فاؤنڈیشن پنجاب شمالی رضوان احمد کے حوالے کر دیا۔

  • کندھ کوٹ : برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں  تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم

    کندھ کوٹ : برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم

    باغی ٹی وی .کندھ کوٹ (نامہ نگار)کندھ کوٹ میں سیلاب اور برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے کندھ کوٹ کشمور اور تنگوانی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا
    تفصیلات کے مطابق کیمپ میں ماہر ڈاکٹر، چائلڈ اسپیشلسٹ اور تمام امراض کو ڈاکٹروں نے چیکپ کیا کیمپ میں 500 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں ادویات فراہم کیں مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں کندھ کوٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان کندھ کوٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستروں کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان کندہ کوٹ بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک ضلع کشمور کے امیر مفتی محمد قاسم سکندری اور ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کندھ کوٹ کشمور کے مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے مزید کہا کہ فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔

  • سمندر سے  1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات اور اس میں موجود نوادرات دریافت

    سمندر سے 1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات اور اس میں موجود نوادرات دریافت

    تل ابیب: اسرائیل کے ایک ساحل سے سمندر کے اندر سے 1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جہاز سے کئی قیمتی سامان بھی ملا ہے یہ جہاز ساتویں صدی کے لگ بھگ سمندر میں ڈوب گیا تھا اور اس وقت اسے کوئی نہیں بچا سکا تھا دو شوقیہ غوطہ خوروں نے نیچے سے لکڑی کا ایک ٹکڑا چپکا ہوا دیکھا اور حکام کو اس کی اطلاع دی۔

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    ماہرین کیلئے حیران کن بات یہ ہے کہ اب تقریباً 1300 سال بعد یہ پرانا جہاز مل گیا ہے اور اس وقت جہاز میں جو بھی چیزیں رکھی گئی تھیں وہ اب بھی محفوظ پائی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس جہاز میں تقریباً 200 دیگیں قیمتی چیزوں سے بھری ہوئی تھیں۔ جہاز بحیرہ روم کے زمانے کے سامان سے لدا ہوا تھا تاہم جہاز کن وجوہات کی بنا پر غرق ہوا، یہ سبب سامنے نہیں آیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ساتویں صدی میں اسلامی سلطنت کے قیام کے بعد بھی مغربی ممالک سے لوگ تجارت کے لیے یہاں آتے رہے ہوں گے یہی نہیں بلکہ جہاز کے اردگرد ملنے والے نوادرات سے لگتا ہے کہ یہ جہاز مصر یا ترکی سے یہاں آیا تھا۔

    یہ وہ وقت تھا جب بڑی تعداد میں عیسائی بازنطینی سلطنت مشرقی بحیرہ روم کے اس علاقے پر اپنی گرفت کھو رہی تھی اور اسلامی حکومت اپنی رسائی کو بڑھا رہی تھی۔

    حیفا یونیورسٹی کی ایک سمندری آثار قدیمہ کے ماہر اور کھودنے کی ڈائریکٹر ڈیبورا سیویکل نے کہا کہ بحری جہاز کی تباہی، جس کی تاریخ 7ویں یا 8ویں صدی عیسوی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیرہ روم کے باقی حصوں کے ساتھ مذہبی تقسیم کے باوجود تجارت برقرار رہی-

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    انہوں نے کہا کہ ہاں ہمارے پاس ایک بڑا جہاز کا ملبہ ہے، جس کے بارے میں ہمارے خیال میں اصل جہاز تقریباً 25 میٹر (82 فٹ) لمبا تھا، اور. بحیرہ روم کے تمام سامان سے لدا ہوا تھا ڈیک پر موجود نوادرات سے پتہ چلتا ہے کہ جہاز قبرص، مصر، شاید ترکی اور شاید شمالی افریقہ کے ساحل تک بہت دور تھا۔

    کھدائی اسرائیل سائنس فاؤنڈیشن، آنر فراسٹ فاؤنڈیشن اور ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ناٹیکل آرکیالوجی کی مدد سے کی گئی اسرائیل کا ساحل ہزاروں سالوں میں ڈوبنے والے بحری جہازوں سے بھرا ہوا ہے۔

    ملبے بحیرہ روم میں کسی اور جگہ کے مقابلے میں مطالعہ کے لیے زیادہ قابل رسائی ہیں کیونکہ یہاں کا سمندر اتھلا ہے اور ریتلی تہہ میں نوادرات محفوظ ہیں۔

    اس تلاش میں تقریباً 200 ایسے برتن ملے ہیں جن میں کھانے پینے کی اشیا ہیں جو بحیرہ روم کے علاقوں سے وابستہ ہیں۔ فی الحال اسے متعلقہ محکمے کے حوالے کر دیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی چھان بین اور تفتیش کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی محققین نے یروشلم میں ایک پتھر دریافت کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 2700 سال پرانا ہے اس پتھر کو لوگ بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے تھے، بتایا جاتا ہے کہ یہ پرتعیش بیت الخلاء تھا علاوہ ازیں ماہرین آثار قدیمہ نے 1500 سال پہلے کی شراب کی فیکٹری دریافت کی تھی۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم

    ڈیرہ ڈویژن محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم ،گھروں میں فاقے
    باضی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان(نامہ نگار) آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکر یونین سی بی اے محکمہ بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے عہدیداروں نے کہاہے کہ پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے ورک چارج ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین خودکشی کرنے پر مجبور اور گورنمنٹ کے ریگولر آرڈر دینے کے باوجود ٹائم پرٹائم دے رہے ہیں حکومت پنجاب نے ورک چارج ملازمین کو ریگولر ورک مین کر دیا پچھلے پانچ ماہ سے نہ ہی تنخواہ دی، نہ ہی آرڈر دیے ،ورک چارج ملازمین کا اعلی حکام و کمشنر ڈیرہ غازی خان سے نوٹس لیکر ملازمین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیاہے.

  • اغوا کاروں کی انوکھی واردات: بھاری تاوان کیلئے بن مانس کے بچے اغوا کر لئے

    اغوا کاروں کی انوکھی واردات: بھاری تاوان کیلئے بن مانس کے بچے اغوا کر لئے

    کانگو: ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں اغوا کاروں نے بن مانس کے 3 بچوں کو اغوا کرکے بھاری تاوان مانگ لیا اور ان چمپینزیز کی ہاتھ پاؤں بندھی ویڈیو بھی بھیجی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایک بحالی سینٹر سے 3 بن مانس غائب ہوگئے عملے نے پہلے تو سمجھا کہ شرارتی بن مانس پنجرے سے نکل کر بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تاہم حیران کن طور انھیں اغوا کاروں کی کال آئی۔

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    سی این این کےمطابق پناہ گاہ کے بانی فرینک چینٹیرونے کہا کہ دنیا میں یہ پہلا موقع ہے کہ بچے بندروں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا-

    چنٹیریو نے بتایا کہ اغوا کار 9 ستمبر کی صبح 3 بجے کے قریب پناہ گاہ میں داخل ہوئے، اور پانچ بچوں میں سے تین بن مانسوں کو لے گئے چنٹیرو کی بیوی کو اغوا کاروں کی طرف سے تین پیغامات اور اغوا شدہ چمپس کی ایک ویڈیو موصول ہوئی۔

    اغوا کاروں نے بتایا کہ تینوں بن مانس ان کی قید میں ہیں اور بحالی مرکز ان کی رہائی کے لیے بھاری تاوان ادا کرے۔ عملے نے اسے مذاق سمجھتے ہوئے بن مانسوں کے ان کی قید میں ہونے کا ثبوت مانگا۔

    عودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    جس پر اغوا کاروں نے بحالی مرکز کے عملے کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بن مانسوں کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں۔ تاوان کے لیے بن مانسوں کے اغوا کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے۔

    جس بحالی سینٹر سے یہ بن مانس اغوا ہوئے وہاں اس نسل کے 40 جانور ہیں جب کہ معدومی کے شکار بندر بھی ہیں۔ اغوا ہونے والے بن مانسوں کی عمریں 2 سے 5 سال کے درمیان ہے۔

    چینٹیرو نے کہا کہ ظاہر ہے، ہمارے لیے تاوان ادا کرنا ناممکن ہے،نہ صرف ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، بلکہ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم ان کے راستے پر چلتے ہیں، تو وہ دو ماہ میں یہ کام بہت اچھی طرح سے کر سکتے ہیں، اور ہمارے پاس اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ بچے ہمیں واپس کر دیں گے۔

    چینٹیرو کو یہ بھی خدشہ تھا کہ اس سے مزید اغوا کا دروازہ کھل جائے گا پورے براعظم میں 23 پناہ گاہیں یہ کام کر رہی ہیں۔ اگر ہم تاوان ادا کرتے ہیں، تو یہ ایک مثال قائم کر سکتا ہے اورکئی دوسرے لوگوں کو متوجہ کر سکتا ہے، اس لیے ہمیں انتہائی چوکس رہنا چاہیے-

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

  • تھر پارکر کی دکھ بھری داستان۔۔۔!!!

    تھر پارکر کی دکھ بھری داستان۔۔۔!!!

    تھر پارکر کی دکھ بھری داستان۔۔۔!!!
    تحریر: شوکت ملک
    گزشتہ روز چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کے ہمراہ اندرون سندھ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا جہاں پر دیگر علاقوں کی طرف تھرپارکر بھی سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، لوگ بیچارے اپنے ڈوبتے گھروں کو مجبوراً چھوڑ کر سڑک کنارے خیمے لگا کر زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہیں، سڑک کنارے بےبسی کی تصویر بنے روڈ کنارے کھڑے بچے بوڑھے بزرگ امداد کےلیے ترس رہے ہیں، جب سڑک سے گزرتی گاڑیوں کا قافلہ دیکھتے ہیں تو اپنے خیموں سے نکل کر امداد کےلیے ہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں، چھوٹے بچے بچیوں کے جسم پہ دو گز کپڑا تک نہیں یہ رقت آمیز مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا، کسی مسیحا کے منتظر یہ بے بس مجبور و لاچار لوگ اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کی بےحسی پہ بھی کئی سوالات لیے کھڑے تھے، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کا قافلہ جب تھرپارکر سے گزرا اور ان کی جانب سے نقد رقم تقسیم کرنا شروع کی گئی تو گویا وہ چند ہزار روپے کے نوٹ لیکر ان کے چہروں پہ جو خوشی آرہی تھی اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے گویا کہ ان کو مہینوں کی امداد مل گئی ہو، سیلاب متاثرین کی اس قدر بےبسی کو دیکھ کر یوں معلوم ہو رہا تھا کہ ان کو کبھی کسی نے امداد دی ہی نہ ہو، سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین اب بھی امداد کے منتظر ہیں ہم سب کو مل کر ابھی مزید اپنے ان بھائیوں کی مدد کرنا ہوگی تاکہ وہ بھی کم از کم اپنی دو وقت کی روٹی تو کھا سکیں، ملک اس وقت انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے، حکمرانوں کو بھی بے حسی کی چادر اتار پھینک کر ان بے بس مجبور و لاچار لوگوں کے بارے سوچنا ہو گا، اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سب کو قدرتی آفات سے محفوظ اور ہماری مشکلات کو آسان فرمائے۔ آمین

  • کندھ کوٹ – صفائی ستھرائی کا کام تیزی سے جاری

    کندھ کوٹ – صفائی ستھرائی کا کام تیزی سے جاری

    باغی ٹی وی : کندھ کوٹ(نامہ نگار) صفائی ستھرائی کا کام تیزی سے جاری
    کندھ کوٹ میونسپل کمیٹی کے چیف سپروائزر منیر احمد ملک کے ہدایت پر انسپکٹر سکندر علی شیخ اپنی ٹیم کے ہمراہ وارڈ نمبر 12 وارڈ نمبر 13 وارڈ نمبر 14 سمیت دیگر وارڈوں میں صفائی ستھرائی کا کام زور شور سے جاری
    تفصیلات کے مطابق کندھ کوٹ میونسپل کمیٹی کے چیف سپروائزر منیر احمد ملک کے ہدایت پر انسپکٹر سکندر علی شیخ اپنی ٹیم کے ہمراہ وارڈ نمبر 12 وارڈ نمبر 13 وارڈ نمبر 14 سمیت دیگر وارڈوں میں صفائی ستھرائی کا کام زور شور سے جاری ہے اس موقع پر میونسپل کمیٹی کے انسپکٹر سکندر علی شیخ نے کہا کہ ہم اپنی حدود کی گلیوں محلوں میں نکاسی آب اور روڈ راستون پر صفائی ستھرائی کا کام اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات کر رہے ہیں نے کہا کہ صفائی ستھرائی کرنے والا ہمارا عملہ جھان بھی گندگی ہوتی ہے بغیر کسی کے کہنے پر فورن پھنچ کر وہاں اپنے کام میں لگ جاتے ہیں صفائی ستھرائی کے کام میں کبھی بھی غفلت نہیں کرتے ہم اپنی ٹیم کو سارا سارا دن کام کرواتے ہیں چیف سپروائیزر منیر احمد ملک نے مزید کہا کہ ہماری کوشش جاری ہے کندھ کوٹ شھر کی گندگی کو مکمل طور پر ختم کریں گیں کسی بھی حدود کے لوگوں شکایت نہیں ملے گی۔

  • شیخوپورہ: محکمہ ریونیو اور پٹوارخانے  پرائیویٹ منشیوں کے حوالے، عوام لٹنے پر مجبور

    شیخوپورہ: محکمہ ریونیو اور پٹوارخانے پرائیویٹ منشیوں کے حوالے، عوام لٹنے پر مجبور

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) محکمہ ریونیو پٹوارخانوں میں پرائیویٹ منشیوں کی شہریوں سے رشوت ستانی کی لوٹ مار سرکاری دستاویزات حوالے رجسٹری برانچ افسر کے کرپشن کی داستانیں اعلیٰ افسران تک منتھلیاں دینے کے انکشافات شہری سراپا احتجاج وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکرٹری سیکرٹری بلدیات سے نوٹس کا مطالبہ۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹوارخانوں میں پٹواریوں اور پرائیویٹ منشیوں کی شہریوں سے رشوت ستانی کی لوٹ مار شاہی افسری پٹواری کا دفتر میں تاخیر سے آنا پرائیویٹ منشیوں نے دفتر کھول کر آئے سائلین سے فرد دینے پر مبینہ مک مکا کرنا معمول بن گیا۔ تحصیل کمپلیکس میں ٹوکن و سکیننگ سے لیکر رجسٹری برانچ تک کرپشن کی بھرمار رجسٹری برانچ میں تعینات افسر پر سابق کرپشن کے مقدمات لمحہ فکریہ لیکن سفارشات نے دوبارہ تعینات کروا دیا سائلین رل گئے پرائیویٹ منشیوں کے ہاتھوں میں عوام کی ملکیتی اراضیوں کے ریکارڈ میں خوردبرد کے انکشافات جبکہ بڑھتی کرپشن کے سبب ہائی کورٹ نے بھی پرائیویٹ منشی رکھنے کی پٹواری پر پابندی لگا رکھی ہے جسکو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔ کرپشن کے معاملے پر جب اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر آفیسرز سے رابط کیا گیا تو موقف دینے سے انکار کر دیا سائلین و شہریوں نے وزیرِاعلیٰ پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری بلدیات سے مطالبہ کیا ہیکہ کرپشن روکنے کیلئے احسن اقدامات پر عمل کیا جائے اور پرائیویٹ منشیوں کا پٹوارخانوں سے خاتمہ کیا جائے۔

  • مریدکے شیخوپورہ کا حصہ ہے جہاں باقی اضلاع کی نسبت طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے. ایکسیئن واپڈا

    مریدکے شیخوپورہ کا حصہ ہے جہاں باقی اضلاع کی نسبت طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے. ایکسیئن واپڈا

    مریدکے،شہریوں کے نمائندہ وفد کی ایکسیئن واپڈا سے ملاقات،ظالمانہ لوڈ شیڈنگ پر عوامی جذبات سے آگاہ کیا
    باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) شیخوپورہ تحصیل مریدکے امیر جماعتِ اسلامی مریدکے سید تائید منظور کے ہمراہ آج ایکسیئن واپڈا سے ملاقات ہوئی۔ دو رکنی وفد نے دورانِ ملاقات ظالمانہ لوڈشیڈنگ پر عوام کے جذبات سے انہیں آگاہ کیا۔ اس دوران گزشتہ اتوار کے عوامی احتجاج کا تذکرہ ہوا نیز واپڈا لائن مین راناقیصر محمود کی روح کو ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ واپڈا آفیسر نے لوڈ شیڈنگ شیڈول کے سبب عوامی مشکلات پر اظہار افسوس کیا تاہم اس میں کمی بیشی پر اپنے کردار بارے بے بسی ظاہر کی اور بتایا کہ یہ شیڈول اوپر سے آتا ہے اور وہ اسے فالو کرنے کے پابند ہیں۔ ان کا کہنا تھا توقع ہے جلد لوڈ شیڈنگ شیڈول میں کمی ہوگی جس دن بھی ایسا کرنے کا حکم ملا بلاتاخیر اس کا فائدہ عوام تک منتقل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور، شیخوپورہ اور ڈسٹرکٹ گوجرانوالہ کاالگ الگ لوڈشیڈنگ شیڈول ہے۔ مریدکے شیخوپورہ کا حصہ ہے جہاں باقی اضلاع کی نسبت طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ فرینڈز آف مریدکے کی جانب سے ظالمانہ لوڈ شیڈنگ شیڈول بارے ایم این اے تحریک انصاف راحت امان اللہ بھٹی کو گزشتہ روز آگاہ کر دیا گیا۔ برگیڈیئر بھٹی کے قریبی ذرائع نے اس بارے لیسکو چیف سے بات چیت کا کہا گیا تاہم اڑتالیس گھنٹے گذر جانے کے باوجود ابھی تک اس بارے کسی مثبت پیش رفت کی اطلاع نہیں۔ ادھر مریدکے شہر کے مرکزی علاقے آج کسی مبینہ خرابی کے سبب تقریباً چھ گھنٹوں تک مسلسل بجلی سے محروم رہے۔

  • بات سے بات — عمر یوسف

    بات سے بات — عمر یوسف

    میرے ایک دوست نے کہا کہ برطانوی سامراج نے جاتے ہوئے متحدہ ہندوستان کو آفر کی کہ تمہارا نگران میں ہی رہتا ہوں اندرونی معاملات میں تم آزاد ہو جیسے چاہو انجام دو ۔

    اگر متحدہ ہندوستان یہ آفر قبول کرلیتا تو آج ہم دیگر اقوام کی طرح طبقاتی کشمکش میں مبتلا نہ ہوتے اور دولت کی مساوی تقسیم ہوتی ۔

    کیونکہ آج بھی کچھ ممالک برطانیہ کے ماتحت ہیں لیکن ان کی معاشی حالت بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ بڑے احسن انداز سے ان ممالک کے وسائل کی کمی کے باوجود معاملات انجام دے رہا ہے ۔

    شاید یہ سوچ بھی ذہن میں آئے کہ نگرانی کے بدلے وہ ہم سے مال و زر بھی لیتا ۔

    تو اس شبہ کا ازالہ یوں ہوگا کہ اگر وہ کچھ لے بھی لیتا تو بدلے میں نظام تو بہتر رکھتا ۔ جب کہ جتنا اس نے لینا تھا اس سے سو گنا زیادہ ہمارے کرپٹ سیاستدان ہم سے لے چکے ہیں ۔

    معاشی حالات کی بات کی جائے تو یہ بات دل کو لگتی ہے ۔

    دوسری طرف مذہب پسند علماء و عقلاء کا یہ خیال ہے کہ ایسا اگر ہوجاتا تو اسلام کو پنپنے کا موقع نہ ملتا یعنی اسلامی غلبہ و قوت انگریز کی ماتحتی میں ممکن نہ ہوتے اور اسلام مغلوب ہی رہتا ۔

    مذہبی علماء کی یہ بات بھی دل کو لگتی ہے کیونکہ انگریز سامراج کی تاریخ تو اسلام اور مسلمان دشمنی پر ہی مشتمل ہے ۔

    لیکن یہ نکتہ نظر بھی قابل تردید نہیں کہ موجودہ مغربی افکار سیکولر سوچ پر مبنی ہیں اور ہر ایک کو اس کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دینے پر زور دیتے ہیں لہذا آج کا دور میں ایسا نہ ہوتا ۔

    دونوں طرح کے موقف سامنے آنے کے بعد خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کسی بھی چیز کے بارے جب فیصلہ دیتا ہے تو وہ مخصوص حالات کے زیر تاثر دیتا ہے ۔ مثلا معاشی حالات ٹھیک نہیں تو اس صورت حال میں ایسے نظام کو سپورٹ کیا جائے گا جس میں معیشت کے استحکام کی یقینی کیفیت سامنے آرہی ہو لیکن لاشعوری طور پر حالات کے دیگر کئی پہلو تلف ہوجائیں گے ۔

    اب علماء بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں وہ اس طرح کہ افراد تو افراد اقوام بھی تعصب کے جراثیموں سے پاک نہیں ہوسکتی ۔ وقتی مصلحت کی خاطر شاید کہ جاذب قلب پالیسیاں بنائی جاتی ہوں لیکن اگر حالات غیر موافق ہوجائیں تو یہ ساری پالیسیاں ڈھیر ہوجائیں گی ۔

    لہذا پاکستان کو نعمت گردانتے ہوئے شکر گزاری اس انداز سے کی جائے کہ ملک تمام پہلووں سے ترقی کی جانب گامزن ہو ۔

    اس کے برعکس ماضی کی دلفریب مگر بوگس باتوں کو یاد کرنا شکوہ و شکایت کے سوا کچھ نہیں ۔