Baaghi TV

Category: متفرق

  • دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کا معاشرے میں کردار، تحریر:حمیرا غفار

    دارالامان کو ”امن کا مسکن”بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ محروم خواتین کے لئے ایک گھر یا پناہ گاہ ہے، جو خواتین ظالم معاشرے سے مغلوب ہوتی ہیں اور جو بار بار نہ صرف لوگوں کے ظالم اور حیوانیت بھرے رویے کا سامنا کرتی ہیں،جن کی ہمت ٹوٹ جاتی ہیں اور اپنے بنیادی انسانی حقوق تک حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، ان کے لئے معاشرہ درد اور پریشانی کی جگہ ہے یا دوسرے لفظوں میں زمین جہنم سے کم نہیں ہے۔

    اس طرح کے حالات میں خواتین کے لیے معاشرہ پریشانیوں اور مایوسی کی جگہ بن جاتا ہے۔ ان کے حصے میں صرف ناانصافیاں آتی ہیں جو انہیں نا امیدی کی طرف لے جاتی ہیں۔ ان کے افسردہ دل اور ذہن معاشرے کی طرف سے نظر انداز ہونے کے بعد سکون اور امن کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کی ترجیح اس وقت دارالامان ہوتا ہے۔چونکہ شادی 30 بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ خواتین کے پاس شادی کے حقوق تک نہیں ہیں، وہ اپنی خواہش کے مطابق رائے دینے اور اپنے جیون ساتھی کا انتخاب کرنے کااختیار ہی نہیں رکھتیں۔

    والدین ایک لڑکی کی ڈھال ہوتے ہیں۔ وہ ان پر پورا بھروسہ کرتی ہے۔ جس شخص کے ساتھ والدین اس کو منسوب کرتے ہیں وہ خاموشی سے ان کی تابعداری کرتی ہے۔ مگر جب آگے کی زندگی میں اگر والدین کا فیصلہ غلط ثابت ہو تواکثر والدین بجائے لڑکی کو انصاف دلانے کے اس کو سب کچھ برداشت کرنے کا حکم دے دیتے ہیں۔ یہ حکم اس کے لیے موت کے فرمان سے کم نہیں ہوتا۔ اور جب وہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں طاقت کی بنیاد پر اپنے ہی والدین اور سسرال دباؤ ڈالتے ہیں یا انہیں ذبح کرنے کی دھمکیوں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جا تا ہے۔ ایسے حالات میں انہیں دارالامان پناہ دیتا ہے۔انہیں دارالامان میں امید کی کرن ملتی ہے۔

    دارالامان پاکستان کے تمام صوبوں میں قائم کیا گیا اور اس کی پروسیسنگ جاری ہے۔ مثال کے طور پر صوبہ سندھ کے شہروں جیسے کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں۔ صوبہ پنجاب میں تقریبا 34 اضلاع میں دارالامان سرگرم ہیں اور کام بھی کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے تشدد کا شکار خواتین کو پناہ دینے کے لیے تمام 8 ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں دارالامان قائم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خواتین میں حقوق کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہوا اور وہ اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ جانکاری حاصل کر نی لگی۔ نتیجتاً ہر ضلع میں شیلٹر ہوم کی ضرورت پیش آئی اور محکمہ نے دارالامان کا جال پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں پھیلا دیا۔ یہ گھر ایک وقت میں 20 سے 50 رہائشیوں کو ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔
    پاکستان کی خواتین ایک ایسے معاشرے میں رہ رہی ہیں جس میں ثقافت اور ذات پات کے نظام پر یقین رکھا جاتا ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے لئے ہر دن بے حد مشکل ہوتا ہے اور انہیں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف یہ اپنی نام نہاد ثقافتی روایات اور رسم و رواج کے لئے اپنے ہونٹوں پر مہر لگا دیتی ہیں جبکہ دوسری طرف وہ غیر منصفانہ سلوک اور گھریلو تشدد کے زہر کا گھونٹ پی رہی ہوتی ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان کے کچھ دیہی علاقوں میں خواتین کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ دارالامان جیسی تنظیم ہو جو نہ صرف پناہ اور تحفظ دے بلکہ ان کے حقوق حاصل کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالے۔

    ایک شخص کے لئے خاندان سے جدا ہونا زہر کا گھونٹ پینے کے مترادف ہے لیکن خواتین یہ بھی کر جاتی ہیں، خاص طور پر ان خواتین کے لئے جن کے ساتھ معاشرے نے تشدد کیا ہو۔دارالامان ویسے تو عورت کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے مگر کچھ چیزوں کی وجہ سے دارالامان کے تحفظ اور پناہ کے افعال سے نفرت ہو جاتی ہے،مطلب یہ ہے کہ دارالامان ان خواتین کے لئے اچھی طرح کام نہیں کر رہا ہے جو پرامن ماحول کے لئے دارالامان آتی ہیں۔یہ خواتین دوستانہ رویے کے مقصد سے دارالامان میں پناہ لیتی ہیں لیکن دارالامان کے کارکن ان سے اچھا برتاؤ نہیں کرتے۔ان کے لئے امن کا گھر جیل کے سوا کچھ نہیں ہے۔جگہ کی کمی کا مسئلے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ملتان دارالامان ہی کی ایک مثال ہے کہ یہ صرف 30 افراد کے لیے تعمیر کیا گیا تھا لیکن اس عمارت میں 80 خواتین رہائش پذیر ہیں اور ساتھ ہی اسی طرح ساہیوال میں 15 کی جگہ35 خواتین رہائش پذیر ہیں۔ یہ ان خواتین کے لئے کس قدر مشکل ہوگا یہ صرف و ہی جانتی ہیں۔ سیکورٹی کا مسئلہ بھی قابل غور ہے کیونکہ کچھ ہی سال پہلے ایک عورت کو باہر کے لوگ آ کر قتل کر کے چلے جاتے ہیں جنہوں نے اندر آکر بڑی آسانی سے اسے قتل کر دیا۔ اس کا نام فاریہ تھا اور 25 نومبر 2011 کے ڈان اخبار کے مطابق اس خبر پر روشنی ڈالی گئی۔ کوئٹہ کے دارالامان کا ایک اور کیس ہے جس میں تقریبا 15 یا 16 لڑکیاں دارالامان سے فرار ہوئیں۔ ان دونوں معاملات کے مطابق یہ واضح ہو گیا ہے کہ دارالامان سیکورٹی کے بارے میں کتنا باشعور ہے۔

    خلاصہ بحث یہ ہے کہ اگر خواتین دارالامان جیسی تنظیموں کی مدد سے انصاف کے لئے آواز اٹھاتی ہیں تو اداروں میں تبدیلیاں اور بہتری آ سکتی ہے اور اس کے علاوہ دارالامان کو اپنے کردار کو بہتر بناناچاہئے اور اپنے معیار کو بھی برقرار رکھنا چاہئے جو کہ ان کی اصلی شناخت کا ذریعہ ہے۔ عملے کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے مناسب تربیت حاصل کرنی چاہئے کہ وہ خواتین کو ان کی نازک ذہنی یا جسمانی حالت میں کبھی بھی افسردہ یا پریشان محسوس نہ ہونے دیں۔ مزید یہ کہ عملے کو خوشگوار ہونا چاہئے۔ اگر متاثرین کے اہل خانہ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت ہونی چاہئے۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ محروم عورتیں کبھی یہ نہیں سوچیں گی کہ انہیں ایک جہنم سے دوسرے جہنم میں لے جایا گیا ہے اور وہ آرام اور سکون سے اپنی زندگی گزار سکتی ہیں

  • انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    انگریز چین دشمنی کے ساتھ چین کے چائے کا فارمولا چرانے میں ملوث — عبدالحفیظ چنیوٹی

    دنیا کے دو ارب انسان روزانہ صبح کا آغاز چائے کی پیالی سے کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن وہ چائے کی متعلق نہیں جانتے۔

    چائے کی تاریخ

    2737 قبل مسیح میں چین کا بادشاہ

    شین ننگ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، کہ اس کاملازم اس کے لئے پینے کا پانی {گرم کرکے} کرلایا، اچانک اس درخت سے کچھ پتّیاں اس کھولے ہوئے پانی میں گریں اور پانی کا رنگ تبدیل ہوگیا، بادشاہ بہت حیران ہوا، اس نے وہ پانی پیا تو اسے فرحت اور تازگی محسوس ہوئی۔

    اور اسکے منہ سے "چھا” نکلا غالباً وہ حیران ہوگیا تھا کہ یہ کیا ہے؟؟

    اور اس نے اس درخت کا نام ہی "چھا” رکھ دیا جو بگڑ کر چاء ہوگیا اور اب چائے کہلاتا ہے۔

    وہ ماہرِ نباتات بھی تھالہٰذا اس نے وقتاً فوقتاً کھولے ہوئے پانی میں چائے کا پتّا ملا کر پینا شروع کردیا۔

    چائے دنیا کا پسندیدہ مشروب ہے۔ یہ چائے کے پودے کی پتیوں کو چند منٹ گرم پانی میں ابالنے سے تیار ہوتی ہے۔

    پھر اس میں ضرورت اور مرضی کے مطابق چینی اور دودھ ملاتے ہیں چائے میں کیفین کی موجودگی پینے والے کو تروتازہ کر دیتی ہے۔

    چائے اور اس کی انگریزی "ٹی” T گیا دونوں چینی زبان کے الفاظ ہیں۔ چائے کے پودے کا اصل وطن مشرقی چین، جنوب مشرقی چین ہے۔

    فارچیون ایسٹ انڈیا کا جاسوس تھا جو چین کے ممنوعہ علاقے میں گیا، وہاں جاسوس کی حیثیت سے کام کیا اور چائے کی کاشت کا صدیوں پرانا راز چرا کر لایا اور بھارت کے علاقہ آسام میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے فارچیون کی نگرانی میں پودے اگانا شروع کردئیے۔

    لیکن انھوں نے اس معاملے میں ایک سنگین غلطی کر دی تھی۔فارچیون جو پودے لے کر آیا تھا وہ چین کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے ٹھنڈے موسموں کے عادی تھے۔ آسام کی گرم موطوب ہوا انھیں راس نہیں آئی اور وہ ایک کے بعد ایک کر کے سوکھتے چلے گئے۔

    اس سے قبل کہ یہ تمام مشقت بےسود چلی جاتی، اسی دوران ایک عجیب و غریب اتفاق ہوا۔

    اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی خوش قسمتی کہیے یا چین کی بدقسمتی کہ اسی دوران اس کے سامنے آسام میں اگنے والے ایک پودے کا معاملہ سامنے آیا۔

    اس پودے کو ایک سکاٹش سیاح رابرٹ بروس نے 1823 میں دریافت کیا تھا۔

    یہ مقامی پودا چائے سے ملتا جلتا آسام کے پہاڑی علاقوں میں جنگلی جھاڑی کی حیثیت سے اگتا تھا۔

    لیکن زیادہ تر ماہرین کے مطابق اس سے بننے والا مشروب چائے سے کمتر تھا۔

    فارچیون کے پودوں کی ناکامی کے بعد کمپنی نے اپنی توجہ آسام کے اس پودے پر مرکوز کر دی۔ فارچیون نے جب اس پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ چینی چائے کے پودے سے بےحد قریب ہے، بلکہ ان کی نسل ایک ہی ہے۔

    آسام میں چائے کی پیداوار

    چین سے سمگل شدہ چائے کی پیداوار اور پتی کی تیاری کی ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ کارکن بے حد کارآمد ثابت ہوئے۔ جب ان طریقوں کے مطابق پتی تیار کی گئی تو تجربات کے دوران لوگوں نے اسے بہت زیادہ پسند کرنا شروع کر دیا۔

    اور یوں کارپوریٹ دنیا کی تاریخ میں انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی سب سے بڑی چوری ناکام ہوتے ہوتے بھی کامیاب ہو گئی۔

    دیسی چائے کی کامیابی کے بعد کمپنی نے آسام کا بڑا علاقہ اس ہندوستانی پودے کی کاشت کیلئے مختص کر کے اس کی تجارت کا آغاز کر دیا گیا اور ایک عشرے کے اندر یہاں کی پیداوار نے چین کو مقدار، معیار اور قیمت تینوں معاملات میں پیچھے چھوڑ دیا۔

    برآمد میں کمی ہونے کے باعث چین کے چائے کے باغات خشک ہونے لگے اور وہ ملک جو چائے کے لیے مشہور تھا، ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔

  • امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    امریکا: خطرناک برمیز سانپوں کے شکار کا سالانہ ایونٹ

    میامی: امریکی ریاست فلوریڈا میں پائتھون کے شکار کا سالانہ ایونٹ کا انعقاد ہوگیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق میامی میں سالانہ ایونٹ کے افتتاح کے موقع پر موجود حکام کے مطابق پائتھون کے شکار کا یہ مقابلہ آفیشلی مقامی وقت کے مطابق جمعے کی صبح سے شروع ہوا جو 15 اگست شام 5 بجے تک جاری رہے ہیں۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی


    جس میں فلوریڈا کی مرطوب زمین میں 800 سے زیادہ افراد خطرناک برمیز پائتھون کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ آٹھ دنوں تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں سب سے زیادہ سانپ مرنے والوں کو انعام میں ہزاروں ڈالرز ملیں گے۔

    حکام کے مطابق پیشہ ور اور نو آموز شکاریوں میں جو سب سے زیادہ سانپ مارے گاان کے لیے دونوں کیٹیگریوں میں 2500 ڈالرز کا انعام رکھا گیا ہے دونوں کیٹیگریوں کے لیے سب سے لمبے پائتھون کے شکار کے اضافی انعامات بھی ہیں۔

    بھارت: سانپ کے کاٹنے سے دو بھائیوں کی موت

    قواعد و ضوابط کے مطابق ہر پائتھون مردہ ہو اور اگر سانپ کو وحشی طریقے سے مارا گیا یا مقامی سانپ مارا تو شکاری کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    فلوریڈا کی خاتون اول کیسے ڈی سینٹِس کا کہنا تھا کہ یہ مقابلہ اس لیے اہم ہے کہ شکار کئے جانے والے ہر پائتھون کے سبب یہاں کے مقامی پرندوں، میملوں اور ریپٹائلز کا ایک شکاری کم ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق برمیز پائتھون فلوریڈا کا مقامی سانپ نہیں ہے اور اس کی خوراک پرندوں، میملوں اور دیگر رپٹائلز پر مشتمل ہوتی ہے دی نیشن پارک سروس کی رپورٹ کے مطابق ایورگلیڈز میں پہلا برمی ازگر 1979 میں دیکھا گیا تھا، اور 1990 کی دہائی کے دوران ان کی آبادی میں اضافہ دیکھا گیا تھا-

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ یہ سانپ جنوب مشرقی ایشیا کا ہے اور اس کی وجہ سے کئی مقامی نسلوں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بوبکیٹس، ہرن، ریکون، خرگوش اور لومڑی جیسے جانوروں میں کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ 10 – 20 فٹ لمبے سانپ شکاریوں کے خطرے کے بغیر زندہ رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔

    جنوبی فلوریڈا واٹر مینجمنٹ ڈسٹرکٹ کے ایک رکن رون برجیرون نے کہا کہ یہ سانپ قدرتی فوڈ چین کو تباہ کر رہے ہیں، اور آپ کو صحت مند فوڈ چین کے بغیر صحت مند ماحول نہیں مل سکتا ۔

    واضح رہے کہ سالانہ راؤنڈ اپ 2013 میں شروع ہوا تھا، اور ہر سال سینکڑوں سانپوں کے شکاری دس روزہ ایونٹ میں شرکت کرتے ہیں 2021 میں فلوریڈا پائیتھن چیلنج نے ایورگلیڈز سے 223 برمی پائتھنز کا شکار کیا تھا جبکہ سال 2000 کے بعد سے ایورگلیڈز کی مرطوب زمین کے ماحول سے 17 ہزار سے زائد پائتھون مارے جاچکےہیں-

    لندن: چڑیا گھر کے پنجرے میں مگرمچھ کی بجائے ہینڈ بیگ رکھنے کی وجہ کیا ہے؟

  • درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    کیلیفورنیا:امریکا میں دنیا کا بلند ترین زندہ درخت واقع ہے تاہم وہاں جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکڑوں سالوں سے، ’ہائپیریئن‘ کے نام سے جانا جانے والا درخت شمالی کیلیفورنیا کے ریڈ ووڈز نیشنل اور اسٹیٹ پارک کے اندر خاموشی سے کھڑا ہے یوٹیوبر، بلاگر اور دیگر افراد نے اس کی تفصیلات اور پتا دے کر لوگوں کے تجسس کو بڑھایا ہے اور لوگ ماحول کو نقصان پہنچا کر یہاں پہنچ رہے ہیں۔

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    کیلیفورنیا کے ریڈ وُڈ نیشنل پارک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کی حدود میں موجود ’ہائپیریئن‘ نامی درخت کو مُہم جُو حضرات سے شدید ماحولیاتی خطرات لاحق ہیں کیونکہ 2006ء سے یہاں راستہ نہ ہونے کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے اور درخت کو متاثر کررہی ہے اسی لیے اب اس کے قریب جانے پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

    ریڈووڈ نامی اس درخت کی اونچائی قریباً 116 میٹر(379.1 فٹ) ہے جس کا نامی یونانی دیوتا پر رکھا گیا ہے یہ پارک کے اندر بہت دور موجود ہے جہاں کوئی کچا پکا راستہ نہیں جاتااور اطراف میں سبزہ بھرا ہےاس کے باوجود لوگ یہاں آرہے ہیں اسے دیکھنے کے لیے سیاح سبزے کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں جس سے ماحول کو دگنا نقصان ہورہا ہے۔

    چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    پارک سے وابستہ ایک افسر، لیونل آرگیلو نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم ایسا کر رہے ہیں کیونکہ ہماری نظر وسائل کے تحفظ اور زائرین کی حفاظت پر مرکوز ہے کیونکہ پارک کی گہرائی میں جی پی ایس اور موبائل فون کے سگنل بہت ہی کمزور ہیں جس کے بعد زخمی یا بھٹک جانے والے افراد کی تلاش اور بحالی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ دوسری جانب درخت کے تنے کی ٹوٹ پھوٹ اور متاثرہ ہونے کا عمل بھی انسانی مداخلت سے بڑھ چکا ہے یہاں تک کہ لوگ یہاں جانے والی راہ پر جگہ جگہ کچرا پھینک رہے ہیں اور سبزے کو بطور بیت الخلا استعمال کررہے ہیں-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

  • ڈر —- بلال شوکت آزاد

    ڈر —- بلال شوکت آزاد

    دنیا میں سب سے بڑا منافع بخش کاروبار ڈر کا ہے اور دنیا کی ہر پراڈکٹ خواہ اس کا تعلق انسانی زندگی کی ضروریات سے ہو یا نفسیات سے, ان کے فیچرز اینڈ بینفٹس میں ڈر ایک ایسا جزو ہے جو مشترک عنصر ہے۔

    مذاق نہیں آپ اسلحے سے لیکر ادویات تک کا موازنہ کریں, لباس سے لیکر خوراک تک کا موازنہ کرلیں, سیاست سے لیکر نظریات تک کا موازنہ کرلیں اور مذاہب سے لیکر عقائد تک کا موازنہ کرلیں۔ ۔ ۔ آپ کو ان سب کے موازنے میں جو چیز سب سے زیادہ ملے گی وہ ڈر ہوگی۔

    مطلب دنیا کو پہلے ڈرایا جاتا ہے, بار بار بتا کر ڈر کا ماحول اور نفسیات تیار کی جاتی ہے اور پھر اپنی پراڈکٹ تھما دی جاتی ہے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں آپ یہ لیں اور ڈر کو بھول جائیں۔

    آپ جانتے ہیں ڈر سے سب سے زیادہ فائدہ دنیا بھر کے کون سے عناصر اٹھارہے ہیں؟

    ہر ملک کی افواج اور ایجنسیاں, سیاسی پارٹیز, بیوروکریسی, عدلیہ اور ماس میڈیا۔ ۔ ۔ ان کے بعد سرمایہ دار ذاتی حیثیت میں فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ اجتماعی حیثیت میں وہ پہلے مذکورہ کیٹیگریز میں فال کرچکے ہیں اور پھر ان کے بعد باقی ساری دنیا کے وہ افراد اور ادارے ہیں جن کی طاقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔

    انسان کو ڈر نے ایک نادیدہ دائرے میں مقید کردیا ہے اور جب آپ دائروں میں مقید ہوجاتے ہیں تب آپ کی دیکھنے, سوچنے, سمجھنے اور مشاہدہ کرنے کی طاقت سلب ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ آپ پھر وہی دیکھتے, سوچتے, سمجھتے اور مشاہدہ کرتے ہیں جو آپ کو ڈرانے والے آپ کے دائرے میں بٹھا کر دکھاتے اور سمجھاتے ہیں۔

    اس سے زیادہ کھل کر بھی میں بیان کرسکتا ہوں اور مثال بھی دے سکتا ہوں لیکن وہ پھر بہت سے نامی گرامی ہستیوں کو گراں گزرنے کا اندیشہ ہے لہذا میرے لیے اب یہی سدرہ المنتہی ہے کہ اس سے آگے میرے پر جلنے کا شدید اندیشہ ہے لہذا تھوڑے لکھے کو ہی بہت جانو۔

  • نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    نفرتوں کوگڈبائےکہیں — اسامہ منور

    یہ بات صد فیصد درست ہے کہ اس نیلے آسمان تلے آپ سب کو خوش نہیں رکھ سکتے. اور نا ہی سب کی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں لیکن سب کو مطمئن تو کیا جا سکتا ہے.

    اپنے اچھے اخلاق، عمدہ زبان اور میٹھے بول سے. ہر شخص غصے سے بھرا ہے. ہر ایک جانی انجانی. آفات میں گھرا ہوا ہے. ہر کوئی اپنے اندر ایک لاحاصل جنگ لڑ رہا ہے.

    تو ایسی صورتحال میں ضرورت ہے. زخموں پر مرہم رکھنے کی نا کہ نمک چھڑکنے کی. دنیا پیار محبت کی بھوکی ہے. ہر ایک عزت پانا چاہتا ہے… ہر ایک کی خواہش ہے کہ اس کا احترام کیا جائے.

    تو اگر ہمارے میٹھا بولنے سے. یا گالی سن کر مسکرانے سے. یا لڑائی میں حق پر ہوتے ہوئے بھی پیچھے ہٹ جانے سے. یا کھیل میں جیت کر ہارنے والے کو گلے لگانے سے یا ناراض رشتہ دار کو منانے سے. بہت بڑے فساد سے بچا جا سکتا ہے.

    یا اگر آپ کی ہار سے کوئی جیت جاتا ہے . تو ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں. یقین کیجئے ایسا کرنے کے بعد بھی آپ مرد ہی رہیں گے. آپ کی مردانگی میں کوئی فرق نہیں آئے گا.

    ہاں اپنے اس فعل سے آپ اپنے مقابل کا دل ضرور جیت لیں گے. اپنے اندر صبر و تحمل اور برداشت کو جگہ دیجئیے. یہ تینوں مل کر آپ کے اخلاق کو سنواریں گی اور اچھے اخلاق سے آپ دنیا کی کوئی بھی جنگ بغیر لڑائی کیے جیت سکتے ہیں.

    جھگڑے کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتے اور نا ہی ضد کبھی جیتتی ہے. پھل پانا چاہتے ہیں تو ہلکا سا جھک جائیں. اور فراخدلی کے ساتھ . دلوں کو جیتنا سیکھیں.. آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے.

    لوگ نجانے نفرتوں کے لیے کہاں سے وقت نکال لیتے ہیں جب کہ محبتوں اور چاہتوں کے لیے تو یہ زندگی بہت چھوٹی ہے.

  • پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    پاکستان ریلوے کا نوحہ اور اس کا سدباب — نعمان سلطان

    موجودہ وقت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کی وجہ سے جہاں اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے وہیں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی بےپناہ اضافہ ہوا ہے جسکی وجہ سے مسافروں کا سفری بجٹ بھی متاثر ہوا ہے جن لوگوں کے پاس ذاتی ٹرانسپورٹ ہے ان کی اکثریت نے مہنگائی سے تنگ آکر سفر کے لئے مسافر گاڑیوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا جبکہ جو لوگ مسافر گاڑیاں استعمال کرتے تھے ان کی اکثریت نے لانگ روٹ کے سفر کے لئے ریل گاڑیوں کا استعمال شروع کر دیا.

    کچھ عرصہ پہلے لوگوں کی سفر کے لئے پہلی ترجیح ریل گاڑی ہوتی تھی کیونکہ ریل گاڑی میں عام مسافر گاڑیوں کی نسبت زیادہ سہولیات فراہم کی جاتی تھی. ریل میں دوران سفر اگر آپ بیٹھ بیٹھ کر تھک گئے تو گاڑی میں چہل قدمی کر سکتے ہیں دوران سفر بچے ایک جگہ مستقل نہیں بیٹھتے ہیں اور والدین کو تنگ کرتے ہیں ریل میں وہ آزادی سے کھیل کود سکتے ہیں. اس کے علاوہ ٹوائلٹ کی سہولت بھی میسر ہے.

    دوران سفر ٹرین مختلف اسٹیشنوں پر رکتی ہے وہاں سے آپ اپنی ضروریات کی چیزیں لے سکتے ہیں اس کے علاوہ ٹرین میں بھی لوگ اشیاء بیچنے وقفے وقفے سے آتے رہتے ہیں جن سے آپ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکتے ہیں. ٹرین میں برتھ کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے اگر آپ لمبے سفر پر جا رہے ہیں تو برتھ بک کرا لیں اور راستے میں جہاں آرام کی ضرورت محسوس کریں برتھ پر لیٹ کر آرام دہ نیند سے لطف اندوز ہوئیں.

    اس کے علاوہ مسافروں کی استطاعت کے مطابق ٹکٹ اکانومی کلاس، اے سی اور بزنس کلاس میں بھی میسر ہے. مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اور ان کی شکایات کے ازالے کے لئے ریلوے پولیس کی سہولت بھی میسر ہے.اس کے علاوہ بزرگ شہریوں اور بچوں کے لئے ٹکٹوں کی قیمت میں رعایت اور متعدد سہولیات کی فراہمی کی وجہ سے پاکستان ریلوے کو دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں پر واضح فوقیت حاصل تھی اور عرصہ دراز تک لوگوں کی پرسکون سفر کرنے کے لئے اولین ترجیح پاکستان ریلوے ہی رہی ہے.

    پھر جیسے دن کے بعد رات اور خوشی کے بعد غمی ہوتی ہے ایسے ہی پاکستان ریلوے کو بھی حاسدوں کی نظر اور دیگر پرائیویٹ کمپنیوں کی سازش کھا گئی. کیوں کہ جب تک پاکستان ریلوے میں دستیاب سہولیات انتہائی مناسب پیسوں میں میسر تھی دیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی تھی اور سرمایہ کاروں کی انویسٹمنٹ ڈوب سکتی تھی سرمایہ کاروں کے سینے میں دل نہیں بلکہ کیلکولیٹر ہوتا ہے وہ فیصلہ جذبات سے نہیں بلکہ نفع نقصان دیکھ کر کرتے ہیں.

    تو سرمایہ کاروں نے پاکستان ریلوے کو اپنی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف سازشیں شروع کی سب سے پہلے دودھ کی راکھی پر بلا بٹھایا اور پاکستان ریلوے کی وزارت ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے سربراہ کے حوالے کر دی جس نے ریلوے کی تباہی کی بنیاد رکھ دی اور اس کے دور وزارت میں ہر گزرتے دن ریلوے کا معیار بدتر سے بدتر ہوتا گیا.

    وقت پر ٹرینوں کا منزل پر نہ پہنچنا، پرانے انجن اور ڈبے، مشینری میں گھٹیا پرزوں کے استعمال کی وجہ سے دوران سفر ٹرینوں کا خراب ہونا، پٹریوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کا ہونا، ریلوے عملے پر سے چیک اینڈ بیلنس ختم کرنے کی وجہ سے عملے کا بے لگام ہونا، سیاسی اور ضرورت سے زائد افراد کی بھرتیاں، سہولیات کی عدم دستیابی، شکایات کی صورت میں شکایت کنندہ کی دادرسی نہ کرنا، ریلوے اراضی پر قبضہ کر کے اونے پونے داموں فروخت کرنا الغرض جہاں تک ممکن تھا پاکستان ریلوے کا نقصان کر کے ایک انتہائی نفع بخش ادارے کو خسارے میں لے جایا گیا.اور مسافر ٹرین کے سفر سے متنفر ہو کر نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی گاڑیوں پر سفر کرنے لگ گئے.

    موجودہ مہنگائی کی جو لہر آئی ہے اس میں سفر کرنے کے لئے ٹرین کا سفر ہی ایک متوسط طبقے کے فرد کے لئے مناسب ہے اور گورنمنٹ کے لئے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ دوبارہ سے سہولیات کی فراہمی کر کے، لوگوں کی شکایات دور کر کے اور ٹرینوں کے منزل پر پہنچنے کے اوقات کی سختی سے پابندی کرا کے مسافروں کو دوبارہ سے ٹرین کے سفر کی طرف راغب کر سکتی ہے اس طرح جہاں متوسط اور غریب طبقے کے افراد کو سفری سہولیات حاصل ہوں گی وہیں گورنمنٹ کا ادارہ بھی نقصان سے دوبارہ نفع میں چلا جائے گا اور گورنمنٹ کی طرف سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے لوگوں کے جو سفری اخراجات بڑھے تھے وہ بھی دوبارہ قابو میں آ جائیں گے.اور لوگوں کو حکومت سے جو شکایات پیدا ہوئی ہیں ان کا بھی کسی حد تک ازالہ ہو جائے گا.

  • دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو! — حافظ گلزارعالم

    خوش طبع بنئے، ہنس مکھ بنئے، خوشیاں بانٹئے۔ دو دن کی زندگی سے خود بھی لطف اندوز ہوں۔ دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ کبھی کسی کو دکھ نہ دیں۔ کبھی کسی کی دل آزاری ہو تو معافی میں پہل کریں۔ آپ ہردلعزیز بن جائیں گے۔

    دنیا میں ہر طرح کے اچھے برے لوگ بستے ہیں، سب اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں، جو خوشیاں بانٹتے ہیں، دوسروں کے دکھ درد میں، اور خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کسی کے لئے دل میں برائ نہیں رکھتے۔

    جس قدر ممکن ہو۔ خلق خدا کو نفع پہنچائیے۔ آپ کے بگڑے کام بنتے رہیں گے۔ اور اللہ آپ کو وہاں سے عطا کرینگے۔ جہاں سے آپ کا گمان بھی نہ ہوگا۔

    احادیث مبارکہ میں خلق خدا کو خوش رکھنے پر بڑی بشارتیں آئ ہیں۔
    1. حضرت انس اور حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال یعنی کنبہ ہے، پس اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق میں زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو اس کے عیال (مخلوق) کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہو ۔
    رواہ البیہقی فی شعب الإیمان، مشکوٰۃ/ص:۴۲۵/ باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق/الفصل الثالث

    2.اللہ کا جو بندہ بیوہ اور کسی بے سہارا عورت، اسی طرح کسی مسکین حاجتمند کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتا ہو، ان کی خدمت کا کوئی کام کرتا ہو تو وہ عمل بھی عبادت ہے، اور اجر وثواب میں اس مجاہد کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جد وجہد کرنے والا ہے، دونوں کا اجر وثواب برابر ہے ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال یہ ہے کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ’’خدمت خلق پر وہ اجر وثواب ملتا ہے جو دن بھر روزہ رکھنے والے کو اور رات بھر عبادت کرنے والے کو دیا جاتا ہے۔”
    متفق علیہ، مشکوٰۃ:۴۲۲/ باب الرحمۃ والشفقۃ علی الخلق

    3. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“
    أبو داود والترمذي وأحمد

    ان احادیث مبارکہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے۔ سو جو اس کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرے۔ وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

    اسی کو ایک شاعر نے کہا

    یہ پہلا سبق ہے کتابِ ُہدیٰ کا
    کہ مخلوق ساری ہے کنبہ خدا

    عارف شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

    ز تسبیح وسجادہ و دلق نیست
    طریقت بجز خدمت خلق نیست

    یعنی تسبیح ہاتھ میں لے کر،مصلیٰ پر بیٹھ کر گوشہ میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے اور گدڑی پہننے کا نام ہی عبادت نہیں ، بلکہ خیر کی نیت سے خیر کے کام انجام دینا نیز ضرورت کے موقع پر مخلوق کے کام آنا بھی نہایت اہم عبادت ہے ۔

    حضرت احمد علی لاہوری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک پاؤں ریل گاڑی کے پائیدان پر ہو اور دوسرا پلیٹ فارم پر اسی حالت میں مجھے کوئی آواز دے کر پوچھے کہ احمدعلی ذرا گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے مجھے یہ بتادیجئے کہ پورے قرآن کا خلاصہ کیا ہے؟ تو میں کہہ دو نگا کہ پورے قرآن کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کو راضی کرو عبادت کے ذریعہ ،محمدالرسول اللہ ؐکو راضی کرو اطاعت کے ذریعہ ،صحابہ کرا م کوراضی کرو محبت کے ذریعہ اور مخلوق خدا کو راضی کروخدمت کے ذریعہ۔

    الغرض یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت بن سکتی ہے، اگر ہم بھائ بھائ بن کر رہیں۔ صرف اپنا ہی فائدہ نہیں،سب کا فائدہ سوچیں۔ دلوں کی نفرتوں کو ختم کریں۔ سندھی پنجابی بلوچی پٹھان ضرور رہیں۔ مگر اس بنیاد پر کسی سے خود کو بہتر نہ سمجھیں، اور نہ دوسروں کو کمتر سمجھیں۔

    اور آخری دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ جس قدر ممکن ہو متاثرین تک اپنی امداد خود پہنچائیں،یا ایسے معتبر رفاہی اداروں کے ساتھ تعاون کریں جو متاثرین تک امداد پہنچا رہے ہیں۔ اور دعا بھی کریں کہ اللہ ان تمام متاثرین کی مدد فرمائے، اور نقصان کا ازالہ فرمائے آمین۔

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی خوبصورت شہر چنیوٹ کا مختصر تعارف — عبدالحفیظ چنیوٹی

    جغرافیہ:

    چنیوٹ سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان میں واقع ہے۔ لاہور جھنگ روڈ بھی چنیوٹ میں سے گزرتی ہے۔ یہ لاہور سے 158 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 10 مربع کلومیٹر ہے اور یہ سطح سمندر سے 179 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ چنیوٹ کا ہمسایہ شہر چناب نگر ہے جو دریائے چناب کے دوسری جانب واقع ہے۔ چنیوٹ شہر میں مساجد کی تعداد بہت زیادہ ہے، ہر دوسری سے تیسری گلی میں مساجد ہیں، یہاں حفاظ قرآن کریم کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    چنیوٹ کے مشہور مقامات:

    یوں تو چنیوٹ میں کئی مذہبی، ثقافتی، اورتاریخی مقامات ہیں لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل ہے۔

    بادشاہی مسجد چنیوٹ:

    بادشاہی مسجد چنیوٹ جو بادشاہی مسجد لاہور کی طرز پر بنائی گئی ہے چنیوٹ کی خوبصورت اور قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے. اسے پانچویں مغل بادشاه شاہ جہاں کے وزیر سعدالله خان نے سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر کروایا مسجد مکمل طورپر پتھر کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے تمام دروازے لکڑی کے بنے ہوئے ہیں اور آج تک اس کے دروازے بغیر ٹوٹ پھوٹ کے اپنی جگہ قائم ہیں۔ بادشاہی مسجد لاہور کا فرش سفید سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ مسجد کے صحن کا فرش سنگ مرمر سے بنا تھا۔ اسے 2013ء میں سنگ مرمر سے اینٹوں کے فرش میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم مسجد کا اندرونی فرش ابھی تک سنگ مرمر کاہی ہے۔ مسجد کے سامنے موجود شاہی باغ مسجد کے حسن میں اضافہ کر دیتا ہے۔

    عمر حیات محل:

    آپ کبھی جب شہر چنیوٹ آئیں تو کسی سے وہاں کے ’’تاج محل‘‘ کے بارے میں ضرور پوچھنا، یہ عمارت اپنے طرزِ تعمیر میں منفرد
    اور آرائش کے اعتبار سے نہایت خوب صورت تھی۔ کلکتہ کے ایک کام یاب تاجر شیخ عمر حیات نے ہجرت کے بعد اسے اپنے بیٹے کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام گلزار حیات تھا۔ اسی لئے یہ عمارت گلزار منزل بھی کہلاتی ہے۔ کہتے ہیں 1935 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی۔ چودہ مرلے پر محیط یہ محل تہ خانوں سمیت پانچ منزلوں پر مشتمل تھا۔

    محل کی انفرادیت اور خاص بات اس میں لکڑی کا کام تھا۔ یہ سارا کام اس زمانے کے مشہور کاری گر استاد الٰہی بخش پرجھا اور رحیم بخش پرجھا نے انجام دیا تھا۔ لکڑی اور کندہ کاری کے کام کے حوالے سے ان کا چرچا انگلستان تک ہوتا تھا۔

    مرکزی گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں گے تو آپ کی نظر سامنے کی انتہائی خوب صورت دیواروں پر پڑے گی۔ داخلی دروازے کے ساتھ نصب دو میں سے ایک تختی پر استاد الٰہی بخش پرجھا سمیت ساتھی مستریوں اور کاری گروں کے نام درج ہیں جب کہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔ خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی دل کشی منفرد ہے۔

    دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوب صورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فنِ تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937 میں تعمیر مکمل ہونے سے دو سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد تو گویا یہ محل مقبرہ ہی بن گیا۔

    شیخ عمر حیات تو دنیا میں نہیں رہے تھے، مگر ان کا خاندان یہاں آبسا تھا۔ گل زار کی والدہ فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی، مگر شادی کی اگلی ہی صبح بیٹا دنیا سے کوچ کر گیا۔ یہ ایک پُراسرار واقعہ تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور خود بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔

    وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ اس کے بعد ان کے ورثا نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گل زار اپنی ماں کے ساتھ آج بھی اسی محل میں آسودۂ خاک ہے۔
    عمر حیات کے ورثا کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اس خاندان کے نوکر یہاں کے مکین رہے۔ بعد ازاں اس عمارت کو یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں کے ایک ہال کو لائبریری میں بھی تبدیل کیا گیا مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوگئی۔

    چنیوٹ کا پل:

    چنیوٹ کا پل (یا چناب نگر کا پل) کنکریٹ (concrete) سے بنا ایک پل ہے۔ جو چنیوٹ میں دریائے چناب پر واقع ہے۔ یہ 520 میٹر لمبا ہے جبکہ 17۔8 میٹر چوڑا ہے۔ یہ ختم نبوت چوک سے 4.6 کلو میٹر اور چنیوٹ ریلوے سٹیشن سے 3.3 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    چنیوٹ کا مندر:

    چنیوٹ کے محلہ لاہوری گیٹ میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول محکمہ اوقاف کی ملکیت ایک پرانے مندر میں قائم ہے۔یہ مندر قیام پاکستان سے قبل 1930ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا جسے کرتاری لال یا کلاں مندر کہا جاتا ہے جبکہ یہاں سے گزرنے والی سڑک کو بھی مندر روڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مندر کی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں سب سے نیچے والی منزل میں سکول جبکہ بیرونی طرف 11 دکانیں اور ایک گودام موجود ہے جبکہ دوسری منزل کو خستہ حالی کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    اس عمارت کی چھت پر خستہ حال مندر کے کلس اور چوبرجیوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ 1947ء میں جب ہندوستان اور پاکستان کے نام سے دو نئے ملک وجود میں آئے تو یہ مندر تعمیر کے آخری مراحل میں تھا تاہم ہندو آبادی کی بڑی تعداد ہجرت کر کے بھارت چلی گئی جس پر اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد کبھی کبھار چنیوٹ کے قدیم ہندو باشندے اس کی زیارت کرنے کے لیے یہاں آ جاتے تھے لیکن دسمبر 1992ء میں جب بھارت میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو اس کے بعد ہندو زائرین کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔

    اس موقع پر یہاں بھی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے مندر کو مسمار کرنے کی کوشش کی جو انتظامیہ کی مداخلت کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے اس عمارت میں سکول اور پھر خواتین کو ہنرمند بنانے والا ادارہ کام کرتا رہا جبکہ 1997ء میں میونسپل کارپوریشن نے اس جگہ باقاعدہ طور پر پرائمری سکول قائم کر دیا۔

  • اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    اپنی صحت کا خیال رکھیں — عبدالحفیظ چنیوٹی

    عناب: جادوئی دوا

    عناب ایک مشہور پھل ہےجو بیر کی مانند گول ہوتا ہے اس لئے اسے عناب کا بیر کہا جاتا ہے، یہ پھل جب کچا ہوتا ہے تو ہرے رنگ کا ہوتا ہے اور پکنے کے بعد اس کا رنگ سرخ اور جامنی ہو جاتا ہے ۔ یہ ایک لو کیلوری فروٹ ہے جس کا ذائقہ میٹھا اور سیب سے ملتا جلتا ہوتا ہے،

    اچھا عناب سرخ ، گودےوالا ، میٹھا اور اندر سے کیڑے کے بغیر ہوتا ہے۔

    عناب کو چینی کھجور بھی کہا جاتا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے
    لیکن پکانےاورسکھانے سے اس کی
    افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    اس کو بطور میوہ کھایاجاتا ہے۔ عناب کو بطور دوابھی مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔
    اس پھل کا استعمال نیا نہیں بلکہ یہ پھل 4000 سال سے ہربل دوائیں بنانے کے لئے چین میں کثرت سے استعمال ہو رہا ہے۔
    یہ پھل کچا بھی کھایا جاتا ہے لیکن پکانے اور سکھانے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اس سے شربت عناب بنایا جاتا ہے۔
    عناب ایک ایسی قدرتی خزانوں سے مالا مال جڑی بوٹی ہے جس کے بہت زیادہ فائدے ہیں،
    جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

    خون کی بیماریوں کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے:
    ایسے افراد جو آئرن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور آئرن کے سپلیمنٹ کھاتے ہیں یا خون کی کمی کے باعث تھکان ،ذہنی اور جسمانی کمزوری اور اعصابی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں انھیں اسکا استعمال کرنا چاہئے کیوں کہ اس میں فاسفورس اور آئرن وافر مقدار میں ہوتا ہے۔

    جسم سےزہریلےمادوں کو خارج کرتا ہے:
    غیر ضروری مادوں سے پاک کرتا ہے۔

    خون کی حدّت کو کم کرتا ہے:
    جن لوگوں کا خون گرم ہوتا ہے ان کی جلد پر دانے نمودار ہو جاتے ہیں،

    ایسے میں طرح طرح کی کریمیں استعمال کرنے سے دانے نکلنا بند نہیں ہوتے بلکہ جلد مزید خراب ہو جاتی ہے ایسی صورتحال میں عناب کے دس سے بارہ دانے پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ پیا جائے تو خون کی گرمی کم ہوتی ہے اور چہرے پر تازگی آتی ہے۔

    چونکہ یہ وٹامن سی ،اے اور پوٹاشیم سے بھر پور ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ موسمی بخار ،سردی، اور خشک اور بلغمی کھانسی سے بھی بچاتا ہے۔

    یہ گلے کی سوزش کو دور کرتا ہے،زکام کے باعث بیٹھی آواز کو جلد بہتر کرتا ہے۔

    عناب کا قہوہ وزن کم کرنے میں معاون:
    عناب کا جوشاندہ نزلہ اور کھانسی میں بہت مفید ہوتا ہے۔
    دو گلاس عناب میں دو چمچ عناب،ایک دار چینی کا ٹکڑا، پانچ لونگ ڈال کر جوش دیا جائے اور اوپر سے شہد ڈال کر پیا جائے تواس قہوہ کے استعمال سے موسمی فلو سے بھی حفاظت ہو جاتی ہے اس کو وزن کم کرنے کے لئےروز رات کے کھانے کے بعد استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    پیٹ کے امراض میں مفید:
    قبض اور پیٹ کے دیگر امراض میں یہ پھل انتہائی مفید ہے ۔خشک عناب کا پاؤڈر ہاضمہ بہتر بناتا ہے اور بھوک کھولتا ہے۔

    اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے:
    یہ پھل اعصابی نظام کو قوت دیتا ہے ایسے افراد جو کسی مستقل پریشانی ،صدمہ یا غم کا شکار ہوں اور ان کے اعصاب کمزور ہو گئے ہوں عناب کے مستقل استعمال سے ان کو فرحت ملے گی۔اس لئے اسے اینٹی ڈیپریسنٹ بھی کہا جاتا ہے۔