Baaghi TV

Category: متفرق

  • زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے ڈسٹرکٹ ہرنائی میں زلزلے کے خوفناک جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں پندرہ سے زائد افراد جاں بحق اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے۔ 

    دیکھا جائے تو پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں اکثر شدید یہ کم زلزلے آتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک بھی ہے۔

    پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائنز پر موجود ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر موجود نہیں، اسی لیے یہ علاقے زلزلے کے خطرے سے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں البتہ ان علاقوں کے علاوہ تمام علاقے کسی نہ کسی طرح فالٹ لائن پر موجود ہیں۔

    اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہروں کا شمار زون تھری میں ہوتا ہے، جبکہ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیر زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یہ زون فور کہلاتا ہے۔

    ساحلی علاقوں کی بات کریں تو کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر موجود ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ تین پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    زلزلوں کا آنا ان ہی علاقوں میں زیادہ ریکارڈ کیا گیا جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

    پاکستان کے تمام شہر کراچی سے لےکر اسلام آباد تک زلزلے سے محفوظ نہیں، البتہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو حساس ترین شمار کیا جاتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں دنیا کے مختلف مذاہب کے زلزلے سے متعلق منفرد اور دلچسپ عقائد اور روایات کی۔

    مثلاً بعض اقوام سمجھتی تھیں کہ مافوق الفطرت قوت رکھنے والے درندے زمین کے اندر رہتے ہیں اور وہی زلزلے پیدا کیا کرتے ہیں۔ قدیم جاپانیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک طویل القامت چھپکلی زمین کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہے اور اس کے ہلنے سے زلزلے آتے ہیں۔ اس سے کچھ ملتا جلتا عقیدہ ریڈ انڈینز کا بھی تھا کہ زمین ایک بھی بڑے کچھوے کی پیٹ پر ٹکی ہے اور اس کے حرکت کرنے سے زلزلے آتے ہیں۔ ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر رکھی ہوئی ہے، جب وہ سینگ تبدیل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔ جب کہ عیسائیوں کا خیال تھا کہ زلزلے خدا کے باغی اور گنہگار انسانوں کے لیے اجتماعی سزا ہوتی ہے۔

    مذاہب کے عقائد سے ہٹ کر اگر فلسفیوں کی بات کریں تو قدیم یونانی فلسفی اور ریاضی داں فیثا غورث کا خیال تھا کہ جب زمین کے اندر مُردے آپس میں لڑتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ اس کے برعکس ارسطو کا خیال کچھ منطقی تھا، اس کا کہنا ہے کہ جب زمین کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ افلاطون کا نظریہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا کہ زیرِ زمین تیز و تند ہوائیں زلزلوں کو جنم دیتی ہیں۔ تقریباً 70 سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اس عمل کے نتیجے میں اس کا غلاف کہیں کہیں چٹخ جاتا ہے، جس سے زلزلے آتے ہیں۔ کچھ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ زمین کے اندرونی حصّے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیلتی ہے۔ لیکن آج کا سب سے مقبول نظریہ”پلیٹ ٹیکٹونکس”کا ہے جس کی معقولیت کو دنیا بھر کے جیولوجی اور سیسمولوجی کے ماہرین نے تسلیم کرلیا ہے۔

    ہم نے اب تک زلزلوں سے متعلق سائنسی، فلسفی، اور دنیا کے مختلف عقائد کا جائزہ لیا ہے، اب بات کرتے ہیں پاکستان کے سرکاری مہذب اسلام کی۔ مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ زلزلے سے متعلق قرآن کریم کیا کہتا ہے۔

    قرآن کریم میں قوم شعیب پر عذاب آنے کا تذکرہ ہے اور اُس کی وجہ قرآن نے ناپ تول میں کمی بیشی بتائی ہے کہ ان کی عادت بن گئی تھی کہ لینے کا وقت آتا تو زیادہ لیتے اور دینے کا وقت آتا تو کمی کردیتے تھے، مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ناپ تول میں کمی صرف محسوسات میں نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ معنوی چیزوں میں بھی ہوسکتی ہے مثلا لوگوں کے حقوق کی پامالی، ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں اپنا پورا حق سمیٹ لوں اور جب دینے کا وقت آئے تو مجھے پورا نہ دینا پڑے۔ اگر قوم شعیب پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے عذاب اور زلزلہ آسکتا ہے تو آج حقوق اللہاور حقوق العباد میں کمی بیشی کی وجہ سے زلزلہ آگیا تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْن(الاعراف:۹۱)اسی طرح حضرت موسی کی قوم پر عذاب آیا، حیلے حوالے اور کٹ حجتی کی وجہ سے فَلَمَّا أخذتہم الرجفةُ (پس جب ان کو زلزلے نے آدبوچا اللہ نے ان کو وہیں ہلاک کردیا) (الاعراف:۱۵۵)قارون جو مالداری میں ضرب المثل تھا۔ جب اُس سے کہا گیا کہ ان خزانوں پر ا للہ کا شکر ادا کرو تو کہنے لگا، یہ سب میرے زورِ بازو کا کرشمہ ہے؛ چناں چہ اللہ نے اسے اِس ناشکری کی وجہ سے خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا۔فَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْض (القصص: ۸۱)آج اپنے معاشرے کا جائزہ لیجیے کتنے شرعی احکام میں قیل وقال کرنے والے ملیں گے اور کتنے ہی ایسے ملیں گے جن کے احساسات وجذبات قارون کی طرح ہیں۔

    یہاں سنن ترمذی کیایک حدیث نقل کی جارہی ہے جس سے زلزلہ کے اسباب کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جب مندرجہ ذیل باتیں دنیا میں پائی جانے لگیں) تو اس زمانہ میں سرخ آندھیوں اور زلزلوں کا انتظار کرو، زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور ان عذابوں کے ساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے در پے اس طرح ظاہر ہوں گی۔ جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور لگاتار اس کے دانے گرنے لگیں (وہ باتیں یہ ہیں )۱- جب مالِ غنیمت کو گھر کی دولت سمجھا جانے لگے۔ ۲- امانت دبالی جائے۔۳- زکاة کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے۔۴- علم دین دنیا کے لیے حاصل کیا جائے۔۵- انسان اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے۔۶-دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے۔ ۷- مسجدوں میں شور وغل ہونے لگے۔۸- قوم کی قیادت، فاسق وفاجر کرنے لگیں۔ ۹- انسان کی عزت اِس لیے کی جائے؛ تاکہ وہ شرارت نہ کرے۔۱۰-گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہوجائے۔۱۱- شباب وشراب کی مستیاں لوٹی جانے لگیں۔۱۲-بعد میں پیدا ہونے والے،امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں۔ (سنن الترمذی، رقم: ۲۱۱، ما جاء فی علامة حلول المسخ)انصاف کے ساتھ موجودہ ماحول کا جائزہ لیجیے، مذکورہ باتوں میں سے کون سی بات ہے، جو اب تک نہیں پائی گئی ہے، مذکورہ ساری پیشین گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہی تمام وجوہات ہوں جن کی وجہ سے "زمین کانپ جاتی ہے، لیکن ہمارے ضمیر نہیں کانپتے”.

    @KainatFarooq_

  • زلزلہ اور  دو آنکھیں  تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    زلزلہ اور  دو آنکھیں تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    اپنے دوست رجب علی سے آج بالاکوٹ 2005 زلزلہ کی سولہویں برسی کی کوریج کے موقع پر ایک نشست ہوئی۔جس میں کافی باتیں ہوئی اور کچھ جب اُن سے یہ حال پوچھا کیا قیامت گزری تو جب رجب نے ہمیں بتایا تو قسم سے ہم پر اُس کی کہانی اُس کی زبانی سن کر قیامت گزری۔رجب علی نے کہا کہ

    آٹھ اکتوبر وہ دن جب میرے بڑے بھائی ،بہن اور والدہ ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے

    اس دن زلزلہ بالاکوٹ میں نہیں،،شاید میری شخصیت پہ آیا تھا جسکا ملبہ آج بھی میری روح پہ پڑا ہے

    وہ دن جب سکول کو نکلنے لگا حسب عادت وہ دروازے میں کھڑی مجھے روانہ ہوتے دیکھتی رہیں۔۔میں نے کئی بار پیچھے مڑ کے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ۔۔۔

    ۔۔انکی آنکھوں کی مقناطیسیت اس دن میرے قدم بوجھل کر رہی تھی۔۔ پھر پردہ ہلا اور وہ کالے سیاہ پردے کے پیچھے چلی گئیں

     ۔۔میں جب سکول سے واپس آیا تو ہمیشہ  کیطرح،، بلا کی پردہ دار ،وہ پھر بھی پردے میں ہی تھیں پر اس دفعہ پردے کا رنگ "سفید "تھا۔۔۔۔سر سے پائوں تک۔۔۔جیسے فرشتوں کی نظر بھی پڑنے سے کترا رہی ہوں

    ۔اتنی پردے کی شوقین کے اس سفید پردے پر بھی قرار نہیں آیا اور ایک اور خاکی رنگ پردے کو پہنا اور اچانک سے  بالکل ہی اوجھل ہو گئیں۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔میں آج بھی اپنی والدہ کی قبر پہ کھڑا ہو کے انکی” پردہ داری” کا گلہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔

    پر وہ گلی میں جھانکتی آنکھیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں ۔میں چاہ کر بھی غلط کاری میں غرق نہ ہو سکا میں چاہ کر بھی ایک خاص حد سے آگے نہ جا سکا ،بس وہ دو چمکتی آنکھیں ہمیشہ مجھ پہ نظر رکھے ہوئے ہیں،مجھے ڈانٹی ہیں،مجھے بہلاتی ہیں ،،روٹھو تو منا بھی لیتی ہیں

    ذرا بھی منزل سے بھٹکتا ہوں میری والدہ کی وہ چُبتی نظریں میرا راستہ روک لیتی ہیں

    وہ میری راہبر بھی ہیں میری پیمبر بھی

    میری سب سے بڑی بدقسمتی میرا "اچھا حافظہ ” ہے جو میرا سب سے بڑا دشمن ہے  مجھے وہ تلخ ترین یادیں بھولنے نہیں دیتا،امی اور بابا جانی کی کہی ہوئی ایک ایک بات مجھے آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے

    دو رمضان عشاء کے بعد جب بھائیوں نے میرے برے ٹیسٹ کا بتایا تو  مجھے نمناک آنکھوں سے دیکھتی چلی گئیں۔۔عجیب تھیں وہ ڈانٹا ،،نہیں مارا نہیں۔۔۔بس مجھ سے منہ ہی پھیر لیا۔۔۔۔۔پھر رات نہ جانے کتنی دیر میں انکے پائوں سے لگا روتا رہا۔۔۔میرے آنسوئوں کی پائوں پہ دستک سے بیدار ہوئیں مجھے ایسے گلے لگایا جیسے مجھے روح میں اتار دیں گی۔۔۔۔امی جی مان جائیں نہ ۔۔۔۔۔وہ ایک ننھا وجود بلبلایا تھا۔آپ کیسے خوش ہونگی مجھے بتائیں دنیا آپکے قدموں میں لا رکھوںگا

    خوش۔۔۔۔۔مجھے اصل خوشی تب ہو گی جب تم "بڑے آدمی بن جائو گے”۔۔۔۔۔۔میں سر ہلاتا انکے پائوں چومتا باہر نکل آیا تھا

    بڑا آدمی؟؟؟؟ مجھے تو آج تک اسکی تعریف کا بھی علم نہیں ہو سکا  کہ یہ "بڑا آدمی” ہوتا کیا ؟ بننا تو دور کی بات ہے

     آج تک اپنی امی سے کیا وعدہ نبھانے کی کوشش میں ہوں،،،مگر میری نالائقی میری خامیاں میرے رستے کی سب سے بڑی دیوار ہیں۔

    وہ آنکھیں مجھے راہ دکھاتی ہیں میں منزل سمجھ کر پاگل دیوانوں کیطرح ادھر دوڑ پڑتا ہوں ننگے پیروں سے انگاروں بھرے اس راستے پہ چلتا ہوں اور جب منزل مجھے حاصل ہوجاتی  ہے وہ آنکھیں پھر ایک نئی منزل کا کا راہ دکھا دیتی ہیں۔۔۔رمضان المبارک کے مہینہ ہے سب بھائی دعا ضرور کیجیئے گا”  کہ مرنے سے پہلے یہ نالائق،یہ سرپھرا شخص اپنی امی سے کیا وعدہ ضرور نبھائے،،،اور ،کردار کا بہت چھوٹا یہ شخص "بڑا آدمی ” ہو جائے

    ورنہ وہ دو آنکھیں مجھے شاید قبر میں بھی چین سے سونے نہ دیں

    اے شوق سفر اتنا ،مدت سے یاسر ہم نے

    منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • کرونا وبا کے مثبت اثرات کیا تھے؟ تحریر: کائنات فاروق

    دنیاوی تاریخ میں دیکھا جائے تو وبا کے بڑے طویل مدتی اثرات مرتب ہوئے ہیں، خاندانوں کے زوال سے لے کر نوآبادیاتی نظام میں اضافہ اور یہاں تک کہ آب و ہوا میں تبدلیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔

    ١٣۵٠ء میں یورپ میں پھیلنے والے طاعون کا پیمانہ خوفناک تھا جس نے یورپی کے تقریبا ایک حصے کو ختم کردیا تھا۔ اس ہی طرح ١۵ ویں صدی کے اختتام پر امریکہ میں چیچک اور نوآبادیات نے اتنے لوگوں کو ہلاک کیا کہ جو شاید دنیا کی آب و ہوا کو تبدیل کرنے کا باعث بنا ہو۔ ١٨٠١ء میں زرد بخار اور غلاموں کی بغاوتوں کے نتیجے میں ہیٹی میں فرانسیسی حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔ اس ہی طرح رینڈپسٹ نامی جانوروں کو متاثر کرنے والی ایک مہلک بیماری نے افریقہ میں یورپ کے نوآبادیات کو تیز کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس بیماری نے افریقہ کے مویشیوں کا ایک بڑا حصہ ہلاک کیا۔ ١٨٧٠ء کی دہائی میں افریقہ کا صرف دس فیصد حصہ یورپی کنٹرول میں تھا لیکن ١٩٠٠ء تک یہ بڑھ کر نوے فیصد ہوچکا تھا۔ اور اس اراضی پر قبضہ رینڈپسٹ پھیلنے کی وجہ سے افراتفری کی مدد سے ہوا۔ ١٦۴١ء میں چین میں طاعون منگولوں کے زوال کا سبب بنا۔

    وبا کی دنیاوی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں خوفناک اور منفرد تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس ہی طرح آج کی دنیا میں بھی کرونا وائرس کے پھیلاو کے بعد ہم نے دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو اپنی زندگی بسر کرنے کے انداز کو ڈرامائی انداز میں بدلتے ہوئے دیکھا۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق ٣١ دسمبر ٢٠١٩ کو چین میں ایسے نمونیا کے کیسز

    کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ووہان میں کسی نامعلوم وجہ کے باعث سامنے آئے۔ تقریبا ایک سال کے بعد اسے نوول کرونا وائرس یا کووڈ – ١٩ کا نام دیا گیا۔ اس وبا کو اس سال دسمبر میں دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور سائنسدان تاحال اس وبا کو نہ ہی مکمل طور پر سمجھ سکے ہیں نہ اس کا علاج دریافت کرسکے ہیں۔

    اس وائرس کے سبب دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے

    معمولات زندگی تھم چکی تھیں۔ عالمی معیشت کرونا وائرس کی پہلی لہر کے باعث ہونے والے لاک

    ڈاؤن کے سبب پڑنے والے جٹھکے سے خود کو سنبھالنے کی جدوجھد میں لگی رہی اور تاحال عالمی معیشت خود کو مضبوط کرنے کی ان تھک کوششوں میں لگی ہے۔ 

    دیکھا جائے تو اس وبا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں اور زیادہ تر منفی پہلوؤں کو زیر غور لایا گیا ہے جیسے اس عالمی وبا کی وجہ سے بے وقت اموات کا سلسلہ اور صنعتوں کی بندش کے باعث لاکھوں لوگوں کی بےروزگاری وغیرہ۔

    کرونا وبا کے جہاں منفی اثرات نے خاص کر ہر سطح اور ہر طبقے کو متاثر کیا تھا اس کا ازالہ کرنے کی کوشش میں کئی لوگ آج تک لگے ہیں۔ لیکن جہاں اس وبا کے نقصانات دیکھے گئے وہیں یہ وبا سماجی سطح پر بھی ہمارے معموالات زندگی اور ماحولیات پر چند مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی ہے۔

    ان چند مثبت پہلوؤں کو زیر غور لاتے ہوئے ان کا ذکر کرتے ہیں، کرونا وائرس کے باعث سب سے مثبت اثر ماحولیات پر پڑا۔ صنعتوں کی بندش کے باعث کاربن کے اخراج میں کمی آئی جس کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں پچاس 

    فیصد کمی دیکھی گئی۔

    کرونا وبا کی شدت پکڑتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی بھی دیکھی گئی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو کرونا وائرس کے باعث صنعتوں کا بند ہونا اور کئی ملکوں اور شہروں میں نافذ لاک ڈاؤن تھا جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں واضح فرق پڑا تھا۔ 

    مسلمانوں پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے جس کے لیے پانچ وقت وضو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اور سائنسی اعتبار سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دن میں کم از کم ۵ سے

    ۶ مرتبہ ہاتھوں کو صفائی سے دھونا ضروری ہے،

    ماہرین کی جانب سے مسلسل تلقین کی جاتی رہی کہ اپنے ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔ 

    اس طرح لوگوں نے خوشی سے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اس عادت کو اپنا لیا ہے۔

    گلیوں اور سڑکوں کی صفائی کا خاص خیال رکھا جارہا تھا، لوگ خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو خودساختہ طور پر صاف رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔

    لوگوں کو ٹیلی ورکنگ سیکھنے کا موقع ملا۔ لوگوں نے وقت کو بچا کر گھر بیٹھے

    کام کو کس طرح مکمل کیا جاسکتا ہے یہ سیکھا، جس کے باعث دنیا اب ڈیجیٹل ورلڈ بننے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 

    لاک ڈاون کے باعث بازاروں کا جلدی بند ہونا اور شادی بیاہ میں غیر ضروری رسومات میں کمی اور سادگی کے رجحان کا بڑھنا بھی دیکھا گیا۔ کرونا وائرس کے باعث دنیا جہاں ورک فرام ہوم اور آئن کالسز پر آگئی تھی، اس وجہ اہل خانہ کے ساتھ گزارنے اور عبادتوں کی لیے لوگوں کو ایک اچھا وقت ملا، اس وبا کی وجہ سے ملنے والے وقت نے لوگوں کو عبادات میں باقاعدگی کا موقع بھی فراہم کیا۔

    کرونا وائرس نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ انسان کس قدر بے اور بس ہے اور بڑی سے بڑی دنیاوی طاقتیں بھی قدرتی آفات کے سامنے ڈھیر ہیں، سپر پاور ہونے کا دعوی کرنے والے بھی خدا کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، یہ بات سمجھنے والوں پر واضح ہوگئی کہ زندگی بہت مختصر ہے اور دنیا فانی ہے، ایک وبا پوری دنیا کی معیشت و کاروبار پر تالے لگوا سکتی ہے۔

    یہ کچھ مثبت پہلو وہ ہیں جو کرونا وبا کے باعث ہماری زندگی پر پڑے یا شاید اب تک پڑ رہے ہیں، 

    لیکن ہم نے دیکھا کہ لاک ڈاؤن میں جہاں کچھ رعایت ملی وہاں لوگ اپنے معموالات زندگی میں واپس لوٹتے ہوئے ان مثبت اثرات اور عادتوں سے بھی دور ہونے لگے، 

    کرونا وبا نے ہمیں زندگی کے کئی مثبت پہلووں سے آشنا کرایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ وبا

    ختم ہونے کے بعد بھی وبا کے دوران ہماری زندگی پر اثرانداز ہونے والے مثبت پہلوؤں اور تبدیلیوں سے دور نہ ہوں۔ بلکہ صفائی اور عبادت جیسی چند مثبت عادتوں، سادگی سے شادیاں اور سادہ معمولیات زندگی جیسے رجحانات کو اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے شامل کرلیں۔

    @KainatFarooq_

  • کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    کورونا وائرس میں کمی اور معمولات زندگی بحال تحریر؛ ناصر بٹ

    @mnasirbuttt

    اور یوں دنیا بھر کی بڑی بڑی معاشی قوتوں کو تگنی کا ناچ نچانے والی مہلک بیماری کورونا وائرس میں کمی ہونے لگ گئی، حالات معمول پر آنے لگے، کاروباری سیکٹرز میں لگی پابندیاں ختم تو مختلف شعبہ ہائے زندگی کے معاملات کو بھی کورونا سے پہلے کی زندگی پر بحال کرنے کی کوشش شروع ہوچکی، ساری صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تعلیمی سیکٹر کو بھی مکمل طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں این سی او سی اجلاس کے بعد فیصلوں میں سب سے اہم فیصلہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے ہوا اور ہفتے میں تین روز کلاسز کی چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے پرانی روٹین کو بحال کر دیا گیا وجہ پوچھی گئی تو کہا گیا کہ کورونا کی صورتحال اب قدرے بہتر ہوچکی، کل سے اب تک کا بھی جائزہ لے لیں تو محض 26 افراد ہی موت کے منہ میں گئے حالانکہ ایک وقت بھی ایسا بھی پاکستان نے دیکھا کہ جب ایک ہی دن میں 300 افراد بھی جان سے گئے اس کے علاوہ نئے کیسز کو بھی دیکھا جائے تو کل سے اب تک 912 شہری کورونا کی گرفت میں آئے جبکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک میں 6 ہزار سے بھی زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے، مجموعی طور پر صورتحال کچھ یوں ہے کہ پاکستان میں ٹوٹل ایکٹو کیسز کی تعداد 43 ہزار 658 ہوچکی تاہم ٹیسٹوں کہ صلاحیت میں روز بروز اضافہ کرنے کی کوشش جاری ہے جو کہ کامیاب بھی ہوچکی ملک میں گزشتہ ماہ ایک ہی روز میں 70 ہزار سے زائد ٹیسٹ بھی کیے گئے لیکن چونکہ بیماری کی شدت میں کمی آگئی اور پریشر بھی کم ہوتا نظر آرہا تو شہریوں کی جانب سے ٹیسٹ کروانے کا رجحان بھی قدرے کم نظر آرہا کل سے اب تک 45 ہزار 610 افراد نے ہی کورونا ٹیسٹ کروائے، وفاقی وزیر سمیت پورے این سی او سی کو کم ہوتا کورونا کیوں نظر آیا اس کا سارا کریڈٹ روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ویکیسن کی تعداد پر ہے، ویکسینٹڈ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو بھی کیوں نہ حکومت نے ٹرانسپورٹ سے لیکر سرکاری دفاتر اور بڑے شاپنگ مالز تک بغیر ویکسین داخلے پر جو پابندی عائد کر دی، اب حالات یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر 1 ملین سے زائد شہریوں کو کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے این سی او سی کی جانب سے جاری کیے گئے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ایک روز میں11 لاکھ 90 ہزار 424 افراد ویکسین کی سہولت سے مستفید ہوسکے جبکہ اب تک ملک بھر میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 77 لاکھ 41 ہزار 79 شہری کورونا ویکسینیشن کروانے کے بعد خود کو جان لیوا وبا سے محفوظ بنا چکے، حکومت 80 سال سے شروع ہوکر اب 12 سال تک کے ننھے شہریوں کو بھی کورونا ویکسینیشن سہولت فراہم کرتی نظر آتی ہے جس کے لیے سکولز کی سطح پر خصوصی ٹیمز پولیو کی مانند بچوں کو ٹارگٹ کرتی نظر آرہی ہیں بظاہر لگ رہا کہ حکومت کورونا سے کامیابی سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئی اور زندگی دوبارہ سے اپنے خوبصورت رنگوں کو سمیٹنے کی راہ پر چل نکلی ہے لیکن رکیے!!! ابھی خطرہ ٹلا نہیں بس نام بدل گیا، ایک اور پرانی جان لیوا بیماری موسم کی کروٹ بدلتے ہی لوگوں کی زندگی اجیرن بنانے آچکی، ڈینگی وائرس سے کئی افراد جاں کی بازی بھی ہار چکے اور متاثرین کی تعداد اتنی ہے کہ سرکاری ہسپتال میں مزید داخلوں کو بند کر دیا گیا ہے لیکن امید ہے اس پر حکومت قابو پاسکے گی جیسے عالمی وبا کورونا وائرس پر گرفت مضبوط کی جاچکی ہے

  • بلاتصوّف تحریر: ثناءاللہ محسود.

    خود ہی کی میں نے لگا کے بولی،

    خود ہی کی میں نے لگا کے قیمت،

    ہر ایک کو میں یہ کہہ رہا ہوں،

    ہائے رے دنیا بڑی بری ہے۔۔

    پچھلے دنوں اچانک میری نظروں کے سامنے پاکستان ٹیلی ویژن کے کسی پرانے ڈرامے یا کسی پروگرام کی تصویری جھلکیاں گذریں،جھلکیاں اتنی مختصر تھیں کہ پتہ نا  لگا سکا کہ کونسا ڈرامہ ہے اور اگرچہ کوئی پروگرام ہے تو نام کیا ہے اس کا،مگر ان مختصر سی جھلکیوں نے میری سوچ و فکر کے زاویے بدل ڈالے ،جیسے مجھے اپنا آپ پہچاننے کا یا اپنا احتساب کرنے کا سبق مل گیا اس مختصر سی جھلکیوں میں چند طالب علم اپنے اک عمر رسیدہ استاد سے سوال کر رہے تھے، وہ صرف سوال نہیں تھے زندگی کا مطلب تھا ان سوالوں میں جن کے جوابات وہ عمر رسیدہ استاد دے رہے تھے ایک طالب علم نے سوال کرتے ہوئے اک کہا کہ ماسٹر صاحب یہ تصوّف ہے کیا چیز؟؟

    ماسٹر صاحب نے اپنی عمر کے حساب سے بہت ہی بختہ انداز میں جواب دیتے کہا، اپنے اخلاق سنوارنے اور بہتر انسان بننے کا نام تصوف ہے ورد وضیفہ تو اس کا سہارا ہے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ذکر و وضائف کرنے سے سارے معاملات طے ہو جاتے ہیں ان بیچاروں کو کوئی سمجھاتا ہی نہیں کہ معاملات اور اخلاق کی درستگی کے بغیر وضیفے کاٹ نہیں کرتے یعنی اثر نہیں کرتے۔بس اسی ناسمجھی کی وجہ سے لوگ محروم رہتے ہیں”۔

    ماسٹر صاحب کے اک سوال کے جواب نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتا رہا ساتھ پڑی تسبیح کو غور کرتا رہا مجھے میری عبادت اور جگ میں نیک پرستی پہ ترس آنے لگا جی میں وہ ہی انسان ہوں جو ہر گھر ہر جگہ ہر اٹھتی نگاہ میں ملے گا۔بلکل میں ہی ہوں وہ آج کا انسان جو تصوّف سے کوہ سو دور ہے،میں زمانۂ موجود کا ایسا انسان ہوں جس میں اخلاق کے نام پر چاپلوسی عبادت کے نام پر دکھاوہ ،محبت کے نام پہ نفس کی غلامی اور خدمتِ خلق کے نام پہ احسان جتانا کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے۔میں نے تصوّف کی معنی ہی بدل ڈالی ہے،میں وہ انسان ہوں میں خود سے پہلے دوسروں کو درس دیتا ہوں میرے دل کا آئینہ اپنی ہی خواہشات کی زد میں دھندلا سا گیا ہے مگر میں دوسروں کو اپنے ساتھ چشمے سے بہتے صاف و شفاف پانی جیسا دیکھنا چاہتا ہوں۔

    میں ایک استاد ہوں تو میں طالب علموں سے پہلے خود کی سوچتا ہوں بیشک معاملات چلانے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر میں ایک استاد کی حیثیت سے اپنی پہلی اینٹری دیتا ہوں تو یہ نہیں پوچھتا ہوں بچے کتنے ہیں جن کو میں پڑھاؤں گا بلکہ یہ پوچھتا ہوں میری تنخواہ کتنی ہوگی۔۔

    اگر میں اک ڈاکٹر ہوں تومیری اوّلین ترجیح مریض ہونے چاہئیں مگر یہاں بھی میری پہلی توجہ اس پہ ہوتی ہے کہ میری فیس کاؤنٹر پر جمع ہوئی کہ نہیں چاہے مریض آپریشن نا ہونے کی باعث اپنی جان کی بازی ہر جائے۔یہاں پہ اک بات میرے ذہن میں آتی ہے چند دنوں پہلے ہسپتال میں بہت ہی لاچار و مجبور غریب عورت اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لائی تھی اس بچے کو چمڑی کی بہت ہی تکلیف دہ بیماری تھی جوکہ اس بچے کے سر کے زخموں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ بچہ کتنی تکلیف میں تھا،چونکہ ڈاکٹر چمڑی کے امراض کے علاج کا ماہر ڈاکٹر تھا تو وہ بہت دور کسی گاؤں سے اپنے بچے کو ڈاکٹر کے پاس لائی تھی،شاید اس سے پہلے بھی اک بار آ چکی تھی،کچھ ہی دیر میں اس عورت کا نمبر آتا ہے اور وہ اپنے بچے کو اٹھائے ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں چلی گئیں ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے کمرے سے ڈاکٹر صاحب کی شدید غصہ و برہمی کے انداز میں زور زور سے ڈانٹے کی آواز آنے لگی چونکہ کلینک چھوٹا سا تھا تو ساری آواز باہر سنائی دے رہی تھی،مگر ایسا بلکل بھی نہیں تھا کہ ڈاکٹر صاحب کسی ایمرجنسی کی صورت میں یہ انداز اپنائے ہوئے تھے بلکہ اس لیے چلا رہے تھے کہ اس مجبور و لاچار ماں نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحِب یہ جو ٹیوب آپ نے لکھا ہے وں میں کل لے لوں گی کیونکہ جتنے پیسوں میں یہ آئے گا تو میرے پاس گھر واپسی کا کرایہ نہیں رہے گا میں بہت دور سے آئی ہوں اکیلی بھی ہوں ابھی اس کا عورت کا یہی کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب آگ بگولا ہو گئے اور بہت بری طرح اس غریب سفید پوش عورت کی بیعزتی کی کہ وہ باہر آکر کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھ سکی شرمندگی کے مارے جلد ہی کلینک میں ہی موجود اسٹور سے ٹیوب لیا اور چلی گئیں کیا ہوتا اگر ڈاکٹر اس کی مجبوری سمجھ لیتا،بھلا کوئی ماں چاہے گی کہ اس کا بچہ تکلیف میں رہے اس نے مجبوری کے تحت ہی محلت مانگی جس پہ اس کو شرمندہ کیا گیا یہاں تو سب سے پہلے ڈاکٹر کو چاہیے تھا کہ اس عورت کی مدد کرتا شاید وہ ایسا تب کرتا جب اس کے دماغ میں خدمت کا جذبہ ہوتا لیکن اس نے اپنے اسٹور کی کمائی کو اوّل رکھا،یہ سارہ منظر تو سب ہی نے دیکھا مگر کسی کو خیال نا آیا کہ وہ عورت کیسے گھر گئی ہوگی پتہ نہیں کسی نے مدد کی ہوگی کہ نہیں ارے جسے پہلی فرست میں مدد کرنی تھی اس نے تو اپنی ذات کی نیلامی میں قیمتوں کا بلند آسمان قائم کیا ہوا تھا تو کیسے کوئی مفلس پہنچے گا۔

    ابھی اسی کشمکش میں دماغ الجھا ہو تھا رات بھر ننید نا آئی صبح آفس میں خود کو کام میں مصروف کر دیا،پیاس محسوس ہونے کی صورت میں آفس میں کام کرنے والی ماسی کو پانی پلانے کا کہا اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے محسوس کیا کے وہ کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی ہیں،میں نے جان بوبھ کر پانی تاخیر سے پیتے ہوئے کہا بیٹھ جائیں باجی تو وہ سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئیں،میں نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہوا باجی آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں کیا؟تو انہوں نے بڑے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج تو ٹانگیں دکھ رہی ہیں اور ہلکی سی تھکی سی مسکراہٹ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دل کرتا ہے کاٹ کے رکھ دوں آج ٹاگیں سکون آجائے جب تک میں نے حیرت زدہ ہنسا سوال کرتے ہوئے کہا اللّٰہ خیر کرے باجی کیا ہوگیا،ایسا کیوں کہ رہی ہیں؟بولیں نا پوچھیں بیٹا ،سچ کہتے ہیں تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیتے تو آج آسانیاں ہوتیں،آگے بتاتے کوئے کہا کہ کل میری بیٹی کا شناختی کارڈ بننا تھا،لمبی قطار لگی ہوئی تھی صبح سے تقریباً شام ہوگئی اور جب ہماری باری آئی تو پانچ منٹ بھی بڑے ہیں وہاں بیٹھے شخص نے ہمارے کاغذات دیکھ کر کہا اماں فلاں کاغذ نہیں ہے کل وہ لے کر آنا بعد میں کام ہوگا،تو بیٹا کام بھی نہیں ہوا اور درد ساتھ لے کر آئی ایسے میں چھٹی کا وقت ہوگیا اور وہ چلی گئی مگر میرے دماغ میں یہ بات بھی گھر کر گئی کہ کیا ہمارے معزز ادارے میں اتنا نہیں ہوسکتا ہے کہ قطار میں موجود لوگوں کو دیکھا جائے کہ آنے والوں کے کاغذات مکمل ہیں کہ نہیں اگرچہ نہیں ہیں تو ان کو بتایا جائے کہ وہ اتنی دیر نا کھڑے ہوں گھر جا کر اپنے کاغذات مکمل کر کہ آئیں مگر افسوس ایسا نہیں ہوتا ایسا ہوگا تو آرام و راحت میں خلل آئے گا۔اگر ڈیوٹی ہی دینے کے لیے آئے ہیں تو تھوڑا جذبۂ انسانی بھی ساتھ شمار کیا جائے تو کام اور عبادت کا مزہ بھی دہرہ ہوجائے،مگروہ ہی بات کہ بات صرف سمجھنے کی ہے اور ہمیں کسی نے سمجھایا ہی نہیں کہ دنیا میں قدر و قیمت سے مراد تنخواہ یا دولت حاصل کرنا نہیں ہے

    کیا ہمیں نہیں آتا ذکرِ الٰہی سے پہلے اللّٰہ کی مخلوق کی خدمت کرنا،،بلکل آتا ہے مگر ہم کہیں کہو گئے ہیں ہم تو اس خدائی عظیم و عالیشان کی مخلوق ہیں جس نے خود اپنے حقوق یعنی حقوقِ اللّٰہ سے پہلے حقوق العباد کو ترجیح دی ہے تو ہم کیسے اس کے حکم کے بر عکس چل سکتے ہیں۔

    اس تمام تر سوچ و کشمکش میں اپنے الفاظ کے ذریعے اظہار کے بعد میں نے اس پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے کی جھلکیوں کی مدد سے اس ڈرامے کا نام تلاش کرنا شروع کر دیا کافی دیر کی محنت کے بعد پتہ چلا کہ اس ڈرامے کا نام "من چلے کا سودہ” ہے جس کی جھلکیوں نے مجھے خود کو اپنے اندر بسے انسان کو جگانے پر مجبور کیا اور آج میری ساری سوچیں اک جگہ بیٹھ گئیں اور پشیمانی سی ہوئی، آج وہ دن تھا کہ مجھے معلوم ہوا واقعی ہم اس دور کے انسان ہیں جو انسانیت کم اور سودہ گری زیادہ کرتے ہیں۔ 

    "اسلحے کی غداری نے نہیں بجھائی اتنی آنکھیں،

    فقط اک ذات کی سودہ گری نے دھندلا دیا ہے عالم۔

            اللّٰہ جل جلالہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

    @SanaullahMahsod

  • جنگلات کی بےدریغ کٹائی کی وجہ اور اسے کسیے کم کیا جاسکتا ہے۔ تحریر  روشن دین

    جنگلات کی بےدریغ کٹائی کی وجہ اور اسے کسیے کم کیا جاسکتا ہے۔ تحریر روشن دین

    @rohshan_Din 

    جنگلات کو کاٹنے کے بہت سارے وجوہات ہیں ان میں سے ایندھن کے طور پہ استمال کرنا تعمیرات کے لے استعمال کرنا اور مختلف چیزیں بنانے کے لے استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

    ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے مطابق ، جنگلات زمین کی سطح کا 30 فیصد سے زیادہ کا علاقے میں ہونے چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جنگلات چار سے پانچ فیصد علاقے میں ہے وہ بھی گلگت بلتستان کے کچھ علاقے کے پی کے چند علاقوں میں جنگلات پاے جاتے ہیں ۔عمران خان بھی بلن ٹری پروگرام کا مقصد بھی یہی ہے کے پاکستان میں جنگلات کو کیسے بڑھایا جاسکتاہے۔ جنگلات ایک ارب سے زائد لوگوں کو خوراک ، ادویات اور ایندھن مہیا کر تے ہیں۔ دنیا بھر میں ، جنگلات 13.4 ملین لوگوں کو جنگلات کے شعبے میں ملازمتیں فراہم کرتے ہیں ، اور مزید 41 ملین افراد کے پاس جنگلات سے متعلقہ ملازمتیں ہیں۔

    جنگلات ایک وسیلہ ہیں ، لیکن وہ زمین کے بڑے ، غیر ترقی یافتہ حصے بھی ہیں جنہیں زراعت اور چرنے جیسے مقاصد کے لیے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق ، شمالی امریکہ میں ، 1600 اور 1800 کی دہائی کے درمیان لکڑی اور کاشتکاری کے لیے براعظم کے مشرقی حصے میں تقریبا half آدھے جنگلات کاٹ دیے گئے۔

    آج ، سب سے زیادہ جنگلات کی کٹائی اشنکٹبندیی علاقوں میں ہو رہی ہے۔ وہ علاقے جو ماضی میں ناقابل رسائی تھے اب رسائی میں ہیں کیونکہ گھنے جنگلات کے ذریعے نئی سڑکیں بنائی جاتی ہیں۔ میری لینڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی 2017 کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اشنکٹبندیی نے 2017 میں تقریبا 61،000 مربع میل (158،000 مربع کلومیٹر) جنگل کھو دیا – یہ علاقہ بنگلہ دیش کا رقبہ ہے۔جبکے پاکستان میں ایک طرف جنگلات لاگئے جارہے ہیں ہیں جبکہ دوسرے طرف جنگلات کی کٹائی عروج پہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اس کی واضع مثال ہے ۔

    جنگلات کے تباہ ہونے کی وجوہات۔

    ورلڈ بینک کا اندازہ ہے کہ 20 ویں صدی کے آغاز سے تقریبا . 3.9 ملین مربع میل جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔ پچھلے 25 سالوں میں ، جنگلات 502،000 مربع میل (1.3 ملین مربع کلومیٹر) کم ہو گئے ۔ یہ علاقہ جنوبی افریقہ کے سائز سے بڑا ہے۔ پاکستان کے پی کے کے ضلع بٹگرام مانسہرہ کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامیرمیں گزشتہ بیس سالوں میں ساٹھ فیصد جنگلات کاٹ دیے گےہیں۔ 

     ۔ 2018 میں ، دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ ہر سیکنڈ میں ، جنگل کا ایک حصہ فٹ بال کے میدان کے سائز کے برابر کھو جاتا ہے۔

    اکثر ، جنگلات کی کٹائی اس وقت ہوتی ہے جب جنگلات کے علاقے کو کاٹ کر صاف کیا جاتا ہے تاکہ زراعت یا چرنے کا راستہ بنایا جا سکے یا سمگلنگ کی جاتی ہے۔ متعلقہ سائنسدانوں کی یونین (UCS) نے رپورٹ کیا ہے کہ اشنک ٹبندیی جنگلات کی کٹائی کے لیے صرف چار اشیاء ذمہ دار ہیں: گائے کا گوشت ، سویا ، پام آئل اور لکڑی کی مصنوعات۔ یو سی ایس کا اندازہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کا رقبہ (14،800 مربع میل ، یا 38،300 مربع کلومیٹر) ہر سال جنگلات کی کٹائی سے ضائع ہو جاتا ہے۔

    اشنکٹبندیی جنگلات میں قدرتی آگ نایاب لیکن شدید ہوتی ہے۔ زرعی استعمال کے لیے زمین کو صاف کرنے کے لیے عام طور پر انسانوں کی روشنی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ، قیمتی لکڑیوں کی کٹائی کی جاتی ہے ، پھر باقی پودوں کو جلا دیا جاتا ہے تاکہ سویا یا مویشیوں کے چرنے جیسی فصلوں کا راستہ بنایا جا سکے۔ 2019 میں ، برازیل میں انسانوں سے جلنے والی آگ کی تعداد آسمان کو چھو گئی۔ اگست 2019 تک ، ایمیزون میں 80،000 سے زیادہ آگ جل گئی ، جو 2018 کے مقابلے میں تقریبا 80 فیصد زیادہ ہے۔

    پام آئل کے پودے لگانے کے لیے کئی جنگلات کو صاف کیا گیا ہے۔ پام آئل سب سے زیادہ پیدا ہونے والا سبزیوں کا تیل ہے اور تمام سپر مارکیٹ مصنوعات میں سے نصف میں پایا جاتا ہے۔ یہ سستا ، ورسٹائل ہے اور اسے کھانے اور ذاتی مصنوعات جیسے لپ اسٹکس اور شیمپو دونوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مقبولیت نے لوگوں کو کھجور کے درخت اگانے کے لیے اشنکٹبندیی جنگلات صاف کرنے پر اکسایا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے درختوں کو اگانے کے لیے مقامی جنگلات کی سطح اور مقامی پیٹ لینڈ کی تباہی درکار ہوتی ہے – جو ماحولیاتی نظام پر مضر اثرات کو دوگنا کردیتی ہے۔ زیون مارکیٹ ریسرچ کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ، عالمی پام آئل مارکیٹ کی قیمت 2015 میں 65.73 بلین ڈالر تھی اور توقع ہے کہ 2021 میں 92.84 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    جنگلات کی کٹائی کے اثرات

    جنگلات زندہ چیزوں کے متنوع ذخیرے کے لیے گھر سے زیادہ مہیا کرتے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کے لیے بھی ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یوگنڈا جیسے ممالک میں لوگ ، لکڑی اور چارکول کے لیے درختوں پر انحصار کرتے ہیں۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوران یوگنڈا نے اپنے 63 فیصد جنگلات کو کھو دیا ہے۔ خاندان بچوں کو بھیجتے ہیں – بنیادی طور پر لڑکیاں – لکڑی جمع کرنے کے لیے ، اور بچوں کو درختوں تک پہنچنے کے لیے دور دور جانا پڑتا ہے۔ کافی لکڑی جمع کرنے میں اکثر سارا دن لگتا ہے ، اس لیے بچے سکول جانے سے محروم رہتے ہیں۔

    ایف اے او کی 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق ، زمین کا تازہ پانی کا تین چوتھائی حصہ جنگلات کے آبی ذخائر سے آتا ہے ، اور درختوں کے ضائع ہونے سے پانی کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی 2018 کی دنیا کے جنگلات کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اپنے پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ زراعت اور صنعت کے لیے استعمال ہونے والے پانی کے لیے جنگلاتی آبی ذخائر پر انحصار کرتی ہے۔

    جنگلات کی کٹائی کے حل۔

    جنگلات کی کٹائی کے متبادل تیار کرنے سے درختوں کی صفائی کی ضرورت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ، زراعت کے لیے استعمال ہونے والی زمین کی مقدار کو بڑھانے کی خواہش کسی علاقے کو جنگلات کی ایک پرکشش وجہ ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار جنگلات کے انتظام کے ٹول باکس کے مطابق ، اگر لوگ پائیدار کاشتکاری کے طریقوں کو اپناتے ہیں یا کاشتکاری کی نئی ٹیکنالوجیز اور فصلیں استعمال کرتے ہیں تو زیادہ زمین کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

    صاف شدہ علاقوں میں درختوں کو دوبارہ لگانے یا جنگل کے ماحولیاتی نظام کو وقت کے ساتھ دوبارہ تخلیق کرنے کی اجازت دے کر بھی جنگلات کو بحال کیا جا سکتا ہے۔ یو ایس فاریسٹ سروس کے مطابق ، بحالی کا ہدف جنگل کو اس کی اصل حالت میں واپس لانا ہے۔ جتنی جلدی ایک صاف شدہ علاقہ دوبارہ لگایا جائے گا ، اتنا ہی تیزی سے ماحولیاتی نظام اپنی مرمت شروع کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ، جنگلی حیات واپس آئے گی ، پانی کے نظام دوبارہ بحال ہوں گے ، کاربن کو الگ کر دیا جائے گا اور مٹی کو دوبارہ بھر دیا جائے گا۔

    جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لیے ہر کوئی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم لکڑی کی مصدقہ مصنوعات خرید سکتے ہیں ، جب بھی ممکن ہو پیپر لیس ہو سکتے ہیں ، اپنی مصنوعات کی کھپت کو محدود کر سکتے ہیں جو پام آئل کا استعمال کرتے ہیں اور جب ممکن ہو درخت لگائیں۔

    گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان جنگلات کو بڑھانے میں مصروف ہیں اور انکی اس کاوش کو دنیا بھر میں پزیرائی ملی ہے۔ حکومت کو چاہیے اس پراجیکٹ پہ مزید کام کریں اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لے مختلف سیمنار کریں مقامی لوگوں کی مدد سے ہم جنگلات کی کٹائی کو روک سکتے ہیں

  • جلد کی حفاظت کے لیے صحیح کاسمیٹکس کا انتخاب تحریر محمّد اسحاق بیگ

    جلد کی حفاظت کے لیے صحیح کاسمیٹکس کا انتخاب تحریر محمّد اسحاق بیگ

    کسی بھی قسم کی جلد کے لیے صحیح کاسمیٹکس ضروری ہے کہ ایک تازہ قدرتی ظاہری
    شکل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کاسمیٹکس کے رد عمل کو روکنے کے لیے الرجی جیسے
    نتیجے میں خارش ، خارش یا وائٹ ہیڈز یا بلیک ہیڈز کے ساتھ بریک آؤٹ اور دردناک
    جلد کے پھٹنے سے۔
    ہر شخص کی جلد منفرد ہوتی ہے اور ایک شخص کے چہرے کے مختلف حصے مختلف خصوصیات
    کے حامل ہو سکتے ہیں جنہیں مناسب کاسمیٹکس کا انتخاب کرتے وقت دھیان میں رکھنا
    چاہیے۔

     اگر آپ مایوس ہوچکے ہیں جب آپ کا پاؤڈر آئی شیڈو دوپہر کے کھانے سے پہلے
    سلائیڈ کر جاتا ہے یا آپ کی فاؤنڈیشن ایک لائن کی شکل جیسی  دکھائی دیتی ہے ،
    آپ کی جلد کی خصوصیات کو سمجھنا اور اپنی جلد کی قسم کے لیے مناسب کاسمیٹکس
    خریدنا ایک مشکل کام  ہے۔  آپ کو بہترین نظر آنے میں مدد کرنے کے لیے یہاں کچھ
    تجاویز ہیں۔

     ایسے کاسمیٹکس سے پرہیز کریں جو آپ کی جلد کو خشک یا خارش  میں ڈالتے ہیں۔

     ہر مختلف جلد کی قسم مختلف قسم کے کاسمیٹکس پر مختلف رد عمل ظاہر کرتی ہے ۔
    یہاں تک کہ اگر کوئی خاص برانڈ آپ کے آئی شیڈو کے لیے کام کرتا ہے ، وہی برانڈ
    لپ اسٹک کے لیے کام نہیں کر سکتا۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی پلکوں پر جلد کی
    قسم آپ کے ہونٹوں کی جلد کی قسم سے بہت مختلف ہو سکتی ہے۔  جب آپ کاسمیٹکس
    جیسے فاؤنڈیشن کا انتخاب کر رہے ہوں ، مثال کے طور پر ، کاسمیٹکس یا کاسمیٹکس
    کو خشک کرنے سے پرہیز کریں جس سے آپ کی جلد پھٹ جائے۔  بدقسمتی سے ، آپ کو ان
    برانڈ کا تعین کرنے کے لیے کئی برانڈ  آزمانا  پڑ سکتے  ہیں جو آپ کی جلد پر
    مستقل طور پر کام کرتے ہیں۔  ایک اور مسئلہ جس پر غور کرنا  چاہیے وہ یہ ہے کہ
    آپ کی جلد کسی خاص کاسمیٹک کا رد عمل پیدا کر سکتی ہے جس سے پہلے جلد میں جلن
    تو  نہیں ہوتی تھی ، لہذا آپ ایک آزمودہ اور حقیقی برانڈ کا متبادل ڈھونڈنے پر
    مجبور ہو جاتے ہیں ، جو ماضی میں اچھا کام کرتا تھا۔  جلد کی خصوصیات زندگی
    بھر میں نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہیں ، جو آپ کو منتخب کردہ کاسمیٹکس کی
    قسم میں تبدیلی پر مجبور کرتی ہیں۔

     کاسمیٹکس کا انتخاب کرتے وقت اپنی جلد کے رنگ پر غور کریں۔

     یہاں تک کہ اگر خاص قسم کا کاسمیٹک آپ کی جلد کی قسم کے لیے صحیح ہے ، غلط
    رنگ کا انتخاب – جو کہ بہت ہلکا یا بہت گہرا ہے وہ کاسمیٹکس کو پرکشش سے کم
    بنا دے ۔  ایسے کاسمیٹکس کو منتخب کریں جو آپ کی جلد کی خوبصورتی کی تکمیل اور
    مماثلت کریں اور جلد کی رنگت اور ساخت میں چھوٹی چھوٹی خامیاں ختم ہو جائیں ۔
    گہری بنیادیں ، آنکھوں کے سائے کے لیے گہرے رنگ اور آئلینر چاکلیٹ یا زیتون کی
    جلد کے رنگ رکھنے والوں کے لیے بہترین موزوں ہوں گے۔  سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر
    ، اگر آپ کی جلد پیلی  ہے تو آپ کو فاؤنڈیشن اور آنکھوں کے میک اپ کے ہلکے
    رنگوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔  کاسمیٹکس کو بڑھانا چاہیے ، کبھی بھی جلد کے
    ٹنوں پر غالب نہیں آنا چاہیے۔

     معیاری میک اپ کے لیے پیسوں کی پرواہ نہ کریں ۔

     معیاری میک اپ اکثر آپ کے خرچے کو تکلیف دیتا ہے ، لیکن یہ آپ کی جلد پر ظاہر
    ہوتا ہے۔  سستا میک اپ آپ کی جلد پر  سلائیڈ  پیدا کر سکتا ہے اور اس میں
    ملاوٹ کا امکان نہیں ہے۔  یہ  سکن پر بیٹھنے کا زیادہ امکان رکھتا ہے ، جو
    پلاسٹک کی شکل دیتا ہے۔  اچھے معیار کے کاسمیٹکس تلاش کریں جو ضروری نہیں کہ
    مہنگے ہوں۔  بہتر ہے کہ اپنے آپ میں معیاری میک اپ خرید کر  اپنے پیسوں کی بچت
    بھی کریں جو آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی جلد کی قسم کے ساتھ اچھا لگتا ہے۔

     خشک جلد

     اگر آپ خشک جلد کا شکار ہیں تو مایوس نہ ہوں۔  آپ کو ایک اچھی کریم  کی بنیاد
    کی تلاش کرنی چاہئے۔  اگر آپ کنسیلر استعمال کرتے ہیں تو ، یقینی بنائیں کہ یہ
    کریم پر مبنی ہو  اور آپ کے کمپیکٹ پاؤڈر کو کمپیکٹ پاؤڈر ہی رہنا چاہئے۔  آپ
    کو سستے یا تیل سے پاک فارمولوں سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ وہ آپ کے چہرے پر
    باریک لکیروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔  آنکھوں کا میک اپ ریشم کی بناوٹ والے پاؤڈر
    یا کریم آئ شیڈو سے کیا جاتا ہے اور آئلینر یا تو چمکدار پنسل یا دھندلا ہونا
    چاہیے۔  لپ اسٹکس اور ہونٹ کی چمک کے ساتھ نمی لازمی  ہے۔  ایک موئسچرائزنگ لپ
    اسٹک تلاش کریں اور ہونٹ کی چمک استعمال کریں جس میں الوویرا ، وٹامن ای جیسے
    اجزاء ہوں ، یہ دونوں ہونٹوں کی اضافی نمی فراہم کرتے ہیں۔

     نازک جلد

     ایسی کاسمیٹک تلاش کریں جن پر خاص طور پر حساس جلد کے استعمال کے لیبل لگے
    ہوں اور اپنی کاسمیٹک مصنوعات میں خوشبو سے بچیں۔  غیر الرجینک ایک اور جملہ
    ہے جو لیبلوں پر تلاش کرنا ہے۔  اہم بات یہ ہے کہ ہائی ڈائی لیولز یا پرزرویٹو
    کے ساتھ کسی بھی چیز سے پرہیز کریں۔

     مجموعہ جلد۔

     آپ یا تو اپنے چہرے پر مختلف جلد کے حالات کے لیے مختلف مصنوعات منتخب کر
    سکتے ہیں یا آپ ایسی مصنوعات منتخب کر سکتے ہیں جو خاص طور پر  جلد کے لیے
    بنائی گئی ہوں۔  یہاں تک کہ نام نہاد عام جلد میں اکثر ایسے حصے  ہوتے ہیں جو
    دوسرے  حصوں کے مقابلے میں کم یا زیادہ تیل  والے ہوتے ہیں۔  ماہانہ سائیکل کے
    دوران عام جلد میں اوقات ہو سکتے ہیں جب یہ معمول سے زیادہ تیل دار ہو۔

     چکنی جلد

     چکنی جلد کے لیے ، دھندلا ٹائپ فاؤنڈیشن لگانے سے پہلے آئل فری پرائمر
    استعمال کرنے کی کوشش کریں جو آپ کی جلد کے مسام کو بند نہ کرے۔  آئی شیڈو یا
    کاجل اور کریمی سٹائل ہونٹ پنسل کے لیے کریم سے پرہیز کریں۔

     سخت یا خشک کرنے والی صفائی کے ساتھ ساتھ چکنائی صاف کرنے والوں سے پرہیز
    کریں کیونکہ یا تو انتہائی آپ کی جلد کی قسم کے ساتھ ناگوار رد عمل ظاہر کرے
    گا۔

     یاد رکھیں حسین چہرہ ہی سب کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے ۔

     

    @Ishaqbaig___

  • ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    ایرک ہابز بام تحریر : اقصٰی صدیق

    اکتوبر 2012 ء میں تاریخ نویسی کا ایک بہت بڑا نام ایرک ہابز بام اس دنیا سے گزر گئے۔ہابز بام 1917ء میں مصر میں پیدا ہوئے، ان کا بچپن آسٹریا اور جرمنی میں گزرا۔ ان کے والدین یہودی تھے اور بچپن ہی میں فوت ہوگئے تھے۔ایرک ہابز بام نے پچانوے برس عمر پائی۔
    یہ برطانوی مؤرخ بیسویں صدی کی تاریخ نویسی پر چھائے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کی اعلیٰ ترین جامعات میں ابھی بھی تاریخ کا کوئی نصاب ان کی کتابوں اور مضامین کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا۔
    1930 ء میں جب جرمنی میں ہٹلر کی آمریت کا آغاز ہوا تو ہابز بام اپنے چچا کے ساتھ لندن منتقل ہوگئے۔ جہاں انہوں نے تعلیم میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمرج یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے وظیفہ حاصل کیا اور وہی ان کے علمی سفر کا شاندار آغاز ثابت ہوا۔
    ہابز بام نے تقریباً ایک صدی پر محیط اپنی زندگی میں میں ہونے والے واقعات پر نہ صرف بہت گہری نظر رکھی، بلکہ بہت کچھ لکھا۔ اور ان کی موت کے وقت ان کے بستر پر موجود واحد چیز اخبارات تھے جن سے وہ حالات سے آگاہ رہتے تھے۔

    ایرک ہابز بام کی تاریخ نویسی کی خاص بات یہ ہے، کہ وہ حال کی سیاست اور معیشت کو ماضی کے اسباق کی روشنی میں بڑے دلچسپ انداز سے بیان کرتے تھے آخری دنوں میں دیے جانے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مغربی بنگال میں سی پی ایم حکومت کی فتح پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تاریخی سوالات پر سیدھا جواب دینا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ بہت سارے پہلوؤں کا احاطہ کرنے پر زور دیتے۔

    انہوں نے تاریخ نویسی کو ایک نئی جہت سے روشناس کروایا۔جس کی خاص بات سماجی اور ثقافتی تاریخ پر بہت زیادہ زور دیا جانا تھا۔
    ایرک ہابز بام نے اپنی تاریخ نویسی کا آغاز اس بات پر غور و خوض سے کیا کہ تاریخ میں سماجی احتجاج کی کونسی پرتیں رہی ہیں وہ صرف اس بات سے قائل نہیں ہوتے تھے کہ کوئی ایک محرّک مثلاً مذہب، معیشت یا روایات لوگوں کو احتجاج پر مجبور کرتی ہیں۔ سماجی احتجاج کی تاریخ میں مختلف مثالوں کو کریدنے کے بعد انہوں نے اس موضوع پر بھی بہت کچھ لکھا۔ کہ کس طرح سماج میں مختلف طبقات کس طرح روایات گھڑتے ہیں اور کیسے ان” گھڑی ہوئی روایات” کو اجتماعی یادداشت کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

    ان کے مطابق روایات گھڑنے میں عوام سے زیادہ ریاست یا قوم پرست اور فرقہ پرست عناصر اپنا کردار ادا کرتے ہیں ان کی مشہور ترین کتاب” یورپ کا عہدِ انقلاب” تھی
    ۔جس میں انہوں نے 1789ء کے انقلاب فرانس سے 1848ء کے یورپی انقلابات کا احاطہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے انیسویں اور بیسویں صدی کی تعریف پر بیش بہا کتابیں لکھیں۔ ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوموں کے ارتقاء اور قوم پرستی کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے خود کو لگی بندھی تعریفوں سے دور رکھنا ضروری ہے، کیونکہ” قوم” بذات خود ایک گمراہ کن تصور ہے جسے ریاست اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔
    اور قوم پرست اپنے مقاصد کے لیے اور دونوں صورتوں میں یہ تنگ نظری کا باعث بنتا ہے، لوگوں کا کوئی بھی گروہ جمع ہوکر خود کو” قوم” کہلوانا شروع کر دیتا ہے یا ریاست۔

    ایرک ہابز بام کا کہنا تھا کہ قوم کا تصور اور قوم پرستی کے مبلغ ہی پروان چڑھاتے ہیں اور قوموں کی تشکیل میں سوشل انجینئرنگ یا سماجی کارگری کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ قوم کوئی فطری یا خداداد اکائی نہیں۔ جس طرح اچھی یا بری اکائیاں تشکیل دی جاتی ہیں اسی طرح قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جسے ریاستیں اپنے طریقے سے اور قوم پرست عناصر اپنے انداز سے پختہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے مختلف سچی جھوٹی روایات کااستعمال کیا جاتا ہے۔

    ایرک ہابز بام کہتے ہیں کہ قوموں کو سمجھنے کے لئے صرف سیاسی تاریخ نہیں، بلکہ سماج، معیشت، نفسیات اور ثقافت وغیرہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہابز بام کے تجزیے میں قوموں کی تشکیل کے تین مرحلے ہیں۔
    پہلے مرحلے میں جو ہزاروں سال پر محیط ہو سکتا ہے صرف ایک لوک صحافت ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ ادبی شکل اختیار کر لیتی ہے مگر اس کی کوئی سیاسی یا کوئی قومی شکل نہیں ہوتی، بس لوگ ساتھ رہے ہوتے ہیں اور مشترکہ ناچ گانے اور کہانیاں پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    جبکہ دوسرے مرحلے میں چند قوم پرست نمودار ہونے لگتے ہیں، جو دیگر اقوام کی بالادستی کی نشاندہی کرتے ہیں جو بڑی حد تک درست بھی ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ بالادست قوم کے حکمرانوں کے بجائے اس کی قوم کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
    تیسرے مرحلے میں اس "قومی تصور”کو عوامی حمایت حاصل ہو جاتی ہے۔
    اور چند جنگجو قوم کے ترجمان بن بیٹھے ہیں، ہابز بام کا کہنا تھا کہ سنجیدہ مورخ خود کبھی بھی قوم پرست نہیں ہو سکتا، کیوں کہ کسی بھی فرقہ پرست کی طرح کوئی قوم پرست صحیح تاریخ نہیں لکھ سکتا۔کوئی قوم اس وقت تک قوم نہیں بن سکتی جب تک کہ وہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر مسخ نہ کر دے۔
    جبکہ کہ اچھے مورخ کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو مسخ ہونے سے بچائے۔ ہابز بام ایک عظیم مورخ اور سماجی تجزیہ نگار تھے۔جن کی تحریروں سے نہ صرف یورپ بلکہ دیگر علاقوں کے سماجی ارتقاء کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ کاش! ہمارے سیاستدان فوجی اور افسر شاہی سے تعلق رکھنے والے مجھے خود ساختہ تجزیہ نگار بھی ایرک ہابز بام کی کتابیں پڑھ کر کچھ سمجھنے کی کوشش کریں۔

    @_aqsasiddique

  • ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ورزش کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات :تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہماری مصروفیات کافی زیادہ ہوتی ہیں اور اُن مصروفیات کی وجہ سے ہم لوگ ذہنی طور پر بہت تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور ہمارا ذہن بھی صحیح سے کام نہیں کر پاتا ، ہم لوگ اپنے روز مرہ کے کام اچھے سے نہیں کر پاتے۔ ایسے میں ہمیں ایک ایسی دوا کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں ذہنی سکون دے اور ورزش ہی وہ واحد چیز ہے جو ہمیں یہ سکون مہیا کر سکتی ہے۔ ورزش کے ہماری زندگی پر بہت مثبت اثرات ہیں اور روزآنہ کی بنیاد پر اگر ہم ورزش کریں گے تو ہم خود کو بہت چست اور توانا محسوس کریں گے۔ ورزش کی وجہ سے ہم جسم میں ایک عجیب سی طاقت کو محسوس کرتے ہیں اور کوئی بھی کام ہو ہم میں اسکو کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ورزش کے انسان کی صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اُن پر بات کرتے ہیں۔
    اگر ہم ہر روز ایک مخصوص وقت پر ورزش کریں گے تو ہمارا وزن متوازن رہے گا اور موٹاپے جیسی بیماری سے نجات حاصل ہو جائے گی۔
    ورزش کی وجہ سے ہم بہت سی سنگین نوعیت کی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں جیسا کہ دل کی بیماریاں جو کہ آجکل بہت عام ہوتی جا رہی ہیں اُنکا خطرہ کم ہوتا جاتا ہے اور ہماری صحت پر بہت ہی اچھا اثر پڑتا ہے۔
    اسّی طرح شوگر کی بیماری بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر ہم اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہ ورزش کو اپنا روز کا معمول بنانا ہوگا۔
    اگر کوئی کسی نشے میں مبتلا ہے جیسا کہ سیگریٹ وغیرہ تو ورزش کے ذریعے ان چیزوں سے بچا جا سکتا ہے۔
    اگر ہم ورزش کرتے ہیں تو ہماری ذہنی صحت اور رویہ بہت بہت اچھا ہو جاتا ہے کیوں کہ ورزش کے دوران ہمارا جسم کیمیکل کا اخراج کرتا ہے اور یوں ہم سکون محسوس کرتے ہیں۔
    اسکے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورزش سے ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں بڑا اضافہ ہوتا ہے ہم میں عمر کے ساتھ ساتھ مشکلات کو حل کرنے کے بہتر سے بہتر طریقے مل جاتے ہیں کیوں کہ ورزش سے ہمارا جسم پروٹینز اور دوسرے کیمیکلز کا خراج کرتا ہے جس سے ہمارا دماغ بہتر کام کرتا ہے۔
    آخر میں اہم چیز یہ ہے کہ ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنایا جائے ؟
    اسکا سب بہتر حل یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا کر کے آگے بڑھا جائے اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارا جائے۔ ورزش کو فن کی طرح لیا جائے اور زیادہ پرجوش طریقے سے کیا جائے اس سے ہم آسانی سے ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
    TA: @AhtzazGillani

  • فاطمید فاؤنڈیشن؛ امید کی روشن کرن  تحریر: محمد بلال

     پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں خدمت ِ خلق کے جزبےسے سرشار ایک زندہ قوم بستی ہے۔ اسی جزبہ سے سرشارایک ادارہ فاطمید فاؤنڈیشن ہے جو تھلیسیمیا کے مریضوں کےلیے ایک امید کی روشن کرن ہے۔

    ٓآج میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد اس ادارہ کے متنظمین کی حوصلہ افزای کرنا ہے۔

     آئیے، جانتے میں کہ یہ ادارہ کیسے شروع ہوا ہے۔برٹو روڈ، کراچی، پاکستان کے ایک چھوٹے سےکمرے سے شروع ہونے والا یہ سفر آہستہ آہستہ سب سےبڑی رضاکارانہ صحت کی دیکھ بھال اور خون کی منتقلی کی خدمت میں داخل ہو گیا ہے جو ہر مہینے اپنے ہزاروں مریضوں کو ہزاروں بیگ صحت مند مکمل طور پر جانچنے والے خون اورخون کی مصنوعات فراہم کرتا ہے۔ (جن میں اکثریت بچےہیں) خون کے خوفناک امراض یعنی تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا اورخون کے دیگر امراض میں مبتلا ہیں۔آج فاطمید مراکز کراچی،لاہور، پشاور، ملتان، کوئٹہ، حیدرآباد، رشید آباد (ٹنڈو الہ یار)،خیرپور اور لاڑکانہ میں ہیں۔ قارئین، سب سے اہم موضوع یہ ہے کہ یہ وجود میں کیوں آیا؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ نیشنل بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز کی مناسب، موثر، محفوظ فری چارجز کی عدم موجودگی صحت کے نظام کا ایک اہم مسئلہ ہے جس کاآج پاکستان کو سامنا ہے۔پاکستان میں ممکنہ طور پر روکنے کےقابل زچگی کی بیماری اور اموات کے لیے خون کی منتقلی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔ کینسر سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، رینل ڈائلیسس، رینل ٹرانسپلانٹیشن، کارڈیو ویسکولر بائیپاس سرجری، تھیلیسیمیا، ہیمو فیلیا، لیوکیمیا وغیرہ کے لیے خون کے انتہائی ماہر مراکز کی تشکیل، خون اور خون کی مصنوعات کی اس سے بھی زیادہ ضرورت کا باعث بنی ہے۔ایک اندازےکے مطابق، پاکستان کو روزانہ تقریبا، 8000 یونٹ خون کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ خون کی موجودہ دستیابی سے باہر نکلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس بی کے کافی زیادہ پھیلاؤ کی شرح کے ساتھ محفوظ خون کی جمع اور فراہمی مزید کم ہو گئی ہے۔اگرچہ ملک کے تمام علاقوں میں منظم سروے نہیں کیے گئےہیں، لیکن اندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریبا دس ملین لوگ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے وائرس سے متاثر ہیں، یہاں تک کہ پاکستان جیسے کم واقعات والے ملک میں بھی ایچ آئی وی انفیکشن پھیلنے کا خطرہ مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ خون اور خون کی مصنوعات کے ذریعے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس انفیکشن کی منتقلی، لہٰذا منتقلی کے لیے غیر متاثرہ ‘محفوظ خون’ کی مناسب فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان میں معاشی مسائل کےباوجود فاطمیدفاؤنڈیشن وہ ادارہ ہے جس کے تمام مراکز جدیدترین بلڈ اسکریننگ سسٹم سے لیس ہیں جو اعلیٰ معیار کی بلڈاسکریننگ کٹس کے ساتھ چل رہے ہیں۔فاطمید کے مریض(ان کی بڑی اکثریت بچے ہیں) غریب اور ضرورت مند ہوسکتے ہیں لیکن ان کے لیے خون کا محفوظ ترین معیار حاصل کرناانسانیت کا تقاضا ہے اور بلا شبہ ہونا بھی چاہیے۔ یقینا یہی طریقہ ہے، جس کے ذریعہ بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتاہے۔ واضح رہے،

    فاطمید فاؤنڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو پاکستان میں رضاکارانہ طور پر خون کی منتقلی کی خدمات کا علمبردار ہے۔ یہاں تک کہ خون اور خون کی مصنوعات کی مقداری پیداوار کے لحاظ سے بھی، فاطمید فاؤنڈیشن پاکستان میں خون کی منتقلی کی خدمات کی برادری کی رہنما ہے۔بلڈٹرانسفیوژن سروس سینٹر میں خون کی خرابی کے مریضوں کےلیے خصوصی خدمات کی فراہمی پاکستان میں ایک نایاب واقعہ ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن آج کراچی، لاہور، پشاور، ملتان،لاڑکانہ، خیرپور اور رشید آباد (ٹنڈو الہ یار) میں اپنے مراکز کےذریعے ہر مہینے 8000 سے زائد تھیلوں سے صحت یاب خون اور خون کی مصنوعات اپنے رجسٹرڈ مریضوں کو منتقل کرتا ہےاور اللہ کے کرم سے یہ سلسلہ کرونا جیسے وبائی مرض کےباوجود جاری ہے۔ اللہ رب العزت انہیں اس کام کا اجروثواب دیں۔آمین یارب العالمین 

    @Bilal_1947