Baaghi TV

Category: متفرق

  • بھارت میں جہالت کی انتہا:بارش دیوتا کو راضی کرنے کے لئے کمسن بچیوں کو برہنہ گھمایا گیا

    بھارت میں جہالت کی انتہا:بارش دیوتا کو راضی کرنے کے لئے کمسن بچیوں کو برہنہ گھمایا گیا

    نئی دہلی: بھارت کی ریاست مدھیا پردیش کے ایک گاؤں میں 6 کمسن بچیوں کو برہنہ کرکے گھمایا گیا ہے یہ شرمناک و افسوسناک واقعہ ریاست مدھیا پردیش کے علاقے بندیل کھنڈ کے ایک خشک سالی کے شکار گاؤں میں پیش آیا ہے۔

    باغی ٹی وی :” ہندوستان ٹائمز "کے مطابق بچیوں کو برہنہ گھمانے کی وجہ یہ تھی کہ گاؤں کے افراد بارش کے دیوتا کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جبکہ ریاستی پولیس کا اس ضمن میں مؤقف ہے کہ کمسن بچیوں کو ان کے خاندانوں کی مرضی کے تحت برہنہ کر کے گھمایا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق این سی پی سی آر نے اس حوالے سے ضلعی و ریاستی انتظامیہ سے باقاعدہ تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیا پردیش کے گاؤں والوں کا فرسودہ رسومات کے تحت کہنا ہے کہ اس طرح وہ بارش کے دیوتا کو راضی کرتے ہیں تاکہ وہ بارش برسا دے اور خشک سالی کا خاتمہ ہو جائے مقامی افراد یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے جو رسم ادا کی ہے اس کی وجہ سے بارش کا دیوتا راضی ہو جائے گا، بارش برسے گی اور خشک سالی کا خاتمہ ہو گا۔

    بھارت میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن نے اس حوالے سے ریاستی و ضلعی انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیا پردیش کی پولیس کا کہنا ہے کہ کمسن بچیوں کے ساتھ خاندانوں کی مرضی سے سب کچھ کیا گیا ہے اور انہیں کوئی شکایت بھی موصول نہیں ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود وہ تحقیقات کررہے ہیں۔

  • 8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    ریاض: سعودی عرب میں سفید شاہین (فالکن) نصف ملین ڈالرز میں فروخت ہوا تو نیا عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق دارالحکومت ریاض سے تقریباً 40 میل کے فاصلے پر واقع ملہم شہر میں سفید شاہین کو نیلامی کے ذریعے 1.75 ملین یورو میں ( مساوی نصف ملین ڈالرزجبکہ 83,994,900 پاکستانی روپے) ) فروخت کیا گیا ہے۔

    قیمت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والےامریکی نسل کے اس سفید شاہین کو عالمی فالکن بریڈرز آکشن (آئی ایف بی اے) نیلامی میں فروخت کیا گیا ہے اور یہ نیلامی بھی تنظیم کے صدر دفتر میں منعقد ہوئی تھی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنی فروخت کے لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے اس سفید شاہین کی عمر ایک سال سے کم ہے اور اسے امریکن پیسفک نارتھ ویسٹ فالکنز فارم سے لایا گیا تھا جسے دنیا میں شاہینوں کی افزائش نسل کے اعتبار سے بہترین سمجھا جاتا ہے سفید شاہین کی لمبائی 16.5 انچ اور وزن 34.5 اونس ہے۔

    سعودی عرب میں منعقد ہونے والی شاہینوں کی سالانہ نیلامی میں 14 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکا شامل تھے اس نیلامی کو سعودی ٹی وی اور سوشل میڈیا نے براہ راست نشر بھی کیا۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب میں مختلف اقسام اور نسلوں کے شاہین پرندوں کی نیلامی کے موقع پر سعودی عرب کی سرزمین پرپائے جانے والے ایک نایاب شاہین کو دو لاکھ 70 ہزار سعودی ریال میں فروخت کیا گیا تھا۔ امریکی کرنسی میں یہ قیمت 72 ہزار ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے۔

    ایس پی اے نے بتایا تھا کہ یہ ڈیل ریاض کے شمال کے ملہم کے مقام پر سعودی فالکن کلب کی طرف سے منظم کی گئی نیلامی کی دوسری رات میں کیا گیا تھا۔ یہ شاہین نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے مہنگا پرندہ ہے۔

    اگست 2021 میں سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی نے بتایا تھا کہ العرادی فارم سے لائے گئےشاہین کی خریداری میں بڑی بولی کے ذریعے فروخت ہونے والے اس شاہین کی لمبائی ساڑھے 17 انچ،چوڑائی پونے 17انچ اور وزن 1105 گرام تھا۔

    سعودی عرب کے ایک مقامی شہری متعب منیر العیافی نے العرادی فارم سے آئے شاہین کی خریداری کی آخری بولی لگائی تھی۔ اس شاہین کو’رغوان‘ کا نام دیا گیا تھا شاہینوں کے مقامی مقابلے سب سے خوبصورت شاہین پیش کرنے والے کو تین لاکھ، دوسرے درجے پر دو لاکھ اور تیسرے پر ایک لاکھ ریال کا انعام رکھا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آئی ایف بی اے کے مطابق سعودی عرب میں 20 ہزار سے زیادہ شاہین ہیں اس پرندے کو بطور خاص عزت و تکریم بھی دی جاتی ہے سعودی عرب نے جولائی 2017 میں فالکنرز کی ایسوسی ایشن بنانے کے لیے ایک شاہی فرمان منظور کیا گیا تھا سعودی عرب نے بین الاقوامی کنونشنوں پر بھی اتفاق کیا تھا کہ فالکن کو معدوم ہونے سے بچایا جائے اور مہاجر پرندوں کی حفاظت کی جائے۔

    دسمبر میں ریاض کے قریب ہر سال منعقد ہونے والے کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹیول نے 2019 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اس وقت جگہ حاصل کی تھی جب 2،350 شاہینوں کی حاضری ریکارڈ کی گئی تھی۔

    مشرق وسطیٰ میں شاہین سے محبت اور اسے پالنے کی پوری تاریخ ہے اور اکثر دولت مند افراد اس پرندے پر بطور خاص رقوم بھی خرچ کرتے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی شاہین اس قدر مہنگا فروخت ہوا کہ عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا خلیج میں اس پرندے کو ثقافت کا بھی حصہ سمجھا جاتا ہے-

  • را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    را کے کارنامے ، مودی کے منہ پر چپیڑ ، ذلت اور رسوائی کی عجب داستان،تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی تاریخ میں ویسے تو ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بہت بڑے بڑے بلنڈرز کیے ہیں ۔ ناکامیوں کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔ پر سب سے پہلے جو افغانستان میں بھارت کے ساتھ ہوا ہے اسکو آپicing on the cakeکہہ سکتے ہیں ۔ ۔ اب جو بھارت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر میں ان کے سیاسی دفتر میں رابطہ کیا ہے ۔ یہ شکست کا ثبوت ہے ۔ ویسے کوئی خاص دال گلتی بھی نہیں دیکھائی دیتی ہے ۔ کیونکہ بھارت نے پہلے دن سے افغانستان میں لنگڑے گھوڑے پر جوا لگایا ہوا تھا ۔ مشورہ کس کا تھا ۔ raw کا ۔ سوال یہ ہے جو بھارتیوں کو مودی اور rawسے پوچھنا چاہیئے کہ مذاکرات ابھی تو شروع نہیں ہوئے ۔ یہ دو تین سال سے جاری تھے ۔ تب انھوں اپنے آپکو کیوں نہیں بدلا ۔ بھارت تو روز اول سے طالبان کو اپنا دشمن نمبر ون سمجھتا رہا ہے ۔
    adviceکس کی تھی ۔ اجیت ڈول اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کی بھئی ۔۔۔ ۔ پھر اشرف غنی ہو ۔ یا شمالی اتحاد والے ان پر خوب پیسہ بھی لگایا گیا ۔ پر یاد رکھیں جب آپ ریس میں لنگڑے گھوڑے پر پیسہ لگا بیٹھتے ہیں تو پھر پیسہ تو ڈوبتا ہی ہے ساتھ آپکی عزت اور ساکھ بھی ساتھ ہی جاتی ہے ۔ تو میں افغانستان کے معاملے میں خاص طور پر rawکا شکر گزار ہوں ۔ جنہوں نے اتنا اچھا کھیلتے ہوئے بھارت کو افغانستان میں بھی ذلیل کروایا اور مزید یہ آنے والے دنوں میں کروائیں گے ۔ کیونکہ ہم چاہیں بھول جائیں طالبان کو یاد رہے گا کہ کیسے rawنے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچائے ۔ یہ وہ کسی صورت نہیں بھولیں گے ۔ اب بھی جو بھارتی میڈیا rawکے اشاروں پر گند ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے دیکھا جائے تو یہ بھارت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی کرے گا ۔ اس کوئی فائدہ بھارت کو نہیں پہنچنے والا۔

    ۔ پھر طالبان نے امریکہ کو چت کر دیا ہے تو اگر rawکے اجیت ڈول اور افسروں کا یہ خیال ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر بلیک میل یا فائدہ اٹھا لیں گے تو ان کی بھول ہے ۔ اس وقت بھارت جس تنہائی کا شکار ہے شاید ہی کبھی ہوا ہے ۔ یاد کریں یہ وہ ہی بھارت ہے جو کہا کرتا تھا پاکستان کو دنیا میں تنہا کردیں گے ۔ پر پاکستان کی دنیا بھر میں خوب آو بھگت ہورہی ہے ۔ بھارت کو کوئی منہ نہیں لگا رہا ہے ۔ سوچنے کی بات ہے ۔ ۔ را ۔۔۔ کے مزید بلنڈرز بتانے سے پہلے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل نے کئی سال پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی ۔ اب امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دیں گے اور آج یہ سچ ثابت ہوچکا ہے ۔ تو یہ ہوتی ہے انٹیلی جنس ۔۔۔ والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آسکتی ۔ نہ ہی اجیت ڈول کو یہ پتہ لگ سکتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کےساتھ ہوا کیا ہے ۔ یہ ان کی سوچ سے بھی آگے کی چیزیں ہیں ۔ ۔ اب آپکو ایک سال پیچھے 2020 میں لیے چلتا ہوں ۔ چین چپ کر آیا ۔ بھارتیوں کی بینڈ بجائی ۔ بندے مارے ۔ علاقوں پر قبضہ کیا ۔ مگر ۔۔۔ بھارت کی نمرون انیٹلی جنس ایجنسی ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ لداخ میں پٹائی کے بعد جو بھارت بدحواس دیکھائی دیا ۔ اور جو اس کی شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب جگ ہنسائی ہوئی اس کی ایک ہی وجہ تھی ۔۔۔ را ۔۔۔ کی ناکامی ۔

    ۔ اس کے بعد سال 2019 بھی بھارت کی ناکامی اور نامرادی کا سال ثابت ہوا ۔ اس سال فروری میں پلوامہ حملہ ہوا جس میں 40 بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ اب یہ میں نہیں اس واقعے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی ، مقبوضہ جموں و کشمیر کے گورنر ، ستیہ پال ملک ، سابق وزیر مملکت دفاع ، جتیندر سنگھ ، اور ممتاز قانون ساز ، گالا جے دیو وغیرہ نے انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ یعنی Rawکا failure تھا ۔ اس وقت مودی نے ۔۔۔ را۔۔۔ کو بچانے کی پوری کوشش کی اور اسی دھن پر زور دیتے رہے کہ پاکستان نے اس پروگرام کو ترتیب دیا تھا۔ اس کے بعد کی تاریخ سب کو معلوم ہے کہ ۔۔۔ را۔۔۔ کی ایک غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے مودی نے دوسری غلطی کی اور پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتا ۔ اور بھارت ایئر فورس پوری دنیا میں ننگی ہوگی ۔۔ مگر پلوامہ پر ۔۔۔ گلف نیوز۔۔۔ نے لکھا تھا کہ جب 2500 فوجیوں کو لے جانے والی 78 بسیں حملہ زدہ علاقے سے گزرتی ہیں تو کچھ منصوبہ بندی اس سے پہلے ہوتی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ منصوبہ بندی تھی ہی نہیں ۔ قافلہ ایک قریبی قطار میں آگے بڑھا ۔ escortکرنے والی گاڑیاں نہیں تھیں ۔ یہ بھی واضح نہیں تھا کہ قافلے کا اگلا ، پیچھے اور درمیان والا حصہ پیچھے ریڈیو سے مسلسل رابطے میں تھا کہ نہیں ۔ جب بمبار کار ایک سڑک سے ہائی وے میں شامل ہوئی تو کسی کو پتہ نہیں چلا اور ٹارگٹ بس سے ٹکرانے سے پہلے بھی کسی ایک سپاہی کی طرف سے کوئی الرٹ نہیں جاری کیا گیا ۔

    ۔ اب پھر واضح کردوں ۔ یہ میں نہیں کہہ رہا یہ دنیا کہہ رہی ہے ۔ لیکن اُس وقت بھی نہ تو ہندوستانی میڈیا اور نہ بھارتی سیاستدانوں نے مانا کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کی کارنامے تو پتہ نہیں ہیں کہ نہیں ۔۔۔
    بلنڈرز بہت ہیں ۔ مزے کی بات ہے اس واقعہ کے بعد اجیت ڈول نے دوچار بالی وڈ فلمیں بنوائیں۔ اور کھایا پیا سب ہضم ۔۔۔ 2016کی بات کریں ۔ تو اس سال بھی rawکو دو بڑی ناکامیوں کو سامنا کرنا پڑا۔ ایک پٹھان کوٹ اور دوسرا ۔۔۔ اُڑی ۔۔۔ حملہ ۔ اس پر تو بھارتی میڈیا کیا ۔ سرکردہ سیاست دان میں چلا اُٹھے تھے کہ یہ ایک intelligence failure ہے ۔ پھر بھی اجیت ڈول جو ہیں وہ ڈنگیاں مارنے سے باز نہیں آیا اور اس نے سرکار کے خرچے پر بالی وڈ سے درجنوں فلمیں بنوا کر سبکی کو دور کروانے کی کوشش کی ۔ پر سچ کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ۔۔۔ اُڑی اور پٹھان کوٹ ۔۔۔ حملوں میں بھارتی فورسز کو کوٹ تو پڑی ہی تھی ۔ پر ساتھ بھارت کی preimier intelligence agency ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوئی تھی ۔ ۔ پھر اکتوبر 2005 اور 2011 دہلی بم دھماکے اور 1993 ، 2002 کے دوران ممبئی میں بے شمار دہشت گرد حملے ہوئے ۔ پھر 2003 ، 2006 ، 2008 اور 2011 کے دوران چار واقعات را کی انٹیلی جنس ناکامی کی واضح مثالیں ہیں۔2010 اور 2012 میں پونے شہر پر دو بار حملہ ہوا ۔ اکتوبر 2013 کو بہار میں ایک انتخابی جلسے کے دوران بم دھماکے ہوئے ۔ جولائی 2013 میں بہار میں پھر دھماکے ہوئے ۔ مارچ
    2006 اور دسمبر 2010 وارانسی دھماکے ، مختلف بھارتی ریاستوں میں مسلسل بدامنی اور دنیا کے دوسرے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں علیحدگی پسند تحریکیں اس حقیقت کی کافی گواہی ہیں کہ ۔۔۔ را ۔۔۔ اپنے گھر کو پہلے ترتیب دینے کے بجائے اپنے پڑوسیوں کے معاملات میں دخل اندازی اور مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اچھا یہ تو کچھ بھی نہیں ۔

    ۔ پھر نومبر 2008 میں ممبئی حملے ہوئے ۔ ممبئی کے تاج ہوٹل میں کئی لوگوں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔ جس نے پورے بھارت کو دنگ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ اس دن 11 مقامات پر بیک وقت حملے کئے گئے۔ اور حملہ آور بحیرہ عرب سے آئے۔ ممبئی حملوں نے جس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ، کم از کم 174 افراد ہلاک ہوئے ، جن میں نو حملہ آور بھی شامل تھے۔ پر ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ سے کسی نے نہیں پوچھا ۔ کہ اتنی بڑی کاروائی ہوگئی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی ۔ پر اس بار پھر ایک ہی کام کیا گیا کہ ملبہ پاکستان پر ڈالو اور بالی وڈ کی فلمیں بناو۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را۔۔۔ کی عزت بچا لی گئی ۔ ۔ اسکے بعد بھارتی پارلیمنٹ پر 2001 میں حملہ ہوا جس کا ذکر ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے۔۔۔ نے ایک اور قومی سلامتی کی غلطی کے طور پر کیا۔اس نے زور دے کر کہا تھا ۔۔۔ پارلیمنٹ پر حملہ reality televison تھا ۔ جس کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں کو کچھ پتہ نہیں تھا۔۔ پھر بھارت کے لیے بدقسمت سال 1999بھی تھا ۔ جب کارگل جنگ کے موقع پر بھارت کی خوب ٹھکائی ہوئی ۔ جب پاکستانی شیر جوانوں نے بھارت کو دھول چٹائی اور دنیا بھر کے سامنے ثابت کر دیا کہ بھارتی فوج اسکی خفیہ ایجنسیوں کی اوقات کیا ہے ۔

    ۔ پھر اسی سال ۔۔۔ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہوجاتا ہے ۔ جس کو ۔۔۔ انڈیا ٹوڈے ۔۔۔ نے اپنے ملک کی قومی سلامتی اسٹیبلشمنٹ کی ایک بڑی سکیورٹی ناکامی کہا ۔ اس وقت بھی بھارت کے
    so called spy master نے چھ دن بعد ہائی جیکروں کی جانب سے بھارتی جیلوں میں بند تین لوگوں کی رہائی کے مطالبے کو تسلیم کر لیا۔ یوں ایک بار پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ ذلت کی گہرایوں میں جا گری ۔ پر ان دنوں معاملوں پر بھی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے بالی وڈ فلمیں ہی بنوائیں اور جھوٹی سچی تاریخ لوگوں کو سنوائی ۔ ۔ پھر ۔۔۔ را ۔۔۔ 1991میں راجیو گاندھی کو بھی بچا سکتا تھا ۔ پھر ناکام رہا ۔ کیونکہ نہ تو ان کی ٹریننگ ہے نہ ہی اہلیت ۔ ساتھ ہی بھارتی ۔۔۔ را ۔۔۔ نے تامل ٹائیگرز کو جتنی مرضی سپورٹ دی ۔ پرآخر میں وہاں سے بھی بھارت رسوا ہو کر ہی نکالا تھا ۔ ۔ اندرا گاندھی کے دور کی بات کی جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو قتل ہونے سے بھی نہیں بچا پائی ۔ حالانکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے سازش کا پہلے سے علم تھا۔ یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ ہی تھی ۔ جس نے بھارت میں 1975 کی ایمرجنسی لگوائی جس کا اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا ۔۔ تاریخ نے بعد میں ثابت کیا کہ یہ ایمرجنسی ایک مہلک غلطی تھی اور ۔۔۔ را ۔۔۔ اندرا گاندھی کو ان کی عوامی حمایت اور مقبولیت کے بارے میں غلط اندازے دے رہی تھی۔ جون 1984 میں سکھوں کے خلاف ۔۔۔ آپریشن بلیو سٹار ۔۔۔ کے دوران ۔ را ۔۔۔ ایک بار پھر ناکام ہوگئی کیونکہ وہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل یں سکھ کمانڈر بھنڈرانوالے کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکی۔ اس ۔۔۔ را ۔۔۔ کی جانب سے پانچ گھنٹے کی کارروائی کے بارے میں سوچا گیا تھا جو کہ بعد میں پانچ دن تک بڑھ گئی ۔ اور سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے انڈین آرمی کو ٹینک لانے پڑے۔ اس کے نتیجے میں فوج کو بھاری جانی نقصان ہوا ۔ ۔ را ۔۔۔ کے اس غلط اندازے کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بعد میں بھاری قیمت چکانی پڑی اور ان کے سکھ محافظوں نے انہیں گولیاں ماریں ۔ ۔ تو یہ ۔۔۔ را ۔۔۔ کے کارنامے نہیں کرتوت ہیں ۔ بھارت کے ٹیکس دینے والی عوام کو چاہیئے کہ وہ اس بارے اپنی حکومت سے بھی اور اس جاسوس ایجنسی کا بھی احتساب کرے کہ یہ کیا گل کھلاتی رہی ہے ۔ ماضی میں بھی اور اب بھی ۔ ۔ پھر بھارت کی انٹیلی جنس ناکامیوں کا اصل جھومر تو 1962میں ہوا ۔ کیونکہ ہندوستان کو کبھی شبہ تک نہیں تھا کہ چین حملہ کرے گا ، لیکن اس نے ایسا کیا۔

    ۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے یقین دہانی کہ چین کبھی بھی حملہ نہیں کرے گا اس چیز نے بھارتی فوج کو تیار ہی نہیں ہونے دیا اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بھارت کو خوب مارپڑی ۔ اس جنگ میں تین ہزار سے زائد بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے ۔ سولہ سو سے زائد لاپتہ ہوئے اور تقریباً چار ہزار چینی فوج نے جنگی قیدی بنا لیے ۔ جبکہ مقابلے میں چین کے صرف
    722 فوجی ہلاک ہوئے اور 1697 زخمی ہوئے۔

    ۔ پھر ہندوستانی سیاسی قیادت بیرونی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی دوڑتی دیکھائی دی ۔ اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم ، جواہر لال نہرو نے مایوسی میں امریکہ کو دو خط لکھے تھے۔ جس کے تحت لڑاکا طیاروں کے 12 سکواڈرن اور جدید ریڈار سسٹم کی درخواست کی گئی۔ نہرو نے یہ بھی کہا کہ ان طیاروں کو امریکی پائلٹوں کے ذریعے اُڑایا جائے جب تک کہ ہندوستانیوں کو ان کی جگہ لینے کی تربیت نہ مل جائے۔ یہ درخواستیں کینیڈی انتظامیہ نے مسترد کر دی تھیں۔ اس کے باوجود امریکہ نے ہندوستانی افواج کو غیر جنگی مدد فراہم کی اور ہوائی جنگ کی صورت میں بھارت کی مدد کے لیے کیریئر“USS Kitty Hawk” کو خلیج بنگال بھیجنے کا ارادہ کیا۔۔ دراصل اس وقت بھی بھارتی ایجنسیوں نے شدنی چھوڑی تھی کہ تبت میں 1959 کی بغاوت ہوئی تو نئی دہلی نے دلائی لامہ کو پناہ دینے ٹھان لی ۔ جس کے بعد یہ واقعہ ہوا ۔ اور چین نے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد کروادیا ۔ یوں اس جنگ کی ہار کا دکھ لیے ہی نہرو اس دنیا سے چلے گئے ۔

    ۔ دراصل دیکھا جائے تو ۔۔۔ را۔۔۔ کی ناکامیوں سے پوری کی پوری ایک تاریخ بھری پڑی ہے جس کی قیمت بھارت نے ہمیشہ ادا کی ہے ۔ مگر بعد میں بھارتی حکومت نے صرف فلمیں ہی بنوائیں ہیں ۔ اس لیے امید ہے جلد مودی ، راج ناتھ سنگھ اور اجیت ڈول افغانستان سے آخری 150سے 200بھارتی کیسے نکالے اس پر بھی کوئی فلم بنوا ہی دیں گے ۔

  • سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم شہزادی

    سگریٹ نوشی کے نقصانات .تحریر:ارم رائے

    زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک خوبصورت نعمت ہے اور یہ نعمت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اسے بھرپور طریقے سے جیئیں، اب یہ لوگوں کا رویہ مختلف ہوتا ہے کہ اس کو کیسے بھر پور جینا ہے کیونکہ لفظ بھرپور کی تعریف سب کی اپنی اپنی ہے۔ کچھ لوگ اسے اللہ کی یاد میں کھو کر اسکے زکر سے لطف اندوز ہوکر جیتے ہیں تو کوئی ماڈرنزم کے نام پر مختلف بری عادات میں کھو کر جیتے ہیں۔ اللہ کی یاد میں گزاری زندگی نا صرف دنیا کے لیے بھرپور ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی اجر و ثواب کی حقدار بنتی ہے جبکہ دنیوی عیش وعشرت میں کھو کر اور بری عادات میں کھو کر زندگی تو خراب ہوتی ہی ہے آخرت بھی برباد ہوتی ہے۔ ان بہت ساری معاشرتی برائیوں یا بری عادات میں ایک عادت سگریٹ نوشی تمباکو نوشی کی ہے جو ناصرف آپکی زندگی خراب کرتی ہے صحت خراب کرتی ہے بلکہ اپکی آخرت بھی خراب کرتی ہے کیونکہ یہ نشہ ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ پھر اسکا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ یہ نا صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو برباد کرتی ہے بلکہ آس پاس لوگوں کو بھی بیمار کرتی ہے ماحول الودہ کرتی ہے۔ ماحول کی الودگی ٹریفک کی وجہ سے پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہے ساتھ اپنے ہاتھ سے دھواں سانس کے زریعے خود پھیپھڑوں میں اتارنا ہے۔ بلکہ ساتھ بیٹھے لوگوں کے اندر میں دھواں ٹرانسفر کرنا ہے۔ اس معاشرتی برائی کے معاشرتی پہلو الگ ہیں مذہبی الگ ہیں اور صحتی الگ ہیں۔ پہلے اسکے معاشرتی پہلو پر نظر ڈالیں تو ہمیں آج ایک بڑی تعداد اس میں مبتلاء نظر اتی ہے پھر بدقسمتی سے اس بچے ٹین ایج بچے تو شامل ہو ہی رہے ہیں ساتھ لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد اس، میں مبتلاء ہوچکی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے، ہمارا رہن سہن ہمارا معاشرتی ماحول ہمیں اس چیز کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اور پھر ہمارا ماحول ہمارے مذہب سے جڑا ہے اور ہمارے مذہب میں تمباکو نوشی کی گنجائش ہی نہیں نکلتی ہے کیونکہ یہ نشہ میں شمار ہوتا ہے اور نشہ حرام ہے مذہب اسلام میں۔ قران شریف میں نبی کریم صلی الله عليه والہ وسلم کا ایک وصف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی الله عليه والہ وسلم حلال پاکیزہ طیب چیزوں کو حلال ٹھہراتے اور خبیث و ناپاک اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مکمل مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام غلط اشیاء جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوں حرام و ناجائز ہیں۔ اور سگریٹ کے بارے میں تو طے شدہ بات ہے کہ یہ انتہائی مہلک اور مضر صحت ہے۔،سگریٹ کا بینادی عنصر تمباکو ہے جو بنگسن کی نسل سے ایک نباتات ہے جسے کھانے سے جانور بھی اجتناب کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے سگریٹ میں بھر کر وہی زیر انسان خود اپنے ہاتھوں سے پھانکتا ہے۔اور اس کے مسلسل اور زیادہ استعمال کی وجہ سے انسان میں کئی نفسیاتی و جسمانی امراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اسکے باوجود معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اسے استعمال کرتا ہے۔اس رجحان کو کم کرنے کے لیے کئی رسالے مقالے اور سیمنارز ہوتے رہے کئی ممالک نے اس ہر پابندی بھی لگائی لیکن مکمل عملدرآمد نہیں کروا سکے۔ ایک اندزے کے مطابق تقریباً 6لاکھ سے زائد افراد اسکی وجہ سے موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اسی طرح غیر فعال تمباکو نوشی کے سبب ایک لاکھ پینسٹھ ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے 40فیصد بچوں اور 33فیصد مردوں جبکہ 35 فیصد خواتین کی صحت کے گوناگوں خطرات لاحق ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں کی زد میں آکر امراض قلب میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 3لاکھ 79ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ایک لاکھ65 ہزار افراد سانس کی نالی کے انفیکشن جبکہ36 ہزار دمہ کے امراض اور 21ہزار 4سو پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلاء ہیں۔ تمباکو میں موجود نیکوٹین جیسا زہریلا مادہ موجود ہوتا ہے جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلرز کو بری طرح متاثر کرتا ہے، نیکوٹین سے دل پھیپھڑے کے امراض کے علاوہ اعصابی امراض بھی جنم لے رہے ہیں اور خواتین میں اسکے استعمال کی وجہ سے ماں بننے کی صلاحیت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ڈاکٹر فہیم جو کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال میں ہوتے ہیں انکا کہنا ہے کہ شوکت خانم نا صرف کینسر کا علاج کررہا ہے بلکہ سگریٹ کے دھوئیں سے ہونے والے منہ کے کینسر انتڑیوں کے کینسر اور پھیپھڑوں کے کینسر کے بچاؤ کے لیے باقاعدہ مہم چلاتا ہے آگاہی فراہم کرتا ہے بچاؤ کے طریقے بتاتا ہے۔ اور اس سال کورونا میں ہونے والی اموات میں زیادہ وہ لوگ شامل تھے جو کسی نا کسی طرح تمباکو کے عادی تھے کیونکہ کورونا کا بھی براہ راست اثر پھیپھڑوں پر ہوتا ہے اور جو پھیپھڑے پہلے ہی تمباکونوشی کے عادی تھے اور کمزور ہوچکے تھے ان پر جلدی اثر ہوا۔ڈاکٹر فہیم کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ سگریٹ یا تمباکو کے دھوئیں میں تقریباََ سات ہزار کیمیکل ہوتے ہیں جن میں آڑھائی سو کے قریب انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتے ہیں اور پچاس سے زائد ایسےکیمیکل ہیں جو کینسر ک باعث بنتے ہیں۔ دھوئیں سے دل کی نالیاں سخت ہوجاتی ہیں جس سے ہارٹ اٹیک اور سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس دھوئیں سے منہ کا کینسر گلے کا کینسر اور خوراک کی نالی کے کینسر سر فہرست ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے متفقہ طور پر کینسر اور دل کی بیماریوں کو 54فیصد تمباکو کے دھوئیں کا باعث قرار دیا ہے۔ دھوئیں سے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور بالاخر ہارٹ اٹیک تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے بچا کیسے جائے؟ حکومت ایسے پروگرام شروع کرے جس، میں عوام، میڈیا، بزنس کمیونٹی، سکول، کالج، یونیورسٹی کے طلباء بھر پور حصہ لیں۔نصاب میں اسکے نقصانات کو شامل کیا جائے اسے ایک سماجی برائی کے طور پر معاشرے میں متعارف کروایا جائے، عوام کو بتایا جائے کہ بیشک سگریٹ کے لیے کتنے ہی اچھے کمرشل بنیں لیکن آخر میں ساتھ ہمیشہ لکھا ہوتا ہے کہ "خبردار تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے وزارت صحت”۔ اس کے اخلاقی مذہبی اور صحت کےنقصانات کے حوالے سے آگہی دی جائے اس سے بچاؤ کے حوالے سے تجاویز دی جائیں صحت مند سرگرمیوں کے لیے راہ ہموار کی جائے کھیلوں کو زندگی کا حصہ بنایا جائے خوارک کو صحت مند بنایا جائے تاکہ اس سماجی برائی کے صحت پر مضر اثرات کو کنٹرول کیا جاسکے اور ختم کیا جاسکے
    جزاک اللہ
    تحقیق وتحریر
    @irumrae

  • تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    تمباکو نوشی جسم کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ تحریر:ملک ضماد

    سگریٹ پینے سے جسم پر کئی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ایک سائنسی تحقیق کے مطابق، سگریٹ پینے سے تمباکو کے استعمال سے منسلک نہیں بلکہ ان تمام وجوہات سے مرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سگریٹ پینے سے نظام تنفس، گردش کا نظام، تولیدی نظام، جلد اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں اور اس سے بہت سے مختلف کینسروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔استحریر میں سگریٹ پینے سے کچھ ممکنہ اثرات دیکھتے ہیں۔1. پھیپھڑوں کو نقصان۔سگریٹ پینا پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ایک شخص نہ صرف نیکوٹین بلکہ مختلف قسم کے اضافی اور ٹاکسن کیمیکلز میں سانس لیتا ہے۔سگریٹ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے میں خاطر خواہ اضافے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ خطرہ مردوں کے لیے 25 گنا اور خواتین کے لیے 25.7 گنا زیادہ ہے۔2. دل کی بیماری سگریٹ پینا دل، خون کی شریانوں اور خون کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔سگریٹ میں موجود کیمیکلز اور ٹار کسی شخص کے ایتھروسکلروسیس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جو خون کی رگوں میں تختی کی تعمیر ہے۔ یہ تعمیر خون کے بہاؤ کو محدود کرتا ہے اور خطرناک رکاوٹوں کا باعث بن سکتا ہے۔3. بانجھ پن کے مسائل۔سگریٹ پینا عورت کے تولیدی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور حاملہ ہونا زیادہ مشکل بنا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تمباکو اور سگریٹ میں موجود دیگر کیمیکل ہارمون کی سطح کو متاثر کرتے ہیں۔4. حمل کی پیچیدگیوں کا خطرہ۔ایکٹوپک حمل کے خطرے میں اضافہ،بچے کے پیدائشی وزن میں کمی، قبل از وقت ترسیل کے خطرے میں اضافہ، جنین کے پھیپھڑوں، دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کو نقصان پہنچانا۔اچانک بچوں کی موت کے سنڈروم کے خطرے میں اضافہ۔5. ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ۔ ایک بین الاقوامی ادارہے کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ باقاعدگی سے تمباکو نوشی کرتے ہیں ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی نشوونما کا خطرہ 30-40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔6. کمزور مدافعتی نظام۔سگریٹ نوشی انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتی ہے، جس سے وہ بیماری کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔یہاں، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کروناوائرس ایک موذی وبا ہے جو انسان کے پھیپھڑوں اورمدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے نتیجے میں اسیے افراد جو تمباکو نوشی کا استعمال کرتے ہیں ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔7. بینائی کے مسائل۔سگریٹ پینا آنکھوں کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے، بشمول موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط کا زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ لہٰزا، ہر انسان کو چاہیے وہ سیگریٹ نوشی جیسی لعنت سے دور رہ کر آپنے اور آپنے چاہنے والوں کا خیال رکھے۔

  • دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد اور اسکا علاج .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت کا درد آپ کے مسوڑھے میں پھنسے ہوئے پاپ کارن سے لیکر ٹوٹے ہوئے دانت یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ تک کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے۔کچھ دانتوں میں درد عارضی طور پر ھوتا مگر دانتوں کے شدید درد کو دانتوں کے پیشہ ور ڈاکٹر سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درد کی جو بھی وجہ ہو اس کو حل کیا جائے۔آج کے کالم میں بتانے کی کوشش کرونگا کے دانتوں کے درد کی وجہ یہ ھوتا کیسے اور اس مناسبت سے اسکا حل و علاج کیا ھونا چاھیئے۔
    دانت کے درد کی ساری وجوہات میں سے چند درج ذیل ھیں
    1۔دانتوں میں کیڑا لگنا
    2۔دانت کا فریکچر ھونا
    3۔ٹوٹی یا خراب فلنگ یعنی بھرائی کا ھونا
    4۔مسوڑوں کا انفیکشن ھونا
    5۔نئے دانت کا بالخصوص عقل داڑھ کا نکلنا
    6۔دانتوں کو رگڑنا گرائنڈ کرنا
    7۔کوی بھی ایسی بیماری یا وجہ جس سے دانت کا کمزور پڑ جانا
    اب آتے ھیں دانت کا درد ھوتا کیسے ھے یہ بات تو صاف ھے کے دانت بذات خود ایک بے جان ھڈی ھے جسکو ٹھنڈا گرم لگنا یا درد کا ھونا ناقابل فہم ھے تو پھر دانت میں کوئی مسئلہ ھو تو درد کیوں ھوتا ھے؟ سنسیٹویٹی کیوں محسوس ھوتی ھے؟اسکی وجہ ھے دانتوں میں موجود Pulp یعنی پلپ یہاں موجود ھوتی تمام innervation عام لفظوں میں ناڑ یعنی nerve supply پس یہی وہ چیز ھے جسکو جب کوی چھیڑخانی ھو تو سردی بھی لگے گی اور گرمی بھی کسی قسم کی انجری ھوی تو درد بھی ھوگا اسکو سمجھنے لئے بتاتا ھوں ایک مریض شدید دانت درد میں آیا اسکا علاج کرنے لئے ٹیکا لگایا جگہ سن ھوگئی دانت کا درد وقتی طور پر غائب ھوگیا یہ درد کیوں غائب ھوا؟ دانت وھی انفیکشن وھی پر تو درد کیسے غائب وہ اسلئے کہ جو ناڑ درد کی زد میں تھی وہ دانت کے اندر pulp میں موجود تھی اور جب وہ سن ھوئی تو درد وقتی غائب ھوگیا یہ pulp دانت کا ڈیفنس سسٹم ھے درد کی شدت جہاں مریض کو سکون سے بیٹھنے نھیں دیتی وھی وہ مریض لئے باعث نعمت بھی ھے کہ اگر یہ محسوس نا ھو اور انفیکشن بڑھتا جائے تو نا صرف دانت بلکہ کئ کیسز میں جبڑا تک لپیٹ میں آجاتا ھے۔

    دانت کے درد کی شدت ایک معمولی سنسناہٹ سے لیکر دل کی تکلیف سے زیادہ تک ھوتی ھے اس شدت کا تعلق بھی اسکی وجوہات میں پوشیدہ ھے دانتوں کے درد دو طرح کے ھوتے ایک درد کو ھم Acute Pain کہتے یہ اچانک ھوتا شدید ترین ھوتا اور فوری علاج بھی مکمل غائب بھی ھوجاتا دوسرا chronic pain کہلاتا یہ پرانا انفیکشن پرانا درد کہلاتا یہ شدت میں کم کسی خاص وقت زیادہ اور کبھی کبھی ھوتا یہ دیر سے ختم ھوتا اکثر دانت کے نکلوانے کیبعد ھی جاکر اس درد کا خاتمہ ھوتا یہ وہ کیسز ھوتے جن کا بگاڑ شوکت خانم ھسپتال جیسے اداروں طرف رخ کرواتے اسکے علاوہ ایک درد جسکو Referred Pain کہتے یعنی ھو کسی اور دانت میں رھا مگر محسوس کسی اور جگہ ھورا ھوتا کہلاتا دانتوں کے درد کا کوی خاص وقت نھیں ھوتا اکثر لوگ جو دانتوں کے مسائل میں گرے ھوتے وہ مجھ سے جب شکایت کرتے انکو رات کے وقت شدید درد ھوتا تو میں انکو سمجھانے لئے بتاتا وہ اسلئے کہ رات کو منہ زیادہ خشک ھوتا تو ایسے میں بیکٹریا کو اپنا پراجیکٹ باآسانی کرنے کو ریلاکس ماحول مل جاتا اسلئے رات سونے سے پہلے نیم گرم پانی نمک ڈال کلی لازمی کریں بہرحال وجوہات کئ تو علاج بھی کئ موجود ھیں انفیکشن ھے کیڑا لگ گیا ھے آدھا ٹوٹ گیا فریکچف ھوگیا تو دانت کا روٹ کینال کرائیں زیادہ خراب ھونے کی صورت نکلوا دیں مسوڑوں کا انفیکشن ھے تو دانت صاف کرائیں ماؤتھ واش توتھ پیسٹ استعمال کریں دانت گرائنڈ کرتے تو اسکے پیچھے جو وجوہات ھیں انکو دور کریں Bells Palsy یا Trigeminal Nuralgia مخصوص nerves کی بیماری ھوتی اسکی وجہ سے منہ میں دانتوں میں شدت کا درد ھوتا یہ باقی دانتوں کے درد سے مختلف اس طرح ھوتا کہ یہ کسی خاص عمل سے ایک دم شروع ھوتا انتہائ شدید ھوتا مگر جلد ختم ھوجاتا جبکہ دانت کا اپنا درد جب ھوا دیر تک رھتا ساتھ کئ کیسزز میں ٹھنڈا گرم بھی ساتھ لگ رھا ھوتا کوی نا کوی دانت کیڑا لگا ھوا ضرور ھوتا اسکا علاج دوائیوں سے لیکر جو ناڑھ زد میں آئی اسکی سرجری تک ھوتا ھے دانتوں کے درد میں وقتی طور انفیکشن کنٹرول لئے دوائیاں دی جاتی اکثر کیسز میں میٹرونیڈازول المعروف flagyl دی جاتی تو مریض کہتا کہ یہ دو معدے لئے ھے تو انکو بتانے لئے کہ کہ antibiotic کوی بھی ھو وہ کسی جسم کے حصے لئے نھیں وہ ھمیشہ مخصوص بیکٹریا لئے ھوتی اب وہ بیکٹیریا اگر منہ میں ھوں یا معدے میں اگر وہ ایک خاص قسم کے ھیں تو دوائ بھی وھی ھوگی درد انفیکشنز کی دوائیاں بھی مختلف ھوتی اس سے اکثر مریض معدے میں جلن اور درد کی شکایت کرتے اسکے لئے معدے کے لئے بھی Antacid ساتھ دیا کرتے گھریلو ٹوٹکوں کے طور پر اکثر لوگ لونگ کا تیل cotton پر لگا کر دانت کے اندر رکھتے نیم گرم پانی میں نمک ڈالکر کلی کرتے اور اسی طرح لہسن کو پیس کر پانی نکال کر cotton ساتھ لگا کر دانت میں رکھ لیتے اس سے وقتی آرام آجاتا

    الغرض دانتوں کے کئی مسائل اور وجوہات کی بنا پر دانتوں میں درد نکل آتا ھے جنکا سدباب بروقت تشخیص اور علاج سے ممکن ھے کسی بھی طور پر کسی درد کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا بڑی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن سکتا ایسی تمام پریشانیوں سے بچنے لئے ڈینٹل سرجن کو لازم چیک کرواکر علاج کرانا بڑی پریشانی و تکلیف سے نجات کا باعث بن سکتا ھے

  • شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

    شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

     
    امن و امان  دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر قیمتی چیز ہے کیونکہ جنگ و جدل اور خون خرابے والے ماحول میں نا تو کوئی اپنی خوشیوں سے لطف و اندوز ہو سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی زندگی چین سے جی سکتا ہے۔ مگر پاکستان  کے باسیوں نے سنہ2007 سے سنہ 2018 تک کا وقت بڑی مشکل سے گزار، جب مساجد سے لیکر اسکول، جامعات، پارکس، ائیر بیسز سے لیکر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر و اورانکی ٹرانسپورٹ سروس  تک غیر محفوظ ہو گئی تھی۔ جب عسکری اہلکاروں کو خاکی یونیفارم دفاتر میں جاکر پہننے کے احکامات تھے ، جب ہمارے فوجی قافلے پاکستان کی ہی سڑکوں پر خون میں نہلا دیئے جاتے تھے، جب ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا جاتا تھا، جب دہشت گرد پاکستان کے شہروں، قصبوں ، گلی محلوں میں روپ بدل کر گھل مل کر رہنے لگے تھے اور موقع ملتے ہی ہمارے پیٹھ پر وار کردیتے تھے، جب فوج کے لیے دوست ، دشمن، اپنے اور پرائے میں فرق کرنا محال ہو گیا تھا اور جب پاک فوج کے بیٹے ہر روز شہادتیں پیش کر رہے تھے۔۔۔!!! 

    اگر پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اس وقت ہمت و حوصلے کا مظاہرہ نہ کرتے اور امریکہ اور نیٹو افواج کی طرح اپنے لاتعداد فوجیوں کی شہادتوں سے خائف ہو جاتے تو آج پاکستان کی بھی صورتحال افغانستان سے مختلف نہ ہوتی۔ واضح رہے کہ فتوحات قربانیاں مانگتی ہیں اور جو قومیں یہ دینے سے گریز کرتی ہیں ناکامی کی ذلت ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔  

    پاکستانی فوج دنیا کی وہ واحد فوج ہے جسکےافسران اپنے جوانوں سے بھی آگے بڑھ کر لڑتے ہیں اور اپنی فوج کو فتح کی موٹیویشن دیتے ہیں۔ اسی لئے پاک فوج کےافسران کی شہادتوں کا تناسب جوانوں کے مقابلے میں دینا میں سب سے زیادہ ہے۔ مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں گے کہ شہید کی جان کی قربانی کےعلاوہ اس کے لواحقین کی انگنت قربانیاں بھی اس عظیم مشن کا حصہ ہیں  جسکےعزم کے تحت ہم یوم شہداء مناتے ہیں۔ یہ ہمارے پیاروں کے لہو سے  کی گئی آبیاری کا ہی نتیجہ ہے کہ آج آپ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ اپنی ہر خوشی منا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان سے دہشت گردوں کو شکستِ فاش ہو چکی ہے۔ مگر اُدھر شہداء کے لواحقین کی زندگیاں بے رنگ و بے محل ہو گئیں ہیں۔ ہروقت اب اپنے پیارے شہید بیٹوں/ بھائیوں کی یاد ہی محض ان کا مقدر ہے۔

    جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انہی شہداء  کے لواحقین کے پُر زور اصرار پر 30 اپریل کو پاک فوج میں بطور یوم شہداء  کے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر سنہ 2015 میں بغیر شہداء کے لواحقین کو اعتماد میں لیے، کہ جنکے اصرار پر جنرل کیانی نے یہ دن مختص کیا تھا اسے جنرل راحیل شریف نے ختم کر دیا گیا۔ اور یوں 6 ستمبر کو ہی یوم دفاع کے ساتھ ساتھ  یوم شہداء بھی منایا جانے لگا۔ اور ملک بھر سے شہداء کے لواحقین بنا رینکس کی تفریق کے مرکزی اور اپنے ملحقہ کینٹس کی تقریبات میں شریک ہونے لگے۔ مگر کچھ عرصہ بعد اس پالیسی کو بھی بدل دیا گیا۔ اب اس یوم شہداء کی تقریب میں تمام شہداء کے لواحقین کو مدعو نہیں کیا جاتا بلکہ جو ہمارے فوجی بھائی اسی سال میں شہید ہوتے ہیں صرف انکے اہلخانہ اور نشان حیدر رکھنے والے شہداء کے خاندان اس مرکزی تقریب میں شریک ہوتے ہیں،

    ریاست کو اپنی پالیسی بدلنے کا حق حاصل ہے مگر میری گزارش صرف اتنی سی ہے کہ بھلے ہی ہمارے پیاروں کو ہم سے بچھڑے سالوں بیت گئے ہوں مگر ہم میں سے کوئی بھی اپنے پیاروں کو نہیں بھولا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے زخم مندمل ہونے کی بجائے اور گہرے ہو گئے ہیں۔ پاک فوج ہماری شہداء کی فیملی ہے اسے بلاتفریق سب شہداء کو اسی طرح یاد رکھنا چاہیئے  اور مرکزی تقریب میں مدعو کرنا چاہیئے جس کا سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہم سےعہد کیا تھا۔ اگر جی ایچ کیو میں منعقد کی جانے والی مرکزی تقریب ہمارے شہداء کی یاد میں منائی جاتی ہے، تو پھر ماضی کی طرح تمام شہداء کے لواحقین کو گزشتہ 2 سالوں سے کیوں نہیں بلایا جارہا؟ اس کے برعکس یہ تقریب سیاستدانوں، میڈیا کے لوگوں ، فنکاروں، نام نہاد لبراٹیوں سے کھچا کھچ بھری دکھائی دیتی ہے جو اگلے ہی روز اپنے اپنے ٹویٹر ہینڈلز سے فوج مخالف ٹرینڈز میں ٹویٹ داغ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔!!! 

           اپنوں کو کھونے کا درد وہی جانتا ہے جس نے اپنے کسی بھی پیارے کو وطن کے دفاع کے عظیم مقصد کے تحت قربان کر دیا ہو۔ اس لئے میں وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ آپ سب اس تکلیف کا ایک فیصد بھی محسوس نہیں کرسکتے جس سے شہداء کے لواحقین گزرتے ہیں۔ میں آپ سب، بشمول تمام ریاستی اداروں سے ملتمس ہوں کہ ہمارے شہداء کو یاد رکھیں، چاہے سالوں ہی کیوں نہ بیت جائیں انہی کبھی بھولیں نہیں۔ کیونکہ آپ اور آپکے بچوں کی جانب بڑھنے والی 22 گولیوں کو تو صرف میرے بڑے بھائی لیفٹینینٹ فیض سلطان ملک شہید نے تنہا اپنے سینے پر روک لیا تھا۔۔۔اور گمنام نجانے کتنے ہیروز ہیں کتنے پاکستان کے بیٹے ہیں واللہ اعلم۔۔۔!!! 
    آخر میں میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک فوج کو تمام دشمنوں کے مقابلے میں فتح نصیب کرے اور اس کے وقار میں بے پناہ اضافہ کرے۔ اور ہمارا پیارا ملک پاکستان ہمارے شہداء کے پاک لہو کے طفیل دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے آمین ثمہ آمین 
    پاک فوج زندہ باد 
    پاکستان پائندہ باد 
    ایمان ملک     

  • افغان جنگ میں امریکی میڈیا کا کردار .تحریر: محمد مستنصر

    افغان جنگ میں امریکی میڈیا کا کردار .تحریر: محمد مستنصر

    افغانستان میں پیدا ہونیوالی صورتحال کے تناظر میں امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاستدان اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ افغانستان میں امریکی شکست کا ذمہ دار کون ہے؟ امریکی میڈیا پر کابل ایئر پورٹ سے تواتر کے ساتھ دکھائے جانے والے مناظر کی دھول میں لپٹے ہوئے امریکی شاید یہ بھول چکے ہیں کہ جارج بش کو افغانستان پر چڑھائی اور اس جنگ کی اجازت تو تمام امریکی تھنک ٹینک اور اداروں نے متفقہ طور پر ہی دی تھی جبکہ سی آئی اے اور پینٹاگون نے بھی9/11 واقعات کو جواز بنا کر افغانستان پر امریکی یلغار کی حمایت میں رپورٹس دی تھیں تاہم اس طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے خاتمے پر نہ صرف حالیہ امریکی صدر بائیڈن اور سابق امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ دونوں متفق دکھائی دیئے بلکہ ABC ٹی وی کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 63 فیصد امریکی عوام نے بھی افغان جنگ کے خاتمے کے حق میں رائے دی تاہم اس کے باوجود بین الاقوامی میڈیا پر "بلیم گیم” زور و شور سے جاری ہے صدر بائیڈن اگر افغان نیشنل آرمی کے پسپا ہوجانے، سابق افغان صدر اشرف غنی کے فرار اور طالبان کی طرف سے مکمل کنٹرول سنبھال لینے کے بعد کی صورتحال کو قابو میں نہیں لا سکے تو کیا اس عظیم امریکی شکست کا تمام تر ملبہ امریکی صدر بائیڈن پر ڈال دیا جائے؟ امریکی اور مغربی میڈیا پر جاری بلیم گیم کے تسلسل کے باعث امریکی صدر بائیڈن کی مقبولیت کا گراف نیچے گررہا ہے اور ٹائمز میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد بائیڈن کی مقبولیت کے گراف میں 55 فیصد سے 47 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

    امریکا کی اندرونی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر دیکھی گئی بدنظمی اور انتشار بائیڈن انتظامیہ کی ناکامی ہے جس کا خمیازہ بائیدن اور ان کی پارٹی کو مڈٹرم انتخابات میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے جبکہ اس کے اثرات 2024 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر بھی پڑیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ 20 سالہ طویل افغان جنگ کی بڑی قیمت ڈیموکریٹک پارٹی کو چکانا ہوگی۔ تاہم ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس جنگ کی جو قیمت افغان عوام نے ادا کی ہے اس کی آواز امریکی اور مغربی میڈیا پر کیوں نہیں سنائی دے رہی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خواتین کے حقوق اور امریکی افواج کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کرنے والے نیوز چینلز اور امریکی قومی اخبارات کو اس سے ذیادہ کچھ بولنے اور لکھنے کی اجازت ہی نہیں۔ 20 سال تک خانہ جنگی کا شکار رہنے والے ملک میں انسانیت کس طرح سسکتی رہی اسے بیان کرنا الفاظ میں ممکن نہیں۔ گذشتہ 20 سالوں کے دوران خواتین کے حقوق کے لئے امریکی میڈیا پر جو مہم چلائی جاتی رہی اس سے اگر کچھ فرق پڑا ہے تو محض اتنا کہ افغانستان کے چند بڑے شہروں میں چند ہزار تعلیم یافتہ خواتین کو ملازمتیں ملی ہیں، چند لاکھ لڑکیوں کو سکول اور کالج جانے کی آزادی حاصل رہی دوعشروں کے دوران ہونے والی اس پیشرفت کو سراہا تو ضرور جا سکتا ہے مگر امریکی اداروں کی طرف سے فراہم کئے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق 38.4 ملین آبادی والے ملک میں 84 فیصد خواتین نادہندہ ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان کی تعمیر نو کے لئے نہیں گیا تھا شاید بائیڈن اور ان کے معاونین یہ بھول چکے ہیں کہ امریکی صدر بش نے افغان جنگ کو Operation Enduring Freedom کا نام دیا تھا، افغانوں کو آزادی دلانے کا مشن ان کے ملک کی تعمیر نو اور ترقی و خوشحالی کے بغیر بھلا کیسے ممکن ہو سکتا تھا، اس مقصد کے لئے جرمنی کے شہر بون میں 22 دسمبر 2001 کو ایک کانفرنس بلائی گئی تھی جس میں حامد کرزئی کو عبوری صدر منتخب کیا گیا تھا۔

    طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد میں نئے آئین کی تشکیل، آزاد عدلیہ اور میڈیا کے لئے ماحول سازگار بنانے کے ساتھ خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات شامل تھے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کی تشکیل تھی جو جنوبی اور وسطی ایشیاء میں مغربی ممالک کے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ صدر بائیڈن کو آج کل غیر منظم انداز میں افغانستان سے انخلاء کی پاداش میں کوسنے والا میڈیا انہیں افغانستان پر حملے اور قبضے کے اغراض ومقاصد سے کیوں آگاہ نہیں کرتا؟ امریکی میڈیا یہ کیوں نہیں بتاتا کہ جناب صدر ہم افغانستان تعمیر نو ہی کے لئے تو گئے تھے اور اس وقت اگر یہ ڈرامہ نہ رچایا جاتا تو افغانستان پر قبضے کے لئے صرف القاعدہ کو تباہ کرنے والی دلیل کافی نہ تھی۔ امریکی میڈیا کو اپنے صدر محترم کو یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ 20 برس تک افغانستان پر امریکی قبضے کے دوران اس ملک میں روزانہ جو قتل وغارت ہوتی رہی کیا اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا؟ کیا کبھی بائیڈن انتظامیہ یا سابقہ امریکی صدور نے یہ اعداد وشمار مرتب کروائے کہ اس لاحاصل جنگ میں مارے جانے والے بے گناہ افغانوں کی صحیح تعداد کتنی ہے اور کتنے جسمانی معذور ہو کر زندگی بھر محتاجی کی زبدگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آپ بڑے فخر سے تعلیمی معیار اور سطح، بچوں کی شرح اموات، زچگی میں ہونے والی اموات اور اپنی پسند سے شادی کرنے کے حق کو کسی بھی ملک کی ترقی کا پیمانہ سمجھتے ہیں تو آج ان تمام اشاریوں میں افغانستان کہاں کھڑا ہے؟ کیا اقوام متحدہ میں کوئی ایسا کٹہرا ہے جہاں آپ کو کھڑا کرکے پوچھا جائے کہ 20 سال تک آپ ایک ملک پر قابض رہ کر کیا کرتے رہے؟ امریکا میں تو ایسے صحافیوں کی کمی نہیں جو صدر محترم سے اپنا من چاہا سوال پوچھ سکتے ہیں تو امریکا کے آزاد صحافی اپنے صدر محترم سے پوچھ کیوں نہیں لیتے کہ 20 سال کی خانہ جنگی اور خونریزی کے بعد اس اجڑے ہوئے ملک کی تعمیر نو کون کرے گا؟ آپ نے تو امریکی بینکوں میں موجود افغانستان کے ساڑھے نو ارب ڈالرز کے فنڈز بھی منجمد کر دیئے ہیں جبکہ یورپی یونین نے بھی اس ملک کی تباہی میں دل کھول کر اپنا حصہ ڈالنے کے بعد اس کی مالی امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جناب صدر آپ کے اس تاریخی کارنامے پر اس کے علاوہ اور کیا لکھا جا سکتا ہے کہ:
    ہمیں تو خاک اڑانا تھی بس اڑا آئے
    ہمارا دشت میں کوئی پڑائو تھا ہی نہیں۔۔۔

    @MustansarPK

  • یومِ دفاع!  تجدید ِعہد کا دن    تحریر: محمد بلال

    یومِ دفاع!  تجدید ِعہد کا دن تحریر: محمد بلال

    شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے اور تمام خطرات کے خلاف مادر وطن کے دفاع کے عزم کی تصدیق کے لیے آج یوم دفاع و شہداء منایا جا رہا ہے۔ 6 ستمبر،1965 میں وہ دن تھا کہ بھارتی افواج نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کیا لیکن قوم کے تعاون سے افواج پاکستان نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ اس سال کا یوم دفاع و شہداء کا موضوع ”ہمارے شہدا ہمارا فخر، غازیوں اور شہیدوں سے تعلق رکھنے والے تمام رشتہ داروں کو سلام’ ‘ ہے۔ملک کی ترقی اور خوشحالی اور غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کو ہندوستان کے ظالمانہ چنگل سے آزاد کرانے کے لیے مساجد میں فجر کے بعد خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔ریڈیو پاکستان مادر وطن کے محافظوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے قومی گانوں، شہداء کے لواحقین اور غازیوں کے انٹرویوز پر مشتمل خصوصی پروگرام بھی نشر کر رہا ہے۔یوم دفاع پاکستان کی قومی علامتوں کا مظہر ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم اکثر آزادی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جبکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔اسی طرح، ملک کی افواج اور سیکورٹی ایجنسیاں مادر وطن کو غیر ملکی دشمنوں اور ملکی امن خراب کرنے والوں سے لاحق خطرات سے بچانے کے لیے چوبیس گھنٹے خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔اس پس منظر میں، یوم دفاع، جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے 1965 کی جنگ کے دوران بھارتی غداری اور جارحانہ ڈیزائن کے خلاف مظاہرہ کی گئی بہادری، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کی یادگار ہے۔بھارتی افواج کے بزدلانہحملے کے باوجود، بے باک فوجی جوانوں نے پوری قوم کو اپنی پشت پر رکھتے ہوئے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا کامیابی سے دفاع کیا، بلکہ بے مثال جوش کے ساتھ جوابی وار کیا اور بھارتی افواج کے ساتھ ساتھ ان کے جارحانہ خوابوں کو بھی کچل دیا۔.یوم دفاع پاکستان مسلح افواج کی قربانیوں کو یاد رکھنے اور 1965 کی جنگ کے تمام شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ درحقیقت، پاکستان کی افواج خدمات کے بہادر سپاہی، جنہیں بھارتی جارحیت کے خلاف ایک متحد قوم کی حمایت حاصل ہے۔ آج کے دن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیر کا تنازعہ، جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گہری جڑیں رکھنے والی دشمنیوں کی بنیادی وجہ ہے، تقریبا 74  سال گزر جانے کے بعد بھی لٹکا ہوا ہے۔نریندا مودی نے بھارت کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال مزید خراب کر دی ہے، اقوام متحدہ کی مسلسل قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، 5 اگست 2019 کو متنازعہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔اس نے بے گناہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی مظالم اور دباو کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ یوم دفاع کے موقع پر اپنے بہادر سپاہیوں کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے لیے اپنے عہد کی تجدید کی بھی ضرورت ہے۔

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں 

    @Bilal_1947

  • تمباکو نوشی منہ کا کینسر، نوٹ کے باوجود بھی سیگریٹ نوشی نہ رک سکی۔ تحریر: ملک رمضان اسراء

    یقینا ہر خاص و عام اس بات سے تو کم از کم مکمل طور پر آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے۔ اور سگریٹ پینے سے منہ کا کینسر بھی ہو سکتا ہے جہاں پڑھے لکھے لوگوں کیلئے سیگریٹ کے ڈبہ پر "تمباکو نوشی منہ کا کینسر” جیسا نوٹ لکھا گیا وہی غیر تعلیم یافتہ کو اس سے آگاہ کرنے کیلئے منہ پر کینسر کی ایک عدد تصویر ظاہر کی گئی لیکن پھر بھی سیگریٹ نوشی کیوں نہ رکی؟ اسی وجہ کو جاننے کیلئے میں نے ایک سگریٹ نوش محمد خان سے بات کی جو پچھلے تیس سالوں سے سیگریٹ نوشی کے عادی ہیں اور ان کے مطابق وہ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم دو عدد سگریٹ پاکٹ پی جاتے ہیں۔ محمد خان کی عمر اس وقت پچاس سے اوپر ہے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے تقریبا بیس سال کی عمر سے سگریٹ نوشی کرنا شروع کی تھی اور ابتدا میں تو ایسے ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر پی لیا کرتا تھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہ عادت مجبوری بن گئی اور حالت ایسی ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں نہ اڑاوں تو ذہنی طور پر چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہوں حالانکہ مجھے بہت زیادہ کھانسی آتی ہے لیکن ڈاکٹرز کے منع کرنے کے باوجود بھی میں اپنی اس بری عادت سے جان نہیں چھڑا پارہا۔ جب میں نے محمد خان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش نہیں کی تو انہوں نے جواب دیا کئی کئی ماہ تک سگریٹ کو چھوا تک نہیں اور میں نے محسوس کیا کہ مجھے سانس لینے سمیت جسم میں بہت بہتر تبدیلی محسوس ہوئی لیکن پھر مجھے پیٹ میں گیس اور اس طرح کی شکایت ہوئی تو میں نے ایک دوست سے سگریٹ مانگی اسے پیتے ہی آرام آگیا اب میرا وہم تھا یا کچھ اور لیکن مجھے اسی وقت آرام آگیا اور سب سے بڑا مسئلہ مجھے ذہنی طور پر سکون تو محسوس ہوا مگر چچڑا پن بڑھ گیا جسکی وجہ سے گھر میں بات بات پر بچوں کے ساتھ غصہ آجانا لہذا سوچا بس خیر ہے زندگی جب تک ہے تب تک ہی جینا ہے لیکن میری وجہ سے باقی گھر والوں کا سکون خراب نہ ہو۔ اور میں نے بہت کوشش کی کہ سگریٹ ترک کردوں مگر یہ بری عادت چھوٹنے کا نام نہیں لیتی لہذا میں اپنے تجربہ کی بنیاد پر نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جوانی کے جوش میں دیکھا دیکھی میں کسی بھی بری عادت میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ ابتدا میں تو آپ کا یہ شوق ہوگا مگر پھر ساری زندگی کا روگ بن جائے گا۔

    اسٹاپ سموکنگ لندن کی ایک رپورٹ کے مطابق "سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ روز بروز اور ہر ہفتہ بعد، آپ کے جسم اور دماغ میں اچھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ آپ کی جسمانی حالت بہتر اور بحال ہوجاتی ہے، آپ بہتر نظر آنے لگتے ہیں، آپ خود کو زیادہ توانا اور صحت مند محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ بارہ گھنٹے سگریٹ ترک کرتے ہیں تو آپ کا جسم سگریٹ میں پائے جانے والے کاربن مونو آکسائڈ کو جسم سے نکال دیتا ہے۔ سطح معمول پر آ جاتی ہے اور آپ کی آکسیجن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ ایک پورا دن مطلب چوبیس گھنٹے سگریٹ نوشی ترک کرنے سے آپ کا بلڈ پریشر گرتا ہے آپ کے دوران خون میں بہتری آ جاتی ہے۔ اس طرح آپ سگریٹ نوشی کے باعث اپنے ہائی بلڈ پریشر، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ ہوتا ہے کو کم کر دیتے ہیں۔

    ایک ماہ سگریٹ نوشی ترک کرنے سے جیسے ہی آپ کے پھیپھڑے ٹھیک طور سے کام کرنے لگتے ہیں تو آپ کو کھانسی اور سانس کی دشواری میں کمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر آپ کو ورزش اور کام کرنا بھی آسان لگتا ہے۔ اور اگر آپ نو ماہ سگریٹ سے دور رہتے ہیں تو اس وقت تک آپ کے پھیپھڑے کافی حد تک صحتیاب ہوچکے ہوں گے۔ آپ کے پھیپھڑوں کے اندر سیلیا ( باریک بالوں کی مانند ریشہ) سگریٹ کے دھویں کے مضر اثرات سے مکمل طورپر صحتیاب ہو چکا ہوگا اور جب آپ کو سگریٹ چھوڑے ہوئے ایک سال ہو جائے گا تو آپ کو کارونری ہارٹ ڈیزیز (دل کی بیماریوں) کا خطرہ نصف ہو جائے گا۔ جس کی مزید کمی ہونا جاری رہے گی۔ جبکہ پانچ سال سگریٹ نوشی نہ کرنے سے آپ کی آرٹیریز اور خون کی شریانیں صحتیاب ہونے کے بعد دوبارہ مکمل طور سے کھلنے لگتی ہیں۔ اس طرح آپ، اپنے فالج اور جماد خون کے خطرے کو، کم کر دیتے ہیں اور دس سال کی عمر کے بعد آپ کے پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے امکانات نصف رہ جاتے ہیں اور منہ، گلے یا لبلبے کے کینسر کا امکان انتہائی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پندرہ سال بعد آپ کے دل کی بیماری یا لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات اتنے ہی رہ جاتے ہیں جتنے سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد کے ہوتے ہیں۔ اور ٹھیک بیس سال کی پابندی کے بعد تمباکو نوشی سے متعلقہ وجوہات جیسے پھیپھڑوں کی بیماری یا کینسر سے مرنے کا خطرہ اب اتنا ہی کم ہوتا ہے، جیسے کسی نے اپنی زندگی میں کبھی سگریٹ پی ہی نہ ہو۔