Baaghi TV

Category: متفرق

  • خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!

    خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!

    خدا کرے اب کی بار سچ ہو۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    انسانی فطرت ہے جب ایک انسان بار بار اپنوں سے ہی ڈسا جائے تو اس کا یقین، اعتماد اور بھروسہ بلکل اٹھ جاتا ہے، وہ حقیقت اور سچ کو بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کچھ ایسا ہی گزشتہ کئی سالوں سے تلہ گنگ کی عوام سے ہوتا آرہا ہے، ڈسنے کا یہ عمل 2013 کے عام انتخابات سے شروع ہوتا ہے جب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف انتخابی جلسے سے خطاب کےلیے تلہ گنگ تشریف لاتے ہیں، اور تلہ گنگوی سفید پگ پہن کر بھرے جلسے میں اعلان کرتے ہیں کہ اگر ن لیگ کی حکومت بن گئی تو ہم تلہ گنگ کو ضلع کا درجہ دیں گے، اور ساتھ میں تلہ گنگ کو یونیورسٹی دینے سمیت انڈسٹریل زون کا وعدہ بھی کر ڈالا تھا، 2013ء کا الیکشن ہوا مسلم لیگ ن نہ صرف تلہ گنگ سے بھاری اکثریت سے جیتی بلکہ ملک بھر سے کامیابی سمیٹی اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوکر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی، حکومت میں آکر ن لیگ تلہ گنگ کی عوام سے کیا گیا وعدہ وفا کرنے کی بجائے اقتدار کے نشے میں مگن رہی، ن لیگ کے اقتدار کے آخری ایام میں عوامی دباؤ پر اس وقت کے مسلم لیگ ن کے ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن نے وزیراعظم ہاؤس سے ایک ڈائریکٹو جاری کروا کے عوام کی زبان بند کروا دی مگر وہ ڈائریکٹو محض ایک جلعی کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوا، اور اس پہ کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، اس کے بعد وقت گزرا 2018 کا الیکشن ہوا پی ٹی آئی کی حکومت بن گئی، ہمارے حلقہ این اے 65 سے پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت ق لیگ کامیاب ہوگئی مگر انہوں نے اس عمل کو ناقابل عمل قرار دے کر خود کو اس بحث سے ہی علیحدہ کرلیا، پھر ضلع تلہ گنگ کا سہرا اپنے سر سجانے کےلیے پی ٹی آئی رہنما ملک یاسر پتوالی میدان عمل میں آئے انہوں نے ضلع تلہ گنگ کے قیام کےلیے کوششیں شروع کر دی، اور بلآخر وہ بھی وزیراعظم ہاؤس سے ایک فرضی ڈائریکٹو جاری کروانے میں کامیاب ہوگئے، اس سلسلے میں تلہ گنگ کی نجی مارکی میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں ان کا ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر استقبال کیا گیا جوکہ بنتا بھی مگر بدقسمتی سے وہ ڈائریکٹو بھی ایک کورے کاغذ کے سوا کچھ نہ تھا، پھر وقت نے کروٹ لی مبینہ امریکی سازش کے نتیجے میں سیاسی جوڑ توڑ کے بعد وفاق میں ن لیگ کی حکمرانی جبکہ تخت پنجاب چند ماہ ن لیگ کے پاس رہنے کے بعد پی ٹی آئی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کے کنٹرول میں آگیا، اب کی بار چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ساتھی اور جانشین حافظ عمار یاسر ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے محکمہ ریونیو پنجاب کا ایک پرپوزل لیٹر سامنے لے کر آئے ہیں جس کی کریڈبیلٹی اور Authentication پر کئی ایک سوالات تو اپنی جگہ موجود ہیں، اور سابقہ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اعتماد کرنا بھی قدرے مشکل ہے مگر پھر بھی دلی دعا ہے کہ گزشتہ ادوار کی طرح ہمارے ساتھ ایک بار پھر دھوکہ اور فراڈ نہ ہو بلکہ "خدا کرے اب کی بار سچ ہو” اور تلہ گنگ ضلع کا قیام ہمارا مقدر بنے، ہماری آنے والی نسلوں کی بقاء ترقی و خوشحالی بھی تلہ گنگ ضلع کے قیام سے جڑی ہے۔

  • ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    ایک سیلاب، تین بیانیے!!! — عرفان صادق

    پاکستان کا نصف سے زائد حصہ ایک بار پھر زیرِ آب آ چکا ہے، حکومتیں نقصان کے تخمینے لگانے کے درپے ہیں لیکن تاحال مکمل طور پر تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا اور یہ فی الحال ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں ابھی تک پانی آ رہا ہے۔

    آج ہم اگلی چند سطور میں اس سیلاب کے اسباب پر بات کریں گے، راقم الحروف چونکہ خود سیلاب زندہ علاقوں کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہے اور الفلاح ویلفیئر فاؤنڈیشن تلہ گنگ (رجسٹرڈ) کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور سیلاب کے حوالے سے کچھ پڑھ ،سن بھی چکا ہے لہذا کوشش کی جائے گی کہ آسان الفاظ میں ماحصل کو قارئین کے گوش گزار کیا جائے۔

    اس سیلاب کے حوالے سے دو بیانیے زبان زد عام ہیں جبکہ تیسرا بیانیہ جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں اس کی طرف ابھی کم ہی لوگوں کا دھیان گیا ہے، لہذا پہلے دو پر بات کر کے ہم آگے کی طرف چلتے ہیں۔

    پہلا بیانیہ:

    سیلاب ہو یا کوئی بھی آسمانی آفت بحیثیت مسلمان سب سے پہلی چیز جو ہمارے اذہان کو کھٹکھٹاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کوئی اللہ کا عذاب ہے جو ہمارے برے اعمال کے سبب ہم پر آ گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھئی اللہ کا عذاب کیسے ہوا ۔۔؟ تو مولانا صاحب فرمانے لگے کہ دیکھیں بھئی آج تک کبھی اتنی بارشیں ہوئی ہیں جتنی اس دفعہ ہوئی ہیں۔؟ کیا بارشوں سے بھی کبھی اتنے سیلاب آئے ہیں جتنے اس دفعہ آ رہے۔۔؟ یہ عذابِ الٰہی نہیں تو کیا ہے۔۔۔؟

    بات تو مولانا کی بھی پھینکنے والی نہیں تھی بہرحال میں اگر اپنا ذاتی مشاہدہ بتاؤں تو سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ اجتماعی گناہ مجھے بھی نظر آئے، ڈیرہ اسماعیل خان ہو راجن پور کے دیہات ہوں وہاں علی الاعلان بجلی چوری کی جاتی ہے، کنڈے لگا کر اپنا گھر روشن کرنا ان کےلئے اتنا نارمل ہے کہ جب ہم نے اپنی راشن ڈرائیو میں ساتھ جانے والے SHO سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ صاحب فرمانے لگے کہ یہاں ایسے ہی چلتا ہے۔جنہوں نے کنڈے لگائے ہوئے ہیں وہ ماہانہ پانچ سو دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں اور ضمیر فروش افسر اپنے پیٹ کو۔۔!

    ایسے ہی کچھ علاقوں میں غیر فطری گناہ کی بہتات سننے کو ملی، اور جنوبی پنجاب کی مساجد کی حالتِ زار کو دیکھا تو ان پر ترس آیا۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ سیلاب کے بعد بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا، نماز کے وقت ایک مسجد جانا ہوا تو وضو خانے کی حالت دیکھ کر ایسے لگتا جیسے کئی سالوں سے یہاں کسی نے وضو نہ کیا ہوا۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ

    تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔۔!
    اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی..!

    اور جب مسجد کے اندر گئے تو ایک معذور شخص موجود تھا اور ایک کوئی ستر اسی سالہ بزرگ، جبکہ باقی سارے نوجوان سارا دن موٹر سائیکل پورے شہر میں بھگاتے پھرتے ہیں کہ کب کوئی راشن والی گاڑی آئے اور ہم کچھ حاصل کر لیں۔

    اب ایسے حالات میں سیلاب نہ آئیں تو کیا ہو۔۔؟

    اللہ کا اصول ہے ہے کہ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اللہ پھر ان کو جھنجھوڑنے کےلئے کوئی آسمان سے آزمائش بھیجتے تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔

    دوسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جسے ہمارا پڑھا لکھا طبقہ لے کر چل رہا ہے کہ بھئی یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ سراسر ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کی Mismanagement ہے، پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن وہاں ان کے نقصان سے بچنے کےلئے اقدامات کیے جاتے ہیں، جہاں پانی کی کثرت ہو وہاں ڈیم بنا کر پانی کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ پانی بجلی بنانے اور زمین کو سیراب کرنے کے کام آتا ہے لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے کہ یہ قیمتی پانی جو ہم نے سٹور کر کے اس سے فائدہ اٹھانا تھا وہ ہمیں ڈبوتا ہوا، ہمارے گھروں، مال، مویشی اور املاک کو تباہ و برباد کرتا سمندر برد ہو جاتا ہے اور ہم تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ یہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کہ اشرافیہ نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کےلئے پانی کا رخ آبادیوں کی طرف موڑ دیا، خاص نہروں کو بچانے کےلئے ان کے اوپر سے بارشی پانی کی گزرگاہ بنائی جاتی ہے جس کا رخ انسانی نہیں بلکہ کیڑوں مکوڑوں کی آبادیوں کی طرف کر دیا جاتا ہے، ہاں بھئی نہریں بچنی چاہئیں کیونکہ وہ تو ہماری مخصوص زمینوں کو سیراب جو کرتی ہیں، کیڑوں مکوڑوں کا کیا ہے وہ تو پھر اٹھ کھڑے ہونگے انہیں تو کوئی نہ کوئی گھر بنا دے گا۔اور مر بھی جائیں تو ہماری بلاء سے۔۔۔ سانوں کی۔۔۔؟

    پھر اسی طرح سوچنے ایک اور زاویہ یہ ہے کہ جب سیلاب آتا ہے تو عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف سے اربوں ، کھربوں کی مالیت کا سامان اور امداد آتی ہے جس پر ہاتھ صاف کرنا ہماری اشرافیہ اپنا قانونی و اخلاقی حق سمجھتی ہے لہذا اشرافیہ کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہر کچھ عرصہ کے بعد ایسی آفت ضرور آئے ہی آئے کہ چلو کچھ کیڑے مکوڑے مر جائیں گے تو اسی بہانے ہمارے خزانوں میں بھی کچھ آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کی مشینری 1988 سے آئی پڑی ہے اور پڑے پڑے گل سڑ چکی ہے لیکن تاحال اس کالاباغ ڈیم پر کام نہیں شروع ہو سکا اور جن لوگوں نے اس ڈیم کی مخالفت کی تھی اس سیلاب نے ان کو بھی اپنی روانی میں بہا دیا ہے۔ شاید کہ اب وہ کچھ سوچ سمجھ لیں اور کالاباغ ڈیم کےلئے عملی اقدامات کر لیں۔

    تیسرا بیانیہ:

    یہ وہ بیانیہ ہے جو ہر پاکستانی کے علم میں ہونا چاہیے لیکن بد قسمتی سے ہماری قوم شاید اس پر سوچنا ہی نہیں چاہتی یا سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔

    آپ نے آج کل Global Warming, ، Ozone, Climate Change, Carbon وغیرہ جیسے دو تین اور الفاظ بھی سنے ہونگے۔ ابھی اس کی تفصیل میں جانا تو ممکن نہیں بہرحال ایک بات آپ ذہن نشین کر لیں کہ فضا میں کاربن کی بڑھتی مقدار نے پوری زمین کو متاثر کیا ہے، جس کے کئی ایک نقصان ہیں جیسے بارشوں کی بہتات، گلیشئر کا بڑی مقدار میں پگھلنا، فضائی آلودگی، نئی نئی بیماریوں کا وجود میں آنا، موسموں میں یکسر تبدیلی یعنی گرم علاقوں میں ٹھنڈ ہونا اور ٹھنڈے علاقوں میں گرمی کا ہونا اور قدرتی آفات مثلا زلزلہ، سیلاب وغیرہ آنا۔ ایسا ہی معاملہ کچھ اس دفعہ ہمارے ساتھ ہوا ایک تو بارشیں اپنی روٹین کے حساب سے ہزاروں گنا زیادہ ہوئیں اور دوسرا ہمارے ہاکستان کے پاس چھے ہزار کے لگ بھگ گلیشیئر ہیں جو انتہائی تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے اور وہ پہاڑی و میدانی علاقوں میں سیلاب کا باعث بنے۔

    اصل بات اس سے بھی آگے ہے کہ آخر کاربن کی مقدار فضا میں زیادہ کیوں ہو رہی ہے۔۔؟

    اس کی بڑی وجہ انڈسٹری ہے اور انڈسٹریز میں پاکستان تو بہت پیچھے کھڑا ہے جبکہ تمام ترقی یافتہ ملک بشمول ہمسایہ ملک چین اور بھارت کے انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی مقدار کی وجہ سے فضا میں کاربن کی مقدار تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستان تو مکمل ایک فیصد سے بھی کم کاربن فضا میں چھوڑ رہا ہے جبکہ کئی ایسے ممالک ہیں جو پچیس فیصد سے زائد کاربن فضا میں بھیج رہے ہیں۔

    اور وہی کاربن جو بڑی طاقتوں کی ترقی کا نتیجہ ہے وہ ہمارے لیے سراسر تباہی ہے اور حالیہ دورے میں جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان موجودہ حالات میں عالمی برادری سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنا نقصان بھرنے کا مطالبہ کریں اور یہ کیس لے کر ایمنسٹی، اقوام متحدہ ، OIC وغیرہ میں جائیں کہ عالمی معاشی طاقتیں کمزور ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کریں۔

    اب اگر بات کی جائے کہ کیا یہ تینوں بیانیے درست ہیں تو جواب ہو گا جی ہاں، اپنی اپنی جگہ یہ تینوں بیانیے درست ہیں لیکن جس بیانیے کو زیادہ سمجھنے اور پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ تیسرا بیانیہ ہے۔ تاکہ عالمی سطح پر اس مقصد کےلئے کوئی پختہ اقدامات ہو سکیں اور ہم آئندہ ایسے بڑے نقصان سے بچ سکیں۔

  • سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کی تقریبات

    سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کی تقریبات

    باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے)پیر سید وارث شاہ کے 224 ویں سالانہ عرس کے سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 24 ستمبر کو تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔سالانہ عرس کی 3 روزہ تقریبات کا آغاز 23 ستمبر کو جنڈیالہ شیر خان میں ہو گا اور تقریبات 25 ستمبر تک جاری رہیں گی۔

  • جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    جانور اور جانور!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آنجہانی عمر شریف ایک بار لطیفہ سنا رہے تھے کہ پاکستان میں کہیں گلی میں کتا نظر آ جائے لوگ اُسے پتھر مارنے لگ جاتے ہیں۔ کتا بھی سوچتا ہو گا کہ کتا میں ہوں اور کتے والی حرکتیں یہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں جانوروں پر ظلم کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے ہاں ہر وہ جانور جسے کھایا نہ جا سکے اُس پر ظلم کرنا ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کیا امیر اور کیا غریب۔ امیروں کے ہاں بچوں کی برتھ ڈے پارٹیوں پر کھچوے، مچھلیاں، چوزے اور نہ جانے کیا کیا تحفے میں دیا جاتا ہے۔ اور نا سمجھ بچے جنکو انکی حفاظت کی نہ تو تربیت ہوتی ہے نہ شعور۔ کچھ دن انکے ساتھ کھلونوں کیطرح کھیل کر دلچسپی ختم ہونے پر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ننھے جانور بھوک یا غفلت کے باعث تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

    اسی طرح آج کل کچھ نو دولتیوں کو شیروں، چیتوں اور ایسے جانوروں کو اپنے گھروں میں رکھنے کا شوق در آیا ہے جو دراصل بنے ہی جنگل کے ماحول کے لیے ہوتے ہیں۔ باہر کی دنیا کے امیر اور ہمارے ہاں کے امیروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کے حوالے سے زمین اسمان کا فرق ہے۔ یہاں جانوروں کو پالنے کا کلچر کم اور فیشن زیادہ ہے۔ تبھی جانور کچھ عرصہ انکے "تہذیب یافتہ” ہونے کی نمائش بن کر مر جاتے ہیں۔

    یہی حال غریبوں کا ہے۔ گدھوں پر اُنکے وزن سے کئی گنا زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔ سخت سے سخت کام جانوروں کی بساط سے بڑھ کر لیتے ہیں۔ لاٹھیوں ڈنڈوں سے اُنکا بھرکس بنا دیتے ہیں اور چارہ ضرورت سے کم کھلاتے ہیں۔ ایسے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو کتوں سے خوف آتا ہے۔ گلی کے کتے دیکھ کر انہیں مارنے کو دوڑتے ہیں۔

    ٹی وی ٹاک شوز کے علاوہ مرغوں، کتوں، ریچھ وغیرہ کی لڑائی پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ ایسے ہی گلی گلی تماشا کرنے والے جانوروں کا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔

    کراچی میں ہر سال کئی ہزار کتوں کو بے رحمی سے مار دیا جاتا ہے۔ یہی حال دوسرے شہروں کا ہے۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مارنا حل ہے اُنکی سوچ سے کیا لڑنا کہ ان میں ایک بڑا پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے۔

    یہی رویہ پاکستان میں غیر قانونی شکار کا ہے۔ پرندوں کے جھنڈ سائبیریا سے اتنا سفر طے کر کے آتے ہیں اُنہیں کچھ نہیں ہوتا مگر یہاں کچھ لوگ بندوقیں تانے قطاروں کی قطار میں اُن معصوموں می لاشیں گراتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جیپوں کے سامنے اُنکے مردہ جسموں کی نمائش کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں فخر سے سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔ کہاں سے رونا شروع کیا جائے؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ آج ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے انسان ہی نہیں چرند پرند سب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی جانوروں کی نسلیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں کئی جانور جن میں چیتا، دریائی کچھوے، تیتر، عقاب یہ سب معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ۔

    ماحولیات کی سائنس یہ کہتی ہے کہ انسان بقا کئی پیچیدہ عوامل کے تحت ایک کڑی میں تمام جانداروں کی بقا سے جُڑی ہے۔ اگر زمین سے شہد کی مکھیاں ختم ہو جائیں تو دنیا میں کئی سبزیاں اور پھل ختم ہو جائیں گے۔ انسان غزائی قلت کا شکار اور دنیا کی معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے دوچار ہو گی۔ کھانے ہینے کی اشیا غریب ہی نہیں امیروں کی پہنچ سے بھی دور ہو جائیں گی۔

    پاکستان میں جانوروں ہر ظلم کے حوالے سے قانون انگریزوں کے زمانے کا ہے یعنی 1890 کا جسے Prevention of Cruelty to Animal Act کہا جاتا ہے۔ یہ قانون پرانا اور غیر موٹر ہے۔ مثال کے طور ہر اس میں جانوروں پر ظلم کی صورت عائد جرمانے کی رقم پرانے دور کے حساب سے ہے۔ اسی طرح اس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جانوروں پر ظلم روکنے کے حوالے سے کوئی پہلو موجود نہیں۔

    ایک خاطر خواہ پیش رفت جو ماضی میں کی گئی وہ حلال اتھارٹی ایکٹ کی تھی جس میں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی ممانعت کی گئی مگر اس ہر بھی کون عمل کرتا ہے۔ اسی طرح محکمہ جنگلات اور تحفظِ وائلڈ لائف بھی اس قدر فعال نہیں اور آئے روز غیر قانونی شکار ہوتا رہتا ہے۔

    اس تناظر میں سب سے پہلے تو ہمیں جانوروں نے ساتھ اپنے انفرادی رویے اور سوچ کو درست کرنا ہے۔ اس میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں، کیا بوڑھے ،کیا جوان اور کیا بچے۔ بحیثیت قوم ہم سب ہی کا رویہ جانوروں کے ساتھ شرمناک ہے۔ کسی معاشرے میں اخلاق کا معیار جانچنا ہو تو یہ دیکھنا کافی ہوتا ہے کہ وہ معاشرے اپنے جانوورں کے ساتھ کیسا سلوک برتتا ہے۔ اگر ہم بے زبان جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ رکھ سکتے ہیں تو انسانوں کے ساتھ بھی لازماً رکھیں گے۔

    حکومتی سطح پر اس حوالے سے نہ صرف بہتر قانون سازی کی ضرورت ہے بلکہ اسکے عملدرآمد کی بھی۔ اس حوالے سے عام شہری کا بھی فرض بنتا کے کہ وہ جہاں جہاں جانوروں پر ظلم ہوتا دیکھے نہ صرف اسکے خلاف آواز اُٹھائے بلکہ اسے سوشل میڈیا پر اور اداروں کو رپوٹ بھی کرے۔

    اگر ہم جانوروں کے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھا سکتے تو انسانوں کے لئے کیا اُٹھائیں گے؟ پہلے جانوروں کے لیے آواز اُٹھانا سیکھیں، انسانوں کے لئے آواز اُٹھانے کی جرات خود ہی آ جائے گی۔

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

  • کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    پرائمری اسکول کے ایک کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے اور غلطی کو نہ دہرانے کے وعدے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ معصوم طالب علم کرسی پر بیٹھی بظاہر ناراض نظر آتی اپنی ٹیچر کو منا رہا ہے اور ٹیچر بار بار ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ تم ہر بار وعدہ کرتے ہوئے اور پھر کلاس میں وہی کرنے لگتے ہو اب میں تم سے بات نہیں کروں گی۔
    https://twitter.com/Gulzar_sahab/status/1569327422000230400?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیچر کے اس طرح کہنے پر بچہ مزید پریشان ہو جاتا ہے اور وہ خفا ٹیچر کو منانے کی کوششیں اور تیز کردیتا ہےکبھی غلطی نہ دہرانے کی یقین دہانی کراتا ہے تو کبھی ان کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر چہرہ قریب لاتا ہے اور معافی مانگتا ہے وہ ایک موقع پر پیار بھی کرلیتا ہے۔

    بچے کو اتنا لاڈ کرتا دیکھ کر ٹیچر کا دل پگھل جاتا ہے اور وہ بچے سے غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لے کر اسے معاف کردیتی ہیں اور بچہ انھیں پیار کرتا ہے جس کے بعد ٹیچرایک بار پھر غلطی نہ دہرانے کا وعدہ لیتے ہوئے بچے کو پیار کرتی ہے-


    اکثر صارفین نے بچے اور ٹیچر کے درمیان مضبوط جذباتی رشتے کی تعریف کی تاہم کچھ صارفین اپنے زمانہ طالب علمی میں ایسی ٹیچرز میسر نہ آنے پر آہیں بھرتے نظر آئے جبکہ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ اگر مرد ٹیچر اپنی طالبعلم کے ساتھ اس طرح بی ہیو کرتا تو ویڈیو پر ایک مختلف ردعمل دیکھنے کو ملتا اساتذہ کے لیے یہ ایک مختلف قسم کی سنسنی ہے۔
    https://twitter.com/SoniAnkitK95949/status/1569385417971044353?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    https://twitter.com/CaugusteC/status/1569765354448236544?s=20&t=jgRH98cmFY656xLG1NzA3A
    جس پر ایک صارف نے کہا کہ میں ایک لڑکا ہوں اور مجھے اس سے قطعی طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہےلڑکیوں کے ساتھ ایسا کرنے والے مرد اساتذہ بدتمیز ہیں لیکن دوسری طرف یہ مسئلہ نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو اس طرح کے اساتذہ کہاں تھے؟


    بعض صارفین نے ٹیچر کے اس عمل کو سراہا کہا کہ آپ کو ایک بہت بڑا سلام اور بہت زیادہ احترام محترمہ ایک استاد کا ایسا ہی ہونا چاہیئے بہت قریب آنے والا، پیار کرنے والا، نرم دل، بہت زیادہ صبر کے ساتھ ، بچے اس کے ساتھ بہت آرام سے رہیں۔


    ایک صارف نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اسے پیشہ ورانہ مقابلے کے نام پر کھو دیا، امید ہے کہ کچھ دن ہم سب اس طرح کی انسان دوستی اور پیار بھری تعلیم کی طرف لوٹیں گے۔

  • چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس

    چہلم حضرت امام حسین ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس
    باغی ٹی وی – کندھ کوٹ(نامہ نگار)ڈپٹی کمشنر آفس میں چھلم امام حسین کے انتظامات کا۔ جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس بلوایا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کشمور منورعلی مٹھیانی کا کہنا تھا کہ ہمارا ضلع ایک پرامن ضلع ہے۔ محرم الحرام مشترکہ تعاون اور امن سے گزرا جس میں علماء کا تعاون قابل تعریف ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف مکاتب فکر علماء کو مشورہ دیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔آپس میں امن اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر مختلف علماء نے چہلم کے دوران اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کا کہنا تھا کہ جلوس میں سخت سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا ، پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور امن قائم رکھا جائے گا۔ گشت کو شہروں اور دیہاتوں تک بڑھایا جائے گا ۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ چہلم کے جلوس کے مقررہ راستوں پر صفائی اور لائٹنگ کا انتظام کریں۔ سیپکو حکام کو ہدایت وه چہلم کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کریں۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکرکے علما ، نے۔ بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    بارے کچھ پاکستان پیکٹ اور ٹرسٹ کرامیٹک کی جانب سے منعقدہ اینٹی ٹوبیکو پوسٹ کارڈ مقابلہ کے!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے بچپن سے سیگریٹ /تمباکو نوشوں اور کسی بھی طرح کے نشے کے عادی لوگوں سے شدید الرجی ہے۔ ۔ ۔ نفرت نہیں کہوں گا کیونکہ یہ بہت ہی سخت اور شدید جذبہ ہے جس کی ذد میں میرے بہت سے پیارے اور دوست احباب بھی آجائیں گے البتہ مجھے سیگریٹ/تمباکو نوشوں سے الرجی ہے یہ بات ان کو معلوم ہے اور وہ جب میری معیت میں ہوں تو میرا لحاظ اور احترام کرتے ہوئے سیگریٹ/تمباکو نوشی یا تو کرتے ہی نہیں یا پھر مجھ سے فاصلہ اختیار کرکے اپنا شوق یا نشہ پورا کرلیتے ہیں۔

    کہتے ہیں جیسی نیت ویسی مراد۔ ۔ ۔ میری اولین نوکری ایک سیفٹی آفیسر کے طور پر جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی فرٹیلائزر فیکٹری کی کنسٹرکشن کے وقت وہاں تعیناتی سے شروع ہوئی, میری کنسٹرکشن کمپنی جس کا میں ملازم تھا وہ چائنہ کی مشہور و معروف کیمیکل انجنیئرنگ کمپنی تھی اور جنہوں نےسیفٹی ڈیپارٹمنٹ جس کو انگریزی میں Health, Safety & Environment کہا جاتا ہے میں سب لوکل پاکستانی ہی بھرتی کیے تھے۔

    تب میرا کام ورکنگ اینڈ کنسٹرکشن سائیٹ پر سیفٹی میعارات بتانا اور لاگو کروانا تھا جس میں سب سے زیادہ زور جن باتوں پر ہوتا ان میں سیگریٹ/تمباکو نوشی سرفہرست تھی۔ اس بابت بہت سخت قوانین تھے جن کی ذد میں اکثر لیبر سے لیکر مینجمنٹ لیول تک لوگ آتے اور جرمانہ و سرزنش کا سامنا کرتے لیکن اس بدبخت نشے سے توبہ تائب نہ ہوتے۔

    میں اس عادت یا نشے سے اس قدر عاجز ہوں کہ میرا بس چلے تو میں پاکستان میں اس حوالے سخت قوانین کی داغ بیل ڈالوں لیکن یہ میرے بس میں تو کیا میرے جیسے اور سیگریٹ/تمباکو بیزار لوگوں کے بھی بس کی بات نہیں۔

    ہاں البتہ اس پر آگاہی مہم اور تحریک چلائی جاسکتی ہے تاکہ ہمارے پیارے, اپنے اور دوست اس قبیح فعل سے بچ جائیں اور اپنی صحت اور جیب اور اخلاقی اقدار کو بچالیں۔

    میں ایک ایسی ہی تحریک سے آج ہی روشناس ہوا ہوں جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان بھر میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

    اس تنظیم/تحریک کا نام "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” ہے جس کی شارٹ فارم PACT ہے جو پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے سول سوسائٹی کے کارکنوں اور ماہرین صحت کے تعاون سے ایک ملک گیر سیگریٹ/تمباکونوشی روک تھام مہم ہے۔ چونکہ تمباکو دنیا میں کثیر اموات کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے اور پاکستان میں اس سے سالانہ 175,000 اموات ہوتی ہیں لہذا اس صورتحال میں عوامی آگاہی کے لیے کام کرنےکی اشد ضرورت ہے لیکن تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کو تمباکو انڈسٹری کے لابنگ گروپس کی طرف سے سخت مخالفت ملتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کا مقصد بھی ایسے کسی بھی حربے کو بے نقاب کرنا اور عوامی آگاہی اجاگر کرنا ہے۔

    مزید یہ کہ ان کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    اس عظیم مقصد کے تحت "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT مختلف ایونٹس اور مقابلوں اور آگاہی پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے۔ جس سے بچوں بڑوں سب میں سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور وہ صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔

    اسی سلسلے کی ایک کڑی میں PACT اور Trust Chromatic لائے ہیں ایک انوکھا مقابلہ جس کا پہلا سیزن بھی کامیاب رہا تھا سو اب اسی کا دوسرا سیزن لایا گیا ہے جس میں پاکستان کا کوئی بھی شہری حصہ لیکر بیس سے پچاس ہزار روپے تک کا نقد انعام جیت سکتا ہے۔

    مقابلے کی تفصیلات کچھ اسطرح سے ہیں کہ

    آغاز مقابلہ بتاریخ 12 اگست 2022 ہے اور اس مقابلے کا عنوان ہے

    "CHROMATIC PRESENTS POST CARD COMPETITION SEASON 02”

    جبکہ اس کی پرائز منی بالترتیب اول انعام 50000 روے اور دوم انعام 20000 روپے ہوگا جبکہ جیتنے والے امیدواروں کو انعامات ایک بہت بڑی تقریب میں پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کے سامنے دیا جائے گا۔

    اس مقابلے کی تھیم "Ban Nicotine Pouches” اور "Ban Modren Tobacco Products” ہے لہذا جس کو ان میں سے جس موضوع بابت دلچسپی یا معلومات ہو وہ اسی پر پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرسکتا ہے۔

    یاد رہے یہ ایک گرافک ڈیزائننگ مقابلہ ہے لیکن اس میں ہر خاص و عام کو موقع دیا جائے گا اس لیے اس مقابلے میں عمر کی حد آٹھ سال سے 25 سال رکھی گئی ہے کیونکہ اس مقابلے کا مقصد ہی بچوں اور نوجوانوں کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا حصہ بنانا اور ان کو سیگریٹ/تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔

    آپ اس مقابلے میں کیسےشامل ہوسکتے ہیں؟

    بہت آسان ہے, آپ اپنا ڈیزائن ڈیجیٹلی فوٹوشاپ, الیسٹریٹر, کینوا یا کسی بھی اور سافٹ ویئر و ایپ پر بناسکتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آپ کو کمپیوٹر کی الف ب نہیں معلوم لیکن آپ ڈرائنگ کرسکتے ہیں تو آپ ہاتھ سے ڈرا کرکے بھی مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    آپ اپنی تخلیق کیسے جمع کرواسکتے ہیں؟

    یہ اور بھی آسان ہے, آپ نے PACT کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنا ہے, اپنا ڈیزائن PACT کے فیسبک, انسٹا گرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر ٹیگ کرنا ہے اور ساتھ ہی اپنا ڈیزائن بذریعہ PACT ای میل (نام, شہر, عمر اور موبائل نمبر کے ساتھ) ارسال کرنا ہے۔

    "تمباکو کے استعمال کے خلاف عہد” المعروف "Pledge Against the Consumption of Tobacco” یا PACT کا مقابلے لیے دیا گیا ای میل ایڈریس درج ذیل ہے۔

    POSTCARDCOMPETITION2022@GMAIL.COM

    مزید معلومات کے لیے PACT کی آفیشل ویب سائٹ www.pakistanpact.com کا وزٹ کرسکتے ہیں۔

    دیکھیں سیگریٹ/تمباکو نوشی ایک بری عادت ہی نہیں بلکہ جان لیول شوق بھی ہے۔ اس کے عادی افراد ناصرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی خطرہ ہیں کیونکہ جتنا نقصان ایک سیگریٹ/تمباکو نوش کو ہوتا ہے اتنا ہی اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔

    سیگریٹ/تمباکو نوشی کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بھی بنیادی وجہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ماحولیاتی و اخلاقیاتی آلودگی کی بھی اہم وجہ ہے۔

    آئیے PACT, Trust Chromatic اور باغی ٹی وی کے سنگ اس بری اور جان لیوا عادت و نشے کے خلاف مہم کا حصہ بنیں اور معاشرے کو صحت مند و توانا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیے, مقابلے میں حصہ لیں, اپنے خیالات اور معلومات کو رنگوں اور لکیروں سے مزین کریں اور معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالیں اور ساتھ ہی نقد انعام جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔

  • کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    کیا ہم واقعی مسلمان ہیں ؟ تحریر:ثمینہ کوثر

    ہم دور جاہلیت کے مسلمان کیا ہم واقعی مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں ؟ اس کے لئے ہم سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ دور جاہلیت تھا کیا ؟ دور جاہلیت دین اسلام کے آنے سے پہلے کے دور کو کہا جاتا ہے ۔ اگر ہم اس دور کا جائزہ لیں تو ہمارے سامنے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں ایک دوسرے کا حق مارنا فخر سمجھا جاتا تھا ، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ، ان کو اپنے ہاتھوں قتل کر دینا باعث افتخار سمجھا جاتا تھا ، ماں کو لاوارث سمجھ کر منڈیوں میں بیچ دیا جاتا تھا ۔ جائیداد کی طرح آپس میں تقسیم کیا جاتا تھا ، والدین کے ساتھ ظلم روا رکھا جاتا تھا ۔ غلاموں کے ساتھ انتہائی بدترین سلوک کیا جاتا تھا ۔ طاقت ور کمزور کو انسان سمجھنے کو ہی تیار نہیں تھا اگر آج ہم اپنے معاشرے پر روشنی ڈالیں تو دور جاہلیت کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ بس فرق اتنا ہے کہ دور جاہلیت میں یہی تمام کام کفار ومشرکین کیا کرتے تھے جب کہ آج کے دور میں ہم نام نہاد مسلمان بھی یہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ اگر ہم اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سی ایسی برائیاں نظر آتی ہیں جو دور جاہلیت میں کفار و مشرکین میں موجود تھی ۔

    سب سے پہلے ہم بات کریں گے کہ دور جاہلیت میں بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا جاتا تھا اگر ہم اپنے معاشرے میں دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے کا ہی واقع ہے کہ ایک آدمی نے اپنی چند دن کی بیٹی کو محض اس لیے گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ لڑکی پیدا ہوئی ہے اسے تو لڑکا چاہیے تھا ۔

    اگر ہم غلاموں اور کمزور افراد کی طرف دیکھیں تو ابھی چند دن پہلے ہی ہم سب نے ایک واقعہ پڑھا کہ ایک کمزور انسان کے بچے نے ایک طاقتور کے گھر کے باغ سے ایک پھول توڑا تو طاقت ور انسان نے اپنے رشتے داروں کو بلایا اور پھول توڑنے والے بچے کے والد کو مار مار کر لہولہان کردیا کیا اور پھر اس غریب انسان کو رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے بھی رہے ۔ اگر ہم اسی ایک واقعہ کو دیکھیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے دور میں بھی غریب اور کمزور انسان بے بس اور مجبور ہیں اور طاقتور انسان اس کو جیسے مرضی کچھ چبھی کہہ سکتا ہے ۔

    ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک واقعہ واقعہ پیش آیا کہ بہو اور بیٹے نے بوڑھی ماں کو مار کر گھر سے نکال دیا اور بوڑھی ماں روتی ہوئی پولیس اسٹیشن جاپہنچی ، اگر دیکھا جائے تو کیا یہ لوگ دور جاہلیت کے کفار و مشرکین سے ذرا سا بھی مختلف نہیں ہیں ۔ فرق بس اتنا ہے کہ وہ کافر اور مشرک تھے اور یہ لوگ پیدائشی مسلمان ہیں ۔ جو ہیں تو مسلمان لیکن اسلام کا انہیں کچھ بھی علم نہیں ہے ۔

    ہمارے معاشرے کا بھی تو یہی عالم ہے کہ اگر کوئی غریب اپنی بیٹی کا رشتہ کسی بدچلن بدکردار کو نہیں دیتا تو اس کی بیٹی کو اغوا کر لیا جاتا ہے ، اس پر تشدد کیا جاتا ہے اور پھر اس کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہے ، تاکہ لڑکی اور اس کے گھر والے کہیں بھی جینے کے قابل نہ رہیں ۔ اگر ہم دور جاہلیت کے خاتمے کی بات کریں تو صرف یہی ایک بات تھی کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کو اپنایا ، خاص طور پر اسلام کا نظام عدل اور انصاف ۔ جیسے ہی ان لوگوں نے اسلام کا نظام عدل و انصاف اپنایا تو اچانک سے وہی لوگ جو دنیا کے بدترین لوگ کہلاتے تھے وہی لوگ دنیا کو تعلیمات دینے لگے اور دنیا کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی راہ دکھانے لگے ، وہی لوگ جو جہالت کے سردار کہلاتے تھے ، وہی لوگ دنیا کے راہنما اور رہبر بن گئے اور آج بھی اگر ہم دیکھیں تو ہمیں ان سارے واقعات کے پیچھے صرف ایک ہی بات دکھائی دیتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں نظام عدل و انصاف بری طرح متاثر ہوا ہے ہماری عدالتیں سیاستدانوں کے چکروں میں پڑ کر دن میں دو دو تین تین دفعہ ان کے کیس کی سماعت کرنے کو تیار ہیں لیکن مجبور بے بس غریب انسان جن میں سے اکثریت بے گناہ افراد پر مشتمل ہیں وہ اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں ہی گزار دیتے ہیں ۔ 17 سال 18 سال 21 سال اور اس سے بھی زیادہ عرصہ جیل میں گذارنے کے بعد اکثر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں کہ عدالت انہیں باعزت بری کر دیتی ہے جبکہ دوسری طرف طاقتور انسان اپنی دولت کے گھمنڈ اور اعلی شخصیات سے تعلقات کی بدولت عدل کو خرید لیتا ہے ۔ بیٹیوں کی عزتیں روند ڈالنے والے میرے معاشرے میں بربادی کا سبب بننے والے تو ضمانت لے کر دندناتے پھرتے ہیں اور غریبوں کو مزید پریشان اور مجبور کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے کیسز واپس لے لیں اور بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جو مظلوم ہوتا ہے وہی جیلوں میں سڑ رہا ہوتا ہے ۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں بھی عدل و انصاف کا نظام بہتر ہوجائے تو آج پھر ہمارا معاشرہ سب سے روشن ہو سکتا ہے ۔ آج بھی ہم دنیا بھر کے رہنما بن سکتے ہیں ۔ یہ عدل ہی تو تھا جس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے حکمران کے سامنے ایک عام سے شخص کو کھڑا کر دیا کہ بتاؤ عمر آپ نے اپنے حصے کا زیادہ کپڑا کیوں لیا ؟ اور وہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خطبہ چھوڑ کر پہلے کپڑے کا حساب دینا پڑتا ہے اگر آج ہم ایسا عدل و انصاف پالیں تو آج پھر ہم معزز ہو سکتے ہیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ان لوگوں نے اسلام کو دل سے تسلیم کیا تھا ، ان لوگوں نے اسلام کے لیے تشدد برداشت کیا تھا ، ظلم سہتے تھے ، اپنے ایمان کو قائم رکھنے کے لیے جانیں دی تھیں ، اسی لیے وہ اپنی زندگیوں کو اسلام کے لیے وقف کر گئے اور ہم پیدائشی مسلمان ہیں، نام نہاد مسلمان جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے ، ہمارے ہاں تعلیمی نظام بھی ایسا ہے کہ ہم حق اور سچ کو اپنانے کی بجائے صرف مفاد پرست انسان بن چکے ہیں ۔ مظلوم کو حق دینے کی بجائے غرور اور تکبر میں شاید فرعون اور نمرود سے بھی آگے نکل چکے ہیں ۔ فرق اتنا ہے کہ ہمارے پاس ان کے جتنے اختیارات نہیں ہیں ورنہ ہم بھی ان سے کسی صورت مختلف نہیں لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالی جب غرور و تکبر کو توڑنے پر آتا ہے ہے تو پھر جس دریا کا پانی فرعون کے حکم سے رک جایا کرتا تھا اسی فرعون کو اسی پانی میں غرق کر کے نشان عبرت بنا دیتا ہے ۔اس سے پہلے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی دنیا جہان والوں کے لئے نشان عبرت بنائے ، ہمیں اس کے دین کی طرف لوٹ آنا چاہیے ۔ اپنی دینی تعلیمات کو اپنا لینا چاہیے ، یقیناً اسی میں ہماری بھلائی ہے اور اسی طرح ہم دنیا بھر کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں