Baaghi TV

Category: متفرق

  • امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    امن کے لیے پاکستان کی کوششیں

    نائن الیون کے واقعے نے دنیا کا سارا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا، امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکا کی قیادت میں جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔ افغانستان میں امریکی جنگ کی وجہ سے پاکستان کو خطے کے کسی بھی ملک سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے 80,000 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور تقریباً 150 بلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ بڑی قربانیوں اور بھاری نقصان کے باوجود، امریکہ اور مغرب نے ہمیشہ ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا، جب کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے حملوں کی زد میں رہا۔

    دوسری جانب امریکا نے 2004 سے 2018 تک پاکستان کے اندر ڈرون حملے کیے ہیں جن میں سیکڑوں بے گناہ شہری مارے گئے۔ دو دہائیوں کی جنگ کے بعد جب امریکا کو معلوم ہوا کہ وہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتے تو امریکا نے پاکستان سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی درخواست کی تھی۔ پاکستان نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دسمبر 2018 میں طالبان اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اہتمام کیا تھا جس نے 2020 کے امن معاہدے کی راہ ہموار کی۔ اس معاہدے کے تحت، امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں۔ پاکستان نے نہ صرف افغانستان میں امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے بلکہ ملک میں دو دہائیوں سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی حمایت بھی کی ہے۔ .

    پاکستان نے ہمیشہ کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان میں امن آئے گا۔پاکستان چین کے پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک میں اقتصادی ترقی، تجارت اور رابطے چاہتا ہے جو خطے کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اگرچہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کی طرف سے دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا۔ طالبان کی جانب سے پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر متعدد بار باڑ لگانے سے پاکستان میں غصہ پیدا ہوا ہے لیکن پاکستان نے پرسکون اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔ دوسری جانب پاکستان دنیا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے اور افغانستان کی تباہ کن صورتحال کو بچانے کے لیے افغانستان کو معاشی مدد کرے۔یہ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے اور افغانستان میں امن کی کوششیں جاری رکھے۔

    دسمبر 2021 میں، پاکستان نے افغانستان کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کے لیے افغانستان پر ایک روزہ OIC اجلاس کی میزبانی کی، جس میں چین، امریکا، روس، اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل کے ساتھ ساتھ اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کے خصوصی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ. پاکستان ہمیشہ اقتصادی رابطوں اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتا ہے جو خطے بالخصوص افغانستان میں امن و سلامتی لانے کی بنیاد ہے سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکی بلاک میں تھا اور روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اتنے اچھے نہیں تھے۔ اب پاکستان نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اعلیٰ سطح پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے روس کا دورہ کیا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری واضح طور پر روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔

    یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغرب نے پاکستان پر روس کی مذمت کے لیے دباؤ ڈالا لیکن پاکستان نے کسی کا ساتھ نہیں لیا اور امید ظاہر کی کہ "سفارت کاری فوجی تنازعہ کو ٹال سکتی ہے”۔ پاکستان یوکرین میں پرامن اور مذاکراتی تصفیے کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ اب پاکستان دوسرے تنازعات یا جنگوں میں الجھنا نہیں چاہتا۔پاکستان امریکہ، روس، مغرب اور باقی دنیا کے ساتھ باہمی احترام اور بغیر کسی نقصان کے اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اہمیت اور افغانستان کی صورتحال کی بدلتی ہوئی متحرک صورت حال پاکستان کے لیے تمام علاقائی اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے بغیر کسی بلاک میں شامل ہوئے یا تیسرے ملک کے تنازع میں ملوث ہوئے پاکستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کسی بین الاقوامی تنازع کا فریق نہیں بنے گا بلکہ امن میں شراکت دار بنے گا۔ پاکستان ہمیشہ بھارت کے ساتھ باہمی ،خوشگوار اور پرامن تعلقات چاہتا ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بارہا کہا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے۔ لیکن یہ خواہش بھارت کے جارحانہ رویے کی وجہ سے پاکستان اپنے وعدوں تک نہ پہنچ سکی۔

    2019 میں جب پاکستان نے اپنے مگ 21 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے بعد ہندوستانی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو پکڑ لیا، تو اسے جذبہ خیر سگالی کے طور پر اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا۔ ہم لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے اس بڑے قدم سے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو دیکھ سکتے ہیں جہاں لوگ اچھا وقت گزار رہے ہیں، کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آخری بار جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ سال 25 فروری 2021۔ 18 سالوں میں پہلی بار بین الاقوامی سرحد پر ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے ایک بار پھر 2003 میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے انتظامات کا عہد کیا تھا اور ان ‘بنیادی مسائل’ کو حل کرنے پر اتفاق کیا تھا جو "امن اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں”۔ امن اور ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششیں نئی ​​نہیں ہیں اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے 1970 کی دہائی میں چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جب 1971 میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دورہ چین کا اہتمام پاکستان نے کیا تھا۔ چین کے دورے پر 2022 کے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’’پاکستان چین اور امریکا کو ساتھ لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، کیونکہ ’’ایک اور سرد جنگ‘‘ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے جو اس نے 1970 کی دہائی میں ادا کیا تھا جب اس نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پاکستان نے نہ صرف اپنی سابقہ ​​حکومت بلکہ موجودہ حکومت میں بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی کوشش کی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہماری ثالثی نہیں رکی اور ہم آہستہ آہستہ ترقی کر رہے ہیں۔اب پاکستان نے 22-23 مارچ 2022 کو او آئی سی وزرائے خارجہ کی کونسل کے 48 اجلاس "اتحاد، انصاف، امن، سلامتی اور ترقی کے لیے شراکت داری” کے لیے بلائے تھے۔ پاکستان ہمیشہ OIC کو مسلم دنیا کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کو جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ او آئی سی کی اس کانفرنس میں پاکستان نے کشمیر، فلسطین اور افغان انسانی بحرانوں کے پرامن حل کے لیے حمایت کا مطالبہ کیا۔او آئی سی کانفرنس کا ایک اور پہلو ’اسلامو فوبیا‘ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنا تھا کیونکہ یہ قدم پاکستان نے اٹھایا تھا۔

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2018 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران یہ اقدام اٹھایا، جس کے نتیجے میں ‘اسلامو فوبیا’ کو مذہبی اور نسلی امتیاز کی ایک شکل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ روس اور چند دیگر ممالک نے پاکستان کی کوششوں اور اس کے موقف کی تائید کی ہے۔ اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن قرار دیا ہے۔ پاکستان کی امن کے لیے کوششوں کے کردار کو بیرون ملک اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اس کی شرکت سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہندوستان اور ایتھوپیا کے بعد اقوام متحدہ کی امن کی کوششوں میں فوجیوں کا تیسرا سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستانی فوجی اب تک 28 ممالک میں 60 مشنز میں حصہ لے چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی قیام امن میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔پاکستانی افواج نے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ ایک دہائی طویل جنگ لڑی۔ امن کی خاطر، پاکستان کی حکومت نے طالبان حکومت سے پاکستانی قانون کے دائرہ کار کے تحت پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کرنے کو کہا، لیکن ٹی ٹی پی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اگرچہ ایک عبوری جنگ بندی کی گئی تھی لیکن ان کے سخت مطالبات کی وجہ سے اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔پاکستان کی امن کے لیے کوششوں اور عزم کا اندازہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست کے طور پر اس کے پیشہ ورانہ رویے سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے اس اہم وقت پر بہت اچھی طرح سے حالات کو سنبھالا، جب 9 مارچ 2022 کو بھارت سے پاکستانی علاقے میاں چنوں میں ایک میزائل داغا گیا۔ جوہری فلیش پوائنٹ کئی بھارتی مصنفین اور دفاعی ماہرین نے واقعے کے بعد پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ "سوشانت سنگھ” ایک ہندوستانی مصنف ہے جس نے لکھا ہے کہ "ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی میزائل ہندوستانی سرزمین پر گرا ہوتا اور پاکستانی فریق "حادثاتی فائرنگ” کا دعویٰ کرتا تو کیا ہندوستانی سیاسی قیادت اور میڈیا اس وضاحت کو قبول کر لیتا؟پاکستان نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں امن چاہتا ہے، امن کے لیے پاکستان اپنی صلاحیت اور بوجھ سے بڑھ کر سب کچھ کر رہا ہے۔ اب پاکستان محفوظ ہے، اور پاکستان میں سیاحت اور بین الاقوامی کرکٹ واپس آگئی ہے۔ غیر ملکی کہیں بھی جا سکتے ہیں اور بے خوف رہ سکتے ہیں۔ پاکستان کی امن کی خواہش کا مطلب پاکستان کی کمزوری نہیں ہے۔ یہ وہ خواہش ہے جو سرحد پار بسنے والے لاکھوں لوگوں کی ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے امن کے لیے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ بھاری قیمت ادا کی ہے۔

  • برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    لندن: برطانیہ میں نورفوک کے ساحل پر ڈوبنے والے جہاز ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کوبالآخر 340 سال بعد دریافت کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ” ڈیلی میل "کے مطابق ایک شاہی جنگی جہاز کا ملبہ جو 340 سال قبل مستقبل کے بادشاہ جیمز II کو لے کر ڈوب گیا تھا اسے شوقیہ غوطہ خوروں نے دریافت کیا ہے نارفولک کے ساحل پر ایچ ایم ایس گلوسٹر کی دریافت کو 1970 کی دہائی میں میری روز کی دریافت کے بعد سب سے بڑی سمندری تلاش کے طور پر سراہا گیا ہے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    6 مئی 1682 کو یہ دیو ہیکل جہاز نورفوک میں بحیرہ نارتھ کے جنوب میں ایک ریت کے ٹیلے سے ٹکرانے کے بعد غرقاب ہوا تھاجہاز کو گریٹ یرماؤتھ کے ساحل سے 28 میل کے فاصلے سے دریافت کیا ہے جہاں یہ آدھا سمندر کی سطح میں دھنسا ہوا تھا لیکن اس تلاش کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

    ملبے کو تلاش کرنے کی کوششیں، بھائیوں جولین اور لنکن بارن ویل کی قیادت میں، 5,000 سمندری میل پر محیط چار سال کی تلاش کے بعد کامیاب ثابت ہوئی۔

    جہاز پر موجود نوادرات کی نمائش کے لیے منصوبے جاری ہیں جنہیں زمین پر لایا گیا ہے، بشمول کپڑے، شراب کی بوتلیں اور جہاز کی گھنٹی، جو حتمی طور پر اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ یہ ملبہ گلوسٹر تھا۔

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    یہ نمائش جو مشترکہ طور پر یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اور نورفولک میوزیم سروس کے ذریعہ تیار کی گئی ہے – اگلے سال موسم بہار سے نورویچ کیسل میوزیم اور آرٹ گیلری میں پانچ ماہ کے لیے منعقد کی جائے گی-

     

    جہاز خود بکھرا ہوا ہے اور اب بھی سمندری فرش پر ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال باقیات کے کسی حصے کو زمین پر لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر برطانوی سیاسی تاریخ میں ایک ‘تقریباً’ لمحے کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ اس نے پروٹسٹنٹ تخت کے کیتھولک وارث کی موت کے قریب سیاسی اور مذہبی تناؤ کے وقت ہوا تھاجیمز سٹورٹ، بعد میں انگلینڈ کے جیمز II، جو برطانیہ کے آخری کیتھولک بادشاہ ہوں گے، ڈوبنے سے بچ گئے لیکن تقریباً 250 ملاح اور مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کی بڑی وجہ اس کے اعمال تھے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    جیمز بمشکل زندہ بچ سکے، آخری لمحات تک جہاز کو چھوڑنے میں تاخیر کرتے ہوئے، جہاز میں موجود 130 سے ​​250 کے درمیان لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جو پروٹوکول کی وجہ سے، رائلٹی سے پہلے جہاز کو ترک نہیں کر سکے۔

    ایچ ایم ایس گلوسیسٹر کا شمار ان ہزاروں جہازوں میں ہوتا ہے جن کا ملبہ برطانوی ساحلوں پر پھیلا ہواہے اور ان میں سے اکثریت کو صدیوں سے انسانی آنکھ نے نہیں دیکھا ہے ہِسٹارک انگلینڈ کے مطابق برطانیہ کے ساحل پر اندازاً 40 ہزار جہازوں کا ملبہ دریافت کیے جانے کے انتظار میں ہے۔

    لیکن ان میں کم از کم 90 ایسے ہیں جن کی موجودگی کے متعلق علم ہے اور ماہرین نے ان کی اصل جگہوں کا تعین کیا ہے۔ البتہ ان میں کئی جہاز ایسے ہیں جو زمین پر نہیں لائے جاسکیں گے اور آئندہ دہائیوں میں ان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

  • 6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    6 گھنٹوں میں 24 انڈے دینےوالی مرغی کے چرچے

    کیرالہ: بھارت میں ایک مرغی نے 6 گھنٹوں کے دوران 24 انڈے دے کر سب کو حیران کر دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ کے ایک گاؤں میں پولٹری ماہرین اس وقت حیران رہ گئے، جب انہیں پتا چلا کہ ایک آٹھ ماہ کی مرغی نے 6 گھنٹے کے دوران 24 انڈے دیئے ہیں۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    جانور پالنے والوں خصوصا پولٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی بات ہےمرغی نے جب انڈے دینا شروع کیے تو یہ سلسلہ جاری ہی رہا اور وہ انڈے دینے کی رفتار دیکھ کر حیران رہ گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مرغی کے مالک نے صبح کے وقت اسے لنگڑاتا دیکھ کر اس کی ٹانگوں پر تیل لگایا تھا، جس کے بعد وہ حیرت انگیز طور پر مسلسل انڈے دینے لگی یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 6 گھنٹے میں 24 انڈے دینے والی مرغی اب ایک مشہور اسٹار بن چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ متعلقہ حلقوں کے علاوہ دنیا بھر میں اس کے چرچے ہیں۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی ریاست کرناٹک سے بھی ایک دلچسپ خبر سامنے آئی تھی، جس کے مطابق مرغی نے کاجو کی شکل کے انڈے دیئے تھے یہ واقعہ جنوبی کنڑ ضلع کے بیلتھنگڈی تعلقہ میں واقع لیلا گاؤں میں پیش آیا۔ مرغی نے خاص کاجو کی شکل کے دس انڈے دئیے۔

    ابتدائی طور پر جب گھر والوں نے پہلا انڈا دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔ لیکن، انہوں نے اس کے بارے میں کچھ کرنے سے پہلے ایک اور دن انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلسل تین دن گزرنےکےبعد بھی مرغی کاجو کی شکل کے انڈے دیتی رہی بعد ازاں لوگ اس قدرتی عجوبے کو دیکھنے کے لیے جوق در جوق آنے لگے ہیں۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

    ملٹری ڈپلومیسی ،تحریر: کنول زہرا

       حکومت کے ساتھ ملکر پاک فوج,خارجہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے موثر کردار ادا کر رہی ہے, اس لئے وقت فوقتا مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے, اس انعقاد سے دفاعی تعلقات کے ساتھ قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں, ان ہی کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند بڑی مشقوں میں درج ذیل شامل ہیں:

    1.. دسمبر 2016 میں پاکستان فوج نے اردن کی فوج کے ساتھ مل کر فجر الشرق مشق کا انعقاد کیا
    2..اکتوبر 2017 اور اکتوبر 2018 میں پاکستان نے برطانیہ میں منعقدہ "مشق کیمبرین پیٹرول” میں گولڈ میڈل جیتے جس میں 31 ممالک کی 134 ٹیموں نے حصہ لیا۔
    3…جون 2017 میں پاک فوج کی ایس ایس جی نے نائجیرین اسپیشل فورسز بٹالین کے ساتھ 8 ہفتوں پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی تربیتی مشق کی
    4… پاکستان اور روس کی افواج  کے درمیان مشترکہ مشق DRUZBA 2017 ستمبر  میں روس میں منعقد ہوئی۔
    5.. 2017 میں ہی پاک-سعودی اسپیشل فورسز کی مشترکہ مشق انسداد دہشت گردی مشق ‘الشہاب  کے نام سے ہوئی
    6… دسمبر 2018 میں پاک چین مشترکہ فوجی مشق ‘واریر -VI 2018 کے نام سے ہوئی
    7..جنوری 2020 میں پاکستان نیوی اور پی ایل اے (نیوی) کے درمیان چھٹی دو طرفہ مشق سی گارڈینز-2020 ہوئی
    8… 14 اکتوبر 2020 کو، پاکستان آرمی نے مسلسل تیسری بار برطانیہ کے سینڈہرسٹ میں رائل ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ ایک بین الاقوامی ملٹری ڈرل مقابلہ جیتا جسے پیس اسٹکنگ مقابلہ کہا جاتا ہے۔ پاک فوج نے پہلی بار 2018 میں ایونٹ میں شرکت کی تھی
    9.. پاکستان اور بحرین کی مشترکہ مشق "البدر 2020 فروری کے ماہ میں منعقد ہوئی
    10…  اتاترک-الیون 2021،  ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ اسپیشل فورسز کی مشق کا انعقاد بھی ہوچکا ہے
    11.. فروری 2021 میں  پاکستان اور مراکش کے درمیان مشترکہ مشقیں بھی ہوچکی ہیں
    12… اکتوبر 2021۔ میں 46 ممالک  نیول ایکس امن مشق 21 میں حصہ لے چکے ہیں ۔ جس میں امریکہ,  برطانیہ جیسے نیٹو اتحادی اور  روس بھی شامل تھا.
    13..مارچ 2022 میں،  پاکستان اور امریکہ کی فضائی افواج نے ایک مشترکہ مشق، فالکن ٹیلون 2022، پاکستان کے آپریشنل ایئر فورس بیس پر منعقد کی۔
    14..  پاک فوج کی ٹیم نے نیپال میں 18 سے 21 مارچ 2021 تک منعقدہ بین الاقوامی "ایڈونچر مقابلے” میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا ۔ اس مقابلے کا مقصد شرکاء کی جسمانی برداشت اور ذہنی چستی کو جانچنا تھا اور اس میں کراس کنٹری دوڑ، سائیکلنگ اور رافٹنگ شامل تھے۔
      15.. پاکستان آرمی کے زیر اہتمام لاہور میں یکم سے 7 نومبر تک بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا, اس میگا ایونٹ تیسرا بین الاقوامی فزیکل ایگیلیٹی اینڈ کامبیٹ ایفیشنسی سسٹم (PACES) میں چھ ممالک نے حصہ لیا, جن میں عراق، اردن، فلسطین، سری لنکا، ازبکستان اور یو اے ای کے 107 فوجی اہلکار شامل تھے۔ اس تقریب نے پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر پیش کرکے وطن عزیز کا حقیقی چہرہ آشکار کیا۔

    16.. 53ویں عالمی ملٹری شوٹنگ چیمپئن شپ (شاٹ گن) 2021 کی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی جسے عرف عام میں انٹرنیشنل ملٹری اسپورٹس کونسل کہا جاتا ہے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب پاکستان نے انٹرنیشنل ملٹری چیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔ جس میں روس، فرانس، سری لنکا، فلسطین، کینیا کے 41 بین الاقوامی شوٹرز سمیت 50 سے زائد شرکاء نے شرکت کی , اس ایونٹ کا مقصد ‘کھیلوں کے ذریعے دوستی’ کا تھا, اس ایونٹ میں ایران آور نیپال کے حکام نے بھی شرکت کی
    17…  نو تا سات مارچ 2022 کو، پانچواں بین الاقوامی پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ (PATS) مقابلہ – پہاڑی قصبے پبی میں واقع نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر میں منعقد ہوا۔ مقابلے میں آٹھ پاکستانی اور آٹھ بین الاقوامی ٹیموں نے حصہ لیا جن میں اردن، مراکش، نیپال، ترکی، ازبکستان، کینیا، سعودی عرب اور سری لنکا شامل تھے
    دفاعی برآمدات کو بڑھانا
    فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوجی سفارت کاری نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ  معاشی لنگر اندازی فراہم کرنے میں ریاستی اداروں کی مدد کی, کامیاب فوجی سفارت کاری سے پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا،
    منسٹری آف ڈئفنس پروڈکیشن  کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 بلین روپے) اور اندرون ملک سیلز (تقریباً 70 بلین روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا ہے۔ سال 2019 میں، پاکستان ائیر کرفٹ کامرہ نے JF-17,  نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میں برآمد کیے اور عراق کو 33.33 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی, ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 قیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا کام کیا۔ جس کے بیرونی ممالک سودوں سے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 بلین روپے کا اضافہ ہوا اس کے علاوہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں 8000 ملازمتوں کا موقع فراہم ہوا,

    قیام امن کے لئے پاک فوج کا اقوام متحدہ سے تعلق
    پاکستان امن کا پیامبر ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے قیام امن چارٹر کا داعی ہے, پاکستان نے 1960 سے  امن کے قیام کی خاطر اقوام متحدہ کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستانی امن دستوں نے انسانیت کی مدد، اداروں کی تعمیر اور امن کو فروغ دینے کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جسے اقوام متحدہ اور عالمی رہنماؤں نے پذئرائی دی, 1960 سے، اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ وابستگی کے دوران، پاکستان کے 200,000 فوجیوں نے خدمات سر انجام دئیں جبکہ 163 فوجیوں نے امن کی خدمت میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششوں کے ساتھ ساتھ، کانگو کے سیلاب میں 2,000 افراد کو بچانے کی پاکستان کی کوشش اور COVID-19 کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی خواتین امن دستوں کی خدمات کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا.پاک فوج کی کاوشوں کی وجہ سے عالمی امن کی کارروائیوں میں تعاون فراہم کرنے میں پاکستان کو پانچواں ملک کا اعزاز دلوایا، اس وقت اقوام متحدہ کے قیام من آپریشن کے تحت مختلف ممالک میں پاکستان کے 4,462 سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں, اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مشنز میں 15% خواتین اسٹاف آفیسرز کو بھی تعینات کیا ہے ۔  جولائی 2019 میں کانگو میں پاک فوج کی خواتین کی ٹیم تعینات کی گئی تھی جس میں 20 افسران شامل تھیں, 26 مئی 2022 کو، اقوام متحدہ کی طرف سے ایک تقریب میں چھ پاکستانی امن فوجیوں کو ایوارڈ دیا گیا۔ جنھنوں نے امن کے حصول کی خاطر جانیں قربان کیں, جن میں طاہر اکرام، طاہر محمود، محمد نعیم، عادل جان، محمد شفیق، اور ابرار سید کا تعلق پاک فوج سے ہے, پڑھنے والوں کو یاد ہوگا کہ 13 اگست 2013 کو، اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اسلام آباد میں سینٹر فار انٹیل پیس اسٹڈیز  کی افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ سو سے زائد ممالک اقوام متحدہ کے امن مشن کے لیے فوج اور پولیس کے تحت تعاون کرتے ہیں۔ جس میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے۔ پاکستان کی خدمات کو اجاگر کیے بغیر اقوام متحدہ کی امن کاوشیں ناممکن ہیں۔

    اقوام متحدہ کے موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گیٹریس نے 17 فروری 2020 پاکستانی امن فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا, انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں امن کی کوششوں میں سب سے زیادہ مستقل اور قابل اعتماد تعاون کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے خواتین کے امن دستے دیگر ممالک کی فوج  کے لیے اعلی مثال ہیں۔امن کے فروغ اور انسداد دہشت گردی کے لئے کام کرنا پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے, جو قائداعظم محمد علی جناح کے ان الفاظ ‘ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں اور اپنے قریبی پڑوسیوں اور پوری دنیا کے ساتھ خوشگوار اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا کسی کے خلاف کوئی جارحانہ منصوبہ نہیں ہے’ کی زندہ مثال ہے۔

    کرتار پور راہداری اور مذہبی سیاحت کا فروغ:
    فرينٹير وركس اورگنائریشن نے کرتارپور کوریڈور تیار کیا، جو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کو ہندوستان میں گرودوارہ ڈیرہ بابا نانک سے جوڑتا ہے, جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات پروان چڑھے اور مذہبی سیاحت کو فروغ ملا۔

    قومی کرکٹ کی بحالی:
    2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ پر  پابندی عائد ہوئی, جس میں بھارت کا اہم کردار تھا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان میں کبھی بین الاقوامی کرکٹ دوبارہ شروع نہیں ہو گی۔ مگر الله کے فضل سے پاک فوج کی کوششیں رنگ لائیں اور آسٹریلیا، انگلینڈ اور سری لنکا کی فوجی ٹیموں نے پاکستان آکر اعتماد کا اظہار کیا, دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام خدشات کو دور کرنے کے لیے میچز لاہور، راولپنڈی، پشاور اور حتیٰ کہ وزیرستان میں بھی کرائے گئے۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019 کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا۔
    ملٹری ڈپلومیسی کی وجہ سے وطن عزیز کو سعودی عرب اور چین سے فوری امداد ملی, چین کی جانب سے حالیہ دو ارب ڈالر کی امداد بھی فوجی سفارت کاری کی کامیابی ہے
    اسی طرح فوجی قیادت نے سعودی عرب اور چین کو اعتماد میں لیکر قرضوں کی ادائیگی پر قائل کیا ہے۔  حال ہی میں 31 مئی 2022 کو، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پرمحمد بن سلمان تین بلین کی رقم واپس لینے کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا ہے.

  • بھارت کی اسلحے کی دوڑ اور غیر محفوظ ایٹمی پروگرام

    بھارت کی اسلحے کی دوڑ اور غیر محفوظ ایٹمی پروگرام

     

    بھارت اپنی عسکری اور معاشی طاقت کے بل بوتے پر خطے میں ایک غالب طاقت بننا چاہتا ہے۔ جب کہ پاکستان اپنے پڑوسی کی دھمکیوں میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ پاکستان نے تزویراتی توازن کو بدلنے کے لیے بھارت کی کارروائی کے جواب میں ہر ممکن کوشش کی۔ 1962 میں چین بھارت جنگ کے بعد بھارت نے اپنی مسلح افواج کو جدید بنانا شروع کیا اور اسی چیز نے پاکستان کو بھی ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ بھارت روس، امریکا، فرانس اور اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اسلحے کی خریداری پر اس غیر معمولی اخراجات نے خطے میں ایک مکمل خطرے کا ماحول پیدا کر دیا ہے اور علاقائی ممالک میں خاص طور پر پاکستان کے لیے عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔ روس کئی دہائیوں سے بھارت کو ہتھیار فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے۔

    "اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوشن کے مطابق، 2012 سے 2016 کے درمیان، روسی اسلحے کی درآمدات ہندوستان کی کل اسلحے کی درآمدات کا 68 فیصد بنتی ہیں”۔ 2016 میں برکس سربراہی اجلاس میں، روس اور بھارت کے درمیان پانچ S-400 میزائل سسٹم کی خریداری کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ ابتدائی طور پر، ہندوستانی حکومت نے روس کو پیشگی ادائیگی کے طور پر 800 ملین ڈالر ادا کیے ہیں اور توقع کی جارہی تھی کہ ہندوستان کو S-400 میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ 2021 کے آخر میں ملے گی لیکن ابھی تک نہیں ملی۔ معاہدے کے مطابق تمام یونٹس کی حتمی ترسیل اپریل 2023 تک ہندوستان پہنچ جائے گی۔ S-400 ایک ایسا موبائل پلیٹ فارم ہے جو لڑاکا طیارے سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ایک ساتھ آٹھ میزائل داغ سکتا ہے۔ اس کا ریڈار 600 کلومیٹر دور تک کسی طیارے کا پتہ لگا سکتا ہے اور اس کے میزائل 400 کلومیٹر آگے تک ہدف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ S-400 عملی طور پر زیادہ تر پاکستان کا احاطہ کرے گا، جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی جنگی طیارے کسی بھی بھارتی جارحیت کے خلاف زیادہ کمزور ہو جائیں گے۔ بھارت کا منصوبہ ہے کہ S-400 کی تین بیٹریاں پاکستان کے ساتھ اپنی مغربی سرحد پر اور دو بیٹریاں چین کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد پر لگائیں۔ S-400 نصب کرنے کا بنیادی مقصد ہندوستان کی اہم تنصیبات جیسے جوہری پلانٹس، مواصلاتی مراکز اور اہم شہروں کی حفاظت کرنا ہے۔ روس کے ساتھ S-400 معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ‘پرانے دوست’ کے بیانیے نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔S-400 کو دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں ڈرون، میزائل، راکٹ اور یہاں تک کہ لڑاکا طیاروں سمیت تقریباً ہر قسم کے فضائی حملوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس نظام کا مقصد کسی خاص علاقے پر ڈھال کے طور پر کام کرنا ہے، جو زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سسٹم ہے۔ S-400 مداخلت کرنے والے ہوائی جہاز، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ہر یونٹ میں دو بیٹریاں ہوتی ہیں، جن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، ایک سرویلنس ریڈار، اور انگیجمنٹ ریڈار اور چار لنچ ٹرک ہوتے ہیں۔ مزید برآں، یہ بیک وقت 80 اہداف کو ٹریک کر سکتا ہے اور اسے پانچ منٹ میں آپریشنل بنایا جا سکتا ہے۔

    S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت خطے میں بالخصوص پاکستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ یہ ہندوستانی تسلط پسندانہ ڈیزائن نہ صرف ملکوں کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک ماحول کو بدل دے گا، جو پہلے ہی ہندوستان کے جارحانہ اور جنگجوانہ رویے کے سائے میں ہے۔ اس سے جنوبی ایشیا کی دیگر ریاستوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگا۔ دوسری طرف S-400 کی خریداری بھارت کو پاکستان کے خلاف مزید جارحیت کرنے اور پاکستان کے خلاف بالاکوٹ قسم کے فضائی حملے کرنے پر اکسائے گی۔ اگرچہ ہند-روس S-400 معاہدہ ہند-امریکہ تعلقات میں تشویش کا ایک بڑا سبب بن گیا ہے، امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا مقابلہ کرنے والے امریکہ کے مخالفوں کے ذریعے پابندیوں کے قانون (CAATSA) کے تحت دھمکیاں دینے کے ساتھ۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ S-400 سسٹم کی خریداری پر بھارت پر پابندیاں نہیں لگائے گا کیونکہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں اور بھارت کے ذریعے امریکہ چین پر قابو پانا چاہتا ہے۔ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ہندوستان اپنا پیٹریاٹ میزائل سسٹم حاصل کرے لیکن S-400 نہ صرف پیٹریاٹ سے سستا ہے بلکہ ٹیکنالوجی میں بھی ترقی یافتہ ہے۔ جنوبی ایشیاء کی سلامتی کی صورتحال ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی خصوصیت رکھتی ہے۔ ایک ریاست کے عروج کا مطلب دوسری ریاستوں کا زوال ہے۔ بھارت روس S-400 معاہدے کے پاکستان پر اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ڈیٹرنس صلاحیت کو کم کر سکتا ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان عدم توازن بھی پیدا ہوگا۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی حاصل کر کے یہ بھارت کے خلاف پاکستان کی ایٹمی ڈیٹرنس کو کم کر سکتا ہے۔ اب بھارت پاکستان کے خلاف خطرات بڑھا سکے گا۔

    بھارت کے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو خطے میں طاقت کی توازن برقرار رکھنے کے لیے جوابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ چیز پاکستان کو S-400 صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سپرسونک اور ہائپرسونک میزائل جیسے دیگر متبادل آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کرے گی کیونکہ وہ اس قسم کے میزائلوں کو روکنے سے قاصر ہے۔S-400 دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کو مزید بھڑکا دے گا۔ یہ بھارت کو یہ سوچنے پر بھی تنازعہ بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کے فضائی حملے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے حالات بڑے تنازع کو جنم دیں گے جس کے خطے کے لیے غیر معمولی اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت کا حد سے زیادہ اور غیر معقول رویہ دو جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے درمیان بڑے تنازع کو جنم دے سکتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگا۔9 مارچ 2022 کو بھارت کی جانب سے پاکستانی علاقے میاں چنوں میں میزائل فائر ایک بے مثال واقعہ تھا جس کی ایٹمی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگرچہ اس سے عمارت کے نقصان کے علاوہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بھارت اور دنیا ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اب دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ بھارت کے پاکستان پر میزائل فائر کرنے کے بعد ایٹمی پروگرام کس کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ ربڑ کی گولی نہیں میزائل ہے جو غلطی سے دوسرے ملک میں داغا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام پیشہ ور افراد کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر میزائل داغنے کے غیر قانونی اقدام کے بعد اب دنیا کو پرسکون، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر پاکستان کی تعریف کرنی چاہیے۔دنیا کو روس سے S-400 میزائل سسٹم حاصل کرنے سے پہلے بھارت کا جارحانہ رویہ بھی دیکھنا چاہیے اور S-400 میزائل سسٹم لگانے کے بعد اس کا رویہ کیا ہوگا، یہ ایک بڑا سوال ہے؟ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ذہن سازی، جارحانہ اور جارحانہ رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ واقعہ اب ہندوستانی میزائل سسٹم کی حفاظت پر خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے۔ بھارت واقعے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ رابطہ کرے اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ مشترکہ تحقیقات کا آغاز کرے۔بھارتی حکام نے اسے "تکنیکی خرابی” قرار دیا جو کہ "انتہائی افسوسناک” ہے۔ "سوشانت سنگھ” ایک ہندوستانی مصنف ہے جس نے لکھا ہے کہ "ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی میزائل ہندوستانی سرزمین پر گرا ہوتا اور پاکستانی فریق "حادثاتی فائرنگ” کا دعویٰ کرتا تو کیا ہندوستانی سیاسی قیادت اور جہانگیر میڈیا اس وضاحت کو قبول کرتا؟اب عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کو اس میزائل فائر کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے اس نازک وقت میں بہت اچھی طرح سے حالات کو سنبھالا اور دونوں ایٹمی ہتھیاروں والی ریاستوں کو ایٹمی فلیش پوائنٹ سے محفوظ رکھا۔

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

    بھارتی میزائل کا پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ،چین کا تحقیقات کا مطالبہ

  • کم آمدنی کے وسائل اور ناقابل تسخیر دفاع ،تحریر: کنول زہرا

    کم آمدنی کے وسائل اور ناقابل تسخیر دفاع ،تحریر: کنول زہرا

    ملک کو بہترین دفاعی قوت بنانا ہر ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے, خطے کی صورتحال دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی بہت سے خطرات ہیں, جس سے نمٹنے کے لئے ریاست کو بجٹ کی کیثیر رقم مختص کرنی پڑتی ہے, جس کے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں ہیں, کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلح افواج کا کل بجٹ ستر فیصد ہے جبکہ کچھ اس اعداد و شمار کو 80 فیصد بتاتے ہیں, تاہم حقائق اس کے بر عکس ہیں, موجود حکومت کے  1400 سو ارب روپے دفاعی بجٹ کے حوالے سے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے, جو کہ بجٹ کا 16  حصہ بنتا ہے, اس سولہ فیصد میں سے پاک فوج کو594 بلین روپے یا 44 فیصد ملتے ہیں۔ درحقیقت، پاکستانی فوج کو کل بجٹ کے وسائل کا 7 فیصد حصہ ملتا ہے
    یہ اعداد جی ڈی پی کے لحاظ سے 1.1 فیصد بنتے ہیں, جس سے ان عناصر کی یکسر نفی ہوتی ہے جو  بے بنیاد جھوٹ پھیلاتے ہیں.

    پاکستان کے پاس وسائل کم اور سیکورٹی چیلنجز زیادہ ہیں, الله کے فضل سے اس کے باوجود  پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے اپنے آپ کو اہم دفاعی قوت ثابت کیا.قومی سلامتی, ملک کے وقار, ریاست کے استحکام کی خاطر عظیم ملک کے پر عزم بیٹوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے, پاک فوج نے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہ لازوال اقدامات کیے اور کر رہے ہیں جو کم وسائل میں ممکن تو نہیں ہیں تاہم ملک کے دفاع کے لئے بے حد ضروری ہیں غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر کبھی بھی عوام کو یہ نہیں بتائیں گے کہ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران، پاکستان کا دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے پبہت کم ہو گیا ہے. 1970 کی دہائی میں ہمارا جی ڈی پی کے 6.50 فیصد جبکہ  2021 میں 2.54 فیصد پر آ گیا ہے۔ غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر عوام کو کبھی یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ پاک فوج نے سال 2019 میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنے بجٹ میں مختص 100 ارب روپے بھی ترک کیے تھے۔

    ملٹری ایکسپینڈیچر ڈیٹا بیس اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کے ملٹری بیلنس کے مطابق پاکستان (2.54 جی ڈی پی) کے مقابلے دفاع پر زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں عمان (جی ڈی پی کا 12 فیصد) لبنان (10.5 فیصد)، سعودی عرب (10.5 فیصد) شامل ہیں۔ 8 فیصد، کویت (7.1 فیصد)، الجزائر (6.7 فیصد)، عراق (5.8 فیصد)، متحدہ عرب امارات (5.6 فیصد)، آذربائیجان (4 فیصد)، مراکش (5.3 فیصد)، اسرائیل (5.2 فیصد)، اردن (4.9 فیصد) )، آرمینیا (4.8 فیصد)، مالی (4.5 فیصد)، قطر 4.4 فیصد، روس 3.9 فیصد، امریکی 3.4 فیصد اور ہندوستان (3.1 فیصد) ہے, ان اعداد و شمار کی روشنی میں  پاکستان کا دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے کم ہے۔ پاکستان فی کس کی بنیاد پر 40 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ اسرائیل 2200 ڈالر فی کس کی بنیاد پر خرچ کرتا ہے۔ الله کی زرہ نوازی ہے کہ گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق، دنیا میں سب سے کم دفاعی بجٹ رکھنے کے بعد بھی، پاکستان کی مسلح افواج "دنیا کی 9ویں طاقتور ترین فوج  ہے

    اگرچہ پاکستان کے پاس دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے لیکن اس کے اخراجات سب سے کم ہیں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کی ریسرچ کے مطابق امریکہ 392000 ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے، سعودی عرب 371000 ڈالر خرچ کرتا ہے، بھارت 42000 ڈالر خرچ کرتا ہے، ایران 23000 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان 12500 ڈالر سالانہ فی فوجی خرچ کرتا ہے۔ ہندوستان کے 76.6 بلین ڈالر کے فوجی اخراجات دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس میں 2020 سے 0.9 فیصد اور 2012 سے 33 فیصد اضافہ کیا گیا۔ ہندوستانی دفاعی بجٹ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 8 گنا زیادہ ہے۔ دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود کرنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال اقدام بھی کیا۔ لیکن اس کے باوجود دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے نئے روایتی ہتھیاروں کو نظام کو بھی شامل کر نے عمل میں کوئی تعطل نہیں آیا, اس دوران بھی بہترین سائبر وارفیئر کی صلاحیتیں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں تازہ ترین پیش رفت رہیں, اس کے علاہ کم دفاعی وسائل کے باوجود پاکستان آرمی دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے اور اپنے پیشہ ورانہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونے دیا۔

    بھارت کا دِفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت 6سے7گُنا زیادہ ہے،بھارت صرف نئے اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ لگ بھگ18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان کے بجٹ سے دوگُنی رقم ہے 2018ء کے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور سیکورٹی کی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا ،ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر سیکورٹی اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے بھرپور کردار ادا کیا مگر سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی الاونس نہیں لیا گیا،کرونا وَبا کے خلاف قومی جنگ میں دِفاعی بجٹ سے ہی 2.56ارب روپے صَرف کئے گئے۔لیکن اضافی ڈیمانڈ نہیں کی گئی۔ ٹِڈی دَل کے خلاف مہم میں بھی دِفاعی بجٹ سے ہی297ملین روپے خرچ ہوئے،چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر گذشتہ سالوں میں دِفاعی آلات و مصنوعات کی مقامی تیاری (indigenisation)پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ملکی زرِ مبادلہ میں کمی واقع نہ ہو،پاک افواج نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس کی مَد میں سال2019-20 میں 190 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی،25.8ارب روپے انکم ٹیکس، کسٹم سرچارج اور سیلز ٹیکس کی مَد میں جمع ہوئے،پاک افواج کے رِفاعی اداروں نے 164.239ارب روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مَد میں ادا کئے،ان اداروں میں آرمی ویلفئیر ٹرسٹ، فوجی فاونڈیشن، نیشنل لاجسٹکس سیل اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن شامل ہیں۔ قومی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ دفاع کا نہیں بلکہ غیر ملکی قرضوں  دیگر حکومتی اخراجات کا ہے,  غلط معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کو سگنین صورتحال سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے, الله پاکستان کو اپنی امان میں رکھے, الہی آمین

  • بی جے پی کی روس اور یوکرین کے تنازع کی وجہ سے میں پھنسے ہوئے سٹوڈنٹس پر سیاست

    بی جے پی کی روس اور یوکرین کے تنازع کی وجہ سے میں پھنسے ہوئے سٹوڈنٹس پر سیاست

    بی جے پی کی روس اور یوکرین کے تنازع کی وجہ سے میں پھنسے ہوئے سٹوڈنٹس پر سیاست
    یوکرین میں پھنسے ہوئے بھارتی طلباء کو بچانے پر تین طرفہ پروپیگنڈہ جنگ چھڑ گئی
    ہے۔ ہزاروں پھنسے ہوئے اور ایک کی ہلاکت کے ساتھ، یوکرین میں ہندوستانی طلباء جنگ کے پروپیگنڈے کا مرکز ہیں۔ روس اور یوکرین دونوں نے ہندوستانی طلباء کے تحفظ کا وعدہ کرتے ہوئے بیانات جاری کیے اور دوسری طرف انہیں خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔ اگرچہ روس نے یوکرین پر ہندوستانی طلباء کو یرغمال بنانے کا الزام لگایا ہے۔ روس نے یوکرین پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ان طلبا کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے جو انہیں روسی سرزمین جانے سے روک رہا ہے۔ روس نے الزام لگایا کہ 3000 ہندوستانی طلباء کو یوکرائنی فورسز نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ یوکرین اور روس دونوں نے ایک دوسرے پر ہندوستانی طلباء کو جاری تنازع میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ہندوستانی سٹوڈنٹس بی جے پی کی بچاؤ کی کوششوں اور تنازعہ کے لیے مجموعی نقطہ نظر سے ناراض ہیں۔ روس نے دعویٰ کیا کہ اس کی فوج پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ روسی وزارت دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نے اپنے فوجی طیاروں میں طلباء کو روسی سرزمین سے ہندوستان واپس کرنے کی پیشکش کی۔ ساتھ ہی طلباء کے انخلاء کو بی جے پی مودی حکومت کی پیٹھ تھپتھپانے کے موقع کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ آپریشن گنگا، طالب علموں کو بچانے کے لیے ہندوستانی حکومت کا مشن، یہاں تک کہ یوپی کی انتخابی مہم تک پہنچ چکا ہے، مودی نے اسے ریاست میں متعدد عوامی تقاریر کے دوران اٹھایا۔یہاں تک کہ مودی نے ٹیلی ویژن پر بات چیت کے دوران طلباء کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔ چار مرکزی وزراء یوکرین کی سرحد سے متصل ممالک میں انخلاء مہم کی نگرانی کے لیے گئے۔ بچاؤ کی کوششوں میں حصہ لینے والے ان کی ویڈیوز اور ہندوستان میں وزیروں کے ذریعہ طلباء کو موصول ہونے والی ویڈیوز کو بی جے پی سوشل میڈیا پر آگے بڑھا رہی ہے۔

    مودی کا قوم پرست لبادہ اوڑھے ہوئے بھارتی شہریوں کے مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ طالب علموں کو بچانے کے ارد گرد تعلقات عامہ کی یہ جھڑپ صرف بی جے پی تک محدود نہیں ہے۔ تمل ناڈو حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اپنی امدادی ٹیم یوکرین کی سرحد سے متصل ممالک میں بھیجے گی۔ تاہم، بہت سے طلباء اور اپوزیشن کے کچھ اراکین نے حکومت کے اس دعوے کا مقابلہ کیا ہے کہ وہ طلباء کو واپس لانے کے لیے مناسب مدد فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اپوزیشن ارکان نے یوکرین میں پریشان حال طلباء کی ویڈیوز شیئر کی ہیں جو شکایت کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے ان کی مدد نہیں کی۔ کئی طلباء نے مودی حکومت کی عوامی رابطہ مہم پر سوال اٹھایا ہے، خاص طور پر اس کے ان کو بچانے کے دعووں پر۔ "ہندوستانی حکومت 1,000 ہندوستانی طلباء کو واپس لانے کی تشہیر کر رہی ہے،” ایک طالب علم جس نے پروازیں رکنے سے پہلے یوکرین چھوڑ دیا تھا نے کہا۔ یہ تمام کوششیں ملک کی مغربی سرحد پر مرکوز ہیں۔ طالب علم نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کے مشرقی علاقوں میں ہزاروں طلباء کا کیا ہوگا؟ ایک اور طالب علم نے زمین پر پی آر اور اصل کام کے درمیان فرق کے بارے میں یہ کہہ کر شکایت کی کہ اہلکار ہمیں ہوائی اڈے پر گلاب دے رہے ہیں۔ لیکن جب یہ طلباء سرحدوں پر پھنسے ہوئے تھے تو کوئی انہیں بچانے نہیں آیا۔ ایک غیر معمولی اقدام میں، ہندوستانی وزارت خارجہ نے حکومت اور میڈیا کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جو اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں کہ روس نے طلباء کو نکالنے کی ہندوستان کی درخواست پر چھ گھنٹے کے لیے جنگ روک دی۔ مختصر یہ کہ یوکرین پر روس کے حملے نے ہندوستانی خارجہ پالیسی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دو دوستوں، امریکہ اور روس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور، نئی دہلی کا جھکاؤ پوٹن کی طرف ہے۔ اس نے اب تک اقوام متحدہ کے کسی بھی ووٹ سے پرہیز کیا ہے جو روسی حملے پر تنقید کرتا ہے۔ بڑی حد تک، مودی کی خارجہ پالیسی کا موقف ہندوستان کے مفادات سے متعلق عملی عوامل پر مبنی ہے۔

    ہندوستان کی نازک سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر ، اس کے ہتھیاروں کی سپلائی چین کو فعال رہنا چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک کا 80 فیصد فوجی سازوسامان روس سے ہے جو سرد جنگ کی میراث ہے۔ ہندوستان میں یہ عالمی تبدیلیاں بی جے پی کے لیے بری خبر ہیں، یہ دیکھتے ہوئے کہ پارٹی نے گزشتہ سات سالوں سے مودی کی ساخت کو مقامی طور پر بہتر بنانے کے لیے خارجہ پالیسی کا استعمال کیا ہے۔ مودی کے دور میں خارجہ پالیسی کو ایک عوامی، مقبول اور انتخابی ٹول میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مثالوں میں سابق صدر ٹرمپ کے ساتھ حامیوں سے بھرے اسٹیڈیم میں پاکستان میں 2019 کے فضائی حملوں کو لوک سبھا انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے ایک اہم تختے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مشترکہ طور پر پیش ہونا شامل ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ اس وقت بھارت کے لیے جوڑ توڑ کی جگہ تنگ ہے، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مودی ماضی کی زبردست خارجہ پالیسی کی چالوں کو دہرائیں گے۔ درحقیقت، اتر پردیش میں، پی ایم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یوکرین سے طلباء کا انخلا ان کی قیادت میں دنیا بھر میں ہندوستان کی بڑھے ہوئی اہمیت کی وجہ سے تھا۔ پاکستان کے ساتھ 2019 کے تصادم کے مقابلے میں، یہ ایک قدرے تناؤ والا نقطہ ہے جس نے جذبات کو جنم دیا۔غیر ملکی مبصرین کی طرف سے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت پر مسلسل تنقید سے مودی کو بھی نقصان پہنچے گا، جنہوں نے اپنے آپ کو ایک سیاست دان کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کی دنیا میں تعریف کی گئی ہے۔

    پچھلے ہفتے، بی جے پی نے اس غلط تاثر کا پرچار کیا کہ مودی نے اکیلے ہی روس کو قائل کیا کہ وہ چھ گھنٹے کے لیے اپنی مہم روک دے تاکہ ہندوستانیوں کو یوکرین کے جنگ زدہ شہروں سے نکالا جائے۔ یہ خیال ایک ایسا خیال تھا جس کی عوامی سطح پر وزارت خارجہ نے بھی تردید کی تھی۔ بھارت کی عدم شرکت کو ایک نااہل، تیسری دنیا کے ملک کی جانب سے صوبائی ردعمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ ایک پریشان کن رجحان ہے، بی جے پی کے دعووں کے پیش نظر کہ مودی نے ہندوستان کو "وشوا گرو” میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے تحت پوری دنیا رہنمائی کی طرف دیکھ رہی ہے۔یہاں تک کہ جب وہ ایک دوسرے پر ہندوستانیوں کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے ہیں، روس اور یوکرین نے بھی ہندوستانی طلباء کو واپس لانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ روس نے کہا ہے کہ وہ "روس جانے والے مختصر ترین راستے کے ساتھ انسانی ہمدردی کی راہداری کے ذریعے” ہندوستانی طلباء کے فوری انخلاء کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ روس سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر، ہندوستانی حکام نے یوکرین کے شہر کھرکیو میں طلباء سے کہا کہ وہ تین محفوظ علاقوں میں چلے جائیں۔ ہندوستان میں نامزد روسی سفیر ڈینس علی پوف نے بھی وعدہ کیا ہے کہ روس ہندوستان کے ساتھ تفصیلات کو شیئر کرے گا اور اسے پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔

    یوکرین میں بھارتی طلبا کے ساتھ بدسلوکی،ویڈیو وائرل،مودی پر اپوزیشن کی تنقید

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

    روسی حملے کے بعد کیف میں بچے نے باتھ روم میں پناہ لے لی

    یوکرین اورروس کے درمیان امن مذاکرات شروع،یوکرینی صدر نے بڑا مطالبہ کر دیا

    یوکرین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ ہندوستانی طلبہ کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، وہ پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کے مسئلے کو استعمال کرتے ہوئے روس سے اپنی جارحیت کو روکنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ یوکرین نے اپنے بیان میں کہا کہ طلباء کی مدد روسی جنگ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ روسی بمباری اور میزائل حملوں کا نشانہ بننے والے شہروں کے ذریعے انخلاء کا انتظام کرنے کی کوشش انتہائی خطرناک ہے۔ دریں اثنا، ہندوستانی طلباء نے الزام لگایا ہے کہ یوکرائنی حکام تعاون نہیں کررہے ہیں۔ طلباء نے درحقیقت یہاں تک کہا ہے کہ یوکرین کی مسلح افواج نے ان پر حملہ کیا اور انہیں ٹرینوں میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم یوکرین نے کسی قسم کے امتیازی سلوک کے الزامات کی تردید کی ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان اس داستانی جنگ کا مقصد ہندوستانی حمایت حاصل کرنا ہے۔ اب تک، ہندوستان روسی حملے پر اقوام متحدہ میں تینوں قراردادوں پر ووٹنگ سے باز رہا ہے۔ ان میں سے دو قراردادوں میں روس کے حملے پر تنقید کی گئی اور ایک قرارداد میں اس بحران پر بحث کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا۔ اس طرح ہندوستان کا موقف واضح طور پر روس کی طرف جھک گیا ہے۔ بدلے میں، ہندوستانی طلباء کی حفاظت ایک نازک مسئلہ بن گیا ہے جس پر اب یوکرین اور روس نئی دہلی پر فتح حاصل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔اس سے قبل، دیگر ممالک کے علاوہ ہندوستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر نے کہا تھا کہ حکومتوں کو یوکرین میں اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے جنگ ختم کرنے کے لیے روس کے خلاف ووٹ دینا چاہیے تھا۔

  • ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    23 سالہ جرمن لڑکی ہوائی جہاز سے شدی کی‌ خواہشمند ہے ہوائی جہاز سے محبت کرنے والی عورت کا اصرار ہے کہ اس کی خواہش پسندیدگی کی پرواز نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی : "نیویارک پوسٹ” کے مطابق جرمنی کی رہائشی سارہ روڈو کا کہنا ہے کہ وہ طیاروں کی طرف جنسی کشش محسوس کرتی ہیں اور ایک اپنے ہی ایک کھلونے طیارے سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔

    روڈو کا اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ اس کا پسندیدہ طیارہ بوئنگ 737 ہے، جس پر وہ جتنی بار ہو سکے پرواز کرتی ہے۔ اس کے پاس گھر میں ہوائی جہاز کے 50 سے زیادہ ریپلیکا ماڈلز موجود ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ ان میں سے ایک سے شادی کر لے حالانکہ یہ جرمنی میں غیر قانونی ہے۔

    یوکرین روس جنگ میں ایک اور صحافی جاں بحق

    روڈو اپنے پسندیدہ ہوائی جہاز کے ماڈل کو “ڈکی” کہتی ہیں اور اسے اپنا بوائے فرینڈ مانتی ہیں روڈو خود کو Objectum Sexual کے طور پر شناخت کرتی ہیں، یعنی وہ بے جان اشیاء کی طرف جنسی طور پر راغب ہیں۔ وہ ماضی میں ایک ٹرین کے عشق میں بھی گرفتار ہوچکی ہیں اس نے کہا کہ مردوں کے ساتھ ماضی کے رومانس نے اسے بلند نہیں کیا۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    جب ان سے پوچھا گیا کہ طیارے میں انہیں خصوصی طور پر کیا اچھا لگتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے سب کچھ پسند ہے لیکن خاص طور پر ہوائی جہاز کا ’چہرہ‘، اُس کے پر اور انجن مجھے ’پُرکشش‘ لگتے ہیں-

    ڈرون سے خط،پارسل پہنچانے کا کامیاب تجربہ

  • "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاطینی امریکی ملک چلی میں ’پڑ دادا‘ کے نام سے جانا جانے والے قدیم الیئرس کا درخت 5000 سال سے زیادہ پُرانا ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق چلی کے ایلریس کوسٹیرو نیشنل پارک میں واقع Patagonian Cypress قسم کے ایک درخت کو دنیا کا سب سے قدیم درخت سمجھا جارہا ہے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس درخت کی عمر 5484 سال سے زیادہ ہوسکتی ہے اور اسی وجہ سے اسے گریٹ گرینڈ پا کا نام بھی دیا گیا ہے۔

    سائنس دانوں کی جانب سے درخت کے تنے مین موجود چھلوں کا معائنہ کر کے درخت کی عمر کا تعین نہیں کیا جاسکا کیوں اس کے تنے کے غیر معمولی جسامت کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک نتیجہ جو وہ اخذ کر سکے وہ یہ کہ یہ درخت دنیا کا سب سے قدیم درخت ہے۔

    عام طور سے درخت کے تنے میں موجود چھلوں کو گننے کے لیے ایک میٹر لکڑی کا سلینڈر تنے سے نکالا جاتا ہے لیکن اس قدیم درخت کے تنے کا قطر چار میٹر کا ہے ڈاکٹر جوناتھن نے بتایا کہ اس طرح کے بڑے درخت میں رنگ کے ذریعے عمر کا تعین کرنا ممکن نہیں، مگر اس سائنسی مسئلے پر اب قابو پالیا گیا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ سائنس دان جونیتھن بیرِیچِیوچ کا کہنا تھا کہ درخت سے حاصل کیے گئے نمونے اور عمر کا تعین کرنے والے دیگر طریقہ کار یہ بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5 ہزار 484 برس تک ہے اگر اس عمر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کیلیفورنیا میں موجود پائن کے ایک درخت سے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لے گا جس کی عمر 4853 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ ہمیں بتاتا ہے کہ نمو کے تمام ممکنہ اطوار کے 80 فی صد امکانات یہی بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5000 ہزار سے زیادہ ہے۔ صرف 20 فی صد امکانات یہ ہیں کہ درخت اس سے کم عمر کا ہے۔

    اس مقصد کے لیے انہوں نے 2020 کے شروع میں ایک خصوصی ڈرل سے نمونے لیے تھےعموماً کسی درخت کی عمر کا اندازہ اس کے تنے پر موجود رِنگز کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، یعنی ہر سال ایک رِنگ بن جاتا ہے۔

    جونیتھن نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں لوگ اس درخت کو دیکھنے آتے ہیں، اس کی جڑوں پر پیر رکھتے ہیں اور تنے کی چھالیں لے کر جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے چڑیا گھر میں جانور ناقابلِ برداشت حالات میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہو۔

    ان کو امید ہے کہ لوگ ضرور اس متعلق سوچیں گے کہ 5000 ہزار سال زندہ رہنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، اس جگہ اپنی زندگیوں کو رکھیں گے اور موسمیاتی تغیر کے نکتہ نظر سے سوچیں گے۔

    Patagonian Cypress قسم کے درخت چلی اور ارجنٹینا میں ہی پائے جاتے ہیں جو 70 میٹر تک بلند اور 5 میٹر تک چوڑے ہوسکتے ہیں مگر چلی میں اس قسم کے درختوں کو بقا کا خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ درختوں کی کٹائی اور اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں ہیں۔

  • تمباکو، ماحولیات، معیشت اور صحت عامہ کو لاحق خطرات،ڈاکٹر ضیا الدین اسلام

    تمباکو کی وبا صحت عامہ کے سب سے اہم خطرات میں سے ایک ہے جس کا سامنا انسانی نسل کو کرنا پڑا ہے، ایک سال میں عالمی سطح پر 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے ٧ ملین سے زیادہ اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 12 لاکھ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کی شرکاء ریاستوں نے تمباکو کی وبا اور اس سے ہونے والی قابل روک تھام موت اور بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1987 میں تمباکو کا عالمی دن منایا۔ 1987 میں عالمی صحت اسمبلی نے قرارداد ڈبلیو ایچ اے 40.38 منظور کی جس میں 7 اپریل 1988 کو "تمباکو نوشی نہ کرنے کا عالمی دن” بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ 1988 میں قرارداد ڈبلیو ایچ اے 42.19 منظور کی گئی جس میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا۔
    اس سال عالمی یوم تمباکو 2022 کا موضوع "ماحولیات کا تحفظ” ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تمباکو اپنے پورے زندگی کے چکر میں کرہ ارض کو آلودہ کرتا ہے اور تمام لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    محققین نے انکشاف کیا کہ سیگریٹ فلٹرز سیلولوز ایسیٹیٹ سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پلاسٹک صرف شدید حیاتیاتی حالات میں تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کہ جب فلٹر سیوریج میں جمع ہوتے ہیں۔ عملی طور پر سگریٹ کے بٹ سڑکوں، دفاتر میں پھینکے جاتے ہیں ،اور پارکوں میں ان کی حیاتیاتی تنزلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سازگار حالات میں، سگریٹ کے بٹ کو ختم ہونے میں کم از کم نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ سورج سگریٹ کے بٹوں کو توڑ سکتا ہے ، لیکن صرف فضلے کے چھوٹے ٹکڑوں میں جو پانی/ مٹی میں پتلا ہو جاتا ہے۔

    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ مٹی، ساحلوں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کر سکتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ سگریٹ کے بٹ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ زیادہ پھیلاؤ، نالیوں اور وہاں سے دریاؤں، ساحلوں اور سمندروں تک لے جایا جاتا ہے۔ پائلٹ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نامیاتی مرکبات (جیسے نکوٹین، کیڑے مار ادویات کی باقیات، اور دھات) سگریٹ کے بٹوں سے سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہوتے ہیں، جو مچھلی اور خرد حیاتیات کے لئے شدید زہریلے ہو جاتے ہیں۔
    تمباکو کا ابھرتا ہوا، کاروبار، گندا پانی، مٹی، ساحل، پارک، اور کیمیکل، زہریلا فضلہ، سگریٹ کے بٹ، اور مائیکرو پلاسٹک فضلہ کے ساتھ گلیاں. یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تمباکو انسانوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ ماحولیات کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ کے بٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ پانی، ہوا اور زہریلے کیمیکلز، بھاری دھاتوں اور باقی ماندہ نکوٹین کے ساتھ زمین کو آلودہ کرکے ماحول کی قیمت خرچ کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 766,571 میٹرک ٹن سگریٹ کے بٹ ماحول پر برا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو کی ترقی جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ترقی پذیر دنیا میں۔ تمباکو کے باغات کے لئے جنگلات کی کٹائی مٹی کی تنزلی اور "ناکام پیداوار” کو فروغ دیتی ہے ، یا زمین کے لئے کسی بھی دوسری فصلوں یا نباتات کی نشوونما میں مدد کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ تمباکو کی صنعت ہر سال تقریبا ٦٠٠ ملین درختوں کو کاٹ تی ہے۔ اوسطا، ہر درخت سگریٹ کے 15 پیکٹوں کے لئے کافی کاغذ تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کے سب سے منفی اثرات سیلاب، موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کی سلائیڈنگ، زمین کی تنزلی، مٹی کا کٹاؤ اور صحرا سازی ہیں۔ تمباکو کی صنعت کے منفی اثرات او رجنگلات کی کٹائی بھی موسمیاتی تبدیلیوں، صحرا سازی، کم فصلوں، سیلاب، ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے اور مقامی لوگوں کے لئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
    ہر سال پاکستان اپنے جنگلات کا 42 ہزار ہیکٹر یا 2.1 فیصد کھو دیتا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ جنگلات ہے۔ ان کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پانی زندگی کے لئے ضروری عنصر ہے اور جنگلات کی کٹائی ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ضرورت سے محروم کرتی ہے۔ تمباکو کی کاشت میں مسلسل اضافہ زمین پر اس کی مشقت لیتا ہے۔ چونکہ تمباکو نے اپنے غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیا تھا، اس لئے زمین کے ایک پلاٹ پر صرف تین کامیاب بڑھتے ہوئے موسم ہو سکتے تھے۔ پھر زمین کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے تین سال تک پرتی پڑی رہنا پڑی۔ اس سے نئے کھیت کے لئے کافی حد تک ڈرائیو پیدا ہوئی۔ تمباکو کی یہ کاشت مٹی کی زرخیزی اور زیر زمین پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے لئے پائی گئی ہے۔ یہ ملکی معیشت اور ماحولیات پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
    تمباکو کی صنعت، موت کے تاجر، ماحول کو نقصان پہنچا کر آمدنی پیدا کر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور ان فضلوں کو جمع کرنے کی لاگت کی وصولی سمیت فضلے اور نقصانات کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے۔

    2018 میں دنیا کے چھ بڑے سگریٹ سازوں نے 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا منافع (انکم ٹیکس سے پہلے) کمایا۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر منافع ممکن ہے کیونکہ تمباکو کمپنیوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع مارجن ہے. ۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے 2019ء میں اعلان کردہ خالص آمدنی 80.09 ملین امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر 223.06 ملین امریکی ڈالر کے مجموعی منافع کے ساتھ 117.2 امریکی ڈالر ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں ٹیکس وں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ٹی آئی کو اپنے منافع میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1 (جبکہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایم پی کے ایل) نے 31 دسمبر 2021 کو ختم ہونے والے سال کے لئے پی کے آر 2,307 ملین ٹیکس کے بعد منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سالوں کی اسی مدت کے لئے پی کے آر 1,765 ملین کے بعد منافع ہوا تھا۔

    تمباکو کی صنعتوں کو ان کی مصنوعات سے پیدا ہونے والے فضلے کے زبردست حجم اور ان کی مصنوعات کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ ملک کی صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوگی اور ان کی مصنوعات کے منفی ماحولیاتی نتائج کو کم کرنے کے لئے فضلے کی مقدار کو کم کرنے کے لئے مالی جرمانے کے ساتھ مناسب مضبوط ضوابط کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی زہریلے پن اور سگریٹ کے فضلے کو لینڈ فل میں پھینکنے کے خطرات کے بارے میں وکالت اور آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ان مصنوعات کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا تمباکو مصنوعات کے فضلے سے ماحول کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org
    ٹوئٹر: ضیا الدین اسلام

    مصنف این ایچ ایس آر سی کی وزارت کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔