Baaghi TV

Category: متفرق

  • سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    سعودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    ریاض: 63 سالہ ایک سعودی شخص نے 53 شادیاں کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد استحکام اور ذہنی سکون تھا، ذاتی خوشی نہیں۔

    باغی ٹی وی : ” گلف نیوز ” کے مطابق 63 سالہ سعودی شہری ابو عبداللہ جو 53 شادیاں کرنے کے دعویدار ہیں نے کہا ہے کہ پہلی شادی 20 سال کی عمر میں کی تھی اور اب ان کی عمر63 برس ہے –

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    ابو عبداللہ کو صدی کا سب سے زیادہ شادیاں کرنے والا انسان کہا جا رہا ہے کا کہنا ہے کہ ان کے نکاح میں اب صرف ایک خاتون ہیں۔ آئندہ ایک سے زیادہ شادیوں کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    ایم بی سی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ابو عبداللہ نے بتایا کہ وہ خاموشی سے زندگی گزار رہے تھے کہ ایک دوست نے شادیوں کے حوالے سے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی-

    63 سالہ شخص نے بتایا کہ شروع میں ایک سے زیادہ شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں پہلی بیوی سے مطمئن تھا۔ میرے بچے بھی تھے۔ کچھ عرصہ بعد مسائل شروع ہوئے اس وقت میری عمر 23 برس تھی۔ ذہنی آرام و سکون کے لیے دوسری شادی کی اور میں نے اپنی بیوی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    اس نے کہا کہ بعد میں اس کی پہلی اور دوسری بیویوں کے درمیان ایک مسئلہ پیدا ہوا، جس نے اسے تیسری اور چوتھی بار دوبارہ شادی کرنے پر اکسایا ابو عبداللہ نے کہا کہ بعد میں اس نے پہلی، دوسری اور تیسری بیویوں کو طلاق دے دی۔

    ابو عبداللہ نے دلیل دی کہ اس کی متعدد شادیوں کی وجہ اس کی ایک ایسی عورت کی تلاش تھی جو اسے خوش کر سکے تاہم ذہنی آرام و سکون کے لیے شادیاں کرتا رہا۔

    تمام بیویوں کے درمیان انصاف سے کام لینے کی کوشش کی تمام شادیاں یکے بعد دیگرے نہیں کیں۔ پہلی شادی کے وقت میری بیوی مجھ سے چھ سال بڑی تھی ایک شادی ایسی بھی رہی جس کا دورانیہ صرف ایک رات تک محدود رہا۔

    ابو عبداللہ نے کہا کہتمام شادیاں روایتی انداز میں کیں میری بیشتر بیگمات سعودی رہیں تاہم غیرملکی خواتین سے شادی مجبوری میں کی کاروبار کی غرض سے بیرون مملکت سفر کے دوران غیرملکی خاتون تین، چار ماہ تک میرے نکاح میں رہتی تھی۔ برائی سے بچنے کے لیے ایسا کرتا تھا میں نے طویل عرصے میں 53 خواتین سے شادی کی-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

    انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں ہر مرد کی خواہش ہے کہ ایک عورت ہو اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے استحکام کسی نوجوان عورت سے نہیں بلکہ ایک بوڑھی عورت سے ملتا ہے-

    اسلام میں، جو ایک وقت میں چار بیویاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، اگر کوئی مرد اپنی تمام بیویوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا، تو اسے ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔

  • "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    "لڑکپن” — عبداللہ سیال

    لڑکپن کو اگر بچپن کے ہم قافیہ کے طور پر دیکھا جائے تو اس کا کچھ اصطلاحی مفہوم سمجھ آتا ہے وگرنہ پہلی بار سننے میں یہ لفظ پٹھانوں کی سویٹ ڈش لگتی ہے.

    لڑکپن انسانی زندگی کا وہ حصہ ہے جب انسان بارہ سے اٹھارہ سال کا ہوتا ہے. یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جب انسان خواب دیکھنا شروع کرتا ہے، جاگتی آنکھوں سے اور سوتی آنکھوں سے بھی. فرق صرف اتنا ہے کہ جاگتی آنکھوں کے خواب انسان کے اختیار میں ہوتے ہیں اور سوتی آنکھوں کے خواب بے اختیار.

    خیر جاگتی آنکھوں میں بہت سے سہانے سپنے سجائے انسان اس عمر میں بہت سے خیالی پلاؤ پکاتا ہے مگر کبھی ان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا.

    اس دورانیہ کا درمیانی حصہ یعنی پندرہ سولہ سال وہ عمر ہے جب انسان نہ بڑا ہوتا ہے نہ بچہ رہتا ہے. بچوں کے ساتھ بچہ بننے میں شرم محسوس ہوتی ہے جبکہ بڑوں کی محافل میں ان کی کچھ مخصوص باتیں سن کر بھی شرم ہی محسوس ہوتی ہے.
    یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان غلطیاں کرنا بھی نہیں چاہتا اور غلطیوں کو نہ کرنے کا تجربہ بھی نہیں ہوتا. لہٰذاء ہر بار غلطیاں دہرانے میں ہی دل کا سرور اور ابا کی ڈانٹ حاصل ہوتی ہے.

    لڑکپن وہ عمر ہوتی ہے جب امی جی کوئی کام کر دیں تو غصہ آتا ہے کہ یہ کام میں خود کر سکتا ہوں اور اگر نہ کریں تو بھی غصہ آتا ہے کہ سارے کام مجھ پر چھوڑ دیے ہیں.

    اسی عمر میں انسان کی جسمانی ساخت بدلنے لگتی ہے. لڑکے اسی عمر میں عالم چنا سے مقابلہ کرنے کی ٹھانتے ہیں اور قد کھینچتے چلے جاتے ہیں جبکہ لڑکیاں آپس میں مقابلہ شروع کر دیتی ہیں کہ تو بڑی چڑیل ہے یا میں…!

    یہ حقیقت ہے کہ اس عمر میں ایک دوسرے کو چڑیل لگنے والی لڑکیاں اپنے ہم عمر و ہم جماعت لڑکوں کے لیے حوریں ہوتی ہیں، البتہ یہ بھی سچ ہے کہ یہ حوریں انہی لڑکوں کی بھاری ہوتی آواز سن کر ایسے ڈر جاتی ہیں جیسے کبوتری بلی کی آواز سن لے. بعض لڑکے وقت سے پہلے بڑے ہونے کے چکر میں خوامخواہ شیونگ کریم کا استعمال کر بیٹھتے ہیں جس کا نقصان بعد میں یہ ہوتا ہے کہ جب تک وہ خود بڑے ہوتے ہیں ان کی داڑھیاں ان سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہیں. یہی حال لڑکیوں کا ہوتا ہے جو ناسمجھی میں اپنی ناک اور ہونٹ کے درمیان والے غیرمحسوس بالوں (جن کو میری معلومات کے مطابق اپر لپ کہتے ہیں) کو مونچھ سمجھ کر کاٹ ڈالتی ہیں اور پھر ہر ہفتے باقاعدگی سے اس سزا کو بھگتا جاتا ہے.

    خیر اس چھوٹی سی عمر میں انسان بڑے بڑے دعوے اور وعدے کرنے سے بھی نہیں کتراتا، مثلاً فی زمانہ کا ایک لڑکا اپنی شناسا سے کہنے لگا،

    "تم فکر مت کرو. تمہیں دہی پسند ہے. میں تمہارے لیے خود بھینسوں کا دودھ نکال کر دہی بنا دیا کروں گا.”

    حالانکہ یہ دعوہ کرنے والا لڑکا خود آئرن کی کمی کے باعث پانچ کلو والا آٹے کا تھیلا اٹھانے سے قاصر تھا.

    اس عمر میں عقائد کی ناپختگی انسان کو ہر قسم کی مجلس، دربار، عرس، قل خوانی اور سیاسی ریلیوں تک لے جانے کا سبب بنتی ہے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے یا ان کے جواب دینے پر مجبور کرتی ہے. یہی وجہ ہے کہ کسی بھی جلسے میں اس عمر کے لڑکوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جنھیں محض ایک بوتل یا بریانی کا ڈبہ کھینچ لاتا ہے.

    اس عمر کے لڑکے بہت جذباتی ہوتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے جذبات بہہ نکلتے ہیں. یہ وہی لڑکے ہوتے ہیں جو ساؤتھ انڈین فلمیں دیکھ کر سینا تانے پھڑتے ہیں اور "تارے زمیں پر” دیکھ کر انکا رونا بند نہیں ہوتا. لڑکیوں کا معاملہ کچھ اور ہے، یہ جو مرضی فلم دیکھیں ان پر رونا واجب ہے.

    لڑکپن بہادری کا دور ہوتا ہے. خود سے چھوٹے بچوں کو لال بیگ سے ڈرتا دیکھ یہ لڑکے ان کی ہنسی اڑاتے ہیں مگر یہی لڑکے رات کے وقت کتے کا بھونکنا سن لیں تو خون پسینہ خشک ہو جاتا ہے. خود ہم نے چودہ سال کی عمر میں بھینسوں کے ایک طبیلے میں قدم کھنے کی جسارت کر دی. بس پھر کیا تھا، چوکیدار کتے نے ہماری وہ دوڑیں لگوائیں کہ اگر آپ ہمیں بھاگتا دیکھ لیتے تو یوسین بولٹ کو بھول جاتے.
    خود اعتمادی کی بات کی جائے تو جو لوگ اس کچی عمر میں اس نسخۂ کیمیا کو پا لیتے ہیں، وہ پالیتے ہیں. ورنہ بعد میں چاہنے کے باوجود وہ نہیں بول پاتے جو وہ بولنا چاہتے ہیں. یہاں بولنے سے مراد من پسند جگہ پر شادی کرنے کا اظہار ہرگز نہیں ہے. یہ تو ہر پل پھیلتی کائنات کے اسرار و رموز، سیاست کے اتار چڑھاؤ، فلسفے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، نسل پرستی، ادب، کھانوں اور خواتین جیسے عظیم موضوعات پر اپنے رائے رکھنے اور اس کو بیان کرنے کا نام ہے.

    اس عمر میں انسان بولنا چاہتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہر بات میں بولنا لازم سمجھتا ہے. میرا چھوٹا بھائی بھی ہر فضول سے فضول تر اور اہم سے اہم ترین بات میں اپنی رائے فرض سمجھ کر پیش کرتا ہے. ایک بار پندرہ سالہ ایک لڑکا رش میں اپنی موٹر-سائیکل سمیت پھنس گیا. اب وہیں ایک دکاندار بار بار اس کو نشانہ بنا کر کہتا "اتنے رش میں ضروری آنا تھا، ضروری آنا تھا.” آخر لڑکے نے بھی کہہ دیا، "انکل! آپ کو پتہ ہے میرے دادا ابو ١٠١ سال کے ہو کر مرے تھے کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے.” اس کے بعد ٹریفک کوئی آدھ گھنٹہ بلاک رہی اور اس دکاندار کے ہونٹ بھی.

    انسان کے بننے یا بگڑنے کا دارومدار اسی عرصہ پر ہوتا ہے کیونکہ انہی سالوں میں وہ میٹرک اور انٹر کے مشکل ترین مراحل سے گزرتے ہیں. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کامیابی کا معیار ان جماعتوں کا پاس کرنا تو نہیں… مگر چونکہ ہمارے معاشرے میں انٹر کے بعد کسی اعلیٰ یونیورسٹی میں داخلہ کامیابی کی سند ہے، اسی لیے دبلے پتلے لڑکے لڑکیاں اپنے کزنز سے آگے بڑھنے کے لیے جان مار دیتے ہیں اور جو جان نہیں مار پاتے، وہ پھر ایک دوسرے پر جان وار دیتے ہیں.

    خیر جو لوگ بگڑ جاتے ہیں، وہ انہی سالو‍ں کو یاد کر کے پچھتاتے ہیں اور جو لوگ بن جاتے ہیں، وہ ان سالوں کی غلطیاں یاد کر کے افسوس کرتے ہیں. مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور ہی ان کی زندگی کا سنہری اور بنیادی دور تھا جس میں ان کی ٹانگیں لمبی اور مضبوط ہوئیں.

    مختصر یہ کہ زمانۂ لڑکپن کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں. فائدہ یہ کہ اس دور کے بعد انسان خوبصورت اور جوان ہو جاتا ہے اور نقصان یہ کہ اس کے بعد انسان سمجھدار اور بڑا ہو جاتا ہے.

  • یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟ — عبدالقدیر رامے

    ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی. پاکستان میں چائنیز کمپنیوں میں کام کیا، ان کے ورکرز جو بطورِ قیدی سزا کاٹ رہے تھے انہیں پاکستان بھیجا گیا کام کرنے کیلئے، جس Designation پر ہم تھے اسی پر وہ تھے، ان کے تنخواہ ہم سے چھ گنا زیادہ تھی، رہائش، کھانا بھی ہم سے بہت اچھا تھا اور کھانا انہیں کمپنی دیتی تھی جبکہ ہمیں کھانے کے پیسے دے کر بھی ان سے کہیں گھٹیا کھانا ملتا تھا، رہائش انہیں اے سی ملی تھی اور ہمیں خیمے ملے تھے جن میں ایک پیڈسٹل فین تھا. جب وہ گھوم کر دوسری طرف چکر لگانے جاتا تھا تو پیچھے والوں کو اتنی دیر میں مچھر کاٹ کھاتے تھے. یہ صرف اس ایک پراجیکٹ کی بات نہیں پورے پاکستان میں ہر جگہ پراجیکٹس کی زندگی ایسی ہی ہے اور ایسے ہی چند معدودے سکوں کے عوض انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے.

    دوسری جانب ہم بیرون ملک جاتے ہیں، اس سے پہلے جن ملکوں میں گئے وہاں تو لوکل بندے ورکر لیول پر ملے ہی نہیں، سعودیہ میں آخری سال 2020 میں دیکھے لیکن وہ بھی کام وام نہیں کرتے تھے بس دیہاڑی لیتے تھے بہرحال تنخواہ ان کی پھر بھی ہم سے زیادہ تھی.

    اب ہیں عراق میں…

    یہاں ہمارے ٹیکنیشنز کے ساتھ لوکل ہیلیپر ہیں. سویپرز بھی لوکل ہیں. یعنی unskilled لیبر ہیں. ان کی تنخواہ ہمارے ٹیکنیشنز سے بھی زیادہ ہے، ان کو رہائش ہم سے بہتر ملی ہے کہ وہ ایک کمرے میں چار آدمی رکھے گئے ہیں اور ہم چھ. انہیں الماریاں مہیا کی گئی ہیں ہمیں نہیں کی گئیں، ان کے کمرے ہم سے کھلے ہیں ہمارے کمرے تنگ ہیں.

    ان کا کھانا ہم سے کہیں زیادہ اچھا ہے اور ہمارا کھانا بالکل تھرڈ کلاس ہے، پھر لوکل گورنمنٹ ہالیڈیز کی بات کی جائے تو انہیں ان ہالیڈیز پر کام کرنے کا اوور ٹائم دیا. جاتا ہے اور ہماری ہالیڈیز مار لی جاتی ہے. عید اور جمعہ کے علاوہ کی چھٹیوں کے علاوہ کسی ہالیڈے کا کوئی اوور ٹائم نہیں دیا گیا.

    جبکہ بڑی عید کے بعد محرم میں دس اور اب صفر میں چھ ہالیڈیز ہیں لیکن ڈکار گئے.

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم پاکستانی عراق جیسے غریب ملک کے شہریوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اپنے ملک میں بھی راندہ درگاہ ہیں اور دوسرے ملک میں بھی راندہ درگاہ.

    اور سنیں دنیا کے چند بڑے ایئرپورٹس دیکھے، انہوں نے اپنے لوکل شہریوں کیلئے وی آئی پی کاؤنٹرز بنائے ہیں. اور ہم جیسے خارجی لائنوں میں لگے دیکھے چاہے کوئی امریکی شہری ہی کیوں نہیں تھا.

    لیکن پاکستان میں لوکلز کے ساتھ ایئرپورٹس پر گھٹیا سلوک اور لمبی لائینیں دیکھیں جبکہ دوسرے ملکوں کے شہریوں کے لیے وی آئی پی کاؤنٹرز اور بہترین رویہ دیکھا.

    یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ کوئی بتائے گا مجھے؟

  • اور ملکہ چلی گئی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اور ملکہ چلی گئی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    1952 سے لیکر اب تک ستر سال تک تاجِ برطانیہ پر حکومت کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں آج سہہ پہر چل بسیں۔ اُنکے دورِ حکومت میں ونسٹ چرچل سمیت 15 وزراء اعظم نے عہدہ سنبھالا۔ اُنکے بعد انکے بڑے بیٹے شہزادہ چالرس اب برطانیہ کی بادشاہت کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ملکہ الزبتھ کے بارے میں چند دلچسپ باتیں:

    1. اُن کے پاس سفر کرنے کے لئے پاسپورٹ نہیں تھا۔ کیونکہ پاسپورٹ کا اجرا کرنے والی اتھارٹی برطانیہ میں وہ خود تھیں۔ وہ بغیر پاسپپورٹ کے ہی سفر کرتیں۔

    2. اُنہوں نے 1945 میں گاڑی چلانا سیکھا۔اُنہیں گاڑی چلانے کے لیے بھی ڈرائیونگ لائسنس کی ضرورت نہیں تھی۔ویسے یہ سہولت پاکستان میں بھی موجود ہے۔

    3.دوسری جنگ عظیم کے دوران اُنہوں نے فوجی ٹرک بھی چلائے۔

    4. سڈنی کے اوپرا ہاؤس کا افتتاح بھی 1973 میں اُنہوں نے کیا۔

    5. دوسرے ممالک کے دئے گئے تحفوں کے طور پر وہ لندن کے چڑیا گھر میں ایک ہاتھی، دو کچھوؤں اور ایک جیگوار کی بھی مالک تھیں۔

    6. قانون کے مطابق برطانیہ کے پانیوں میں موجود تمام ویلز اور ڈالفنز کی ملکیت اّنکے پاس تھی۔

    7. 1976 میں اُنہوں نے پہلی رائیل ای میل بھیجی۔ یہ ای میل برطانیہ کے کمیونکیشن کے تحقیق ادارے کے کمپوٹر نیٹ ورک سے بھیجی گئی۔

    8. انگریزی زبان کے علاوہ اُنہیں فرنچ زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

    9۔ اُنہیں ہر سال تقریباً 7 ہزار خطوط دنیا کے مختلف کونوں سے موصول ہوتے جن میں سے اکثر کا وہ یا اُنکی ٹیم جواب بھی دیتی۔

    10. وہ سال میں دو مرتبہ سالگرہ مناتیں۔۔ایک 21 اپریل کو جو اّنکی اصل تاریخ پیدائش تھی اور دوسری سرکاری سالگرہ جسکا انحصار اچھے موسم پر ہوتا۔

    11. ملکہ الزبتھ پاکستان کے دورے پر دو مرتبہ 1961 اور 1997 میں آئیں۔

    اُنکی وفات کے بعد اب اُنہیں تدفین سے پہلے چار دن تک لندن کے ویسٹ منسٹر ہال میں رکھا جائے گا جہاں عام عوام آ کر اُنہیں دیکھ سکے گی۔ اُنہیں دیکھنے کے لئے متوقع طور پر 10 لاکھ کے قریب لوگ آئیں گے۔ اُنکی تدفین کی تقریب میں دنیا بھر سے اہم رہنما اور قائدین بھی شرکت کریں گے۔

  • ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” شناخت ضروری ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) میں کیا درج ہوتا ہے؟

    اِس کارڈ میں شہری کا نام، پتہ، ولدیت، تاریخ پیدائش اور بائیو میٹرک معلومات کے ساتھ ایک شناختی نمبر شامل ہوتا ہے۔ یہ منفرد نمبر ہر شہری کے لئے الگ ہوتا ہے اور کبھی کسی اور شہری کو نہیں دیا جاتا۔

    اب چلتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی جانب اور کوشش کرتے ہیں اک چھوٹی سی تاکہ اس مسئلہ کا حل نکل جائے۔

    خانہ بدوش فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد وہ شخص جس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہ ہو . انگریزی ادب میں اس کیلئے ” vagrant ” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے،
    خانہ بدوشوں کی طرز زندگی عام افراد سے مختلف ہوتی اور نہ ہی ان کا کوئی مستقل ٹھکانہ ہوتا،

    خانہ بدوش سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ایک جگہ قیام نہیں کرتے بلکہ جابجا گھومتے پھرتے ہیں

    یہ عموماً شہری علاقوں سے باہر خالی زمینوں اور پلاٹوں پر خیمے اور جھونپڑیاں لگا کر ڈھیرے جما لیتے ہیں۔ کالی رنگت والے خاندانوں کے اکثر افراد منشیات کے عادی پائے گئے ہیں۔ نہ صرف مرد بلکہ ان کی عورتیں حتیٰ کہ کمسن بچے بھی تمباکو نوشی اور چرس وغیرہ کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ان میں خود محنت مزدوری کر کے بال بچوں کا پیٹ پالنے والے مرد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسی جھونپڑیوں میں رہنے والے خانہ بدوش مرد سارا سارا دن خیموں میں پڑے رہتے ہیں جبکہ ان کی خواتین تو بھیک مانگتی ہیں، اپنا، اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ اپنے خاوند کو بھی پالتی ہیں۔

    ان سب چیزوں کے علاوہ جو توجہ طلب اور بہت ضروری عمل ہے اور سب سے زیادہ تشویشناک بات جو ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو کوئی نہیں جانتا کہ یہ لوگ کہاں سے آتے ہیں، کہاں جاتے ہیں، ان کی کوئی شناخت نہیں، ایسے افراد میں ملک دشمن افراد بھیس بدل کر آرام سے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں اور ملکی سلامتی کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والوں کو اس ایشو پر خصوصی توجہ دینی چاہئیے، ایسے افراد کی شناخت والے معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی ہمیں سنگین مسائل سے دوچار کر سکتی ہے۔

  • "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    "اک چٹھی جناح جی کے نام” — اعجازالحق عثمانی

    اسلام علیکم میرے قائد!

    میں خوش ہوں کہ آپ کو جنت کی نعمتوں سے روز نوازا جاتا ہوگا۔لیکن میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں (آپ کے پاکستان) نے 11 ستمبر 1948کو آپ کے جانے کے بعد نا جانے کیا کیا نہ جھیلا ۔ سب اپنے اپنے مفادات میں پڑ گئے ہیں۔ نواز ! لندن بیٹھ کر پاکستان پر حق جماتا ہے۔

    اے میرے قائد! آج ہی ایک خبر پڑی کہ سندھ میں ایک بچی بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ مگر سندھ میں بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ اے میرے قائد! آپ نے تو کہا تھا۔

    "آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں”۔

    لیکن جناح صاحب! ہم مندروں میں جانے والے پاکستانیوں کو برداشت تک نہیں کر سکتے۔ آزادی کیا دیں گے؟۔ مذہب کے نام پر جتنا میرے فرزندوں کو لڑوایا گیا۔ شاید ہی کسی دوسری بات پر اتنا فساد برپا ہوا ہو۔

    بے اثر ہوگئے سب حرف نوا تیرے بعد
    کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

    تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے
    ایسی بدلی کوچے کی فضاء تیرے بعد

    اور تو کیا کسی پیماں کی حفاظت ہوتی
    ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

    اے میرے عظیم قائد! مجھے آپ کے بعد برسوں تک بغیر آئین کے چلایا جاتا رہا۔ جس کا جو دل کرتا وہ وہی کرتا۔ کسی نے اپنی مرضی کا آئین بنا کر صدارتی ہانڈی میرے سلگتے جسم پر رکھی تو کسی نے میری اور آپ کی بہن پر غداری کے الزامات لگائے۔

    رشوت کے نام پر آگ بگولہ ہونے والے میرے قائد اب تو میرے فرزند ، رشوت کو کسی کام کی چابی مانتے ہیں۔ جہاں کوئی کام نہ ہو رہا ہو ،رشوت کی چابی لگا دیتے ہیں۔اور پھر اس کام کو پہیے سے ہی لگ جاتے ہیں۔

    جناح صاحب! مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ، میرے فرزند بھٹک گئے ہیں ۔اپنی منزل بھلا بیھٹے ہیں۔ آپ سے گلہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کہ آپ نے جس طرح مجھے آزاد کروایا ،میں خود آپ کی ذہانت سے حیران ہوا تھا۔ کسی نے آپ کے بارے میں کیا ہی سچ لکھا ہے۔

    یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
    ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی

    ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
    اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی

    اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
    اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

    جناح صاحب رب کے حضور یہ دعا ضرور پیش کیجیے گا کہ پاکستان کے فرزندوں کی اک اور جناح کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ بکھر جائیں گے ، ٹوٹ جائیں گے ، در در سے ٹھوکریں کھائیں گے۔ میں یہ سب اپنے فرزندوں کے ساتھ ہوتا ہوا برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ اپنے اوپر کیے کے ان کے سارے ظلم بھلا کر ان کے کے دعا گو ہوں۔

    فقط۔۔۔۔ آپ کا اپنا پاکستان

  • شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    شکرانِ نعمت، شکرانِ رحمت اور کفرانِ زحمت!!! — علی منور

    وہ عورت میرے سامنے بیٹھی تھی۔ شام کا وقت تھا اور میں اس عورت کے گھر کے صحن میں بیٹھا تھا۔

    زرد مدہم بلب کی روشنی میں اس کے چہرے پر قبل از وقت نمایاں ہو جانے والی جھریاں مزید نمایاں ہوتی جا رہی تھیں۔ نحیف بدن کے ساتھ اس کا ہاتھ تیزی سے سلائی مشین کے ویل کا ہینڈل گھما رہا تھا اور اس عورت کے چھوٹے چھوٹے پانچ بچے صحن میں شرارتیں کرتے پھر رہے تھے۔

    لوگوں کے کپڑے سلائی کرتے کرتے اس عورت کے ہاتھوں کی انگلیوں پر قینچی پکرنے سے چنڈیاں بن چکی تھیں جو اس کے کمزور ہاتھوں پر مزید نمایا ں ہو رہی تھیں۔

    ایک سوٹ کی کتنی سلائی ہے؟ میں نے پوچھا

    60 روپے، اس عورت نے بتایا اور اس کی آنکھوں میں چمک در آئی۔

    میں نے فوراً سے کہا کہ ٹھیک ہے، اگر آج سوٹ دوں تو کب تک مل جائے گا؟

    کل شام تک مل جائے گا، اس عورت نے آس بھری آواز میں کہا۔ گویا 60 روپے کی حقیر رقم اس کا کوئی خواب پورا کرنے والی تھی۔

    میرے ذہن میں لالچ در آیا کہ صرف ایک دن میں سوٹ تیار کرنا اور وہ بھی صرف 60 روپے میں جبکہ پچھلے مہینے میں نے اپنی بیگم کے 2 سوٹ 600 روپے سلائی دے کر سلوائے تھے اور پندرہ دن کے وعدے پر بھی وہ سوٹ مجھے شاید پچیسویں دن ملے تھے۔

    اس عورت کے ہاتھ میں صفائی تو بہت تھی، دل ٹہر سا گیا تھا کہ کام یہیں سے کروانا ہے۔

    بہرحال میں نے ذہن میں سوچا کہ اتنے کم وقت اور اس سے بھی کم دام میں یہ موقع دوبارہ نہیں ملنے والا۔

    وہ عورت ذرا ذرا دیر بعد مشین سے سر اٹھا کر بچوں کو ایک نظر دیکھتی، درمیان میں ایک دفعہ اٹھ کر مٹی کے ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑیوں والے چولہے پر رکھی ہانڈی میں چمچ ہلایا اور سلگتی لکڑیوں میں سے ایک کو باہر نکال کر پانی سے بجھایا۔ گرم لکڑی پر پانی ڈالنے سے ایک دم شرر شرر کی آواز آئی، میں نے سر اٹھا کر اس طرف دیکھا تو دھوئیں کا ایک مرغولہ تھا جو شور مچاتا اس عورت کے کے بالوں میں سے ہوتا ہوا ہوا میں غائب ہو رہا تھا۔

    دھوئیں کی وجہ سے کھانستے کھانستے، ڈوپٹے کے پلو سے چہرہ صاف کر کے وہ عورت دوبارہ زمین پر مشین کے سامنے بیٹھ چکی تھی۔
    میں نے شاپر سے دو سوٹ نکال کر اس عورت کے سامنے رکھے اور ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکالا جس پر ایک ماڈل نے خوبصورت موتیوں کی بُنائی والے گلے کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ تصویر اس عورت کو دکھاتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ گلے کا ڈئیزائن اس آف وائٹ سوٹ پر بنانا ہے اور اس دوسرے فیروزی سوٹ میں شلوار کے پائنچوں پر ڈئیزائن بنانا ہے۔ اس عورت نے گلے کے ڈئیزائن کو دیکھا پھر پائنچوں کے ڈئیزائن کو دیکھا اور کہا کہ 60 روپے سادہ سوٹ کی سلائی ہے، گلے اور پائنچوں کے ڈئیزائن کے پیسے الگ لگیں گے۔

    میں نے کاروباری چال چلتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، ابھی تو آپ 60 روپے میں ہی ڈئیزائن کے ساتھ سوٹ بنائیں نا، کام اچھا ہوا تو آگے بھی کپڑے آپ کے پاس ہی آئیں گے پھر کمی بیشی کر لیں گے۔ اس عورت کے چہرے پر انکار واضح تھا مگر اس نے ایک دفعہ پھر بچوں کو دیکھا اور انکار بھرے تاثرات کے ساتھ کہا کہ ٹھیک ہے آپ پرسوں سوٹ لے لیجیے گا۔

    میں نے اپنی پہلی چال کامیاب ہوتے دیکھ کر کہا کہ ابھی تو آپ نے کہا تھا کہ کل شام تک آج سوٹ تیار کر سکتی ہیں۔

    وہ سادہ سوٹ کی بات تھی، یہ تو دو سوٹ ہیں اور ان میں کام بھی زیادہ ہے۔ اس عورت نے بے بسی سے کہا، گویا اسے مجبوری درپیش نہ ہوتی تو وہ اتنے پیسوں میں کام کو ہاتھ بھی نہ لگاتی۔

    یہ عورت میری ایک پہچان والی خاتون کی دیورانی تھی، سو مجھے میری پہچان والی خاتون نے اس عورت کے تمام مسائل سے آگاہ کیا تھا۔ لہذا میں جانتا تھا کہ اس وقت عورت کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور وہ یہ کام ایک دن میں کر لے گی۔

    میں نے کہا کہ دیکھ لیں پھر، کام آپ کو ریگولر ملتا رہے گا، آپ سوٹ سلائی کریں، میری بیگم کو پسند آئے تو آپ کو مہینے کے دو چار سوٹ تو آرام سے مل جایا کریں گے۔

    اگر میں مہینے میں چار سوٹ بھی سلائی کرواؤں تو یہ 240 روپے بنتے ہیں، میرا بیٹا اس سے زیادہ پیسے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک وقت میں کھانے پر لگا دیتا ہے، جبکہ میرے ایک دن کے سگریٹ اور دوپہر کے کھانے کا خرچ بھی تقریباً اتنا ہی ہے، پھر یہ عورت 240 روپے کے لالچ میں اتنا کام کیوں کرے گی؟؟ ذہن میں آتی ایسی سوچوں کو میں نے اگلے ہی پل جھٹک دیا تھا۔ اس عورت کی مجبوری میں مجھے اپنا فائدہ نظر آیا تو میں نے اس عورت کو دوبارہ مخاطب کیا کہ میں کل شام 7 بجے تک کسی کو پیسے دے کر بھجواؤں گا تو آپ اسے سوٹ دے دیجیے گا۔ اس عورت نے اثبات میں سر ہلا دیا تو میں وہاں سے چلا آیا۔

    اگلے روز اپنی بیگم کو ساتھ لے کر میں سوٹ لینے گیا تو میرے جانے تک خدشوں کے برعکس سوٹ بالکل تیار پڑے ہوئے تھے، بیگم نے سوٹ دیکھے تو اسے بھی بے حد پسند آئے، نفاست سے ہوئی سلائی کو دیکھ کر میرا بھی جی خوش ہو گیا، میں اور بیگم تعریف کرتے کرتے رک گئے کہ مبادا وہ عورت اگلے سوٹ پر سلائی زیادہ نہ کر دے۔

    وہ عورت اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر کچھ بنانا چاہتی تھی، جب اس خواہش کا اظہار اس نے ہمارے سامنے کیا تو میری اپنے جی میں ہنسی چھوٹ گئی۔

    کیسی بیوقوف عورت تھی کہ گھر میں کھانے کو روٹی نہیں، دیواروں سے یاسیت ٹپک رہی ہے، جس کام کے لیے کوئی بھی 1000 روپے دے دے اور مہینہ بھر انتظار کرے، وہ کام اس عورت نے ایک دن اور 60 روپے میں کر دیا تھا اور بچوں کو پڑھانا چاہتی تھی۔

    اس نے اپنے بیٹے کو آواز دی کہ انکل کو پانی پلاؤ، میں نے مٹی میں کھیلتے بچوں کو دیکھا اور فوراً کہہ دیا کہ کسی صاف بچے کے ہاتھ سے منگوائیں۔

    اس کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا اور اس کا بیٹا ہاتھ دھو کر پانی لے آیا۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی پانی پیا اور بیگم کو اشارہ کیا کہ کہ اٹھو چلیں۔

    بیگم سے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ رک جائیں۔

    بیگم سے باتوں کے درمیان پتا چلا کہ عورت کو کھانے پکانے کا بھی شوق تھا مگر شوق پورا کرنے لیے وسائل دستیاب نہیں تھے۔ میں اپنی بیگم کی صلاحیتیوں کا اس دن قائل ہو گیا جب بیگم نے اس عورت سے اگلے ایک دن میں 2 مزید سوٹ 120 روپے میں سلائی کروائے ، جبکہ بچے ہوئے کپڑے سے میری بھانجیوں کی 2 فراکیں بھی سل گئیں۔ بیگم نے کھانے کی ایگزیبیشنز سے لائے ہوئے مفت پرموشنل کھانے کی تراکیب والے دو رسالے اس عورت کو سلائی کے پیسوں کے بدلے تھما دئیے ۔ اس عورت نے فوراً اپنی بیٹیوں کو کہا کہ ان میں سے دیکھو کون سی ترکیب ٹھیک لگ رہی ہے، اب جب پیسے آئیں گے تو میں اپنے بچوں کو چیزیں منگوا کر وہ ڈش بنا کر کھلاؤں گی۔

    بچوں نے خوشی سے اچھلتے ہوئے آپس میں بیٹھ کر ترکیبیں ڈسکس کرنا شروع کر دیں اور اچھے کھانے کے خواب بننے لگے۔

    اس عورت نے دوبارہ سر جھکا کر کام کرنا شروع کر دیا۔

    صرف 60 روپے، اپنے 60 روپوں کے لیے باہر اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا اور وہ عورت تیزی سے مشین پر ہاتھ چلا رہی تھی تاکہ ان ترکیبوں کے لیے چیزیں خرید سکے جو اس کے بچوں نے پسند کرنی تھی، میں جانتا تھا کہ ایسے گھروں میں ترکیبیں صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود رہتی ہیں۔

    آج میری بیٹی نے جب پیزے کا من پسند فلیور نہ ملنے پر پورا پیزا دیوار میں دے مارا تو مجھے وہ عورت اور اس کے بچے یاد آ گئے۔

    اس زدر بلب کی روشنی میرے اردگرد پھیلنے لگی اور اس عورت کے جھریوں بھرے کمزور چہرے میں چھپا وہ کرب میرا گلہ دبانے لگا جو میں نے 60 روپوں کے لیے اس کے چہرے پر دیکھا تھا۔ سانس اندر کھنچتے ہوئے مجھے اس عورت کی بجھتی ہوئی سلگتی لکڑی کا دھواں اپنے سینے میں بھرتا محسوس ہوا اور میں زمین پر گرتا چلا گیا۔

  • "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے”  — اعجازالحق عثمانی

    "مجھے ایک معالج کی ضرورت ہے” — اعجازالحق عثمانی

    مجھے بستر پر لیٹے ہوئے قریب دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ نا ختم ہونے والے خیالات میں گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔ 3 بج چکے ہیں، صبح آٹھ بجے کالج جانا ہے اور ابھی تک میں نہیں سویا یہ سوچتے ہوئے میں، اس کوشش میں لگ پڑتا ہوں کہ اب میرے اور نیند کے درمیان کچھ حائل نہ ہو۔ لیکن اسی لمحے میری نظروں کے سامنے ایک منظر آجاتاہے ۔

    "کچھ لوگ ڈوب رہے ہیں ۔ چیخ و پکار کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ اور ڈوبنے والے مجھے واضح دیکھائی دے رہے ہیں ۔ اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ مجھے بھی کوئی پانی کی طرف زبردستی لے کر جانا چاہ رہا ہے ۔ اچانک میں خود کو پانی کے بالکل پاس پاتا ہوں ۔ ”
    یہ سب دیکھ کر میں بستر سے اٹھ بیٹھتا ہوں اور آوازیں لگانا شروع کر دیتا ہوں” مجھے بچاؤ "۔

    دادو! امی کو یہ کہتے ہوئے، مجھ پر آیت الکرسی پڑھ کر پھونکنا شروع کر دیتی ہیں کہ "سوئے ہوئے ڈر گیا ہے”۔ حالانکہ میں سویا ہی نہیں تھا ابھی۔ میرے بتانے پر وہ ماننے سے انکار کر دیتی ہیں کہ میں ابھی سویا ہی نہیں تھا ۔ ناجانے کب آنکھ لگی اور میں سو گیا ۔

    اگلے دن دوپہر کے وقت کھیلتے ہوئے مجھے کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ شاید مجھے کوئی دوست بلا رہا تھا ۔ دیکھنے گیا تو کوئی نظر نہ آیا مگر آوازیں اب بھی آرہی تھیں ۔ کل رات کا واقعہ اور دوپہر کی یہ واردات ۔۔۔۔ اب محلے میں زبان زدِ عام ہونے لگی۔

    معالج کے پاس لے کر جانے کا معاملہ آیا تو بیشتر بزرگوں کی طرف سے یہ کہتے ہوئے رکاوٹ کا سامنا ہوا کہ۔ ” نظر نہیں آرہا یہ بیمار نہیں ہے ، کوئی کلموہی! کسی بابے کے ذریعے کروا رہی ہے”۔

    ہم ایک بابا جی کے پاس گئے ۔ جنھوں نے سب سے پہلے کلمہ پڑھوایا جیسے ہم کوئی کافر ہوں، اور جیسے ہی میں نے کلمہ پڑھا ۔ بابا جی ایسے خوش ہوئے جیسے کسی غیر مسلم کو مسلم کر لیا ہو۔

    ماما پھلا اچھا خاصا نفسیاتی بندہ ہے، علم نفسیات کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہے، ساری کہانی اطمینان سے سننے کے بعد بولا! "شیزوفرینیا”( یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ جس شرح مرد و خواتین میں برابر ہے۔ پندرہ برس کے بعد اس بیماری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ جب کے پندرہ سال کے کم عمر افراد میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے ۔ اس بیماری کی کئی علامات ہیں ۔ مثلاً کسی چیز کی غیر موجودگی میں اس کا نظر آنا، اکیلے میں آوازیں سنائی دینا وغیرہ) کے مریض تمہیں تو بس ایک معالج کی ضرورت ہے ۔ اور جن نکالنے والے بابوں کو پورے ہسپتال کی۔

    خیر کہانی کہیں بیچ میں ہی رہ گئی۔ قصہ مختصر کہ جن تو بابا جی بھی نہ نکال پائے ۔ کیونکہ جہالت جیسا جن نکلنے میں صدیاں لگتی ہیں ۔

  • رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    یونیورسٹی گیا تو مجھے رشوت کی اس نئی قسم کا پتا چلا، سکالرشپ ان بچوں کو ملتی ہے جن کے والدین فوت ہو گئے ہوں یا پھر جن کی آمدن بیس ہزار سے کم ہو۔ مگر یہ سکالرشپ لگوانے سے لیکر چیک پاس کروانے تک آپ کو مختلف آفسز میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ اور وہ فخر سے لیتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک دوست کیساتھ پیش آیا۔

    اسی طرح زندگی میں پہلی بار ہسپتال انیس سال کی عمر میں گیا۔ وہاں یہ پتا چلا کہ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد نرس کو رشوت دینا رشوت دینا نہیں نرس کو سپورٹ کرنا کہلواتا ہے۔ اور یہ ضروری ہے ورنہ اس بات کا کسی کو علم نہیں کہ نرس کب کونسا سوئچ آف کرکے آپ کے مریض کی علالت لمبی کر دے۔ لیکن ہم نے نرس کو ایک پیسہ بھی نا دیا اور اسی شام کو واپس آگئے۔

    ڈاکٹرز نے رشوت لینے کا دوسرا طریقہ یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ یہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو جانور سے برا ٹریٹ کرتے ہیں مگر وہیں اگر یہ مریض ان کے نجی کلینک یا ہسپتال میں دو ہزار کی پرچی لیکر آئے تو یہ اس کو اپنا والد محترم بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔

    ایک جاننے والے جو کہ "ادارے” کے تھے وہ نہروں کو کشادہ کرنے اور پل بنانے وغیرہ جیسے امور کی انسپیکشن پہ مامور تھے وہ ٹھیکیدار سے انسپیکشن پاس کرنے کا ایک بریف کیس لیتے تھے اب چاہے نہر بیس فٹ گہری کی بجائے دس فٹ گہری کرکے آبادی سیلاب میں ڈوب جائے ان کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ ہر مہینے نئی فارچنر افورڈ کر سکتے تھے۔

    پولیس والوں کا اگر رشوت لینے کا ارادہ ہو تو وہ سب سے پہلے آپ سے کاغذات کا پوچھیں گے اگر وہ ہیں تو آپ سے وہ ہیلمٹ پہ چلان کا کہیں گے اگر وہ پہنا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھیں گے اگر آپ کے پاس وہ بھی ہے تو یہ آپ پر ڈبل سواری کا چلان کرنے کی دھمکی دیں گے اور پھر سو روپے لیکر چھوڑ بھی دیں گے۔ میں نے پہلی بار سو روپے رشوت یہاں دی تھی۔

    بہت سے ممالک نے میڈیکل ٹیسٹ کی پابندی اس لئے لگائی ہے کہ یہاں کی بیماریاں جو کہ وہاں سے ختم کو چکی ہیں دوبارہ نا جا سکیں۔ مگر ہمارے جوان رشوت لیکر وہ ٹیسٹ بھی کلئیر کروا سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی اس تعفن زدہ ماحول سے دم گھٹنے لگ جاتا ہے سو دو سو جیسی معمولی رقم جسے ہمارے بچے روزانہ جیب خرچ میں لیتے ہیں وہ بھی یہاں بطور رشوت سرعام دینا پڑتی ہے۔

  • شارٹیج — ستونت کور

    شارٹیج — ستونت کور

    بیئر، رَم یا متوسط مقدار میں ‘واڈکا’ کو میں ذاتی طور پر نشے میں شمار نہیں کرتی۔۔۔ کیونکہ۔۔۔مینوں نئیں چڑھدی.

    پر خدا معاف کرے میرے ساتھ ‘نشے’ کا ایک سیریس کیس ہوتے ہوتے رہ گیا !!

    ہوا کچھ یوں کہ چند ماہ قبل ، معدے کے چند مسائل کی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو دیگر چند میڈیسنز کے ساتھ ڈاکٹر کے E•••••c نام کا ایک پاؤڈر بھی تجویز کیا جو چھوٹے چھوٹے ساشے کی شکل میں تھا اور اسے پانی میں گھول کر پینا تھا 7 دن ۔۔ اور ڈبے میں تھے بھی سات عدد ساشے !!

    چنانچہ جب پہلا ساشے گھول کر پیا ، بھلے وہ بےذائقہ تھا ، تاہم اس کی ایک ہلکی سی مخصوص خوشبو تھی جو ذائقے کا سا تاثر دے رہی تھی ۔۔۔ پہلے گھونٹ پر ہی مجھے خوشگوار محسوس ہوئی وہ دوا اور میں نے اسے چائے یا کافی کی طرح آرام آرام سے پیا۔۔۔۔اور جب ختم ہوگیا گلاس تو دل ابھی تک بھرا نہیں تھا، جی میں آیا کہ ایک اور ساشے گھول کر پی لوں مگر یہ اوور ڈوز ہو جانی تھی چنانچہ خود کو اس حرکت سے باز رکھا مگر رہ رہ کر اس کی کمی محسوس ہوتی رہی ۔۔۔ اسی طرح 7 دن بیت گئے ۔۔۔ اور آٹھویں دن مجھے پھر سے اس کی طلب ستانے لگی تو پہلی مرتبہ مجھے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا ،

    میں نے گوگل پر اسے سرچ کیا اور تفصیل سے اس دوا کے مندرجات کا مطالعہ کیا۔۔۔لیکن۔۔۔ نہ تو اس میں کوئی نشہ آور شے شامل تھی اور نہ ہی ممکنہ سائیڈ ایفکٹس کی لسٹ میں ایسی کوئی تنبیہ درج تھی۔

    مزید یہ معلوم ہوا کہ اس دوا کا مقصد معدے میں ، مفید بیکٹیریا کی استعداد کار کو بہتر بنانا تھا ۔۔۔

    خیر چند روز شش و پنج میں رہنے کے بعد میں ایک اور ڈبہ خرید لائی اور اب کی بار 2 ، 2 دن کے وقفے سے ایک ایک ساشے پیتی رہی ۔۔۔ چنانچہ کئی دن کام چل گیا !!
    لیکن جب دوسرا ڈبہ بھی ختم ہوگیا مگر اس کی طلب ختم نہ ہوئی ۔۔۔۔ تو اب واضح طور پر میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں !

    میں نے اپنے ڈاکٹر تایا زاد سے رابطہ کیا اور بغیر سیاق و سباق سے آگاہ کیے اس سے استفسار کیا کہ کیا فلاں میڈیسن کسی بھی حالت میں ایڈکشن کا باعث بن سکتی ہے ۔۔۔ ؟؟ اس کا جواب بھی یہی تھا کہ ” بالکل بےضرر دوا ہے ایسا کچھ نہیں”.

    میرے ذہن میں یہ خیال یہ بھی لہرایا تھا کہ کہیں میڈیسن ایکسپائرڈ تو نہیں ۔۔۔ مگر دوسری دفعہ خریدنے پر میں نے ایکسپائری ڈیٹ بھی چیک کر چھوٹی تھی جسے ختم ہونے میں ڈیڑھ سال باقی تھے ۔

    تو خیر ۔۔۔ پندرہ بیس دن کے وقفے سے ، جب میںنے تیسری مرتبہ مذکورہ میڈیسن خریدنے کا قصد کیا ، تو معلوم ہوا کہ ” مارکیٹ میں شارٹ ہے ” ۔

    تو قصہ مختصر یہ کہ ۔۔۔۔ اس کے بعد سے وہ میڈیسن دوبارہ کبھی پاورڈ/ساشے کی شکل میں مارکیٹ میں نہیں آئی بلکہ اب اسی نام کا ایک سیرپ ملتا ہے بدمزہ سا ۔

    تو اس طرح یہ ” شارٹیج ” میرے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور مزید ایک مہینے بعد طلب بھی معدوم ہوتی چلی گئی ۔

    ۔۔۔۔۔ اس واقعہ پر میرا قیاس یہ ہے کہ یقیناً وہ میڈیسن بےضرر اور محفوظ ہی ہوگی مگر شاید اس مرتبہ اس کی جو کھیپ تیار ہوئی ہو اس میں کوئی ایسا معمولی مسئلہ آگیا ہو کہ جو اس کی اضافی طلب کا باعث بن رہا ہو اور مسئلے کی نشاندہی ہوتے ہی میڈیسن کو مارکیٹ سے اٹھوالیا گیا ہوگا ، کیونکہ اس کے بعد دوبارہ یہ میڈیسن اس شکل میں نہیں فروخت کی گئی !!