Baaghi TV

Category: متفرق

  • "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد پرانا درخت

    ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لاطینی امریکی ملک چلی میں ’پڑ دادا‘ کے نام سے جانا جانے والے قدیم الیئرس کا درخت 5000 سال سے زیادہ پُرانا ہو سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق چلی کے ایلریس کوسٹیرو نیشنل پارک میں واقع Patagonian Cypress قسم کے ایک درخت کو دنیا کا سب سے قدیم درخت سمجھا جارہا ہے ابتدائی تخمینے کے مطابق اس درخت کی عمر 5484 سال سے زیادہ ہوسکتی ہے اور اسی وجہ سے اسے گریٹ گرینڈ پا کا نام بھی دیا گیا ہے۔

    سائنس دانوں کی جانب سے درخت کے تنے مین موجود چھلوں کا معائنہ کر کے درخت کی عمر کا تعین نہیں کیا جاسکا کیوں اس کے تنے کے غیر معمولی جسامت کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن ایک نتیجہ جو وہ اخذ کر سکے وہ یہ کہ یہ درخت دنیا کا سب سے قدیم درخت ہے۔

    عام طور سے درخت کے تنے میں موجود چھلوں کو گننے کے لیے ایک میٹر لکڑی کا سلینڈر تنے سے نکالا جاتا ہے لیکن اس قدیم درخت کے تنے کا قطر چار میٹر کا ہے ڈاکٹر جوناتھن نے بتایا کہ اس طرح کے بڑے درخت میں رنگ کے ذریعے عمر کا تعین کرنا ممکن نہیں، مگر اس سائنسی مسئلے پر اب قابو پالیا گیا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ سائنس دان جونیتھن بیرِیچِیوچ کا کہنا تھا کہ درخت سے حاصل کیے گئے نمونے اور عمر کا تعین کرنے والے دیگر طریقہ کار یہ بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5 ہزار 484 برس تک ہے اگر اس عمر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کیلیفورنیا میں موجود پائن کے ایک درخت سے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لے گا جس کی عمر 4853 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ طریقہ ہمیں بتاتا ہے کہ نمو کے تمام ممکنہ اطوار کے 80 فی صد امکانات یہی بتاتے ہیں کہ اس درخت کی عمر 5000 ہزار سے زیادہ ہے۔ صرف 20 فی صد امکانات یہ ہیں کہ درخت اس سے کم عمر کا ہے۔

    اس مقصد کے لیے انہوں نے 2020 کے شروع میں ایک خصوصی ڈرل سے نمونے لیے تھےعموماً کسی درخت کی عمر کا اندازہ اس کے تنے پر موجود رِنگز کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، یعنی ہر سال ایک رِنگ بن جاتا ہے۔

    جونیتھن نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں لوگ اس درخت کو دیکھنے آتے ہیں، اس کی جڑوں پر پیر رکھتے ہیں اور تنے کی چھالیں لے کر جاتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے چڑیا گھر میں جانور ناقابلِ برداشت حالات میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہو۔

    ان کو امید ہے کہ لوگ ضرور اس متعلق سوچیں گے کہ 5000 ہزار سال زندہ رہنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، اس جگہ اپنی زندگیوں کو رکھیں گے اور موسمیاتی تغیر کے نکتہ نظر سے سوچیں گے۔

    Patagonian Cypress قسم کے درخت چلی اور ارجنٹینا میں ہی پائے جاتے ہیں جو 70 میٹر تک بلند اور 5 میٹر تک چوڑے ہوسکتے ہیں مگر چلی میں اس قسم کے درختوں کو بقا کا خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ درختوں کی کٹائی اور اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں ہیں۔

  • تمباکو، ماحولیات، معیشت اور صحت عامہ کو لاحق خطرات،ڈاکٹر ضیا الدین اسلام

    تمباکو کی وبا صحت عامہ کے سب سے اہم خطرات میں سے ایک ہے جس کا سامنا انسانی نسل کو کرنا پڑا ہے، ایک سال میں عالمی سطح پر 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے ٧ ملین سے زیادہ اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 12 لاکھ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کی شرکاء ریاستوں نے تمباکو کی وبا اور اس سے ہونے والی قابل روک تھام موت اور بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1987 میں تمباکو کا عالمی دن منایا۔ 1987 میں عالمی صحت اسمبلی نے قرارداد ڈبلیو ایچ اے 40.38 منظور کی جس میں 7 اپریل 1988 کو "تمباکو نوشی نہ کرنے کا عالمی دن” بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ 1988 میں قرارداد ڈبلیو ایچ اے 42.19 منظور کی گئی جس میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا۔
    اس سال عالمی یوم تمباکو 2022 کا موضوع "ماحولیات کا تحفظ” ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تمباکو اپنے پورے زندگی کے چکر میں کرہ ارض کو آلودہ کرتا ہے اور تمام لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    محققین نے انکشاف کیا کہ سیگریٹ فلٹرز سیلولوز ایسیٹیٹ سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پلاسٹک صرف شدید حیاتیاتی حالات میں تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کہ جب فلٹر سیوریج میں جمع ہوتے ہیں۔ عملی طور پر سگریٹ کے بٹ سڑکوں، دفاتر میں پھینکے جاتے ہیں ،اور پارکوں میں ان کی حیاتیاتی تنزلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سازگار حالات میں، سگریٹ کے بٹ کو ختم ہونے میں کم از کم نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ سورج سگریٹ کے بٹوں کو توڑ سکتا ہے ، لیکن صرف فضلے کے چھوٹے ٹکڑوں میں جو پانی/ مٹی میں پتلا ہو جاتا ہے۔

    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ مٹی، ساحلوں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کر سکتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ سگریٹ کے بٹ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ زیادہ پھیلاؤ، نالیوں اور وہاں سے دریاؤں، ساحلوں اور سمندروں تک لے جایا جاتا ہے۔ پائلٹ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نامیاتی مرکبات (جیسے نکوٹین، کیڑے مار ادویات کی باقیات، اور دھات) سگریٹ کے بٹوں سے سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہوتے ہیں، جو مچھلی اور خرد حیاتیات کے لئے شدید زہریلے ہو جاتے ہیں۔
    تمباکو کا ابھرتا ہوا، کاروبار، گندا پانی، مٹی، ساحل، پارک، اور کیمیکل، زہریلا فضلہ، سگریٹ کے بٹ، اور مائیکرو پلاسٹک فضلہ کے ساتھ گلیاں. یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تمباکو انسانوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ ماحولیات کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ کے بٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ پانی، ہوا اور زہریلے کیمیکلز، بھاری دھاتوں اور باقی ماندہ نکوٹین کے ساتھ زمین کو آلودہ کرکے ماحول کی قیمت خرچ کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 766,571 میٹرک ٹن سگریٹ کے بٹ ماحول پر برا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو کی ترقی جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ترقی پذیر دنیا میں۔ تمباکو کے باغات کے لئے جنگلات کی کٹائی مٹی کی تنزلی اور "ناکام پیداوار” کو فروغ دیتی ہے ، یا زمین کے لئے کسی بھی دوسری فصلوں یا نباتات کی نشوونما میں مدد کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ تمباکو کی صنعت ہر سال تقریبا ٦٠٠ ملین درختوں کو کاٹ تی ہے۔ اوسطا، ہر درخت سگریٹ کے 15 پیکٹوں کے لئے کافی کاغذ تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کے سب سے منفی اثرات سیلاب، موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کی سلائیڈنگ، زمین کی تنزلی، مٹی کا کٹاؤ اور صحرا سازی ہیں۔ تمباکو کی صنعت کے منفی اثرات او رجنگلات کی کٹائی بھی موسمیاتی تبدیلیوں، صحرا سازی، کم فصلوں، سیلاب، ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے اور مقامی لوگوں کے لئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
    ہر سال پاکستان اپنے جنگلات کا 42 ہزار ہیکٹر یا 2.1 فیصد کھو دیتا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ جنگلات ہے۔ ان کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پانی زندگی کے لئے ضروری عنصر ہے اور جنگلات کی کٹائی ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ضرورت سے محروم کرتی ہے۔ تمباکو کی کاشت میں مسلسل اضافہ زمین پر اس کی مشقت لیتا ہے۔ چونکہ تمباکو نے اپنے غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیا تھا، اس لئے زمین کے ایک پلاٹ پر صرف تین کامیاب بڑھتے ہوئے موسم ہو سکتے تھے۔ پھر زمین کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے تین سال تک پرتی پڑی رہنا پڑی۔ اس سے نئے کھیت کے لئے کافی حد تک ڈرائیو پیدا ہوئی۔ تمباکو کی یہ کاشت مٹی کی زرخیزی اور زیر زمین پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے لئے پائی گئی ہے۔ یہ ملکی معیشت اور ماحولیات پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
    تمباکو کی صنعت، موت کے تاجر، ماحول کو نقصان پہنچا کر آمدنی پیدا کر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور ان فضلوں کو جمع کرنے کی لاگت کی وصولی سمیت فضلے اور نقصانات کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے۔

    2018 میں دنیا کے چھ بڑے سگریٹ سازوں نے 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا منافع (انکم ٹیکس سے پہلے) کمایا۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر منافع ممکن ہے کیونکہ تمباکو کمپنیوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع مارجن ہے. ۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے 2019ء میں اعلان کردہ خالص آمدنی 80.09 ملین امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر 223.06 ملین امریکی ڈالر کے مجموعی منافع کے ساتھ 117.2 امریکی ڈالر ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں ٹیکس وں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ٹی آئی کو اپنے منافع میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1 (جبکہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایم پی کے ایل) نے 31 دسمبر 2021 کو ختم ہونے والے سال کے لئے پی کے آر 2,307 ملین ٹیکس کے بعد منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سالوں کی اسی مدت کے لئے پی کے آر 1,765 ملین کے بعد منافع ہوا تھا۔

    تمباکو کی صنعتوں کو ان کی مصنوعات سے پیدا ہونے والے فضلے کے زبردست حجم اور ان کی مصنوعات کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ ملک کی صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوگی اور ان کی مصنوعات کے منفی ماحولیاتی نتائج کو کم کرنے کے لئے فضلے کی مقدار کو کم کرنے کے لئے مالی جرمانے کے ساتھ مناسب مضبوط ضوابط کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی زہریلے پن اور سگریٹ کے فضلے کو لینڈ فل میں پھینکنے کے خطرات کے بارے میں وکالت اور آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ان مصنوعات کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا تمباکو مصنوعات کے فضلے سے ماحول کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org
    ٹوئٹر: ضیا الدین اسلام

    مصنف این ایچ ایس آر سی کی وزارت کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:کنول زہرا

    رواں ماہ کی اکیس تاریخ کواسلام آباد پولیس کی جانب سے نے پی ٹی آئی کی رہنما شریں مزاری کو تحویل میں لینے کی اطلاعات نیوز چینلز پر بریک کی شکل میں گردش کرتی رہیں, سابق خاتون وزیر کی گرفتاری زمین کی ملکیت اور منتقلی کی معاملے کے تحت پیش آئی, شریں مزاری کو دن کی روشنی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے گرفتار کیا گیا تاہم ان کی بیٹی کی جانب سے گرفتاری کے لمحات کو یکسر غلط طریقے سے پیش کیا گیا, ایمان مزاری کے مطابق ان کی والدہ کو مرد پولیس اہلکار مارتے پیٹٹے لیکر گئے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہوا, جس کی تین بہت ٹھوس وجوہات ہیں, ایک تو شریں مزاری خاتون ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس قسم کی حرکات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اس قسم کی جرات کر بھی نہیں سکتے ہیں, دوسرے وہ سینئر شہری ہیں, تیسری اور سب سے اہم وجہ وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں, ان تین اہم وجوہات کیں بنا پر پاکستان کا ہر فرد ان کی اور جیسی ہر خاتون کی بہت عزت کرتا ہے جبکہ اسلام خاتون کو مقدم کہتا ہے تو بطور مسلماں ایسا عمل کرنے ہر گز زیب نہیں دیتا ہے اور نہ ہی یہ عمل وقوع پذیر ہوا ہے جس کا واضح ثبوت وہ وائرل ویڈیو  ہے, جس میں شریں مزاری اسلام آباد پولیس کی خاتون اہلکار کی زیر حراست دیکھی جا سکتی ہیں, جس میں کوئی پرتشدد واقعہ ہوتا کہیں نہیں دیکھائی دے رہا ہے البتہ مزاری صاحبہ بہت غصے میں نظر آرہی ہیں, اس ویڈیو کے ذریعے ایمان مزاری کا جھوٹ بے نقاب ہوکر سامنے آیا ہے, پاکستان کے دفاعی ادارے پر بے جا تنقید کرنا ایمان مزاری کی ان عادات کا حصہ ہے جس سے ان کی والدہ بھی نالاں رہی ہیں,  ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر حسب سابق ریاستی اداروں اور فوج کی قیادت کے خلاف بے بنیاد الزامات اور مفروضوں کی بارش شروع کردی اور کہنا شروع کردیا کہ نہ جانے کون میرے ماں کو لے گیا, پتہ نہیں وہ کہاں ہیں,  ایمان مزاری جو پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں انہوں نے ایکبار پھر پاک فوج کی قیادت پر بنا ثبوت کے الزام عائد کیا کہ ان کی والدہ کو اغوا کیا گیا ہے جس کے پیچھے عسکری قیادت کی اعلی شخصیت کا ہاتھ ہے جبکہ اس دوران مذکورہ ویڈیو بھی وائرل ہوچکی تھی اور اینٹی کرپشن کی جانب سے شریں مزاری کی گرفتاری کی تصدیق بھی ہوچکی تھی

    سابق وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی گرفتاری ضلع راجن پور میں تجاوزات سے متعلق کیس کی وجہ سے عمل میں آئی, ان کے خاندان پر صوبائی دارالحکومت لاہور سے 400 کلومیٹر دور ڈی جی خان ڈسٹرکٹ میں 800 کنال (100 ایکڑ) اراضی ہتھیانے کا الزام ہے۔معتدد دہائیوں کی عدالتی تاخیر کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران مارچ 2022 میں اس معاملے میں پولیس کیس درج کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف 11 مارچ 2022 کو شکایت درج کر کے اسسٹنٹ کمشنر راجن پور کو معاملے کو دیکھنے کے لیے کہا گیا,  اے سی نے 8 اپریل 2022 کو کیس کی رپورٹ مرتب کی جس کی بنیاد پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اپنے رولز 2014 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا۔مقدمہ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی درخواست پر درج کیا گیا۔ جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ایف آئی آر درج کی۔

    عوام سے سچ چھپانے کی خواہش کی خاطر ایمان مزاری نے اپنی والدہ کی گرفتاری پر بے بنیاد جھوٹ پر جھوٹ بولے
    ماضی میں شریں مزاری نے ایمان مزاری کی جانب سے فوج پر بے ایمانی اور جھوٹے الزامات لگانے کو اپنے لئے ہتک آمیز  رویے کو قرار دیا تھا, انہؤں نے ایمان مزاری کے پاکستان آرمی کے خلاف ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ آپ ایسے گھٹیا، ذاتی نوعیت کے، غیر مصدقہ حملے کرتی ہیں,بطور وکیل آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے الزامات لگانا مناسب نہیں ہے ۔

    23   مئی 2018 کو شیریں مزاری نے ایمان مزاری سے فوج کے خلاف اپنے بیانات پر کہا، "آپ کو پاک فوج کے خلاف اپنی جنونی نفرت کو چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے تمام عقلیت کھو دی ہے,  میں اپنی اولاد کے گستا خانہ روئیے کو  درست نہیں کہونگی مگر بعد میں انہوں نے اپنی بیٹی کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کی ایمان مزاری نے مارچ 2022 میں پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مسلح افواج کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔جس کا مقدمہ جکوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج کیا گیا تھا،جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیس کی مزید پیروی نہ کرنے کا حکم دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    مذکورہ کیس نے مزاری ماں اور بیٹی کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے, ان کا جھوٹ اور زمینوں پر قبضے کا معاملہ ان کے کمزور کردار اور نام نہاد انسانی حقوق کے دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ پاکستان کے عوام سوال کرتے ہیں کہ
    کیا ایمان مزاری کی طرف سے پاکستان کے معزز ادارے اور اس کی قیادت کو بدنام کرنے پر قانون حرکت میں آئے گا ؟
    پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ایمان مزاری کے ہتک آمیز ریمارکس کے خلاف مناسب تحقیقات ہونی چاہئیں

  • جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

    ٹوکیو: جاپانی شہری نے کتے کی طرح نظر آنے کےلیے 31 لاکھ روپے سے زائد خرچ ڈالے۔

    باغی ٹی وی : دنیا میں ہر شخص کا کوئی نا کوئی خواب ہوتا ہے مگر جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنا دیرینہ خواب پورا کیا جسے جان کر سوشل میڈیا صارفین دنگ رہ گئے۔

    جاپانی شہری نے اپنی خواہش پوری کرنے کےلیے 31 لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کی اور فلموں و اشتہارات کیلئے ملبوسات تیار کرنے والی ایجنسی سے رابطہ کیا۔


    جاپانی شخص نے زیپٹ نامی ایجنسی کی مدد سے کتے کا لباس تیار کروایا جس کی تیاری میں کمپنی کو ایک ماہ سے زائد عرصہ لگا لیکن لباس ایسا کہ پہنے کے بعد جاپانی شہری حقیقت میں کتا لگنے لگا۔

    ایک اندازے کے مطابق اس پورے لباس پر 12 لاکھ ڈالر (2 ملین ین) سے زیادہ لاگت آئی ہے اور اسے بنانے میں 40 دن لگے ہیں-

    جاپانی شخص نے سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شئیر کیں جنہوں نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا ہے۔


    جب اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس نے ایک کولی نسل کا انتخاب کیوں کیا، تو اس نے کہا، "میں نے اسے کولی بنایا ہے کیونکہ جب میں اسے اپنے لباس پر لگاتا ہوں تو یہ اصلی لگتی ہے۔ میرا پسندیدہ quadrupedal جانور ہیں، خاص طور پر پیارے جانور۔ ان میں، میں نے سوچا کہ میرے قریب ایک بڑا جانور اچھا ہو گا-

    جاپانی شخص نے کہا کہ اس پر غور کرتے ہوئے کہ یہ ایک حقیقت پسندانہ ماڈل ہوگا، لہذا میں نے اسے کتا بنانے کا فیصلہ کیا۔ لمبے بالوں والے کتے انسانی شخصیت کو گمراہ کر سکتے ہیں۔ میں نے ایسی حالت کا سامنا کیا اور کولی کو کتے کی اپنی پسندیدہ نسل بنا دیا۔

  • تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سری لنکا کی طرح پاکستان انتہائی چارجڈ سیاسی ماحول اور معاشی بحران کے درمیان دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہے جس کا ملک کو کبھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پاکستان کے لئے مجموعی بیرونی قرضہ 32.74536 امریکی ڈالر ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت نے قدم اٹھانے پر مالی اعانت میں مشکلات کو کم کرنے میں مدد کے لئے اپنے 6 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کی فنڈنگ کے حجم اور مدت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے چین، برادر اسلامی ملک سعودی عرب ا ور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 9.2 ارب ڈالر کا قرض بھی لیا ہے ۔

    اس سے قبل مملکت سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی درآمدات کے لئے موخر ادائیگیوں کے لئے 3 ارب ڈالر کی سہولت کے ساتھ 3 ارب ڈالر کی غیر ملکی کرنسی کی معاونت بھی دی تھی۔ سرکلر ڈیٹ کا موجودہ اسٹاک 5 ٹریلین روپے (14 ارب ڈالر) کے آس پاس ہے۔ پاکستان کو دسمبر 2018 میں متحدہ عرب امارات سے 3 ارب ڈالر کی اقتصادی امداد بھی ملی تھی جبکہ مارچ 2019 میں آل ویدر دوست ملک چین نے 2.2 ارب ڈالر کا قرض دیا تھا۔ چین بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے تحت پاکستان میں 60 ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

    تمباکو عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابقق پنے آدھے صارفین کو ہلاک کرتا ہے۔ تمباکو کا استعمال دنیا میں موت کی واحد سب سے بڑی قابل روک تھام وجہ ہے جس میں ہر سال ٨٠ لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ 70 لاکھ سے زائد اموات تمباکو کے استعمال کے براہ راست نتائج کی وجہ سے ہوتی ہیں جبکہ 12 لاکھ اموات سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تمباکو ہر سال تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار 100 افراد کی موت کا سبب ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کو تمباکو کی صنعت نشانہ بنائے جا رہی ہے تاکہ "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کو بھرتی کیا جا سکے۔ 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریبا 1200 پاکستانی بچے روزانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔
    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے کے مطابق 2014 میں تقریبا 24 ملین (19.1 فیصد) بالغ اس وقت کسی بھی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ اس میں 15.6 ملین (12.4 فیصد) بالغ افراد ہیں جو اس وقت تمباکو پیتے ہیں جن میں 3.7 ملین بالغ افراد پانی کے پائپ، ہکا یا شیشا استعمال کرتے ہیں اور مزید 9.6 ملین (7.7 فیصد) بالغ ہیں جو بغیر دھوئیں کے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔
    تمباکو نوشی کرنے والوں میں غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماری پیدا ہونے کا امکان دو سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود تمباکو کی نمائش کی کم سطح، غیر معمولی تمباکو نوشی یا سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کے ساتھ، ناکافی دل کی صحت کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔ مرد تمباکو نوشی کرنے والوں میں پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کا امکان 23 گنا زیادہ ہوتا ہے اور تمباکو نوشی کرنے والی خواتین پھیپھڑوں کا کینسر ہونے کے امکانات غیر تمباکو نوشی کرنے والوں کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر سے 80-90 فیصد اموات کا سبب بنتی ہے۔
    آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 207.77 ملین اور آبادی اور رہائشی مردم شماری 2017ء تھی۔ جس سے ملک میں نوجوانوں کی کافی زیادہ تعداد ظاہر ہوئی ہے۔

    پاکستان میں ہر سال 14 لاکھ افراد صرف سگریٹ، شہری ہکہ / شیشہ / الیکٹرک ویپس، گٹکا، پین، میوا، نسوار وغیرہ کی وجہ سے منہ کے کینسر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق کینسر کے 100 کیسز میں سے کم از کم 4 کیسز پاکستان میں منہ کے کینسر کے ہیں۔ جب ہم زبانی سرطان کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے جو بات ذہن میں آتی ہے وہ تمباکو نوشی ہے۔ پاکستان میں جہاںایگلر فوڈ اور دیگر استعمال کی اشیاء گزشتہ پانچ سالوں میں اوسطا 60 سے 80 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہیں، بدقسمتی سے سگریٹ کے ایک پیکٹ کی کم از کم قیمت یکساں رہی۔

    انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ اینڈ پالیسی یو آئی سی کی جانب سے شائع کردہ تمباکو اکنامکس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تمباکو کے ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی اور کمی نہیں کی جا سکی ، پاکستان ٹوبیکونومیکس سگریٹ ٹیکس اسکور کارڈ میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک میں شامل ہے جو ٹیکس نظام کی طاقت کا جائزہ لیتا ہے، مجموعی طور پر ٹیکس نظام کا اسکور پانچ نکاتی پیمانے پر ایک سے بھی کم ہے۔

    بدقسمتی سے پاکستان میں سگریٹ زیادہ سستے ہوگئے ہیں کیونکہ تمباکو کے ٹیکس کم ہیں اور جولائی ٢٠١٩ کے بعد سے اس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ پاکستان میں ایکسائز ٹیکس کی اوسط شرح اس وقت خوردہ قیمت کا تقریبا 45 فیصد ہے جو کہ 70 فیصد کے وسیع پیمانے پر قبول شدہ بینچ مارک کے مقابلے میں ہے۔ عالمی بینک کی سفارش کے مطابق سگریٹ پر وفاقی ایکسائز ٹیکس وں کو 30 فیصد تک ختم کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے کم ہوں گے اور ایکسائز ٹیکس کی آمدنی میں کم از کم 25 فیصد اضافہ ہوگا۔

    لہذا عالمی بینک کی سفارش کی تعمیل میں پاکستان میں موجودہ ٹیکس کے تناسب کا 30 فیصد بڑھانے کا مطلب ہےکہ ؛ سگریٹ پر تمباکو ایکسائز 43 روپے اور زیادہ قیمت والے سگریٹ پر 135 روپے تک فروخت کرنے کے نتیجے میں 2لاکھ کم تمباکو نوشی کرنے والے، تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں 1.2 فیصد کمی، بالغ تمباکو نوشی کرنے والوں میں تمباکو نوشی کی شدت میں 1.23 فیصد کمی، 71 ہزار 900 جانیں بچگئیں، پاک کو اضافی کل فیڈ آمدنی میں 27.4 ارب روپے کا اضافہ ہوگا یعنی کم از کم 25.1 فیصد اضافہ

    حال ہی میں پی آئی ڈی ای کی جانب سے جاری کردہ "پاکستان میں تمباکو سے متاثرہ بیماریوں کی اقتصادی لاگت” چونکا دینے والے اور آنکھیں کھولنے والے اعداد و شمار سے پردہ اٹھاتی ہے۔ پاکستان میں 2019 ء کے لئے تمباکو نوشی سے متعلق تمام بیماریوں اور اموات کی وجہ سے مجموعی اخراجات 615.07 ارب روپے (3.85 ارب ڈالر) ہیں۔ یہ تعداد تمباکو کی صنعت سے پاکستان میں موصول ہونے والے تمباکو ٹیکس سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ (71 فیصد) کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں سے آتا ہے۔ تمباکو نوشی سے منسوب کل اخراجات جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہیں جبکہ کینسر، قلبی اور سانس کی بیماریوں کے تمباکو نوشی سے منسوب اخراجات جی ڈی پی کا 1.15 فیصد ہیں”۔

    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ ٹیکس تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا حقیقی ذریعہ ہیں۔ تمباکو کا استعمال بڑے پیمانے پر آبادی پر کافی معاشی بوجھ پیدا کرتا ہے۔ تمباکو سے متعلق بیماری سے منسلک صحت کے زیادہ براہ راست اخراجات اور قبل از وقت جانی نقصان، تمباکو سے متعلق بیماری کی وجہ سے معذوری اور پیداواری نقصانات سے متعلق زیادہ بالواسطہ اخراجات تمباکو کے استعمال کی نمایاں منفی خارجیت پیدا کرتے ہیں۔

    لہٰذا یہ ایک قائم شدہ حقیقت ہے کہ "تمباکو کے ٹیکسوں میں اضافے سے تمباکو کے استعمال میں کمی آتی ہے۔” درحقیقت تمباکو پر ٹیکس بڑھانا تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ جیسا کہ ایف سی ٹی سی نے تقویت دی ہے کہ "مؤثر تمباکو ٹیکس نہ صرف کم کرتے ہیں ،کھپت اور پھیلاؤ میں کمی کے ذریعے خارجیت لیکن تمباکو کے استعمال سے وابستہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے لئے حکومتوں کے اخراجات میں کمی لانے میں بھی معاون ہے۔ ”

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔
    یہ سفارشات تکنیکی گواہی، بہترین طریقوں اور ان ممالک کی تفہیم پر مبنی ہیں جنہوں نے تمباکو پر قابو پانے کی پالیسیوں کو ان طریقوں سے موثر طریقے سے نافذ کیا ہے جن سے ان کے عوام کی صحت بہتر ہوئی ہے۔ ایف سی ٹی سی کا آرٹیکل ٦ رکن ممالک کو تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لئے ٹیکس اور قیمتوں کی پالیسیاں اپنانے کا پابند کرتا ہے۔ قیمتیں سگریٹ کے استعمال کے اقدامات سمیت عملا تمام اجناس کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے فی کس کھپت، تمباکو نوشی کی شرح اور روزانہ سگریٹ پینے والوں کی تعداد بھی متاثر ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹیجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org

    مصنف وزارت قومی صحت پاکستان کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔

  • مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    گذشتہ ہفتے گھرکاسودا سلف خریدنے کیلئے میں بازارجاناہوا جہا ںمہنگائی کاسونامی آیا ہوا تھا ،اشیائے ضروریہ کی قیمتیں سن کر ہاتھوں کے طوطے اڑگئے ۔اس ہوشرباء مہنگائی کی وجہ سے جسم وجاں کارشتہ برقراررکھنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے ،اپنے بجٹ کے مطابق خریدا ری کررہاتھاتواس دوران سگریٹ ڈسٹری بیوٹرکا ایک رکشہ ڈبہ آکررکا جس پر سے دونوجوان سیلزمین اترے ایک دکان کے اندرچلاگیا دوسرے نے کچھ پوسٹراٹھائے اور دکانوں کی دیواروں انہیں لگاناشروع کردیا،کچھ دیر کیلئے میں سودا سلف لینا بھول گیا اور سگریٹ کے پوسٹر لگانے والے کودیکھنے لگا جب اس نے دیوارپر پوسٹرچپکا لیا تو مجھے اس وقت شدید حیرت کااحساس ہوا،اس پوسٹرپر ایک نئے برانڈ کی 20سگریٹ کی ڈبی دکھائی گئی تھی جس کی قیمت صرف 30روپے درج تھی ،جس سے ایک جھٹکاسالگا،اس مہنگائی کے دور میں ایک سگریٹ کی ڈبی صرف 30روپے میں نوجوانوں کودی جارہی تھی جو 20 سگریٹ پرمشتمل تھی۔پاکستان میںآٹا،چینی ،دالیں ،سبزیاں ،ادویات سمیت ضرویات زندگی کی ہرچیزمہنگی ہے مگراس مہنگائی کے دور میں سگریٹ کاسستاہونابہت سے سوالات کوجنم دیتا ہے کہ سگریٹ اتنے سستے کیوں بیچے جارہے ہیں ۔۔؟

    اگرباقی دنیاسے سگریٹ کی قیمتوں کاتقابلی جائزہ لیاجائے تودنیامیں سب سے مہنگے سگریٹ سری لنکامیں ہیں جہاں سگریٹ کی ایک ڈبی کی قیمت نوڈالرکے قریب ہے اورپاکستان میں سگریٹ اتناسستاہے کہ 20سگریٹ ایک ڈبی کی قیمت صرف 30پاکستانی روپے ہے ،سگریٹ کی قیمت کم ہونے کی وجہ ایکسائزٹیکس کاکم ہونایا صحیح لاگونہ ہوناہے اورسگریٹ کی غیرقانونی سمگلنگ کانہ رکنے سلسلہ بھی اس میں شامل ہے ۔ نئی حکومت کو سگریٹ نوشی کے معاملے کوسنجیدہ لینا چاہئے ،سگریٹ پر بھاری ایکسائزٹیکسز لگاکرٹیکس وصولی پرعملدآمدکرائیں ،ٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کے استعمال میں کمی ممکن ہو گی اورتمباکونوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی ہماری نوجوان نسل بھی ہلاکت سے بچ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں درست فیصلہ سازی کی اشد ضرورت ہے۔ قومی خزانے کو درپیش خسارہ پالیسی سازوں کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ملکی خزانے کو دیرپا مدد نہیں کر سکتا۔ حکومت کو غیر ضروری اور مضر صحت اشیا جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف محصولات بڑھیں گی بلکہ صحت کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی،ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تمباکو انڈسٹری کی جانب سے کی گئی کثیر خرچ مہمات اور گمراہ کن اشتہارات ومعلومات سے متاثر ہو کر پاکستان کے ارباب اختیار اور پالیسی سازوں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کیونکہ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں انہیں ہمیشہ راضی رکھتی ہیں،اس لئے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ سگریٹ کی آسان دستیابی اور سستی ہونے کی وجہ سے پاکستان میںتمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 2.9 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔تمباکو نوشی کرنے والے افرادکئی قسم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 170,000 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اس شخص کے لیے مضرہے جو اِس کی عادت کا شکار ہے بلکہ ان افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے موت کی چھ وجوہات تمباکو نوشی کی وجہ ہیں۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔

    ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہاتو2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ایک آدمی جو ایک سگریٹ پیتاہے تواس کی زندگی کے پانچ سے11منٹ کم ہوجاتے ہیں۔مجموعی طور پر ایک فرد سگریٹ نوشی کرکے اپنی زندگی کے 12سال کم کردیتا ہے۔ اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہونے والے 25فیصد افراد اور پھیپھڑوں کے کینسرزدہ 75فیصد افراد کی ہلاکت کا براہ راست تعلق سگریٹ نوشی ہوتاہے دوسری طرف تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف ایک فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔

    سگریٹ نوشی بچوں کی صحت پر براہ راست اثرات مرتب کرتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔ دوسری طرف اقتصادی ماہرین کاکہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے کئی منفی اثرات ہوتے ہیں جیسا کہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات اور تمباکو سے منسوب بیماریوں کی وجہ سے صارفین کی پیداواری صلاحیت میں کمی۔ دوسری طرف 2019 میں تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی 120 ارب تھی جو تمباکو نوشی کی کل لاگت کا تقریبا صرف 20 فیصد ہے،ماہرین کا یہ بھی کہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے صحت اور معاشی اخراجات ٹیکس کی وصولیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ اگرچہ تمباکو کی صنعت سطحی طور پر ایک بڑی ٹیکس دینے والی صنعت ہے لیکن تمباکو کی صنعت کا ادا کردہ ٹیکس تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ٹیکس قانون مارکیٹ میں فروخت ہونے والے تمام سگریٹ پر لاگو کردیا جائے تو حکومت کو سالانہ 200 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس مل سکتا ہے جبکہ اس وقت حکومت کو سالانہ 114 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہورہا ہے۔ موجوہ نظام میں غیر قانونی سگریٹ کی سستے داموں پر فروخت تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ماہرین کایہ بتاناہے کہ تمباکو پر ٹیکس سب سے زیادہ کفایتی تمباکو کنٹرول اقدام ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس سگریٹ نوشی کے آغاز کو روکتا ہے، سگریٹ کا استعمال کم کرتا ہے، اور یہاں تک کہ تمباکو نوشی چھوڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ تمباکو پر ٹیکس لگانے میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔ موجودہ حکومت کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر عوام اور ملکی معیشت کی مدد کی جائے۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30% اضافہ کیا جائے تواس سے ایک طرف اضافی ریونیو حاصل ہوگا دوسراسگریٹ کی قیمتیں زیادہ ہونے سے ہماری نوجوان نسل تباہی سے بچ جائے گی اورسگریٹ سے حاصل شدہ ریونیو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

  • سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    سعودی اور ایران دوستی کی جانب؟ تحریر:عفیفہ راؤ

    عربی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ گھر کا انتخاب کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا ہمسایہ کیسا ہوگا کیونکہ ایک اچھا ہمسایہ آپ کے لئے رحمت اور ایک برا ہمسایہ آپ کے لئے بہت بڑی زحمت بن سکتا ہے۔لیکن جب ہم Globally
    دیکھتے ہیں تو ممالک کے پاس یہ آپشن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہمسائے کا انتخاب کر سکیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کئی ایسے تنازعے ہیں جو کہ مختلف ہمسایوں کے درمیان ہیں جس میں ایک مثال پاکستان اور انڈیا کی ہے اس کے علاوہ فلسطین اور اسرائیل ہیں ساوتھ کوریا اور نارتھ کوریا ہیں۔ ایسے میں صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے کہ آپ کو ہر حال میں ان کے ساتھ رہنا ہے جس کی وجہ سے کبھی ان ہمسایوں کے درمیان شدید لڑائی کا ماحول ہوتا ہے تو کبھی یہ اپنے مفادات کے لئے ایک دوسرے کی جانب صلح کا ہاتھ بڑھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں تاکہ معاملات کسی نہ کسی طرح چلتے رہیں۔
    اور ایسا ہی کچھ معاملہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی ہے۔ کئی دہائیوں تک یہ دونوں ممالک آپس میں لڑتے رہے ہیں لیکن اب یہ ان لڑائیوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں سفارتی سطح پر کئی ایسی ملاقاتیں ہوئیں ہیں جو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ چند ماہ پہلے تین ایرانی سفارت کار اسلامی تعاون تنظیم میں ذمہ داری سنبھالنے سعودی عرب بھی گئے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے بھی کئی ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔

    تہران وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مسلم دنیا اور خطے کے دو اہم ملک سعودی عرب اور ایران علاقائی امن، استحکام اور ترقی کی خاطر تعمیری مذاکرات کا سلسلہ شروع کر سکتے ہیں۔
    اسی تناظر میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا یہ بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک یعنی سعودی عرب صدر ریئسی کی انتظامیہ کی کاوشوں کو زمینی حقائق میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ایسا کیوں ہو رہا ہے؟؟
    اب ان دونوں ممالک کو یہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ تعلقات کو بہتر کیا جائے؟؟ماضی میں یہ کیوں آپس میں لڑتے رہے ہیں؟؟کیا ان کی لڑائی مذہبی تھی سیاسی تھی یا دونوں فیکٹر تھے؟؟

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان ظاہری اختلاف تو ان کے فرقوں کی وجہ سے ہے سعودی عرب کا تعلق سنی فرقے سے ہے جبکہ ایران کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ ممالک اپنے تعلقات صرف فرقوں کی بنیاد پر نہیں بناتے اور نہ ہی فرقوں کی وجہ سے تعلقات خراب کرتے ہیں۔عالم اسلام پر یا دنیائے عرب پر ایک نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ سعودی عرب جو ایران کو ایک شیعہ ملک کہہ کر اس کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجہ پیش کیا کرتا تھا اس کے سنی ممالک سے بھی شدید گہرے اختلافات ہیں۔ترکی شیعہ ملک نہيں ہے لیکن اس کے ساتھ سعودی عرب کے اختلافات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔یمن شیعہ ملک نہیں ہے لیکن سعودی عرب نے اس پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔دوسری جانب ایران کو اگر دیکھا جائے تو جہاں سعودی عرب کے ساتھ اس کے اختلافات رہے ہیں وہیں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔فلسطینی تنظیموں کے ساتھ ایران کے تعلقات کا معاملہ تو اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں فلسطینی تنظیموں کو ایران کی مکمل مدد حاصل رہی ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں ہمیشہ ہی یا ہر ایک بات پر ہی اختلافات نہیں رہے ہیں بلکہ کئی موڑ ایسے بھی آئے ہیں جب دونوں مل کر چلتے رہے ہیں۔جس کی ایک مثال امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی جنگ کی ہے جس میں سعودی عرب اور ایران دونوں نے امریکہ کی مدد کی تھی تاکہ روس کو خلیجی ممالک تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

    اس کے بعد 1960میں جب مصر نے یمن میں چھیڑ چھاڑ شروع کی اس وقت بھی ریاض اور تہران نے مل کر یمن میں شیعہ فرقے کے لوگوں کی مدد کی تھی۔اس وقت تک یہ دونوں ممالک Regional security کے لئے امریکہ کے Twin pilars
    کہلائے جاتے تھے۔ اور ان کے آپس میں بہت گہرے سیاسی اور سفارتی تعلقات تھے۔1978تک جب ایران میں رضا پہلووی کی حکومت تھی اور سعودی عرب میں King khalidکی حکومت تھی دونوں ممالک کے بہترین تعلقات تھے ان کے درمیان مختلف موقعوں پر ملاقاتیں بھی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان دونون نے اپنے اپنے ممالک کو Modrenizeکرنے کے لئے آپس میں مل کر کئی پروگرام بھی شروع کر رکھے تھے۔لیکن صرف ایک سال بعد ہی سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ 1979میں جب ایران میں انقلاب نے سر اٹھایا اور اہل تشیعہ لوگ جو کہ اکثریت میں تھے انھوں نے آیت اللہ خمینی کی سربراہی میں رضا پہلوون کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اور ایران جو کہ ایک سیکولر اور ماڈرن ملک تھا اس کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔اور اسی سال
    1979میں ہی سعودی عرب مین بھی تبدیلی آئی جب مکہ پر شدت پسندوں نے حملہ کیا اور سعودی عرب بھی ماڈرن ازم سے واپس اپنے Tribal systemاور بنیاد پرستی کی طرف مڑ گیا۔اور بات یہاں تک ہی نہیں رکی بلکہ ایران نے اپنے فرقے کے نظریات اور سعودی عرب نے اپنے نظریات کو اپنے بارڈر سے باہر دوسرے ممالک تک پھیلانا اور ان پر اثر انداز ہونا بھی شروع کر دیا۔

    اور یہ ان کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ دونوں کے پاس ایسا کرنے کے لئے وافر وسائل بھی موجود تھے۔لیکن ان کی ایک مزوری بھی تھی جو کہ بعد میں تمام خرابی کی جڑ بنی۔اور وہ کمزوری ان کی مذہبی اور Ethnic minorities
    تھیں اور مشکل یہ تھی کہ یہ اقلیتیں ان ممالک کے ان صوبوں میں آباد تھیں جو کہ تیل کے وسائل سے مالا مال تھے۔
    سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شیعہ فرقے کے لوگ بڑی تعداد میں آباد تھے۔ اسی طرح ایران کے صوبے خوزستان میں سنی آبادی کی اکثریت تھی۔ اور اسی صوبے میں ایران کے 80%تیل کے ذخائر بھی موجود تھے۔ اب ایران کو خطرہ یہ تھا کہ کہیں ان کے سنی لوگ سعودی عرب سے تعلق بڑھا کر ان کے ساتھ نہ مل جائیں اور ان کی حکومت کے لئے مشکلات نہ کھڑی کر دیں اور سعودی عرب کو بھی یہی ڈر تھا کہ ان کی شیعہ اقلیت ایران کے ساتھ مل کر حالات خراب کر سکتی ہے اس لئے ان دونوں ممالک کے لوگوں نے ان اقلیتوں کو کنٹرول کرنا اور دبانا شروع کر دیا۔ تاکہ ان کے وسائل کو کوئی خطرہ نہ ہو۔اور یہی بات فرقہ وارانہ تضادات کی بھی وجہ بنی۔ اور ان تضادات کو ختم کرنے یا ان کا کوئی حل نکالنے کی بجائے ان کو سیاسی مقاصد کے لئے ہوا دی جاتی تھی اور فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ اور آہستہ آہستہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ یہ فرقہ وارانہ تضادات ان دونوں ممالک سے نکل کرآس پاس کے ممالک میں بھی پھیل گیا۔ پاکستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات بھی اسی کی ایک مثال ہیں۔ دونوں فرقے کے لوگوں کے درمیان جب بھی حالات خراب ہوتے تو یہ ممالک اپنے اپنے فرقے کو سپورٹ کرتے اور معاملہ مزید الجھتا۔ اور2011میں ہونے والی عرب سپرنگ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو اختلافات تھے ان کو مزید بڑھا دیا تھا دونوں نے اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لئے مختلف ممالک کی پشت پناہی کی اور حالات بگڑتے چلے گئے۔ بحرین میں ایران نے حکومت مخا لف لوگوں کو اسپورٹ کیا۔ جبکہ سعودی عرب نے بحرین کی حکومت کی مدد کرنے کے لئے اپنی فوج بھیج دی۔

    جبکہ سیریا میں سعودی عرب نے باغیوں کی مدد کی اور ایران نے اس کے الٹ وہاں کی حکومت کا ساتھ دیا۔لبنان میں ایران نے حزب اللہ کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب نے لبنان کی حکومت کو سپورٹ کیا۔اسی طرح میں یمن میں ایران نے حوثی باغیوں کو سپورٹ کیا جبکہ سعودی عرب دوسری سائیڈ پر تھا۔اور آخر میں اگر اسرائیل کی بات کی جائے تو حماس کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ جبکہ سعودی عرب سرکاری طور پر تو اسرائیل کے ساتھ نہیں ہے لیکن وہ اس کے مخالف بھی نہیں ہے۔ ہاں ایران کو کاونٹر کرنے کے لئے دونوں کے درمیان الائنس ضرور موجود ہے۔یہ صرف کچھ مثالیں تھیں جو کہ میں نے آپ کو دیں یعنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کسی سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس نے کئی ممالک کو تقسیم کرکے رکھا ہوا ہے۔سعودی عرب کے حمایتی ممالک میں UAEKuwaitBahrainEgypt
    Jordanشامل ہیں۔ جبکہ ایران کے حمایتی ممالک میں عراق اور سیریا شامل ہیں۔ یمن لبنان اور قطر میں Splitپایا جاتا ہے۔ یہی وہ لڑائیاں ہیں جن کی وجہ سے شیعہ اور سنی فرقوںکے درمیان فاصلے ہمیشہ بڑھے ہیں یہ دوریاں کم نہیں ہو رہی ہیں۔
    2016میں حالات اس وقت مزید خراب ہوئے جب سعودی عرب نے شیعہ عالم دین نمر النمر کو پھانسی دی تھی اور اس کے بعد ایرانی مظاہرین نے سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں ریاض نے تہران کے ساتھ اپنے ہر طرح کے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔چھ سال بعد آخر یہ تبدیلی آئی امریکہ اس خطے سے نکل گیا۔ اور مختلف ممالک نے تیل پر اپنا انحصار بھی کم کرنے کی طرف توجی دینا شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے اب تیل پراپنی آمدن کا انحصار کرنے والے ممالک کے لئے مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو اپنا Vision 2030پورا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سرمائے کی ضرورت ہے تو ایران کو ضرورت ہے کہ اس پر سے معاشی پابندیاں ختم ہوں اس کی معیشت بہتر ہو اور وہ ترقی کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ اب یہ دونوں ممالک اپنی لڑائیاں ختم کرکے دوستی کی طرف آنا چاہتے ہیں یعنی معاشی اور سیاسی دونوں مجبوریاں ہیں دونوں کو اپنی تجارت بڑھانی ہے معیشت کو بہتر کرنا ہے جس کے لئے یہ کو ششیں کی جا رہی ہیں کہ اتنی پرانی س=دشمنی کو ختم کیا جا سکے۔

  • "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    "چولستان میں خشک سالی اور قوم کو پکار” محمد عبداللہ

    صحرائے چولستان جنوبی پنجاب میں موجود صحرا ہے جو سندھ کے صحرائے تھر اور بارڈر کے دوسری طرف انڈیا کے صحرائے راجستھان سے ملتا ہے. جنوبی پنجاب میں ہی پنجاب کا دوسرا صحرا "تھل” بھی واقع تھا.

    تھل کا صحرا کہ جس کو "تھل” نہر کے پانی سے سیراب کرکے آباد کیا جاچکا ہے اور اب خوشاب، میانوالی، لیہ اور بھکر کے علاقوِں میں ریت کے ٹیلوں سے ہی یہاں صحرا کا گمان ہوتا ہے جبکہ بیشتر زمینیں کاشتکاری کے اور دیگر مقاصد کے لیے کارآمد بنائی جاچکی ہیں.

    جبکہ چولستان کا صحرا بہاولنگر کے علاقوں سے شروع ہوکر، بہاولپور سے ہوتا ہوا رحیم یارخان سے سندھ کے صحرائے تھر سے مل جاتا ہے. ماضی میں یہ دریائے ہاکڑا کی بدولت یہ علاقہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا جو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صحرا بنتا چلا گیا.

    یہ صحرا بڑا اہم تجارتی روٹ تھا. اس صحراء میں موجود جابجا قلعے اسی تجارتی روٹ پر واقع تھے جن میں کچھ کی باقیات اور نشان ملتے جیسے رحیم یار خان میں بھاگلہ قلعہ وغیرہ ہیِں جبکہ کچھ اپنی حالتوں میں موجود ہیں جیسے بہاولپور میں دراوڑ قلعہ ہیں.

    گزشتہ دنوں میں پڑنے والی شدید گرمی اور بارشیں نہ ہونے کے باعث "ٹوبوں” میں موجود تالابوں وغیرہ میں پانی خشک ہوگیا جس کے باعث جانوروں کو پانی نہ ملنے سے جانوروں کے ہلاک ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سینکڑوں جانور ہلاک ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے غذائی قلت بھی پیدا ہوچکی ہے.
    اب کیفیت یہ ہے کہ مسلسل خشک سالی کے باعث جانور تو جانور انسان بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور انتہائی مجبوری کے عالم میں وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے.

    ایسے میں ہمشیہ کی طرح سے پاکستان کے رفاہی اور مددگار میدان میں آچکے ہیں اور پانی کے ٹینکرز اور خوراک کے ساتھ اللہ اکبر تحریک کے رضاکار ابتدائی امداد لے کر پہنچ چکے ہیِں گو کہ یہ بہت زبردست ہے لیکن یہ مدد فی الحال ناکافی ہے لہذا پوری قوم کو اس مشکل وقت میں چولستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ان کی مدد کرنی چاہیے.
    محمد عبداللہ

  • 21سال مردہ بیوی کے ساتھ  زندگی گزارنے والا شہری

    21سال مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزارنے والا شہری

    بنکاک: تھائی لینڈ کے بزرگ شہری نے 21 سال بعد اہلیہ کی آخری رسومات ادا کردیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے رہائشی 72 سالہ شخص دو دہائیوں سے اپنی مردہ بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا بزرگ تھائی شہری متعدد ڈگریاں حاصل کرچکے ہیں اس کے باوجود ان کے گھر میں بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات تک موجود نہیں اور وہ انتہائی نامناسب حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    سگا باپ دو نوجوان بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بزرگ شخص نے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیوی کا جنازہ ایک باکس میں رکھا ہوا تھا اور جنازے سے ایسے گفتگو کرتا تھا جیسے بیوی زندہ ہو۔

    تاہم اب 72 سالہ چرن جنوٹچکل نامی شخص نےایک این جی اوکی مدد سےاپنی اہلیہ کی 30 اپریل 2022 کو تدفین کی ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ این جی او کے رضاکار چھوٹے سے کمرے سے باکس کو نکالتے ہیں جسے پلاسٹک میں لپٹا ہوتا ہے۔

    13 سال بعد "اوتار2” کا پہلا ٹیزر جاری

    رپورٹ کےمطابق بزرگ شخص کےخلاف تاحال کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی کہ انہوں نے 2001 میں اپنی اہلیہ کےانتقال کی خبر متعلقہ حکام کودرج کروائی تھی اورلیکن اس کی آخری رسومات ادا نہیں کیں-

    معمر تھائی شہری نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھے مگر جب میں نے اپنی اہلیہ کے جنازے کو گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا تو میرے بیٹوں سے مجھے تنہا چھوڑ دیا۔

    اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے الجزیرہ کی صحافی شہید ، کیمرہ مین زخمی

  • پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا

    نئی دہلی: بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس نے قتل کیس کے شواہد چوری کرنے کا الزام بندر پر لگا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیارپورٹ کےمطابق سنہ 2016 میں راجستھان کے دارالحکومت میں ششھی کانت کا قتل ہوا تھا جس کی لاش تین دن بعد ملی تھی، بعد ازاں مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے احتجاج پر معاملہ عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہوا تھا اب جہاں ہائی کورٹ کی جانب سے کیس کا فیصلہ قریب تھا تو پولیس نے شواہد گم ہونے کا الزام بندر پر عائد کردیا ہے۔

    گجرات کے بعد اوکاڑہ کے قبرستان میں کمسن بچی کی نعش نکال کر بیحرمتی کا واقعہ

    رپورٹ کے مطابق راجستھان کی ہائی کورٹ میں ششھی کانت نامی شہری کے قتل کا کیس زیر سماعت ہے، عدالت نے پولیس سے قتل کے شواہد مانگے تو اس نے عجیب وغریب منطق پیش کی اور کہا بندر نے پولیس اسٹیشن سے تمام ثبوت چوری کرلیے ہیں جس میں قتل میں استعمال ہونے والا تیز دھار آلہ بھی شامل تھا۔

    رپورٹس کے مطابق پولیس نے عدالت میں تحریری بیان جمع کرایا جس میں لکھا ہے کہ مذکورہ کیس کے شواہد بیگ میں موجود تھے اور بیگ بندر اٹھا کر غائب ہوگئے ہیں۔

    معذور لڑکی کی نعش قبر سے نکال کر بیحرمتی،ملزمان گرفتار نہ ہو سکے