Baaghi TV

Category: متفرق

  • گھر کے اندر خودکار طریقے سے سبزیاں اگانے والا سمارٹ گارڈن

    گھر کے اندر خودکار طریقے سے سبزیاں اگانے والا سمارٹ گارڈن

    کیلیفورنیا:خاتون ڈیزائنر نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو ایک جانب تو کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے تو دوسری جانب مضر کیمیائی اجزا سے پاک روزانہ کی سبزیاں اگاتا ہے۔

    باغی ٹی وی :اسے بنانے والی کمپنی نے ’ہائیڈروآرٹ پوڈ‘ کا نام دیا ہے گھر کے اندر مکمل طور پر خود بخود سبزیاں اگانے کے لیے ایک سمارٹ گارڈن ہے، جس میں عملی طور پر کوئی وقت یا محنت درکار نہیں ہے اس کو گھر کے کسی بھی کمرے میں پینٹنگ کی طرح ٹانگا جاسکتا ہے جو صرف پانی کی بدولت ہرے پتوں والی تازہ سبزیاں کسی کیمیائی اجزا کے بغیر کاشت کرسکتا ہے۔

    اسے ایک خاتون ڈیزائنر نے تین سال کی محنت اور کامیابیوں اور ناکامیوں کے بعد بنایا ہے ان کا دعویٰ ہے کہ اب سبزیاں اگانا کافی یا چائے بنانے سے بھی زیادہ آسان ہے عموماً گھروں میں جگہ نہیں ہوتی اور اسی بنا پر پورا ہائیڈروآرٹ پوڈ کا پورا نظام تشکیل دیا گیا ہے جسے کم جگہ پر سبزیوں کا باغیچہ قرار دیا گیا ہے اپنی بہترین صلاحیت کی بنا پر یہ سارا سال تازہ سبزیاں کاشت کرتا رہتا ہے۔

    اس میں چھوٹے ٹماٹر، مرچیں، اسٹرابری، دھنیا، کھیرا، پودینہ، پالک، چولائی، کڑھی پتے اور باورچی خانے کے لیے ضروری دیگرسبزیاں آسانی سےاگائی جاسکتی ہیں افزائش کا پورا نظام ہرقسم کےکیمیکل سےپاک ہےایک مرتبہ کی سرمایہ کاری سے پورے سال سبزیوں کا خرچ بچایا جاسکتا ہے ہائیڈروآرٹ پوڈ صرف 120 واٹ بجلی صرف کرتا ہے۔

    اس کی پشت پر 10 لیٹر پانی کی ٹنکی لگی ہے جو ہر دو گھنٹے بعد خودکار انداز میں چند منٹوں کے لیے پانی سبزیوں تک پہنچاتی ہے ہائیڈروآرٹ پوڈ پر ہر سبزی کے لیے ایک چھوٹا خانہ بنایا گیا ہے جس میں پہلے بیج ڈالا جاتا ہے، پھر پودوں کو غذائیت دینے والے اجزا انڈیلے جاتے ہیں اور اس کے بعد ہائیڈروآرٹ پوڈ کا سوئچ آن کردیا جاتا ہے نظام کے اطراف پر لگی روشنیاں سبزیوں کی افزائش کو تیزتر کردیتی ہیں-

  • امریکی افواج نے  1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    امریکی افواج نے 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں چرایا گیا کیک واپس کر دیا

    اٹلی: امریکی افواج نے 90 سالہ اطالوی خاتون کو کیک واپس کر دیا جو 1945 کی دوسری جنگِ عظیم میں امریکی فوجیوں نے چراکر کھالیا تھا اس کیک کی واپسی کے لئے باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق خاتون میری مایون نے بتایا کہ ان کی عمر اس وقت صرف 13 برس تھی جب وہ ویسینزا، اٹلی کے پاس سان پیٹرو کے دیہات میں رہائش پذیر تھی یہاں جرمن اور امریکی افواج میں شدید جنگ ہورہی تھی میری کی والدہ نے اس کے لیے سالگرہ کیک تیار کیا تھا اور اسے کھڑکی کے باہر ٹھنڈا ہونے لیے رکھنے کو کہا جبکہ تھوڑی دیر بعد کیک وہاں سے غائب تھا اور محاذ پر لڑتے ہوئے امریکی فوجیوں نے اسے کھالیا تھا میری نے کیک کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہ ملا اور یقین ہوچلا کہ کیک کسی نے چرایا ہے۔

    تاہم اب ایک لمبے عرصے بعد امریکی افواج نے باقاعدہ ایک تقریب میں یہ کیک واپس کیا ہے جمعرات کو اٹلی کے ایک گیارڈائنی سالوی پارک میں خاتون، ان کے اہلِ خانہ، امریکی فوجیوں اور دیگر شہریوں کو مدعو کیا گیا تھا اور انہیں اطالوی اور انگریزی زبان میں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی گئی تھی۔

    اس موقع پر خاتون نے فرطِ جذبات سے کہا کہ وہ یہ لمحہ بھول نہیں سکتیں کیونکہ وہ زندگی کا ایک یادگار دن بھی تھا انہوں نے کہا کہ وہ کیک کا بقیہ حصہ اپنے اہلِ خانہ کو بھی پیش کریں گی اس موقع پر امریکی سارجنٹ پیٹر ویلس نے کہا کہ اگرچہ یہ تھوڑا عجیب واقعہ ہے لیکن وہ کیک واپس کرتے ہوئے مسرت محسوس کررہے ہیں

    اس واقعے میں 19 امریکی سپاہی ہلاک ہوئے تھے جبکہ کئی ٹینک بھی راکھ ہوگئے تھے۔ اٹلی کے اس گاؤں نے امریکیوں کے لیے کھانے اور شراب بھی پیش کی تھیں تاہم کیک بنا اجازت اٹھایا گیا تھا امریکی افواج نے اس موقع پر جنگ میں ان کا ساتھ دینے پر اطالوی عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  • تپتی دھوپ میں خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو وائرل

    تپتی دھوپ میں خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو وائرل

    نئی دہلی: تپتی دھوپ میں خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : ہیٹ ویو یعنی معمول سے کہیں زیادہ گرم موسم میں ایک خاتون کی گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو نے دیکھنے والوں کوحیران کردیا –


    سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارتی ریاست اڑیسہ میں آگ برساتے سورج کے نیچے کھڑی خاتون نے گاڑی کے بونٹ پر چکلا بیلن رکھ کرروٹی بیلنے کے بعد نہایت مہارت سے گاڑی کے بونٹ پررکھ کراسے سیک رہی ہیں سورج کی تپش کے باعث روٹی ایسے پک گئی جیسے چولہے پرتیار کی گئی ہو-

    13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

    گاڑی کے بونٹ پرروٹی پکانے کی ویڈیو کوسوشل میڈیا پر اب تک ہزاروں لائیکس مل چکے ہیں اور لوگوں کی جانب سے حیرانی کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    دوسری جانب شمال مغربی ہندوستان میں گرمی کی لہر جاری ہے اور اس دوران دہلی میں بدھ کو بیشتر علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں دو سے تین ڈگری سیلسیس کا اضافہ دیکھا گیا۔

    محکمہ موسمیات کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دہلی کے کچھ حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ 21 اپریل 2017 کو دارالحکومت میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43.2 ڈگری سیلسیس تھا۔ ریکارڈ کیا گیا تھا. اپریل میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 اپریل 1941 کو 45.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    آسمانی بجلی گرنے سے اونٹوں کا ریوڑ ہلاک

    بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان پر مغربی ڈسٹربنس کے اثر کی وجہ سے ابر آلود آسمان کی وجہ سے پچھلے ہفتے خطے کو کچھ مہلت ملی۔ قومی راجدھانی میں 28 اپریل سے گرمی کی لہر کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (IMD) موسم کی وارننگز کے لیے چار رنگوں کے کوڈ استعمال کرتا ہے- سبز (کوئی کارروائی کی ضرورت نہیں)، پیلا (نظر رکھیں اور اپ ڈیٹ رہیں)، نارنجی (تیار رہیں) اور سرخ (کارروائی کریں)۔

    آئی ایم ڈی نے کہا کہ اعتدال پسند’ صحت کے مسائل کمزور لوگوں جیسے کہ شیر خوار، بوڑھے، گرمی سے متاثرہ علاقوں میں دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘ان علاقوں کے لوگوں کو گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے، ہلکے رنگ کے، ڈھیلے سوتی کپڑے پہننا چاہیے اور سر کے پوشاک، ٹوپی یا چھتری سے اپنی حفاظت کرنی چاہیے آنے والے دنوں میں شدید گرمی کی لہر سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

    فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

  • فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

    فلسطین میں محبت اور جنگ کا دیوی کا مجسمہ دریافت

    جنگ زدہ فلسطین میں محبت کا مجسمہ دریافت ، غزہ کی پٹی میں خوبصورتی، محبت اور جنگ کی دیوی عنات کا مجسمہ دریافت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق فلسطینی ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق کنعانی دیوی عنات کا ملنے والا سر تقریباً 4500 سال پرانا ہے عنات دیوی کا سر غزہ پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک کسان کو اپنے کھیت میں ملا 22 سینٹی میٹر کے اس مجسمے پر موجود نقش و نگار کسی دیوی کے چہرے کی عکاس کر رہے ہیں جس نے سانپ کا تاج پہنا ہوا ہے۔

    اسرائیل کا دمشق کے قریب فضائی حملہ، 9 افراد ہلاک

    حالیہ برسوں کے دوران غزہ میں اسرائیل اور عسکریت پسند گروپوں کے درمیان تنازع میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ غزہ پر حماس کی حکومت ہے تاہم چونے پتھر سے بنے اس مجسمے کی دریافت اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کس طرح یہ پٹی مسلسل قدیم تہذیبوں کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کا حصہ تھی اور دراصل یہ ایک کنعانی بستی تھی۔

    مقامی کاشتکار اپنے کھیت میں کام کر رہے تھے جب انہیں یہ سر ملا تھا انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کیچڑ سے بھرا ہوا تھا ہم نے اسے پانی سے دھویا تب جا کر اس کی اصل شکل سامنے آئی انہیں لگا کہ یہ قیمتی چیز ہے پر آثار قدیمہ کا اندازہ نہیں ہوا ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ یہ ہماری زمین، ہمارے فلسطین میں کنعانی دور سے ہے۔

    مقبوضہ بیت المقدس:مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے نوجوان شہید


    عنات کا شمار مشہور کنعانی دیوی دیوتاؤں میں ہوتا ہے مجسمہ کو اب قصر البشا یعنی فلسطین کے مشہورعجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

    منگل کو ایک پریس کانفرنس میں نوادرات کی نقاب کشائی کرتے ہوئے حماس کے زیر انتظام وزارت سیاحت اور نوادرات کے وزیر جمال ابو ردا نے کہا کہ یہ مجسمہ ’وقت کے خلاف مزاحمت‘ ہے اور ماہرین نے اس کا بغور جائزہ لیا ہے اس مجسمے نے ایک سیاسی نکتہ کی جانب توجہ دلائی ہے اس طرح کی دریافتیں ثابت کرتی ہیں کہ فلسطین کی اپنی تہذیب اور تاریخ ہے اور کوئی بھی اس تاریخ سے انکار یا اسے جھٹلا نہیں سکتا۔ یہ فلسطینی عوام اور ان کی قدیم کنعانی تہذیب ہے غزہ میں موجود تمام آثار قدیمہ کی اتنی زیادہ تعریف نہیں کی گئی ہے یا کسی نے اس سے قبل ایسی کارکردگی پیش نہیں کی ہے۔

    بھارت: یوپی میں تہواروں سے قبل مذہبی مقامات سے 11000 لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے

    اس سے قبل یونانی دیوتا اپولو کا ایک قدیم انسانی سائز کا کانسی کا ایک مجسمہ سنہ 2013 میں ایک ماہی گیر نے دریافت کیا تھا لیکن بعد میں وہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا۔

    دوسری جانب رواں سال حماس نے 5 ویں صدی کے بازنطینی چرچ کی باقیات کو بحالی کے بعد دوبارہ کھول دیا ہے اسے غیر ملکی عطیہ دہندگان کی جانب سے سالوں سے جاری بحالی کے منصوبے کے لیے مالی امداد دی گئی تھی۔

  • 13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

    13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

    نیو یارک :13 سالہ امریکی طالبعلم اگلے ماہ فزکس میں بیچلر ڈگری کے ساتھ گریجویشن کرنے کے بعد اپنی پی ایچ ڈی کی تعلیم شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق ایلیوٹ نینر کے خاندان نے بتایا کہ وہ جلد ہی فزکس میں بیچلرکی ڈگری اور ریاضی کی کم عمر گریجویٹ کا مقام حاصل کرےگی اسے یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں طبیعیات میں ڈاکٹریٹ کے پروگرام میں قبول کیا گیا ہے۔

    13 سالہ طالبعلم نے یونیورسٹی آف مینیسوٹا میں 3.78 پوائنٹس کی اوسط برقرار رکھی اور یونیورسٹی کی تحقیق میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے ساتھیوں کو بھی پڑھایا۔

    بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا


    اس کی والدہ مشیل ٹینر نے انکشاف کیا کہ اس نے تین سال کی عمر میں ریاضی پڑھنا شروع کر دی تھی ہوم اسکولنگ کے چند سالوں اور ہائی اسکول کے نصاب کے بعد جسے مکمل ہونے میں دو سال لگے اس نے نو سال کی عمر میں کالج کی کلاسیں لینا شروع کر دیں جن لوگوں نے ایلیوٹ کی کہانی سنی ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ اب بچہ نہیں رہا یا وہ بہت تیزی سے بڑا ہوا وہ ابھی بھی بہت بچہ ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ وہ ایک مختلف عمارت میں اسکول جاتا ہے۔

    ایلیوٹ نے اپنے کیریئر کے بارے میں بتایا کہ وہ طبیعیات کے لیے ایک حیرت انگیز جذبہ رکھتا ہیں یہ ان کی پسندیدہ چیزوں میں سے ایک ہے وہ ایک ماہر طبیعیات اور یونیورسٹی میں فزکس کی پروفیسر بننا چاہتا تاہم گریجویٹ پروگرام میں تعلیم کے اخراجات والدین کے لیے رکاوٹ تھے۔

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک ٹوئٹر کے نئے مالک بن گئے


    OneStop یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ایلیوٹ کے خاندان کو موسم خزاں اور بہار کے سمسٹرز کے لیے تقریباً 40,600 ڈالر یا تقریباً20,300 فی سمسٹر ادا کرنا ہوں گے۔

    مشیل نے کہا کہ ہم صرف اپنےتمام آپشنز کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اور حتمی نتائج کے ساتھ آ رہے ہیں کسی بھی اسکالرشپ، فیلوشپس، گرانٹس کے لیے اپلائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم کامیاب نہیں ہو سکے ہیں ہم یہ جان کر حیران رہ گئے کہ یونیورسٹی نے ایلیٹ کو مالیاتی پیکج نہیں دیا۔

    امریکہ میں آنے والے طبیعیات کے پی ایچ ڈی طلباء میں سے صرف 3 فیصد کو ٹیوشن کی چھوٹ اور/یا مالیاتی پیکج نہیں ملتا، اس لیے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم 13 سال کی عمر میں ایلیوٹ کی تعلیم کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے جھنجھوڑ رہے ہوں گے۔’

    والدین نے رقم اکٹھا کرنے کے لیے GoFundMe مہم شروع کی اور اس کی والدہ نے کہا کہ خاندان نے گریجویٹ پروگرام میں اس کے پہلے سال کے لیے فنڈنگ حاصل کی تھی۔

    واضح ہے کہ ایلیوٹ باضابطہ طور پر 12 مئی کو فزکس اور میتھمیٹکس برانچ میں بیچلر آف سائنس کے ساتھ گریجویٹ ہوں گے۔

    پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی،بھارتی براڈ کاسٹرزکا اپنی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے خدشات…

  • دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی جاپانی خاتون چل بسیں

    دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی جاپانی خاتون چل بسیں

    ٹوکیو: جاپان میں دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی خاتون دن کی علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملیں۔

    باغی ٹی وی : جاپانی میڈیا کے مطابق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی کین تاناکا جاپان کی مقامی نرسنگ ہوم میں رہائش پذیر تھیں جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا۔

    دنیا کی معمر ترین شخصیت نے 119ویں سالگرہ کوکا کولا پی کر منائی

    کین تاناکا 2 جنوری 1903 میں جاپان کے جنوب مغربی علاقے فیوکیوکا میں پیدا ہوئی تھیں وہ جوانی میں نوڈلز اور رائس کیک کی دکان چلاتی تھیں اور 1922 میں 19 برس کی عمر میں شادی کی جس سے ان کے 4 بچے ہوئے جبکہ ایک کو گود لیا۔

    ان کے خاندان کی چاول کی دکان تھی جس پر وہ 103 برس کی عمر تک کام کرتی رہیں اپنی زندگی میں انہوں نے 1918 کا ہولناک ہسپانوی فلو دیکھا اور دو عالمی جنگوں کو قریب سے محسوس کیا لیکن اب بھی وہ ماضی کی باتوں کو نہیں دوہراتیں بلکہ انہیں اس عمر میں بھی مستقبل سے لگاؤ تھا-

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے 2019 میں کین تاناکا کو 116 سال اور 66 دن کی عمر میں دنیا کی معمر ترین خاتون کے اعزاز سے نوازا تھا اور انھوں نے اس اعزاز کو اپنی زندگی کا یادگار ترین لمحہ قرار دیا تھا۔

    119 سالہ کین تاناکا صبح 6 بجے اُٹھ کر لازمی چہل قدمی کرتیں اور دوپہر میں ریاضی کی مشق کرتیں جو ان کا پسندیدہ مضمون تھا اس کے بعد کیلی گرافی بھی کرتیں ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنی طویل العمری کا راز واک اور سادہ غذا کو قرار دیا تھا۔

    طیارے کے واش روم کے کوڑے دان سے نومولود بچہ برآمد،خاتون گرفتار

    انہوں نے اپنی لمبی عمر اور صحت کا راز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت کھانا چھوڑ دیتی ہیں جب ان کا پیٹ 80 فیصد بھر جاتا ہے جبکہ صحت بخش غذاﺅں جیسے سبز سبزیاں، جڑوں والی سبزیاں اور مچھلی کھانا پسند کرتی ہیں۔

    گنیز ورلڈ ریکارڈز کا کہنا تھا کہ کین تاناکا وقت گزارنے کے لیے اوتھیلو نامی گیم ہے جو ان کا فیورٹ ہے اور وہ کلاسک بورڈ کی ماہر بن چکی ہیں اور اکثر گھر کے دیگر افراد کو شکست دیتی ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں شہریوں کی لمبی عمریں ہوتی ہیں اور دنیا کے معمر ترین افراد کے حوالے سے بھی مشہور ہیں کیونکہ ماضی میں کئی افراد نے معمر ترین کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا میں طویل ترین عمر پانے کا ریکارڈ فرانس کے ایک شہری جین لوئس کلمینٹ کو حاصل تھا جو1997 میں 122 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

    جڑواں بہن بھائی کی پیدائش میں پورے ایک سال کا فرق

  • ایک ہی کمپنی میں 84 سال تک ملازمت کرنےوالے 100 سالہ شخص نےنیا گنیزورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    ایک ہی کمپنی میں 84 سال تک ملازمت کرنےوالے 100 سالہ شخص نےنیا گنیزورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    برازیل کے جنوبی شہر برسک سے تعلق رکھنے والے ایک 100 سالہ شخص نے ایک ہی کمپنی میں 84 سال تک ملازمت کرکے نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی کے مطابق 100 سالہ والٹر آرتھ مین نے 1938 میں برسک میں ایک معمولی سی کپڑے بنانے والی فیکڑی میں ملازمت شروع کی جو آج ( RenauxView) کے نام سے کافی مشہور ہے والٹر نے اس کمپنی کے ساتھ وفاداری نبھائی اور 84 سال سے وہیں ملازمت کررہے ہیں۔

    والٹر کو پروڈکشن سے انتظامی معاملات دیکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی، بعدازاں انہیں کمپنی کے سیلز منیجر کا عہدہ دے دیا گیا ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد والٹر آرتھ مین نے نوکری کی متلاشی نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ زندگی میں وہ کریں جو آپ کو پسند ہے اور جنک فوڈ سے دور رہیں والٹر اپنی غذا کا کافی خیال رکھتے ہیں اور ساتھ ہی 100 کی عمر تک پہنچ کر بھی ورزش کرنا نہیں بھولتے-

    ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اپنے کام سے پیار کرنا ہوگا، میں نے بھی اسی خواہش اورجذبے کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے کامیابی ملتی گئی۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    دوسری جانب برطانیہ میں ایک ایسا ملازم بھی ہے جو گزشتہ تقریباً 70سال سے بیماری کے باعث چھٹی کیے بغیر ایک ہی کمپنی کیلئے کام کررہا ہے 83 سالہ برائن چورلی نے برطانیہ کی کاؤنٹی سمر سیٹ میں واقع ایک جوتے کی فیکٹری (سی اینڈ جے کلارکس) میں 1953میں کام کرنا شروع کیا ہفتے میں 45 گھنٹے کام کرنے کے بعد، برائن اپنی پہلی تنخواہ دو پاؤنڈز حاصل کرتے جس میں سے وہ ایک پاؤنڈ اپنی ماں کو دیتے۔

    برائن نے 1980 کی دہائی تک اسی فیکٹری میں کام کیا لیکن جب فیکڑی کے احاطے کو شاپنگ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا تو انہوں نے پھر بھی کمپنی کا ساتھ نہیں چھوڑا اوراسی کمپنی کیلئے کسٹمر سروسز میں کام کرنے کی دوبارہ تربیت حاصل کی اور تب سے اب تک وہ اسی کمپنی سے جڑے ہوئے ہیں۔

    برائن کا کہنا ہے کہ ان کا ریٹائرمنٹ لینے کاکوئی اراداہ نہیں ہے پورا دن کرسی میں فالتو بیٹھنا اچھا نہیں لگتا ، مجھےکام کرنے کاشوق ہے جو میں جاری رکھوں گا۔

    ب امریکا ہی میرا اصلی گھر ہے،شہزادہ ہیری

  • عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی

    عراق میں 103 سالہ شخص نے 37 سالہ خاتون سے تیسری شادی کر لی

    بغداد: عراق میں 103 سالہ شہری نے خود سے 66 سال چھوٹی خاتون سے شادی کرلی،شادی کی تقریب میں دولہا کے پوتوں اور پڑپوتوں نے بھی شرکت کی-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق دارالحکومت سے 180 کلومیٹر دور جنوبی علاقے کمشنری الدیوانیہ میں جشن کا منظر تھا جس کی وجہ کوئی علاقائی تہوار نہیں بلکہ 103 سالہ شہری کی شادی تھی گاؤں کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا اور روایتی گیت گائے جا رہے تھے۔

    کۃ المکرمہ:بھکارن کےپاس1لاکھ17ہزار ریال اورسونےکےزیورات:سعودی جان کرحیران

    گلف ڈیلی نیوزکے مطابق معمر شہری مخلف فرہود المنصوری کی شادی کے یہ انتظامات ان کے پوتوں اور پڑپوتوں نے کیے تھے پانچ روز تک جاری رہنے والی شادی کی تقریب میں قریبی رشتہ داروں اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔


    رپورٹ کے مطابق دلہن کی عمر 37 سال ہے اور وہ بھی شادی شدہ تھی۔شادی کی مرکزی تقریب سے قبل منگنی بھی ہوئی جس میں دولہا دلہن نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائیں پھر مہندی کی رسم ادا ہوئی اور اہل خانہ نے خوب ہلہ گلہ کیا۔ نکاح اور ولیمے کی تقاریب بھی ہوئیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    معمر شخص کے بیٹے عبدالسلام نے بتایا کہ ’ان کے والد 1919 میں پیدا ہوئے تھے۔ پہلی اہلیہ کا انتقال 1999 میں ہوا تو دوسری شادی کی جن سے بچے بھی ہوئے تاہم جھگڑوں کے باعث یہ شادی ختم ہوگئی جس کے بعد والد صاحب نے تیسری شادی کی خواہش کی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انتخاب ایک خوبصورت خاتون پر پڑا، جس کی پیدائش 1985 میں ہوئی، اور اس نے منگنی کر لی، اور اس کے بعد اس کے لیے مہندی کی تقریب منعقد کی گئی اور پھر شادی۔ ان کے باقی نو بچوں، پوتے پوتیوں اور نواسوں نے اس کی شادی میں شرکت کی۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    برطانیہ میں لائبریری کو ایک قدیم "لاطینی” کتاب 50 برس بعد واپس مل گئی-

    باغی ٹی وی : کتابوں کے شوقین افراد لائبریریوں میں جاکر مطالعہ کرتے ہیں علاوہ وہاں سے کتاب ایشو کرا کے گھر بھی لے جاتے ہیں، جو ایک خاص مدت کے لیے ہی دی جاتی ہے۔اس کے بعد جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے تاہم برطانیہ میں اس کے طرعکس ایک عجیب و غریب کہانی سامنے آئی ہے-

    عقابوں کا جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس وی آئی پی اسپتال

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں ایک نامعلوم شخص نے یونیورسٹی کالج لندن کی لائبریری کو 50 برس کے بعد ڈاک کے ذریعے کتاب واپس بھجوائی، اور ساتھ ایک خط بھی بھیجا۔


    جسے لائبریری کے آفیشل آکاونٹ پر شئیر کیا گیا ہے، شہری نے خط میں لکھا ہے کہ ’ڈیئر لائبریرین، یہ کتاب 50 برس تک واپس نہیں کی گئی مہربانی فرما کر اسے ردی کی ٹوکری میں نہ پھینک دینا، کیونکہ اب یہ نوادرات میں شامل ہو چکی ہے۔

    لائبریری کے مطابق ’10 پینس فی دن کے حساب سے اس کتاب پر ایک ہزار 254 برطانوی پاؤنڈز جرمانہ بنتا ہے۔

    بھارت میں دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش

    برطانوی اخبار کے مطابق یہ کتاب ایک ڈرامے ’کیورولس‘ کا 1875 کا ایڈیشن ہے جسے 1974 کے موسم گرما میں یونیورسٹی کالج لندن لائبریری کو واپس کیا جانا تھا۔

    لائبریرین سوزین ٹراؤ نے گھر سے 18 ماہ کام کرنے کے بعد لائبریری واپس آنے پر یہ کتاب دریافت کی، جسے گمنام طور پر واپس پوسٹ کیا گیا تھا انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنی میز پر بہت سی کتابیں ملی ہیں جن میں کوئی نوٹ نہیں ہے کہ یہ بتانے کے لیے کہ وہ کون ہیں یا انہیں کیوں بھیجی گئی ہیں۔

    یہ کتاب پانچویں صدی کی ایک مزاحیہ کہانی پر مشتمل ہے اور اس میں ایک جادوگر کی کہانی ہے جو اپنی وراثت کے ایک غریب آدمی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے لائبریری میں اس کے اور بھی کئی ایڈیشن موجود تھے، لیکن واپس کی گئی کتاب اصل 1875 کے ایڈیشن کی ہارڈ کاپی تھی۔

    یونانی اور لاطینی شعبے کے سربراہ پروفیسر گیسین مانوالڈ نے کہا: "”یہ حیرت انگیز ہے کہ UCL لائبریری کے ایک سابق صارف کی طرف سے اتنی وفاداری دیکھ کر کہ انہوں نے تقریباً 50 سال بعد ایک کتاب واپس لوٹائی-

  • بھارت میں  دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش

    بھارت میں دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش

    مدھیا پردیش: بھارت میں جنم لینے والے دو سر والے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا ہے اس بچے کے تین ہاتھ ہیں اور سینے میں دو دل دھڑک رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق رواں 28 مارچ کو رتلام ، مدھیا پردیش میں پیدا ہونے والے بچے اب بھی ہسپتال میں ہیں اورڈاکٹر ان کی نگرانی کررہے ہیں اس پیدائشی نقص کو طب کی زبان میں ڈائی سیفیلک پیراپیگس کہا جاتا ہے جس میں ایک دھڑ پر ایک اور اضافی سر یا عضو بن جاتا ہے ایسے بچے عموماً مردہ پیدا ہوتے ہیں لیکن اب تک یہ بچے زندہ ہیں جو کہ ڈاکٹروں کے لئے ایک اور حیرت انگیز امر ہے۔

    تامل ناڈو کےاسلام قبول کرنےوالےمسلمانوں کی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کی شکایت


    بچے کے والدین سہیل اور شاہین خان کو پہلے ہی اس واقعے سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ رحم میں جڑواں بچے ہیں لیکن چند ماہ بعد دونوں سر ایک ہی جسم پر منتقل ہوئے اور اب سی سیکشن سرجری کے بعد دو سر والے لڑکے کی پیدائش ہوئی ہے جس کا ابتدائی وزن پونے چار کلوگرام بتایا گیا ہے۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    ہسپتال کی سینیئر ڈاکٹر لاہوتی نے زندہ بچوں کو ایک معجزہ قرار دیا ہے جس میں دو بچے ایک ہی دھڑ پر باہم پیوست ہوجاتے ہیں دونوں سروں کے عین درمیان ایک اور ہاتھ بھی ہے۔ تاہم اس وقت ڈاکٹروں نے کسی بھی قسم کی سرجری یا آپریشن سے انکار کیا ہے۔

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ بنانیوالے ملزمان کو رہا کرنیکا حکم