Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ  تحریر: اریبہ شبیر

    ہر نیکی۔۔۔۔ صدقہِ جاریہ تحریر: اریبہ شبیر

    ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے لگتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو ایک ان دیکھی طاقت اسے بچا لیتی ہے۔ یہ ان دیکھی طاقت کیا ہوتی ہے؟ کیا اس طاقت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو مصیبت سے نجات دلا سکے؟؟
    پیارے دوستو! یہ طاقت ہوتی ہے صدقہ و خیرات کی طاقت، اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت، ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی طاقت۔ یہ طاقت ہوتی ہے غیب کی مدد۔ جب انسان تباہی کے دہانے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اللّٰہ اسے بچا لیتا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالٰی کی اپنے بندے سے محبت ہوتی ہے یہ اللّٰہ تعالٰی کا اپنے بندے پر احسان ہوتا ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے۔ انسان بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا۔ دور ہمیشہ ہم آتے ہیں اللّٰہ وہیں ہے جہاں پہلے تھا فاصلے ہم پیدا کرتے ہیں اور اسے مٹانا بھی ہمیں چاہئے. صدقہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان فاصلوں کو مٹاتا ہے۔ صدقہ کیا ہوتا ہے؟ صدقہ وہ ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں اللّٰہ کی خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ صدقہ دینے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔ انسان برے وقت،برے حالات اور بری موت سے بچ جاتا ہے۔ ہر نیکی کا کام صدقہ ہے۔ پودے اور درخت لگانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔راہ چلتے ہوئے کی مدد کرنا، راستے سے تکلیف دہ چیزیں پتھر کانٹے ہٹانا صدقہ ہے۔ مسجد میں قرآن پاک رکھوانا، اس کی تعمیر و مرمت میں اپنی استطاعت کے مطابق حصّہ ڈالنا صدقہ ہے۔ پانی پلانے کو احادیث مبارکہ میں صدقہِ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔ پانی پلانے کا عمل نہایت معمولی ہونے کے باوجود ثواب اور خوشنودی رب کا ذریعہ ہے ۔ پیاسوں کو پانی پلانا، تشنہ لبوں کی سیرابی کا کام کرنا اور انسانوں کی پانی کی تکمیل کر نا صدقہ ہے جس کا ثواب اللّٰہ تعالٰی آخرت میں خود دے گا۔ تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانے میں صدقہ دینا افضل ہے۔ صدقہ دینے سے اور اللّٰہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کبھی بھی کم نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کے مال میں برکت ڈالتا ہے۔ اچھی بات بتانا بھی صدقہ ہے. دراصل
    ہم دنیا کی محبت میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنی اس مصروف ترین زندگی میں ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں۔ معاشرہ تو دور کی بات ہے ہم تو اس قدر بے ہوش ہیں کہ ہمارے ہمسائے میں آج کیا ہوا، کون بیمار ہے کس کا انتقال ہوا ہمیں کسی کی کوئی خبر نہیں۔انسان تو ہر گھر میں پیدا ہوتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے۔ اگر انسان سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور عبادت کے لئے اللّٰہ تعالٰی کے پاس فرشتوں کی کمی نہیں۔
    ذرا سوچئے جس مسجد میں ہم روزانہ نماز ادا کرتے ہیں وہاں ہمیں وضو کے لیے پانی، ہوا کے لیے پنکھے، روشنی کے لیے لائٹس، جنریٹر، کارپٹ، امام اور مؤذن کی سہولت حاصل ہوتی ہے تاکہ میں نماز میں آسانی ہو۔ جبکہ ہم مسجد کو ماہانہ کیا دیتے ہیں؟دس روپے؟ زیادہ سے زیادہ بیس روپے۔ جبکہ ہم ٹی وی کیبل 300 اور انٹرنیٹ 1300 کی فیس ہر ماہ ادا کرتے ہیں۔ موبائل پر بے تحاشا لوڈ کرواتے ہیں۔ناچ گانا پارٹی ہلہ گلہ اور بے فضول کی نمود و نمائش میں بے تحاشا پیسہ اڑاتے ہیں۔ ذرا سوچئے ہم مسلمانوں کا پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ہم اپنی زندگی میں بڑے بڑے کام کر کے ہی بڑے آدمی بن سکتے ہیں لیکن اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہمارے لئے چھوٹے چھوٹے اچھے عمل ہی بہت ہیں۔ انسان اپنے اوصاف سے عظیم ہوتا ہے عہدے سے نہیں کیونکہ محل کے سب سے اونچے مینار پر بیٹھنے سے کوا کبھی بھی عقاب نہیں بن سکتا۔
    دعا ہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

    نام: اریبہ شبیر
    Twitter I’d @alifsheen_5

  • بد چلن  تحریر  زوہیب خٹک

    بد چلن تحریر زوہیب خٹک

    بشیر احمد کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ لیکن اس لیے خوش تھا کہ چلو یے بڑی بیٹی مائزہ کی طرح معزور تو نہیں ہے ۔ بڑی محبت سے اس کا نام فائزہ رکھا ۔معمولی سا سرکاری نوکر بشیر احمد پچپن برس کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے وفات پا گیا ۔ فائزہ کے کمزور کندھوں پر معزور بہن اور بوڑھی ماں کا بوجھ آگیا۔ فائزہ جیسے تیسے محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اور مرحوم باپ کی پینشن سے گھر کا گزر بسر کرتی رہی اور اپنی تعلیم مکمل کر لی کہ چلو کوئی اچھی نوکری مل جائے گی تو گھر کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔۔ فائزہ کو یقین تھا کہ بہت جلد ان کے حالات بدلنے والے ہیں لیکن وہ نہیں جانتی تھی ابھی زندگی نے اور بہت امتحان لینے ہیں۔

    برقع پہنے وہ جب نوکری کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتی جاتی تو محلے والوں نے شک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہائے یہ آخر کہاں گھومتی پھرتی ہے ۔ ہائے باپ کا سایہ نا ہو تو لڑکیاں ایسے خراب ہو جاتی ہیں ضرور اس کا کسی کے ساتھ چکر چل رہا ہے ہائے دیکھو تو اپنے مرحوم باپ کی عزت کا زرا بھی پاس نہیں ہائے اللہ ایسی اولاد کسی کو نا دے۔ الغرض جس کے منہ میں جو آتا کہہ دیتا ۔ دوسری طرف جہاں نوکری کے حصول کے لیے در بدر کی خاک چھان رہی تھی وہاں بھی مردوں کی شکل میں بڑے عہدوں پر بیٹھے درندے اس کو نوچنے کو تیار بیٹھے تھے ۔ بی بی یہ برقع یہاں نہیں چلے گا ٹھیک ہے آپ کی تعلیم اچھی ہے لیکن ہمارے دفتر میں ماڈرن لباس پہن کر آنا پڑے گا ماشااللہ آپ اتنی حسین ہیں آپ کو حسن چھپانے کی کیا ضرورت آپ ایک کام کریں پرسنل سیکرٹری کی نوکری مل جائے گی تنخواہ بھی پچاس ہزار باقی مراعات الگ تھوڑا خود کو گروم کریں آپ میں کسی چیز کی کمی نہیں۔

    یہ فکرے جملے بازیاں سنتے سنتے فائزہ راتوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتی اللہ سے شکوے کرتی کہ اے اللہ اگر حسن دینا تھا تو اس معاشرے کا محتاج کیوں کیا۔؟ بوڑھا ہی سہی باپ کا سایہ تو تھا وہ کیوں چھین لیا۔؟ اے اللہ میری مشکلیں کب آسان کرے گا ۔؟ ایک دن صبح کے اخبار میں سرکاری اساتزہ کی بھرتی کا اشتہار دیکھا تو سوچنے لگی یہاں تو رشوت یا سفارش لگے گی میرے پاس تو دونوں نہیں ۔ سوچ میں تھی کہ معزور بہن مائزہ نے پوچھا کیا ہوا کہنے لگی سرکاری نوکری ہے لیکن مِلے گی نہیں ۔ ماں نے باورچی خانے سے آواز دی بیٹا ہمت تو کرو کیا پتہ اللہ ہمارے دن پھیر دے ۔ فائزہ نے لمبی سی آہ بھری کہا کاش ۔۔ بہر حال نا چاہتے ہوئے بھی وہ قسمت آزمانے چلی گئی امتحان دیا اور اِس یقین کے ساتھ گھر واپس آئی کہ یہاں کچھ نہیں ہوگا چند دن بعد گھر پر خط موصول ہوا کہ آپ نے امتحان میں ٹاپ کیا ہے آپ کو انٹرویو کے لیے فلاں تاریخ کو آنا ہے۔۔

    فائزہ چِلائی امی میں پاس ہوگئی امی اب مجھے نوکری مل جائے گی۔ امی آپ کی دعائیں قبول ہوگئیں ۔ بڑی بہن مائزہ کو گلے لگا کر رو پڑی ہاتھ اُٹھاتے ہوئے کہا شکر ہے تیرا میرے مالک شکر ہے تیرا تو نے مجھ پر کرم کیا ۔ اُسے یقین تھا کہ اب ضرور نوکری مل جائے گی ۔ اور آخر انٹرویو کا دن آگیا وہ پر اُمید ہو کر انٹرویو دینے پہنچی انٹرویو دیا اور واپس گھر آگئی چند دن بعد آفر لیٹر کے ساتھ خط موصول ہوا اُسے نوکری مل گئی تھی ۔ فائزہ دوڑ کر اپنی ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ اماں اللہ نے ہماری سن لی ماں کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ جھلی تجھے کہتی تھی نا اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔

    یوں فائزہ کی زندگی بدلنے لگی ۔ اب وہ باعزت روزگار سے اپنے گھر کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ ایک دن شدید بارش تھی سکول سے واپسی پر کوئی رکشہ نا مل رہا تھا تو ساتھی اُستانی نے کہا آؤ میں تمہیں گھر چھوڑ آؤں گی میرا بھائی ابھی آتا ہی ہوگا ۔ فائزہ اپنی ساتھی اُستانی کے ساتھ چل پڑی ۔ محلے میں اُتری تھی کہ محلے کی چند خواتین نے گاڑی سے اترتے دیکھ لیا ۔ اب تو شک یقین میں بدل گیا تھا ہائے ہائے میں نا کہتی تھی اس لڑکی کے لچھن ٹھیک نہیں۔ دیکھو تو کتنی بڑی گاڑی سے اتر کہ آرہی ہے ۔ دِکھانے کو برقع تو ایسے پہنا ہوتا ہے جیسے اس سے زیادہ شریف زادی کوئی نہیں اور کرتوت دیکھو اللہ معافی اللہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے ۔ مرے ہوئے باپ بوڑھی ماں کی عزت کا بھی خیال نہیں ۔

    یہ چہ مگوئیاں آخر فائزہ کے گھر تک پہنچ گئیں کمیٹی جمع کرنے والی بلقیس خالہ نے ایک دن کہہ دیا ہائے بہن برا نا مانو یہ شریفوں کا محلہ ہے اپنی بیٹی پر نظر رکھو لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ ہائے اب تو محلے میں گاڑیاں آنے لگی ہیں ۔ محلے کی اور بچیوں پر کیا اثر پڑے گا ۔ میری مانو اپنی بیٹی کی شادی کرا دو ۔ اللہ نا کرے جوان بچی ہے کوئی غلط قدم نا اٹھا لے۔ ہائے توبہ آج کل کا زمانہ تو بہت خراب ہے۔ فائزہ کی ماں کو زمین اپنے پیروں تلے سے سرکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی اُسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ کچھ دیر بعد فائزہ سکول سے واپس آئی تو موقع پاتے ہی ماں نے پوچھ لیا تم آج کل کہاں آتی جاتی ہو محلے والے طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں بیٹا ہم غریب ہیں پر عزت دار ہیں روکھی سوکھی کھا کر ساری زندگی گزاری لیکن اپنی عزت پر سودا نا کیا ۔ کوئی ایسا قدم نا اٹھانا کہ ہماری عزت خاک میں مل جائے ۔

    فائزہ کو حیرت کا جھٹکا لگا اور ماں سے کہنے لگی اماں آپ کو اپنی بیٹی کی پرورش پر پورا یقین ہونا چاہئیے نا میں نے کوئی غلط قدم اٹھایا نا کبھی ایسا سوچ سکتی ہوں ۔ فائزہ چیخ چیخ کر رونا چاہ رہی تھی لیکن اس کے آنسو بھی اب خشک ہو چکے تھے ۔ شائد اُسے اب یہ سب سننے کی عادت ہوچکی تھی ۔ فائزہ کے لیے رشتے آنے لگے تو محلے والوں کے بد چلن کے ٹھپے کی وجہ سے وہ بھی انکار کر جاتے فائزہ اب اٹھائیس سال کی پڑھی لکھی وہ لڑکی ہے جس پر محلے والوں نے بد چلن کی مہر لگا دی ہے۔ فائزہ دن بھر خود کو تھکا کر گھر آتی ہے راتوں کو اپنا سرہانہ آنسوں سے بھر کہ سو جاتی ہے اور صبح پھر سے کام پر چلی جاتی ہے ۔ آپ کے آس پڑوس میں ایسی انگنت فائزہ ہیں جن پر محلے والوں نے بد چلن ہونے کی مہر لگا دی ہے۔۔

    کبھی فرصت نکالیں کسی یتیم مسکین غریب فائزہ کی ماں سے پوچھیں بہن گھر میں راشن کی تکلیف تو نہیں بہن کوئی مسئلہ پریشانی ہو تو مجھے اپنا بھائی سمجھ کر یاد کیجیے ۔ بہن آپ کی بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں ۔ شائد کوئی فائزہ آپ کے محلے میں جینا سیکھ جائے ۔ بزرگ فرما گئے ہیں جب استعطاعت رکھنے والے لوگ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو غریب کی بیٹیوں کی عزتیں نیلام ہوتی ہیں ۔
    تحریر
    زوہیب خٹک

    Twitter @zohaibofficialk

  • کرونا اور حکومتی دوغلا پن، تحریر: محمد شعیب

    اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

    ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہےدراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کےCarrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہCarrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZenecaSinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

    سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
    وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

  • متوازن غذا  تحریر : عفراء مرزا

    متوازن غذا تحریر : عفراء مرزا

    مرغیاں کوفتے مچھلی بھنے تیتر بٹیر
    کس کے گھر جاے گا سیلاب غذا میرے بعد
    مندرجہ بالا شعر تو مجید لاہوری کا ہے جس میں انھوں نے دل کھول کر بدپرہیزی کی ہے ۔ گوشت کے دل دادہ شاعر نے زبان کے چسکے کو اس قدر خوب صورتی سے ادا کیا ہے کہ شعر زبانی یاد ہوگیا ہے ۔ انسانی جسم کو جس قدر گوشت کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ سبزیوں کی اور دیگر لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔

     متوازن غذا ہی جسم کو توانا و تن درست رکھتی ہے ۔ جس قدر بہ ترین اور معیاری خوراک کا انتخاب کیا جاے گا ۔ اسی قدر جسم طاقت ور، صحت مند اور مدافعتی اعتبار سے مضبوط ہوگا ۔

    غذائیت سے بھرپور خوراک کے ذرائع ایسے ہوں جو جسم کی تعمیر و تشکیل اور مکمل نشوونما کرسکیں ۔ وٹامنز ، پروٹینز، چکنائی ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، کلورین ، گندھک ، آکسیجن اور سوڈیم وغیرہ ہمارے بدن میں بیماریوں سے دفاع کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں اور جسم کو چاک و چوبند رکھنے میں اہم ترین ذریعہ ہیں ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مندرجہ بالا اجزاء سے ہی بدن قائم رہتا ہے ۔

     ہم کو خیال رکھنا چاہیے کہ کیا کھایا ہے جب کہ ہم میں سے اکثر خیال رکھتے ہیں کہ کتنا کھایا ہے ۔ حالاں کہ ایک ترین چیز کیا کھایا ہے ۔

     جسم کی نشوونما ، قد کی مناسب بڑھوتری، بینائی اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن اے کو لازمی حیثیت حاصل ہے جو کہ حیوانی غذاؤں مثلاً دودھ، دہی، پنیر، مکھن ،دیسی گھی اور چربی والے گوشت کے علاوہ دیگر میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔

     سبزیوں میں گاجر ، ٹماٹر ، پالک ، بند گوبھی وغیرہ میں مخصوص مقدار کے ساتھ پایا جاتا ہے۔  اعصابی نظام کو متحرک رکھنے ، دل و دماغ اور اعضا کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے وٹامن بی کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ تمام ترکاریوں ، سبزیوں ، پھلوں اور گندم ، مکئی ، دالیں اور دودھ کی مصنوعات میں اس مقدار کافی موجود ہوتی ہے ۔

     وٹامن سی آنکھوں ، دانتوں ، مسوڑھوں اور جلد کی حفاظت کرتا ہے ۔ عام جسمانی کم زوری کو دور کرنے میں اہم کردار اسی وٹامن کا ہوتا ہے ۔ ممکنہ حد تک پھل چھلکوں سمیت  اور سبزیاں کچی کھائیں ۔


     حد سے زیادہ سبزیوں و ترکاریوں کو دھونے ، پکانے اور بھوننے سے یہ نازک و لطیف وٹامن ضائع ہوجاتا ہے۔  وٹامن ڈی کا کردار بھی لازم ہے کہ اس کا کام دانتوں کی مضبوطی اور حفاظت کرنا ہے ۔


     موسم سرما کی دھوپ اور مالش کرنا اس کے حصول کا ذریعہ سمجھ لیجیے۔  وٹامن ای انسانی نسل کشی اور افزائش کے لیے ضروری ہے۔ بوڑھاپے کے اثرات کو روکنا اسی وٹامن کا کام ہے ۔ یہ گندم ، باجرا ، جو، چنا، پستہ، بادام ، چلغوزہ و تلوں کے تیل میں کثرت سے پایا جاتا ہے ۔ نشاستہ کا کردار بدن میں ایندھن جیسا ہے اور جسم کو قوت توانائی فراہم کرنے کا بہ ترین ذریعہ ہے ۔

     پروٹین عضلات اور جسم کی دوسری بافتوں کی نشوونما کے لیے ایک لازمی جزو ہے جو کہ گوشت، انڈا، دودھ ، مکھن ، مختلف روغنیات، پالک، گاجر ، مٹر، لوبیا اور دالوں وغیرہ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کیلشیم ، فولاد ، میگنیشیم ، گندھک ، آئیوڈین ، کلورین ، سوڈیم ، پوٹاشیم ، فاسفورس ، زنک اور کئی دیگر وٹامنز بھی ہیں جو کہ جسم کے لیے لازم ہیں ۔

    ذرا سی احتیاط اور بہ ترین غذائی انتخاب ہمارے لیے صحت و تن درستی کا پیام بن جاتا ہے ۔ غیر معیاری اور ناقص خوراک کا استعمال ، عدم صفائی اور غیر صحت مندانہ طرز عمل ہمیں بیماریوں کی دعوت دیتا ہے۔ بازاری اشیاء سے حتی الامکان اجتناب اور معتدلانہ طرز زیست ہی ہمیں توانا و تن درست رکھ سکتا ہے ۔

    AframirzaDn

  • ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢   تحریر ۔ روشن دین

    ‏گلگت بلتستان میں بدھ مت کی تاریخ۔ پارٹ ٢ تحریر ۔ روشن دین

    ڈاکٹر احمد حسن دانی کے مطابق پہلا شہنشاہ جس نے اس علاقے (گلگت) میں کشنا کی طاقت کو بڑھایا وہ ویما کڈفیس تھا۔ اس حوالے سے نشانیاں چلاس اور ہنزہ میں ملتے ہیں۔ کوشانوں نے نہ صرف پورے گلگت بلتستان کو فتح کیا بلکہ لداخ پر بھی اپنا اختیار بڑھایا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ان کی حکمرانی کی نشست ہنزہ میں کہیں واقع ہوگی۔ کوشان تبت سے سنکیانگ تک لداخ ، کوہستان اور ہنزہ سمیت علاقے کو کنٹرول کر رہے تھے۔
    کنشک کے دور میں چین کے ساتھ براہ راست رابطہ سلک روڈ شاخ کے ذریعے قائم ہوا جو گلگت سے گزرا۔ بدھ مت نے گندھارا سے کھوٹن ، یارکنڈ ، کاشغر اور چین کے مغرب تک سفر کیا۔ اس عرصے میں اس علاقے میں بدھ عباتگاہوں اور سٹوپوں کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہوئی اور بظاہر گلگت ایک اہم بدھسٹ سٹیٹ بن گیا۔ کوشانوں نے گلگت کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن کیا۔ اس وقت گلگت کے حکمرانوں کو ’’ پٹولہ شاہی ‘‘ کا لقب حاصل تھا۔ دیوا سری چندر گلگت اور ہنزہ میں پٹولا شاہی خاندان کے آخری حکمران تھے۔
    جب تبتیوں نے گلگت پر حملہ کیا تو چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کو دوبارہ قائم کیا۔ اس دوران تبتیوں نے بلتستان کو اپنے قبضے میں لے لیا جہاں سکردو میں نشانیاں اور بدھ مت کی ایک بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف حصے میں پٹولا شاہی حکومت قائم ہوئی۔
    1884 میں ایک ہنگری سیاح کارل یوگن نے بلتستان ، گلگت اور چترال سے پتھروں کی نقش و نگار شائع کی۔ چٹانوں کی نقش و نگار کا پہلا مطالعہ جرمن تبت کے ماہر اگست ہرمن فرانک نےکیا۔ جنہوں نے 1902 میں لداخ بلتستان ، چلاس کے بارے میں اپنی پہلی آثار قدیمہ کا مطالعہ شائع کیا۔ غلام محمد نے سب سے پہلے گلگت اور چلاس کے علاقے میں بدھسٹ راک نقش و نگار کو اپنی کتاب میں شائع کیا۔ "گلگت کے تہوار اور لوک کہانیاں” 1905 میں
    گلگت بلتستان میں چٹانوں پر بدھ مت کی کئی باقیات اور تصاویر کھدی ہوئی ہیں۔ 1986 کے اندازوں کے مطابق قراقرم ہائی وے (kkh) کے ساتھ 3000 شلالیھ اور 30000 سے زائد پیٹروگلیفس دریافت ہوئے۔ چلاس کو نوشتہ جات اور پیٹروگلیفس کے مطالعہ کے لیے ایک انتہائی دلچسپ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ چلاس کے نزدیک خروشتی نسخہ مل سکتا ہے جو دوسرے کوشنا شہنشاہ کا حوالہ دیتے ہوئے اویما داساکاسا کا نام دیتا ہے۔ چلاس کے قریب ، تھلپن کو تراش کندہ پتھروں کی کان سمجھا جاتا ہے۔ ایک راستہ ہے جسے حاجیوں کے راستے کا نام دیا گیا ہے جہاں آپ نقش و نگار پتھروں کی دولت دیکھ سکتے ہیں ، تاریخی طور پہ تھلپن سے خنجرگاہ کے راستے گلگت جانے والا راستہ ہے۔ ایک جگہ پر بدھ کے پہلے خطبے کی کہانی ہے اور اس سائٹ کو "پہلا خطبہ کی چٹان” کہا جاتا ہے۔
    یہاں بدھ بیچ میں بیٹھا ہے جبکہ پانچ شاگرد اس کے ارد گرد ہیں۔ چلاس میں ہمیں قدیم شبیہہ کا سب سے بڑا ذخیرہ اور پتھر میں نقش و نگار ملتا ہے۔ کوہستان کے شتیال سے شروع ہو کر گلگت تک۔ تھلپن میں بدھ کے بیٹھنے کی سب سے وسیع نمائندگی محفوظ ہے جس میں بدھ کا پہلا خطبہ نمایاں ہے۔ داریل اور شتیال وادی جس میں کئی مسافر آئے تھے ، مشنری سوگڈین زبان میں کئی سو نقش یہاں پائے جاتے ہیں۔ وادی گلگت (عالم برج) اور ہنزہ میں حالات شلالیھ پیش کرتے ہیں جو پورے دور میں پھیلے ہوئے ہیں جس میں کھوش سلطنت خروش اور برہمی رسم الخط میں موجود تھی جو پانچویں اور آٹھویں صدی کی ہے۔
    گلگت شہر کے نواح میں کارگاہ (نالہ) کے افتتاح کے موقع پر بدھ کا ایک پتھر کٹا ہوا ہے۔ یہ شکل 9 فٹ بلند ہے۔ غالبا histor مورخین کے مطابق یہ سنگ تراشی ساتویں صدی میں کی گئی تھی۔ فا ہین نے بدھ کے اس اعداد و شمار کا بھی ذکر کیا جس نے 400 قبل از مسہی میں گلگت کا دورہ کیا تھا۔ گلگت کے نپور گاؤں میں کارگاہ بدھ کے ساتھ مل گیا۔ مخطوطات لکڑی کے ڈبے میں پیک کیے گئے تھے۔ یہ جگہ ایک قدیم کھنڈر معلوم ہوتی ہے جو شاید بدھ راہبوں کی رہائش گاہ تھی۔
    یونیسکو کے مطابق گلگت کے نسخے سب سے قدیم نسخوں میں سے ہیں۔ یہ نسخے برصغیر میں بدھ مت کے مخطوطات کا واحد مجموعہ ہیں۔ گلگت کے مخطوطات میں تین بدھ مت کے مترادفات (مذہب کے سربراہوں کے درمیان کانفرنس) کا حوالہ ہے۔ ایک اور مشہور مقام ہنزہ کے ایک مقام پر واقع ہے جسے ہلدیکوش (گنیش اور عطا آباد جھیل کے درمیان) کہا جاتا ہے۔ یہاں کی اہمیت ایک یادگار ہے جو صدیوں تک لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہی۔ چٹانوں پر نقش و نگار پہلی صدی کے ہیں۔ چٹان میں نوشتہ جات شامل ہیں جو سوگڈین ، خروشتے اور براہمی زبانوں میں تراشے گئے ہیں۔ ہنزہ کے خوفناک پتھروں کو سب سے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ابیکس کی، شکار کے مناظر اور نقش درج ہے۔
    ہیرالڈ ہاپٹ مین کے مطابق پچاس ہزار سے زیادہ پتھروں کی نقش و نگار اور چھ ہزار نوشتہ جات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور مزید تلاش کے ساتھ ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ کشن سلطنت کے شہنشاہ کے نام ان تحریروں کے ساتھ ساتھ کنشکا اور ہیوشکا سلطنت کے شہنشاہوں کے نام بھی ظاہر ہوتے ہیں
    تبتی لوگ لداخ سے ہوتے ہوئے بلتستان میں داخل ہوئے جہاں ان کے نوشتہ جات اور بدھ نقش و نگار سکردو اور دیگر مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں۔ سکردو کے قریب منتھل گاؤں بدھ مت کی نقش و نگار کے لیے مشہور ہے اور یہ مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جس کے چاروں طرف بیس شاگرد ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شلالیھ دوسری اور تیسری صدی کے ارد گرد کندہ کیے گئے ہوں گے۔
    اسے پہلی بار جین ای ڈنکن نے 1904 میں دستاویز کیا تھا۔ تبت سے چین کو خطرہ تھا جو گلگت کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے ، چینی سلطنت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تبتی حملہ آوروں کو بالائی سندھ اور آکسس سے دور رکھا جائے۔ تبتی لداخ ، بلتستان ، گلگت ، یاسین کے راستے شمال اور مغرب کی طرف بڑھا ، حالانکہ بوروگل گزرتا ہے۔ چینی مدد کے لیے آئے اور تبتیوں کو شکست دی اور گلگت میں پٹولا شاہیوں کی حکمرانی بحال کی۔ لیکن تبتی بلتستان کو اپنے قبضے میں کرنے میں کامیاب رہے۔
    یہاں ایک مکتبہ فکر بھی ہے کہ بدھ مت کے بعد گلگت اور گرد و نواح کا علاقہ قرون وسطیٰ کے زمانے میں زرتشتی حکمرانوں کے ماتحت آیا۔ ھود العلم میں لکھا ہے کہ مقامی حکمران سورج (خدا) کے پیروکار تھے۔ جان بڈولف کے مطابق آکسس وادی زرتشتی مذہب کا گہوارہ تھا اس لیے جنوب کے علاقے اس کے زیر اثر آئے۔ جان بڈولف "ٹیلیانی” تہوار کے مطابق گلگت اور ہنزہ اور بلتستان میں ماضی میں منائی جانے والی آگ کی عبادت کی یادگار ہے۔ ہنزہ میں اسے "تم شیلنگ” ، استور میں "لومی” اور چلاس میں اسے "ڈائیکو” کہا جاتا ہے۔
    جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، اسلام اس خطے میں تیرہ کے آخر یا چودہویں صدی کے آغاز میں کشمیر ، وسطی ایشیا اور سوات/کاغان سے آیا۔ گلگت کے آخری حکمران شری بدعت کو ایک عزور جمشید نے قتل کر دیا جس نے اپنی بیٹی سے شادی کے بعد ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھی۔
    گلگت بلتستان میں کئی تاریخی مقامات ہیں ان مقامات کو حکومت کی طرف سے ورثہ قرار دینے کی ضرورت ہے اور ان کو ختم ہوتے ہوئے ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں محکمہ آثار قدیمہ/ریسرچ سنٹر کے قیام کی بھی ضرورت ہے جو گلگت بلتستان کے ثقافتی ورثے کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔ خاص طور پر ضلع چلاس میں آثار قدیمہ کے مقامات کے بارے میں خدشات ہیں کہ ممکنہ طور پر دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ ضم ہو جائیں گے۔ گلگت بلتستان کی حکومت اور وفاقی حکومت کو اس قومی ورثے کے تحفظ اور نقل مکانی کے لیے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

  • کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین اور سازشی باتیں تحریر: محمد جمیل

    کرونا ویکسین لگوانے سے آپ نامَرد ہو جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے خواتین بچے پیدا نہیں کر سکیں گی۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ کو شدید ٹائیفائیڈ بُخار ہوگا، اور آپ چھ سال پہلے اوپر اٹھا لیے جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے سے آپ دو سال کے عرصے میں مَر جائیں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے آپ الرجی کی اک خوف ناک قِسم کا شکار ہو کر بھیانک موت مریں گے۔ کرونا ویکسین لگوانے کے بعد آپ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو جائیں گے جس کا نتیجہ موت کی صورت میں نکلے گا۔ کرونا ویکسین لگوانے کی وجہ سے لاکھوں لوگ پُر اسرار بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں جن کا انجام بھی موت ہوگا۔
    جب سے کرونا ویکسین ایجاد ہوئی ہے درج بالا قِسم کے جملے یا ان جملوں سے مِلتی جُلتی بہت سی ویڈیوز اور تحریریں سوشل میڈیا پہ مسلسل گردش کر رہی ہیں۔ درج بالا تمام باتیں سازشی باتیں ہیں اور فقط مبالغے پہ مبنی ہیں جِن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    فرض کریں دس لاکھ لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پہ اک اک ٹیبلیٹ پیراسیٹامول(پیناڈول) کھلائی گئی۔ دس لاکھ میں سے چار لوگوں کو پیناڈول ری ایکٹ کر گئی تو اس کا ری ایکٹ کرنے کا تناسب کتنا کم بنتا ہے؟ حتی کہ پیناڈول کے پچاس سے زائد سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔ اسی طرح دنیا کی کوئی بھی ویکسین یا میڈیسن ہے اس کے مثبت منفی اثرات لازمی ہوتے ہیں بلکہ ہر میڈیسن کے ساتھ لکھے ہوتے ہیں۔
    ڈسپرین بےضرر سی خون پتلا کرنے والی عام دوائی ہے لیکن اگر یہ آنتوں میں جا کر انفیکشن کر دے تو کھانے والے کو معدے کا السر ہوسکتا ہے۔
    امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی ‘فائزر’ نے کئی دہائیوں پہلے بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کی نالیوں میں خون کے بہاؤ کی بہتری کےلیے sildanfil نامی کیمیکل سے ‘ویاگرا’ ٹیبلٹ تیار کی۔۔ ویاگرا کے افیکٹس میں اک عجیب امر سامنے آیا کہ ویاگرا کھانے والے افراد کا below the abdominal body یعنی کمر سے نیچے خون کا بہاؤ تیز ہو گیا جس سے ویاگرا استعمال کرنے والے مریضوں کی جنسی قوت کئی گُنا بڑھ گئی۔۔ دیکھتے دیکھتے جنسی قوت بڑھانے کےلیے ویاگرا دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میڈسن بن گئی۔ جن لوگوں نے ویاگرا کا بےتحاشا استعمال کیا ان میں ویاگرا کا نیا سائیڈ افیکٹ سامنے آیا کہ ویاگرا نے ان کے گُردوں کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ جب صحت کے اداروں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا ہفتے میں تین سے زیادہ ٹیبلٹ کھانے والے شخص کو ویاگرا کے سائیڈ افیکٹس کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی ادارہِ صحت نے ویاگرا کے عام استعمال پہ پابندی عائد کر دی۔
    دنیا میں اس وقت جتنے زندہ انسان موجود ہیں۔ ان انسانوں میں ہر شخص کے خلیات اک دوسرے سے مختلف ہیں۔ انگلیوں کے پورووں پہ موجود نشانات سے لے کر ہمارے جسم کے اک باریک سے بال کا ڈیزائن دنیا کے کسی دوسرے انسان سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر میڈیسن ہر نئے انسان پہ ایک سا اثر نہیں چھوڑتی۔ اسی طرح فی زمانہ کووِڈ ویکسین لگوانے کا عمل جاری ہے۔ کرونا ویکسین اگر ایک لاکھ لوگوں میں سے کسی ایک کو ری ایکٹ کرتی ہے تو یہ کوئی انسان دشمن دوائی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اس ایک متاثر شخص کو لے کر باقی ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے لوگوں پہ مثبت نتائج دینے کے عمل کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ حتی کہ کووِڈ ویکسین کرونا وائرس کے کمزور سیلز ہوتے ہیں جن کا کام ہمارے مدافعتی نظام کو بہتر بنا کے طاقتور کرونا وائرس حملے سے بچانا ہے یعنی یہ ویکسین ہمارے مدافعتی نظام کی بہتری کا کام کرتی ہے.
    لہذا کرونا ویکسین سے متعلق کسی بھی منفی پروپیگنڈے پہ کان نہ دھریں جتنا جلدی ممکن ہو سکے ویکسین لگوا کر اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو وبائی وائرس سے محفوظ بنائیں۔

    Twitter Handle: @RealJameel8

  • میرا شہر جھنگ  تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ تحریر:  اسد ملک

    میرا شہر جھنگ ، چناب کے مشرقی کنارے پر واقع ہے جو کہ جہلم کے ساتھ اٹھارہ ہزاری کے قصبے کے قریب ہیڈ تریمو بیراج پر ہے۔ضلع جھنگ ایک مثلث کی شکل کا ہے ، جس کا چوٹی جنوب مغربی کونے پر ہے اور شمال مشرق میں اس کی بنیاد ہے۔یہ ضلع دو بڑے دریاؤں ، جہلم اور چناب سے گزرتا ہے۔  چناب عام طور پر جنوب مغرب کی طرف بہتا ہے ، اور یہ ضلع کے وسط سے نیچے کی طرف چلتا ہے تاکہ یہ عملی طور پر ضلع کو دو برابر حصوں میں تقسیم کر دے۔

     2014 کے سیلاب میں یہ شہر خطرے میں پڑ گیا تھا لیکن اس میں سیلاب نہیں آیا کیونکہ سیلاب کا پانی اٹھارہ ہزاری کی طرف ری ڈائریکٹ کیا گیا تھا۔ 

     دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر واقع یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 18 واں بڑا شہر ہے۔  شہر اور ضلع کا تاریخی نام جھنگ سیال ہے۔  اس علاقے میں سلطان باہو اور ہیر رانجھا کا مقبرہ بھی شامل ہے۔

    جھنگ کی تاریخ سیال قبیلے کی تاریخ ہے۔

    سکھ سلطنت کے بانی رنجیت سنگھ نے 1803 میں بھنگیوں سے چنیوٹ پر قبضہ کر لیا اور جھنگ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، لیکن برسر اقتدار سیال احمد خان نے ایسا کرنے سے پہلے اس کا معاون بننے پر رضامندی ظاہر کی۔ رنجیت سنگھ پر دوبارہ حملہ کرنے سے پہلے اس نے چند سالوں کے لیے 70،000 روپے اور ایک گھوڑی کا سالانہ خراج ادا کیا۔احمد خان نے اسے نذرانہ دینے کی پیشکش کی ، لیکن رنجیت سنگھ نے انکار کر دیا اور جھنگ پر قبضہ کر لیا۔ احمد خان بھاگ کر ملتان چلا گیا ، جہاں اسے نواب مظفر خان کے پاس پناہ ملی۔

     جھنگ 1288 میں مہاراجہ رائے سیال ، ایک راجپوت سردار اور سیال قبیلے کے بانی نے بنایا تھا۔  سیال قبیلے ، اس کے رشتہ داروں نے اس ضلع پر اس وقت تک حکومت کی جب تک کہ جھنگ کے آخری سیال حکمران احمد خان (1812 سے 1822) کو رنجیت سنگھ نے شدید لڑائی کے بعد شکست دی۔ 

     جھنگ کے سیال خانوں اور دیگر سیال ذیلی قبائل جیسے راجبانہ اور بھروانہ کی اجتماعی حکمرانی کے تحت ، جھنگ کا سیال ملک جنوب میں مظفر گڑھ کی حد تک پھیلا ہوا تھا اور پورے چنیوٹ  ، کمالیہ اور کبیر والا القاس۔  یہ علاقہ بھکر اور سرگودھا کے کچھ حصوں تک پھیلا ہوا ہے۔  گڑھ مہاراجہ اور احمد پور سیال الکاس کو راجبانہ سیال قبیلے کے مال میں شامل کیا گیا جس نے بلوچ قبائل کو تھل کی طرف نکال دیا اور 17 ویں صدی کے وسط تک ملتان کے نواب کو شکست دی۔ 

     برطانوی راج کے تحت ، جھنگ اور میگھیانا کے قصبے ، جو کہ دو میل (3.2 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہیں ، ایک مشترکہ میونسپلٹی بن گئی ، جسے پھر جھنگ-مگھیانہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 

     مگھیانہ پہاڑوں کے کنارے پر واقع ہے ، چناب کی مٹی کی وادی کو دیکھتا ہے ، جبکہ جھنگ کا پرانا قصبہ اس کے دامن میں نشیبی علاقوں پر قابض ہے۔ 

    جھنگ صدر پنجاب ، پاکستان کا ایک شہر ہے۔  یہ 31.27 عرض بلد اور 72.33 طول البلد پر واقع ہے اور یہ سطح سمندر سے 158 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔جھنگ کی سیال ذات کے بعد وینس ذات کا بھی جھنگ میں اپنا مقام رکھتی ہے۔ میں بذاتِ خود اسد ملک میرا تعلق جھنگ کے علاقے منڈی شاہ جیونا سے ہے۔ لفظ جھنگ سنسکرت کے لفظ جنگلا سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کھردرا یا جنگل والا علاقہ ، جنگل کا لفظ بھی ایک ہی جڑ کا حصہ ہے۔  سیاق و سباق میں ، جھنگ کی اصطلاح سنسکرت کے لفظ جنگلا سے اخذ کی گئی ہے ، جھنگ اس لفظ کا مقامی پنجابی ترجمہ ہے۔

    ضلع جھنگ 8809 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔جھنگ صدر تحصیل جھنگ (ضلع کا ایک سب ڈویژن) کا انتظامی مرکز ہے۔  تحصیل خود 55 یونین کونسلوں میں تقسیم ہے۔ اور مندرجہ ذیل چار تحصیلوں پر مشتمل ہے: احمد پور سیال۔  چنیوٹ۔ شورکوٹ۔ جھنگ

    @asad_malik333

    https://twitter.com/asad_malik333?s=09

  • مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    مقامِ دل ( پارٹ 2)  تحریر : نعمان ارشد

    عشق والے دل میں نور ہوتا ہے۔ 

    قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالٰی ہے

    بھلا جس کا سینہ اللّٰه نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو وہ اپنے رب کی طرف سے اجالے میں ہے۔ اور خرابی اور ہلاکت ہے ان لوگوں کی جن کے دل اللّٰه کی یاد کرنے پر سخت ہیں۔ یعنی وہ اللّٰه کا ذکر نہیں کرتے اور وہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ 

    مزید ارشادِ باری ہے

    اور جن کے دل اللّٰه کے خوف سے ڈرتے ہیں ان کی حالت تو یہ ہے کہ ان کی کھالوں کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور ان کے جسم کی کھالیں اور ان کے دل اللّٰه کی یاد میں نرم ہو جاتے ہیں۔ 

    قرآن پاک میں ایسی آیات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خداوند نے کس انداز سے مومنوں اور کافروں کی دلی کیفیت کو بیان فرمایا ہے۔ یعنی ایمان اور کفر دل کی نرمی اور سختی پر بھی موقوف ہیں۔ یعنی مومن کا دل نرم اور کافر کا دل سخت ہوتا ہے۔ 

    حدیث شریف میں ہے کہ شیطان ہر وقت انسان کے دل میں بیٹھا رہتا ہے۔ جب انسان اللّٰه کا ذکر کرتا ہے تو وہ دوڑ جاتا ہے۔ اور جب انسان اللّٰه کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے تو شیطان وسوسے ڈالنےکی کر اس کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ( مشکوٰۃ شریف) 

    حضرت ابو ہریرەؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ آجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ استغفار کر لیتا ہے تو وہ نقطہ اس کے دل پر سے مٹ جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ پر مداومت کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بھی زیادہ ہو جاتا یے یہاں تک کہ وہ اسکا دل ڈھانپ لیتا ہے ( مشکوۃ شریف) 

    مولانا رومؒ طہارتِ قلب اور تزکیہ نفس اور صفائے قلب کی ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ چینیوں اور رومیوں میں مقابلہ ہو گیا چینی کہتے ہیں کہ نقش و نگاری میں ہم ماہر ہیں اور رومی کہتے ہیں کہ اس فن میں ہم جیسا کوئی نہیں۔ بادشاہ وقت نے دونوں کا امتحان لیا۔ اور کہا کہ دونوں اپنے اپنے فن کا کمال دکھاؤ۔ چینیوں نے بادشاہ سے سینکڑوں رنگ و روغن طلب کیے اور پھر بادشاہ وقت نے رومیوں سے پوچھا کہ تمہیں بھی کسی سامان کی ضرورت ہے؟ رومیوں نے کہا کہ ہمیں کسی رنگ و روغن کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف زنگ و میل دور کریں گے۔ چنانچہ چینی رومی دو دیواروں پر اپنے فن کا کمال دکھانے لگے۔ درمیان میں ایک پردہ لٹکا دیا۔ چینی تو دیوار پر نقش و نگار بنانے لگے اور رومی دیوار کو صیقل و صاف کرنے لگے۔ رومیوں نے دیوار کو اتنا صاف کیا کہ دیوار شیشے کی طرح چمکنے لگی۔جب دونوں اپنے اپنے کام سے فارغ ہو گئے تو بادشاہ وقت دیکھنے کے لیے آیا تو پہلے چینیوں کے فن کو دیکھا تو ان کی نقش و نگاری کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ پھر رومیوں کی طرف آیا تو درمیان سے پردہ اٹھا دیا۔ بس پھر کیا تھا کہ جو چینیوں کی دیوار پر دیکھا تھا اس سے کہیں بہتر سامنے دیوار پر عیاں تھا۔ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ مسلمان تو بھی اپنے دل کو اللّٰه کے ذکر سے اس قدر صیقل کر لے کہ وہ شیشے کی طرح چمکنے لگے اور حرص و ہوا اور خواہشاتِ نفسانی کا غبار مٹ جائے، فسوق و فجور کے اندھیرے دور ہو جائیں، گناہ و معصیت کی سیاہی دھل جائے۔ ضلالت اور گمراہی کے بادل چھٹ جائیں اور باطنی حجابات اٹھ جائیں۔ تیرا دل بھی رومیوں کی دیوار کی طرح معرفت کا آئینہ بن جائے۔ انوار و تجلیاتِ اِلٰہی کا مرکز بن جائے۔ اور پھر ساری کائنات تیرے اندر سما جائے اور پھر جدھر بھی دیکھے تجھے جلوہِ حسنِ یار نظر آئے۔ 

    ‎@Official__NA

  • پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان

    پھل کھائیں صحت مند زندگی کے لیے تحریر:خالد عمران خان


    بعض اوقات زندگی میں ہم اتنا مگن ہوتے ہیں کے اپنے کھانے پینے کی ضرویات کا سہی طرح خیال نہں رکھ پاتے یہ شاید اتنا سوچنے کا وقت بھی نہں ہوتا ہمارے پاس کے ایسا کیا اچھا ہے کھانے میں کو بیک وقت آپکو بیماریاں سے بچائے آپ کے بال آپکی جلد آپکی جسمانی وضح کے لیے ایک ساتھ اچھا ہو ایسا کیا ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی صحت بھی خیال رکھ سکتے اپنے بڑھتے ہوئے وزن کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں جی بلکل ایسے تمام خو صیات پائی جاتی ہیں پھلوں میں جس سے ہماری روز مرہ کی جسمانی ضرویات پوری ہوتی ہیں اور ہمارا وزن کو کنٹرول کرنے اور ساتھ جلد کو صاف شفاف رہنے میں بھی مدد ملتی ہے.
    آپ کو بھوک لگی ہے اور کچھ مزیدار کھانا چاہتے ہیں آپ کو بھوک ختم کرنے اور پیٹ کے بھرنے کا احساس دلائے اور آپ کو موٹا نہ کرے ، کیا یہ ممکن ہے؟ شاید یہ پہلا خیال ہے جو آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ تو جواب ہے ہاں! یہ ممکن لیکن اس طرح کی کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے آپ کو تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے تھوڑی تیاری کرنی پڑتی ہے اور آپ اتنے تھکے ہوئے ہیں کہ اٹھ کر کھانا پکانے کی ہمت نہں رکھتے
     تو ایسا کیا ہے جو آپ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں ، کیا آسانی سے کیا کھایا جا سکتا ہے ایسر کیا چیز کھانے کے لیے جلدی ملنا ممکن ہے؟

     جی بلکل بہت آسانی سے آپ کھا سکتے ہیں صحت مند چیزیں ، کھانے کے لیے فوری تیار پھل سے آپ فوری لطف اندوز ہو سکتے ہیں جو کہ مشینی تیار نہں شدہ بلکہ آپ صرف اپنے دانتوں کو استعمال کرتے ہوئے سے بھرپور طریقے سے اِسکا مزا لے سکتے ھیں.
     لیکن یہ کیا ہے جو صحت کے متعدد فوائد فراہم کر سکتا ہے اور اب بھی آسانی سے قابل رسائی ہے؟ آئیے خیالات سے آگے نہ بڑھیں اور اپنے آپ کو فطرت کی دی گئی نعمتوں کی طرف رہنمائی کریں جس نے ہمیں رنگا رنگ اور پرکشش پھلوں سے نوازا ہے جو نہ صرف فائدہ مند ہیں جب کہ تندرستی کی بات آتی ہے بلکہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد بھی ہیں۔

     پھلوں کے صحت کے فوائد کیا ہیں؟
     چونکہ یہ جانا جاتا ہے کہ پھلوں کے بے شمار صحت کے فوائد ہیں لہذا یہاں ایک جھلک ہے کہ آپ کو اپنی خوراک میں پھلوں کو شامل کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

     پھل وٹامن اور معدنیات کا ایک بھرپور ذریعہ ہیں جو ضروری غذائی اجزاء سمجھے جاتے ہیں جو جسم میں میٹابولک سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور انسانی جسم میں بہت سے دوسرے کام انجام دیتے ہیں۔
     پھل فائبر کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جو متعدد طریقوں سے فائدہ مند ہیں جن میں شامل ہیں۔ آنتوں کی صحت کو بہتر بنانا ، بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ، بلکے اور مکمل طور پر فراہم کرنا ، کولیسٹرول کو کم کرنا ، قبض سے نجات اور اور بہت سے فوائد
     پھل بہت سے اینٹی آکسیڈنٹس مہیا کرسکتے ہیں جو دل کے مسائل ، کینسر اور بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور ان آزاد ریڈیکلز سے لڑتے ہیں جو کے جسم میں منفی اثرات پیدا کرتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹس بڑھاپے میں تاخیر کرتے ہیں لہذا پھل چمکدار اور جوان جلد کے حصول میں بھی مدد کرتے ہیں۔
     پھل غذائی اجزاء کی ایک وسیع رینج سے لدے ہوتے ہیں جو فوائد کی بات کرتے وقت اس کو حاصل کرتے ہیں۔ پھلوں کی ایک مثال جو وٹامن سی کی ایک بہت بڑی مقدار مہیا کرتی ہے جو لوہے کے جذب میں بہت ضروری ہے ، بہت سے انفیکشن سے بچاتی ہے ، مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے ، یہ زخموں کو بھرنے میں مددگار اور اہم ہے ہڈیوں اور دانتوں کی صحت
     پھلوں میں پانی کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو آپ کو ہائیڈریٹ اور فعال رکھتی ہے۔
     پھل آپ کے میٹابولزم کو فروغ دیتے ہیں لہذا وزن کو کنٹرول کرنے اور ایک مثالی اور صحت مند جسمانی وزن حاصل کرنے میں یہ آپکی مدد کرسکتے ہیں اس لیے اپنی روز مرہ زندگی میں پھل کھانے کی عادت بنائیں۔
    تحریر

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا تحریر:سید مصدق شاہ

    وہ دوراہے پر کھڑی تھی۔ اس کے آج کے فیصلے پر اس کی آنے والی زندگی کا دارومدار تھا۔ اس کے راہ زیست کو پھولوں سے سجنا تھا یا وہاں ہمیشہ کانٹے  ہی اگنے تھے یہ اس کے آج کے فیصلے پر منحصر تھا۔ اور وہ۔۔ وہ تو پھول اور کانٹوں میں تمیز ہی نہیں کر پا رہی تھی۔ گھر میں مہندی کا فنکشن جاری تھا۔ کل اس کی بارات آنی تھی۔ اماں کئی مرتبہ آکر اس کی بلائیں لے چکی تھیں۔ 

    لڑکیاں ڈھولک لیے اس کے گرد گھیرا بنائے بیٹھی تھی۔ گانے، شوخ قہقہے،ذومعنی جملے، چھیڑ چھاڑ اس سب میں اس کا رویہ کچھ اور ہونا چاہیے تھا 

    مگر وہ۔۔

     وہ تو تمام رونقوں سے پرے سوچوں کے عمیق سمندر میں گم تھی۔ 

    دوبارہ اسجد کا میسیج آیا تھا۔ اس نے لمبے چوڑے میسیج میں دوبارہ وہی کچھ لکھا تھا کہ وہ اس کے لیے کتنی اہم ہے اور وہ اس کے بنا نہیں رہ سکتا۔ زمانے کو لعن طعن محبت کے قسمیں وعدیں اور آخر میں دوبارہ وہی۔۔ بھاگ جانے کا مشورہ۔۔

     چاہتی تو وہ بھی یہیں تھی۔۔ اسجد اس کی دو سال کی محبت تھا جس سے وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔

     شادی تو وہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ مگر کامران بیچ میں آگیا۔ کامران اس کا تایا زاد۔

     اس نے بہت کوشش کی منع کرنے کی مگر اس کی ایک نہ سنی گئی۔

    اسے آج فیصلہ کرنا تھا۔ ایک طرف اس کے والدین کے ہنستے مسکراتے چہرے تھے اور دوسری طرف اسجد کی محبت۔ 

    وہ سوچ رہی تھی اگر اس نے ایسا کوئی قدم اٹھا لیا تو کیا اس کے ابا معاشرے میں دوبارہ سر اٹھا کر جی پائیں گے۔

    وہ مسکان جو ابھی اماں کے چہرے پر سجی ہے کیا وہ دوبارہ مسکرا پائیں گی۔

    اسے یاد آیا وہ تو دل کی مریض تھیں۔ کیا وہ یہ صدمہ سہار پائیں گی۔ بہت سے اگر اس کا دل دہلا رہے تھے۔اور اس سے چھوٹی نادیہ۔۔ 

    اگر وہ بھاگ گئی تو نادیہ کے لیے گھر کی دیواریں اتنی اونچی کر دی جائیں گی کہ وہ باہر کی دنیا میں جھانک بھی نہ سکے۔کیا وہ ان رشتوں کے بغیر رہ پائے گی۔

     کیا وہ خون کے رشتوں سے کٹ کر سکون کے ساتھ جی پائے گی۔۔نہیں۔۔

    پر جی تو وہ اسجد کے بنا بھی نہیں پائے گی اس کے دل سے صدا آئی۔

    دل کچھ کہتا اور دماغ اسے رد کر دیتا۔ اور دل بھی کہاں دماغ کے پیش کردہ حقائق کو تسلیم کرتا۔

     اس دل و دماغ کی جنگ میں سبین اسے کھانا دینے آئے جسے اس نے بھوک نہیں ہے کہہ کر واپس بھجوا دیا۔۔

    اف۔۔ کیا کرے وہ۔۔ اسجد کے میسج پر میسج آرہے تھے۔

     اس نے ملتان کے لیے دو ٹکٹ لے لیے تھے۔۔فیصلہ ہو چکا تھا۔

     محبت اور رشتوں کی جنگ میں خون کے رشتوں کو مات ہوئی تھی۔

     اس نے سر درد کا بہانہ کیا اور کمرے میں چلی آئی۔

    وہاں آکر اس نے کاغز قلم ڈھونڈا۔ کانپتے ہاتھوں سے کچھ سطریں لکھی اور کاغذ ٹیبل لیمپ کے نیچے رکھ دیا۔

    کھڑکی کے راستے وہ گھر کے پچھلی جانب آئی جہاں اسجد اپنے دوست کی گاڑی لیے تیار کھڑا تھا۔ اس نے آخری نظر گھر کو دیکھا۔

    کچھ چہرے آنکھوں کے سامنے لہرائے۔ اس کے قدم لڑکھڑائے مگر فیصلہ تو وہ کر چکی تھی اب اس پر عمل کرنے کا وقت تھا۔ وہ پہلے اسجد کے دوست کے گھر گئے وہاں ان کا نکاح ہوا۔ پھر اس کا دوست خود انہیں سٹیشن تک چھوڑنے آیا۔

    گاڑی لاہور سٹیشن سے نکلی تو اسے لگا جیسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ یہیں کہیں چھوڑے جا رہی ہے۔

     آنسوؤں کی باڑ سے دور جاتا لاہور ریلوے سٹیشن اب دھندلا ہوتا جا رہا تھا۔،،

    دو سال بیت چکے تھے تھے اسے اب کبھی کبھار گھر والوں کی یاد ستاتی 

    دل انہیں ملنے کو تڑپ اٹھتا  مگر ننھی لائبہ نے اس کی توجہ ہٹا دی تھی ماضی کی تمام یادیں لائبہ کی ننھی قلقاریوں میں گم ہوجاتیں اسجد بھی تو بہت اچھا تھا اس کے ساتھ اس نے اپنی محبت کے تمام وعدے وفا کیے

    مگر پھر بھی کہیں ایک خلاصہ باقی رہتا وہ بھی جانتی تھیں کہ خلا کہیں باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہے مگر پھر بھی زندگی حسین تھی اور حسین ہی رہتی اگر اس روز مال میں اسے وہ نہ ملتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ لائبہ کو لے کر شاپنگ مال گئی تھی جب پرام کو بچوں کو سیکشن کی طرح دکھیلتے ہوئے اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی

     ایک پل کو جیسے اسے یقین نہ آیا یقینا وہ نادیہ تھی

     اس کی نظر بھی پڑھ چکی تھی اور آنکھوں میں شناسائی کی چمک ائی وہ قدم اٹھاتے اس کے پاس چلی آئی

     کیسی ہو نادیہ؟

     دل تو شدت کے ساتھ اسے گلے لگانے کا چاہ رہا تھا تھا مگر بیچ میں دو سال کا فاصلہ حائل تھا 

    میں ٹھیک ہوں اپا

     تم کیسی ہو ؟ اس نے بمشکل چہرے پر مُسکان سجا لی تھی

    تم ۔۔۔۔یہاں کیسے۔۔۔

    اس کی حیرت ہنوز قائم تھی

    میں یہاں دو ماہ پہلے آئی تھی کامران کی پوسٹنگ ہوگئی ہے نا یہاں

    کامران ۔۔۔۔ اس نے بے یقینی سے اپنی چھوٹی بہن کی طرف دیکھا

    ہاں آپا کسی نے تو ابا کی عزت رکھنی تھی نا

    اسے یقین نہیں آرہا تھا نادیہ اس سے پانچ سال چھوٹی تھی یعنی کامران نادیہ سے آٹھ سال بڑا تھا ایسے میں کوئی مرد شاپنگ بیگ تھامے اس کی جانب آیا تھا بلاشبہ کامران تھا اسے دیکھ کر وہ پل کو ٹھٹکا

     پھر چہرے پر سختی کے آثار آگئے 

    میں کاونٹر پر ہوں وہی آجانا نادیہ کو بتا کر وہ کاونٹر کی طرف بڑھ گیا

     آپی یہ تمہاری بیٹی ہے؟

    اس کی نظر ابھی لائبہ پر پڑی تھی۔۔ ہاں ، اس نے جھک کر اسے پیار کیا تھا ماشاء اللہ بہت پیاری ہے

    کامران ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ ؟

    اس کے دل میں کئی اندیشے جاگ رہے تھے

    ہاں کامران بہت اچھے ہیں آپا وہ نا بھی بولتی تو اس کے چہرے پر آنے والے رنگ خوشگوار ازدواجی زندگی کا پتا دے رہے تھے 

    اور اماں ابا۔۔۔؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا

    وہ فورا سیدھی کھڑی ہوئی لبوں کی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی اپا تم مغرور تھی ان کا

    تمہیں دیکھ کر جیتے تھے وہ

     تم نے اماں سے ان کی زندگی اور ابا سے ان کا غرور چھین لیا

    اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا

    تمہارے جانے کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ جان لیوا ثابت ہوا وہ الفاظ نہیں تھی بلکہ پھگلا ہوا سیسہ تھا جو اس کے کانوں میں انڈیلا جا رہا تھا

    وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی

    ابا تو شاید اس دن کے بعد بولنا ہی بھول گئےکبھی کسی نے انہیں ہنستے ہوئے نہیں دیکھا

    اسے لگا کہ کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے کر مسل دیا ہے

    آپا پتہ ہے اماں نے مرنے سے پہلے تمہارے بارے میں کیا کہا تھا؟

    وہ یک ٹک اسے دیکھنے جارہی تھی

    ماں نے کہا تھا تم بھی میری طرح یوں ہی تڑپو گی  اسے لگا کہ کسی نے اسے پاتال میں دھکیل دیا ہو

    وہ کتنی ہی دیر گم صم کھڑی رہی نادیہ اپنی بات کہہ کر جا چکی تھی وہ بھی اپنے اعمال کردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے گھر کو چل پڑی بے آب اسے پوری زندگی اس بوجھ کے ساتھ جینا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وقت ماہ و سال پر اپنی گرد ڈال کر انہیں ماضی میں بدلتا رہا اور یوں 20 سال گزر گئے لائبہ جوان ہو چکی تھی اللہ نے لائبہ کے بعد اسے کوئی اولاد نہیں دی

     وقت نے اس کے بالوں میں چاندی اتار دی تھی

     سب کچھ بدل گیا تھا اگر کچھ نہیں بدلا تو اس کا پچھتاوا  تھا 

    اسے روز رات کو خواب میں اماں ابا کا چہرہ نظر آتا تھا

     اسے نادیہ کی باتوں کی گونج سنائی دیتی اماں اس کا کاندھا جھنجوڑ کر کہتی تو نے ہمیں تڑپایا ہے تو بھی یوں ہی تڑپے گی وہ نیند میں جاگ جاتی اور دوبارہ سو ہی نا پاتی

     اب تو اسے نیند اور دواؤں کے بنانیند ہی نہیں آتی جاگتے ہوئے بھی ایسے ہی خیال ذہن میں آتے رہتے ہیں

    سب کہتے لائبہ بالکل اس پر گئی ہے وہی آنکھیں وہی ناک نقشہ اور وہ دہل جاتی 

    کہیں وہ بھی میری طرح۔۔۔۔۔۔

    اس سے آگے وہ سوچ نا پاتی

    وہ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرتی جوں ہی وہ کالج سے اتی اس کا بیگ گھنگالتی۔

    وہ سو رہی ہوتی تو کئی بار اس کے کمرے میں جا کر اسے دیکھ کر تسلی کرتی اسجد اور لائبہ دونوں ہی اس کے ان عادت سے نالاں تھے

    اسجد تو پھر سمجھ جاتا پر لائبہ اس پر چڑھ دوڑتی اسے خوب سناتی پر وہ پھر بھی نہ رہ پاتی

     ٹی وی میں یا کسی شخص سے کسی لڑکی کے گھر سے بھاگ جانے کا سنتی تو اس کا زخم ہرا ہو جاتا کئی دن  گم صم بیٹھی رہتی ایسے میں وہ خود سے بھی بے خبر رہتی اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رہتی 

    پھر کچھ دن بعد اسی جون میں واپس آجاتی اور لائبہ کے ساتھ وہی رویہ اپنا لیتی

    ڈاکٹرز کہتے تھے کہ اسے کوئی نفسیاتی عارضہ ہے مگر وہ تو اپنے اعمال کی فصل کاٹ رہی تھی جو زہر اس نے 20 سال پہلے بویا تھا اب وہ ایک تناور درخت بن چکا تھا اور اس کا زہر اس کے اپنے جسم میں سرایت کر چکا تھا

     اب اسے اس زہر کے ساتھ ہی جینا تھا اس زہریلے درخت کی چھاؤں تلے

    (ختم شدہ)

    Tweeter Id Handel:  @