Baaghi TV

Category: متفرق

  • لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر  وقاص امجد

    لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر وقاص امجد

    قیام پاکستان سے اب تک لاہور کی تاریخ میں بہت سے افسران آئے جنھوں نےباغات کے شہر کی خوبصورتی میں اضافے اور سہولت کیلئے اپنے سے پہلے والے افسر سےبھی زیادہ اور بہتر اقدامات کیے لیکن اس شہر کی ترقی اور خوبصورتی کا جو سہرا کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کے سر سجا ہے ، اسکی نظیر نہیں ملتی۔بطور کمشنر لاہور تعیناتی کے دوران انکے شروع کیے گئے پروجیکٹس کی بدولت آج لاہور کو عالمی سطح پرنئی پہچان مل رہی ہے۔
    ماضی میں اسی شہر کے ڈپٹی کمشنر رہنے والےکیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان جب لاہور ڈویژن کے 59 ویں کمشنر بنے تو جہاں اپنے پرانے تجربے کی بنیاد پر کام کا آغاز کیا وہیں کورونا وباء کے دوران بطور سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کی حیثیت سے کیے گئے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا۔ صحت کے شعبے سے ایک خاص عرصے تک جڑے رہنے کا ہی نتیجہ تھا کہ لاہوریوں کو اس وباء سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انھیں ایک شفیق باپ کی طرح ماسک پہننے کی تلقین کی اور بعدازاں” لاہور وئیرز ماسک” مہم پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا۔
    اسی طرح” لاہور گیٹس ویکسی نیٹڈ ” مہم کے تحت شہریوں کو ویکسین لگوانے کی طرف راغب کیا اورساتھ ساتھ افواہوں کی شکار پڑھی لکھی عوام کو ویکسینیشن کی اہمیت سے بھی روشناس کروایا۔ اس کام کیلئے جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیاہے۔اس پروگرام کے تحت طلباء کی مدد سے عوام الناس کو معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ویکسینیشن کا کورس مکمل کرنے کی ہدایات دی جائیں گی۔
    کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ کے مترادف کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی کی حیثیت سے بھی ماضی میں خاصہ کام کیا اورجس تندہی کیساتھ کیا، اسکی مثال ملنا بھی مشکل ہے۔ انھوں نےعوام کی صحت پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے بغیر انھیں صاف ستھری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
    اسی طرح لاہور کی ادبی پہچان اور اسے ملنے والےسٹی آف لٹریچر کے اعزاز میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے کمشنر لاہور نے ادبی سرگرمیوں کے کیلنڈر کی تیاری کی بھی ہدایات کررکھی ہیں جو انکے ادب دوست ہونے کی واضح نشانی ہے۔ ٹریفک کے اژدھام کے باعث لاہور شہر کی خوبصورتی پر پڑنے والےمنفی اثرات کو بھانپتے ہوئے کمشنر لاہور نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مدد سے شہر کو مزید خوبصورت بنانے کا بھی پلان بنایا اور اس پلان کووزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ لاہور میں بڑی تفصیل سےبیان بھی کیاگیا۔ کمشنر لاہور کی انتھک محنت اور مسلسل کام کرنے کی لگن کی بدولت کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کو وزیراعظم سے تعریفی کلمات بھی سننے کو ملے۔

    Twitter Id
    @waqas_amjaad

  • ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    جو یاد آئے بھول کر پھر اےہم نفسو وہ خواب ہیں ہم۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان خان 1936ء کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1952ء  میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے ۔ کراچی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی۔ پھر جرمنی اور ہالینڈ سے  اعلی تعلیم حاصل کی ۔ 1970ء میں ہالینڈ سے میٹالرجی میں ماسٹر کیا ۔ اور 1972ء میں بیلجیئم سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔  اس کے بعد وطن واپس لوٹے۔ 1974ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکوں کے تجربات کیے۔ اس کے بعد آپ نے 1976 ء میں پاکستان انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا۔بعد میں اس ادارے کا نام صدر پاکستان ضیاءالحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتاہے۔ صرف آٹھ سال کی قلیل مدت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی محنت اور لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے تمام نوبل انعام یافتہ سائنسدان کو حیرت میں مبتلا کیا۔  28 مئی 1998 ء میں پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا ۔جس کی نگرانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کر رہے تھے ۔یہ سب آپ کی  اور آپ کی ایٹمی ٹیم کی محنت اور جذبہ حب وطنی کی بدولت ممکن ہوا۔ الحمدللہ پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا ۔آپ نے 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو وطن عزیز کیلئے شاندار خدمات سرانجام دینے پر محسن پاکستان کا خطاب دیا گیا۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں تین صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہیں ان خدمات پر دو بار نشان امتیاز اور ایک بار ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔ سنہ 2003 میں اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے نے پاکستان  گورنمنٹ کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جوہری راز فروخت کیےہیں۔ بعدازاں ٹی وی پروگرام میں آ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد  انہیں اسلام آباد  میں ان کے گھر نظر بند کر دیا گیا ۔2009 ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی نظر بندی کو ختم کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شہری کی طرح زندگی گزارنے کے احکامات جاری کیے۔ مگر وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں احکام کو مطلع کرنے کے پابند تھے۔ بغیر مطلع کیے کہیں آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ 2020ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ان کا موقف تھا کہ میری نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے مجھ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تعلیمی اداروں میں نہیں جانے دیا جاتا ۔مجھے تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں سٹوڈنٹ کو کچھ لیکچر دیے سکوں۔ درخواست میں مزید یہ بھی کہا گیاتھا کہ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت تو  میرے ساتھ گارڈ نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی بندوقیں نہ فوجی اور نہ ہی رینجرز ۔ اب 84 سال کا عمر رسیدہ ہو چکا ہوں۔ چلنا پھرنا مشکل ہے ۔ میں اپنے ہی ملک میں موجود ہوں اور باہر جانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ میں اپنے ملک سے غداری نہیں کروں گا ۔ایک عام آدمی کی طرح بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت کے ریمارکس تھے کہ ان حالات میں آپ کی زندگی کو خطرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو آپ کے لیے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں مگر غیر محفوظ نہیں ۔نظر بندی کے باعث ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان گزشتہ کئی سالوں سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کچھ ہفتے پہلے ڈاکٹر صاحب کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اور ہسپتال میں زیر علاج رہے۔  ڈاکٹر عبد القدیر خان کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی گئی۔ بعد میں طبیعت بہتر ہونے پر کرونا سے ریکوری پر آپ کو واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ 9 اکتوبر کی شب کو ڈاکٹر صاحب کی اچانک طبیعت خراب ہوئی۔ جس کے بعد انہیں ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ 10 اکتوبر کی صبح سات بجے کے قریب پاکستان ایٹمی پروگرام کے خالق اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ محب وطن پاکستانی اور محسن پاکستان کا سنہرا باب ہمیشہ کے لئے لیے بند ہو گیا۔ آپ کی خدمات کو رہتے پاکستان تک یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس قوم اور ملک پر جتنا بڑا احسان تھا اقتدار میں رہنے والوں نے انہیں اتنا ہی نظر انداز کیا۔ درویش صفت انسان اپنی کسم پرسی اور تکالیف چھپائے رخصت ہو گئے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رخلت کا سن کر کر پوری قوم غمزدہ ہے ۔ہر آنکھ اشک بار ہے۔ آپ نےانتھک محنت اور لگن کے جذبے سے سر شار ہوکر ہماری دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں یہ ریاست آپ کا خیال نہ رکھ سکی جو عزت آپ کو دینی چاہیے تھی وہ نہ دے سکی۔ اللہ ہمیں قوم کے محسنوں کی قدر سکھائے ۔ اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آپ کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

    ہم بھی چلے ہیں سوئے کارواں 

    آنے والوں کو ہمارا سلام کہنا۔

    Follow on Twitter

    @786Rajanaeem

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے💕

    10 اکتوبر 2021 کو ہم نے اس دیدہ ور اس قیمتی اور نایاب ہیرے کو کھو دیا جن کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: 

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    آپ یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوے۔ آپ ایک بہت ہی سادہ اور انتہاٸی عاجز مزاج اور ایک مخلص انسان تھے۔آپ نے پاکستان کے لیے نا قابل فراموش اور گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بعد آپ نے پاکستان کو عالمی برادری میں مضبوط بنانے کے لیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے 28مٸی 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے لہذا ہماری ارضِ پاک کی طرف میلی نگاہ سے نہ دیکھنا ورنہ ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دنیا آپ کو A.Q.Khan کے نام سے بھی جانتی ہے اور عالمی دنیا میں آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

    ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاں علامہ اقبال رح اور قاٸداعظم رح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ آپ نے شدید مخالفت اور دباٶ کے باوجود بھی اس ارضِ پاک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا ۔

    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا پوری دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اس اسلامی مملکتِ خداداد کو کوٸی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان ایک طاقتور مملکت بن کر اُبھرا۔ 

    آپ کو محسنِ پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اور سرکاری سطح پہ بہت سے اعزازات نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا مگر پھر بھی بحیثیت قوم ہم نے انہیں وہ عزت و مقام نہیں دیا جس کے وہ قابل تھے

    انہوں نے اس اسلامی ریاست کو ایٹمی طاقت بنا کہ عالمی دنیا کے ظلم سے بچا لیا شام ، فلسطین، اعراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرزمین پاکستان پہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دشمنوں پہ لرزا طاری کر دیا ۔

    آپ نے ایک اسلامی ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقاء کے لیے جو کوششیں کیں اور جو کارہاۓ نمایاں انجام دیے اس کے بعد اگر آپ کو محسنِ  اُمت کہا جاۓ تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔

    آپ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول صلى الله عليه واله وسلم بھی تھے. آپ نے ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں کہا تھا :

    "کہ آپ کو اپنے بھوپالی ہونے پہ فخر ہے کیونکہ ایک تو وہ غدار نہیں ہوتے اور دوسرا ان میں کوٸی قادیانی پیدا نہیں ہوتا ”

    آپ صرف ایک شخصیت کا ہی نام نہیں تھے بلکہ ایک عہد کا نام بھی تھے جو تمام ہوا اور سب کو افسردہ کر گیا۔ پاکستان ایک مخلص ایماندار اور نڈر و  دلیر محبِ وطن اور ایک مضبوط قوت سے محروم ہو گیا😢

    ” ڈھونڈو گے اگر ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” 

    ہر آنکھ اشک بار ہے انکے جانے پہ۔ انکا خلاء باقی رہے گا اور پاکستان اور پاکستانی انکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ قوم ہمیشہ انکی خدمات کی مقروض رہے گی اور تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ ہمیں یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ جیسے انکی قدر کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی نہیں کی۔ 

    "عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن۔۔۔۔یہ الگ بات ہے دفناٸیں گے اعزاز کے ساتھ”

    اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحب کی بے حساب مغفرت فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ آمین ❣️

    شمسہ بتول

    @sbwords7

  • استحکام پاکستان کی بنیاد چل بسا  ازقلم محمد عبداللہ گِل 

    مملکت خداداد کا 14 اگست 1947ء کرہ ارض کے نقشے پر ظہور ہوا۔پاکستان کو سیکولرازم اور لبرلزم کہ بنیاد پر نہیں بنایا گیا بلکہ اس مملکت کا نظریہ اس کی بنیاد دین اسلام کو چنا گیا پھر اس کے لیے محنت کی گئی جس کا ثبوت مسلم لیگ کے اس نعرے سے ہوتا ھے جو کبھی بھوپال میں لگ رہا ہوتا تو کبھی بنگال میں کبھی دہلی میں کبھی بلوچستان میں 

    "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ”

    اسلام کی بنیاد پر یہ وطن بنا دیا گیا مخلص اور اسلام پسند قیادت نے اس کے لیے قربانیاں دی۔لیکن ابھی مملکت کو بنے 24 سال ہی بیٹے تھے تو اس ملک کے خلاف سازش کو رچا گیا۔ان سازشوں کی وجہ سے ہمارا دشمن اور ازلی حریف بھارت کامیاب ہوا اور پاکستان دولخت ہوا اس وقت ایک شخصیت نے سربراہ مملکت خداداد پاکستان کو خط لکھا جس میں خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسلام کو ایٹمی قوت کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔امت مسلمہ کے لئے اس قدر درد دل رکھنے والی شخصیت کا اسم گرامی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے امت مسلمہ اور پاکستان کو استحکام دیا۔لیکن آج 10 اکتوبر کو وہ شخصیت اس جہان فانی سے رخصت ہو گی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان حب الوطنی کے جذبہ سے مالا مال بلکہ محبت اسلام سے لبریز تھے۔کمال عجب کی شخصیت تھی کہ اتنا بڑا نام۔رکھنے والا شخص جس کو کئی لاکھ ڈالر تنخواہ پر نوکریاں دینے کو ملک تیار تھے لیکن اس نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا فرض انجام دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک پاکستان کے نظر بندیوں کو بھی برداشت کر لیا اپنے بارے دشمن کی سازشوں کو بھی برداشت کر لیا۔بلکہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کے آگے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گے لیکن پاکستان پر آنچ تک کو نہ آنے دیا۔

    بلکہ یہ کہا ہو گا 

    "اے ستم گر ادھر آ ستم آزمائے 

    تو تیر آزما اور ہم ہنر آزمائے”

    بلکہ کیسا ہنر آزمایا کہ ملک پاکستان کو اپنے اردگرد موجود چیل بھیڑوں سے بچا لیا۔آج بھی ہم سے دس گنا بڑا حریف ہم سے کاپنتا ھے۔اس کی وجہ ہماری فوج کا جوہری طور پر مضبوط ہونا ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ نظریاتی لوگوں کے لیے سرحدوں کی قید نہیں ہوتی کیونکہ ڈاکٹر صاحب بھوپال سے چلے ہنری سے تعلیم کو حاصل کیا پھر پاکستان آئے انڈیا کے ایٹمی حملوں کے مد مقابل 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں نعرہ تکبیر کو بلند کر دیا اور یہ بھی پیغام دے دیا کہ آج استحکام پاکستان مکمل ہو چکا ھے۔وہ پاکستان کی ناو جس پر 1971 پر نظریاتی حملہ ہوا آج وہ مستحکم ہو چکی ھے۔جس کی وجہ سے قوم ان کو سلام پیش کرتی ھے۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جو ان کے کارناموں کو بیان کر سکے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے ایٹمی قوت پاکستان کو بنایا جس کی وجہ سے آج افغان امن معاہدہ میں پاکستان کی اہمیت ھے اگر فوجی اتحاد ھے تو پاکستان چیف ھے۔ملکوں کی فوجیں ہمارے پاس جنگی مشقیں کرنے آتی ہیں بلکہ امریکہ،اسرائیل بھارت اور یہ یہود و نصاری کے ملک ہم سے گھبراتے ہیں۔انھیں پتہ ھے کہ ان کے پاس نظریہ جہاد تو پہلے ہی ھے لیکن اب ان کے پاس جنگی گھوڑیں بھی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے اس کارنامہ کی وجہ سے امت مسلمہ ان کی مقروض ھے اور ان سے عقیدت رکھتی ھے۔جس کا منہ بولتا ثبوت آج ان کی وفات کے بعد سوشل میڈیا اور مسلم ممالک کے چینلز کی طرف سے ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی وفات پر غم و رنج کا اظہار کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے باہنر شخص کو بدقسمتی سے ملک پاکستان کے حکمرانوں نے اس طرح بروئے کار نہیں لایا جس طرح حق تھا بیرونی پریشر پر ان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا۔جو اس ملک کے نظریاتی غدار ہیں ان کی جمع پونجی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی اور محسن پاکستان کے پاس لباس کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔میری حکومت وقت سے گزارش ھے کہ خدارا ایسے نظریاتی محافظوں کو تلاش کر کے ان کا خیال رکھو ان کو قید و بند کی صعوبتوں سے نہ گزرارو۔

    اللہ تبارک و تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے

    @ABGILL_1 

  • "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان   صوفیہ صدیقی

    "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی

    دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
    معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
    جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔

    اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔

    ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

    چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

    تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔

    خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
    عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔

    ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
    محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
    قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!

  • سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    اس دنیا میں بسنے والا ہر ذی روح اس دنیا کا باسی ہے ۔
    انسان اس وقت تک معاشرے کا کارآمد شخص نہیں بن سکتا جب تک اس کی سوچ مثبت نہ ہو کیونکہ انسان کی سوچ ہی اس کو مثبت یا منفی بناتی ہے ۔
    آپ کی جیسی سوچ ہوگی ویسے کام ہونگے اور اگر سوچ اچھی ہے تو نتاٸج اچھے نکلیں گے اگر بری ہے تو برے ۔
    اسی چیز کو اللہ پاک نے قرآن میں واضع بھی کیا ہے ۔

    ‏اللّٰہ ﷻ کا ارشاد ہے :

    وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

    ” اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی“۔

    ایک انسان اپنے لفظوں سے نہیں اپنے عمل سے مثالی بنتا ہے انسان کو پستیوں سے نکال کر بلندیوں پر لے جانے والی شے اُس کا عمل ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے،اس وقت وہ سب جیسا ہوتا ہے لیکن اپنے مقصدِ حیات کا تعین کر لینے اور اس کی تکمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے بعد وہ مثالی اور کامیاب لوگوں کا ہم سفر بن جاتا ہے۔وہ لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔اسے منزلوں کے سلام آنے لگتے ہیں۔

    مثبت سوچ تحریکی انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔انسان کو جب سمجھ آ جائے کوئی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اپنے لیے کچھ نہ کرے۔

    جب انسان میں یقین پیدا ہو جائے میں کر سکتا ہوں اور جب وہ اپنی رائے سے نہیں اپنے عمل سے دنیا کو دکھادے کہ وہ زندگی کے سفر میں جیتا ہے پھر وہ مثال بنتا ہے۔عزم صمیم اور جہدِ مسلسل کی زندہ داستان،جو صدیوں لوگوں کے دلوں کو اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔ 

     ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عملی نمونہ پیش کیا۔اللّٰہ کے ہر حکم پر عمل کر کے دکھایا۔انسانوں سے پیار کر کے انسانیت کے دلوں میں گھر کیا حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیۓ مشعل راہ ہے ۔
    اس دنیا میں حقیقی مشعل راہ حضور کی ذات اقدس ہے ۔
    آپ کا ہر قول فعل زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں پہ مبنی ہے ۔
    حضور کریم کی ذات طیبہ تاقیامت مسلمانوں اور روۓ زمین پہ بسنے والے ہر ذی شعور کیلۓ ایک مثال ہے ۔
    حضور کریم کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو زندگی گزارنے عبادات و انصاف اور زندگی کے ہر پہلو کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے ۔

    قائداعظم نے اقبال کے خواب کو عمل اور تعبیر کی چادر میں لپیٹ کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک مثالی مملکت بنا دیا ۔
    قاٸداعظم نے ایک ایسے ملک کیلۓ جدوجہد کی جس میں مسلمان اپنی عبادات تسلی سے ادا کر سکیں ۔
    پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پہ رکھی گٸ ہے اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کی زبان پہ ایک ہی نعرہ تھا الله أكبر ۔

    دو ایسے بھائی جنہیں پرندوں کی طرح اڑنے کا جنون تھا پھر ایک دن انہوں نہ اپنے عمل سے اس جنون کو حقیقت کر دکھایا۔ انہوں نےثابت کر دیا کہ کامیابی اور نام عمل والوں کا مقدر ہے۔
    آج دنیا بھر میں تیز ترین سفر ہواٸ جہازوں پہ ہو رہا ہے ۔

    انسانیت کے علمبردار عبد الستار ایدھی اپنے عمل سے مثال بنے ،لوگوں کا درد محسوس کرنے والے ہمدرد کی زندہ و جاوید مثال۔ جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
    آپ نے اپنی سوچ عمل اور اللہ پہ کامل یقین کی بنا پہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنا دی ایدھی پناہ گاہیں لنگر خانے بنا لیۓ جو پوری آب و تاب سے اب بھی چل رہے ہیں ۔

    ہر انسان عملِ پیہم سے دنیا کے لیے مثال رقم کرسکتا ہے۔ اپنے جنون اور عمل کی روشنی سے دنیا کو منور کر  کے اس کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    ‎@Gumnam_HBK

  • ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد

    ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد


    ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے لیکن کبھی سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اس کو ایک المیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ تمباکو نوشی سماجی برائیوں کی جڑ یے اس سے نہ صرف صحت بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکل جاتا یے۔ ہمارے گھروں میں بڑا بھائی یا والد صاحب اگر سگریٹ نوشی کرتے ہوں تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی یا کسی بچے کو دوکان سے سگریٹ خریدنے کے لئے بھیج دیتے ہیں اور اس کو بلکل معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے جبکہ قانونی طور پہ 18 سال سے کم عمر کو سگریٹ فروخت کرنے پہ پابندی ہونے کے باوجود دوکاندار سرعام  بچوں کو سگریٹ فروخت کررہے ہوتے ہیں۔ اکثر کل کو یہی بچے خود اس لعنت کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ نوجوان نسل سگریٹ نوشی کو فیشن یا سٹیس کو کی علامت سمجھا جاتا ہے۔  بدقسمتی سے پاکستان میں بائیس کروڑ کی آبادی میں سے تین کروڑ کے قریب سگریٹ نوش ہیں۔

    سگریٹ نوشی اس حد تک نقصان دہ ہے کہ اگر دن میں روازنہ ایک سگریٹ بھی پیا جائے تو اس سے بھی ہارٹ اٹیک یا فالج کے 50 فیصد چانسز ہے ہیں اگر کوئی روازنہ 20 کے بجائے ایک سگریٹ پیتا ہے تو یہی سمجھتا ہے سٹروک یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ پانچ فیصد رہ جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ خطرہ کم سے کم 50 فیصد تک رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے یہی سمجھتے ہیں ک سگریٹ سے پھیپھڑوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جب کہ حقیقت میں پھیپھڑوں سے لے کر دل دماغ اور جگر کے لئے تمباکو نوشی یکساں نقصان دہ ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے اس بات پہ یقین نہ کریں کہ ایک دن میں چند سگریٹ یا صرف ایک سگریٹ سے تھوڑا نقصان ہوتا ہے اور کم سگریٹ نوشی طویل مدتی نقصان نہیں پہنچاتی یہ ایک غلط سوچ ہے تحقیق کے مطابق جس طرح بندوق کی ایک گولی سے نقصان ہوسکتا ہے ایسے ہی دن میں روازنہ ایک سگریٹ پینا بھی نقصان دہ یے۔ تمباکو نوشی کم کرنے یا مکمل طور پہ ختم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مہلک بیماریوں سے  ان کو اور ان کے اردگرد والوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ تمباکو نوشی سے دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں اور ان میں سے 20 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک تمباکو نوشی زندگی  12 سے 15 سال تک زندگی کو کم کردیتی ہے۔ یہ عام غلط فہمی ہے کہ طویل عرصہ تک سگریٹ نوشی کے بعد اس کو ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ جیسے ہی آپ سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں اس سے پھیپھڑوں کی شدید بیماریاں اور کینسر ہونے کے امکانات کم ہوتےجاتے ہیں، تمباکو نوشی کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج کے ساتھ پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ ملک میں لاکھوں دکانیں ایسی ہیں جہاں سگریٹ آسانی سے دستیاب ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو نوشی کی لت لگنا وہ بیماری ہے جس سے صحت اور دولت دونوں سے ہاتھ دھونے پہ مجبور کردیتی ہے۔ بیشتر تمباکو نوش کوشش کے باوجود بھی اس کو ترک نہیں کرپاتے اور خود کو بیماریوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس عادت سے جان چھڑانے کی کوششیں کی جاتی ہیں مگر آج تک پاکستان سمیت کوئی ایک بھی ترقی پذیر ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس لت کا مکمل طور نہیں تو ساٹھ ستر فیصد خاتمہ کیا ہو۔ پاکستان میں اس وقت مختلف اندازوں کے مطابق ڈھائی کروڑ سے تین کروڑ کے درمیان افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں جب تین کروڑ افراد تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوں تو صورت حال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں  سلگانے سے پہلے سوچ لیں بجائے اس کے کہ سوچنے کے قابل نہ رہیں

    tweets ‎@KharnalZ

  • کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    اگر آپ باشعور اور حساس والدین ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کسی کا محتاج نہ ہو ، وہ خود اعتماد ہو، زندگی میں کسی پر بوجھ نہ بنے ، زندگی کے چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی ہمت کر سکتا ہو ، وہ دوسروں سے گھل مل سکتا ہو ، نہ صرف اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں بلکہ روز مرہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل ہو ۔ وہ آپ کیلئے سرمایہ افتخار بن سکے آپ کا فرماں بردار ہو لوگ اس سے ملیں تو اس سے خوش ہوں اس کے پاس دولت، شہرت، طاقت اور آزادی وغیرہ سب کچھ ہو ۔

    یقیناً یہ وہ خواہشات ہیں جو تمام ہی والدین رکھتے ہیں ۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اپنے ساتھ ان کا بھی نام روشن کرے لیکن کیا سب والدین کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے ؟

    عموماً آدمی پچاس سے ساٹھ سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے لیکن چند لوگ ایسے ہیں جن کا نام ان کی موت کے بعد بھی ہزاروں سال تک یاد رکھا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عام لوگوں اور ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے دنیا انہیں یاد کرتی ہے ؟ کیوں لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ؟ یہ لوگ ایسا کیا کر گئے کہ دنیا کے مؤثر ترین لوگوں میں شامل ہو گئے یہ مؤثر اور معروف لوگ بھی کبھی نہ کبھی بچے تھے بلکل عام بچوں کی طرح انہوں نے زندگی گزاری تھی لیکن غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کچھ خاص عوامل ان افراد کے پچپن میں ایسے ہیں جو ان کے مستقبل کو دیگر افراد کے مستقبل سے مختلف کرتے ہیں 

    سوال یہ ہے کہ بعض بچے بڑے ہو کر "ہیرو” کیوں بن جاتے ہیں اور کچھ "زیرو” کیوں رہ جاتے ہیں ؟

    ہمارے پاس عموماً دوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے "مقدر” لیکن جب آپ صرف ایک وجہ کو حتمی مان لیتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کبھی بھی حقیقت شناس نہیں ہو پاتے ، یہ ممکن بھی کیسے ہے کہ "سیب” اور "کیلے” پر لیکچر سن کر اس موضوع پر کتاب پڑھ کر آپ سیب اور کیلے کے ذائقے سے آشنا ہو جائیں سیب اور کیلے پر چار پانچ گھنٹے کا لیکچر سنیں ، چار پانچ گھنٹے بحث کرنے اور تین سو صفحات پر مشتمل کتاب پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ سیب اور کیلا چکھ لیں آپ کو حقیقت کا علم خود ہو جائے گا ہر چیز کی وجہ قسمت نہیں ہوتی کچھ معاملات اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بھی رکھے ہیں قسمت یا مقدر پر الزام لگا کر ہم اپنی زمہ داری سے آنکھیں چرانا چاہتے ہیں لیکن نتیجہ تو صرف حقیقت کا عمل ہی آتا ہے آپ کا یہ طریقہ آپ کو اطمینان سے ایک جگہ بٹھا تو سکتا ہے لیکن آپ کے نتائج کو بدل نہیں سکتا اولاد کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آپ اپنی اولاد کیلئے جتنے بڑے خواب دیکھیں اور نیک خواہشات دل میں رکھیں آپ ان خوابوں کی تعبیر اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک آپ ان کیلئے عملی اور حقیقت پر مبنی تدابیر نہیں کریں گے ۔

    یاد رکھیئے ! دولت مندی نتیجہ ہے ، غربت نتیجہ ہے ، صحت نتیجہ ہے ، بیماری نتیجہ ہے ، نیک نامی نتیجہ ہے ، بدنامی نتیجہ ہے ، کامیابی نتیجہ ہے ، ناکامی نتیجہ ہے  اختیار اور بے اختیاری بھی نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق ایک منظم نظام کے تحت کی ہے جس میں مختلف قوانین کام کر رہے ہیں ایک قانون یہ بتاتا ہے کہ ہر نتیجے کا ایک سبب ہوتا ہے نتیجہ خواہ دولت کی شکل میں ہو یا غربت کی صورت میں ، کامیابی کی شکل میں ہو یا ناکامی کی صورت میں ، غور کریں تو ہر ایک کے پس منظر میں کوئی سبب ، کوئی وجہ ملے گی ۔ اسی طرح آپ کے بچے کا جو مزاج اور مستقبل ہے اس کا سبب اس کی پچپن کی تربیت ہے

    Sabir Hussain

    ‎@SabirHussain43

  • سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ  تحریر۔ نعیم الزمان

    سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ تحریر۔ نعیم الزمان

    8 اکتوبر 2005 کا دن ایک المناک دن تھا۔ تین رمضان المبارک بروز ہفتہ  کی  صبح 8 بج کر 52 منٹ پر  آزاد کشمیر سمت پاکستان کے مختلف علاقوں پر ہولناک زلزلہ آیا ۔ جس نے چند ہی منٹ میں بہت سارے شہروں اور دیہات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ یہ دن قیامت صغریٰ کا مناظر پیش کر رہا تھا۔ جس نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تباہی مچائی ۔اس زلزلے کا مرکز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے قریب تھا۔جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کیا گیا۔

    اس ہولناک زلزلے میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔اربوں روپوں کا املاک کو نقصان پہنچا۔ لاکھوں کی تعداد میں  بوڑھے، جوان ،بچے زخمی ہوئے۔اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ  معذور ہوئے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔ ہر امیر  اور غریب اس سانحے کا شکار ہوا۔ مال مویشی  گھر سکول کالج ہسپتال تمام سرکاری دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔کھانے اور پینے کو کچھ نہیں مل رہا تھا۔ کچھ لمحے کے لیے پانی خشک ہو گے تھے۔اگر کہیں تھوڑی مقدار میں پانی موجود بھی ہوتا تو اس کو نکالنے اور پینے کے لیے برتن موجود نہیں تھا۔ ختہ کے لوگوں نے جوتوں میں پانی پیئا۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ ہر کوئی اپنے عزیزواقارب کی تلاش میں لگا ہوا تھا۔ کوئی اپنے عزیزوں کی میتں نکالنے میں مصروف تھا ۔ اور کوئی اپنی مدد اپنے تحت ہزاروں من ملبے تلے دھبے  زخمیوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔ والدین اپنے بچوں کو سکولز اور کالجز میں ڈھونڈ رہے تھے۔بچےکسی کو زخمی حالت میں ملتے اور کسی کو معذوری کی حالت میں اور کوئی بد قسمت والدین جو اپنے دل کے ٹکڑوں کی میت اٹھائے واپس آئے۔اور اتنا خوفناک منظر تھا کہ کسی کو دوبارہ زندگی کی بہتری کی کوئی امید نہیں تھی۔ کوئی پتہ نہیں تھا کب پھر خوفناک زلزلہ دوبارہ آئے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔ زلزلے کے جٹکے وقفے وقفے سے جاری تھے۔ ہر طرف سے چیخو پکارا کی  کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔ بچے بھوک سے نڈھال تھے زخمی درد کی شدت سے چیخ رہے تھے۔ کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی تھی۔ اوپر سے شام کے وقت انتہائی شدت سے بارش برسی۔ کسی کے پاس اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ مشکل سے میتوں اور زخمیوں کے اوپر کچھ پٹے پرانے کپڑے  جو گھروں سے باہر پڑے ہوئے تھے وہ گھاس اور لکڑیاں وغیرہ رکھ کر ان کو بھیگنے سے بچایا ۔ مشکلات سے پہلی رات گزاری۔ سردی کی انتہا تھی کیونکہ کے کپڑوں کی قلت تھی  کپڑے مکانون تلے دبے ہوئے تھے۔آگ جلانے کیلے لائیٹر ماچس تک نہیں تھے۔ دوسرے دن  سے امدادی کارروائیاں شروع ہوئی۔  میتوں کی اجتماعی تدفین  کی گئی۔زخمیوں کو امدادی سنٹر تک لایا گیا۔جو زیادہ زخمی تھے انہیں ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جو انہوں اسلام آباد اور مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر رہے تھے۔ دو سے تین دن تک ایک جیسی صورت حال کا سامنا رہا۔ اس کے بعد پاک فوج نے تقریباً ہر علاقے میں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ متاثرین  کو  امداد فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ سڑکیں مکمل تباہ ہو چکی تھے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین تک امدادی سامان پہنچنا شروع ہو ا۔ متاثرین میں کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گی۔متاثرین کے لیے اجتماعی کیمپ تیار کیے گئے۔  بعد ازاں بیرونی امداد پہنچنے پر ہر فیملی میں خیمے اور گرم کپڑے وغیرہ تقسیم کیے گئے۔ سردیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔آئے دن متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا تھے۔لیکن افواج پاکستان، عالمی اداروں نے  جس میں سرفہرست ڈبلیو ایف پی، ریڈ کریسنٹ، اسلامک ریلیف، یو این ، یونیسیف اور بہت ساری  مختلف ممالک کی امدادی تنظیموں نے قلیل وقت میں ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری رکھی۔ متاثرین کو ممکنہ ریلیف فراہم کی۔ مشکل کی اس گھڑی میں دنیا کے تمام ممالک نے امدادی فراہم کی۔آہستہ آہستہ تعمیر نو کا آغاز کیا گیا۔پہلے مرحلے میں شیلٹر ہوم اور گھریلو سامان اور کپڑے فراہم کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے  مکانات کیلئے نقد  امدادی رقم فراہم کی گی۔ سکولز اور کالجز اور دیگر سرکاری عمارات کے لیے بھی شیلٹر ہوم فراہم کیے گئے۔ تقریباً چھے سات ماہ کے بعد حالات بہتری کی جانب گامزن ہوئے۔  بچوں نے دوبارہ سکولوں کا روخ کیا۔متاثرہ علاقوں کی از سر نو تعمیر کا آغاز ہوا۔جو بد قسمتی سے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ایرا اور بہت سارے سرکاری اداروں کے گپلے کی وجہ سے بہت ساری سرکاری عمارات ابھی تک تعمیر نہ ہو سکی۔  زندگی کو معمول پر آنے میں دو سے تین سال لگے۔زندگی ایک بار پھر مسکرائی۔ 8 اکتوبر 2005 کو  آج بھی ہر سال یاد کیا جاتا ہے۔لوگ اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرواتے ہیں۔ قرآن خوانی  کرواتے ہیں۔ لوگ اپنے بچھڑے ہوؤں کو یاد کرتے ہیں۔ان کے زخم پھر سے ترو تازہ ہوتےہیں۔  میں آج بھی وہ لمحے یاد کرتا ہوں تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں۔کیونکہ یہ سارے مناظراپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں۔ میں نے اور اس سانحے میں متاثرہ لوگوں نے قیامت سے پہلے ایک قیامت دیکھی ہے۔ اللہ پاک نے مجھے اس سانحے میں  نئی زندگی بخشی ہے۔میں اس بےبرحم زلزلے کی وجہ سے اپنے گھر کے نیچے کہیں گھنٹوں تک دھبا رہا۔ خوش قسمت رہا کہ کسی بڑی انجری سے بھی اللہ پاک نے محفوظ رکھا۔ الحمدللہ ہم گھر والے سارے محفوظ رہے۔  مگر ہماری فیملی میں تقریباً 40  افراد جن میں چھوٹے بڑے مرد  خواتین اور بچے شامل تھے ان کا جانی نقصان ہوا۔ وہ ہم سے جدا ہوئے ۔ ان کا خلا کبھی پورا نہیں ہو گاجو کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

    اللہ کے حضور دعاگو ہیں کہ شہدائے زلزلہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے 

    اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی مغفرت فرمائے جو اس سانحے میں شہید ہوئے۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ ہم سب پر اپنا خصوصی فضل فرمائے۔ یقین جانیے وہ لمحے یاد کر کے دل آج بھی خون کے آنسوں روتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپن پناہ میں رکھے اور سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

    @786Rajanaeem

  • محنت,کامیابی کی ضامن تحریر: ارم سنبل

    زندگی بھی گونج کے اصول پر چلتی ہے. جو آگے پہنچاتے ہیں ، وہی واپس آتا ہے۔ آپ جو کاشت کریں گے وہی کاٹیں گے۔ آپ جو سرمایہ لگاتے ہیں، وہ آپ کو ملتا ہے۔ 

    آپ دوسروں میں جو دیکھتے ہیں وہ آپ اپنی ذات میں پائیں گے۔ عام طور پر دنیا میں دو اقسام کے لوگ رہتے  ہیں۔ زیادہ تر لوگ پہلی قسم کے ہیں جو دستیاب مواقع سے فائدہ لینے کے قائل ہیں۔ ان کے پاس جو ہوتا وہ اسی کو اپنی منزل سمجھ لیتے ہیں اور یوں وہ آگے نہیں بڑھتے. 

    جبکہ دوسری قسم کے لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طویل مدت کوششوں کو جاری رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیےاور  ہر رکاوٹ کو عبور کرکے آگے بڑھنے کے لیے کافی محنت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کامیاب لوگ اپنے خیالات اور مواقعوں کو استعمال کرتے ہیں۔

      ایسے لوگ خیالات ، امکانات اور مواقع سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کا کام ان پر عملدرآمد کرنا ہے۔ خیالات اور مواقع خود ہی پورا نہیں ہوسکتے۔ انہیں پورا کرنے کے کیے ایک محنتی انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

    اگر آپ انہیں اپنی محنت سے طاقت دیں گے تو آپ کو نتیجہ بھی بڑا اور شاندار ملے گا۔ اپنی سوچ پر عمل کریں ، اپنی محنت سے, اپنے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزاریں۔ 

    بعض اوقات آپ بغیر کسی کوشش کے کامیابی حاصل کرتے ہیں ، لیکن بعض اوقات آپ مختلف وجوہات کی بنا پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ عقل مند یا باصلاحیت نہیں تھے۔

     اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ ذہین ہوتے تو آپ کو محنت کی ضرورت نہ ہوتی۔ محنت آپ کو ذہین یا باصلاحیت بناتی ہے۔ اگرچہ ناکامی تکلیف دہ  ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کم عقل ہیں۔ ناکامی کا سامنا کریں ، اس سے نمٹنیں اور سیکھنے کے بعد اسے ماضی میں چھوڑ دیں۔ 

    اگر آپ محنت کرنے کی ذہنیت کو اپنائیں گے تو آپ کامیاب ہوں گے۔ یہ صرف اپنے آپ پر یقین کرنے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ ، یہ ان چیزوں میں بہت زیادہ کوشش کرنے کی بات ہے جو یا تو قدرتی طور پر آپ کے پاس نہیں آتی ہیں یا جن میں آپ اچھے نہیں ہیں۔ 

    لہذا اپنے آپ کو اس میں نہ الجھا کے رکھیں، کہ اس بارے میں دوسرے لوگ کیا کہتے ہیں۔ کچھ منفرد سوچیں. محنت کرنا آپ کا فرض ہے۔ آپ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی پوری صلاحیت کا استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ کی زندگی میں جو کچھ بھی آپ کو ملتا ہے وہ براہ راست آپ کے ان پٹ کے مطابق ہوتا ہے۔ 

    یہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ جتنا گڑ ڈالیں گے,اتنا میٹھا ہوگا. لہذا جتنی محنت کریں گے, اتنا کامیاب ہونگے. کیونکہ محنت کامیابی کی بنیاد ہے. سو ایک کامیاب انسان بننے کے لیے محنت کریں۔

    @Chem_786