Baaghi TV

Category: متفرق

  • ریستوران جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہے

    ریستوران جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہے

    سعودی عرب میں ایک ریستوران بنایا گیا یے جہاں کھانے کے ساتھ ڈرایا بھی جاتا ہےاس میں زومبیز اور ویمپائرز کی صحبت میں کھوپڑی اور خون کے ساتھ کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بولیوارڈ انٹرٹینٹمٹ ڈسٹرکٹ میں واقع’شیڈوز‘ نامی یہ ریستوران ڈراؤنی فلموں اور کھانے کے شوقین افراد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جہاں وہ اپنی پسند کے کھانوں کا مزہ بھی چکھ سکتے ہیں جب کہ مختلف کپڑوں میں ملبوس عملہ انٹرایکٹو شوز کرتا رہتا ہے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے گا

    شیڈوز میں آنے والی 26 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ میرے سامنے جب ویٹر ایک تھالی میں کھانے کے ساتھ سیاہ رنگ کی مسکراتی کھوپڑی لے کر آیا تو میری تو بھوک ہی مر گئی” جبکہ ان کا دوست ڈاکٹر جواہر عبداللہ وہاں کھانا کھانے کے لیے بہت بے تاب تھا جبکہ ایک اداکار جس کی چھاتی سے مصنوعی خون بہہ رہا تھا کے ساتھ سیلفی لینے سے پہلے اس ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ جواہر نے کہا کہ”مجھے عام طور پر ڈراؤنی چیزیں پسند ہیں مجھے لگتا ہے کہ یہاں کا ماحول بہت مزے دار اور دلچسپ ہے۔

    8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا شخص

    45 سالہ تاجر سلیمان العمری کا کہنا تھا: ’ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہاں آئیں کیوں کہ ہم ہمیشہ ریاض میں دلچسپ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم انٹرٹینمنٹ کی تلاش میں ملک سے باہر جاتے تھےعام طور پر ریستورانوں میں جانے کا مطلب کھانا، پیٹ بھرنا، گپ شپ لگانا اور پھر گھر چلے جانا ہوتا تھا مگر اب ہم کھا بھی رہے ہوتے ہیں، اپنے وقت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور خوفزدہ بھی ہو رہے ہوتے ہیں ۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    شیڈوز نامی ریستوران کے مینیجر ماجد العنزی کہتے ہیں کہ ’ہم نے ان اداکاروں کی تربیت کی تھی اور ان کے انداز پر کام کیا تھا۔ ہر وہ چیز سکھائی جو گاہکوں کی تفریح کے لیے ضروری تھی۔ ڈراؤنے پن کا ان کا تجربہ نکھارا اور یقیناً کھانے کا معیار بھی۔‘ انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے ریستوران میں آئے دن لوگوں کی آمد کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    چین میں پاکستان کے نوادرات کی نمائش

    یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ2017 میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورِ حکومت کے اندر مملکت میں بہت سی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ماضی میں، سعودی شہریوں کو تفریح کے لیے بیرون ملک سفر کرنا پڑتا تھا لیکن اب سماجی تبدیلی کے تحت سنیما گھر کھل چکے ہیں اور مختلف مقامات پر موسیقی کے پروگراموں میں مرد وزن یکسان طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں۔

    امریکا میں 6 روز میں ایک ہی اسٹور کو تین مرتبہ لوٹنے والا ڈاکو چوتھی بار گرفتار

  • 8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا شخص

    8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا شخص

    ایک ہی گھرمیں 8 بیویوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنے والا تھائی لینڈ کا ٹیٹو آرٹسٹ سوشل میڈیا پرمقبول ہوگیا۔

    باغی ٹی وی :یوٹیوب چینل کودیئے گئے انٹرویو میں تھائی نوجوان اونگ ڈیمنے بتایا کہ اس کی 8 بیویاں ہیں، سب ایک ہی گھر میں رہتی ہیں لیکن پھر بھی بہت ہم آہنگ، پرامن اور ایک دوسرے کے ساتھ پیا محبت سے رہتی ہیں-

    ان کی پہلی بیوی سے ایک بیٹا بھی ہےاپنی آٹھ بیویوں سے ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے نوجوان کا کہنا تھا کہ پہلی بیوی سے دوست کی شادی جبکہ دوسری سے بازارمیں ملا۔

    اونگ ڈیم کا کہنا تھا کہ تیسری بیوی سے اسپتال میں، چوتھی، پانچویں اور چھٹی بیویوں سے ملاقات انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی۔ساتویں بیوی مندرمیں اور آٹھویں بیوی سے ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ 4 بیویوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے گیا ہوا تھا۔

    اونگ نے مزید کہا کہ لوگ 8 بیویوں کی وجہ سے مجھے امیر سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ میری ہربیوی اپنا خرچ خود اٹھاتی ہے اونگ کی 8 بیویوں نے اسے مہربان اورخیال رکھنے والا شخص قرار دیا۔

    سسکیٹ صوبے سے تعلق رکھنے والی اونگ ڈیمنے کی پہلی بیوی سپرائٹ نے کہا کہ کچھ عرصہ ساتھ رہنے کے بعد ناتھاپون نے اچانک اسے بتایا کہ انہیں کوئی خاتون پسند آ گئی ہیں تاہم، محترمہ اسپرائٹ ناراضگی یا حسد کا اظہار نہیں کیا بلکہ صرف نرمی سے اپنے شوہر سے پوچھا کہ گھر میں سب کے ساتھ کیسے برتاؤ کیا جائے، خاندان میں ہم آہنگی کا ماحول کیسے برقرار رکھا جائے۔ سپرائٹ نے اپنے شوہر کو دوسری عورتوں سے شادی کرنے پر اعتراض نہیں کیا۔

    دوسری بیوی، محترمہ نونگ ایل، صوبہ ناکھون پاتھوم کے ضلع کامفینگ سین سے تعلق رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ وہ اونگ ڈیمنے کی دلکشی اور مردانگی سے بہت متاثر ہیں۔ دریں اثنا، ان کی تیسری بیوی، نونگ نان نے کہا کہ مسٹر اونگ ڈیمنے ایک خیال رکھنے والے، دوستانہ آدمی ہیں جو بیویوں کو مزید مکمل بننے میں مدد کرتے ہیں۔

    اونگ کی چوتھی بیوی، سونگکھلا شہر سے تعلق رکھنے والی محترمہ نونگ میپرانگ نے بتایا کہ جب وہ اس عجیب و غریب خاندان میں داخل ہوئیں تو وہ واقعی قدرے خوفزدہ اور پریشان تھیں۔ تاہم، اس کے بعد، ان کی پچھلی بیویوں نے ان کی مہربانی سے مدد کی اور ان کی دیکھ بھال کی۔ 5ویں بیوی، نونگ پریری، ابتدا میں شادی کے اس "ماڈل” کی بہت مخالف تھی لیکن وہ زیادہ سے زیادہ پر اعتماد اور معاون ہوتی گئی۔

    نونگ موئے کی چھٹی بیوی اور ساتویں بیوی نونگ فلیم دونوں یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ مسٹر اونگ کئی بیویوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ تاہم، وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت دوستانہ مزاج خاندان ہے آٹھویں بیوی، نونگ مائی، نے شیئر کیا کہ بیویاں خاندان میں ایک دوسرے کے ساتھ بہنوں جیسا سلوک کرتی ہیں، بغیر کسی حسد کے۔

    گھر میں امن قائم رکھنے اور بیویوں کو ایک دوسرے سے حسد نہ کرنے میں مدد کرنے کے لیے، اونگ فیملی مینیجر ہے۔ پہلی بیوی بچوں کے ساتھ الگ کمرے میں سوتی تھی جبکہ دوسری بیویوں کے لیے الگ الگ کمرہ تھا۔ مسٹر اونگ ہمیشہ خاندان میں نظم و ضبط اور انصاف کو برقرار رکھنے کو یقینی بناتے ہیں۔ "جنسی معاملہ” کے بارے میں، ہر رات مسٹر ناتھاپون ترتیب سے بیوی کے ساتھ سو جاتے تھے۔

    اس سے پہلے مسٹر اونگ کافی مشہور تھے اور ان کے بہت سے مداح تھے۔ وہ ایک یوٹیوب کے چینل کے مالک ہیں جس میں اپنے ٹیٹو پروڈکٹس پوسٹ کرنے کرتے ہیں-

  • دنیا کا غلیظ ترین شخص کون ہے اور یہ پچھلے 67 سال سے کیوں نہیں نہایا

    دنیا کا غلیظ ترین شخص کون ہے اور یہ پچھلے 67 سال سے کیوں نہیں نہایا

    کراچی : صاف ستھرا رہنے والا انسان ہر کسی کو پسند ہوتا ہے چاہے وہ کوئی مسلمان ہو یا نا ہو۔ صفائی سے ہی انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ایک ایسا شخص بھی ہے جو پچھلے 67 سالوں سے اب تک نہیں نہایا۔

    80 سالہ ایرانی شہری آمو حاجی کو لگتا ہے کہ نہانے سے وہ بیمار ہوجائیں گے۔ اسی ڈر کی وجہ سے انہوں نے 67 سال پہلے نہانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ آدمی گندہ پانی اور مرے ہوئے جانوروں کا گوشت کھا کر اب تک زندہ ہے۔ ان کی صحت پر کسی قسم کا سائیڈ افیکٹ نہیں ہوا۔ یہ بالکل صحت مند ہے ۔

  • سانحہ مری اور ہم بطور قوم  ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    سانحہ مری اور ہم بطور قوم ،ازقلم محمد عبداللہ گِل

    وطن عزیز پاکستان کو رب تعالی نے بے پناہ خوبصورتی کے شاہکار سے نوازہ ھے جن میں خوبصورتی کا اعلی۔نمونہ اور ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ملکہ کوہسار مری بھی ھے۔عام حالات میں انتظامیہ نے اقدامات کیے ہوتے ہیں اور مکمل کوشش ہوتی ھے کہ سیاحوں کو سہولیات فراہم کی جائے۔لیکن سردیوں میں جب برفباری ہوتی ھے تو اس دلکش منظر سے ہر کوئی محظوظ ہونے مری کا رخ کر لیتا ھے جس سے مری کے داخلی اور خارجی راستوں پر رش ہو جاتا ھے۔سیاحوں کے کثیر تعداد اور انتظامیہ کے تیار نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہوئی۔اور ٹریفک کے بندش کے بعد درجہ حرارت بھی منفی تھا اور دس سال کی ریکارڈ برفباری کی وجہ سیاحوں کے لیے اپنی زندگیوں کا بچانا تقریبا نا ممکن ہو گیا تھا۔ایسے حالات میں 22 سے زائد افراد کی موت ہوئی جس میں 4 سال کے بچے میں شامل جن کے لیے ماں باپ نے سہانے خواب دیکھے ہوئے تھے اور جوان بیٹے بھی شامل جو ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا تھے اور وہ بھی شامل جو بچوں کے بچپن کے راجا تھے۔انتظامیہ نے بروقت انتظامات نہیں کیے اور اس نااہلی کی وجہ سے 22 افراد کی موت ہوئی۔جب 22 فرد اس جہان فانی سے چلے گئے تب حکومت کو بھی ہوش آیا اور آپریشن کیا گیا۔لیکن یہاں غم اور دکھ کی بات یہ ھے کہ جیسا کے سیاحوں سے معلوم ہوا کہ جب ٹریفک بند ہو گئی تو سیاحوں نے ہوٹل کا رخ کیا تو ان کو بتایا گیا کہ 1 کمرے کی قیمت 50 ہزار روپے ہیں،اگر کسی نے قضائے حاجت سے فارغ ہونا گے تو اس کو بھی پورا کمرہ بک کروانا پڑے گا اسی طرح وہاں کی تاجر برادری نے اشیا خورد نوش کی قیمتوں کو بھی آسمانوں پر پہنچا دیا مثال کے طور پر ابلا ہوا انڈا جو ویسے 20 سے 30 کا ملتا ھے مری میں 500 کا کر دیا گیا تھا۔ہائے افسوس صد افسوس!

    یہ جناح کا پاکستان ھے وہ پاکستان جس کے بننے کے لیے نے آبا نے اپنی ہر شے کو قربان کر دیا تھا آج ان کے ورثا اپنے بھائیوں کی زندگی میں بچانے میں ناکام ہو گئے بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔
    اس لیے تو کسی نے یوں کہا
    گنوا دی ہم نے آبا سے جو میراث پائی تھی
    ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا
    مری کے لوگوں نے انسانیت کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ہمارے اندر آج بطور قوم حمیت کا جذبہ ختم ہو چکا ھے۔
    قارئین! ادھر نوٹ کرنے والی بات یہ بھی کہ مشکل کی اس گھڑی میں بھی افواج پاکستان نے اپنی خدمات کو پیش کیا اور سڑکوں کو کھولا اور ٹریفک کی روانی کو ممکن بنایا۔یہ وہی فوج ھے جو دنیا بھر کی افواج میں سے کم بجٹ پر چل رہی ھے۔یہ وہی فوج ھے جو غداروں کے طعنے بھی سنتی ھے اور مفی درجہ حرارت میں کبھی سیاچن کے گلیشیرز پر ملک کی سرحد کی حفاظت کرتی ھے تو کبھی پورے پاکستان جس جگہ بھی آفت آئے تو افواج پاکستان کے جوان ہی اپنی جانوں پر کھیل کر اس ملک کی اندرونی اور بیرونی آفات سے حفاظت کرتی ھے۔اسی طرح یہاں پنجاب پولیس کو بھی سلام ھے کہ وہاں کے ڈی ایس پی مری جناب اجمل سٹی صاحب کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے مسلسل 48 گھنٹوں میں اپنی خدمات کو سرانجام دیا اور خود اترے اور لوگوں کی مدد کی۔اسی طرح میجر جنرل واجد عزیز صاحب کو بھی سلام ھے کہ انھوں نے افواج پاکستان کا لوہا ایک بار دوبارہ منایا اور 1 لاکھ سیاحوں کو بحفاظت مقامات تک پہنچایا۔میجر جنرل واجد عزیز کا کہنا تھا؛-

    "جتنا مرضی درجہ حرارت کم ہو جائے اس وقت آپریشن جاری رہے گا جب تک آخری سیاح بھی محفوظ مقام تک نہیں پہنچ جاتا”
    اگر سیاسی جماعتوں کی بات کرے تو سیاسی جماعتوں نے سوائے سیاہ ست کرنے کے عملی کام کچھ نہیں کیا۔نون لیگ کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مری حلقہ ھے انھوں نے وہاں جا کر ایک ٹکے کی مدد نہیں کی۔اگر وہاں موجود تھے تو محب وطن پاکستانی تحریک اللہ اکبر کے کارکنان،الخدمت فاؤنڈیشن کے کارکنان جنھوں نے وہاں جا کر لوگوں کی مدد کی۔تحریک اللہ اکبر اسلام آباد نے انتظامیہ کے تعاون سے سب سے زیادہ خدمت کا کام کیا اور امدادی کیمپ اور امدادی سامان کو پہنچایا۔اس پر مجھے یاد آیا
    ” جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں ”
    اسی لیے ہماری سیاسی پارٹیوں کو سیاست کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کی طرف دھیان دینا چاہیے اسی طرح مری کے مقامی عوام کو کوئی ہوش کے ناخن لینے چاہئے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    "جس نے ایک جان کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو بچایا”
    آج ملک پاکستان غم سے دوچار ہیں تو ہمیں بطور قوم اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہے اور اپنی اخلاقی اقدار کو بلند تر کرنا ھے
    پاکستان زندہ باد

    @Gill_Pak12

  • ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    ہمسفر زندگی ہے، تحریر:ڈاکٹر انعم خان

    محبت کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے
    انسانی فطرت سے ہی انسان انسان سے مانوس ہوتا ہے
    انسانی فطرت سے ہی دوسرے انسان کیلئے احساس پیدا ہوتا ہے
    اور جب یہ احساس دونوں طرف سے ہوتا ہے تو اسے محبت کہا جاتا ہے
    محبت ہمیشہ دو (رفیقوں) دوستوں کے درمیان ہوتی ہے اور دو رفیق بنے تو محبت کہلاتی ہے
    ایسا دوست (رفیق) جسکے ساتھ گہری محبت ہو اور مرنا جینا ایک ساتھ ہوجائے ہمسفر کہلاتا ہے.
    یہ ہم سفر اپنے آس پاس کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہوتا ہے
    ایسا ہمسفر جسے اپنے سے بڑھ کر اپنے دوست کی فکر رہے
    خوشی و غمی میں داد و تحسین و حوصلہ جیسی نعمت کو تقسیم کرتا رہے اور اسی طرح ایسا حوصلہ اسے اپنے ہمسفر کی طرف سے واپس ملتا رہے تو ناکامی کو اس دوران کوئی جگہ نہیں مل سکتی
    ایسی صورت میں کہ جب ناکامی سر پہ ہو اور ہمسفر اسے حوصلہ دے دے تو یہ ناکامی بھی کامیابی کا سا سکون عطاء کر دیتی ہے.
    یہ ایک حقیقت ہے کہ جس چیز کو جتنا تقسیم کیا جائے وہ چیز قدرت کی طرف سے اس کیلئے اتنی ہی زیادہ بڑھا دی جاتی ہے.

    محبت تو انسانی فطرت ہے
    لیکن نفرت کرنا انسان کو سکھایا جاتا ہے یا پھر وہ خود سیکھتا ہے
    اگر نفرت سیکھتا ہے تو وہ بھی کسی اپنے قریبی شخص سے ہی سیکھتا ہے جس کے ساتھ انسان کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا صحبت اختیار کرنا ہوتا ہے.
    انسان جیسا بھی ہو صحبت اسے بدل دیتی ہے
    اگر انسان برا ہے تو اچھوں کی صحبت اسے اچھا کر دیتی ہے اور اگر انسان اچھا ہے اور برے لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اس اچھے انسان کو برا بننے سے کوئی نہیں روک سکتا.
    اچھی صحبت اختیار کرنے پر بزرگان دین نے بہت زور دیا ہے.
    اور اس کی سیکنڑوں مثالیں اہل علم نے قلم بند کی ہیں
    جس میں سب سے بڑی مثال فرعون کی دی گئی ہے
    اہل علم فرماتے ہیں کہ فرعون پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب فرعون کو اپنے ضمیر نے جھنجوڑا تو وہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام پہ ایمان لانے کیلئے رضامند ہوگیا.
    لیکن چونکہ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا تو اس نے اپنے مشیر (ہامان) جسکی صحبت اختیار کرکے وہ فرعون بنا تھا سے مشورہ کیا کہ میں حضرت موسیٰ پہ ایمان لانا چاہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں.
    ہامان نے جب یہ بات سنی تو اس نے فرعون کی خوشامد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی سچے ہیں یہ بات ہر شخص جانتا ہے
    اب اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں جھوٹا تھا اور موسیٰ سچے ہیں تو جو آپ کے سنے سجدہ ریز ہوتے تھے وہی آپکو برا بھلا کہیں گے اور دشمن بھی بن جائیں گے.

    ہامان (جو فرعون کا ہمسفر) تھا کے اس مشورے کے بعد فرعون نے ایمان لانے کا ارادہ ترک کردیا اور اللہ نے فرعون کو قیامت تک کے آنے والے انسانوں کیلئے نصیحت کے طورپہ پیش کردیا.
    اہل علم کا یہ گمان ہے کہ اگر فرعون کو مخلص مشورہ دیا جاتا تو وہ ایمان لے آتا.
    لیکن اسے بری صحبت نے ہلاک کیا.
    انسان جس قدر بھی جتنا بھی کسی کو ناپسند کرتا ہو یا ہر ایک سے نفرت کا عادی ہو
    پھر بھی فطرتی طورپہ اس شخص کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جس کے سامنے محبت میں وہ اپنا سر تسلیم خم کردیتا ہے.
    انسان کی یہ محبت ماں باپ بہن بھائی اور رشتہ داروں کے بعد منتقل ہوتی ہے دوست میں اور یہ ایک نیا رشتہ جڑتا ہے انسان کی زندگی کے ساتھ
    اور اگر دوست مخلص ہو تو سارے رشتے یہاں آکے ماند پڑجاتے ہیں
    انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں اپنی دوست کی رائے کو مقدم رکھتا ہے
    اسے ہی ہمسفر کہتے ہیں
    ہمسفر ماں باپ بہن بھائی دوست یا پھر بیوی میں سے ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے
    جسے جدید دور کی تعلیم میں رول ماڈلز بھی کہا جاتا ہے
    یعنی انسان کسی ایک کا تابع ہوجاتا ہے اور پھر اسکے مشورے کے بغیر کوئی قدم بھی نہیں اٹھا سکتا.

    @Dr_Anam_

  • بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارت میں مادہ چیتے اور مگرمچھ کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات کی ادائیگی، تصاویر وائرل

    بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں 29 بچوں کو جنم دینے والے مادہ چیتے کی موت کے بعد اُس کی ہندو مذہب کے تحت آخری رسومات ادا کی گئیں-

    باغی ٹی وی : مادہ چیتے کی آخری رسومات کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں بھارت میں اس مادہ چیتے کو ’سپر موم‘ کا لقب دیا گیا، جس سے محکمہ جنگلات کے افسران و ملازمین اور بھارتی شہری بہت زیادہ پیار کرتے تھے اس مادہ چیتے کو مرکزی علاقے میں قائم پینچ ٹائیگر سینٹر میں رکھا گیا تھا جہاں وہ ہفتے کے روز 16 برس کی عمر میں ضعیفی کے باعث انتقال کر گئی۔

    79 سالہ برطانوی شہری پر بطخیں پالنے پر پابندی


    محکمہ جنگلی حیات کے نمائندے اشوک نے بتایا کہ سپرموم نے اپنی زندگی میں تقریباً 29 بچوں کو جنم دیا جن میں سے 25 کی افزائش ہوئی اور اب وہ جنگلوں میں ہیں مادہ چیتے کے مرنے کی خبر پر شہری افسردہ ہوئے اور انہوں نے انتظامیہ سے اس کی آخری رسومات ہندو مذہب کے تحت ادا کرنے کی سفارش بھی کی جس کو تسلیم کیا گیا۔


    سپر موم کو انسانوں کی طرح ایک تختے پر رکھ کر جنگل منتقل کیا گیا، جہاں لکڑیوں کو آگ لگا کر اُس کے جسم کو جلایا کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر سپر موم کو الوداع کہنے اور آخری رسومات کی تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔

    لداخ میں چین پل بنا رہا ،مودی افتتاح کرنے نہ پہنچ جائے، راہول

    دوسری جانب حال ہی میں حال ہی میں بھارت کے ایک گاؤں میں تقریباً 500 لوگوں نے 100 سالہ مگر مچھ کی آخری رسومات ادا کی تھیں یہ واقعہ چھتیس گڑھ کے بیمترا ضلع کے ایک گاؤں باواموہترا میں پیش آیا، جہاں لوگ کمیونٹی تالاب کے قریب جمع ہوئے اور یہ دیکھ کر رونے لگے کہ مگرمچھ مر گیا ہے۔

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق گنگارام کے نام سے مشہور، تین میٹر لمبے رینگنے والے جانور کی عمر تقریباً 130 سال تھی اور اسے آخری رسومات ادا کرنے کے بعد گاؤں میں دفن کر دیا گیا مگرمچھ کا پوسٹ مارٹم تمام گاؤں والوں کے سامنے کیا گیا۔

    ٹونگا میں سونامی سے ایک خاتون ہلاک


    مگرمچھ کی موت قدرتی وجوہات سے ہوئی اور اسے پھولوں اور ہاروں سے سجا کر ٹریکٹر پر اس کی آخری رسومات میں لے جایا گیا گاؤں کے ایک ذریعے نے مگر مچھ کے دوستانہ رویے کی تعریف کی اور کہا، "یہاں تک کہ گاؤں کے بچے بھی اس کے ارد گرد تیر سکتے تھے اور گنگارام نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا اور نہ ہی اس پر حملہ کیا ہے۔ اس گاؤں میں پوجا کی جاتی تھی۔”

    گاؤں کے لوگ اب تالاب کے قریب گنگارام کا مجسمہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے دوست کو یاد کر سکیں، جس نے گاؤں کو نیا نام "مگرمچھ والا گاوں” دیا تھا۔

    دوسری شادی کی خواہش، بیوی نے شوہر کی انگلیاں توڑ دیں

  • تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا

    نئی دہلی: بھارت کے ایک گاؤں میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق چھتیس گڑھ کے گاؤں راج ناند میں تین آنکھوں والے بچھڑے کی پیدائش کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور قدرت کے اس عجیب و غریب معجزے کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دور سے آ رہے ہیں بچھڑے کی ناک میں بھی 2 کے بجائے 4 سوراخ ہیں۔

    خاتون کے جگر میں حمل ٹھہر گیا،میڈیکل سائنس کا انتہائی منفرد واقعہ

    عجیب و غریب بچھڑے کی پیدائش نے دیکھنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بچھڑے کی تیسری آنکھ سر کے بیچ میں ہے علاقےمیں لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا واقعہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بچھڑے کی ناک اور کٹی ہوئی دم نے بھی لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔

    مقامی گاؤں والوں نے بچھڑے کو پھول چڑھانا شروع کر دیئے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد گاؤں میں آنے سے مقامی افراد کے چہروں پر بھی خوشی پھیل گئی ہے۔

    سخت سردی میں کھیت میں بے آسرا چھوڑی گئی نوزائیدہ بچی کو…

    قبل ازیں بھارت میں کینسر کے مرض میں مبتلا شخص کے دم توڑنے کے بعد آخری رسومات سے چنفد لمحے پہلے زندہ ہو گیا ریاست گجرات میں ایک عجیب و غریبب واقعہ پیش آیا ہے مردہ شخص شمشان گھاٹ میں عین اُس وقت جی اُٹھا جب لاش کو جلانے کیے لیے ماچس جلائی گئی-

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    کینسرمیں مبتلا ایک ضعیف العمر شخص کواسپتال میں منتقل کیا گیامریض کی حالت بگڑنےپراسے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا تاہم اہلخانہ وینٹی لیٹرکےاخراجات نہیں اُٹھا پا رہے تھےاہل خانہ نے اپنے مریض کو اسپتال سے لے جانے کی ضد کی مریض کو جیسے ہی وینٹی لیٹر سے ہٹایا گیا سانسیں بند ہوگئیں جس پر اہل خانہ مردہ سمجھ کر شمشان گھاٹ لے گئے۔

    مردہ شخص آخری رسومات سے چند لمحے پہلے زندہ ہو گیا

    شمشان گھاٹ میں مردے نے آنکھیں کھول دیں فوی طور پر ایمبولینس کو بلایا گیا اور پی آر سی کی گئی جس سے مریض مکمل طور پر جی اُٹھا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا پولیس نے اسپتال کے خلاف غفلت برتنے پر مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا-

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

  • دنیا  تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
    پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

    لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
    جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
    قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
    دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
    دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
    دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
    اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
    اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
    آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
    وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
    کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
    بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

    دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
    وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
    دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
    دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
    اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
    یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

    اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
    میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
    Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

    لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
    ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔

  • لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    لوگوں کی جانیں بچانے والا”گولڈ میڈلسٹ” چوہا چل بسا

    جنوب مشرقی ایشیا کے ملک کمبوڈیا میں لوگوں کو زیر زمین نصب بارودی مواد سے بچانے والا چوہا 8 سال کی عمر میں چل بسا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بیلجیئم کے خیراتی ادارے اپوپو کا تربیت یافتہ یہ چوہا اپنے ہینڈلرز کو مہلک بارودی سرنگوں سے آگاہ کرتا تھا تاکہ انہیں بحفاظت طریقے سے ہٹایا جا سکے مگاوا نامی خصوصی تربیت یافتہ چوہے نے اپنے پانچ سالہ شاندار کیریئر میں کمبوڈیا میں 100 سے زائد بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگایا۔

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر


    مگاوا، جو بارودی سرنگوں میں ایک کیمیائی مرکب کو سونگھ کر دھماکہ خیز مواد کا پتہ لگاتا تھا، نے مجموعی طور پر ایک لاکھ 41 ہزار مربع میٹر سے زیادہ زمین میں موجود بارودی سرنگوں کا پتہ لگایا جو کہ فٹ بال کے20 میدانوں کے برابر ہے اس رقبے میں میگاوا کی بدولت 71 بارودی سرنگیں اور38ایسےدھماکہ خیز مواد کی شناخت کی گئی جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں سکےمیگاوا نے اپنی نوکری ایمان داری سےادا کی اور ہزاروں افراد کی جان بچانے کافریضہ سرانجام دیا۔

    انجیکشن سےخوفزدہ شہری کورونا سے ہلاک

    اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں یہ بارودی سرنگیں اور مواد کو سن 1970 اور 1980ء کی دہائیوں میں ہونے والی خانہ جنگی کے دوران پھیلایا گیا تھا میگاوا کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر کمبوڈیا میں انہیں’ ہیرو چوہے‘ کا خطاب دیا گیا۔ گزشتہ سال میگاوا کو برطانیہ کے متعبر ترین اعزاز ’پی ڈی ایس اے‘ گولڈ میڈل نے بھی نوازا گیا تھا، جو کہ برطانوی شہریوں اور فوجیوں کو بہادری اور ہیروازم کا مظاہرہ کرنے والے ’ جارج کراس‘ کے برابر ہے۔

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی


    خیراتی ادارے اپوپو نے بتایا کہ اس مادہ چوہے نے ’گذشتہ ہفتے کا زیادہ تر حصہ اپنے معمول کے جوش و خروش کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزارا‘ اور ہفتے کے آخر میں پر سکون انداز میں انتقال کر گیا ویک اینڈ تک مگاوا نے ’سست ہونا شروع کر دیا تھا، زیادہ سوتا تھا اور اپنے آخری دنوں میں کھانے میں دلچسپی بھی کم کر دی تھی ہم سب کو مگاوا کے جانے کا دکھ ہے اور ہم اس کے ناقابل یقین کام کے لیے شکر گزار ہیں۔‘


    انہوں نے چوہے کی ’سونگھنے کی حیرت انگیز حِس‘ کی تعریف کی جس کی وجہ سے ’کمبوڈیا میں لوگوں کو زندگی یا اعضا کھونے کے خوف کے بغیر رہنا، کام کرنا اور کھیلنا نصیب ہوا۔

    گذشتہ سال جون میں جب مگاوا ریٹائر ہوا تو اس کی ہینڈلر ملین نے کہا کہ یہ ’سست‘ ہو رہا ہے اور وہ ’اس کی ضروریات کا احترام‘ کرنا چاہتی ہیں مگاوا کی کارکردگی ناقابل شکست رہی ہے اور مجھے اس کے شانہ بشانہ کام کرنے پر فخر ہے وہ چھوٹا ہے لیکن اس نے بہت سی جانیں بچانے میں مدد کی ہے جس سے ہمیں انتہائی ضروری محفوظ زمین جلد از جلد اور کم لاگت سے اپنے لوگوں کو واپس کرنے کا موقع ملا ہے۔


    ملک میں 1998 میں ختم ہونےوالی تین دہائیوں کی خانہ جنگی کےدوران 60 لاکھ تک بارودی سرنگیں بچھائی گئیں جنکی وجہ سےہزاروں افراد ہلاک ہوئےتنزانیہ میں پرورش پانے والے مگاوا کو کمبوڈیا میں بم تلاش کرنے سے پہلے ایک سال کی تربیت سے گزرنا پڑا۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    چوہے کا وزن اور قد عام چوہوں کی نسبت قدرے زیادہ تھا مگر اس کے باوجود وہ زیر زمین دبائی گئی بارودی سرنگ کو محسوس نہیں ہوتا تھا افریقی جائنٹ پاؤچڈ ریٹ نسل کا چوہا مگاوا 70 سینٹی میٹر لمبا اور 1.2 کلوگرام وزنی تھا۔ وہ صرف 20 منٹ میں ٹینس کورٹ کے جتنے بڑے میدان کو کھوجنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جس میں عام طور پر میٹل ڈیٹیکٹر سے لیس کسی شخص کو چار دن تک لگ جاتے تھے –

    دو سال قبل مگاوا کو برطانیہ میں جانورں کے فلاحی ادارے پی ڈی ایس اے نے ’کمبوڈیا میں مہلک بارودی سرنگوں کا پتہ چلانے اور انہیں صاف کرنے میں مخلصانہ کام کرنے پر‘ گولڈ میڈل سے نوازا تھا ایوارڈ حاصل کرنے والے 30 جانوروں میں سے مگاوا یہ اعزاز حاصل کرنے والا پہلا چوہا تھا۔

    سعودی عرب میں اونٹوں کے لئے دنیا کا پہلا اوپن ائیرلگژری ہوٹل توجہ کا مرکز بن گیا

  • باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    باغی ٹی وی ،کامیابی کے دس سال۔تحریر: ارم شہزادی

    12 جنوری کو قائم ہونے والے اس ڈیجٹیل پلیٹ فارم کو آج دس سال ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں ہونے والی مثبت تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی جس کا مرکزی دفتر لاہور میں ہے۔ اپنے اندر بے پناہ کامیابیاں اور کامرانیاں سمیٹیے ہوئے ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً 195 ممالک میں اسکی نشریات دیکھی جاتی ہے اور یہ بذات خود ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔چینل بنانے کا مقصد معاشرے میں پھیلی بدعنوانی، جہالت، ظلم اور زیادتی کے خلاف موٴثر آواز اٹھانا تھاتاکہ ان مسائل سے معاشرے کو نکال کر نئی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔ اس چینل کے ذریعے برائیوں پر جہاں آواز اٹھائی جارہی ہے وہیں معاشرے میں موجود مظلوم، محکوم لوگوں کی اواز بن کر انکے مسائل بھی حل کیے جارہے ہیں۔باغی ٹی وی کی رپورٹس پر حکام بالا نے کئی دفعہ کاروائی کرکے مطلوبہ مسائل بھی حل کیے جسکی وجہ سے لوگوں میں اسکے حق میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔ اس چینل کے ذریعے پچھلے سال رمضان میں 24گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلا کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔

    اور یہ منفرد اعزاز باغی ٹی وی کے علاوہ کسی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے پاس نہیں ہے۔باغی ٹی وی کا ایک صوبائی دفتر کراچی میں بھی ہے جہاں سے کراچی سمیت پورے سندھ میں خبریں اور تجزیے، تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں۔ باغی کی نشریات اس وقت چار بین الاقوامی زبانوں میں جاری ہے زبانوں میں اردو کے علاوہ انگریزی، چینی، اور اب پشتو میں بھی نشریات ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ اسکے مزید پھیلاؤ کے لیے ہمسایہ ممالک میں انکی زبانوں میں نشریات پیش کرنے پر کام جاری ہے۔ اور ان شاء اللہ بہت جلد ہمسایہ ملک بھارت کے کونے کونے میں باغی ٹی وی کی گونج ہوگی۔ یوں تو باغی ٹی وی کی پہچان ما شاء اللہ 195 ممالک تک ہے اور اس سے محبت اور عقیدت کا اظہار بھی ہورہا ہے۔لیکن اسکو اس مقام تک پہنچانے کے لیے اگر اس ہستی کا نام نا لیا جائے تو یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔جسکی وجہ سے آج باغی ٹی وی اس مقام پر ہے۔ جی ہاں بات ہورہی ہےسنئیر جرنلسٹ، تجزیہ نگار مبشر لقمان صاحب کی جو اس وقت باغی کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی آیا اس، پلیٹ فارم پر جب بڑے میڈیا مالکان نے اپنے ملازمین کی نا صرف تنخواہیں ضبط کیں بلکہ نوکری سے بھی نکالا، ان حالات میں بھی مبشر لقمان نا صرف اپنے ورکرز کے ساتھ کھڑے ہوئے بلکہ انہیں ہر طرح سے حوصلہ دیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف ویب چینلز پر عریاں تصاویر اور خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں جبکہ باغی ٹی وی پر اپ ایسا کچھ نہیں دیکھتے ہیں اس کی وجہ مبشر لقمان صاحب کا وہ نظریہ ہے کہ یہ چینل عوام کی اواز اور فلاح کے لیے ہے ناکہ عریانی کو فروغ دینے کے لیے۔

    ان دس سالوں میں جب بھی کوئی مشکل آئی تو باغی ٹی وی نے اگاہی کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا۔ کورونا کی مثال ہی لیجے جب یہ مشکل وقت چین سے شروع ہوا تب سے ہی باغی ٹی وی نے آگاہی کا کام شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔ جب بہت سے ادارے مشکل کی لپیٹ میں اکر خاموشی طاری کر لی اس وقت بھی باغی ٹی وی اپنی منفرد انداز اور منیجمنٹ کے ساتھ قائم بھی رہا اور مسائل سے لڑتے ہوئے اگاہی بھی فراہم کرتا رہا۔ معاشرتی مسائل میں سگریٹ نوشی پر بہت کام کیا ہےاور باغی کے پلیٹ فارم سے بہت سیمنار ہوچکے ہیں اگاہی پروگرام اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مسائل پر نا صرف گہری نظر ہے بلکہ اسکے لیے کسی بھی پریشانی کو خاطر میں نالاتے ہوئے کام جاری رکھا ۔ جس کی وجہ سے کئی بار مشکلات بھی پیش آئیں لیکن عزم و استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس پلیٹ سے جب کشمیر کے مظلوم لوگوں کی اواز دنیا تک پہنچائی گئی تو اکاؤنٹ پر انتظامیہ کی جانب کی سے دباؤ بھی بڑھا لیکن دباؤ کو خاطر میں نا لاتے ہوئے کام جاری رکھا۔ اس پلیٹ فارم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ نئے لکھنے والوں کو موقع دیا کہ وہ اپنے خیالات الفاظ کے زریعے یا زبان کے زریعے عام لوگوں تک پہنچائیں۔اس پلیٹ فارم کے زریعے بہت بہترین لکھنے والوں کو موقع ملا اور آج سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں پہچان دی ہے۔ کسی بھی ادارے کی کامیابی اس میں کام کرنے والوں کا جذبہ ہے جو اس میں جان ڈال دیتا ہے۔اس وقت یہ ادارہ ایک منظم اور مربوط جڑیں لیے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ آئیے دعا کرتے ہیں اپنے ادارے کے لیے کہ یہ یونہی کام کرتا رہے محنت سے لگن سے اور دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے۔
    جزاک اللہ
    @irumrae