؎من کے اندر پی بسے پی کے اندر پریت
خود میں اتنا ڈوب جا مل جاے گا میت
ابراہیم اشکؔ کے اس دوہے کے پہلے مصرعہ میں میری نظر ”پی” اور ”پریت” پر ٹھہری ہوئی ہے۔ یہاں ”پی“ سے مراد محبوب اور ”پریت“ سے مراد محبت ہے۔ سنسکرت میں پاکیزہ محبت کے لیے لفظ پری "Pri” ہے اسی سے پریا (محبوب)،پریانکا اور پریا درشنی نام بھی ہے جس کا مطلب نظروں کو لبھانے والی ہوتا ہے۔ لفظ لبھانے کو آگے جاکر دیکھتے ہیں۔ ”پری“ نے ”پریم“ کو جنم دیاپریم کو ہم سراج اورنگ آبادی کے اس شعر میں دیکھ سکتے ہیں۔
؎تجھ زلف میں دل نے گم کیا راہ
اس پریم گلی کوں انتہا نئیں
اردو زبان میں ایک عام لفظ ہے ”پیار“ یہ بھی پری سے ہی ماخوذ ہے۔ اردو گیتوں میں جب پیا پکارا جاتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ پری کا ہی روپ ہوتا ہے۔قلی قطب شاہ کیا خوب کہہ گئے ہیں کہ
؎پیا باج پیالا پیا جاے نا
پیا باج یک تل جیا جاے نا
اگر بات کی جاے انگریزی کے لفظ love کی تو یہ پہلے lew تھا پھر lewbhبنا اور جرمن زبان میں پہنچ کر luboکا پیراہن پہن لیا اور قدیمی انگریزی میں جاکر lufu کا تاج پہن کر love ہوگیا۔ روسی اسے لیوب ”liub” جب کہ جرمن ”lieb” کہتے ہیں۔ انگریزی لغات بتاتی ہیں کہ جرمن لفظ کا ماخذ leubhہے اب اگر سنسکرت کے لفظ لوبھ (محبت، شہوت) پر نظر ماریں تو عقدہ کھلتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تعلق باہمی ہے۔اور پھر اسی سنسکرت کے لفظ سے اردو کا لفظ لبھانابن گیا جس کامطلب لالچ دینا، پرچانا اور پُھسلانا وغیرہ ہے۔ آرزو لکھنوی کا شعر ملاحظہ کیجیے
؎معصوم نظر کا بھولا پن للچا کے لبھانا کیا جانے
دل آپ نشانہ بنتا ہے وہ تیر چلانا کیا جانے
شپلے اور کلے براون جیسے ماہرین لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ لفظ ”پرائی” اور ”پری” کا ”پریا” سے تعلق ہے۔ اب ہمارا گمان ہے کہ پ (P) کی آواز ف (F)سے بدل گئی اور انگریزی کےFree اور جرمن کے Frei بن گئے۔ حضرت انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کو قیمتی ترین سمجھتا ہے اور اسے حتی الامکان آزادی دی جاتی ہے۔ اب اگر ہم جمعہ کی انگریزی Fridayپر نظر ماریں تو اس میں بھی غالب امکان ہے کہ یہی مادہ کارفرما ہوگا۔ویسے انگریزی کا مذکورہ لفظ Freyaسے نکلا ہے جو کہ ایک مفروضے کے مطابق پیار اور خوب صورتی کے دیوتا سے منسلک ہے اور شاید اسی کی وجہ سے انگریزوں کا خیال ہے کہ جمعہ کے روز پیدا ہونے والے بچے کے مقدر میں محبت زیادہ ہوتی ہے۔ پری کے”پ“ کا”ف“ سے بدلنا ہمیں انگریزی کے fray اور frightجیسے الفاظ سے روشناس کرواتا ہے۔ انگریزی میں friendہی ایسا لفظ ملا ہے جو پری کے اصل تک لے جاتا ہے۔ سویڈن کے لوگ دوست کو frande اور پرتگال کے لوگ veiend کہتے ہیں۔ قدیمی انگریزی محبت کرنا کو Freon لکھتے تھے جو کہ Friendکا ماخذ ہے اور یہ سنسکرت کے لفظ پری کے مفہوم سے مجھے توکچھ دور نہیں لگا۔باقی احمد پوری کا شعر پڑھیے کیا بروقت یاد آیا ہے اور ہمیں اجازت دیجیے
؎ دوست ناراض ہوگئے کتنے
اک ذرا آئنہ دکھانے میں
Category: متفرق

پیار، پریم اور پریتم ،تحریر:محمد عتیق گورائیہ

کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے؟ تحریر:عفیفہ راؤ
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں آپ کو بتایا تھا کبالہ کیا ہوتا ہے اس کی تاریخ اور حقیقت کیا ہے؟ اور آج کے کالم کا عنوان ہے کہ یہ کبالہ جادو کیسے کیا جاتا ہے اور اس کا لوگوں کی زندگی پر کیا اثر ہوتا ہے؟ شیطان کے ان پیروکاروں کو کن علامات سے پہچانا جا سکتا ہے؟ آج کل کے جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ڈارک ویب سے کیا تعلق ہے؟اگر ہم صرف پاکستان کی ہی بات کریں تو یہاں آپ کو اصلی اور جعلی بہت سے عاملین نظر آئیں گے اور ہر ایک یہ دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس بہت سے موکل ہیں جن کے ذریعے وہ آپ کی تمام پریشانیوں اور مسائل کو حل کروا سکتے ہیں۔یہ موکل دراصل جنات ہوتے ہیں ان میں سے کچھ نیک جن ہوتے ہیں اور کچھ بد۔۔۔ بدی کو ماننے والے جنوں کے ذریعے سے کبالہ اور کالا جادو کروایا جاتا ہے۔یہ عاملین کچھ ایسے عمل کرتے ہیں یا آپ کہہ لیں کہ ایسے چلے کاٹتے ہیں، شیطان کی پوجا کرتے ہیں جس کے بعد یہ موکل یا جنات کسی حد تک ان کے کنٹرول میں آجاتے ہیں۔ جس کے بعد ان پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے بھی یہ عاملین مسلسل کچھ اس طرح کے کام یا چلے کرتے ہیں تاکہ یہ موکل ان کے کنٹرول سے باہر نہ جا سکیں۔
ان چلوں کے لئے سب سے پہلے تو یہ عاملین پاک اور ناپاک کے فرق کو ختم کر دیتے ہیں۔ پیشاب، پخانہ، نجاست، خون ان کو اس سے گھن نہیں آتی بلکہ اپنے چلوں میں یہ ان کا استعمال کرتے ہیں۔ کالے جادو کے لئے خاص طور پر خون کے ساتھ تعویز لکھے جاتے ہیں۔ تعویزوں میں شیطان کی علامات بنائی جاتی ہیں یا شیاطین کے نام لکھے جاتے ہیں۔ کچھ گنتی کو بھی الٹا سیدھا لکھ کر کچھ کوڈز بنا کر لکھے جاتے ہیں جن کا صحیح مطلب صرف اس شیطان کے پیروکار ہی سمجھ سکتے ہیں۔ قرآنی اوراق کو جلایا جاتا ہے۔ قرآنی آیات کو الٹا لکھا جاتا ہے۔ جادو کے لئے جس انسان پر یہ عمل کرنا ہو اس انسان کے پہنے ہوئے کپڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کالا مرغا، کالا کتا، کالی بلی یا کالی سری بھی جادوئی عمل کے لئے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ چاند کی تاریخوں میں مختلف پتلے بنا کر اس پر سوئیاں ٹھوکی جاتی ہیں۔ تاکہ لوگوں کے کاروباروں کو ٹھپ کروایا جا سکے، میاں بیوی والدین اور بچوں کے آپسی تعلقات خراب کروائے جا سکیں۔ لوگوں کی صحت متاثر کروائی جا سکے۔ دولت، طاقت اور غلبہ حاصل کیا جا سکے۔اس کے علاوہ شیطانی علامات کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان علامات کو لاکٹ بنا کر گلے میں پہنا جاتا ہے۔ یا جسم پر ان نشانوں کے Tattoos بنوائے جاتے ہیں۔ جیسے شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے سینگھ ہوتے ہیں تو جو شیطان کے پجاری ہوتے ہیں یا جو ان کو مانتے ہیں وہ اکثر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اسی طرح کے نشان بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ تکون، پانچ کونوں والا ستارہ اور ایک آنکھ کا نشان یہ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شیطان کی پوجا کرنے والوں کا ایک نشان 9/11بھی ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ کبالہ کی قدیم ترین کتابوں میں جادو کے لئے جو کوڈنگ کی گئی تھی اس میں دس کا ہندسہ خدا کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور گیارہ کا ہندسہ شیطان کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ تو اب9/11کو اکھٹا لکھ کر یا نشان بنا کر نو اور گیارہ کے درمیان سے دس کو ہٹا کر دراصل یہ لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خدا کو نہیں مانتے بلکہ شیطان کی طاقت کو مانتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔
کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ
9/11 پر جو حادثہ ہوا اور جس پلاننگ کے ساتھ یہ کیا گیا جس کے بعد ایک نئی جنگ شروع ہو گئی تھی وہ تو سب جانتے ہی ہیں لیکن 9/11کا ہندسہ اس سے پہلے بھی بہت زیادہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ Simpson cartoonsکے بارے میں اگر آپ جانتے ہوں تو اس میں بھی اس کا بہت سی جگہوں پر استعمال کیا گیا تھا۔ انگریزی فلموں تک میں اس سائن کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا رہا ہے۔اس کے علاوہ ایک ہاتھ کا نشان بھی ہوتا ہے جس کی ہتھیلی پر ایک آنکھ کا نشان بنا ہوتا ہے۔ کھوپڑی اور ہڈیوں والے نشانات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ قبروں سے کھوپڑی اور ہڈیاں نکال کر ان پر بھی جادوئی عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ اکثر ہاتھ کی کلائی پر لال رنگ کا دھاگہ باندھتے ہیں۔ اور شیطانی عملیات سے متعلق جتنے بھی سائن ہیں ان کو بار بار استعمال کرنے کا مطلب اصل میں شیطان کے ساتھ اپنی عقیدت کا ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اب آتے ہیں دوسرے اہم پوائنٹ کی طرف کہ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات کا ان سے کیا تعلق ہے؟
دیکھیں یہاں پر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی نے صرف اپنی جنسی ہوس کی تسکین کرنی ہے تو وہ مرد کسی عورت کے ساتھ زیادتی کرے گا اور اس کے بعد وہاں سے فرار ہو جائے گا جیسا کہ ہم نے موٹروے کیس میں دیکھا اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں کہ جس میں کوئی ایک مرد یا چند مردوں کا گروہ ایک عورت کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کے بعد فرار ہو جاتے ہے یا زیادتی کے بعد اس کو کسی ویران جگہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن آجکل آپ کو زیادہ تر ایسے کیسسز سنائی دیں گے جس میں لڑکیوں یا چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ پہلے زیادتی کی جاتی ہیں پھر ان پر تشدد کرکے انھیں قتل کر دیا جاتا ہے اور لاش کو بوری یا شاپر میں بند کرکے یا ویسے ہی کچرے کے ڈھیر پر یا کسی سنسان جگہ پھینک دیا جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کالا جادو سیکھنے والے یا کالا جادو کرنے والے لوگ شیطان کو خوش کرنے اور شیطانی طاقتیں حاصل کرنے کے لئے یہ سب کرتے ہیں پہلے بچی کے ساتھ ناجائز عمل اور زیادتی کی کرتے ہیں پھر شیطان کو خوش کرنے کے لئے اس بچی کی قربانی کی جاتی ہے اور اس کا قتل کر دیا جاتا ہے۔ خاص کر وہ قتل جس میں کسی بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگائے جائیں یا پھر مختلف حصوں کا کاٹ کر الگ کر دیا جائے اس کے علاوہ گردن کو جسم سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے تو اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایسے چلوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ کالے جادو والے عاملین خود بھی شیطان کو خوش کرنے کے لئے یہ کان کرتے ہیں اور آگے اپنے شاگردوں سے بھی یہ کام کرواتے ہیں ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنا مشکل کام نکلوانا ہے یا یہ جادو سیکھنا ہے تو تمھیں بھی یہ سب کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ جو واقعات ہم مردہ عورتوں کی لاش کو نکال کر اس کے ساتھ زیادتی کے سنتے ہیں اس کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے مردہ لاشوں اور قبرستان کی ویران جگہوں کو خاص طور پر جادو کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور ایسا کرکے شیطانی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اور ان واقعات کا ڈارک ویب کے ساتھ تعلق بھی دراصل ان شیطانی عملیات کی وجہ سے ہی ہے۔ کیونکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں جہاں قوانین بہت سخت ہوتے ہیں وہاں اس طرح کےSatanic cultوالے لوگ کیونکہ شیطان کے سامنے انسانوں کی قربانی نہیں دے سکتے تو وہ ہمارے جیسے ترقی پزیر ممالک میں جہاں لوگوں کا قانون کے ہاتھوں سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے اور ان کی حکومتوں کے لئے بھی ڈارک ویب تک پہنچنا مشکل کام ہے یہاں سے لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور ان سے یہ زیادتی اور قتل کے واقعات کروائے جاتے ہیں اور خود ان کی ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں جو قاتل جتنی زیادہ درندگی کرتا ہے جو کسی بچی کو جتنی بے دردی سے مارتا ہے اس کو اتنے ہی زیادہ پیسے ملتے ہیں۔اس لئے ہمیں اگر اپنی سوسائٹی کو اس طرح کے واقعات سے بچانا ہے تو ہمیں دراصل اپنے لوگوں کو شیطان کے پجاریوں سے بچانا ہو گا۔ اس طرح کے عاملین سے بچانا ہو گا جو جن نکالنے کے نام پر ہماری عورتوں کی عزتیں لوٹتے ہیں۔ لوگوں کو شرک کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

چھابڑی والے مزدور،تحریر: فروانذیر
میرا آج کا موضوع ان لوگوں پر ہے جو روزی کمانے کیلئے گلی محلوں میں گھومتے رہتے ہیں،
اپنا وقت لگاتے ہیں، تپتی دھوپ میں نکلتے ہیں۔ میں بات کر رہی ہوں چھابڑی والوں (Street Hawker) کے بارے میں۔۔۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔
اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں اسی طرح کوئی انسان برابر نہیں۔
اللہ نے کسی کو امیر بنایا تو کسی کو غریب
اللہ امیر کو دے کر آزماتا ہے تو غریب سے لے کر آزماتا ہے۔
اللہ دیکھتا ہے میرا بندہ کتنا خرچ کرتا ہے دوسروں پر،
اللہ دیکھتا ہے میرا غریب بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔۔
کوئی اچھا کاروبار کرتا ہے تو کوئی چھوٹا۔
اسی طرح کچھ ایسے لوگ جو گلی محلوں میں گھوم کر تپتی دوپہر میں بارش میں اپنی روزی کو کمانے نکلتے ہیں،
جیسے سبزی والا، سموسوں والا، جو سکولوں کالجوں کے باہر ہوتے ہیں۔ یہ سب کوئی حرام روزی نہیں کمارہے یہ اپنی محنت سے حلال رزق کماتے ہیں۔
لیکن کچھ انکو حقیر سمجھتے ہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
کیوں سمجھتے ہیں لوگ ایسا؟؟؟؟
وہ کچھ ٹائم کیلیے سوچے اگر یہ سبزی والے نہ ہوتے تو گھروں میں کیا بناتے ظاہر سی بات ہے دالیں گوشت وغیرہ،
لیکن انسان سبزی کے بغیر نہیں رہ سکتا
تو یہ سب حلال رزق کماتے ہیں اپنے گھر والوں کو پالنے کیلیے۔۔
چاہے کم ہوتا ہے لیکن جتنا اللہ چاہتا ہے اسے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
بیشک حلال رزق میں برکت ہوتی ہے وہ چاہے کم ہو یا زیادہ۔
اللہ پاک نے ہر انسان کی قسمت میں اسکا رزق پیدا ہوتے ساتھ ہی لکھا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم سبکو ایک مقصد کیلیے دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اپنی آخرت کو سنوار سکیں عبادت کرسکیں اللہ کا شکرادا کریں۔
اللہ نے ہر انسان کی قسمت کو بہتر اور بہترین بنایا ہے صرف مسلمان ہی نہیں کافر کے ساتھ بھی
اللہ پاک ہم سب کو حسن سلوک کی ہدایت فرماتا ہے۔ صرف مسلمان کے ساتھ نہیں ہر انسان کے ساتھ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو، امیر ہو یا غریب ہو عربی ہو عجمی ہو یا جو بھی ہے۔
اللہ کی نظر میں کوئی بھی انسان کمتر نہیں ہے۔ ہم انسان ایک مکھی کے پر جتنا بھی کچھ پیدا نہیں کرسکتے لیکن اللہ کی پیدا کردہ مخلوق کا مذاق اڑاتے ہیں
کچھ پڑھے لکھے لوگ بھی ایسا کام کر رہے ہوتے ہیں۔
میری ان سب سے درخواست ہے جو لوگ اپنے سے زیادہ دوسروں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ چھوٹے کام کرنے والوں کو حقیر سمجھتے ہیں ان سب کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں کہ وہ خود کو نا شکرا بنا لیں۔
کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی،
اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کو برابر سمجھنے اور مساوی سلوک کرنے والا بنادیں۔
آمین ثمہ آمین
حصّولِ عزت ایک آزمائش تحریر: یاسر خان بلوچ
عزت زلت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وتعز من تشاء و تزل من تشاء بیدک الخیر کا مالک شہنشاہ مطلق کی ذات ہے۔ لوگ پیسوں کے ساتھ اپنی عزت اور معیار بنانے کی کوشش کرتے آئے ہیں، عزت کیلئے سیاست کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اور اپنا سٹیٹس بڑا شو کرنے کیلئے بڑے بڑے رشتوں کا سہارا لیتے ہیں، عزت کیلئے اپنے سے بڑے رُتبے والے سے دوستی رکھتے ہیں۔ عزت کیلئے انتھک محنت رات دن ایک کر لیتے ہیں صبح شام دوڑ لگی ہوتی ہے۔
یہاں جس کی ایک لاکھ مہینہ کی آمدن ہو وہ سمجھتا کے میں سب سے زیادہ معتبر شخص ہوں مجھے عزت دی جائے میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔ کسی کو کرسی مل جائے وہ سمجھتا کہ عزت مل گئی، اچھی نوکری مل جائے سمجھتا عزت مل گئی، کالا دھندہ چلنے لگ جائے سمجھتے ہے کہ اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا۔ نادان سمجھتا ہے جتنی بڑی کوٹھی ہو گی، جتنے زیادہ نوکر چاکر ہوں گے اتنی زیادہ عزت ہو گی پتہ نہیں ہم لوگوں نے عزت کو کیا سمجھا ہوا ہے؟
دراصل عزت میں عزت ملے گی جتنی عزت کرو گے اتنی عزت ملے گی تمہیں سب سے پہلے عزت کا حق ادا کرنا ہے رب العزت کا پھر رب کے نبی کی عزت کا پھر مومنین کی عزت کا خدا اور اس کے رسول کی آمد کا رسول کے صحابہ کی عزت کرنے کا اگر تم ان سب کی عزت کا حق ادا کر لیتے تو پھر یقین رکھ اپنے رب کریم پر وہ کبھی بھی تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ اور اگر تو ان کا حق ادا نہیں کرتا اور بڑی کوٹھی بڑے رتبے اور زیادہ پیسے کے حصول کیلئے دوڑ لگائے گا اور ان کی عزت نہیں کرے گ جن کی عزت تم پر فرض ہے تو یہ بات جان لے کہ وہ ذات تجھے تیرے گھر میں بے عزت کر کے چھوڑے گا۔
یہاں ہم سب آزمائش میں ہیں۔ اللہ آزمائش کرتا ہے مال و اولاد دے کر، علم دے کر، حسن دے کر، بھوک دے کر، نوکری دے کر، دُکھ دے کر، سکھ دے کر ہر حال میں آزمائشیں ہیں۔ عزت ذلت کے فیصلے موت کے وقت ہوتے ہیں یا پھر آخرت میں ہوں گے۔
یہاں پر کوئی آدمی یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا کہ میں معزز ہوں عزت والا ہوں تو پھر عزت دار بننے کے جھوٹے خواب کیوں دیکھتا ہے؟
موت کو جتنا زیادہ یاد رکھو گے اتنے زیادہ ذرائع عزت کے رب عطاء کرے گا۔اللہ تیری وہاں سے عزت بنائیں گے جہاں تک تیری سوچ بھی نہیں ہوگی، تیرا وہ مقام ہو گا جس کے تم مستحق ہو گے۔
اگر ہمیں عزت دار بننا ہے تو ہمیں قرآن مجید اور سیرت مصطفیٰ کو سامنے رکھ کر خود کو دیکھنا چاہیے۔ہمیں اپنے گریبان میں دیکھنا ہو گا کہ معزز کس طرح ہوتا ہے اور ہم کیا ہیں۔ ہمیں قرآن مجید اور سیرت محمد مصطفیٰ کو آئینہ بنا کر دیکھنا ہو گا۔ اور انہیں کے بتائے ہوئے راستے پر ہی تو ہم عزت حاصل کر سکتے ہیں۔
@YasirKhanblouch

کبالہ لیا ہے؟ تلخ حقیقت، تحریر: عفیفہ راؤ
کبالہ لیا ہے؟ کبالہ دراصل بابل کی تہذیب کاعلم ہے جو مخصوص اعداد شمار اور علامات کے ذریعے کیا جاتا تھا جسےعام طور پر کالا جادو یا Black magicبھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا باہرسے تو بہت رنگین، حسین اور خوبصورت نظر آتی ہیں لیکن اندر سے بہت ہی گھناونی ہوتی ہے۔ اس میں بہت سے راز چھپے ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اس دنیا کا حصہ ہوتے ہیں وہ یہ راز چھپانے کے لئے ہر حد تک چلے جاتے ہیں اس کے لئے چاہے ان کو کسی ایک یا پھر بہت سے انسانوں کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے۔ ان طاقتور لوگوں کے چمکتے دمکتے چہروں کے پیچھے بدنما، درندے اور دہشت ناک کردار موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطانی پیروکار ہیں اور مٹھی بھر ہونے کے باوجود دنیا کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ دراصل یہ کبالہ نامی جادو شیطانیت اور سفلیات سے متعلق ہے جس میں مختلف نشہ آور چیزوں، جادوئی عملیات اورHypnotismکے ذریعے دماغ اور اس کی سوچوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبالہ جادو کو جادوئی دنیا کا سب سے خطرناک جادو کہا جاتا ہے اس کے ذریعےAluminatiجو کہ دنیا کا ایک فیصد ہیں شیطان سے براہ راست ہمکلام ہوتے ہیں اور شیطان انہیں دنیا کو گمراہ کرنے اور اس پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سمجھاتا ہے جس کو اپنا کر یہ لوگ دولت شہرت اور حکمرانی کے خواب کو پہلے ہی پورا کر چکے ہیں۔
کبالہ صرف ایک خطرناک جادو ہی نہیں ہے بلکہ یہ جادو کی قدیم ترین شکل میں سے ایک ہے۔ اور اس کے تانے بانے بنی اسرائیل تک سے ملتے ہیں جو شیطانی طاقتوں اور عملیات پر یقین رکھنے اور ان پر عمل کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا اور آپ ہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے جو موجودہ فلسطین میں آباد تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے اور اللہ کے پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام جن کا قصہ یقینا ہر مسلمان جانتا ہے کہ کیسے حسد کی بناء پر ان کے سوتیلے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا تھا لیکن اللہ پاک نے آپ کو مصر کی حکمرانی عطا فرمائی، آپ نے اپنے تمام رشتہ داروں یعنی بنی اسرائیل کو فلسطین سے مصر بلوا لیا اور یہ لوگ یہاں آکے آباد ہونے لگے۔
مصر میں ان دنوں جادو میں عروج کمال پر تھا یہاں لوگ کبالہ نامی جادو اور سفلیاتی علم کے ذریعے ہر ناممکن اور ناقابل یقین کام کو سرانجام دیا کرتے تھے مثال کے طور پر سامری نامی جادوگر جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ان کے مقابلے کے لیئے فرعون کے کہنے پہ بلوائے گئے تھے وہ اسی کبالہ جادو کا سہارا لیا کرتے تھے۔اس دور کے مصری بادشاہوں کو فرعون کا لقب دیا جاتا تھا اس وقت کے جادوگر فرعون کو کبالہ نامی کالے جادو کے ذریعے سے شیطان سے رابطہ کر کے دنیا پر حکمرانی کرنے کے نت نئے حربے سکھاتے اور ایسی ایسی ایجادات کرواتے جن کو ابھی تک سائنس سمیت انسانی عقل حیرت سے تک رہی ہے انہی ایجادات میں ایک احرام مصر بھی شامل ہیں، نمرود کے دور کی عجیب ایجادات بھی انہیں میں سے ایک ہیں۔ لیکن ایک وقت آیا کہ حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ وہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کر جائیں۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمندر کے راستے نجات دلوا کر مصر سے نکل گئے جہاں فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اور موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دوبارہ سے فلسطین میں آباد ہو گئے۔لیکن اس دوران بنی اسرائیل قوم فرعونوں میں رہتے ہوئے غرور و تکبر، ماہر جادوگروں کا علم اور دنیا پر حکمرانی کے حربے سیکھ چکی تھی یعنی ان میں فرعونوں جیسی تمام درندگی والی صفات پیدا ہو چکی تھیں۔ فلسطین آکر بنی اسرائیل رفتہ رفتہ سرکش اور نافرمان بن گئی اور مصری جادوگروں سے سیکھے گئے کبالہ عملیات اور جادو کو اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کرنے لگیں۔بنی اسرائیل نے جادو میں مصری جادوگروں سے بھی زیادہ مہارت حاصل کر لی اور اسے اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور آیا۔ اللہ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان سلطنت کے علاوہ جنات پر حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کے یہودیوں نے لوگوں کو ورغلانہ اور بہکانہ شروع کر دیا اور انہیں بتایا کہ نعوذباللہ سلیمان علیہ السلام کے پاس کبالہ کی ہی حکمت موجود تھی جس کے ذریعے آپ جنات کو کنٹرول کرتے تھے لہذا لوگوں نے بنی اسرائیل کے ان یہودیوں کی باتوں میں آکر کبالہ جادو کو روحانیت کے طور پر سیکھنا شروع کر دیا یہاں تک کہ جادو کی کتابوں کو مقدس کتابوں کا درجہ دے کر ہیکل سلیمانی میں رکھ دیا گیا ۔مسلسل اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے اس قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور ہیکل سلیمانی پر دو مرتبہ حملہ ہوا۔ پہلا حملہ بخت نصر اور دوسرا حملہ ٹائٹس نامی بادشاہ نے کیا اور ہیکل سلیمانی کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا اور یہاں موجود بنی اسرائیل کو قتل کیا جانے لگا تقریبا ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا بچے کچے یہودی مجبورا ہجرت کر کے پورے کرہ ارض پر پھیل گئے۔ ہیکل سلیمانی پہ حملے کے دوران جادو کی سب کتابیں ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے ہی دب کر رہ گئی جب کہ حملہ آوروں کو خبر تک نہ تھی کہ کبالہ نامی جادو کیا چیز ہے۔
لیکن پھرگیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں ان بچے کچے یہودیوں نے مل کر ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نامknight templars رکھا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد بظاہر عیسائی مسافروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا یعنی بظاہر یہ ایک سیکورٹی کمپنی بنائی گئی تھی مگر درحقیقت ان کا مقصد ہیکل سلیمانی کے ملبے تلے موجود جادوئی کتابوں کو تلاش کرنا تھا جن کے یہ لوگ کبھی طالب علم رہے تھے اور یہ نہایت شاطرانہ انداز سے اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ کیونکہ 1860عیسوی میں برطانیہ کے دو انجنیرز نے حرم شریف کے نیچے کھدائی کی تاکہ کچھ سروے کر سکے تو وہاں انہیں سرنگوں کا ایک جال نظر آیا جو انknight templarsنے کھودیں تھیں تاکہ ہیکل کے کھنڈرات سے وہ نایاب جادوئی کتابیں ڈھونڈ سکیں۔ وہ یہ نایاب اور جادوئی اثرات والی کتابیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جن میں کالے جادو اور پر اسرار رسومات کا تمام علم تھا۔ ان سب کتابوں کو حاصل کر کے ان کی غیر معمولی طاقتوں کا فائدہ اٹھا کر دنیا پہ حکمرانی کرنا انknight templars کا مقصد تھا۔ یہ لوگ عیسائیوں کے ساتھ مل کر صلیبی جنگوں میں بھی شامل ہوتے رہے اور خود کو انہی کا حصہ یعنی عیسائی ظاہر کر کے دنیا پہ حکمرانی کے خواب دیکھتے رہے مگر سلطان صلاح الدّین ایوبی جیسے مسلم حکمران کے ہوتے ہوئے ان کے یہ ناپاک عزائم کامیاب نہ ہو سکے۔ چنانچہ جب عیسائیوں کو ان knight templars کے یہودی ہونے کا پتہ چلا تو انہیں قتل کرنا شروع کر دیا گیا جس کے بعد مجبور ہو کر یہknight templars سکاٹ لینڈ ہجرت کر گئے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں سے اپنا اثر و رسوخ پورے برطانیہ تک پھیلا دیا۔ یہاں سکاٹ لینڈ میں انknight templars کے یہودیوں نے لوگوں کو طاقت اور دولت کے سہانے خواب دکھانے شروع کر دیئے کیونکہ وہ لوگوں پر حکمرانی کرنے اور لوگوں کے نفسیات سے کھیلنے کے تمام تر حربے جان چکے تھے یوں آہستہ آہستہ لوگ دولت اور ان کی سوچ کا شکار ہو کر ان میں شامل ہوتے گئے کیونکہ انسان فطری طور پر دولت اور طاقت ہی چاہتا ہے اور یوں یہ تنظیم تیزی سے پھیلنے لگی یہاں تک کہ اسے 1128 میں مذہبی تنظیم تسلیم کر لیا گیا جس کے نتیجے میں اسknight templarsنامی تنظیم کو تمام یورپی قوانین سے استثنی حاصل ہو گیا اور یہی چیز ان کے طاقت میں اضافے کا باعث بنی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت جلد ہی یہ لوگ دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہونا شروع ہو گئے یہاں تک کہ جائیدادیں، قلعوں، جاگیروں اور دنیا بھر کے وسائل پر قبضہ کرنے لگے۔یہ تنظیم دنیا بھر کے تربیت یافتہ اور تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ہو گئی اس تنظیم کا سربراہ Grand masterکہلاتا ہے اور ان کے نائب ماسٹر کہلاتے ہیں۔ گرانڈ ماسٹر کا حکم ان کے لیئے خدا کا درجہ رکھتا ہے۔ اس زمانے میں لوگ بیرون ممالک سفر کرنے سے گھبراتے تھے کیونکہ راستے میں ڈاکووں کا خدشہ رہتا تھا انknight templarsنے تھوڑی سی فِیس کے بدلے لوگوں کی نقدی اور رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا شروع کر دیا اور سود لینا شروع کر دیا اسی سسٹم کے ذریعے آگے چل کر بینک کا نظام متعارف کروایا گیا۔ بعد میں یہی یہودیknight templarsیورپ میں پہلے سے موجود ایک تنظیم میسن گِلز میں شامل ہوگئے اور یہاں کبالہ جادو کے رسومات اور علامات متعارف کروانا شروع کر دیئے۔ کچھ عرصہ بعد میں انknight templarsیہودیوں نےMeson gillsکے ہی اراکین میں سے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر اپنا نام بدل کرFree meson رکھ لیا اور یوںFree meson نامی تنظیم وجود میں آئی جس کا مقصد پوری دنیا میں آذاد خیالی اور دین سے بیزارگی کو فروغ دینا تھا انسان کے اندر جنس پرستی اور مادی خیالات کو پروان چڑھانا تھا۔چنانچہ اسی چیز کو آگے بڑھاتے ہوئے اس تنظیم نے یورپ میں جنگوں کو بڑھایا اور سودی کاروبار یعنی بینکنگ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف وغیرہ بنا کر دنیا کی معیشت کنٹرول کرنے کا طریقہ متعارف کروایا۔ کیونکہ پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کا واحد طریقہ اس کی معیشت کو کنٹرول کرنا ہے۔ ان تنظیموں نے ایک تیر سے دو شکار کر کے مغرب میں جنگ کروا کر مذاہب خاص طور پر مسلمانوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر مذہبی بیزارگی کو فروغ دیا اور دوسری طرف ان دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیئے اپنے ہتھیار بھیج کر اربوں پتی بن گئے۔سترہ سو چھہتر میں اسFree meson نے مل کر ایک نئی تنظیم
Aluminati قائم کی،Aluminati کے نظریات اور مقاصدFree meson کے جیسے ہی تھے۔ لفظAluminati کا مطلب علم کی روشنی سے معمور ہے۔ سبAluminati خود کو دنیا کے علم میں خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ ان کے سبplans خفیہ رہتے ہیں کیونکہ یہ مانتے ہیں کہ جو علم ان کے پاس ہے وہ عام انسانوں کے پاس نہیں ہونا چاہیئے اسی لیئے ان کا دین ان کا ایمان ان کا جینا مرنا سب ہیAluminati ہے۔بائیبل میں ابلیس کا نام لوسیفر بتایا گیا ہے جس کا مطلب ہے روشنی کا علمبردار۔ دراصل شیطان کو لوسیفر تب کی بناء پہ کہا گیا ہے جب وہ اللہ کا فرمانبردار ہوا کرتا تھا لیکن یہ تنظیمیں آج بھی شیطان کو اچھا مانتی ہیں اس لیئے وہ شیطان کو لوسیفر ہی کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ لوسیفر ہر چیز کا منبہ ہے خاص طور پہ ساری روشنی اور سارے علوم کا۔ Albert pikeجوکہFree mesons کے فاونڈرز میں سے ایک تھا وہ ایک 33 ڈگری Free mesonتھا جیسے ہمارے ہاں درجہ بدرجہ اولیاء اللہ اور تقوی کے لحاظ سے بڑی بڑی ہستیاں ہوتی ہیں بالکل اسی طرح ان کے ہاں بھی بتدریج ابلیس کے پجاری ہوتے ہیں جس میں سب سے بڑا درجہ 33 ڈگری کا ہے۔Albert pike کی کتابMorlis and Dogmaآج بھی
Free mesonکے سٹوڈنٹس کو رہنمائی کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ اس کتاب کے کچھ کلمات آپ سے شیئر کرتا چلوں جہاںAlbert Pike لکھتا ہے۔کوئی شک نہیں یہ Lusipher ہی ہے جس کے پاس تمام انوار ہیں تمام روشنیاں ہیں۔ اسی لیئے یہ تمام لوگ کوCurrent bulletسے تشبیہ دیتے ہیں اور اکثر جسم کے مختلف اعضاءپر کرنٹ کے نشان نماTattosبنوا کر پھرتے ہیں۔کہا جاتا ہے دنیا کی مکمل آبادی میں سے صرف ایک فیصد Aluminati ہے جو کہ دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں اور یہ تیرہ Blood lines یعنی خاندان ہیں جو نسل درنسل شیطان کی پوجا کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ لوگ کسی کو بھی اپنی خفیہ تنظیم میں شامل نہیں کرتے ہاں مہرہ بنا کے اپنی انگلیوں پہ ضرور نچاتے ہیں یعنی جو لوگ مشہور ہونا چاہتے ہیں یا پیسہ کمانا چاہتے ہیں وہ شیطان سے سودہ کر کے اسے اپنی روح بیچ دیتے ہیں اور ہمیشہAluminati کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں پھر وہ جیسا کرنے کو بولتے ہیں انہیں ویسا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی ممبرAluminati
کے کسی قانون اور رول کی خلاف ورزی کرے تو اسے عبرتناک طریقے سے مار دیا جاتا ہے۔Aluminatiکی تیرہ نسلوں میں ایک خاندانDavid Philipکا ہے جبکہ ایک خاندانRothus Childکا ہے یہ دونوں خاندان پوری دنیا کےFinancial systemاورامریکہ کےFederal Reserves bankکے مالک ہیں ، یہ لوگ80سے 90فیصد کنٹرول دنیا پہ حاصل کرچکے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر اچھے اچھے کام کرتے ہیں انسان کی آسائش اور آسانی کے لیئے طرح طرح کے فلاحی کام کر کے لوگوں کی ہمدردی اور ان کا بھروسہ جیتتے ہیں لیکن پس پردہ ان کے مقاصد شیطانیت کوPromoteکرنا ہوتا ہے۔ ان کا طریقہ کار یہی ہے کہ اپنی فیلڈ کی مشہور شخصیات کو اپنے دائرے میں ایک حد تک شامل کرتے ہیں یا پھر اپنے ہی لوگوں کو عوام کے درمیان مشہور کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔ چاہے وہ سیاست کا میدان ہو یا فلموں کی دنیا وغیرہ ہو یہ اپنے اداکاری کے جوہر دکھا دکھا کر لوگوں کےFavouriteہیرو اور سیاست دان بن جاتے ہیں لوگ انہیں اپنا مسیحہ اپنا آئیڈیل سمجھ کر ان کے چال چلن کو فالو کرنے لگ جاتے ہیں انہیں سپورٹ کرنے لگتے ہیں اور جب انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ شکار جال میں پھنس چکا ہے تب بہت ہی غیر محسوس انداز میں ان کیMind programming کرکے شیطانیت کو پروموٹ کرنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک پرانا طریقہ تھا اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ نوجوان نسل کو ٹارگٹ کرنے کے لئے ان کو پارٹیز میں بلواتے ہیں نشہ کی لت لگاتے ہیں اور ان پر فل کنٹرول حاصل کرکے ان سے اپنے مقاصد پورے کرواتے ہیں۔ جو نوجوان ان کو اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتے ہیں ان کو مار دیا جاتا ہے ساتھ ہی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس گروہ کے سینئر لوگ مزید طاقت حاصل کرنے اور شیطان جس کی یہ پوجا کرتے ہیں اس کو خوش کرنے کے جنون میں اپنے ہی جونئیر پیروکاروں کی بھی بلی چڑھاتے ہیں۔ یہ کس طرح کی عبادات اور عملیات کرتے ہیں اس کے بارے میں آئندہ آنے والے کالم میں بات کی جائے گی۔
عزت نفس کا مقدمہ. تحریر:صائمہ مشتاق
ملک پاکستان کی فلاحی ساکھ اقوام عالم میں مثالی ہے۔یہاں انسانی خدمت پر معمور شخضیات نے نہ صرف عالم کو متحیر کیا بلکہ اُن کے دستیاب وسائل بھی اُن پر حیرت زدہ ہوئے۔اُن کے پاس زادِ راہ صرف سچا اور خالص انسانی خدمت کا جذبہ تھا۔گلی محلے کے نامعلوم افرادمینارِ فلاح بنے۔جذبے کی سچائی اور خدمت کے تسلسل نے انہیں فلاحی یونیورسٹی بنا دیا۔ اقوام عالم متوجہ ہوئیں اور انہیں عالمی اعزازات سے فخر مند کیا اُن کی خدمات کی تصدیق کی۔پاکستان کے امامِِ فلاح کے ابتدائی فلاحی دور کو پڑھا جائے تو انسانی بے توقیری اور الزامات کی عجب داستانیں فلاحی منظر نامے میں بکھری پڑی ہیں۔فلاح کا راستہ چننے اور انسانیت کی خدمت کے لیئے اپنے آپ کو وقف کرنے والوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے یا اُن کی خدمات کا احاطہ کیا جائے تو اُن کے آغاز سفر میں لا حق مسائل کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اُن کو پیش آنے والی مشکلات کا ادراک ہو سکتا ہے۔اُن پر لگائے جانے والے الزامات حاسدوں کے حملے قیاس آرائیاں کرپشن کی متحیر کرتی کہانیاں منفی پراپوگنڈہ جیسے تکلیف دہ رویوں کے درمیان اُنہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔خبر نہیں کہ ایسا ماحول اور ایسے رویے اُن کو اذیت دیتے تھے یا نہیں۔وہ مایوسی کا شکار ہوئے یا نہیں۔اُن کے قدم ڈگمگائے یا نہیں۔وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے یا نہیں۔ لیکن اُن کی کامیابیاں کہہ رہی ہیں کہ کسی بھی منزل پر پہنچنے کے لئے وسائل کی عدم دستیابی راہ میں حائل مسائل اور غیر متوقع مشکلات تو منزل تک پہنچنے کے سنگ میل ہوا کرتے ہیں۔جنہیں کامیابی کی منزل کے مسافروں کو یقیناًسامنا کرنا پڑتا ہے۔مسائل و مشکلات میں سے راستہ بناتے ہوئے اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ وہ غلطیوں اور خامیوں کو ماننے اور اُن سے سیکھنے والے ہوتے ہیں۔ستائش سے بے نیاز ہوکر کسی اجر کی توقع کے بغیر لمبا عرصہ گمنامی اور بے توقیری کے دائرے میں رہتے ہوئے محو سفر رہتے ہیں
کسی بھی انسان کو رویے مزاج اور مشکلات متاثر اوردکھی ضرورکر تی ہیں لیکن شاید وہ انہیں مشن کی تکمیل خدمت کی منزل کے حصول کے ٹولز بنا لیتے ہیں۔ شاید وہ مشکلات مسائل اور وسائل سے زیادہ اپنے مشن کو بڑا سمجھنے والے ہوتے ہیں۔وسائل کی عدم دستیابی کو اپنے سفر کو روکنے کا جواز نہیں بناتے۔وہ تو بے نامی کو ناموری دینے والے ہوتے ہیں۔ایک وقت آتا ہے جب وہ مشرق سے طلوع ہونے والے سورج کی طرح اپنی روشنی بکھیرنا شروع کرتے ہیں تو وہ انسانیت کی خدمت سے پہچانے جانے لگتے ہیں پھر انکی خدمت کا تسلسل انہیں گمنامی کی سیاہ رات سے پہچان کے آسمان کا روشن ستارہ بنا دیتا ہے۔خدمت کے وکٹری سٹینڈپر کھڑے یہ سارے فخراور تمام اعزازا ت حاصل کرنے والوں کا مشاہدہ کیا جائے تو مجھے خالی چراغوں سے آغاز سفر کرنے والوں کے ساتھ وہ لاتعداد گمنا م مالیاتی فلاح کرنے والے بلند قامت نظر آتے ہیں جنہوں نے فلاحی چراغوں میں مالیاتی تیل ڈال کر چراغوں کو نہ صرف روشنی عطا کی بلکہ اس روشنی کے تسلسل کوقا ئم رکھنے میں بھی معاون و مددگار رہے۔اس سلسلے میں اورسیز پاکستانیوں کا بھی تاریخ ساز مثالی اور متاثر کن ریکارڈ ہے۔انہی کے تعاون سے فلاح کے دیئے روشن ہیں۔یہی لوگ فلاحی دنیا کے برجِ ِفلاح ہیں۔انہی کے دم سے پاکستان کو دنیا بھر میں چیرٹی کو فنڈنگ کرنے والے ملک کا اعزاز حاصل ہوا۔پاکستان نے صحت،تعلیم اور دیگر فلاحی شعبوں میں دنیا کو متوجہ کیا۔فلاح کو کامیابی کا راستہ دینے سسکتی اور وسائل سے محروم طبقات کی خدمت دراصل مالیاتی خدمت سے جڑی ہوئی ہے۔مستقبل کے فلاحی پراجیکٹ کی پلانگ کرنے والے بھی اِسی طبقہ کے تعاون کے یقین پر ہی اپنے پراجیکٹ ڈیزائین کرتے ہیں۔پاکستان کی فلاحی اور عطیات دینے والی تاریخ مسلسل لکھی جا رہی ہے اس میں بڑ ی قد آور فلاحی شخصیات،ادارے اور عطیات دینے والوں کے کردار کی درجہ بندی ہو رہی ہے۔پاکستان میں روشنی بکھیرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض فلاحی منصوبے شخصی کمزوریوں اور خامیوں سے یا کسی فلاحی ادارے کی انتظامی غلطیوں سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے ہوں لیکن کوئی فلاحی منصوبہ اس وجہ سے نہیں رُکا کہ اُسے مالی معاونت حاصل نہیں ہو سکی۔پاکستان میں عام ڈونر کے علاوہ کارپوریٹ ڈونرز کا فلاحی سیکٹر میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔فلاحی شعبہ اب کراوڈ فنڈ ریزنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئی ٹی اوردیگر ٹیکنالوجیز فلاحی مشکلات کو آسان بنا رہی ہیں۔زکاۃ اور صدقات میں مذہبی وابستگی والے افراد شاید آگے ہوں لیکن میرا ذاتی مشاہدہ ہے ہو سکتا ہے صیح نہ ہو۔ جو لوگ اپنے آپ کو کسی وجہ سے خطا کارمان کر اور اپنی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنے خالق و مالک سے معافی کی طلب میں انسانی فلاح کے لئے مالی معاونت کفارے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اُس کو راضی کرنے کی جستجو رکھتے ہیں۔اُن کے پاس نیکیوں کا تکبر تو نہیں ہوتالیکن معافی مانگنے اور اللہ کو راضی کرنے کی آپشن ہر وقت موجود رہتی ہے۔اللہ کی مخلوق کو وسیلہ بنا کر اُسے راضی کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔اُس کی دکھی اور مسائل زدہ مخلوق جب اپنے خالق کو دعا کی مس کال بھیجتی ہے تو مالک کسی کے دل میں مدد کا خیال ڈال کر مس کال کرنے والے پر کرم فرماتاہے۔وۂ شخص کس قدر ا فضل و معتبر ہوگا جس کے ذمے فطرت ڈیوٹی لگاتی ہے کہ میرے فلاں بندے کی دعا کی مس کال آئی ہے اس کے پاس پہنچو۔
اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس کے کتنے گناہ معاف ہوتے ہوں گے، کتنے درجات بلند ہوتے ہوں گے اور وہ مالک و خالق اُس سے کتنی جلدی راضی ہو جاتا ہوگا۔فطرت کے خود کار نظام نے خالق کی خلق کردہ کائناتوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ایک دفعہ ایک صحافی جوکہ دل کے عارضے میں مبتلا تھا ایمرجنسی کی حالت میں علاج کے لئے مالی مشکلات کی پوسٹ لگائی جس پر میں نے بھی مقامی سیاست دانوں کو متوجہ کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کی کچھ ہی دیر بعد بہت سارے احباب رابطے میں آگئے۔ایک نیک دل اورسیز پاکستانی نے رابطے میں آکر میرا اکاونٹ نمبر مانگا تو میں نے کہا کہ ضرورت مند کو رقم پہنچے میں دیر نہ ہو جائے اس لئے مریض کا اکاونٹ نمبر لے کر بھیجتا ہوں۔ اُس انسان دوست نے انتہائی مستعدی سے معقول رقم مریض کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دی۔چکوال، لاوہ اور تلہ گنگ کے اورسیز پاکستانیوں نے بھی خوب حق ادا کیا لیکن ضرورت مند کی ضرورت پوری ہو گئی تھی باقی احباب کا شکریہ ادا کیا۔ذاتی دُکھی اسٹوری کو پبلک کرتے ہوئے مجھے بڑاعجیب لگ رہا ہے لیکن مجبوری ہے کہ یہی دُ کھی اسٹوری پراجیکٹ کی بنیادبن رہی ہے۔1995 سے دونوں آنکھیں کالے موتیے سے متاثر ہیں کچھ عرصہ کے بعدنظر کی عینک تجویز ہوگئی پھر ایک آنکھ کی نظر بالکل ختم ہوگئی۔ڈاکٹر سے آنکھ تبدیل کرنے کے متعلق مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ سسٹم ہی ختم ہو گیا ہے اس لئے اب آنکھ تبدیل نہیں ہو سکتی کچھ عرصہ بعد دوسری آنکھ میں کالا موتیا ہونے کی وجہ سے اپریشن ہوا اور اب اس پر ہی زندگی کا انحصار ہے۔کافی عرصہ سے معمول کی مصروفیات میں تبدیلی آگئی ہے میں ڈرائیونگ نہیں کر سکتا، رات کو روشنی پھیل جاتی ہے سا منے سے آنے والی ٹریفک کے فاصلے کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔پیدل چلنے سے دائیں آنکھ میں نظر نہ ہونے کی وجہ سے دائیں طرف نظر نہیں آتا تو عموما ًکسی پیدل چلنے والے سے ٹکر لگ جاتی ہے کئی دفعہ موٹر سائیکلوں سے ٹکرا چکا ہوں اس لئے گھر تک ہی محدود رہتاہوں۔نہ جانے کب زندگی سفید چھڑی کی محتاج ہو جائے،پھر کسی اور کی آنکھوں سے راستہ دیکھنا پڑے۔کئی سالوں سے یکسانیت اور بے مقصد زندگی گزارتے گزارتے ایک دن میرے ذہن میں خیال آیا کہ جو بھی مہلت میسر ہے کیوں نہ اُ سے بامقصد بنایا جائے اور کوئی ایسا کام کیا جائے جو انسانی بھلائی کے لئے ہو تو میرے ذہن میں آنکھوں کے فری ہسپتال بنانے کا خیال آیا یہ جو خیال ہو تا ہے اُسے بھی یقیناً کوئی بھیجتا ہے۔میں نے کئی ماہ اس پر غور کیا اور بالاخر میر ے انفرادی فیصلے کو میرے دل اور دماغ نے قبول کرلیا۔انسان کی زندگی خوابوں سے جڑی ہوتی ہے اور ان خوابوں کی تعبیر کا حصول ہی در حقیقت اس کے سینے میں موجود دل کی دھڑکنوں کوقائم رکھتا ہے۔جب تک خواہش ہوتی ہے انسان اس خواہش کے حصول کے لئے خود کو متحرک رکھتا ہے اور جب خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں تو جسم زند ہ رہتا ہے لیکن زندگی دم توڑجاتی ہے۔خواہش کا موجود رہنا زندگی کی علامت ہوتی ہے۔خواہش امید سے جڑی ہوتی ہے اور امید یقین قائم رکھتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ خواہشوں کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔کبھی کوئی اہرا م ِمصر بنانے کی خواہش کرتا ہے اور کبھی کوئی تاج محل تعمیر کرنے کا سوچتا ہے۔کوئی یونیورسٹی بنانے کا ارادہ رکھتاہے۔خواہش ہی ہولی فیملی،گلاب دیوی ہسپتال بنواتی ہے۔خواہشیں روپ بدل لیتی ہیں صدقہ جاریہ کی خواہش۔
دکھی انسانیت کے لئے آسانیاں بانٹنے کی خواہش۔ایمان سلامتی کی خواہش۔آنکھوں کے خواب تعبیر مانگتے ہیں۔آنکھوں میں خوابوں کی ہریالی نہ ہو تو زندگی صحراکی ریت ہو جاتی ہے۔دل اجڑ جاتے ہیں اور پھر دماغ سوچنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔خواہشیں،آرزوئیں اور تمنائیں زندگی کو حرارت بخشتی ہیں ان کا قابل عمل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔خواہشوں اور خوابوں کے رک جانے سے نہ صرف زندگی رکتی ہے بلکہ کائنات تھم جاتی ہے۔25بیڈ کے آنکھوں کے جدید چیرٹی ہسپتال پراجیکٹ کے ابتدائی مرحلے میں 15 سے20 کنال زمین کا عطیہ، دوسرے فیز میں ہسپتال کی بلڈنگ کی تعمیر اورا ٓخری فیز میں مشینری، آلا ت کی ضرورت ہوگی۔سمیڈا کی2016 کی فزیبیلٹی 23 کروڑ روپے کی تھی جس میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔اس پراجیکٹ سے سالانہ 27300 مریض مستفید ہوسکتے ہیں۔160 سے 200 افراد کو ملازمت کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔کسی عوامی بھلائی کے نیک مقصد منصوبے کے لئے کسی سے مالی معاونت کے حصول میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کی جاتی اور نہ ہی کرنی چاہئے۔لیکن میرے ساتھ ایک المیہ ہے کہ میں اپنے دیئے ہوئے پیسے بھی نہیں مانگ سکتا۔اسی کمزوری کی وجہ سے ایک سال سے اس منصوبے کی امانت دل اور دماغ میں چھپائے پھرتا ہوں۔فیس بک پر میری فرینڈ لسٹ میں چکوال سے غفران عمر جو فیس بک پر پوسٹ کے ذریعے مالی امداد حاصل کرکے مستحقین کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔اب تک بقول اُن کے وۂ کروڑوں روپے کی امداد تقسیم کر چکے ہیں ایک دن انہوں نے پوسٹ لگائی کہ فلاحی کام کرنے والوں کو عزت نفس کا صدقہ کرنا پڑتا ہے۔ مجھے ان کی پوسٹ سے حوصلہ ملا اور میں اس حوصلے کے یقین پر عملی مرحلے کی طرف بڑھنے لگا ہوں۔مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ تصوراتی پراجیکٹ قابل عمل نہیں ہوتے شروع شروع میں ناممکن ہوتے ہیں لیکن ہو جانے کے یقنِ کامل،جہد مسلسل اور مخلص ٹیم سے قابل عمل ہو جاتے ہیں۔صاحبو!مجھے صرف یقین ہی نہیں کامل یقین ہے کہ جس کاساری کائنات پہ تسلط ہے،جو سارے نظام پرمحیط ہے ا ور جس سے سبب اسباب مانگتے پھرتے ہیں کیوں نہ کامیابی کی،برکت کی، وسائل کی د عا مانگ لی جائے، وۂ عطا کرنے والا ہے مانگنے سے راضی ہو جا تا ہے۔آپ احباب بھی کامیابی کی دعا کا صدقہ ضرور کریں۔اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کے لئے مجھے آپ کا ساتھ چاہیے ہوگا اور تسلسل کے ساتھ چاہیے ہوگا۔ اندھیرے کی لڑائی میں فتح مندی کا گُر امجد اسلام امجد نے بتا دیا ہے۔
اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے۔۔۔تمھاری دسترس میں جو دیا ہو وۂ جلا دو
ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت. تحریر:ام سلمیٰ
ڈیم پاکستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت. تحریر:ام سلمیٰ
حصہ اول
جہاں آئے روز آپ کو صرف بری خبر سننے کو مل رہی ہوتی ہیں وہاں کچھ اچھے کیے ہوئے کاموں کا ذکر بھی ہونا چائیے خاص کر ایسے کام جیسکا بنیادی مقصد سبسڈی دے کر صرف فوری حل دینا نہں بلکے نسلوں کے لیے کیا گیا کام ہو ایسا ہی ایک کام جو کے عمران خان صاحب کا توجہ کا مرکز ہے وہ ہے ڈیمز کی تعمیر جو کے ملک کو انتہائی اہم ضرورت ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے اہم مسئلوں کو سمجھا جائے اور ان مسائل کو جڑ سے ختم کیا جائے نہ کے وقتی طور پر سبسڈی دے کر اپنی واہ واہ کروا کر مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل نہ کیا جائے.عمران خان کی حکومت صاف اور سستی توانائی پیدا کرنے اور آئندہ نسلوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے نئے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دے رہی ہے۔
اس سلسلے میں داسو اور دیامر بھاشا ڈیموں سمیت مختلف چھوٹے اور بڑے ہائیڈل پاور پراجیکٹس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔
ماہرین پانی کے مطابق دیامر بھاشا اور داسو ڈیم پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے کیونکہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد تقریبا 5،000 5 ہزار میگاواٹ سستی بجلی دستیاب ہوگی۔سستی بجلی کا فائدہ صرف اس حد تک محدود نہں کے آپکا بجلی کہ بل کم ہوجائے گا اس کے فائدے کئی گنا ہیں.
داسو ڈیم کا پہلا مرحلہ 2025 تک مکمل ہو جائے گا انشاء اللہ جس سے نیشنل گرڈ میں 2160 میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی۔ یہ صلاحیت 2029 تک اپنے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ 4320 میگاواٹ تک بڑھ جائے گی۔
ایک پیغام میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کی حد عبور کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم بجلی کی پیداوار ، آبپاشی اور پینے کے مقاصد کے لیے پانی کو بچانے کے لیے نئے ڈیم تعمیر کریں۔یہ اس وقت ملک کی اشد ضرورت ہیں.دیکھا جائے تو پچھلی حکمران پارٹیوں نے ان ضرویات کو کبھی اس طرح سے سمجھنے اور ان پے کام کرنے کو نے فوقیت دی نہ اِنکی اہمیت کو کبھی سمجھا یہ ملک کی انتہائی اہم ضرورت ہے اور اس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی بہت مشکلات میں گھری ہوئی ہے.
دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان ہمیشہ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔اور یہ بات اس چیز کا بھی سبب بنی کے ہمیں عالمی موسمیاتی کانفرینس کی سربراہی ملی جو کے پاکستان کی علمی سطح پر بہت بڑی کامیابی تھی کیوں کے یہ وزیراعظم کا وژن ہے کہ ڈیموں کی تعمیر ہماری نسلوں کا مستقبل بچائے گی انشا اللہ اور یے بات سو فیصد درست بھی ہے۔
دریں اثنا ایک پیغام میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پوری دنیا صاف توانائی میں منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب ایک اور بڑا مسئلہ ہے جسے نئے ڈیموں کی تعمیر سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور اسکو حل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے ماہر ڈاکٹر افتخار احمد نے ایک پیغام میں کہا کہ توانائی کی پیداوار کے لیے جیواشم ایندھن کے استعمال سے بچنے کے لیے ڈیموں کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداوار سے ڈیم زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے کے لیے پانی کا انتظام کرنا ضروری ہے۔
اصل میں ہمارے ملک میں پچھلی حکومتوں میں کیے گئے انتظامات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو مد نظر نہں رکھا گیا جس کی وجہ سے پاکستان آج توانائی جیسے مسائل کا شکار ہے.موسمیاتی تبدیلی کے تجزیہ کار شفقت منیر نے ایک پیغام میں کہا کہ ہائیڈل منصوبے سستی بجلی پیدا کرتے ہیں جو کے ملک اس وقت اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا میں چھوٹے ڈیم مقامی علاقوں کو توانائی فراہم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا اور داسو ڈیم کئی دہائیوں سے زیر التوا تھے۔
Twitter handle
@aworrior888
نسبت کمال اللہ کی طرف تحریر: یاسر خان بلوچ
ذوالقرنین ایک ایسا حکمران تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے سلطنت حکومت اقتدار اور اسباب و وسائل کی فراوانی سے نوازا تھا ۔ آپ کے اقتدار اور سازوسامان کا رب تعالیٰ نے ان الفاظ میں تذکرہ فرمایا: ”ہم نے انہیں زمین پر اقتدار دیا اور ہر قسم کے وسائل مہیا کیے۔”
آپ مشرقی و مغربی ممالک کو فتح کرتے ہوئے ایک ایسے پہاڑی درّے پر پہنچے کہ جس کی دوسری طرف یاجوج اور ماجوج تھے وہاں کے لوگوں نے آپ سے ایک مطالبہ کیا ، جس کا ذکر رحمٰن نے یوں فرمایا: ” انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج و ماجوج اس سرزمین میں فساد کرنے والے ہیں تو کیا ہم تیری کچھ آمدنی طے کر دیں اس شرط پر کہ تو ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دے۔”
بادشاہ ذوالقرنین نفس پرست اور مال و دولت کا حریص نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کو ماننے والا اور آخرت پر ایمان رکھنے والا مومن شخص تھا۔ اس نے جواباً کہا:
"جن چیزوں میں میرے رب نے مجھے اقتدار بخشا ہے وہ بہت بہتر ہے، اس لیے تم قوت کے ساتھ میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک موٹی دیوار بنا دوں۔”
ذوالقرنین نے فوراً اپنی خدمات پیش کی اور تعمیراتی سامان مزدوروں سمیت طلب کیا اور فرمایا:
"تم میرے پاس لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کا درمیانی حصہ برابر کر دیا تو کہا: آگ تیز جلاؤ یہاں تک کہ اس نے اسے آگ بنا دیا تو کہا: لاؤ میرے پاس پگھلا ہوا تانبا میں اس کو اس پر انڈیل دوں۔”
جب گرم چادروں پر پگھلا ہوا تانبا ڈالا گیا تو وہ ایسا لمبا مضبوط بند بن گیا کہ یا جوج ماجوج اس کو پار کرنے یا اس میں نقب زنی کرنے سے عاجز آگئے۔ حد درجہ مضبوط اور لمبی چوڑی دیوار قائم کر دی اور اس عظیم کارنامے کو سر انجام دیکر اپنی زبان سے ایسا تاریخی جملہ کہا کہ ساری کوشش و محنت اور ہنر مندی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کر دی اور رب تعالیٰ نے اس پیارے جملے کا قرآن بنا کر حضرت محمدﷺ پر نازل فرمادیا۔
حضرت ذوالقرنین نے فرمایا:
"یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آگیا وہ اسے زمین کے برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ ہمیشہ سچا ہے۔”
سیدنا ذوالقرنین کے مثالی جواب سے تین باتیں سامنے آئیں۔
1۔ ہمین نیکی، اچھائی اور احسان کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اللہ نے ہمیں اس قدر مقام عطا فرمایا ہے کہ ہماری توجہ، سفارش یا راہ نمائی سے کسی غریب کا بھلا ہو سکتا تو ہمیں اول فرصت اس سے تعاون کر کے اپنا اللہ سے اجر لینا چاہیے۔ دوسری طرف کسی ساتھی، دوست یا قریبی کا کام کرنے سے پہلوتہی کرنا، جھوٹے وعدے دے کر اس کو پریشان کرنا یا کام کرنے کے لیے تکلفات کا مظاہرہ کرنا رشوت کا مطالبہ کرنا، ایسا کردار کسی دنیا دار جاہل کا تو ہو سکتا ہے با عمل مسلمان کا نہیں ہو سکتا۔
2۔نیکی کا کام سر انجام دیکر اپنی صلاحیتوں اور کارناموں کی داستان کھولنے کی بجائے، اس کو اللہ تعالیٰ کی توفیق کہ کر اسی کی طرف منسوب کر دینا چاہیے۔ اکثر دنیا دار تو درکنار دینی ذوق رکھنے والے معمولی سا کارنامہ انجام دے کر اترانا شروع کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے کام لے لے وہ شکر، تواضع اور نسبت الی اللہ کی بجائے فخرو غرور اور گھمنڈ کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ ایسا کرنا عمل ضائع کرنے کے برابر ہے۔اور آجکل یہ ٹرینڈ بنا ہوا ہے کہ کوئی بھی اگر کسی غریب کی مدد کر دے تو سیلفی کے بہانے اس کی تذلیل کی جاتی ہے۔
3۔اپنی مضبوط سے مضبوط بلڈنگ، کوٹھی اور بنگلے پر بھی نازاں نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عارضی جانتے ہوئے، توجہ آخرت کی طرف کرنی چاہیے۔ آج کل لوگ پانچ یا بیس مرلہ کی کوٹھی بنا کر فکر آخرت سے بلکل غافل ہو جاتے ہیں اور ان کی ساری توجہ مکان، کوٹھی اور دکان تک ہی محدود رہتی ہے۔
@YasirKhanblouch
مرنے کے بعد قیامت تک کا معاملہ. تحریر: محمد اسعد لعل
اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے ایک دن اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ جزا و سزا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔قرآنِ مجید ہمیں پیغمبری کی تاریخ کے بارے میں یہ بتاتا ہے کہ جس دن اس دنیا کی ابتداء ہوئی اسی دن سے پیغمبری کی بھی ابتداء ہو گئی۔ حضرت آدمؑ سے لے کر محمد ﷺ تک انبیاء کرام جزا و سزا کی منادی کرتے آئے ہیں، انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید نے یہ بتایا ہے کہ انبیاء کرام اس لیے بھیجے گئے تاکہ وہ لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اللہ کے عذاب اور گرفت سے ان کو خبردار کریں۔ انبیاء کرام نے جتنی بھی تفصیلات بیان کی ہیں وہ سب کی سب جزا و سزا ہی کا حصہ ہیں۔۔۔ اُس میں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان کا خلاصہ میں بیان کر دیتا ہوں۔
اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ لوگ ہیں کہ جن کا معاملہ بالکل صاف ہوتا ہے۔ وہ خدا کی ہدایت کو لپک کر قبول کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعبیر کے مطابق دین میں سبقت کے مقام پر کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں جیسے حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر اور دوسرے جلیل و قدر صحابہ ہیں یا خود انبیاء کرام ہیں۔ اسی طریقے سے قرآنِ مجید نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کی راہ میں جان دے دیتے ہیں، جن کو شہدا کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دی، دین کی دعوت دی گئی تو آگے بڑھ کر دعوت کو قبول کیا، پہلے ہی مرحلے میں اللہ کے پیغام کی تصدیق کر دی اور اس کے بعد زندگی بھر اپنے آپ کو خدا کے راستے پر رکھا۔ ۔۔ان کے لیے کسی حساب کتاب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بتایا ہے کہ جیسے ہی یہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ہماری نعمتیں ان کو ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
دوسرے وہ لوگ ہیں جو خدا کے مقابلے میں سرکش ہو گئے۔انہوں نے خدا اور خدا کے پیغمبروں کو چیلنج کر دیا۔ بڑی مثالوں میں جیسے فرعون ہے، ابو جہل ہے۔۔۔ اُن کے بارے میں بھی قرآنِ مجید میں بتا دیا گیا ہے کہ جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اُن کو صبح شام اُن کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح سے گویا ایک ذہنی نوعیت کا ٹورچر ہے جس میں وہ مبتلا کر دیے جاتے ہیں۔
تیسرے وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اچھے کام بھی کیے ہیں اور بُرے کام بھی۔۔۔ کوئی سرکشی نہیں کی، ندامت کا احساس بھی ہوتا ہے، ایمان بھی ہے اور خدا کی طرف رجوع بھی ہے۔۔۔تو ان لوگوں کا معاملہ اُٹھا رکھا جائے گا یہاں تک کے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حساب کتاب کر کے فیصلہ کریں گے اور بتائیں گے کہ یہ نیکو کار تھے، تو ان کے لیے ظاہر ہے ایک جزا ہے۔۔۔ اور اگر اس موقع پر ان کا پلڑا ہلکا ہوا تو ان کے لیے سزا ہے۔
یہ تین کیٹیگری قرآنِ مجید نے الگ الگ کر دی ہیں، جزا و سزا تو محشر کے روز ہی شروع ہو گی، لیکن اللہ کی نعمتیں ایک گروہ کے لیے اور اللہ کا عذاب ایک دوسرے گروہ کے لیے مرنے کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے، کیوں کہ ان کے حساب کتاب کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی ان کا معاملہ ہر لحاظ سے واضح ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں، اور روز محشر نیکوکار لوگوں کے ساتھ اُٹھائے جائیں۔۔۔آمین
Twitter ID:
@iamAsadLal

ڈالر اور حکومتی چورن تحریر : سیف الرحمان
دوستوپاکستان حاصل کرنے کا مقصد اگر دیکھا جائے تو اس حساب سے اس وقت ہم تقریبا الٹ چلتے نظر آ رہے ہیں۔ ہم نے انگریزوں اور ہندوں بظاہر آذادی حاصل تو کرلی لیکن ہمارے حکمرانوں آج بھی ہمیں ان کے تابع کر رکھا ہے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں باند کر آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کے آگے چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے تمام ٹیکس اور قیمتوں کا تعین امریکی کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم اس سیارے میں سب سے کم تر مخلوق ہیں۔ ہندوں آج بھی ہمیں ویسے ہی دیکھ رہا ہے جیسے ستر سال پہلے دیکھا کرتا تھا۔ انگریز آج بھی ہماری مجبوری سے فائدہ اٹھارہا ہے جیسا آذادی سے پہلے لیا کرتا تھا۔
ایک طرف ہمیں ڈالر نے دبا کر رکھا ہے جبکہ دوسری طرف مہنگائی کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں آج جو اپوزیشن ملی وہ بھی انتہائی احمق , نابالغ , غیر سیاسی اور مفاد پرستوں کا ٹولا ہے۔ جب یہ لوگ حکومت میں تھے تب بھی انہوں نے ملک کو تباہ کیا اور آج جب یہ اپوزیشن میں ہیں تو بھی مال بچاؤ کھال بچاؤ سے آگے کا کچھ سوچتے ہی نہیں۔دوسری طرف حکومت کے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے اور اندازے اس وقت غلط نظر آ رہے ہیں۔ اشیاء خردو نوش کی تمام چیزیں مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹا ۔چینی۔گھی اور دالیں جو ہر گھر کی بنیادی ضروریات ہیں پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت تمام صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے۔
ابھی غریب آٹے چینی اور گھی کی وجہ سے پریشان بیٹھا تھا کہ ڈالر نے اڑان بھر لی۔ ڈالر اس وقت تاریخ کی سب سے مہنگی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔اگر معیشت اچھی سمت چل رہی تھی تو ڈالر کیوں مہنگا ہو ا؟
ڈالر کی اڑان نے حکومت کے ان تمام دعوں کا پول کھول کر رکھ دیا جس میں برآمدات کے اضافے کی باتیں کی جا رہی تھی۔ کرنٹ خسارے میں کمی جیسے دعوے بھی کئے گئے۔ صحافی جب شوکت ترین صاحب سے مہنگائی اور ڈالر مہنگا ہونے پہ سوال کرتے ہیں تو ترین صاحب یا تو بات گول کر دیتے ہیں یا جواب ہی نہیں دیتے۔لگ رہا ہے کہ شاہد ترین صاحب اگلے دو سال پورے نا کر پائیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ خاص بچا بھی نہیں۔ خان صاحب کھلاڑی بدلنے سے وقت تو گزر جائے گا لیکن شاہد حالات نہ بدل سکیں۔ اس لئے بہتر ہے کوئی ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
بحثیت پاکستانی قوم ہم اس رویہ کے مستحق نہیں جیسے ہمارے حکمران ہمارے ساتھ کرتے آ رہے ہیں۔ پیٹرول ڈبل ٹیکس لگا کر دیا جاتا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے گندم اور چینی باہر سے منگوائی جاتی ہے پھر ہمیں ہی مہنگےداموں فروخت بھی کی جاتی ہے۔جب وزیروں سے مہنگی چینی اور آٹے پہ سوال کیا جائے تو کہتے ہیں کسان کو اسکی پوری قیمت دی جا رہی ہے اس لئے آٹا چینی مہنگی ہیں۔ چلو مان لیا آپ کسان کو پوری قیمت دے رہے ہو تو پھر باہر سے گندم چینی اور دالیں کیوں منگوا رہے ہو؟ زرعی ملک ہونے کے ناطے عوام کو وافر چینی آٹا دالیں اور سبزیاں بھی تو ملنی چاہیں۔ اگر نہیں مل رہی تو کسان سے کون پوچھے گا کہ بھائی اتنی سبسڈی اور ریٹ لینے کے باوجود تم زرعات میں ہمیں کیا دے رہے ہو؟ کھانے پینے کی اشیاء کا ایک زرعی ملک میں مہنگا ہونا حکمرانوں کی نالااہلی کاجیتا جاگتاثبوت ہے۔
جب بات کی جائے مہنگائی کی تو کہتے ہیں سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے یہ دن دیکھنے کو ملا ہے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ سابقہ حکمرانوں نے بہت کرپشن کی وہ نااہل اور نکمے تھے لیکن خان صاحب آپ کو آئے بھی اب تین سال ہو چکے ہیں۔ آپ نے مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں۔ اگر اقدام کئے تو کیا آپ کے اقدامات سے مہنگائی کنٹرول ہوئی ؟ آئندہ عام انتخابات میں جیتنا ہے تو مہنگائی کو شکست دینی پڑے گی ورنہ عوام نے مہنگائی سے تنگ آ کر بقول آپ کے ان ہی چوروں ڈاکوں کو پھر ووٹ دے دینا ۔ اس بار نہ تو آپ کا دھرنا کام آئے گا اور نا ہی عوام آپ کی باتوں میں آئے گی۔
اس وقت ڈالر نے تمام ملکی ریکارڈ توڑ دیئے۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکا ہے۔ مئی 2021سے ستمبر 2021کے درمیان صرف چار ماہ کے کم عرصہ میں ڈالر 16روپے مہنگا ہوا ہے۔ اگر بات کی جائے اوپن مارکیٹ کی تو پاؤنڈ اس وقت دوسو پینتیس, یورو اس وقت دوسو تیس, اماراتی درہم سنتالیس, سعودی ریال پنتالیس, دینار چارسوچوراسی ,ین تیس روپے پچاسی پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ خان صاحب آپ کو اپوزیشن سے ذیادہ اپنی معاشی ٹیم سے خطرہ ہے۔ اگلا الیکشن اگر جیتنا ہے تو مہنگائی کو ان دو سالوں میں ہر صورت شکست دینی پڑے گی۔ اگر آپ کی حکومت مہنگائی سے ہار گئی تو الیکٹرانک ووٹنگ بھی آپ کوشکست سے نہیں بچا پا گئی۔خان صاحب آپ کے اردگرد موجود سیاسی بیٹروں کی ٹیم نکمی اور نااہل ہے۔ آپ ایجنسیوں کی مدد لیں اور سٹاک ایکسچنج کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ مہنگائی پہ کنٹرول کیلئے بھی ایجنسیوں کو متحرک کریں۔ اپنے نااہل وزیروں اور مشیروں کی فوج کو گھر بھجوائیں۔ آپ کو ڈیفنڈ کرنے کیلئے سوشل میڈیا پہ نوجوانوں کی ایک لمبی چوڑی بیروگار فوج موجود ہے۔ آپ صرف عوام کی جان مہنگائی سے چھڑا دیں ورنہ عوام نے آپ سے جان چھڑا لینی۔
@saif__says









