Baaghi TV

Category: متفرق

  • نوجوان مستقبل کے معمار تحریر : راجہ فہد علی خان

    ‏اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ جس طرح کسی بھی گھر کی تعمیر میں ایک اينٹ بُنیادی حیثیت رکھتی ہے بالکل اسی طرح نوجوان نسل قوم کی بنیاد ہے۔ اگر نوجوان بیدار اور باشعور ہو گا تبھی اس کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
    ترقی ان اقوام کا مقدر بنتی ہے،جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور ملک میں ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں ،تو یقین کیجیے کہ تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ نسل نو ہی ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے.
    نوجوان نسل کی اسی اہمیت کے اسی بات سے لگائی جاسکتی ہے کہ آج کل ہر سیاسی جماعت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ان کے حامی ہوں اور جلسے میں شریک ہوں ۔ نسل نو کی ترقی، انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں، ان کے حالات تبدیل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جس کا مطلب ملک کو فکری، معاشی، تعلیمی، معاشرتی اور دیگر کئی اعتبار سے تنزلی سے ترقی اور بہتری کی جانب لے جانا ہوتا ہے ، مگر کوئی بھی جماعت اپنے اعلان اور منصوبے کو اس وقت تک پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتی، جب تک اسے نسل نو کا تعاون میسر نہ آجائے۔سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم ، روزگار کے بہترین مواقع اور دیگر معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنے وعدوں کو پایا تکمیل آج تک نہیں پہنچا سکی۔جس کا خمیازہ ملک آج تک بگت رہا ہے۔جہاں قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے سنہری اقوال میں نوجوانوں کو کام ، کام اور صرف کام کرنے کی ہدایت دی ، ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسا سبق پڑھایا وہیں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال صاحب نے نوجوانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بیدار کیا اور شاہین کہہ کر ان کے جذبوں کو بلند کیا۔ آج جب ہم اپنے وطن عزیزکے حالات دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ اُنکا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اُن کے خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی تھی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محنت، لگن، اتحاد سے کام لیں اور زمہ دار شہری بن کر ملک کی بھاگ ڈور سنبھالیں تاکہ مُلک ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ اگر نئی نسل کی پستی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی وجوہات کو دیکھا جائے تو اس میں تعلیمی ادارے، ناقص تعلیمی پالیسیاں، والدین ، اچھی تربیت کا فقدان، معاشرتی حالات اور حکومت کی عدم توجہی بھی ہے۔ حکومت نے کبھی قوم بالخصوص نوجوان نسل کی ترقی و تربیت پر توجہ نہیں دی اور نہ ان کی ترجیحات کو نظر میں لایا۔ ہماری حکومتوں کا تصورِ ترقی نہایت محدود ہے جو محض پلوں اور سڑکوں کی تعمیر تک ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ضروری ہیں پر ذہنی و فکری شعور اور تعلیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    حکومت کے بعد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی زمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے ۔ جہاں نئی نسل اپنی زندگی کا ابتدائی اور اہم حصہ گزارتے ہیں۔ یہ دعوے تو بہت بڑےکرتے ہیں جبکہ حقیقت کُچھ اور بیان کرتی ہے۔
    اس سے زیادہ افسوس کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک بزنس کی حد تک رہ گیا ہے۔ تعلیم و تربیت کی بجائے سرمایہ اکھٹا کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ قوموں کی پستی کی ایک بڑی وجہ اپاہج تعلیمی نظام ہے۔ ہمارےیہاں نوجوان نسل کو تاریخ اور تاریخ میں ہوۓ عظیم کام جو ہمارے رہنماؤں نے سرانجام دیئے ان کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی موجودہ حکومت، سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی آگاہی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ سے واقفیت نہ ہونے سے نوجوان اسلامی اقدار سے دور ہیں ۔ اسی طرح نوجوان نسل کی تربیت کا ایک بڑا حصہ والدین کے زمہ ہے ۔ نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری قوم کے والدین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے ۔ اسی سے نسلیں تباہ ہوتی ہیں.
    درحقیقت نوجوانی کا دور وہ دور ہوتا ہے جب انسان کے ارادے ، جذبے اور توانائی اپنے عروج پر ہوتے ہیں ۔ اگران جذبوں اور توانائی سے قوم و ملک فائدہ نہ اٹھا سکیں تو یہ انتہائی بڑا نقصان ہے۔ قوم کے یہ نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جنکے عزائم بلند ہیں۔ جو مایوس نہیں ہیں اور جنکو اپنے ملک سے محبت ہے اوراپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔

    کھیل کا میدان ہو یا آئی ٹی کا، معاشرتی مسائل ہوں یا معاشی مسائل، کسی بھی شعبے میں نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر ترقی ممکن ہی نہیں ۔ وہ کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہوجائے کہ ملک و قوم کو بام عروج پر پہنچانے کے لیے ان کی اہمیت کیا ہےاور وہ اپنی تمام تر توجہ ملک کی تعمیر و ترقی پر مرکوز کر دیں، تو ہمارے ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ ملک کا مستقبل ان کے ہی ہاتھوں میں ہے ، ان ہی کےکاندھوں پر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے، وہ ہر برائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تو ملک میںمثبت تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔
    اب صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوان کے پاس ایک واضح خاکہ اور منصوبہ بندی ہو کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کام والدین، اساتذہ،حکومت اور خود نوجوانوں، سب کو مل کر کرنا ہے۔
    قومیں ایک رات میں نہیں بنتیں۔ صدیاں لگ جاتی ہیں نظام کو ٹھیک کرنے میں ، معاشرے کی تربیت میں، تب جا کر کہیں ایک ترقی یافتہ ملک و قوم وجود میں آتے ہیں۔ اس فعل کے لیے پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے تب ہی ترقی کا سفر اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا۔ اور اس میں حکومت، تعلیمی نظام، والدین اور ہر ایک عام شہری کو اپنا اہم کردار پیش کرنا ہوگا ۔ تب جا کر ایک ترقی یافتہ قوم وجود میں آئے گی۔


    @FahadRaja6720

  • ہم شرمندہ ہیں آپ سے جناب ڈاکٹر قدیر خان صاحب تحریر…..ہارون خان جدون

    دنیا کے نقشے پر بڑے براعظم ایشاء میں موجود اسلامی جموریہ پاکستان اور اسکے دارحکومت کے قلب میں موجود فیصل مسجد سے چند قدموں کے فاصلے پر مسکراتے چہرے اور آنکھوں عجیب چمک لئے فادر آف پاکستان نیوکلیر ویپن پروگرام کی رہائش گاہ ہے 28 مئی کا وہ دن اور چاغی کی پہاڑیاں گواہ ہیں اس ایٹمی دھماکے کی جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا, بھارت کے ایٹمی پروگرام کے جواب میں جس ہستی کی بدولت یہ امر نہ ممکن سے ممکن بنا وہ کوئی اور نہیں بلکہ محسن پاکستان محسن قوم و ملت ڈاکٹر قدیر خان ہیں جنہوں نے دنیا عالم میں پاکستان کا لوہا منوايا سب سے پاکستانیوں کی دلوں کی دھڑکن اس محسن پاکستان کا نام سنتے ہی بےقرار ہونے لگتی ہے کیوں کہ یہ وہ شخصیت ہے جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ دنیا کو اور اپنے ازلی دشمن بھارت کو یہ بتا دیا کے اگر ہماری طرف میلی آنکھ سے ہمیں دیکھنے کی کوشش کی تو منہ کی کھانا پڑے گی

     پاکستانی عوام آپ جیسے محسن کو اپنے دل میں براجمان خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں لیکن پچھلے کچھ دنوں سے آپ کی موت کی جھوٹی خبریں چلتی رہی لیکن بقول آپ کے یہ حاسدین کا کام تھا جو ایک انتہای گٹیا فعل تھا

     ریٹنگ کے چکر میں کبھی كبهار خبر گھڑنے والے عوامی مقبول شخصیت کو نشانے پر رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتے گزشتہ روز ڈاکٹر صاحب کی موت کی کچی پکی خبر گردش کرنے لگی تو پریشانی بڑھ گی لیکن ساتھ ہی دل اس خبر کی صداقت پر ایمان لانے کو تیار نا تھا

     یہ بھی سچ ہے کے زندگی اور موت اللہ پاک کے بس میں ہے جس نے یہ کائنات بنائی ہے جو ہمارا خالق ہے اور ڈاکٹر قدیر خان کے بذات خود میڈیا پر اعلان کے وہ حیات ہیں اور اللّه انکو مزید زندگی دے گا اور انکے حاسدین کے جلانے کے لئے، ڈاکٹر صاحب کے اپنے میڈیا پر اس بیان سے قوم کے دل خوشی سے سرشار ہوگے

    اس جھوٹی خبر پر ہونا تو یہ چاہیے تھا اسطرح کی لامعنی اور جھوٹی خبر پھیلانے والوں کو قانون کی گرفت میں لانا چاہیے تھا اور سزا دینی چاہیے تھی لیکن افسوس ایسا ہوا نہیں جو افسوسناک بات ہے, موت یوں تو برحق ہے ہر انسان نے ایک نا ایک دن اس فانی دنیا سے جانا ہے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہمیں موت کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہیے کیوں کے موت کسی بھی وقت کسی بھی جگہ آ سکتی ہے یہ اٹل حقیقت ہے

    البتہ پاکستانی قومکی نظر میں ڈاکٹر قدیر خان ایسی شخصیت نہیں کے جنہیں موت نیست و نابود کر سکے ان جیسے لوگ جو اس ملک کی عزت اور سرمایہ ہیں اور وطن سے محبت کا قرض جو اس انداز میں اتارتے ہیں کے انکے کارنامے انہیں اس فانی دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی انکو زندہ و جاوید رکھتے ہیں، اس جھوٹی خبر اور اس واقعہ سے جہاں ان کے چاہنے والوں کو صدمہ ہوا ہے وہاں انکے حاسدین کو بھی پتا چل گیا ہو گا کے پاکستانی قوم انکے لئے کتنی فکر مند ہے اور کتنی محبت کرتی ہے

    لیکن اس سے بھی زیادہ دکھ اور افسوناک بات یہ ہیکہ حکومت کیطرف سے کوی بھی حکومتی وزیر مشیر اور نماہندہ انکی عیادت کرنے نہیں گیا اور انکو اتنی توفیق نہیں ہوی کہ وہ محسن پاکستان کے پاس جاکر انکا حال حوال پوچھ سکیں انکو حوصلہ دے سکے ڈاکٹر صاحب کا اس ملک اور قوم پر بہت بڑا احسان ہے اگر یہ قوم ساری زندگی بھی لگی رے تو انکا احسان نہیں اتار سکتی ہمارے حکمرانوں کو انکی قدر کرنی چاہیے لیکن افسوس ہمارے حکمران یہ سب بھول چکے ہیں.

    میری اللہ پاک سے دعا ہیکہ اللہ پاک آپکو صحت والی زندگی دے۔۔ آمین 

    @ItzJadoon

  • ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین  فوسل دریافت

    ڈائنو سار کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت

    ماہرین نے مراکش سے ڈائنو سار کی نئی نسل کا اب تک کا قدیم ترین فوسل دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی :نیچرل ہسٹری میوزیم کے محققین نے مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں عجیب فوسل پایا تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فوسل بکتر بند سپائک ڈائنوسار کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے یہ 168 ملین سال پرانا ایک غیر معمولی قدیم ترین اینکلوسار نمونہ ہے۔

    یہ دلچسپ دریافت مراکش کے مڈل اٹلس پہاڑوں میں اسی مقام پر کی گئی جہاں لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم (این ایچ ایم) کے محققین نے پہلے پایا جانے والا قدیم ترین سٹیگوسور دریافت کیاتھا۔

    این ایچ ایم کی ایک محقق نے اسے نئی نسل قرار دیتے ہوئے اس کا نام ‘سپیکومیلس افر’ رکھا ہے ، جس کا مطلب ہے سپائکس کا کالر اور افریقہ-

    ماہرین کے مطابق جس چیز نے اسے منفرد بنایا وہ فوسل میں پسلیوں کی ہڈیوں میں ملنے والی سپائکس کا ثبوت ہیں جو اینکلوسار کے لیے غیر معمولی ہے کیونکہ یہ عام طور پر جلد کے ٹشو سے جڑا ہوتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اینکلوسار بکتر بند ڈا ئنوسار کا ایک متنوع گروہ تھا جو 145 سے 66 ملین سال پہلے کے پورے دور میں موجود تھا تاہم ، اس سے پہلے ان کے بارے میں بہت کم شواہد موجود ہیں نئے ملنے والے فوسل کو اس قسم کے ڈائنو سار کے فوسل کی پہلی مثال کہا جاسکتا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ پہلے ہم نے سوچا کہ نمونہ ایک سٹیگوسار کا حصہ ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے انہیں اسی مقام پر پایا گیا تھا۔ لیکن قریب سے معائنہ کرنے پر ہم نے محسوس کیا کہ جیواشم کسی بھی پہلےسے موجود نسل کے برعکس تھا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

    نمونہ اتنا غیر معمولی تھا کہ پہلے محققین نے سوچا کہ کیا یہ جعلی ہو سکتا ہے ، لیکن سی ٹی اسکینوں کی ایک سیریز نے تصدیق کی کہ یہ ‘حقیقی فوسل’ ہے۔

  • تقدیر تحریر: ڈاکٹر اسلام الیاس 

    @drislamilyas

     

    تقدیر کیا ہے ۔ جب انسان کو سید ھے اور غلط راستے پر چلنے کا اختیار دیا گیا ہے اوراس کے لیے

    جزا اور سزا کا نظام بنایا گیا ہے تو پھر یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو لکھ دیا

    جا تا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے اسی سوال سے اکثر لوگوں کے ذہن میں گردش کر تا ہے ۔اگر پیدائش سے پہلے

    ہی لکھا ہوا ہے تو انقیار کیسا اور حساب کتاب کیا۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ اگر ہر چیز لوح محفوظ میں

    درج ہے تو یہ کیوں کہا جا تا ہے کہ شب قدر یا شب برأت والے دن فرشتوں کو اگلے سال کا شیڈول دیا جا تا

    ہے کہ اس سال یہ پیدا ہوگا ، ی مرے گا، یہ نیکی کے کام کرے گا، یہ برائی کے کام کرے گا، رزق کی تقسیم

    وغیرہ وغیرہ۔

    در اصل انسان کو اختیار دیا گیا ہے ۔ اور وہ آزاد ہے کہ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کرے یا

    نافرمانی کر کے سزا کا مستحق بنے ۔لیکن اللہ جونقل کل ہے یہ اس کا علم ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ انسان اپنے

    اختیار کو کیسے استعمال کرے گا۔ وہ یہ جانتا ہے کہ کون کس وقت کیا کام کرے گا۔ قیامت تک کے تمام

    حالات واقعات لوح محفوظ میں درج ہیں لیکن لوح محفوظ تک فرشتوں کی بھی رسائی نہیں ہے ۔ شب قد رکو

    آئندہ سال کا شیڈ ول فرشتوں کے حوالے کیا جا تا ہے ۔ اور انسان پورا سال اپنے اختیار سے اپنی زندگی

    گزارتا ہے ۔اورمنکر نکیرلحہ بلح تحریر کرتے ہیں اور وہ وہی اعمال ہوتے ہیں جو انہیں سال پہلے لکھ دیئے گئے

    تھے کہ کون ساشخص کب اور کیاعمل کرے گا۔ یہ اللہ کاعلم ہے جس تک مخلوق کی رسائی نہیں ۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان ہاتھ کی لکیروں ستاروں سے مستقبل کیسے جان لیتا ہے ۔ کیا

    اس میں بھی کوئی حقیقت ہے۔ جی ہاں یہ بیچ ہے اور یہ نظام بھی اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔ اور اللہ نے انسان کو علم بھی

    دیا ہے لیکن اس میں کب تبد یلی کردی جائے گی اس کا اختیاراللہ کو ہے اور اےسی تبدیلیاں لوح محفوظ میں درج

    ہیں جس کا علم تلوق کونہیں دیا گیا۔ سورۃ لقمان آیت نمبر ۳۴ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے ” بیک اللہ کے پاس

    ہے قیامت کاعلم اور اتارتا ہے مینھ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اورکوئی جان نہیں جانتی کہ کل

    کیا کماۓ گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی ، بے شک اللہ جانے والا بتانے والا ہے ۔

    اب اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بھئی پیدائش سے پہلے پتا چل جا تا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے ۔ در اصل اسکا

    معانی جنس نہیں اس کا مطلب ہے کہ جو ماں کے پیٹ میں ہے اچھا ہے یا برا ہے معاشرے میں کیسا رہے گا

    نقصان والا یا فائدہ دینے والا ۔ ہمارے پیارے نبیﷺ نے قسمت کا حال جانے سے منع فرمایا ہے اس

    لیے ہمیں مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اور ہر وہ کام جس کے کرنے سے ہمارے نبی

    ﷺ نے منع فرمایا ہے اس کو کرنا گناہ ہے ۔ایک اور بات تقذ یرکو نہ ماننے والوں کے لیے ” قیامت کی

    نشانیان بیان کی گئی ہیں اگر انسان کے اعمال سے اللہ پہلے سے باخبرنہیں تو نشانیوں کا جواز ہی پیدانہیں

    ہوتا”۔ غزوہ احد میں ایک دن پہلے رسول ﷺ نے بتادیا تھا کہ فلان اس جگہ مارا جاۓ گا اور فلان اس جگہ

    اور وہی ہوا۔اگر تقدیر میں سب لکھا نہیں ہے تو یہ کسے ہوا مثالیں بے شمار ہیں مگر سمجھدار کے لیے یہ کافی ہیں

    اور نہ مانے والوں کو تو کوئی منانہیں سکتا 

    ڈاکٹر اسلام الیاس

  • 66 سالہ دلہن کی 79 سالہ  شخص سے شادی

    66 سالہ دلہن کی 79 سالہ شخص سے شادی

    دو عمر رسیدہ جوڑوں نے اپنی مستقبل کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے لئے شادی کر لی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق یہ شادی مہاراشٹر کے ضلع سانگلی میں ہوئی۔ جہاں دلہن کی عمر 66 سال ہے اور دلہن کی عمر 79 سال ہے یہ شادی ضلع سانگلی کے میرج میں واقع آستھا بے گھر خواتین سینٹر میں ہوئی۔ جہاں 66 سالہ دلہن شالینی اور 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔

    دونوں فریقوں کی جانب سے شادی پر رضامندی کے بعد محبت کرنے والوں نے سات پھیرے لینے کا فیصلہ کیا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئےسینڑمیں رہنے والی 66 سالہ دلہن شالینی کے شوہر اور بچے کی بے وقت موت کے بعد وہ اپنی زندگی بے گھر سینٹر میں تنہا گزار رہی تھی۔

    جبکہ 79 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر دادا صاحب سالونکھے کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے دادا صاحب سالونکھے کے بچوں کی شادی کے بعد وہ اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں جس کے بعد دادا صاحب سالونکھے کی زندگی تنہا گزر رہی تھی۔ تاہم بچوں نے اپنے والد کی دوسری شادی کے لئے رضامندی دے دی تھی بزرگ دلہن اور دلہن شالینی پاشن ، اور دلہا داس صاحب سالونکھے کی شادی سے پہلے مشورہ کیا گیا، جو آستھا بے گھر سینٹرمیں رہتے ہیں۔

    دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھا اور ایک روشن مستقبل کے سفر کو گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تمام قانونی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد سماجی اصلاح پسندوں ساوتری بائی اور مہاتما پھولے کی تصاویر کو پھول پیش کئے اور پرانی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے شادی کی.شادی کے دوران مدعو مہمان اور پورے گاؤں نے دلہا اور دلہن کو خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے دعائیں دیں۔

  • سعودیہ واپسی کے منتظر پاکستانی پریشانی کا شکار تحریر ہارون خان جدون

    سعودی عرب کی جانب سے کرونا کی وجہ سے ڈائریکٹ فلائٹس پر کہیں ماہ سے پابندی
    کی وجہ اپنے ملک آئے ہوے پاکستانی مزدور ورکر بیچارے ذلیل و خوار ہو گئے ہیں
    ابھی یہ سلسلہ جاری ہے جو بھی دو ماہ کے لیے گھر آیا تھا ہو دس دس ماہ سے گھر
    بیٹھا ہوا ہے اب ہو بیچارہ کھائے گا کہاں سے؟ حکومت کو چاہیے سعودی عرب سے بات
    کرکے کچھ حل نکالے

    ‏‎‎یورپ،امریکہ اور کنیڈا میں رہنے والے اورسیز جو وہاں مستقل رہنا چاہتے ہیں
    اور پاکستان آنے کا امکان بھی نہیں اور نہ اپنے رقم کا دس فیصد بھی پاکستان
    بھیجنا چاہتا ہے ان کیلئے سہولیات تلاش کیجاتی ہے لیکن جو مشرق وسطی ممالک میں
    مقیم ہے اور جسمانی محنت مزدوری سے ہر سال ریکارڈ پیسہ ‏‎‎بھیجتے ہیں،جو اپنے
    پیٹ کاٹ کر بچوں اور ملک کیخاطر یہاں یا پاکستان جاکر اب واپس آنے میں مشکلات
    سہہ رہے ہیں ان کیلئے کوئ آواز اٹھانے والا نہیں۔۔۔

    بنگلہ دیش جیسے ملک سے فلائٹس اوپن ہے لیکن ہمارے لوگ کرغزستان کے راستے آرہے,
    ‏‎‎بنگلہ دیش، نیپال، فلپائن، ازبکستان، تاجکستان اور بہت سارے ملکوں کی فلائٹ
    ہے۔
    لیکن پاکستان کو اپنا بھائ مان کر بھی فلائٹ کا اجازت نہیں دیتا۔
    حکومت کو اس پر عملی اقدام اٹھانا چاہیئے ۔اور ان بیچاروں مزدوروں کی مدد کرنا
    چاہیئے
    اس وقت سودیہ میں سابق Dg رینجر جنرل R ‏‎بلال اکبر صاحب وہاں سفیر تعینات ہیں
    انکو چاہیے کے وہ سودیہ سے آے ہوے ان ملازمت پیشہ لوگوں کے اس issue کو جلد از
    جلد حل کروائیں کیوں کہ پاکستانی سفارتخانہ پہلے کا بہت ٹھنڈا ہے سعودیہ میں
    انکی کوئی نہیں سنتا ہے بنگلہ دیش کرونا کے پیک میں بھی اوپن رہا اور اب بھی
    نارمل فلائٹس ہیں پاکستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے سعودیہ میں اور حکومت وقت
    کی سفارت کاری بھی نا ہونے کے برابر ہے حکومت کو چاہیے کے وہ اس مسلے کو
    سنجیدگی سے حل کروائیں کیوں کے لاکھوں مزدور وہاں کام کر کے اپنی family کو
    سپورٹ کرتے ہیں اور انکا گھر چلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اکانومی کو
    بھی بہت فائدہ ہے، عوام پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے کھانے پینے کی ہر ایشاء
    غریب کی پنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے بجلی گیس بھی مہنگی ہے اوپر سے کرونا کے اس
    وائرس نے پوری دنیا خاص کر کے غریب ممالک میں رہنے والے مزدور طبقے پر بڑا اثر
    ڈالا ہے انکی کمر ٹوٹ چکی ہے
    جو لوگ پردیس میں کام کرتے ہیں انکی پوری family ان پر dependent ہوتی ہے وہی
    پورے خاندان کا سرکل چلاتے ہیں
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سوچنا چاہیے اور ‏‎جب تک پاکستانیوں کی
    جعلی، ویکسین سرٹیفیکیٹ والی 2 نمبریاں نہیں رکیں گی سارے پاکستانی اسی طرح
    ذلیل ہوتے رہیں گے مختلف ممالک میں۔ کڑوا سچ ہے

    اس کے ساتھ جو لوگ گلف سے آے ہوے ہیں وہ وہاں کے قانون کی پاسداری کریں اور
    کرونا vaccine کی دو  ڈوز مکمل لگواہیں تاکہ انکے لئے واپسی کا سفر آسان ہو
    سکے کیوں کے دھوکے اور دو نمبری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس سے مزید پریشانی
    بنتی ہے پاکستانیوں کو چاہیے کے وہ legal پراسس مکمل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ
    حکومت وقت وزیرخارجہ اور وہاں پر موجود پاکستانی سفیر کو پاکستانیوں کی اس
    پریشانی کو سمجھنا چاہیے اور جلد از جلد اس issue کو حل کروانا چاہیے تاکہ
    مزدور اپنے اپنے روزگار پر واپس جا کر اپنا کام سٹارٹ کر سکیں اور اپنی زندگی
    کو معمول پر لا سکیں.

    @ItzJadoon

  • چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا  کر لیا

    چھوٹے کتے کو بندر نے اغوا کر لیا

    کوالالمپور: ملائیشیا میں ایک جنگلی بندر نے چھوٹے کتے کو اغوا کر کے تین دن تک یرغمال بنائے رکھا۔

    باغی ٹی وی : ملائیشیا میں ایک بندر نے دوہفتوں کے سارو نامی چھوٹے سے پالتو کتے کو پکڑ لیا اور درختوں کے جھنڈ کے پیچھے بجلی گھر کی چوٹی پر یرغمال بنا کر رکھ لیا قریبی رہائشیوں نے کتے کو بچانے کی کوشش میں کئی جتن کئے انہوں نے بندر کو چھوٹے پتھروں اور لکڑی کے ٹکڑوں سےمارا لیکن بندر ٹس سے مس نہ ہوا۔

    تاہم کافی حربے آزمانے کے بعد بندر کو ڈرانے کے لیے اونچی آواز پیدا کرنے کی کوشش میں پٹاخے بجائے گئے پٹاخے بجانے کا منصوبہ کام آ گیا اونچی آواز سے ڈر کے بندر نے کتے کو نیچے پھینک دیا کتے کے نیچے گرتے ہی لوگ اس کے طرف بھاگے اور جھاڑیوں اور درختوں کے جھنڈ میں گرے ہوئے کتے کو ڈھونڈ نکالا۔

    ضروری دیکھ بھال اور چیک اپ کے بعد کتے کوایک مقامی فرد نے اپنے ساتھ رکھ لیا ہے وہاں پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ بندر نے کتے کوکوئی تکلیف نہیں پہنچائی بس وہ اسے لے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لپکتا رہا لیکن اس کے باعث کتا بہت تھکا ہوا اور نڈھال دیکھائی دیا سارو نامی اس کتے کو ایک آوارہ کتیا سے چھینا تھا-

    انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا تھا کہ بندر اس کتے کو اپنا دوست یا بچہ سمجھ رہا تھا بعض مقامی رہائشیوں کا یہ بھی کہنا ہے کی یہ بندر پہلے بھی گھروں سے چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں۔

    ملائیشیا میں ایک اندازے کے مطابق حکومت کو ہر سال بندروں سے متعلق اڑتیس سو سےزائد شکایات موصول ہوتی ہیں ان شکایات کے باعث وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ بندروں کو مارنے کے پروگرام پر مجبور ہوا اور 2013 سے 2016 تک ہر سال تقریباً 70 ہزار بندروں کو مارنا پڑا۔
    https://youtu.be/WQC8PPowRds

  • توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل علی اللہ .تحریر: راحیلہ امجد

    توکل کا مفہوم ہے کہ انسان خود کو عاجز و مجبور اور اللّٰہ تعالیٰ کو تمام جہانوں کا پروردگار و مالک تسلیم کرتے ہوئے اس ذات واحد پر بھروسہ و یقین کر لے کہ جو کچھ ہوگا باری تعالیٰ کے حکم اور منشاء سے ہوگا۔ جب دل میں یہ یقین پختہ ہو جائے تو انسان کا ایمان کامل ہو جاتا ہے۔ انسان تکبر ، غرور اور دنیا کی عارضی شان و شوکت سے کنارہ کشی اختیار کرکے اللّٰہ کی حاکمیت کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتا ہے۔ اپنی عقل ، فہم و فراست اور تدابیر کے بجائے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا پر صابر و شاکر بن کر زندگی بسر کر سکتا ہے۔
    تاہم اللّٰہ تعالیٰ نے جہاں توکل علی اللہ کا حکم دیا ہے وہاں انسان کو عقل جیسی نعمت سے نواز کر دیگر مخلوقات سے افضل کر دیا ہے۔ مختلف امور میں رب العالمین نے انسان کو عقل کے استعمال کا حکم دیتے ہوئے کچھ اختیارات تفویض کیے ہیں۔ جس طرح عقل اور فہم و فراست کے باعث ہی انسان کو عبادات اور نیکیوں کا حکم دیا ہے اور اس بنیاد پر ہی آخرت میں انسان کے لیے جزا و سزا کا تعین بھی کیا جائے گا۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو رزق کے معاملے میں اپنی ذات لا شریک پر توکل کرنے اور آخرت کے متعلق فکر و کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنی دیگر بے شمار صفات کے ساتھ ساتھ اللّٰہ تعالیٰ تمام جہانوں کی مخلوقات کا رازق بھی ہے اس نے انسانوں کو رزق کی فراہمی بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس لیے انسان کو صرف کوشش کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اپنی آخرت سنوارنے کے لیے سوچ و فکر عطا کی گئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم آخرت کی فکر سے بڑھ کر رزق اور دنیاوی دولت و مال کی فکر میں مبتلا ہیں۔

    دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے کے لیے توکل پہلی اور لازمی شرط ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام مخلوقات کی پکار سننے والا ہے جو توکل اور بھروسے سے مانگے اسے مومن اور کافر کی تفریق کے بغیر عطا فرماتا ہے۔ انسان جب خود کو کمزور و ناتواں اور مجبور و بے بس سمجھ کر یہ سوچ بختہ کرکے اللّٰہ تعالیٰ سے مانگے کہ میرا اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے کوئی مشکل کشا و حاجت روا نہیں ہے، رب کے علاؤہ کوئی عطا کرنے والا نہیں ہے، میرا رب عطا کرنے والا اور عیبوں پر پردے ڈالنے والا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کے ہاتھ خالی نہیں لوٹاتا لیکن مضبوط بھروسے اور توکل کی ضرورت ہے کہ ذات باری تعالٰی کے در سے ہی حاجت پوری اور اس بارگاہِ الٰہی سے فیض یاب ہوں گا۔

    جس انسان نے اللّٰہ پر توکل اور بھروسہ پختہ کر لیا اس کا ایمان کامل ہوگیا اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنی رضا ، خوشنودی اور توکل کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین

  • انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    انگور جس کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے

    جاپان میں پیدا ہونے والے قیمتی انگور کے ایک گچھے کی قیمت 76 ہزار روپے سے زائد ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان میں ایک ایسا انگور بھی پیدا ہوتا ہے جو انتہائی نایاب ہے اس انگور کو مارکیٹ میں روبی رومن کے نام سے جانا جاتا ہے-


    انگور کی اس قسم کو رنگوں کے حساب سے تین درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے جس کے ایک گچھے کو اس بار 76 ہزار 174 روپے میں فروخت کیا گیا اور امریکی کرنسی میں یہ رقم 450 ڈالرز بنتی ہے۔

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

    اس انگور کے سائز، ذائقے اور رنگت کی وجہ سے اس کو نایاب سمجھا جاتا ہے جس کی قیمت عام انگور سے کہیں زیادہ ہے اس انگور کو فروخت سے پہلے انسپیکشن کے لیے لے جایا جاتا ہے جہاں پر فوڈ ماہرین رنگت، ذائقہ اور دیگر چیزوں کو چیک کرنے کے بعد اس کو فروخت کرنے کی منظوری دیتے ہیں۔

    پاکستان کے خلاف وار فیئر قائم کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ،شیخ رشید نے کیا بے نقاب

    جاپان کی یونیورسٹی پرفیکٹورال کے محقق ہیروشی نے بتایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا حصے میں انگور کی یہ قسم نہیں پیدا ہوتی اور اسی وجہ سے اس کو انفرادی حیثیت حاصل ہے۔

    حراست میں لیےگئےسینئر صحافی وارث رضا:خود ہی گھرپہنچ گئے

    ریلوے سٹیشنوں پر لگائے گئے سیکیورٹی سکینرز کاعرصہ دراز سے خراب ہونے کاانکشاف

  • زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو تحریر : عفراء مرزا

    تمباکو نوشی ایک ایسی لت ہے جس نے بہت کم لوگوں کو چھوڑا ہے۔ اکثریت کسی نہ کسی شکل میں اس کو استعمال کرچکی ہے چاہے وہ بعد ازاں اس سے کنارہ کشی کرلیں۔ نوجوان نسل میں اس کا استعمال قدرے زیادہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے۔ایک نوجوان ہی قوم کا بہ تر مستقبل بنا سکتا ہے اور اسی لیے دیگر ممالک میں اسکول کی سطح پر ہی تربیت کا اہتمام کردیا جاتا ہے تاکہ وہ بڑا ہوکر قوم کے مفادات کو مدنظر رکھ سکے۔یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کے مضراثرات سے آگاہ کرنا بچپن سے ہی شروع کردیا جاتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں تمباکو نوشی کی وبا تنزل کی جانب گامزن ہے۔سگریٹ نوشی بیماریوں کی جڑ ہے جس کی وجہ سے سالانہ 60لاکھ کے قریب افراد بیمار ہوکر مر جاتے ہیں۔ان میں سے 6لاکھ کے قریب ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جنھوں نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی ہوتی صرف اس ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان بیماریوں کا شکار ہوکر موت کو گلے لگالیتے ہیں۔

    دنیا میں اس وقت بھی ایک ارب سے زائد لوگ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں جن میں سے اکثریت ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہے۔
    2018ء میں ایک ہوئی تحقیق کے مطابق تمباکو میں 7ہزار سے زائد کیمیکل ہوتے ہیں جن میں سے کم ازکم 69ایسے ہوتے ہیں جو کینسر و سرطان کا باعث بنتے ہیں۔تمباکو نوشی کے مضراثرات سے تو آپ سبھی واقف ہی ہوں گے جن میں کینسر، فالج اور امراض قلب وغیرہ ہیں لیکن ایک ایسا نقصان بھی ہے جس سے اکثریت ناواقف ہے اور وہ ہے بالوں سے محرومی۔

    2020ء میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق 500افراد میں سے 425لوگوں کو بالوں سے کسی نہ کسی حد تک محرومی کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ 500ایسے افراد جو تمباکو نوشی سے گریز کرتے تھے ان میں یہ شرح 200کے قریب تھی اور اس میں بھی لازماََ دیگر عوامل بھی کارفرما ہوں گے۔تحقیق کرنے والوں کے مطابق نکوٹین اور دیگر کیمیکل بالوں کی گرنے کی شرح کو تیز کردیتے ہیں تاہم انھوں نے اس متعلق مزید تحقیق پر بھی زور دیا ہے۔لندن کالج یونی ورسٹی میں ایک تحقیق ہوئی جس میں 1946ء سے لے کر 2015ء تک کی طبی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا اور اس کے نتائج سے ثابت ہوا کہ جو دن بھر میں صرف ایک سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں ان میں استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں امراض قلب کا خطرہ48فی صد ہوتا ہے اور خواتین میں یہ شرح بڑھ کر 57فیصد پر جاپہنچتی ہے۔اس طرح مردوں میں فالج کا خطرہ25فی صد اور خواتین میں 37فی صد ہوتا ہے۔

    اس کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سگریٹ کا کم استعمال کینسر کے خطرے کو تو کم کرتاہے لیکن فالج و امراض قلب کا خطرہ ہنوز موجود رہتا ہے اس کے لیے اس لت سے مکمل جان چھڑوانا ضروری ہے۔
    پاکستان میں اس کا استعمال جہاں بڑھ رہا ہے وہی پر اس کے خلاف معلومات کی آسان فراہمی اور حکومتی اقدامات بھی ماضی سے قدرے بہ تر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ باغی ٹی وی کی جانب سے میڈیائی معلومات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھانا قابل تحسین و لائق تقلید ہے۔ کچھ چیزیں ہیں جن سے تمباکو نوشی کی لت سے جان چھڑوانا ممکن ہے تاکہ قارئین اپنے اردگرد سگریٹ نوشی کرنے والوں کو مطلع کرسکیں اور انھیں ابھاریں کہ اس لت سے اپنی جان چھڑائیں تاکہ آنے والی نسل اس کے برے اثرات سے محفوظ و مامون رہ سکے۔ سب سے پہلے تو مراقبہ کی مشق کرنا ہے جس سے اس لت سے چھٹکارا پانا آسان ہوجاتا ہے۔ گوگل کی ایک تحقیق کے مطابق کاروباری ہفتے کے آغاز میں اس لت سے جان چھڑانے کا عزم بھی کافی فائدہ دیتا ہے۔ ورزش کرنے کی عادت سے بھی نکوٹین نامی کیمیکل اپنی مانگ کم کردیتا ہے۔سگریٹ کی بو محسوس کرکے اس سے ناگواری کا اظہار کرنا بھی افادیت دیتا ہے کیوں کہ دماغ اس کا تعلق بدبو سے جوڑ دیتا ہے۔سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بھی پاک طرز زندگی کی طرف لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق دوہفتوں تک وزن اٹھانا بھی فائدہ دیتا ہے۔پالتوجانوروں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑواسکتا ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق کسی سے بات چیت کرنا بھی 11فیصد تک اس امکان کو بڑھا دیتا ہے کہ اس لت سے جان چھوٹ جاے۔نئے مشاغل کو اپنانا اور اپنے آپ کو مصروف رکھنا بھی آپ کو قابل بناتا ہے کہ آپ اس سے جان چھڑوائیں۔انور شعور کا کہنا ہے کہ
    ؎زباں زباں پہ ہے اعلان ترک تمباکو
    طیور عام یہ پیغام ہر طرف کردیں
    آخر پر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں اور اقدامات اسی وقت قابل عمل ہوں گے جب آپ پکا ارادہ کرکے اپنی قوت ارادی کو اس طرف لگادیں گے ورنہ تو مضبوط قوت ارادی کے مالک اس بیماری میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ مرتے دم تک جان نہیں چھڑواپاتے۔

    ٹویٹر اکاونٹ: @AframirzaDn