Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے  تحریر محمد تنویر

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تحریر محمد تنویر

    یہاں میرے دل کے بہت قریب موضوع کو متعارف کرانے کے لیے ایک داستان ہے۔ ایک خاندانی محفل کے دوران میں اپنے کزن کی پوتی کے ساتھ گپ شپ کر رہا تھا۔ جب اس نے مجھے اپنی دلچسپیوں کے بارے میں بتایا تو میں نے اسے قریب آنے کو کہا کیونکہ میں اسے سن نہیں سکتا تھا اور میں نے اپنے آلہ سماعت کی طرف اشارہ کیا جو میں نے کان میں لگایا ہوا تھا۔ اس نے سماعت کے چھوٹے آلے میں بڑی دلچسپی ظاہر کی اس کی جانچ کرنے سے پہلے اس کے بارے میں کئی سوالات پوچھے جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس کا تجسس اور سیکھنے کا شوقین تھا۔

    ہم دونوں اردو میں بات کر رہے تھے اس لیے نہیں کہ یہ قومی زبان ہے بلکہ اس لیے کہ یہ میری مادری زبان بھی ہے۔ اس عمر میں وہ واحد زبان تھی جو وہ سمجھتی تھی۔ اگر میں انگریزی میں بات کرتا تو ہم اتنے سنجیدہ موضوع پر ایسی بامعنی گفتگو نہیں کر سکتے تھے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا وہ دلچسپی بھی لیتی یقینا نہیں کیونکہ ایک بچہ اس چیز میں دلچسپی رکھتا ہے جس میں وہ مصروف ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب اس عمل میں استعمال ہونے والی زبان وہ ہو جو بچہ سمجھتا ہو۔

    یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے یہ فطرت کی ایک بنیادی حقیقت ہے جسے ہمارے اساتذہ اکثر نظر انداز کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے بچوں کی تعلیم (جو دراصل خود حاصل کرنا ہے) اور ان کے سیکھنے کی ترغیب میں دلچسپی ختم ہو کررہ جاتی ہے۔ موجودہ نظام کے تحت بچے کو ایک استاد کی بات سننے کی ضرورت ہوتی ہے جو تمام باتیں ایک عجیب زبان میں کرتا ہے جسے بچہ ہمیشہ نہیں سمجھتا کچھ معاملات میں استاد بھی اس میں روانی نہیں رکھتا ہے بچے کا ان پٹ نہیں مانگا جاتا۔

    کیا کوئی طالب علم سے یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ تمام ممبو جمبو میں دلچسپی لے اپنے آپ سے لطف اندوز ہونے دو رسمی تعلیم دراصل پیدائش کے وقت شروع ہونے والے قدرتی طور پر سیکھنے کے عمل میں خلل ڈالتی ہے۔ اگر ہمارے معلم واقعی بچوں کی بھلائی چاپتے ہیں تو وہ قدرتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں اور بچے کو اس چیز سے محروم نہ کریں جو اسے خوشی اور تحفظ کا احساس دلاتی ہے وہ صرف اور صرف مادری ہے۔ عالمی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق تمام ترقی یافتہ اور خوسحال ممالک کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ ان ملکوں میں بنیادی تعلیم مادری زبان میں ہی فراہم کی جاتی ہے.

    SNC دوسری زبان کا مرکب ہمارے بچوں کو جذباتی اور عملی ضروریات کو پورا نہیں کرتا جو چیز مجھے سنگل قومی نصاب اور زبان کی پالیسی کے بارے میں انتہائی پریشان کن معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پالیسی بچے کی ضروریات اور حساسیت کو مکمل
    طور پر نظر انداز کرتی ہے 3 ستمبر کو منعقد ہونے والی SNC کے بارے میں مختصر کانفرنس ان دنوں مسلسل ترقی پذیر SNC پر بحث کرنے والی سیریز کا تازہ ترین فورم ہے تمام شرکاء نے تعلیم میں حصہ لیا لیکن بچے کی سیکھنے کی ضروریات کے تناظر میں اس سے زیادہ بے خبر گروپ نہیں ہوسکتا ان میں سے ہر ایک کی بنیاد میں جانتا ہوں سے شروع ہوئی۔ اساتذہ کا بچے کی نفسیات کے بارے میں علم نہ ہونا بہت زیادہ جذباتی عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے جو معاشرے میں بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
    SNC نصاب میں کیے گئے انتخاب کے سیکورٹی پہلو پر توجہ نہیں دیتا یہ مسائل خاص طور پر زبان بچے کے سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ "ذہنیت کی یکسانیت” کی خاطر SNC تنوع کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تنقیدی سوچ کو ختم کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں روٹ لرننگ اور ثقافتی بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر
    علمی ترقی سست ہو جاتی ہے۔ اگر تعلیم کا ذریعے کچھ سالوں کے لیے بچے کی اپنی مادری زبان میں ہوتا تو یہ یقینی بناتا کہ وہ ایک اچھی طرح سے ایڈجسٹ شخصیت کی نشوونما کرتی ہے اور زندگی بھر تعلیم سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ اس کے باوجود ایس این سی کے معماروں نے ایک عجیب و غریب پالیسی کا انتخاب کیا ہے جسے ابہام میں ڈوبے ہوئے گزشتہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے دوران خفیہ طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔

    مختصراً، جیسا کہ میں اسے سمجھتا ہوں انگریزی اور اردو کو گریڈ 1 سے بطور مضامین پڑھایا جائے گا۔ عام علم سماجی علوم اور اسلامیات اردو میں ہوں گے جبکہ سائنس اور ریاضی انگریزی میں پڑھائی جائے گی۔

    یہ زبان کا مرکب ہمارے بچوں کی جذباتی ضروریات کو پورا نہیں کرتا۔ اس پر مسلط کی گئی زبان زیادہ تر معاملات میں اس کی مادری زبان نہیں ہے بلکہ نامعلوم الفاظ کا ‘ممبو جمبو’ ہے جو ایک لسانی رکاوٹ بن جاتا ہے جو اس کے بعد اسے پیچھے چھوڑ دے گا اور اسے ایک مصنوعی سیکھنے کا طریقہ اپنانے پر مجبور کرے گا جسے بچے کبھی پسند نہیں کریں گے۔

    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ایک کثیر لسانی ریاست ہے اور تعلیم کو بھی بہ زبانی ہونا پڑے گا یہ مادری زبان پر مبنی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خطے سے خطے میں مختلف ہوتا ہے اور یہ کہ یکسانیت کے اصول کے خلاف عسکریت پسند ہمارے حکمران بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں یقینا قومی زبان اردو اور انگریزی بھی تدریسی طور پر پڑھائی جائے گی مادری زبان میں تعلیم کیلئے احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    دس سال پہلے معروف ماہر لسانیات ہیویل کولمین نے برٹش کونسل کے لیے پاکستان کی تعلیم کے بارے میں ایک فالو اپ رپورٹ تیار کی تھی جس میں اس نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کو مقامی زبانوں پر تحقیق کرنی چاہیے۔ اگر یہ کیا جاتا تو ہم SNC کے ساتھ گھومتے نہیں۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ارباب اختیار کوچاہیئے مادری زبان میں علم حصول یقینی بنائیں تاکہ نسل نو مستقبل میں دنیا دے کندھے سے کندھا ملا کر چل سکے۔

  • ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    ستاروں کے راز تحریر: ڈاکٹر راحیل احمد

    خالق کائنات نے جہاں اس فرش أرضی کو پہاڑوں، ندی نالوں ، گنگناتے جھرنوں اور سبز پوش وادیوں سے سجھایا ہے وہاں آسمان ارضی کو بھی ٹمٹماتے چراغوں سے حسن بخشا ہے اور جب چشم انسانی اس خوبصورت نظارے سے لطف اندوز ہونے کیلئے سوئے گردوں جاتی ہے تو اس سے آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ستاروں کی یہ دنیا اپنے حسن کا خراج وصول کیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

    یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے کوئی بھی چیز بے مقصد یا بے معنی پیدا نہیں کی تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات، یہ لاتعداد روشن چراغ اپنے وجود کا کوئی مقصد نہ رکھتے ہوں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قدیم زمانے کا انسان اپنی منزلوں کا پتہ لگانے کیلئے ستاروں سے مدد لیا کرتا تھا گویا قدرت نے ان چھوٹے چھوٹے کمکموں کو سفر میں انسانی رہنمائی کا منصب بھی سونپا۔ اس کے علاوہ سورة ملک میں اللہ تعالٰی کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا اور ہم ان کے ذریعے شیاطین کو دفعہ کرتے ہیں جن کیلئے المناک عذاب تیار ہے۔ ایک معتبر رویات کے مطابق گروہ شیاطین آسمان کا حال معلوم کرنے کیلئے وہاں تک رسائی کی کوشش کیا کرتے تھے جن کو روکنے کیلئے ان ستاروں کو ان کی مار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ ” کوئی نہیں جو میرے علم کا احاطہ کرسکے مگر جتنا میں چاہوں ” 

    ستاروں کی دنیا پر اگر غوروفکر کیا جائے تو جدید سائنس کے مطابق ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر تو ممکن نہیں البتہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کی تعداد دنیا کے تمام ساحلوں پر پڑی ریت کے ذرات سے بھی زیادہ ہے جبکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ان میں سے بعض ستارے ایسے ہیں جو زمین کے برابر یا اس سے کم وجود رکھتے ہیں لیکن بہت اے ستارے ایسے بھی ہیں جن کے ایک کونے میں ہماری لاکھوں زمینیں سما سکتی ہیں اور اگر ان حقائق کی روشنی میں کائنات کی وسعتوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو عقل انسانی پہلے قدم پر ہی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہوجائے۔

    رب کائنات سورة واقع میں فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کی مقام کی اور اگر تم سمجھ سکو تو یہ بہت ہی بڑی قسم ہے جب کہ سائنس نے آج قدرت کے اس راز کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ستارے ٹوٹ کر بلیک ہول میں گرتے ہیں اور پھر اس کی وسعتوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ اب اس بلیک ہول کی وسعت پر غور کریں کہ اس حجم کتنا ہوگا جس میں سورج اور اس سے بھی بڑے بڑے ستارے سما جائیں اور ان کے وجود کا احساس تک ختم ہوجائے۔ لیکن بات یہاں تک بھی ختم نہیں ہوتئ اکیسویں صدی کے انکشافات کے مطابق کائنات میں ایسے بےشمار بلیک ہول موجود ہیں جو ٹوٹے ہوئے ستاروں کا آخری مسکن کا کام کررہے ہیں۔

    اسلامی عقائد کے مطابق علم نجوم کے اندازوں کی تصدیق کو کفر سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن اگر اس میں سے غائب اور مستقبل بینی کو نکال دیا جائے تو ستاروں کا علم بھی قدرت الہی کی تصدیق اور اس کی حمد و ثناء سے آزاد نہیں رہ سکتا کیونکہ اللہ تعالٰی کی کوئی بھی تخلیق ایسی نہیں جو نہ صرف اپنے اندر مقصدیت نہیں رکھتی بلکہ اس کائنات کے زرے سے لے کر بڑے بڑے إجرام فلکی تک اس کی شہادت دے رہی ہیں۔

    @WsiKaSlam

  • وڈیو مافیاز تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    ویسے تو وطن عزیز ہر قسم کے مافیاز کے نرغے میں ہےہی،

    مگر اب کچھ عرصہ سے ایک نیا مافیاز سر اُٹھا رہا ہے۔

    یہ مافیاز اپنے مخالفین اور اپنے ساتھیوں کی قابل اعتراض وڈیوزبنا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے اور پھر بوقت ضرورت اسے استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتا ہے۔

    اس گندے مگر دھندے میں تازہ ترین بھونچال مسلم لیگی راہنما محمد زبیر کی وڈیو کے سامنے آنے کے بعد آیا ہے،

    جس کے آفٹر شاکس ابھی تک جاری ہیں۔

    وڈیو کس نے جاری کروائیں؟

    وڈیوز جاری کروانے کے پیچھے مقاصد کیا تھے؟

    ان سوالات کا ابھی تک جواب آنا باقی ہے۔

    وڈیو آنے کے فورا” بعد سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں ۔

    کچھ لوگوں نے مبینہ طور پراسے مریم اور اسکی ٹیم کی کارستانی گردانا اور کچھ نے الزام ایجنسیوں پر لگانے کی کوشش کی۔

    مگر ایک بات جو فوری طور پر زہن میں آتی ہے،

    وہ یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں وڈیو زہن میں آتے ہی جو نام سب سے پہلے زہن میں آتا ہے،

    وہ مریم صفدر کا ہی ہے۔

    وجہ یہ ہے کہ مریم صفدر ببانگ دہل اس دھندے میں ملوث ہونے کا اعتراف کر چکی ہیں۔

    جج ارشد ملک مرحوم کی قابل اعتراض وڈیوز جاری کرنے کا اعزاز بھی محترمہ کو ہی حاصل ہے۔

    اس جج کو بلیک میل کر کے اپنی مرضی کے فیصلے بھی لئے اور بعدازاں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسکی وڈیوز بھی جاری کر دیں۔

    اس خاندان کی ججوں کو بلیک میل کر کے اور زاتی مفادات پہنچا کرمرضی کے فیصلے کروانے کی بہت پرانی تاریخ ہے۔

    ملک قیوم جیسے ججوں کے نام پر دھبہ افراد کے زریعے بے نظیر بھٹو اور زرداری کے خلاف کرواے گئے فیصلے کون بھول سکتا ہے؟

    مرحوم جج ارشد ملک کی وڈیوز کی ریلیز کے تاریخی موقع پر مریم صفدر نے ایک اور تاریخی اعلان بھی کیا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی ایسی وڈیوز موجود ہیں،

    جو اس وقت جاری کی جائیں گی جب قائد محترم نواز شریف چاہیں گے۔

    یہ چیز حیران کن تھی کہ ایک بیٹی اعلان کر رہی تھی کہ اسکے باپ کے پاس کچھ ایسی وڈیوز ہیں،

    جن سے بوقت ضرورت مخالفین کو بلیک میل کرنے کا کام لیا جاۓ گا۔

    محمد زبیر کی وڈیوز کس نے جاری کیں،

    ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا۔

    کراچی میں کچھ وکلا نے محمد زبیر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دیتےہوۓ قانونی کاروائ کا مطالبہ کیا ہے۔

    دیکھتے ہیں کہ اس درخواست کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟

    محمد زبیر والی وڈیوز کی دوطرح کی انکوائری بہت ضروری ہے،

    تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

    ایک تو یہ پتہ چلایا جاۓ کہ محمد زبیر یہ کبیع فعل کس کے ساتھ اور کیوں کر رہا تھا؟

    کہیں وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے کسی کا مجبوری کا فائدہ تو نہیں اُٹھا رہا تھا؟

    کیونکہ ان میں سے کچھ وڈیوز اس دور کی ہیں،

    جب زبیر بطور گورنر سندھ کام کر رہا تھا۔

    دوسری یہ چیز دیکھنی چاہیے کہ یہ وڈیوز کس نے جاری کیں اور اس کے پیچھے مقاصد کیاہیں؟

    غریدہ فاروقی،اقرار الحسن اور منصور جیسے کئی لبرلز صحافیوں کے نزدیک ،

    کہ اگر یہ گھناونا فعل باہم رضامندی سے ہوا تویہ زبیر کا نجی معاملہ ہے،

    لہذااس پر کاروائ کی ضرورت نہیں۔انکے مطابق صرف وڈیو جاری کرنے والے کو سامنے لانے کے لئے قانونی کاروائ کی ضرورت ہے۔

    یہ تھیوری اور سوچ بلکل غلط ہے،

    ہم جس معاشرے میں رہتےہیں،

    وہاں اس قسم کے گھٹیا کاموں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    زبیر کی وڈیو میں نظر آنے والا شرمناک کام نہ تو قانونی طور پر جائز قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اخلاقی طور پر،

    ہمارہ معاشرہ پہلے ہی ان لبرلز کی وجہ سے تباہی کی طرف گامزن ہے۔

    یہ گھٹیا لوگ ایسے گھٹیا کاموں کے درست ہونے کا بھی جواز دینے لگے ہیں،

    جو ہماری سوسائٹی کی لیے تباہی کا باعث ہے،

    یہ رویہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔

    یہ کام ہر طرح سے شرمندگی کا باعث ہے،

    خاص طور پر جب اسے کرنے والا ایک پبلک سرونٹ یا اہم سیاسی و سرکاری شخصیت ہو۔

    لبرلز کا بس چلے تو ہمیں یورپ میں پائ جانے والی بے ہودگی اور عریانیت کا حصہ بنا دیں،

    مگر اس ملک کے غیور عوام جو اپنی ملکی اور اسلامی اقدار کی اہمیت سمجھتے ہیں،

    وہ ایسا ہر گز ہونے نہیں دیں گے۔

    ہمیں وہ مادر پدرآزادی نہیں چاہیے۔

    جس سے ہم اپنے کلچراور اپنے آفاقی مذہب سے خدانخواستہ دور ہوتے جائیں۔

    ہمارے معاشرے میں بگاڑ کے لئے بہت سے مافیاز سرگرم ہیں۔

    آجکل نشر کئے جانے والے ڈرامے ہی دیکھ لیں۔

    ان ڈراموں میں موضوعات اور ڈائیلاگ و سین اتنے تھرڈ کلاس اور قابل اعتراض ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔

    ان ڈراموں کو فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا تک نہیں جا سکتا۔

    ان ڈراموں سے نوجوان نسل کو کھلم کھلا غلط پیغام دیا جارہا ہے،

    مستقبل کے معماروں کو مذہبی درخشندہ روایات کا باغی بنایا جا رہا ہے۔

    گھٹیا ڈراموں کےاس مکروہ دھندے ہر حکومتی خاموشی بھی ناقابل فہم ہے۔

    اس میں کوئ شک نہیں کہ ہر طرف مافیاز کی بھرمار سے حکومت بھی انڈر پریشر رہتی ہے،

    ایک مافیا پر ہاتھ ڈالا جاۓ تو کئی دوسرے مافیاز اسکی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں۔

    مگر حکومت اور قانون کے ہاتھ ان مافیاز سے لمبے ہوتے ہیں۔

    ان مافیاز کے خلاف کاروائ ضرور ہونی چاہیے تاکہ انہیں اپنی حدود اور قیود کا پتہ ہو۔

    کئی دفعہ یہ فیصلہ کرنا مُشکل ہو جاتا ہے کہ معاشرے میں بگاڑ اور تفاوت پیدا کرنے میں زیادہ کردار یہ منفی ڈرامے ادا کر رہے ہیں یا غریدہ جیسے نام نہاد اینکرز ،

    جو باہم رضامندی سے ہونے والے زنا کو جائز سمجھتے ہیں۔

    جیسا کہ محمد زبیر کی وڈیوز سامنے آتے ہی غریدہ نے اپنےٹویٹس میں کہا کہ وڈیو میں نظر آنے والا غلیظ کام اگر باہم رضامندی سے ہوا ہے تو بات دوسری ہے !

    یہاں بات دوسری ہے 

    سے مُراد غالبا” یہی ہے کہ مرضی سے کیا گیا گناہ ،

    گُناہ نہیں رہتا اور یہ کہ اسے چلنے دیں ،بس یہ تحقیق کر لیں کہ وڈیوز کیسے جاری ہوئیں؟

    ہمارے ملک میں صحافت کی بدنامی کا باعث بننے والے غریدہ جیسے ہی لوگ ہیں،

    جو ن لیگ پر اگر کوئ مصیبت آۓ تو اینکری چھوڑ کر ترجمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔

    اور بات اگر پی ٹی آئ کی ہو تو انکا بغض ہر حال میں قائم رہتا ہے۔

    ریحام خان کی لچر قسم کی کتاب اور عائشہ گلالئی کے عمران خان پربے بنیاد میسیجز الزامات پر ہفتوں ٹاک شوز ہوتے رہے۔

    اب کہا جا رہا ہے کہ زبیر والے معاملے کی پروہ پوشی احسن اقدام ہوگا،

    حالانکہ وڈیوز میں ہر چیز پوری طرح عیاں ہے۔

    ان دوہرے معیارات نے ہمارے ملک کی صحافت کو رنڈی والا دھندا بنا دیا ہے۔

    پیسے کے بغیر نہ تو خبر دی جاتی ہے اور نہ ہی تجزیہ

    اور جب لفافہ مل جاۓ تو ایک خاص اینگل سے تبصرے کر کے حق لفافہ ادا کیا جاتا ہے۔

    محمد زبیر کی وڈیوز آنے کے بعد اسکا اپنا موقف بھی سامنے آچکا ہے،

    محمد زبیر کے مطابق یہ ایک پست زہنیت کی ڈاکٹرڈ ۔قسم کی فیک کاروائ ہے۔

    ویسے بائ دا وے،انجینئرڈ کاروائ کا تو سنتے رہتے ہیں،

    یہ ڈاکٹرڈ کاروائ کیا ہوتی ہے،؟

    اسکے بارے میں تو کوئ اس کام کا ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے،

    اور اس کام کا ڈاکٹر ،

    مریم صفدر سے بڑااور سپیشلسٹ اور کون ہو سکتا ہے؟

    جسکے پاس بقول اسکے اپنے،

    وڈیوز کی پوری لائبریری ہے۔

    محمد زبیر کو بھی ایک بار پھر اپنے قائد اور اپنے قائد کی بیٹی سے ہی رہنمائ لینا ہو گی،

    کہ یہ ڈاکٹرڈ ،کاروائ کیسے ہوئ؟#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ، تحریر: عفیفہ راؤ

    امریکہ افغانستان سے چلا تو گیا ہےلیکن وہ ابھی بھی افغانستان کے معاملات سے خود کو بے دخل کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ اس خطے میں اس کا Interest
    ہے کیونکہ امریکہ کے سپر پاور ٹائٹل کے لئے جو سب سے بڑا خطرہ سر اٹھا رہا ہے اس کا تعلق بھی اسی خطے سے ہے۔ اور اس خطرے کا نام چین ہے جسے کچلنے کے لئے اس وقت امریکہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور اس جنون میں امریکہ کی حالت اس وقت کسی خونخوار جانور سے کم نہیں ہے۔چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے ہی امریکہ میں افغانستان کے معاملے کو لیکر کافی مختلف طرح کی آراء گردش کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے معاملے پر امریکی سینیٹ میں فوجی قیادت اور وزیر دفاع کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

    امریکی سینیٹ میں کیا کاروائی ہوئی؟ وہ کونسی شخصیات ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ افغانستان سے تمام فوجی نکالنا، جو بائیڈن کا غلط فیصلہ ہے؟افغانستان کے معاملے پر تین اہم ممالک کیا سوچ رہے ہیں؟پاکستان پر امریکہ کو غصہ کیوں ہے کیوں وہ پاکستان کر پابندیاں لگانے کی بات کر رہا ہے؟آپ کو یاد ہوگا کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران 26اگست کو کابل ایئرپورٹ کے گیٹ پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جی ہاں وہ کابل ائیر پورٹ جو اس وقت امریکی فوج کی زیر نگرانی تھا اس حملے میں 182 افراد ہلاک ہوئے تھے ان ہلاک ہونے والوں میں
    169افغان شہری جبکہ 13 امریکی فوجی شامل تھے۔جس کے بعد اب امریکی سینیٹ کمیٹی برائے مسلح افواج نے چھ گھنٹے تک افغانستان سے امریکی انخلا اور کابل ایئرپورٹ پر افراتفری کے بارے میں امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرلMark Alexander Milleyامریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل Kenneth Franklin McKenzieاور وزیر دفاعLloyd James Austinسے کافی سخت سوالات کئے گئے۔ لیکن آپ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ اپنے جوابات میں Mark MilleyاورKenneth McKenzieنے واضح طور پر یہ بتایا کہ انھوں نے افغانستان میں 2500امریکی فوجی برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی۔ کیونکہ وہ 2020 کے آخر میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ افغانستان سے فوجیوں کے تیز تر انخلا سے افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ البتہ انھیں یہ امید نہیں تھی کہ یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا۔جبکہ صدر جو بائیڈن نے 19 اگست کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ انھیں یاد نہیں کہ کسی نے انھیں ایسا مشورہ دیا ہو۔اور وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹریJen Psakiکا بھی بیان سامنے آیا کہ صدر جوبائیڈن کو افغانستان سے متعلق تقسیم شدہ رائے ملی تھی۔ لیکن بالاخر فیصلہ کمانڈر انچیف کا ہوتا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ 20 سالہ جنگ ختم کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ صدر بائیڈن جوائنٹ چیفس اور فوج کے مخلصانہ مشوروں کی قدر کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ اس سے اتفاق کریں۔

    جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ خود امریکی فوجی افسران یہ بات جانتے تھے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد وہاں سے حکومت ختم ہو جائے گی اور طالبان قبضہ کرلیں گے لیکن صدر جوبائیڈن نے ان کی بات کو نظر انداز کرکے خود فیصلہ لیا تو اس سب کے بعد وہ پاکستان پر الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ یہ سب پاکستان کی وجہ سے ہوا۔پاکستان وہ ملک ہے جو کبھی بھی براہ راست افغانستان میں ہونے والی جنگ کا حصہ نہیں رہا لیکن نقصان سب سے زیادہ پاکستان کا ہی ہوا۔ ہم نے اس جنگ کی وجہ سے 80 ہزار جانیں قربان کیں اور اپنی معیشت تک تباہ کروائی۔ اس کے علاوہ امریکہ جو ہمارا اتحادی ہونے کا دعوی کرتا تھا اس نے ہمارے اوپر 450 سے زائد ڈرون حملے کیے اور ساتھ ساتھ Do more کا مطالبہ بھی چلتا رہا۔ اور اب ایک بار پھر امریکہ نے اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کا ہی مکو ٹھپنے کی تیاریاں پکڑ لیں ہیں۔ امریکی سینیٹ میں 22ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے ایک بل پیش کیا گیا جس کا نام ہےAfghanistan counter terrorism, over-sight and accountability actاس بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی حکام جائزہ لیں کہ 2001سے لے کر 2020 کے دوران پاکستان سمیت طالبان کو مدد فراہم کرنے والے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کا کردار کیا تھا جس کا نتیجہ افعانستان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا اور اس میں طالبان کو محفوظ پناہ گاہوں، مالی اور انٹیلیجنس مدد، طبی ساز و سامان، تربیت اور تکنیکی یا سٹریٹجک رہنمائی کا معاملہ بھی شامل ہو۔اس کے علاوہ بل میں طالبان کے خلاف مقابلے کے لیے اور طالبان کے پاس امریکی ساز و سامان اور اسلحے کو واپس حاصل کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ سے ان معاملات کی تحقیقات کے بعد 180دن میں پہلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اور طالبان کا ساتھ دینے والے عناصر پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس معاملے میں دو چیزیں بہت اہم ہیں ایک تو یہ کہ پاکستان کا نام خاص طور پر اس بل میں شامل کیا گیا ہے یعنی کہ یہ کوئی اشارہ یا تنبیہہ نہیں ہے بلکہ ڈائریکٹ پاکستان کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔اور دوسرا اہم پوائنٹ یہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں اس وقت ڈیموکریٹک اور رپبلکن سینیٹرز کی تعداد برابر ہے دونوں کے5050ممبران ہیں ایسی صورت میں کسی بل کو پیش کرنے اور اس کو منظور کرانے کے لیے اکثریت نہ ہونے کی صورت میں نائب صدر کملا ہیرس کا حتمی ووٹ استعمال کیا جائے گا۔ اور ان کا ووٹ پاکستان کی حمایت میں آنا تو بہت مشکل ہے۔

    اب حیرت تو اس چیز پر ہے کہ امریکہ جس نے افغانستان میں خود آنے کا فیصلہ کیا۔پھر وہاں اربوں ڈالر بھی خرچ کئے۔افغان حکومت بھی امریکہ کی بنائی ہوئی تھی۔افغانستان میں فوجیوں کی بھرتیاں اور ٹریننگ بھی امریکہ نے کی جو ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔دوسری طرف سب جانتے ہیں کہ پاکستان سے طالبان کی قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ کس کا تھا؟ دوحا میں طالبان سے معاہدہ کس نے کیا اور ان کی واشنگٹن ڈی سی میں میزبانی کس نے کی؟جب یہ سب کچھ امریکہ کرتا رہا ہے تو قصور پاکستان کا کیسے ہو گیا۔ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ اس بل کو پیش کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ایک تو امریکہ کی لوکل سیاست ہے کیونکہ اگلے ایک سال میں امریکہ کے Mid term elections ہونے ہیں اور رپبلکن پارٹی نے ان الیکشنز کا سوچ کر ہی Popularity
    حاصل کرنے اور سیاست کھیلنے کے لئے یہ بل پیش کیا ہے۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بل کو وجہ بناتے ہوئے پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔اس بات کے بہت زیادہ چانسز ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ پاکستان کو یہ کہے کہ یہ بل رپبلکن پارٹی نے پیش کیا ہے اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن آپ بتائیں کہ آپ ہمیں کیا دے سکتے ہیں تاکہ ہم اس کی مدد سے اس بل کو روک سکیں۔اب بات آتی ہے چین کی امریکہ چین کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور کیونکہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی اور یہاں پر جاری سی پیک کی وجہ سے امریکہ کو ویسے ہی پاکستان اور چین پر بہت غصہ ہے۔ اور اپنی ناکامی کی وجہ سے امریکہ بالکل بوکھلایا ہوا ہے کہ کیسے اس کا سارا کا سارا الزام کسی اور ملک پر ڈال دیا جائے اس لئے اس معاملے میں پاکستان کا انتخاب کیا گیا ہے کہ ایسے ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے پاکستان بھی اور چین بھی۔ پاکستان کو ویسے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ معیشت کا برا حال ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے اور ایسی صورتحال میں اگر امریکہ پاکستان پر پابندیاں لگاتا ہے تو سوچ لیں کہ حالات کئی گنا زیادہ خراب ہو سکتے ہیں اور جتنے حالات خراب ہوں گے سی پیک پر کام اتنا ہی متاثر ہو گا اور امریکہ کو چین کا راستہ روکنے میں اتنی ہی آسانی ہو گی۔لیکن پاکستان اور چین کو بھی یہ بات بہت اچھے سے سمجھ آ رہی ہے یہی وجہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر دونوں ممالک نے بہت محتاط رویہ اپنایا ہوا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے موقف اپنایا ہے کہ اگر طالبان نے شمولیتی حکومت قائم نہ کی تو آنے والے دنوں میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اس کا نتیجہ ایک غیر مستحکم اور انتشار کا شکار افغانستان کی صورت میں نکلے گا۔اور چینی وزارت خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ چین امید کرتا ہے کہ افغانستان میں تمام دھڑے مل کر اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں گے اور ایک شمولیتی سیاسی ڈھانچہ کھڑا کریں گے۔پاکستان اور چین کے علاوہ روس کے وزیر خارجہ نے بھی اسی سے ملتا جلتا بیان دیا ہے کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طالبان نے جو وعدے عوامی طور پر کیے ہیں انھیں پورا کیا جائے۔ ہماری پہلی ترجیح یہی ہے۔یہ تینوں وہ ممالک ہیں جنھوں نے دوحہ امن مذاکرات اور طالبان کی عبوری حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت کی بظاہر حمایت بھی کی تھی۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اب کی بار خاموش ہیں حالانکہ جب پہلے طالبان کی حکومت آئی تھی تو پاکستان کے ساتھ انھوں نے بھی اس کو تسلیم کیا تھا۔ دراصل اب کی بار یہ سب جانتے ہیں امریکہ اس وقت بہت غصے میں ہے اور ایسی صورت میں اگر ایک مرتبہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا تو یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکے گا۔ اس کے بعد ان ممالک کو اپنے فیصلے کا دفاع ہی کرنا ہو گا۔ اس لئے ان ممالک کے لیے فی الحال یہی بہتر ہے کہ یہ انتظار کریں۔ خاص طور پر پاکستان کیونکہ چین اور روس تو پھر بھی معاشی طور پر مضبوط ملک ہیں امریکہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن پاکستان امریکہ کے لئے آسان ہدف ہے اور وہ اپنی عزت بچانے اور غصہ اتارنے کے لئے کسی بھی حد تک پاکستان کے خلاف جا سکتا ہے۔

  • میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    میڈیا کا کردار تحریر: ملک ضماد

    تو بات ہورہی تھی ہمارے میڈیا کی
    کل ہی زبیر عمر صاحب کی کچھ وڈیوز لیک ہوئیں جن پر ہمارا میڈیا ہمیں اخلاقیات پڑھا رہا تھا وہی لوگ جن کا خود اخلاقیات سے دور دور تک کوئی تعلق نہی زیادہ دور نہیں جاتے چند دن پہلے کے واقع کو ہی دیکھ لیتی ہیں جس نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کر کہ رکھ دیا
    تو بات ہوری تھی عائشہ اور ریمبو والے واقع کی زرا تفصیل میں جاتے ہیں۔۔ کیونکہ اب تو معاملہ کھلنے کے بعد دب بھی چکا ہے
    پہلے پہل تو محترمہ نے خود اپنے عاشقوں کو دعوت دی آنے کی لیکن یہاں سوال یہ کہ
    لڑکی نے جھنڈا انڈیا کا اٹھایا یا پاکستان کا سہی سلامت کیسے نکلی یہ ڈیبیٹ ہی نہیں مسلہ یہ ہے کہ ہم جب پندرہ اگست کو انڈیا کے یوم آزادی والے دن انکی ہار کی خوشیاں منارہے تھے اس سے ایک دن پہلے پاکستانی عوام پاکستان کا قانون اور شخصی ازادی جیسے حساس موضوغ عالمی دنیا سے لخ لعنت سمیٹ چکے تھے
    اگلہ سوال
    وہ منار پاکستان کیسے گئی اور کیا اتنے اہم دن کوئی بھی فیمیلز لے کر نہیں آیا تھا جیسے اس بات کو جانتا ہے کہ آج منٹو پارک اور اقبال کی آرام گاہ پر پاکستان کی کی عزت کا جنازہ نکالنا ہے
    کیوں کہ وڈیو میں دور دور تک کوئی اور عورت نظر نہیں آرہی
    اب پاکستانی سینٹی عوام سے گزارش ہے کہ زرا تہ تک جاکر سوچیں ٹھیک ہے معاملہ دل خراش ہے مگر اس سے ایک دن پہلے طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے اور اس تین چار دن پہلے خان سے ایک امریکی صحافی پاکستان میں اسلام کی وجہ سے عورتوں کی آزادی کو خطرہ سمجھ تھی جس کے جواب میں خان صاحب نے یورپئن کنٹریز میں ریپ کے اگلے پچھلے واقعات سنا کر پاکستان کو عورت کے لیے سیگ ملک کہا تھا

    اور معاملہ تب تک دبا رہا جب تک عزت ماآب اقرار الحسن سید اور جناب یاسر شامی نے انکا انٹر ویو نا کر لیا وہ پاکستان جہاں نمرہ علی کی بھونڈی وڈیو دو گھنٹے میں وائرل ہوجاتی ہے وہاں ایک سیکچوئل ہراسمینٹ کی وڈیو تین دن تک کیسے دبی رہی جب کہ وڈیو کئی لوگوں نے بنائی اوت یہ کیسے ممکن ہو کہ وہ سارے لوگ اس انتظار میں ہوں کہ کب طالبان عورت کے لیے برقع لازمی قرار دیتے ہیں

    پاکستانی میڈیا اگر پاکستان کے حق میں کوئی خبر دیکھ لے تو اس کو نشر کرنے کے لیے ان کو پہلے تو کافی پریشانی ہوتی ہے پھر اگر نشر کر بھی دیں تو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کی جاتی ہے اس کے مقابلے میں انڈین میڈیا اپنی گورنمنٹ کی جھوٹی خبر کو بھی ایسے سچ کر کے دیکھاتا ہے جیسے وہ سچ ہی ہو

    پاکستانی میڈیا کو اگر پاکستان کو بدنام کرنے یا پاکستان کا امیج خراب کرنے کے حوالے سے ہلکی سی خبر یا امکان بھی نظر آ جائے تو اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جیسے بس پاکستان میں طوفان برپا ہونے والا ہے

    حکومت پاکستان اگر کوئی پالیسی بنانے کا سوچتی ہے تو ہمارا میڈیا اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ میڈیا کا احتساب نا ہو سکے بلکہ میڈیا والے اپنی مرضی سے سب کچھ کر سکیں

    اگر کوئی میڈیا سیکشن حقیقت عوام تک پہنچانے کی کوشش کرتا یے تو باقی میڈیا مالکان اس کے خلاف کھڑے کو جاتے ہیں اور اس کو کام کرنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں

  • 18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    مرغیاں پالنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے انڈوں سے بچے حاصل کرنا ایک دلچسپ مشغلہ ہے تاہم 18 ہزار سال پہلے ایسا نہیں تھا قدیم انسان دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ پالتے تھے-

    باغی ٹی وی :امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ 18 ہزار سال پہلے نیو گنی میں رہنے والے انسان عام مرغیوں کی بجائے 6 فٹ قد کے جان لیوا پرندے کیسووری پالتے تھے کیسووری کو پرندوں کا ڈائنوسار بھی کہا جاتا ہے-

    کیسووری اپنی مضبوط اور تیز چونچ، انسانی ہاتھ جتنے بڑے اور تیز دھار ناخنوں والے پنجے اور غصیلی طبیعت کی وجہ سے کیسووی کو دنیا کا سب سے خطرناک پرندہ کہا جاتا ہے ایک بالغ کیسووری کا وزن 60 کلو تک ہو سکتا ہے 2019 میں فلوریڈا میں کیسووری کے حملے میں ایک شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    پنسلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے نیوگنی میں کیسووری کے 18 ہزار سال پرانے انڈوں کے خول کا معائنہ کیا ہے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بہت سے انڈوں کے خول ایسے تھے جن سے یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہوئی کہ انسانوں نے انہیں انڈوں سے بچے پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا ان پرندوں کو پال کر بڑا کرنے کے بعد ان کے خوبصورت پروں اور گوشت کے لیے انہیں مار دیا جاتا تھا۔

    کیسووری کا شمار ایمو اور شترمرغ کی طرح بڑے پرندوں میں کیا جاتا ہے ایمو اور شترمرغ کی طرح یہ بھی پرواز کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لمبی ٹانگوں کے سبب یہ انسان کے مقابلے میں تیز رفتاری سے دوڑ سکتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے

    واضح رہے کہ ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا تھا نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا کر لیا

  • تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    تیسری جنگِ عظیم،تحریر: زوہیب خٹک

    اس وقت دُنیا تقریباً دو گروپس میں تقسیم ہو چُکی ہے
    گروپ 1 میں چین روس پاکستان اور ان کے اتحادی جبکہ گروپ 2 میں امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادی ہیں۔ امریکہ نے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
    اور ساؤتھ چائنہ سی کے اردگرد موجود تمام ممالک (جاپان, فلپائن, تائیوان, ہانگ کانگ, ساؤتھ کوریا, ویت نام, ملائیشیاء, انڈونیشیاء, برونائی, اور آسٹریلیا ) کو چائنہ کے خلاف اُکسانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔اور یہاں اپنے ڈیسٹرائیرز اور ایئر کرافٹ کیریئر لے کر آگیا ہے۔اور بھارت کو کہا ہے کہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کو چین کے بحری جہازوں کے لیے بند کردے۔ یاد رہے آبنائے ملاکا کے ذریعے چائنہ کی زیادہ تر تجارت ہوتی ہے اور چین کا 80% تیل اسی راستے سے گُزرتا ہے,اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس صرف گوادر بچتا ہے اپنی تجارت کے لیے۔جو کہ "پاکستان” کے لیے بہت ہی خوش آئند بات ہے

    جواب میں چین نے بھی پالیسی بنا لی ہے اگر بھارت آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کر کے سلی گُڑی کوری ڈورجو کہ بھارت کی سات ریاستوں(آسام, ناگالینڈ ,اروناچل پردیش, میگہالیہ, میزورام ,منی پور , تری پور) کو باقی بھارت سے ملاتا ہے, اس پر قبضہ کرکے ان سب کو بھارت سے علیدہ کردے گا۔اور بھارت بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے, اس لیے کافی حد تک خاموش ہے۔ اب بھارت نے تبت کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اور دلائی لامہ کو پوری دنیا میں لیکر جائے گا۔ا ور اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ پشت پناہی کرے گا۔ نتیجے میں چین نے بھی کشمیر کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    اور ہر صورت کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرے گا اور یہ بات بھی "پاکستان” کے لیے ہی خوش آئند ہے۔دوسری طرف چین ایران کو بھی بھارت کی گود سے نکال لایا۔اور اب ایران بھی کُھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفر کی ہے یہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا۔

    امریکہ کا بھی عرب ممالک پر بھرپور دباؤ ہے اگر سعودی عرب چین کے بلاک میں آنے کی بجائےامریکہ دباؤ پر گُھٹنے ٹیک دیتا ہے تو چین سعودی عرب کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کردے گا۔چین سعودی عرب سے 40 ارب ڈالرز کا تیل خریدتا ہے۔ اور ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی آفر کر چُکا ہے۔ عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے لیکن امریکہ اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے۔ اور چین اپنے دوستوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے۔ باقی فیصلہ محمد بن سلمان کے صوابدید ہے۔

    اسرائیل کی کوشش ہے کہ خود جنگ میں نہ کودےاور امریکہ ,بھارت اور اتحادیوں کے ذریعے چائنہ کو شکست دے۔ بالکل وہی پالیسی جو پہلی جنگِ عظیم میں امریکہ کی تھی جب روس برطانیہ اور فرانس بمقابلہ جرمنی آسٹریا ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ تھے اور امریکہ پہلے 3 سال تک دونوں کو اسلحہ اور خوراک فروخت کر کے خوب پیسے کماتا رہا اور آخری سال جب روس انقلاب کے بعد جنگ سے باہر ہوا اور دونوں فریقین بہت زیادہ کمزور ہو چُکے تھے تو اعلانِ جنگ کر دیا اور اسی طرح جنگ جیت گیا۔

    اب اسرائیل کی بھی وہی پالیسی ہے جب امریکہ بھارت , چین روس اور پاکستان آپس میں لڑ کر بے حد کمزور ہو چُکے ہونگے تو اُس وقت جنگ میں شامل ہو گا اور بغیر زیادہ محنت کہ جنگ جیت کر سُپر پاور کی سیٹ پر بیٹھ جائے امریکہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے اس لیے وہ خود جنگ میں نہیں کودنا چاہتا بلکہ بھارت اور دوسرے ممالک کا کندھا استعمال کر کے جنگ جیتنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل یہ ہونے نہیں دے گا۔

    یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں پہلے ہی رپورٹ دے چُکیں,اور کہہ چُکیں کہ چائنہ امریکہ کو شکست دے گااور اسرائیل چائنہ کو شکست دے کر دُنیا کا تاج اپنے سر سجائے گا ان صورتوں میں پاکستان کے لیے بھی بہت کڑے امتحانات ہیں۔ ملکی حالات کے پیشِ نظر پاک فوج اور ریاستی اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ فلحال اس جنگ کو تھوڑا دور دھکیلا جائے تاکہ ملک کے حالات تھوڑے قابو میں آسکیں۔ دشمنان اسلام تو پاکستان کو جتنی جلدی ممکن ہو اس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ اسلامی دُنیا کی واحد ڈھال اسلامی دُنیا کے واحد حصار پاکستان کو توڑا جائے۔ اگر آج پاکستان مضبوط اور ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو شاید ہی کوئی اسلامی ملک اس وقت دُنیا کی نقشے پر موجود ہوتا۔ پاکستانی قوم کو چاہیے کہ اپنی ریاست اور فوج پر بھروسہ رکھیں اور ہر صورت ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔۔

    Twitter @zohaibofficialk

  • چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق

    چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر:ثمینہ اخلاق


    آج پاکستان کو بہت سے سماجی مسائل کا سامنا ہے لیکن کچھ پاکستان میں بہت عام ہیں جو ہمارے معاشرے اور پاکستان کی معیشت کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کرپشن ، غربت ، ناخواندگی ، آبادی میں اضافہ ، دہشت گردی ، اسمگلنگ ، منشیات کا استعمال ، وغیرہ
    کرپشن کے علاوہ اور بھی بڑے مسائل ہیں جن پر ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔ چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔

    بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے
    بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    چائلڈ لیبر پوری دنیا میں ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے لیکن پاکستان کی طرح تیسری دنیا کے ممالک میں یہ خطرناک سطح تک بڑھ گیا ہے۔ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کام کرنے پر مجبور ہے جو کہ مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے۔ یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں 5 سے 15 سال کے تقریبا 158 ملین بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
    پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے-پاکستان میں 5-15 سے کم عمر کے بچے 40 ملین سے زیادہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2.7 ملین بچے زراعت کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 73 فیصد لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں۔
    چائلڈ لیبر کی ایک بنیادی وجہ غربت ہے جو ان بچوں کو مزدوروں کی طرح کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ جو بچے تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ سیکھنے کے بجائے کمانے کے پابند ہیں تاکہ ان کے خاندان کے تمام افراد کا پیٹ بھر جائے۔ یہ بچے دن بھر پیسے کمانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں تھوڑی سی رقم ملتی ہے جو بمشکل اپنے خاندان کے اخراجات کو پورا کرتی ہے۔
    ایک اور اہم وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے جس نے کئی خاندانوں کو خط غربت سے نیچے گھسیٹا ہے۔ بیروزگاری کی وجہ سے والدین کی یہ مجبوری بن جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو فیکٹریوں ، دوکانوں ، یہاں تک کہ سڑکوں پر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کریں۔ چائلڈ لیبر کے بہت سے معاملات ہیں جہاں بچے کو قرض کی ادائیگی کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے جو اس کے والد نے لیا تھا

    دیہات میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان ہے اور بچوں کی بڑی تعداد ہے۔ بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ اپنے بچوں کو کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لہذا ان کے پاس کام کرنے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے تھوڑی سی رقم کمانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ وہ بچوں کو اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور وہ انھیں کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں جیسے گاڑیاں کھینچنا ، مشینیں مرمت کرنا ، فیکٹریوں میں کام کرنا ، سامان بیچنا وغیرہ۔
    بچے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے بچپن سے اس پیشے میں تربیت دی جاتی ہے جس پر خاندان صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس لیے وہ پرائمری تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی وجہ سے مزدوروں ، کاریگروں وغیرہ کے بچے بہت چھوٹی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان ، بھارت ، بنگلہ دیش کو ناخواندگی کے مسئلے کا سامنا ہے۔ نچلے طبقے کے لوگ زیادہ تر ان پڑھ ہیں ، اس لیے ان پڑھ والدین کے لیے اپنے بچوں کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا مشکل ہے۔
    ان میں سے بیشتر والدین صرف اس وجہ سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے
    بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں چائلڈ لیبر اپنے عروج پر ہے۔ چائلڈ لیبر کے فروغ کی ایک اور اہم وجہ چائلڈ لیبر کو روکنے کے قوانین پر حکومت کی ناکامی ہے جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے. چائلڈ لیبر ایک بچے کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرتی ہے۔ ہمیں شعور بیدار کرنا ہوگا اور والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔

    چائلڈ لیبر کا مسئلہ قوم کے سامنے ایک چیلنج ہے۔ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف حامی اقدامات کر رہی ہے۔ چائلڈ لیبر بنیادی طور پر ایک سماجی و معاشی مسئلہ ہے جو کہ غربت اور ناخواندگی سے جڑا ہوا ہے ، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ بچوں سے جبری مشقت نہ لیں اور جتنا ممکن ہو اُنکی مدد کریں
    چائلڈ لیبر کی معاشرتی برائی کو قابو میں لایا جا سکتا ہے ، ۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہیے اور چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ہم ایک بہتر اور ترقی یافتہ پاکستان بنا سکیں۔ چائلڈ لیبر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر حکومت عوام کے تعاون سے مؤثر طریقے سے کام کرتی رہے تو انشا اللہ پاکستان ایک دن اس معاشرتی ناسور سے چھٹکارا حاصل کر لے گا

    ‎@SmPTI31

  • بے حسی کی بیماری   تحریر : شاہ زیب

    بے حسی کی بیماری تحریر : شاہ زیب

    ایک وقت تھا ہر چیز سانجھی ہوتی تھی۔ کسی محلے کے کسی گھر میں ایک فرد کو تکلیف ہوتی تھی تو سب کو اس کی فکر ہوتی تھی اور اگر کسی کے گھر میں کوئی  مسئلہ ہوتا تو لوگ اپنا مسئلہ سمجھ کر نہ صرف ان لوگوں کو تسلی دیتے تھے بلکہ اس مسئلے کے حل میں مدد بھی کرتے تھے، کسی دوسرے کے گھر کی خوشی کو لوگ اپنی خوشی سمجھتے تھے، اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے گویا تمام لوگ آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ام کی خوشیاں اور پریشانیاں بھی مشترکہ ہوتی تھیں۔۔۔

    اس کے برعکس آج کا جدید دور جہاں ساتھ ہمسائے کو ہمسائے کی خبر نہیں۔ کسی ایک گھر میں کھانا ضائع ہو رہا تو ساتھ گھر میں بچے بھوکے سو رہے ہم ماڈرن بننے کے چکروں میں بے حس ہوتے جا رہے (آسان لفظوں میں انسانیت بھول بیٹھے ) پرائیویسی کے نام پر لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    ماڈرن ازم اور پرائویسی کے نام پر بے حس بننے سے معاشرہ انتشار کا شکار ہوا جس سے ہماری روایات دَم توڑ گئیں، وہ خوبصورت روایات جس میں اہل محلہ ہی خاندان تصور ہوتے تھے سب مل جل کر رہتے تھے ہر طرف امن اور پیار محبت کی فضا تھی بدقسمتی سے اب ایسی روایات ڈھونڈنے پر بھی نظر نہیں آتیں اور لوگ ان چکروں میں ایکدوسرے سے دور ہوتے جارہے کسی کو ایک دوسرے کی فکر نہیں سب کو اپنی زات کی فکر ہے،

    یقین کریں آج ہمارے سامنے کوئی انجان شخص حادثے کا شکار ہوجائے تو بجائے اس کی مدد کرنے کے ہم لوگ اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اس کی جان بچانے کی بجائے ہم  لائک کی فکر لاحق ہوتی ہے سامنے والی پریشانیاں ہمارے لیے محض کچھ نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈرامہ ہوتا ہے، جسے دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تشہیر کرنا فرض سمجھتے۔۔!!

    بے حسی اور نفسا نفسی کا یہ عالم دیکھ کر بوڑھے والدین جو ساری عمر محنت مشقت کر کے اس قابل بناتے اب اس دور میں انکو بوجھ سمجھا جانے لگا جس سے بچے جلد از جلد چھٹکارا پانے کے لیے انکو اولڈ ایج ہوم بھیج دیتے۔۔

    ہمارے میڈیا میں دن رات ایسے واقعات اور حالات دکھائے جاتے معاشرتی بے حسی کے واقعات دیکھ کر روح کانپ اٹھتی کہ انسانیت کہا غائب ہو کر رہ گئی

    ہماری مشرقی اقدار اور اسلامی روایات سے دوری کی وجہ سے آج ہم اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں۔ 

    کسی دوسرے کو تبلیغ کرنے اور سمجھانے سے پہلے ہمیں خود سمجھنے کی ضرورت ہے، ہم ذاتی طور پر ٹھیک ہونگے تو معاشرہ بھی ٹھیک ہوگا۔

    ہم آج اپنی بے حسی ختم کریں گے تو ایک نہ ایک دن یہ معاشرہ جس میں ہم سب رہتے ہیں اس کی بے حسی بھی ختم ہوجائے گی اور لوگ ویسے ہی ایک دوسرے کی دکھ سکھ تکلیفوں کو اپنی سمجھیں گے جس طرح پہلے سمجھتے تھے۔۔شکریہ

    @shahzeb___

  • مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

    برطانیہ میں پالتو مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ کر دئیے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بلیو بیل نامی مچھلی کو برطانوی شہری نے اپنے گھر میں پال رکھا تھا جس کی عمر تقریباً 17 برس ہے مچھلی کے منہ میں گوشت کا لوتھڑا بن رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہو رہی تھی وہ اسے مچھلیوں کی بہترین سرجن کے پاس لے کر آیا۔ سرجن نے اپنی ٹیم کے ساتھ مچھلی کا آپریشن کیا جو ایک غیرمعمولی مشکل کام تھا جس پر خطیر رقم خرچ کی گئی۔

    دنیا کا پُراسرار مقام جہاں پتھر خودبخود حرکت کرتے ہیں

    مچھلی کے منہ میں بننے والا لوتھڑا یہاں تک بڑھ گیا تھا کہ مچھلی خود کھانے سے قاصر تھی اور اس کا مالک اپنے ہاتھوں سے اسے غذا دے رہا تھا ڈاکٹر ہانا کی زندگی کا یہ دوسرا پیچیدہ ترین آپریشن بھی تھا جس میں مچھلی کو سلایا گیا اور آپریشن کے بعد اٹھایا گیا –

    مچھلی کو بے ہوش کرنے کے لیے خاص طریقہ کا خواب آور کیمیکل دیا گیا اور یہی سب سے مشکل مرحلہ بھی تھا پہلے اسے خاص انیستھیسیا والے محلول میں ڈبویا گیا جہاں مچھلی پر غنودگی چھائی رہی اورآپریشن میں اس پر مسلسل پانی ڈال کر اسے گیلا رکھا گیا جس میں ایک گھنٹہ لگا آپریشن سے لوتھڑا نکالنے میں کل 20 منٹ صرف ہوئے اس کے بعد زخم پر دوا لگائی اور درد کش دوا بھی دی اب گولڈ فِش مکمل طور پرتندرست ہے اور خوش وخرم زندگی گزار رہی ہے۔

    برطانوی شہری نے مچھلی کے علاج پر 300 برطانوی پاؤنڈز خرچ کر دیئے جو تقریبا 70 ہزار پاکستانی بنتے ہیں۔

    سکوں سے تیار سعودی بادشاہوں کی تصاویر پر مشتمل حیران کن فن پارے